skip to Main Content

الحمدللہ محض خداتعالیٰ کےفضل و احسان سےجماعت احمدیہ بوسنیا کو اپنا 17 واں جلسہ سا لانہ مورخہ یکم ستمبر2019ءکوسر ائیو میں منعقد کرنے کی توفیق ملی۔

تیاری جلسہ

جلسہ کی تیاری کے سلسلہ میں سب سے قبل سیدنا حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں دعا کی درخواست کی گئی۔جلسہ کے سلسلہ میں باقاعدہ میٹنگزکےبعد تیاریاں شروع کر دی گئیں۔متعددوقار عمل کے ذریعہ جماعتی مشن ہاؤس میں مہمانوں کی رہائش گاہ کاانتظام ، مستورات کی ضیافت کے لئے الگ سے خیمہ کا نصب جیسے کام کئے گئے۔امسال بھی جلسہ کا انعقاد مشن ہاؤس سے قریب ایک ہوٹل میں ہوا۔
اس کے علاوہ بوسنیا کے متعد دعلا قوں میں سفر کر کے زیر تبلیغ افراد کو جلسہ میں شمولیت کی دعوت دی گئی نیز متعدد شہروں کی انتظامیہ،پروفیسرز، ڈاکٹرز،وکلاء، سابق ججز صاحبان اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والےاحباب کو بھی جماعت کی طرف سے دعوت نامے بھجوائے گئے۔
جلسہ میں بوسنیاکے13مختلف علاقوں سےزیرِتبلیغ افرادکےعلاوہ5 بیرونِ ممالک سےمہمانوں اور حکومتی نمائندگان نے شرکت کی۔

دورافتادہ علاقوں سےمہمانوں کی آمد

امسال جلسہ سے چند روز قبل ہی بیرون ممالک ودوردرازعلاقوں سے کچھ مہمانان تشریف لائے۔مہمانوں کی رہائش کے لئے مشن ہاؤس کے علاوہ قریبی علاقہ میں ہوٹل میں بھی رہائش کا انتظام تھا جہاں سے مہمانان با آسانی نماز اور دیگر پروگرام میں شمولیت کے لئے مشن ہاؤس آسکتے تھے۔

بوسنیا کے مختلف علاقوں سے مہمانوں کی آمد

صبح 7:00 بجے سے بوسنیا کے مختلف علاقوں سے احمدی اور زیر تبلیغ افراد کی آمد شروع ہو گئی تھی۔ امسال بوسنیا کے مختلف7شہروں سے جماعتی انتظام کے تحت جلسہ میں شامل ہونے والوں کے لئے ٹرانسپورٹ کا انتظام تھا نیز جماعتی انتظام کے علاوہ ذاتی انتظام کے تحت احمدی اور غیر از جماعت احباب دور دراز علاقوں سے سفر اختیار کر کے جلسہ میں شامل ہوئے۔ مہمانوں کی آمد کے ساتھ ساتھ مسجد بیت الاسلام میں شعبہ استقبال کے تحت استقبال اور ساتھ ہی ضیافت کا انتظام تھا۔ 9:30 سے 10:00 بجے تک تمام مہمانوں کو شعبہ ٹرانسپورٹ کے انتظام کے تحت جلسہ گاہ تک پہنچایا گیا۔

اجلاس اول

جلسہ کی کاروائی کا آغاز 10:30 بجے ہوا۔ اس اجلاس میں درج ذیل پروگرام تھے۔ صدارت مکرم وسیم احمد سروعہ(مبلغ سلسلہ و صدر جماعت مقدونیہ)،تلاوت قرآن کریم مکرم رانا منور احمد(مبلغ سلسلہ کروشیا)اورنظم بزبان بوسنین مکرم الودین حاجی بولیچ نےکی۔
تقریر مکرم و سیم احمدسروعہ بعنوان‘‘انسانی زندگی میں مذہب کا کردار و اہمیت’’
موصوف نے اپنی تقریر میں بہت وضاحت کے ساتھ ہستیٔ باری تعالیٰ اور مذہب کی ضرورت نیز سچے مذہب کا انتخاب اور اس پر عمل پیرا ہونے کی اہمیت اور اس کی تبلیغ کی ضرورت کو بہت ہی احسن رنگ میں واضح کیا۔
بعدازاں بوسنین زبان میں ایک ڈاکیو منٹر ی بعنوان‘‘انقلاب حقیقی ’’دکھائی گئی۔بعدازاں وقفہ سے استفادہ کرتے ہوئے شعبہ تبلیغ کی طرف سے دوستانہ ماحول میں زیر تبلیغ مہمانوں کو جماعت کے بارہ میں مزید معلومات مہیا کی گئیں۔

اجلاس دوم

12:00بجے اجلاس دوم کی کاروائی کا آغاز ہوا۔صدارت مکرم میجر زبیرخلیل (ریجنل ڈائرکٹر یو مینٹی فارسٹ بلقان)،تلاوت قرآن کریم مکرم ماہدورمانوویچ نےکی۔
اس اجلاس میں خاکسار نے بعنوان‘‘حضرت رسول اکرمﷺکی پیشگویاں’’ تقریرکی۔ اس تقریر میں آنحضورؐکے زمانہ میں وقوع میں آنے والے ایسے واقعات جن کےوقوع سے قبل آنحضورؐنے خبر دی تھی،کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ آنحضور ﷺ کی بعض اہم پیشگویوں کا تعلق دراصل ہمارے زمانہ سے اور ہمارے زندگیوں سے بھی ہےاوراس حوالہ سے اسلام کا تنزل اور احیائےنو اور مسیح موعود کی آمد اور خلافت کا از سر نو قیام کے حوالہ سے احادیث سے پیشگیوں کو پڑھ کر سنایا۔اس تقریر کے بعد نماز ظہر و عصر اور کھانے کے لئے وقفہ کیا گیا۔

اختتامی اجلاس

صدارت مکرم مفیض الرحمٰن(مبلغ سلسلہ و نیشنل صدر بوسنیا)،تلاوت قرآن کریم مکرم ندیم حاجی بولیچ (معلم سلسلہ بوسنیا)نےکی۔بعدازاں حاضرین کو بوسنین زبان میں ایک ڈاکیومنٹری بعنوان ‘‘انسانیت کے لئے رحمت’’دکھائی گئی۔ اس کے بعد درج ذیل معزز مہمانوں نے تعارفی تقاریرکیں۔
1۔مکرم پروفیسر ڈاکٹر حسن بانی سابق جج Supreme court of Bosnia
موصوف نے اپنی تقریر میں کہا کہ جماعت احمدیہ قابل ستائش ہے کہ بوسنیا کے مختلف علاقوں سے لوگوں کو ایک جگہ اکٹھی کر کے ہمارے ملک ہمارے معاشرہ کی بہبودی کے بارہ میں مثبت کردار ادا کر رہی ہے۔موصوف نے کہا کہ بوسنیا کی سر زمین میں ظلم و ستم ڈھائے گئے اور خون کی ہولی کھیلی گئی لیکن ہم چاہتے ہیں کہ آخر محبت کی زبان غالب آئے جس کی بات جماعت احمدیہ کر رہی ہے اور آج اس جلسہ میں ہم نے اس کو محسوس کیا ہے اور اس ڈاکیومنٹری میں بھی دکھایا گیا ہے کہ اس سلسلہ میں جماعت کی کیا کی کوششیں ہیں۔
2۔ بوسنیاکا ایک شہر Ustikolina کے Myorمکرم زیادکونواس (Ziyad Kunovac) نے اپنی تقریر میں سب سے پہلے جماعت کا شکریہ ادا کیا کہ اس قسم کے ایک پر امن ماحول میں جماعت کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کے لئے ان کو دعوت دی گئی، نیز موصوف نے حاضرین سے درخواست کی کہ لوگ ان کے شہر میں آئیں اور وہاں مقامی لوگوں کی مدد کریں۔ نیز موصوف جماعت احمدیہ کی خدمت خلق کے کاموں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے جماعت کا شکریہ ادا کیا۔
3۔ مکرم Samir Sulagic Director of Cantonal Center for Social affairs Sarajevo نے اپنی تقریر میں کہا کہ مجھے جماعت کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے اور جو بات مجھے اس جماعت کے ساتھ رابطہ کو مزید استوار کرنے کی طرف متوجہ کرواتی ہے وہ یہ ہے کہ جماعت کی بنی نوع انسان کی بے لوث خدمت کرتی ہے۔ موصوف نے کہا کہ میرا کام چونکہ معاشرہ کے اس طبقہ کے ساتھ ہے جسے ہم مختلف وجوہات کی بناء پر پچھلا ہو اطبقہ کہتے ہیں۔ ان لوگوں کے ساتھ ہمدردی ان کے حقوق کے لئے کام کرنامیرا پیشہ ہے۔ مگر یہ کام ایسا کام ہے کہ مجھے اب احساس ہوتا ہے کہ اب یہ کام میر اپیشہ نہیں رہا بلکہ میری زندگی کا حصہ بن گیا ہے اور یہی بات ہے جو کہ مجھے جماعت کے اور قریب کرتی ہے اور جماعت کے ساتھ ایک مخلصانہ تعلق قائم ہونے کی وجہ بھی یہی ہے کہ ہم بنی نوع انسان کی خدمت میں مشتر کہ کام کر ہے ہیں۔ موصوف نے مزید کہا کہ میں جماعت کا شکر گزار ہوں کہ آپ لوگ ہر لحاظ سے ہماری تعاون کرتے ہیں۔
4۔مکرمArmin Mujkic نمائنده Mayor of City of Zenica نےاپنی تقریرمیں کہا کہ’’ جماعت کے ساتھ میرا تعلق گزشتہ سال ڈیڑھ سے ہے۔ لیکن اس عرصہ میں مجھے جماعت احمدیہ کے امام حضرت خلیفۃ المسیح سے ذاتی طور پر3مرتبہ ملاقات کا شرف حاصل ہو چکا ہے۔ جماعت احمدیہ کی ترقی ،منظّم کام،بنی نوع انسان کی خد مت یہ سب کچھ دراصل خلیفۃ المسیح کی رہنمائی اور قیادت کا پھل ہے۔ ہم جماعت کے شکر گزار ہیں کہ یہ جماعت ہمہ تن ہمارے ساتھ بنی نوع انسان کی خدمت میں مصروف ہے اور پُرامن تعلیم کے ساتھ دلوں کو جیت رہی ہے۔
5۔محترمہ Yasminka Director of Higher Secondary School Ustikolina نےاپنی تقریرمیں کہا کہ میرا تعلق ایک ایسے علاقہ سے ہے جہاں جنگ کے منفی اثرات ابھی مختلف معاشرتی اور دیگر اشکال میں ظاہر ہورہے ہیں جس کی وجہ سے وہاں کے لوگوں کو آپ جیسے لوگوں کی مدد کی ضرورت ہے۔ امسال جماعت نے سکول کے50بچوں کو نئے سال کے آغاز کی مناسبت سے سکول میں روز مرہ کی ضروریات کی مناسبت سے کچھ چیزیں تحفہ میں پیش کی ہیں۔ اور ان 50معصوم چہروں کی مسکراہٹ کی جو خدمت جماعت نے پیش کی ہے اس کے لئے ہم شکر گزار ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج ہم شکر گزاری کے جذبہ کے ساتھ یہاں حاضر ہیں۔ نیز موصوفہ نے سکول کی طرف سے جماعت کو شکریہ کے طور پر شیلڈ پیش کی۔
5۔محترمہ Yasminka Director of Higher Secondary School Ustikolina نےاپنی تقریرمیں کہا کہ میرا تعلق ایک ایسے علاقہ سے ہے جہاں جنگ کے منفی اثرات ابھی مختلف معاشرتی اور دیگر اشکال میں ظاہر ہورہے ہیں جس کی وجہ سے وہاں کے لوگوں کو آپ جیسے لوگوں کی مدد کی ضرورت ہے۔ امسال جماعت نے سکول کے50بچوں کو نئے سال کے آغاز کی مناسبت سے سکول میں روز مرہ کی ضروریات کی مناسبت سے کچھ چیزیں تحفہ میں پیش کی ہیں۔ اور ان 50معصوم چہروں کی مسکراہٹ کی جو خدمت جماعت نے پیش کی ہے اس کے لئے ہم شکر گزار ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج ہم شکر گزاری کے جذبہ کے ساتھ یہاں حاضر ہیں۔ نیز موصوفہ نے سکول کی طرف سے جماعت کو شکریہ کے طور پر شیلڈ پیش کی۔
6۔مکرم Rzmir Osmanovic صاحب صحافی و صدر مقامیNGO از Montenegroنے اپنی تقریرمیں کہاکہ میراجماعت کے ساتھ رابطہ قائم ہوئے تھوڑا عرصہ گزرا ہے۔ لیکن جماعت کا اخلاقی میعار، خدمت خلق کا جز بہ، انتظامی صلاحیت اور خصوصاً امام جماعت احمدیہ کی ذات نے مجھ پر بہت گہرا اثر چھوڑا ہے اور جس کی وجہ سے اس قسم کے جماعتی پروگراموں میں ذاتی کام کا حرج کر کے بھی آجاتا ہوں۔ اس پر امن ماحول میں ہمیں بہت ساری باتیں سیکھنے اور سننے کا موقع ملا ہے۔ ان سب باتوں کے لئے میں جماعت کا شکر گزار ہوں۔
7۔مکرم Faruk Durmic نمائندہ از Educational Center for Minor Children نے جماعت کی خدمت خلق کے کاموں کی تعریف کرتے ہوئے جماعت کا شکریہ ادا کیا نیز اپنے ادارہ کی جانب سے جماعت کو شیلڈ پیش کی۔
8۔مکرم Mujo Fafulicصدر ادارہ برائے رومن کمیونیٹ کا کن نے کہا کہ میں اس جلسہ میں اپنی قوم کے 28 افراد کے ساتھ شامل ہوا ہوں۔ اور صبح سے جلسہ کی تمام کاروائی کو سننے اور دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ میں برملا کہتا ہوں کہ اس جلسہ میں ہمیں اپنی دین کے متعلق بہت ساری ایسی نئی اوراہم باتیں سننے کا موقع ملا ہے جس کا ہمیں اس سے قبل علم نہیں تھا۔ میں جماعت احمدیہ کا شکر گزار ہوں کہ جماعت نے ہمیں اس قسم کے ماحول میں مدعو کیا ہے۔
آخر پر خاکسار نے اختتامی تقریر کی اور جماعت کی طرف سے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا، نیز سیدناحضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے مبارک الفاظ میں جماعت احمدیہ کے قیام کا مقصد و غرض بیان کر کے اجتماعی دعا کروائی۔ اس جلسہ میں کل حاضری 230 تھی۔ الحمد لله على ذالک۔

قبولیت دعا کا ایک ایمان افروز واقعہ

جلسہ کی تیاری کے دنوں میں جب کہ تیاری عروج پرتھی اورآسمان پرگھنےبادل ظاہرہونےلگےتواسی اثناء میں دعا کی گئی کہ اےخدا بارش جلسہ تک رکی رہے اور جلسہ کے بعد ہی ہوتا کہ ہمیں معلوم ہو جائے کہ موسم کے اس رخ کو تو نے صرف اپنے مہدی کے معاونین کی خاطر روکے رکھا ہے۔ ابھی چند لمحات ہی گزرے تھے کہ بادل موجود ہونے کے باوجود بارش رک گئی اور جلسہ سے لے کر مزید 6 ایام آسمان پر بادل کی موجودگی کے باوجود بارش نہیں ہوئی اور جلسہ کےمعاًبعد کئی دنوں تک برستی رہی۔ ایک احمدی دوست نے کہا اصل میں ہم عاجز بندوں کی دعائیں اس لئے سنی گئیں کیونکہ اس جلسہ کے لئے ہم مسلسل حضورانور کی خدمت میں دعا کی غرض سے لکھتے رہے ہیں۔

چند مخلصین جماعت کاذکر

مکرم کمال کا تعلق سرائیو سے تقریباً130 کلو میٹر دور ایک قصبہ سے ہے۔ موصوف کو کھیتی میں بہت کام ہوتا ہے۔ مگر جلسہ کے لئے اپنی خد مت پیش کرنے کی غرض سے مع اہلیہ جلسہ سے ایک ہفتہ قبل ہی مشن ہاؤس آگئے تھے۔ اور تقریباً 11۔ايام وقف کر کے بہت اخلاص کے ساتھ جلسہ میں مہمانوں کی خدمت کرتے رہے۔
مکرم فریدآف سرائیونےجلسہ کے لئے موصوف نے اپنے کچھ دوستوں کو Montenegro سے دعوت دی تھی۔ جب وہاں سے5۔افراد پر مشتمل ایک قافلہ سرائیو پہنچاتو مکرم فریدکی خواہش تھی کہ ان مہمانوں کو اپنے گھر میں دعوت دیں تا کہ مزید ان لوگوں کے ساتھ ذاتی رابطہ مضبوط ہو اور جماعت کے بارہ میں گفتگو کر سکیں۔
موصوف نے جب ان کی اہلیہ سے اس بات کا ذکر کیا تو ان کی اہلیہ نے کہا کہ تمہیں معلوم ہے کہ اس وقت ہمارے گھر میں کوئی اتنی رقم نہیں ہے کہ ہم مہمانوں کو کم از کم چائے پر ہی بلا لیں۔اس پر موصوف نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ یہ ہمارےمہمان نہیں ہیں یہ سیدنا حضرت مسیح موعود ؑکے مہمان ہیں تم فکر نہ کرو اللہ تعالیٰ ضرور کوئی انتظام فرما دے گا۔
موصوف کہتے ہیں کہ تھوڑی دیر میں میرے موبائل میں پیغام آیا کہ اس ماہ کے پنشن کی رقم میرے اکاؤنٹ میں آچکی ہے۔ حالانکہ عموماً پنشن کے لئے ہر ماہ کے 5یا6 تاریخ مقرر ہوتا ہے بلکہ اس سے زیادہ دیر بھی ہو سکتی ہے اس سے قبل نہیں ۔ موصوف کہتے ہیں کہ میں نے فوراً الله کا شکرادا کیا۔
مکرم الودین ایک نواحمدی ہیں اور سرائیو میں ایک Restaurant کے کچن میں کام کرتے ہیں۔ جلسہ کے ایک روز قبل چھٹی کی درخواست دی لیکن منظور نہیں ہوئی۔
جب کام پر گئے تو کچن میں کام کرتے ہوئے چھری سے ان کے دائیں ہاتھ میں متعدد زخم آئے اور کافی خون بھی بہ گیا۔ فوری طور پر ہسپتال میں جا کر فرسٹ ایڈلے کر کام سے گھر واپس جانے کی بجائے مسجد چلے آئے۔
زخم کافی گہرا تھا مگر بہت اصرا ر کے ساتھ پورا د ن جلسہ میں اورجلسہ کے بعد بھی باقا عدگی کے ساتھ ڈیوٹی د یتے ر ہے۔
زیر تبلیغ دوست مکرم فوادکوجلسہ سے چند روز قبل ہی اتفاقاًجلسہ میں شمولیت کی دعوت دی گئی۔ موصوف جلسہ میں شامل ہوئےاور بعد میں خاکسار کو بذریعہ ٹیلی فون کہا کہ جماعت احمدیہ جس محبت اور پیار اور بھائی چارہ کے ماحول میں اسلام کی اصلی تعلیم کو پیش کر رہی ہے اس کی نظیر دنیا میں نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنی طرف سے بہترین جزاء عطا فرمائے ۔ اور ہماری حقیر کوشش میں برکت ڈالے۔آمین

image_printپرنٹ کریں