اداریہ: جلسہ سالانہ یوکے کاپس منظر

حضرت مسیح موعودؑ نے1891ء میں اللہ تعالیٰ سےاذن پاکرجلسہ سالانہ کی بنیادرکھی۔جومسجداقصیٰ قادیان میں منعقدہواجس میں75افراد نےشرکت کی۔
اللہ تعالیٰ کےوعدوں اورپیشگوئیوں کےمطابق یہ سلسلہ آہستہ آہستہ دو رنگوں میں بڑھنےلگا۔ایک طرف قادیان میں منعقد ہونےوالےجلسوں میں شاملین کی تعداد بڑھنے لگی تودوسری طرف دنیا بھرمیں جماعتہائےاحمدیہ کے قیام اورپھیلنےکےساتھ ساتھ اس کی تعداد میں اضافہ ہونےلگااورہرملک،ریجن اورجماعت اپنی اپنی سطح پر جلسےمنعقدکرنےلگی۔ چنانچہ اب بفضل اللہ تعالیٰ100سے زائدممالک میں جلسے منعقد ہوتے ہیں جن میں ہزاروں کی تعداد میں احمدی احباب وخواتین شامل ہوکرفیض حاصل کرتے ہیں۔
ان میں سےایک اہم جلسہ جماعت احمدیہ برطانیہ کاجلسہ سالانہ ہے۔ جس کاآغاز 1964ءمیں اس وقت ہواجب مولانا بشیراحمد رفیق مسجدفضل لندن کےامام تھے۔ یہ جلسہ مسجدفضل لندن میں منعقدہواتھا۔ جس کےپہلے روز80-70احباب نےشرکت کی تھی اوردوسرےدن یہ تعداد300تک پہنچ گئی تھی۔ اس وقت چونکہ یورپ کے کسی ملک میں جلسہ نہیں ہوتاتھا اس لئےسارے یورپ سےاحمدی لوگوں نےاس جلسہ میں شرکت کی تھی۔ جماعت احمدیہ برطانیہ کے13ویں جلسہ سالانہ پر پہلی بارملکہ برطانیہ کاپیغام موصول ہوا تھا اور دیگر کئی معروف سیاسی شخصیات نےاس جلسہ میں شرکت کی اورصدارت کے فرائض بھی سرانجام دیئے تھے۔
آغاز میں جلسہ گاہ اوررہائش گاہ مسجدفضل میں ہی تھی۔ پھرجب مہمان بڑھنے لگے تو رہائشی مکان کرایہ پرلئے۔ پھرایک وقت پلےگراؤنڈلےکرٹینٹ لگائے گئے۔1984ءمیں حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی لندن مستقل آمدپرتاریخ نے نئی کروٹ لی اورتعدادسینکڑوں سےنکل کرہزاروں میں داخل ہوگئی۔ پہلے یہ جلسے اسلام آباد میں ہونےلگے۔ پھرایک وسیع وعریض اراضی خرید کراس کا نام حدیقۃ المہدی رکھا گیا جہاں آج کل جلسہ منعقد ہوتا ہے۔ حاضری40 ہزار کو ہونے لگی۔ کئی لنگرخانےمختلف جگہوں پربن گئے۔ روٹی پلانٹ الگ لگ چکاہے۔اور یہ جلسہ اب نئی وسعتوں میں داخل ہوچکا ہے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ کی سرکردگی میں اب یہ جلسہ منظم ہوچکاہے۔احمدی احباب کےساتھ افریقہ کےبادشاہ، پیراماؤنٹ چیفس اور معروف سیاسی سرکردہ شخصیات شامل ہوکراپنے تاثرات بیان کرتے ہیں۔