skip to Main Content
جلسہ سالانہ کا موسم

جلسہ سالانہ کا موسم ہے بہار اندر بہار
ہو گئے ہیں ہم مسیحاؑ کی دعا میں حصہ دار
ساری تعریفیں ہیں رب العالمیں کے واسطے
جس کے فضلوں سے ہوا اسلام میں اپنا شمار
بھیجتا ہے دل درود اور اشک کہتے ہیں سلام
اس نبی ِ پاک ؐ کو جس کے ہیں احساں بے شمار
سال بھر کرتے ہیں اس پیاری گھڑی کا انتظار
دل نثار راہ نظروں میں لئے پھولوں کے ہار
جب نظر کے سامنے ہوں گے وہ دلدارِ جہاں
سارے عشاقِ خلافت ہوں گے سو جاں سے نثار
قادیاں میں حضرتِ احمد ؑ نے ڈالی تھی بنا
جلسہ سالانہ کی جس میں حکمتیں ہیں بے شمار
یہ کوئی معمولی میلہ ٹھیلہ یا مجمع نہیں
اس کا اِجرا تھا رضائے حق بحکم کردگار
پہلے جلسے میں ہوئے شامل پچھتر(۷۵) مخلصیں
اب ہے تا حد نظر اک بحر ناپیدا کنار
ایک اک چہرہ مسیحا کی صداقت کا نشاں
احمدیت کی ترقی کے ہیں سب آئینہ دار
ایک ہی چشمہ ہے ساری تشنہ روحوں کے لئے
کھل گئے لنگر مسیحا کے جہاں میں بے شمار
فرق کوئی رنگ و نسل و ملک و ملت میں نہیں
ایک گلدستہ ہے رنگا رنگ پھولوں کا نکھار
جلسے کا حاصل ہے ایماں اور یقین و معرفت
ہر طرف ہے تازگی روحانیت کی آشکار
روشناسی کی ہے برکت نئے پرانے احمدی
رشتہء الفت محبت کرتے ہیں سب استوار
رفتگاں کے واسطے سب مل کے کرتے ہیں دعا
ہوتے ہیں مولا سے ان کی مغفرت کے خواستگار
کچھ نئے رشتوں کی رکھی جاتی ہے اس میں بنا
جس سے بڑھ جاتا ہے آپس میں محبت اور پیار
غیر ممکن ہیں احاطہ کر سکیں برکات کا
کس کے بس میں ہے مکمل ذکرِ فضلِ کردگار
بند ہوا گر ایک در تو سینکڑوں در کھل گئے
پڑ گیا ہے خود شریروں پر پلٹ کر ان کا وار

امۃ الباری ناصر۔امریکہ

image_printپرنٹ کریں