skip to Main Content
عبدالماجدطاہر۔ایڈیشنل وکیل التبشیر ۔لندن: جلسہ سالانہ کا آخری روز حضور کا ولولہ انگیز خطاب ۔فیملی ملاقاتیں۔ احمدی، نو مبائعین اور مہمانوں کے تاثرات اور بچیوں کو آمین:قسط نمبر 3

29ستمبربروزاتوار2019ء

حضور انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صبح 6 بجکر 30 منٹ پرتشریف لاکر نمازفجرپڑھائی۔ نمازفجرکےوقت بہت تیزبارش ہورہی تھی۔حضورانور کی رہائش گاہ سےجلسہ گاہ تک کافاصلہ قریباًایک فرلانگ کےقریب ہے۔ سیکیورٹی اسٹاف نےگاڑیاں تیارکی ہوئی تھیں لیکن حضورانوراس تیزبارش میں پیدل ہی تشریف لے گئے۔ چھتری نےصرف اس حدتک کام کیاجتنااس کادائرہ کارتھا،باقی بارش نےبھی اپناکام دکھایا۔ راستہ میں بھی جگہ جگہ پانی کھڑاتھا،ہرقدم دیکھ کررکھناپڑتاتھا۔پھرنمازکی ادائیگی کے بعدبھی بارش میں ہی واپسی ہوئی۔

جلسہ سالانہ ہالینڈ کا آخری روز

صبح حضورانورایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنےدفتری ڈاک،خطوط اور رپورٹس ملاحظہ فرمائیں اورہدایات سےنوازا۔حضورانورکی مختلف دفتری امورکی انجام دہی میں مصروفیت رہی۔
یہ جماعت احمدیہ ہالینڈکے جلسہ سالانہ کاتیسرااورآخری روزتھا۔3 بجے حضورانورایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزمردانہ جلسہ گاہ میں تشریف لائے اور نماز ظہر و عصر جمع کرکے پڑھائی۔نمازوں کی ادائیگی کےبعدحضورانورایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جونہی سٹیج پرتشریف لائےتوساری جلسہ گاہ پُرجوش نعروں سےگونج اٹھی۔ احباب جماعت نےبڑےولولہ کےساتھ نعرےبلندکئے۔
تعلیمی اسناد پانے والے خوش نصیب طلبہ
اختتامی تقریب کاآغازتلاوت قرآن کریم سےہوا۔ جومکرم ایمن فضل عودہ نےکی۔بعدازاں اس کااردوترجمہ مکرم سعیداحمدجٹ مبلغ ہالینڈ نےپیش کیا۔
اس کےبعدمکرم حماداحمدعباسی نےحضرت اقدس مسیح موعودؑ کامنظوم کلام
کس قدر ظاہر ہے نور اس مبدأ الانوار کا
بن رہا ہے سارا عالم آئینہ ابصار کا
خوش الحانی سےپیش کیا۔
بعدازاں حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ نےتعلیمی میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے 14 طلباء کو اسناد اور میڈل عطا فرمائے۔تعلیمی اسناد حاصل کرنے والےان خوش نصیب طلباء کےنام درج ذیل ہیں۔
ہشام رانا PRIMARY EDUCATION
بورڈ کےامتحان میں100%نمبر ۔۔۔۔
فرازہارون چوہدری PRIMARY EDUCATION
بورڈ کےامتحان میں100%نمبر ۔۔۔۔
قمرجاویدسلیری ہائر ایجوکیشن بورڈ کے امتحان میں 81%نمبر ہالینڈ
اسامہ احمدبن نور ایف ایس سی پری میڈیکل EINDHOVEN
زین باری ملک بی ایس سی بائیومیڈیکل نیچرل سائنسز ایمسٹرڈم
سعداحمد بی ایس سی الیکٹریکل انجئینرگ ZWOLLEہالینڈ
ظلّ الرحمٰن بی ایس سی اکاؤنٹنسی LEIDENہالینڈ
انس اقبال ایم ایس سی پاکستان سٹڈیز نن سپیٹ
مشہودچوہدری ایم ایس سی MEDICINE MAASTRICHT
شرجیل احمد ملک ایم ایس سیICT IN BUSINESS LEIDEN
راحیل احمد چوہدری ایم ایس سی انٹرنیشنل مینجمنٹ اینڈ گلوبل بزنس جماعتSCHIEDAہالینڈ
فرازاحمد ایم ایس سی الیکٹریکل انجئینرنگ ARNHEMہالینڈ
محمداحمد طارق ایم ایس سی اکاؤنٹنسی ALMEREہالینڈ
طلحٰہ احمد ایم ایس سی MATHEMATICS ایمسٹرڈم ہالینڈ

تعلیمی ایوارڈ کی اس تقریب کےبعد3بجکر40منٹ پرحضورانورایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنےخطاب فرمایا۔
جس کا خلاصہ اخبار ہذا کے شمارہ بتاریخ ۔۔۔۔میں طبع ہو چکا ہے۔ مکمل متن حسب طریق علیحدہ شائع ہوگا۔
خطاب کے بعد حضور انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دعا کروائی۔ دعا کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جلسہ میں حاضرین کی تعداد کے حوالہ سے فرمایا۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ. رپورٹ کے مطابق ہالینڈ جماعت کے افراد کی کل حاضری 1576ہے۔اس میں سے795مردہیں اور781خواتین ہیں۔مجموعی حاضری 5839ہے جس میں سے 3495 مرد اور 2344 خواتین۔ غیر از جماعت مہمان 132 ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کی رپورٹ کے مطابق17ممالک کے افراد یہاں بھی جلسہ پر شامل ہوئے۔تقریباً نصف سے زیادہ تعداد باہر سے آئے ہوئے مہمانوں کی ہے اور اس کی وجہ سے ان کا جلسہ بھی پُررونق ہو گیا۔ جزاک اللہ۔
السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ
اس کےبعداطفال الاحمدیہ ہالینڈاورخدام الاحمدیہ ہالینڈنے باری باری اردوزبان میں ترانےپیش کئے۔
اس کےبعد بنگالی احباب نےبنگلہ زبان میں ایک نظم پیش کی۔ بعدازاں عرب احباب پرمشتمل گروپ نےعربی زبان میں اپناپروگرام پیش کیا۔
آخرپرافریقن احباب پرمشتمل گروپ نےاپنےمخصوص اندازمیں کلمہ طیبہ کاوردکیااوربڑےپُرجوش اندازمیں نعرہ ہائےتکبیربلندکئے۔
بعد ازاں 4 بجکر 25 منٹ پرحضور انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائش گاہ پرتشریف لےآئے۔

فیملی ملاقاتیں

پروگرام کے مطابق 6 بجے حضور انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے دفتر تشریف لائے اور فیملی ملاقاتیں شروع ہوئیں۔ شام کےاِس سیشن میں29 فیملیز کے 127 افراد نے اپنے پیارےآقا سے ملاقات کی سعادت پائی۔اس کے علاوہ 14 خواتین نے انفرادی طور پر اور 113 افراد جماعت نے انفرادی طور پر حضور انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے شرفِ ملاقات پایا۔
ملاقات کرنےوالی یہ فیملیز اور احباب ہالینڈ کی جماعتوںZWOLLE, ALERE, DENBOSH، زوترمیر، ایمسٹردم، DEN HAAG MASSTRICST, ROTTERDAM, NUNSPEET, ARNHEM, EINDHOVEN, UTRECHT اورAMSTELVEENسےآئےتھے۔

ملاقاتیوں کے تاثرات

حضورانورسےملاقات کرنےوالےیہ سبھی وہ لوگ تھےجوحضورانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزسے اپنی زندگی میں پہلی بار مل رہے تھے۔ چند ایک فیملیز ایسی تھیں جن کے بعض افراد کی پہلی ملاقات تھی۔
محمد بشیر کامل جن کا تعلق جھنگ سے ہے انہوں نے اپنے تاثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خدا تعالیٰ نے میری سب مرادیں پوری کر دی ہیں۔موصوف نے بتایا کہ جب 2003ءمیں خلافت خامسہ کا انتخاب ہو رہا تھا اور رات دیر ہوچکی تھی تو میں نے والد صاحب سےکہاکہ جونہی اعلان ہو مجھے اسی وقت جگا دیں۔ چنانچہ جب والد صاحب جگانےآئےتومیں نےوالدصاحب کوبتادیاکہ ابھی میں نےخواب میں دیکھاہے کہ مرزامسروراحمدخلیفۃالمسیح منتخب ہوگئےہیں۔ چنانچہ اس کے کچھ دیر بعدMTAپر اعلان بھی ہوگیا۔
موصوف نے بتایا کہ میں اکیلا باہر آیا تھا۔ سال2015ءمیں حضورانورسے ملاقات ہوئی تھی۔تومیں نےبچوں کےلئےدعاکی درخواست کی تواس پرحضورانورنے فرمایاکہ’’فکرنہ کریں بچےآجائیں گے۔‘‘میں ملاقات کرکےدفترسےباہرنکلاتواسی وقت میرےکیمپ سےمجھےفون آیاکہ آپ کےبچوں کےآنےکا لیٹرآگیاہے۔کس شان سےحضورانورکی بات پوری ہوئی۔ یہ میرےلئےایک معجزہ سےکم نہ تھا۔آج میرےان بچوں اورفیملی کی بھی حضورانورسےملاقات ہوگئی ہے۔اللہ نےمیری سب مرادیں پوری کردی ہیں۔آج توہمارےلئےبہت خوشی کادن ہے۔
فیصل آباد سےآنےوالےایک نوجوان رضوان محمود نےکہاکہ میری زندگی کی ایک بہت بڑی خواہش تھی جوآج پوری ہوگئی ہے۔مجھے اپنی زندگی میں اس کےعلاوہ کچھ نہیں چاہئے۔آج مجھے سب کچھ مل گیاہے۔
اعجازمحمودچیمہ جن کاتعلق نارنگ منڈی سےہےکہنےلگےکہ آج میرادل بڑھ گیاہے۔میں بہت خوش قسمت انسان ہوں،میری یہ ملاقات میری زندگی کی سب سےقیمتی چیزہے۔
انجم نویدجوخانیوال سےآئےتھےکہنےلگےکہ میں لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا۔جذبات کااظہارکرنابہت مشکل ہے۔میری ایک پرانی خواہش پوری ہوگئی،میری برسوں کی دعاخدانےآج سن لی اورپیارےآقاکادیدارنصیب ہوگیا۔اس کاکوئی نعم البدل نہیں ہے۔
افتخار احمد جو ننکانہ سے آئے تھے انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے خاندان کا پہلا پوتا ہوں جس نے خلیفۃ المسیح سے ملاقات کی ہے۔ خاندان میں یہ موقع صرف مجھے نصیب ہواہے۔میرے ماں باپ اورسارےخاندان والوں نےبہت دعائیں کی تھیں کہ مجھے یہ سعادت نصیب ہوجائے۔آج پاکستان میں میرےسارےگھر والوں کی خوشی کی انتہانہیں ہے۔
عثمان علی جو گوجرانوالہ سے آئے تھے جب ان سےان کے احساسات کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگے کہ میرا دل دھڑک رہاہے۔ میراجسم کانپ رہا ہے۔ میں نے حضور انور سے بات کرنےکی کوشش کی مجھ سے بات نہیں ہوسکی۔آج میں بہت خوش نصیب ہوں۔
کراچی سے آنے والے ایک نوجوان عثمان احمد نے کہا ہمیں اپنے آقا سے ملنے کے لئے ایک تڑپ تھی۔آقا کو دیکھنے کےلئے ترستے تھے، اللہ تعالیٰ نےہماری دعائیں سن لیں اورآج ملاقات کی گھڑی نصیب ہوگئی اللہ کاکرم ہے۔خداکاشکر ہے۔اللہ کےفضل کےعلاوہ یہ گھڑی نصیب نہیں ہوسکتی۔خداحضورکاسایہ ہم پرتادیرسلامت رکھے۔آمین
ملتان سےآنے والےایک نوجوان عمارمبشرنےبیان کیاکہ اس وقت جذبات سےمیری یہ حالت ہےکہ الفاظ منہ سےنکل نہیں رہے۔زندگی میں پہلی مرتبہ خلیفۂ وقت کوقریب سےدیکھاہے۔مجھ سےبولانہیں جارہاتھا۔میں نےبڑی مشکل سےوالدین کےلئے دعاکےلئےکہا۔
نبیل احمدعلی پور چھٹہ ضلع گوجرانوالہ سےآئےتھےکہنےلگےمیں لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا۔حضورانورسےملاقات میراایک خواب تھااورمجھےاب بھی یقین نہیں آرہاکہ یہ پوراہوگیا ہے اور مجھے حضورانورسےملاقات کی نعمت نصیب ہوگئی ہے۔یہ خداتعالیٰ کاایساخاص فضل ہےکہ میں عمربھراس کاشکرادانہیں کرسکتا۔خداتعالیٰ حضورانورکاسایہ ہم پرسلامت رکھےاورہمیں حضورانورکی ہرہدایت پرعمل کی توفیق بخشے۔
ربوہ سےآنے والےایک نوجوان محسن رضاکہنےلگےکہ مجھ سےبولا نہیں جارہا۔آج زندگی کی سب سےبڑی خواہش پوری ہوگئی ہے۔میرے دل کی دھڑکن اس وقت تیز ہے۔مجھے یقین نہیں آرہاکہ آج میری ملاقات ہوگئی ہے۔ملاقات نےمجھے بدل کررکھ دیاہے۔
خرم شہزاد جو کہ ربوہ سے آئے تھے کہنے لگے کہ ہمMTA پر جلسے دیکھتے تھے جن میں حضور انور شریک ہوتے تھے۔ میری شدید خواہش تھی کہ ان جلسوں میں شامل ہوں۔حضور انور کا دیدار کریں اور ملاقات بھی نصیب ہو۔ خدا نے اپنے فضلوں سےآج وہ دن دکھایاہےاورمیرےپاس الفاظ نہیں کہ اپنی خوشی کااظہارکرسکوں۔جلسہ میں بھی شامل ہوااورآج ملاقات کی گھڑی بھی نصیب ہوگئی یہ خداکااتنابڑاانعام ہےکہ اس سےبڑی نعمت کوئی بھی نہیں۔
ایک نوجوان مسعود امجد شہزاد سردار والا ضلع سرگودھا سے آئے تھے کہنے لگے کہ جو میری کیفیت ہے ایک انسان اسے بیان نہیں کرسکتا۔ میری حضورانور سےملنے کی شدیدخواہش تھی اورمیں حضورانورکوخط لکھاکرتاتھاکہ میرےئےدعاکریں کہ میری زندگی میں ایک دن ایساآجائےجب حضورانور کے ہاتھوں کوچھوسکوں۔ دعاقبول ہوگئی۔میں آج دنیاکا خوش قسمت انسان ہوں کہ خلیفہ نےمیرےہاتھ کوپکڑاہےاورمیں نےحضورانورسےبات کی ہےاورتصویربھی بنوائی ہے۔
ننکانہ سےایک نوجوان بابراقرارآئےتھے۔کہنےلگے کہ میں بتانہیں سکتاکہ میری حضورانورسےملاقات کی کتنی شدیدخواہش تھی۔میں جلسہ جرمنی پراس لئےگیاتھاکہ وہاں حضورانورےچہرہ کادیدارکروں گاجب حضورانورکاچہرہ نظرآیاتو میرےمنہ سےبےاختیارماشاءاللہ نکلا۔آج اللہ تعالیٰ نےملاقات کی خواہش پوری فرمادی میں نےانتہائی قریب سےپیارےآقاکادیدارکیا۔میں آج کتنا خوش نصیب ہوں۔
خالد احمد چھٹہ نصرت آباد فارم میر پور خاص سندھ سے آئے تھے کہنے لگے کہ آج میرے دل کو سکون ملا ہے۔ پاکستان کے جس علاقے سے میں ہوں وہاں سے کسی عام آدمی کا آنا بہت مشکل ہے۔میری حضور انور سے ملاقات کی شدید خواہش تھی ۔ ہم MTAپر دیکھا کرتے تھے ۔خدا تعالیٰ نے بہت مشکلات کے باوجود یہاں آ نے کے سامان بنائے اور آج میری خواہش پوری ہو گئی ہے۔میں اس کا شکر ادا نہیں کر سکتا ۔
ڈاکٹر(ڈینٹسٹ)قیصرخرم چنیوٹ سےآئےتھے۔کہنےلگےکہ میں نے2003ءمیں بیعت کی تھی۔بعدمیں میری والدہ نےبھی بیعت کرلی اور پھربیوی نےبھی۔آج میں انتہائی خوش قسمت انسان ہوں کہ مجھےحضورانور سےملاقات کاموقع ملا۔میں نےزندگی میں پہلی بارحضورانورکواتنی قریب سےدیکھا۔مجھےسمجھ نہیں آرہاتھاکہ کیابات کروں۔بس یہی بات کی کہ والد صاحب کی ہدایت کےلئےدعاکریں کہ وہ بھی احمدی ہوجائیں۔ملاقات کےبعد میں محسوس کررہاہوں کہ میں اندر سےصاف ہوگیاہوں۔روئی کی طرح ہلکاہوگیاہوں اوربالکل بدل گیاہوں۔ایک منٹ سےبھی کم وقت تھالیکن اس لمحہ نےمجھےبدل کررکھ دیا۔میرےخدانےمجھے سب کچھ دےدیا۔
ملاقاتوں کا یہ پروگرام 8 بجکر 10 منٹ تک جاری رہا۔بعدازاں حضورانورایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکچھ دیرکےلئےاپنی رہائش گاہ تشریف لےگئے۔
نمازمغرب وعشاءکی ادائیگی کاانتظام بیت النورسےملحقہ مارکی(خواتین کی جلسہ گاہ)میں کیاگیاتھاجبکہ بیت النورمیں خواتین نمازکےلئےجمع تھیں۔

بچیوں کی آمین

بچیوں کی آمین کابھی پروگرام تھاجوبیت النورمیںخواتین کےحصہ میں ہوئی۔8بجکر30منٹ پرحضورانوربیت النورنیں تشریف لائےاورتقریب آمین شروع ہوئی۔درج ذیل30بچیاں اس تقریب میں شامل ہوئیں۔حضورانورایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنےباری باری ہرایک سےایک ایک آیت سنی اورآخرپر دعاکروائی۔بچیوں کےاسماءدرج ذیل ہیں۔
عزیزہ وردہ کاشف،مہوش نعمانہ عارف، منساءاظہرممتاز، ماریہ نصیر، سحررانا، ثانیہ صدیقی، کاشفہ انورمحبوب، انیسہ عمران چوہدری، فاتحہ عامر، عنایہ علی، ناجیہ اسلم، دانیہ احمدجٹ، عیشاہ سلطان، عطیۃالباسط، غودسحرمحمود، NOER حیامنان، عدیلہ فاروق، ھبۃالبصیرملک، آصفہ ملک، طاہرہEL HADOUCHI، مہہ نوراکمل، صبغۃالمقیت، مناھل منصور، SANIHA نصیر، ANOSH SAKHI، دریشاہ انجم، عروج میر، عرفہ مبشرعارف، جاذبہ کمال قاضی اورعطیۃالسبوح۔
بعد ازاں حضور انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مارکی میں تشریف لا کر نماز مغرب و عشاء جمع کر کے پڑھائی۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائش گاہ تشریف لے گئے۔

جلسہ سالانہ ہالینڈ میں شمولیت کے بعد نو مبائعین کے تاثرات

جلسہ سالانہ ہالینڈمیں مختلف ممالک سےاحباب جماعت شامل ہوئے ان میں ایک تعداد نومبائعین کی بھی تھی۔ ان نومبائعین نےبھی جلسہ کےماحول اورپروگراموں سےبھرپوراستفادہ کیا۔
مراکش سےتعلق رکھنے والی خاتون آمنہ بیلجئم سےجلسہ میں شمولیت کےلئےآئی تھیں۔بیان کرتی ہیں کہ جلسہ سالانہ ہالینڈمیں مجھےپہلی مرتبہ حضور انور کے پیچھے نماز پڑھنے کی توفیق ملی ہےاورمجھے دعائیں کرنےکا موقع ملاہےاورمیرےدل کوبہت سکون ملاہے۔
مسز عائشہ کا بِندہ ملک CONGO سے تعلق رکھتی ہیں اوربیلجئم میں مقیم ہیں۔ کہتی ہیں کہ حضورانور نے لجنہ میں جوخطاب فرمایاہےاس سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کوملاہے۔مجھےحضورانورکی اقتداءمیں نمازیں پڑھنےکی سعادت بھی ملی۔حضورانورنےاپنےخطاب میں جونصائح فرمائی ہیں ہمارےلئےضروری ہےکہ ہم ان پرعمل پیراہوں۔
توفیق جاماوی جن کاتعلق مراکش سے ہےاپنی فیملی کےساتھ جلسہ میں شامل ہونےکیلئےآئےتھے۔کہتےہیں ہم اس لئےجلسہ میں شامل ہوئےکہ حضورانور کادیدارکرسکیں اورحضورانورکی اقتداءمیں نمازیں پڑھ سکیں۔جلسہ کاایک روحانی ماحول ہوتاہےاورہمیں اس سےبہت فائدہ ملتاہے۔حضورانورکےخطابات نےہمیں دوبارہ چارج کردیاہے۔
ایک غانین دوست عبدالصمدجوکہ بیلجئم میں مقیم ہیں جلسہ میں شامل ہوئےکہتےہیں کہ میں نےحضورانورکےتمام خطابات سنےہیں۔حضورانور نےہمیں ہماری روحانی لحاظ سےبھی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔یہ کہ ہمارےبیرونی لباس کی خوبصورتی سےزیادہ ہماری اندرونی اورروحانی خوبصورتی ہونی چاہئےجوکہ نمازکےذریعہ پیداہوسکتی ہے۔حضورانور کےخطابات کےایک ایک لفظ نےمیرےل پربہت اثرکیاہے۔حضورانورنے ہمیں ہماری کمزوریوں کی طرف بھی متوجہ کیاہے،میں اپنےآپ کوبڑاخوش قسمت سمجھتاہوں کہ یہاں آکرحضورانورکی اقتداءمیں نمازیں اداکیں اوراس روحانی ماحول سےفائدہ اٹھایا۔
ایک نومبائع دوست کربوزادریس جوکہ مراکش سےہیں اوربیلجئم میں مقیم ہیں۔جلسہ میں شامل ہونےکےلئےآئےتھےکہتےہیں کہ پہلےمجھےجلسہ سالانہ جرمنی میں شامل ہونےکاموقع ملاتھااوراب ہالینڈ کےجلسہ میں شامل ہواہوں۔ان جلسوں میں وہی اخوت اوربھائی چارہ کی تعلیم ملتی ہےجواسلام پیش کرتاہے۔لوگ بڑی خوشی اورمحبت کےساتھ ایک دوسرے کوملتےہیں۔جلسون میں شامل ہوکرایمان کوبڑی تقویت ملتی ہے۔جب بھی خلیفۂ وقت کادیدار ہوتاہےتودل کوایک سکون اوراطمینان حاصل ہوتاہے۔یہاں میں نےباربارحضورانورکادیدارکیااوردلی سکون پایا۔میں خداکاشکر اداکرتاہوں۔
ملک روانڈا (RWANDA) سےتعلق رکھنے والےایک نوجوان وذیلی صدام بیلجئم سےآئےتھے۔موصوف نےبتایاکہ اس جلسہ میں شامل ہوکرمیں نےخلافت کی برکات کوسمیٹاہے۔مجھےحضورانورکےخطابات سننے کاموقع ملا۔حضورانورکی نصائح سنیں۔اس لحاظ سےمیں اپنےآپ کوبڑاخوش قسمت سمجھتا ہوں۔ حضورانورکےبابرکت وجود سےبرکت لینےکی ہرایک کی خواہش ہوتی ہے۔میں نےبھی جلسہ میں شامل ہوکراس برکت سےحصہ لیاہے۔
ملک یمن سے تعلق رکھنے والےایک دوست عبداللہ الحمری بیلجئم سےآئےتھے۔کہنے لگےسب سےپہلے میں اللہ تعالیٰ کاشکراداکرتاہوں جس نے مجھے اس جلسہ میں شامل ہونےکاموقع دیااورمیں اپنےآپ کوبڑا خوش نصیب سمجھتاہوں کہ مجھےحضورانورکےدیدارکی،حضورانورکےقرب کی سعادت نصیب ہوئی۔میں نےحضورانورکی اقتداءمیں نمازیں اداکیں۔میراتعلق ایک عرب ملک سےہےمیں بہت دعاکرتاہوں کہ حضورانورکی خواہش کےمطابق عرب لوگوں تک بھی جماعت احمدیہ کاپُرامن پیغام پہنچےاوروہ بھی خلافت کی نعمت سے فیضیاب ہوسکیں اورجوسکون مجھےجماعت میں شامل ہوکرحاصل ہواہےتمام عرب ممالک کےلوگ بھی اس سکون کوپاسکیں۔آمین

image_printپرنٹ کریں