skip to Main Content
جلسہ سالانہ بیلجیئم کے موقع پر مستورات سے خطاب15ستمبر 2018ء فرمودہ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ، بمقام Dilbeek، برسلز

’ہمیشہ یاد رکھیں کہ حقیقی زندگی دنیا میں ڈوبنے میں نہیں ہے بلکہ دین پر قائم ہونے میں ہے

 یہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا تھا تا کہ روحانی زندگی    عطا کریں۔ …اور اسی مقصد کے لئے اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھیجا گیا ہے۔‘‘

دنیا کے مختلف ممالک میں احمدیت کی خاطر مخالفتوں اور مشکلات کا جرأت اور پختہ ایمان کے ساتھ مقابلہ کرنے والی احمدی خواتین کے ایمان افروز واقعات کا تذکرہ

َٔأَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۝

 أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۝ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۝

 اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۝اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۝مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ ۝ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۝ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۝صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۝

آپ لوگوں میں سے بہت سی ایسی ہیں جو یہاں پاکستان سے عمومی نامساعد حالات جو احمدیوں کے لئے پیدا کئے جا رہے ہیں اس کی وجہ سے آئی ہیںلیکن شاید ہی کوئی ایسی ہو، یا ہو سکتا ہے ایک دو ایسی ہوں جو براہ راست کسی تکلیف میں سے گزری ہوں۔ ہاں پاکستان میں یہ خوف ضرور ہے کہ ہم ہمارے خاوند، ہمارے بچے، ہمارے قریبی عزیز خطرے میں ہیں اور کوئی بھی سرپھرا نام نہاد علماء کے کہنے اور بھڑکانے پر کسی بھی وقت نقصان پہنچا سکتا ہے۔ یہ خوف، یہ فکر کی تلوار ہر احمدی پر ہر وقت لٹک رہی ہے جو پاکستان میں موجود ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ عموماً یہاں آ کر کچھ عرصہ بعد اکثر لوگ خاص طور پر عورتیں بچے ان سخت حالات کو بھول جاتے ہیں۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ بہت سی یہاں پیدا ہونے والی لڑکیاں لڑکے یا جنہیں یہاں رہتے ہوئے ایک عرصہ گزر گیاہے وہاں پاکستان میں احمدیوں پر جو سختیاں ہیں انہیں بھول چکے ہیں اور جن کے سب قریبی عزیز باہر آ گئے ہیں وہ لوگ تو جانتے بھی نہیں یا اس درد کو محسوس نہیں کرتے جو اپنے قریبیوں کی وجہ سے محسوس ہو سکتا تھا کہ احمدیوں پر بعض جگہ کس قدر سختیاں ہوتی ہیں۔

پاکستان میں تو قانون کی وجہ سے یہ سختی احمدیوں سے روا رکھی جا رہی ہے اور مولوی کو یا جماعت مخالف لوگوں کو کھلی چھٹی ہے لیکن پاکستان کے علاوہ بھی بعض ممالک ہیں جہاں احمدیوں کو احمدیت قبول کرنے کے بعد سختیوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح بعض یہاں آنے والی دوسرے کم ترقی یافتہ ملکوں سے آئی ہیں اور اس لئے آئی ہیں یا ان کے خاوند اس لئے یہاں منتقل ہوئے ہیں کہ ان ترقی یافتہ ملکوں میں بہتر روزگار کے مواقع میسر آئیں۔ بہرحال جن وجوہات کی وجہ سے بھی اکثریت اس وقت یہاں آئی ہے، ان میں سے جو احمدی ہیں وہ حالات کی وجہ سے آئی ہیں یا بہتر روزگار کی تلاش میں آئی ہیں یا جیسا کہ میں نے کہا بعض سخت حالات کی وجہ سے آئی ہیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ دونوں صورتوں میں اللہ تعالیٰ نے جو دنیاوی لحاظ سے فضل فرمایا ہے اور دنیاوی بہتری کے جو سامان اللہ تعالیٰ نے بہم پہنچائے ہیں ان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے غافل نہیں ہونا۔ اگر یاد رکھیں گی تو دنیا تو مل ہی جائے گی لیکن ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کے بیشمار فضلوں سے حصہ لینے والی بھی بنیں گی۔

ایسے کئی واقعات ملتے ہیں جب بعض عورتیں اور خاندان تکلیفوں سے گزر کر ان ممالک میں آئے اور اللہ تعالیٰ نے بے شمار فضل فرمائے لیکن بہت سے ایسے بھی ہیں جو سخت حالات کے باوجود اپنے ملک میں ہی رہے اور رہ رہے ہیں لیکن وہاں بھی اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور انہوں نے ڈٹ کر ان سختیوں کا مقابلہ بھی کیا۔ پاکستان کے علاوہ بعض ایسے ممالک ہیں جیسا کہ میں نے کہا وہاں ظلم ہوتے ہیں اور آخر کار ان کو وہاں رہنے کے باوجود، اپنے اپنے ملکوں میں کامیابیاں بھی ملیں۔ ایسے بعض حالات، ایسے بعض واقعات میں پیش کروں گا جو پاکستان کے علاوہ لوگوں کے بھی ہیں تا کہ آپ لوگ جو یہاں آئی ہیں، بیٹھی ہیں، ایک عرصہ گزر گیا ہے، بچیاں ہیں بچے ہیں جوان ہو رہے ہیں اور وہ لوگ بھی جن کو ایک لمبا عرصہ رہنے کی وجہ سے یہ احساس نہیں کہ سختیاں کیا ہوتی ہیں ان کو بھی پتہ لگے اور ان کے بھی ایمان میں اضافہ ہو۔ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی اور دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کی طرف توجہ پیدا ہو اس کا احساس بڑھے۔

پہلا واقعہ تو ایک پاکستانی خاتون کا ہی ہے جو سختیوں سے گزرنے کے بعد کینیڈا گئیں۔ براہ راست ان پر سختی ہوئی۔ اکثر عورتیں تو ایسی ہیں جن کے مردوں کو سختیوں سے گزرنا پڑا یاحالات ایسے پیدا ہوئے کہ براہ راست سختیاں نہیں بھی تھیں تو اس کی وجہ سے ملک چھوڑنا پڑا لیکن یہ براہ راست متاثر ہوئیں اور کینیڈا چلی گئیں۔ وہاں جاکر پھر انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو بڑھتے ہوئے بھی دیکھا اور اپنے پُرانے حالات کو بھلایا نہیں ہے۔ یہ خاتون آنسہ صاحبہ کینیڈا سے ہیں، وہ لکھتی ہیں کہ جب میں پاکستان میں تھی اس وقت ہماری فیملی کو کشمیر سے ہجرت کر کے فیصل آباد آنا پڑا۔ ہجرت کی وجہ سے مالی حالات ٹھیک نہیں تھے۔ اس وقت مجھے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں بطور ہیڈ نرس کے بہت اچھی نوکری مل گئی لیکن کچھ عرصہ بعد میرے علم میں آیا کہ اس ہسپتال کا جو ہیڈ ڈاکٹر تھا، انچارج ڈاکٹر وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف گندی زبان استعمال کیا کرتا تھا۔ ایک روز اس نے مجھے اپنے دفتر بلایا اور کلمہ پڑھنے کو کہا کہ تمہارا کلمہ کیا ہے۔ مَیں نے کلمہ سنایا اور ساتھ ہی اسے کہہ دیا کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف ایسے کلمات نہیں سن سکتی جو تم کہتے ہو۔ اس پر اس نے مجھے یہ کہہ کر نوکری سے نکال دیا کہ تم قادیانی ہو۔ چنانچہ اس کے بعد پھروہ کینیڈا بھی آ گئیں۔ حالات بھی بہتر ہوئے۔ پس یہ ایمان کی مضبوطی ہے جو ہر احمدی کو دکھانی چاہئے اور یاد رکھنا چاہئے کہ یہ ایمان کی مضبوطی ہی ہے جو ہمیں اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والا بناتی ہے۔ صدر لجنہ فیصل آباد نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کے نام ان کی خدمت میں جو خط لکھا تھا اس میں بھی اس واقعہ کا ذکر کیاکہ اس طرح ہسپتال کے ڈاکٹر نے نکال دیا ہے تو حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے جواب دیا تھا کہ جس نے ایسا کیا ہے اس کا ہسپتال اور کاروبار ختم ہو جائے گا۔ چنانچہ کچھ عرصہ بعد اس ہسپتال کا جو شخص مالک تھا اس کے خلاف عدالت میں مقدمہ چلا اور وہ ختم ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک لحاظ سے وہاں بھی بدلہ لے لیا کہ اس کا کاروبار ہی ختم ہو گیا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں نکالنے والا تھا۔ یہ نشان ہیں جو ہمیں نظر آتے ہیں۔

 پاکستان کے حالات تو ہمارے سامنے آتے ہی رہتے ہیں اور اس کی وجہ سے بہت سے لوگ ملک سے باہر بھی نکل آئے ہیں جیسا کہ میں نے کہا لیکن دوسرے ممالک میں بھی احمدی عورتیں جس طرح سختی سے گزریں اور گزر رہی ہیں ان کی قربانیاں بھی غیر معمولی ہیں۔ ان کی مثالیں بھی بہت سی ہیں۔ انہوں نے اپنے ایمان کو سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ یہ مثالیں آپ لوگوں کو بھی جیسا کہ میں نے کہا دین کو دنیا پر مقدم کرنے کی طرف پہلے سے بڑھ کر توجہ دلانے والی ہونی چاہئیں۔

بنگلہ دیش کی ایک خاتون ہیں۔ اب بنگلہ دیش کے لوگ تو عموماًباہر بہت کم نکلے ہیں اکا دکا یا چند فیملیاں آئی ہیں۔ اس طرح نہیں آئے جس طرح پاکستان سے حالات کی وجہ سے آتے ہیں۔ حالات وہاں بھی بڑے خطرناک رہے، خوفناک رہے، وہاں لوگ شہید بھی ہوئے بہرحال وہاں کے امیر صاحب لکھتے ہیں، ایک احمدی خاتون صدیقہ صاحبہ تھیں جو بطور انجنیئر پرائیویٹ کمپنی میں ملازمت کر رہی تھیں۔ انہوں نے 2011ء کے یوکے کے جلسہ میں شمولیت کے لئے چھٹی کی درخواست دی تو انتظامیہ نے پہلے تو چھٹی دے دی لیکن بعد میں جب ان کو پتہ چلا کہ یہ احمدی ہیں اور اپنے خلیفہ سے ملنے اور جلسہ میں شامل ہونے کے لئے جا رہی ہیں تو انتظامیہ نے کہا کہ تمہیں نوکری سے استعفیٰ دے کر جانا پڑے گا اور ہم نے چھٹی نہیں دینی۔ اس پر موصوفہ نے فوراً استعفیٰ دے دیا اور بعد میں انہوں نے مجھے دعا کے لئے خط بھی لکھا۔ میں نے یہی لکھا تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ پر فضل فرمائے گا اور پہلے سے بہتر انتظام کر دے گا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل فرمایا کہ امیر صاحب لکھتے ہیں کہ ملک میں نوکری کی تلاش کے لئے خاصی بھاگ دوڑ کرنی پڑتی ہے لیکن موصوفہ نے ایک جگہ درخواست دی اور وہاں بغیر کسی کوشش کے اور بھاگ دوڑ کے ان کو فوری طور پر اس سے بہتر نوکری مل گئی۔ تو اللہ تعالیٰ بھی پھر ایسے لوگوں کو نوازتا ہے جب وہ قربانی کرتے ہیں۔

پھر دو احمدی خواتین جنہوں نے ہر ظلم برداشت کیا لیکن دین کو دنیا پر مقدم رکھا۔ ان کے باہر آنے کے بھی وہاں کوئی سامان نہیں تھے لیکن انہوں نے اس کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ ہندوستان میں جو صوبہ بنگال ہے وہاں سے  انسپکٹر صاحب تحریک جدید ایک واقعہ لکھتے ہیں کہ جماعت احمدیہ بتھاری کے واجد علی صاحب منڈل مرحوم کو 1982ء میں احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی۔ قبول احمدیت کے بعد شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا یہاں تک کہ ان کے بھائی بھی سخت مخالف ہو گئے۔ خاندان نے قطع تعلق کر دیا۔ واجد علی صاحب کی دو بیٹیاں فاطمہ بیگم اور ماجدہ بیگم کی شادی قبول احمدیت سے پہلے ہو چکی تھی اس لئے مخالف بھائی نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دونوں غیر احمدی دامادوں کو ورغلایا جس سے دونوں دامادوں نے اپنی اپنی بیویوں فاطمہ اور ماجدہ کو ہر قسم کی تکلیف دینی شروع کر دی کہ شاید بیٹیوں کی وجہ سے باپ پر اثر ہو اور وہ احمدیت سے توبہ کر لے اور چھوڑ دے۔ لیکن باپ نے اس کی کوئی پروا نہیں کی، ان پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ آخر دامادوں نے کورٹ کے ذریعہ سے اپنی اپنی بیویوں کو طلاق نامہ بھجوا دیا۔ جو فاطمہ تھیں وہ اپنے دو چھوٹے بچوں کو لے کر والدہ کے گھر آ گئیں ۔ وہ ابھی احمدی نہیں ہوئی تھیں۔ اور احمدیت کے بارے میں مزید معلومات حاصل کیں اور اسی طرح دوسری نے بھی اور معلومات کے بعد پڑھ کر، سمجھ کر دونوں نے احمدیت اختیار کرلی، احمدیت میں شامل ہو گئیں۔ کچھ عرصہ کے بعد جو ماجدہ تھیں ان کی تو قادیان میں شادی ہو گئی اور وہ تو اللہ کے فضل سے خوشحال زندگی بسر کر رہی ہیں۔ لیکن فاطمہ کو قبول احمدیت کی بنا پر اپنی خوشحال زندگی جو تھی وہ قربان کرنی پڑی لیکن پھر بھی ان کے ثبات قدم میں کوئی لغزش نہیں آئی۔ موصوفہ وہاں اپنی جگہ جہاں تھیں سلائی کا معمولی کام کرنے لگیں، گزارہ کر لیتی تھیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیت کے بعد ان کا ایمان بھی مضبوط ہوا۔ لکھنے والے لکھتے ہیں کہ مالی قربانی بھی اپنی استطاعت سے دس گنا بڑھ کر کرتی تھیں۔ ہمیشہ ان کی یہ عادت تھی اور احمدیت قبول کرنے کے بعد کوشش تھی کہ ہر قسم کی قربانی جماعت کی خاطر دینے میں اُن کا قدم آگے سے آگے بڑھتا چلا جائے۔ تو یہ تھیں قربانی کرنے والی عورتیں جو باہر بھی نہیں آ سکتیں۔

پھر ہندوستان کی ہی ایک مخلص خاتون کا ذکر کرتے ہوئے بنگال کے سرکل انچارج لکھتے ہیں کہ ایک صاحب تھے فضل الرحمن صاحب جو کلکتہ میں ٹائپسٹ (typist) تھے انہوں نے بیعت کی مگر ان کی اہلیہ نے ان کی شدید مخالفت کی حتی کہ شوہر کے ساتھ رہنا بھی گوارا نہ کیا اور میکے چلی گئیں۔ لیکن کچھ عرصہ بعد موصوفہ نے خواب کی بناء پر بیعت کر لی اور شوہر کے پاس واپس آ گئیں اور پھر مخالفت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ رشتہ داروں نے، ملاؤں نے بڑا زور لگایا۔ رشتہ داروں نے ان کو مارا پیٹا بھی حتٰی کہ ان کو اتنا شدید مارا کہ اس مار پڑنے کی وجہ سے ایک وقت ایسا آیا کہ ان کو ہسپتال میں داخل ہونا پڑالیکن احمدیت پر ثابت قدم رہیں۔ اس گاؤں میں ان کی ہی ایک فیملی احمدی تھی۔ ان کے شوہر کی وفات پر مولویوں نے بڑا شور مچایا کہ یہاں تمہیں دفن نہیں کرنے دیں گے۔ ان خاتون نے مبلغ کو فون کیا کہ احمدیوں کو لے کر آؤ تا کہ تدفین کی جا سکے۔ مخالفین نے قبرستان میں دفنانے سے روک دیا۔ بڑی باہمت خاتون تھیں انہوں نے کہا کوئی بات نہیں اگر قبرستان میں نہیں دفنانے دیتے تو میں ان کو اپنے گھر کے صحن میں ہی دفن کر لوں گی۔ چنانچہ ہمارے احمدیوں نے جنازہ پڑھا اور ان کے گھر کے صحن میں ہی ان کی تدفین ہوئی۔ اب ان کے ایک بیٹے اللہ تعالیٰ کے فضل سے معلم بھی ہیں۔

پھر اسی طرح ہندوستان کی ایک اور مخلص خاتون کا ذکر ہے، نارائن پور ضلع کھمم آندھرا پردیش میں شدید مخالفت کی وجہ سے لوگ احمدیت سے دور ہو گئے تھے۔ احمدیت قبول کی اور پھر ڈر کر خاموشی اختیار کر لی لیکن دو گھر مخالفت میں بھی ثابت قدم رہے۔ ان میں ایک بی جان صاحبہ تھیں جن کی عمر 65 سال تھی اور ان کی معمولی کھیتی باڑی تھی۔ انہوں نے مخالفت کے بعد جلسہ سالانہ قادیان میں شرکت کا ارادہ کیا۔ قادیان سے جب واپس گئیں تو مخالفین جنہوں نے سارے گاؤں کو ڈرایا ہوا تھا پھر ان کے پاس آئے اور دھمکی دی کہ تیرا شوہر بوڑھا ہے وہ مر گیا تو جنازے میں کوئی نہیں آئے گا۔نعش پڑی رہے گی اور سڑ کر کیڑے پڑ جائیں گے۔ بی جان صاحبہ نے کہا مجھے اس کی پروا نہیں۔ میں اپنے ایمان پر قائم ہوں اور میرا خدا تم لوگوں کو ضرور سزا دے گا۔میں نے قادیان میں بہت دعائیں کی ہیں۔ بہرحال چند دن بعد مخالفت میں پیش پیش جو شخص تھا وہ مشکوک حالت میں مرا ہوا پایا گیا۔ اس کا پوسٹ مارٹم ہوا۔ تین دن تک اس کی نعش لینے کوئی نہیں آیا اور پھر کہنے والے بیان کرتے ہیں کہ اس کی نعش میں کیڑے پڑ گئے۔ تو اللہ تعالیٰ بھی اپنے بندوں کی، مظلوموں کی جب آہیں سنتا ہے تو پھر ایک واضح نشان کے طور پر اس کے نتائج  دکھاتا بھی ہے۔

پھر ایک خاتون اپنے خاوند پر بیتنے والے ایک دردناک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ 2008ء میں مخالفین احمدیت کی طرف سے جو ظلم و ستم اور بربریت کامظاہرہ ہوا۔ یہ سہارن پور کی عرفانہ صاحبہ ہیں۔ کہتی ہیں میں نے خود دیکھا ہے اسے دیکھ کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کہتی ہیں کہ 2006ء میں ہم لوگوں کو احمدیت کے بارے میں معلوم ہوا۔ میرے شوہر کی کپڑے کی دوکان تھی۔ اکثر دوپہر کے وقت ان کے نئے ساتھی جو کہ احمدیت کو اچھی طرح سے جانتے تھے آ کر بیٹھتے اور دونوں کے درمیان گھنٹوں اس بارے میں بات چیت ہوتی، تکرار ہوا کرتی تھی کیونکہ کہتی ہیں کہ میرے خاوند جماعت اسلامی سے تعلق رکھتے تھے اور اس وقت آٹھ سال سے تقریباً سہارن پور کے جماعت اسلامی کے امیر بھی تھے۔ اس لئے اُن کی بحث بھی بڑی ہوتی تھی۔ کہتی ہیں کہ 2006ء میں میرا بڑا بیٹا قادیان گیا۔ اس نے وہاں بیعت کر لی۔ اس کے بعد تقریباً ایک سال تک اس نے بیعت کرنے کی بات ہم سے چھپا کے رکھی۔ جب یہ بات ہمیں معلوم ہوئی کہ وہ احمدی ہو گیا ہے تو اس کے بعد میرے چھوٹے بیٹے نے بھی بیعت کر لی، اسے بھی خاموشی سے تبلیغ کرتا رہا۔ اس کے بعد میرے خاوند نے اور بعض رشتہ داروں نے قادیان کی زیارت کا پروگرام بنایا۔ کہتی ہیں قادیان آنے پر انہوں نے جو کچھ دیکھا، جو محسوس کیا، جو ہمارے مولوی صاحبان قادیان کے بارے میں غلط باتیں کہتے تھے اس سے بالکل مختلف پایا، سب جھوٹ تھیں اور ان میں کوئی حقیقت نہیں تھی۔ قادیان سے واپسی پر انہوں نے ہمارے سامنے قادیان کی حقیقت بیان کی جس کو سن کر ہمارے دل بھی مطمئن ہو گئے۔ چنانچہ 27مئی 2008ء کو کہتی ہیں ہم سب نے بیعت کر لی۔ وہی دن جب مَیں نے صد سالہ خلافت جوبلی کے موقعہ پر جماعت سے ایک عہد لیا تھا۔ اسی دن اللہ تعالیٰ نے اس پورے خاندان کو احمدیت میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔ اس کے بعد کہتی ہیں کہ ارد گرد کے لوگوں نے ہم پر شک کرنا شروع کر دیا یا شاید ان کو شک ہو گیا کہ ہم احمدی ہو گئے ہیں۔ تو جیسے جیسے وقت گزرتا گیا یہ شک یقین میں بدلتا گیا اور مخالفت تیز ہوتی گئی۔ ہمارے رشتہ داروں نے ہمارا بائیکاٹ کر دیا۔ لوگ ہمیں قادیانی کہہ کر طنز کرنے لگے۔ بچوں کو پریشان کیا جانے لگا۔ مسلمان دوکانداروں نے ہمیں سامان وغیرہ دینا بند کر دیا۔ قتل کی اور مارنے کی دھمکیاں ملنے لگیں۔ ہمارے خلاف پروپیگنڈا شروع ہو گیا اور حالات بگڑتے چلے گئے۔ مخالفت زور پکڑتی چلی گئی مگر ہم سب پر اس بات کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ ہم اپنے ارادے پر، اپنے ایمان پر مضبوطی سے قائم رہے۔ کہتی ہیں میرے بچوں کو سکول میں بہت ستایا جانے لگا اور جو ساتھی بچے تھے وہ ان کو تنگ کرتے تھے۔  بچوں کو سکول کے بچے جو کچھ ان کے استادوں نے اور مولویوں نے سکھایا تھا کہنے لگے کہ تم لوگوں نے پیسے لے کر اپنا ایمان بیچ دیا ہے۔ غرض کہتی ہیں ہر طرح سے ہمیں تنگ کیا جاتا تھا۔ بچوں کا باہر نکلنا مشکل ہو گیا اور ہم سب پریشان تھے۔ سکول جانا اور ٹیوشن سینٹر وغیرہ جانا بھی بند ہو گیا۔ سارے رشتہ داروں، محلے والوں نے سوشل بائیکاٹ کر دیا، بات بھی کوئی نہیں کرتا تھا۔ غرض کہ انہوں نے پریشان کرنے کا کوئی بھی طریقہ نہیں چھوڑا۔ شوہر کے ساتھ بھی دوکانداروں نے برا سلوک کرنا شروع کر دیا اور ان کی دوکان کے ارد گرد کچھ پہرے دار انہوں نے چھوڑ دئیے تا کہ کوئی رشتہ دار ہمارے گھر نہ آ سکے۔ مسلمان لوگوں نے ہمارا سامان لینا بند کر دیا جس کی وجہ سے ہماری دوکان کا کام دن بدن ختم ہوتا جا رہا تھا۔ کہتی ہیں جب میرے خاوند گھر آتے تو دن بھر کے گزرے ہوئے حالات ہمیں بتاتے۔ کہتی ہیں ایک رات تقریباً بارہ بجے کے قریب جب ہم سو رہے تھے تو محلے کے ایک لڑکے نے شور مچانا شروع کر دیا کہ تم لوگوں کی دوکانیں جلا دی گئی ہیں۔ گھر کے سارے مرد جلدی جلدی اٹھ کر دوکانوں کی طرف چل دئیے وہاں جا کر دیکھا تو آگ لگی ہوئی تھی۔ بہرحال فائر بریگیڈ والے آ گئے تھے اور آگ بجھا رہے تھے اور اللہ کے فضل سے زیادہ نقصان نہیں ہوا لیکن اس نقصان کے باوجود، ان سب حرکتوں کے باوجود یہ کہتی ہیں کہ بفضلہ تعالیٰ ہم اپنے ایمان پر قائم رہے اور جماعت کے ساتھ جڑے رہے۔ کبھی مخالفت کی وجہ سے یہ بات ہمارے دل میں نہیں آئی کہ احمدیت قبول کرنے کی وجہ سے ہم پر یہ ظلم ہو رہا ہے۔ بہرحال کہتی ہیں کہ جیسے جیسے ظلم بڑھتے گئے ہمارے ایمان بھی اسی طرح مضبوط ہوتے چلے گئے۔ شہر کے مولوی دن رات ہمارے خلاف جلسے وغیرہ کرنے لگے، لوگوں کو ہمارے خلاف بھڑکانے لگے۔ باوجود ہندوستان میں ہونے کے شہر کا ایک حصہ مسلمانوںکا تھا ایک حصہ ہندوؤں کا اور مسلمان علاقے میں ان کی جتنی مخالفت ہو سکتی تھی کی جاتی تھی۔ کہتی ہیں ایک رات مخالفین احمدیت نے ہمارے خلاف بہت بڑے جلسہ کا اہتمام کیا۔ سارے شہر میں لاؤڈسپیکر کے ذریعہ سے جلسہ کا پروگرام سنانے کا انتظام کیا گیا اور بہت بھڑکیلی تقاریر کی گئیں۔ اسی رات کو کہتی ہیں ہمیں خبر ملی کہ احمدی بھائی افضال احمد کے گھر پر مخالفین نے حملہ کر دیا ہے اور ان کو بہت مارا پیٹا گیا ہے، شدید زخمی کر دیا گیا۔ اس کے بعد جتنے بھی سہارن پور میں احمدی گھر تھے باری باری سب پر حملہ کیا گیا۔ اگلے دن جمعہ کی نماز کے بعد مخالفین نے ہمارے گھر پر بھی حملہ کر دیا۔ حملہ آور ہمارے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔ اس وقت میں گھر پر اکیلی تھی۔ میں نے اپنے بچوں کو گھر کے پچھلے والے کمرے میں چھپا دیا۔ میرے دیور کے گھر میں مخالفین نے گھس کر بہت مالی نقصان پہنچایا۔ میں اکیلی ان سب کا سامنا کرتی رہی اور ان کے آگے ہار نہیں مانی۔ وہ لوگ آگ لگانے ہی والے تھے کہ پولیس آ گئی۔ پولیس نے آ کر ان سب پر لاٹھی چارج کیا، آنسو گیس کا استعمال کیا۔ تعداد بہت زیادہ تھی۔ پولیس کے کنٹرول میں نہیں ہو رہی تھی۔ پولیس ڈر بھی رہی تھی۔ بہرحال پولیس نے مشورہ دیا کہ آپ لوگ کچھ وقت کے لئے یہاں سے چلے جائیں ابھی حالات ٹھیک نہیں۔ اور کہتی ہیں کہ اسی رات ہم سہارن پور چھوڑ کر اس جگہ سے چلے گئے۔ پھر قادیان کے لئے روانہ ہوئے لیکن ان سب حالات کے باوجود استقامت دکھائی۔ پس جب ایمان نصیب ہوتا ہے تو پھر اگر حقیقی ایمان ہو تو استقامت بھی ملتی ہے۔ عورتوں اور بچوں کی استقامت پھر مردوں میں بھی حوصلہ پیدا کرتی ہے۔ اگر یہ عورتیں اور بچے بزدلی دکھائیں تو پھر مرد بھی پریشان ہو جاتے ہیں۔ پس یہ لوگ ہیں جو کہیں باہر نہیں جا سکتے زیادہ سے زیادہ یہ کہ قادیان چلے گئے لیکن وہاں رہ کر مخالفت کا سامنا کر رہے ہیں۔

پھر امیر صاحب گیمبیا لکھتے ہیں کہ یہاں نارتھ بنک ریجن کے ایک قصبہ میں ایک خاتون سسٹر ٹیدا (Tida) ہیں، پیدائشی احمدی ہیں اور ایک مخلص احمدی گھرانے سے تعلق ہے۔ تاہم لکھتے ہیں کہ قسمت انہیں عجیب ایک موڑ پر لے آئی اور اس کی شادی ایک غیر احمدی سے ہو گئی۔ اس کا خاوند ایک مذہبی کٹر گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ جو افریقن لوگ ہیں وہ بھی بڑے کٹر شدت پسند مسلمان ہیں۔ اور مسجد کا امام بھی اسی خاندان سے مقرر ہوتا تھا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ جماعت کے بھی سخت مخالف تھے۔ اس خاتون نے ان سب کے ہوتے ہوئے اپنے دین کو نہ چھپایا اور برملا اظہار کیا اور ہمیشہ اسی طرح جماعتی پروگرام میں شرکت کرتی رہتی تھیں جیسے پہلے کرتی تھیں لیکن خاوند یا اس کے خاندان کے فرد کے پیچھے کبھی انہوں نے نماز نہیں پڑھی۔ انہوں نے کہا میں احمدی ہوں تم لوگوں کے پیچھے نماز نہیں پڑھوں گی۔ اسی طرح اس خاندان کی نفرت اور ظلم کا نشانہ بنتی رہیں لیکن اپنا ایمان نہیں بیچا اور ثابت قدم رہیں۔ اپنے بچوں کا بھی جماعت سے مضبوط تعلق قائم رکھا۔ ان کے بچے بھی باقاعدگی سے مشن ہاؤس آتے اور تربیتی کلاسز میں شامل ہوتے۔ بہرحال خاوند نے تنگ کرنے کے بعد کچھ عرصہ کے بعد دوسری شادی کر لی اور نو ماہ تک اس پہلی بیوی کو بے یارومددگار چھوڑ دیا، کوئی پرواہ نہیں کی۔ ان کے بڑے بھائی اور جماعت نے اس کی کچھ عرصہ مالی مدد کی۔ یہ تمام عرصہ بھی اس نے انتہائی صبر اور استقامت سے بسر کیا۔ ہمیشہ دعا کرتی اور مضبوطی ایمان کا اظہار کرتی تھیں۔ یہ کہتے ہیں کہ خاوند کے خاندان میں یہ بھی رواج تھا۔ یہ ان کا مضبوطی ایمان کا ایک اور واقعہ ہے کہ دیگر ہمسائے اکٹھے مل کر ایک مذہبی اجلاس کرتے تھے جس میں کسی بڑے امام کو بلایا جاتا تھا۔ اس تقریر میں جو غیراحمدی امام آیا اس نے تقریر کے دوران کہا کہ جب بھی کوئی احمدیہ مسجد میں نماز پڑھتا ہے اسے پچیس ڈلاسی (Dalasi)دئیے جاتے ہیں۔ ڈلاسی وہاں گیمبیا کی کرنسی کا نام ہے۔ وہ سسٹر ٹیدا بھی وہاں موجود تھیں انہوں نے کھڑے ہو کر کہا کہ یہ امام جھوٹ بول رہا ہے کیونکہ میں خود ہمیشہ سے احمدیوں کی مسجد میں نماز پڑھتی رہی ہوں اور ایک بھی ڈلاسی کبھی وصول نہیںکیا۔ تو یہ بات امام کو شرمندہ کرنے کے لئے کافی تھی۔ اس بات پر اس کو گھر والوں نے اور ہمسایوں نے مسجد سے نکال دیا اور ان پر کافی سختیاں ہوئیں۔ بہرحال اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے اپنے پانچ بیٹوں اور ایک بیٹی کی بڑے اچھے رنگ میں تربیت کی ہے اور سب جماعت سے اخلاص کا تعلق رکھنے والے ہیں اور یہ تھوڑی آمدنی کے باوجود باقاعدگی سے چندہ ادا کرنے والی ہیں۔ اپنے اوراپنے تمام بچوں کی طرف سے ہر تحریک میں حصہ لیتی ہیں اور بچے ایک مثالی احمدی ہیں۔ قرآن کریم بھی پڑھ چکے ہیں۔ یہ ایمان بچانے والی اور دیندار خواتین ہیں جو دین پر قائم رہیں گی اور کامیاب ہوں گی اور اللہ تعالیٰ کے انعامات کی بھی وارث بنیں گی نہ کہ وہ جو دین میں کمزوری دکھانے والی ہیں۔ غربت کے باوجود مالی قربانی میں پیش پیش تھیں۔ بچوں کی تربیت اعلیٰ رنگ میں کی۔ باوجود نامساعد حالات کے، باوجود گھر والوں کی مخالفت کے احمدیت سے جوڑے رکھا۔

پس یہاں آکر جبکہ آپ لوگوں کو مذہبی اور دینی آزادی ہے تو اپنے بچوں کو دین سکھانے کی طرف توجہ دلائیں۔ خود بھی دین کا علم بڑھانے کی طرف توجہ کریں۔ اپنے ایمان میں مضبوطی پیدا کریں۔ یہاں ان ترقی یافتہ ملکوں میں ہم دیکھتے ہیں کہ ماحول بھی ہر وقت بگاڑ پیدا کر رہا ہے۔ کئی دفعہ میں عورتوں کو بھی، مردوںکو بھی سمجھا چکا ہوں کہ یہاں ہمیں پہلے سے بڑھ کر اپنے بچوں کو سنبھالنے کے لئے کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ بچوں کو دین سے جوڑنا یہاں ایک بہت بڑا کام ہے اور جو خاص طور پر عورتوں اور ماؤں کی ذمہ داری ہے۔ پس اس فرض کو سمجھیں۔ اس ذمہ داری کو سمجھیں اور یاد رکھیں کہ جس طرح ایک دُوردراز رہنے والی افریقہ کے ملک کی یہ عورت دشمنوں میں رہنے کے باوجود اپنے بچوں کی تربیت کی طرف خاص توجہ دیتی رہی تو یہاں آ کر آپ لوگ جو پڑھی ہوئی عورتیں ہیں آپ کو تو خاص طور پر اس طرف توجہ دینی چاہئے تا کہ آپ کی نسلیں ہمیشہ احمدیت پر قائم رہیں اور برباد نہ ہوں۔

ایک اور مخلص خاتون کا ذکر کرتے ہوئے امیر صاحب گیمبیا لکھتے ہیں کہ سسٹر سوادی (Suwadi) صاحبہ نے اپنے والدین کے ساتھ احمدیت قبول کی اور اس کے بعد ایک احمدی نوجوان سے ان کی شادی ہو گئی۔ کچھ عرصہ بعد والدین جو تھے وہ کسی وجہ سے اور اپنے کمزور ایمان کی وجہ سے احمدیت سے دور ہو گئے اور ان کو بھی کہا کہ تم اپنے احمدی خاوند کو چھوڑ کر اب ہمارے پاس آ جاؤ لیکن اس خاتون نے اپنے والدین سے کہا کہ شادی کے وقت آپ خوب جانتے تھے کہ وہ احمدی ہے اب میں اس کو چھوڑ کر آپ کے ساتھ نہیں جا سکتی۔ اس پر اس کے والدین نے اس سے تین سال تک قطع تعلق رکھا، مقاطعہ کیا، بات نہیں کی۔ اور تین سال کے بعد جب اس نے سمجھا کہ حالات بہتر ہو گئے ہیں تو جب والدین کے گھر جاتی اسے گھر سے نکال دیا جاتا۔ اس نے یہ جذباتی اذیت بڑے حوصلے سے برداشت کی لیکن جماعت کو نہیں چھوڑا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی مخلص احمدی خاتون ہیں۔ یہ مالی قربانی میں بھی پیش پیش ہیں۔ خلیفہ وقت سے بھی انتہائی محبت کے تعلق کا اظہار کرنے والی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے ایمان میں اور مضبوطی پیدا کرتا جائے۔ ان ممالک میں خاص طور پر افریقہ میں جہاں بڑوں اور والدین کے حکم کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔ یہاں کی طرح ابھی آزادی نہیں آئی کہ والدین کے سامنے کچھ بول لیں، ان میں ایسے حالات میں والدین کو جواب دینا اور دین کو مقدم رکھنا یہ انتہائی ایمانی جرأت کا اظہار ہے جو اس خاتون نے دکھایا۔ وہ عورتیں جو دور دراز علاقوں میں رہتی ہیں جہاں شاید سڑکیں بھی پوری طرح نہیں پہنچتی ہوں گی لیکن جب ایمان لائیں تو ایسا مضبوط ایمان ہے کہ کسی بھی چیز کی پروا نہیں۔ خلافت سے تعلق پیدا کیا تو ایسا تعلق کہ باقی سب تعلقوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ یہ مضبوط ایمان والی وہ خواتین ہیں جو ایک وقت آئے گا کہ جن کی نسلیں پھر انشاء اللہ تعالیٰ ترقی کر کے اونچے اور اعلیٰ مقام پر پہنچیں گی۔

پھر ایک اور واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے امیر گیمبیا لکھتے ہیں کہ اپر ریور ریجن کے ایک علاقے کی سسٹر سمباگ (Sambang) ہیں، ان کے خاوند احمدی ہو گئے تو اس کے خاندان والوں نے بہت کوشش کی کہ یہ اپنے خاوند کو چھوڑ دے۔ جب خاندان والوں نے اپنی بیٹی سے رابطہ کیا تو اس نے کہا کہ آپ نے شادی کے وقت مجھے نصیحت کی تھی کہ تم نے ہر حال میں اپنے خاوند کی فرمانبردار رہنا ہے۔ یہ بھی برداشت اور حوصلہ آجکل ان لوگوںمیں ہی ہے یا یہ قدریں انہی میں قائم ہیں جو ذرا کم ترقی یافتہ سمجھے جاتے ہیں لیکن حقیقی ترقی یہی ہے۔ بہت سارے ہمارے گھروں میں جو رشتے ٹوٹ رہے ہیں، طلاقیں ہو رہی ہیں وہ اسی لئے کہ لڑکیوں میں بھی اور لڑکوں میں بھی برداشت کم ہوتی جارہی ہے۔ شادی ہوتی ہے تو چند مہینوں بعد رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔ والدین جو ہیں وہ بھی بعض دفعہ گھروں کو خراب کرتے ہیں۔ لیکن اس علاقے میں افریقہ کی رہنے والی خاتون اپنے والدین کو کہہ رہی ہے کہ دیکھو تم نے مجھے کہا تھا کہ تم نے اس شادی کو ہر حال میں قائم رکھنا ہے، فرمانبردار رہنا ہے سوائے اس کے کہ کوئی ایمان کا سوال پیدا ہو جائے، انتہائی ظلم ہو جائے تو اَور بات ہے لیکن عموماً چھوٹی موٹی باتیں گھروں کو قائم رکھنے کے لئے برداشت کرنی چاہئیں تا کہ بچے بھی برباد نہ ہوں۔ بہت سارے گھر ٹوٹتے ہیں تو اس کے بعد بچے برباد ہوتے ہیں۔ بہرحال اس عورت نے جواب دیا کہ اب اس کی فرمانبرداری میرا نہ صرف اخلاقی فرض ہے بلکہ میرا مذہبی فریضہ بھی ہے۔ اور میں نے تو اس میں، اپنے خاوند میں کوئی غیر اسلامی حرکت نہیں دیکھی جو میں اس کو چھوڑ دوں۔ بلکہ جب سے احمدی ہوا ہے میں دیکھ رہی ہوں کہ وہ بڑی باقاعدگی سے اب پنجوقتہ نماز ادا کرتا ہے۔ پس اس میں مردوں کے لئے بھی ایک سبق ہے کہ صرف عورتوں پر سختیاں نہ کرتے چلے جائیں۔ عورتوں کو نہ سمجھاتے رہیں۔ عورتوں سے حقوق کا مطالبہ نہ کرتے رہیں بلکہ خود بھی اللہ تعالیٰ کا حق ادا کریں اور پنجوقتہ نمازوں کی طرف توجہ دیں اور اپنی بیویوں سے حسن سلوک بھی کریں۔ تو کہتی ہیں کہ اب جب ایسے حالات ہیں جب وہ پنجوقتہ نمازی بھی ہے، اخلاق بھی اس کے اچھے ہو گئے ہیں، سلوک میرے سے پہلے سے بہتر ہو گیا ہے تو اب تو مجھے پہلے سے بڑھ کر اس کی اطاعت کرنی چاہئے خواہ اس کے لئے مجھے آپ لوگوں سے رشتہ توڑنا پڑے میں توڑ دوں گی اب میں احمدی ہو چکی ہوں۔

تو یہ ہے انقلاب جو احمدیت کی وجہ سے ان دُوردراز ملکوں میں پیدا ہو رہا ہے۔ جو قربانیاں کرنے کی طرف ان کو توجہ دلا رہا ہے جو اللہ کی خاطر ہر قربانی دینے کے لئے تیار ہیں۔ بہرحال اس کے نتیجہ میں اس کے والدین نے جو اس کی مالی مدد کرتے تھے وہ روک لی۔ موصوفہ کہتی ہیں کہ اس مالی مدد روکنے کے بعد سے ہمیں وہ چھوٹے چھوٹے مالی مسائل بھی پیدا نہیں ہوئے جو پہلے پیدا ہو جایا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ہمارے حالات پہلے سے بہتر کر دئیے۔ اللہ بھی پھر اپنے لوگوں کی غیرت رکھتا ہے جیسا کہ میں نے کہا۔

پھر قادیان سے ریاض صاحب کی اہلیہ بے بی تبسم صاحبہ تحریر کرتی ہیں۔ 2008ء میں صوبہ اڑیسہ کے کیرنگ گاؤں میں انہوں نے مولوی آفتاب صاحب کے ذریعہ احمدیت قبول کی۔ بیعت کرنے کے بعد کہتی ہیں کہ میں نے جماعت احمدیہ کا سچا پیغام اپنے گھر والوں اور رشتہ داروں تک پہنچایا۔ بیعت کی تو ساتھ ہی اپنے گھر والوں کو تبلیغ بھی شروع کر دی۔ احمدیت قبول کرنے کی وجہ سے ہمیں پریشان کیا جانے لگا۔ احمدیت چھوڑنے کے لئے پریشر ڈالا جانے لگا۔ میرے سسرال کے لوگوں نے ایک میٹنگ کر کے فیصلہ کیا کہ یا تو ان کو احمدیت سے دور کیا جائے یا پھر ان کو احمدیت قبول کرنے کی وجہ سے کچھ سزا دی جائے۔ مخالفت کی وجہ سے ہمیں وطن چھوڑنا پڑا اور نجیب آباد ضلع بجنور میں ایک ہندو محلہ میں کرائے کے مکان میں رہنا پڑا۔ اس وقت میرے بیٹے کی پیدائش بھی قریب تھی۔ اس لئے ان سب حالات کے پیش نظر ہم لوگ قادیان آ گئے۔ میرے شوہر کی شدید خواہش تھی کہ اپنے والد سے ملاقات کر لوں مگر آخر وقت تک ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو سکی۔ مخالفت کی وجہ سے کہتے ہیں ہم لوگ اپنے قریبی رشتہ داروں سے بھی نہ مل سکتے تھے۔ میرے سسر نے ہمارے حصہ کی زمین بھی اپنے دامادوں کو دے دی اور ہمیں تمام جائیداد سے بے دخل کر دیا۔ جو ظلم ہو سکتا تھا کیا۔ جب ہم وطن سے قادیان روانہ ہوئے تو سفر کے دوران مجھے غیب سے آواز آئی۔ ایمان مضبوط تھا۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق تھا۔ دعا مانگ رہی تھیں تو کہتی ہیں مجھے ایک آواز آئی کہ ہم نے تمہیں جس مقصد کے لئے بلایا تھا وہ پورا ہو گیا ہے۔ کہتی ہیں خدا تعالیٰ نے ایک دن مجھے خواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دیدار کروایا۔ اب خواب کے دوران ہی حضور اقدس علیہ السلام نے خاکسار سے یہ الفاظ کہے کہ تم پر خدا کی رحمت ہو۔ یہ کہتی ہیں یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ہمیں اس سچی اور پیاری جماعت کے ساتھ وابستہ کیا اور ہمارے دلوں کو روحانی نور سے منور کیا۔

پس اصل سکون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا ہو۔ وہ نور حاصل ہو جس کو حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کا نور ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جڑ کر آپ کی کامل اطاعت کا نور ہے۔ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آ کر ان تمام باتوں پر عمل کرنا ہے جس کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہم سے عہد بیعت لیا ہے اور اصل تسکین پھر تبھی ملتی ہے۔ دولت سے سکون نہیں ملا کرتا۔ یہاں آ کر بہت سارے ہیں کہ دولت کمانے کے باوجود ان کو سکون نہیں کیونکہ دین سے دور ہٹ گئے۔ پس یہ وہ اصول ہے جسے ہر ایک کو اپنے سامنے رکھنا چاہئے اور یاد رکھنا چاہئے۔

پھر امیر صاحب گیمبیا ہی تحریر کرتے ہیں کہ نارتھ بنک کی ایک سسٹر ٹبارا (Tabara) صاحبہ ہیں۔ تین سال ہوئے انہوں نے احمدیت قبول کی۔ ستاون سال ان کی عمر ہے۔ ان کے اپنے گاؤں میں جو داعی الی اللہ خواتین ہیں ان میں ان کا ایک منفرد مقام ہے۔ تین سال پہلے بیعت کی اور تبلیغ اور دعوت الی اللہ میں ایک مقام حاصل کرلیا۔ کئی کئی میل، کئی کئی کلو میٹر پیدل سفر کر کے اپنے رشتہ داروں کو اسلام اور احمدیت کا پیغام پہنچانے جاتی ہیں۔ ان کی کوششوں کے باعث ان کے بھائی جو کہ ایک جگہ کے چیف بھی ہیں احمدی ہوئے اور اللہ کے فضل سے بڑے پکے اور مخلص احمدی ہیں۔ یہ تمام دیگر لجنہ کو جلسہ سالانہ پر اپنا خرچ کر کے جانے کی تلقین کرتی ہیں۔ بعض دفعہ جماعت کی جو غریب عورتیں ہیں، جماعت انہیں دیتی ہے لیکن وہ کہتی ہیں نہیں۔ اپنا خرچ کر کے جاؤ۔ اس کے علاوہ دیگر چندہ جات، چندہ عام اور مجلس کے جو چندہ جات ہیں وہ ادا کرنے کی طرف توجہ دلاتی رہتی ہیں۔ پس جب آپ یہاں اچھے حالات میں آگئیں اور آپ کو یہاں تبلیغ کرنے میں کوئی پابندی اور روک بھی نہیں ہے تو یہاں تو اسلام کا حقیقی پیغام پہنچانے، ہر گھر میں پہنچانے کے لئے آپ کو تیار رہنا چاہئے اور پہنچانے کی کوشش کرنی چاہئے اور لجنہ کو اور ہر عورت کو انفرادی طور پر بھی باقاعدہ منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔ اگر مشکل حالات میں بھی انہوں نے تبلیغ کو مقدم کیا ہوا ہے اور دین کا پیغام پہنچا رہی ہیں تو آپ بھی اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے پیغام کو گھر گھر پہنچانے کا عزم کریں اور اس کے لئے سب سے پہلا جو قدم ہے وہ یہی ہے کہ اپنے آپ کو دینی تعلیم سے اور دینی علم سے آراستہ کریں۔ خود اپنے اندر علم پیدا کریں۔ اپنے بچوں کی صحیح رنگ میں تربیت کریں۔

 بعض موقعوں پر بعض احمدی عورتوں نے مردوں سے بڑھ کر جرأت کا مظاہرہ کیا ہے اور ایسی ایمانی غیرت دکھائی ہے کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ چنانچہ مالدہ بنگال کے سرکل انچارج لکھتے ہیں۔ 2005ء میں سرکل مالدہ کی بیرگاچھی جماعت میں احمدیہ مسجد کی بنیاد رکھنے کے وقت مخالفین احمدیت کی طرف سے شدید مخالفت ہوئی۔ بعض افراد لڑائی جھگڑا کرنے پر اتر آئے۔ اس وقت کہتے ہیں کہ ہماری ایک خاتون ذکیہ صاحبہ نے اپنی ایمانی جرأت کا مظاہرہ کیا اور اپنے ہاتھ میں ایک چاقو لے کر مخالفین احمدیت کے سامنے آ گئیں۔ کافی مرد تھے اور کہنے لگیں کہ اگر کسی کے اندر ہمت ہے تو اب آگے آ کر ہماری مسجد کی تعمیر میں رکاوٹ ڈالو۔ ان کی اس ہمت اور جوش کو دیکھ کر تمام مخالفین ڈر گئے اور اسی وقت وہاں سے بھاگ گئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب جماعت میں مسجد کے ساتھ ایک معلم کا گھر بھی وہاں تعمیر ہو چکا ہے اور وہاں باقاعدہ پانچ وقت نمازیں ہوتی ہیں۔ اب یہ اس عورت کی ایمانی جرأت تھی جو مردوں کے لئے بھی نمونہ ہے۔

 پھر آندرا پردیش جو انڈیا میں ہی ہے۔ وہاں ایک فیملی نے دو سال قبل اس وقت بیعت کی تھی جب یہ رپورٹ لکھی گئی۔ کچھ عرصہ بعد مخالفت ہوئی تو وہاں کی ایک سولہ سترہ سال کی لڑکی محسنہ جو فرسٹ ائیر میں پڑھ رہی تھی اور ساتھ ایک مسلم پرائمری سکول میں پڑھاتی بھی تھی۔ مخالفت کی وجہ سے اس کو نوکری سے نکال دیا گیا کیونکہ اپنے ماں باپ کے ساتھ تم احمدی ہو گئی ہو۔ عزیزہ کے بڑے بھائی مخالفت برداشت نہیں کر سکے اور بہن پر بھی دباؤ ڈالا کہ ابھی تو احمدیت کی وجہ سے صرف نوکری سے نکالا گیا ہے اب ہم یہاں کرائے کے مکان میں رہتے ہیں ہمارا اپنا گھر نہیں ہے کرائے کے مکان سے بھی یہ لوگ نکال دیں گے۔ تم کچھ عرصہ خاموش احمدی بنی رہو۔ نہ اظہار کرو کہ تم احمدی ہو۔ اس پر عزیزہ نے جواب دیا کہ میرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے بھی کر دیں تو میں احمدیت نہیں چھوڑ سکتی۔ بہرحال اس کے بعد اس کے بوڑھے ماں باپ سمجھا بجھا کے ان کو کچھ عرصہ کے لئے قادیان لے گئے اور وہاں رہے ۔پھر واپس اپنے علاقے میں چلے گئے۔ نہایت غریب اور اخلاص میں زندگی بسر کرنے والی اس عزیزہ نے نہ صرف استقامت دکھائی بلکہ بڑی جرأت کے ساتھ مخالفین کی طرف سے دی جانے والی تکالیف کو بھی برداشت کیا۔ یہ لوگ تو باہر نہیں آ سکتے کہ اپنی مشکلات کو دور کر سکیں لیکن پھر بھی ثابت قدم ہیں، تکلیفوں کو برداشت کر رہے ہیں اور ان تکلیفوں کے باوجود ان کے ایمان مضبوط ہیں۔ تو یہاں آنے والوں کو آسانیاں ملنے کے بعد اس بات کا کس قدر خیال رکھنا چاہئے کہ اپنے ایمان کو مضبوط کریں ۔ اپنے ایمانوں کو بچائیں اور پہلے سے بڑھ کر عملی طور پر اپنے آپ کو ایک سچا اور حقیقی احمدی بنائیں۔ قرآن کریم کے جو حکم ہیں ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں نہ یہ کہ اس ماحول میں گم ہو جائیں۔ اپنے بچوں کو بھی نصیحت کریں۔ لڑکیوں کو بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ان کے والدین کا یہاں آنا، ان کے خاندانوں کا یہاں آنا دین کی وجہ سے ہے۔ اس لئے آپ لوگوں نے بھی دنیا میں گم نہیں ہونا بلکہ اپنے عمل سے دین کو دنیا پر مقدم رکھنا ہے اور یہی چیز ہے جس سے آپ کو دنیا میں بھی بقاء ہے اور اگلے جہان میں بھی بقاء ہے اور آپ کا ہر عمل اس کے مطابق ہو جو اللہ تعالیٰ ہم سے چاہتا ہے۔

بعض احکامات اللہ تعالیٰ نے بڑے واضح طور پر دئیے ہوئے ہیں۔ ان میں ایک پردے کا حکم ہے۔ اب پردے کی پابندی کرنا ہر عورت کی ذمہ داری ہے۔ ہر بچی کی ذمہ داری ہے۔ اپنے لباس کو باحیا لباس بنانا ہر عورت اور بچی کی ذمہ داری ہے اور یہی نمونے ہیں جو اگلی نسلوں میں پھر قائم ہوں گے۔ یہی نمونے ہیں جو جماعت کی انفرادیت کو بھی قائم رکھیں گے۔ یہی نمونے ہیں جو آپ کو تبلیغ کے میدان میں بھی کام آئیں گے۔ یہ نہیں ہے کہ مغرب میں آ کر لوگ پردے کو بھول جاتے ہیں۔ یہاں بھی بعض ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں جن کی وجہ سے یہاں کے جو غیرمذہبی ادارے ہیں یا وہ لوگ ہیں جن کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں اور اداروں کے سربراہ ہیں وہ احمدی عورتوں کے سامنے روکیں کھڑی کرتے ہیں اور سب سے بڑا اعتراض یہی ہوتا ہے کہ تم نے پردہ نہیں کرنا۔ تم نے حجاب نہیں لینا۔ لیکن جن کا ایمان مضبوط ہے وہ اپنے نمونے دکھاتی ہیں۔ یہاں کینیڈا کی ایک مثال ہے یہاں بھی ایک خاتون تھیں کہکشاں ان کا نام ہے اور وہ کہتی ہیں کہ جب میں نے پڑھائی مکمل کر لی، تو میں جاب کرنا چاہتی تھی اور بہت سی جگہوں پر جاب کے لئے اپلائی کیا لیکن کوالی فیکیشن ہونے کے باوجود میرے پردہ کرنے کی وجہ سے مجھے جاب نہیں دی گئی۔ میں نے اپنے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ چاہے کچھ بھی ہو میں پردہ نہیں چھوڑوں گی اور اللہ تعالیٰ نے مجھے استقامت دی اور میں نے پردے کی وجہ سے کئی نوکریوں کو چھوڑ دیا۔ تو یہ مضبوط ایمان والوںکی نشانی بھی ہے۔ یہاں ان ملکوں میں، جرمنی میں بھی، یوکے میں بھی بعض لوکل لوگ ہیں، انگریز ہیں، جرمن ہیں انہوں نے احمدیت قبول کی ہے تو بغیر کسی جھجک کے، بغیر کسی پریشانی کے اپنے پردے کا جو معیار ہے اس کو قائم کیا ہے۔ یہ نہیں کہ پاکستان سے پردہ کرتی آئیں اور یہاں آ کر پردے اتار دئیے۔ یا اپنی اگلی نسلوں میں پردے کو رواج نہیں دیا۔ قرآن شریف میں ایک بنیادی تعلیم پردے کی ہے۔ اس کا واضح طور پر حکم ہے۔ پس جب آپ نمازوں کی طرف توجہ دیں۔ جب آپ مالی قربانیوں کی طرف توجہ دیں تو اللہ تعالیٰ کے باقی احکامات جو ہیں ان کی طرف بھی توجہ دیں کہ اسی سے ہماری اس دنیا میں بھی کامیابی ہے اور اگلے جہان میں بھی کامیابی ہے۔ مَیں نے کینیڈا والی اس لڑکی کی جو مثال دی ہے یا لوکل لوگوں کی اور بہت سی مثالیں میرے سامنے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے لئے سبق ہیں جو ذرا ذرا سی بات پر اپنے پردے اتار دیتی ہیں۔ دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد کیا ہے تو ان سختیوں کو برداشت کرنا پڑے گا۔ اس کو پورا کریں ورنہ آپ اس عہد بیعت سے ہٹ رہی ہیں جو دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا کیا گیا ہے۔

پس اس طرف خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ایمان کی مضبوطی کے بہت سارے واقعات ہیں۔ ابھی جرمنی میں ہی مجھے فلسطین سے آئی ہوئی تین بہنیں مِلیں اور ان کو اپنے خاندانوں کی طرف سے بڑی پریشانی کا سامنا ہے، خاوندوں کی طرف سے پریشانی کا سامنا ہے۔ بلکہ عدالت میں ان کے خلاف مقدمے چل رہے ہیں جو ان کو حقوق سے محروم کر رہے ہیں، بچوں سے محروم کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود جب میں نے ان سے پوچھا کہ تم ایمان پر قائم ہو تو انہوں نے کہا کہ ہاں ہمارے ایمان کو کوئی نہیں ہلا سکتا۔ ہم مضبوطی سے احمدیت پر قائم ہیں اور ایمان پر قائم ہیں اور مخالفت کا ہر طرح مقابلہ کریں گے۔ پس اگر یہ لوگ مخالفت کے باوجود اپنے ایمان کو ضائع ہونے سے بچا رہے ہیں اور مستقل مزاجی دکھا رہے ہیں، ثبات قدم دکھا رہے ہیں تو آپ لوگ جن کو یہاں آسانیاں ہیں وہ کیوں نہیں یہ دکھا سکتیں۔

پس یہ واقعات آپ کو یہ احساس دلانے والے ہونے چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ نے جب آپ کے حالات مالی لحاظ سے بھی اور اپنے دین پر اپنی مرضی سے عمل کرنے کے لحاظ سے بھی بہتر کئے ہیں تو آپ پر کس قدر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اپنی حالتوں کو دین کے مطابق کریں۔ دین کے احکامات کو ہر دوسری چیز پر فوقیت دیں۔ ان عورتوں کی قربانیوں کو سامنے رکھیں جو آج بھی دین کی خاطر تکلیفیں اٹھا رہی ہیں اور برداشت کر رہی ہیں۔ اگر یہ احساس مٹ گیا اور یہاں کی رونقوں نے، یہاںکی چکاچوند نے، یہاں کی دنیا داری نے آپ کو صرف دنیا میں ڈبو دیا جیسا کہ میں نے کل خطبہ میں بھی ذکر کیا تھا تو پھر خدا تعالیٰ کو بھی کسی کی پرواہ نہیں ہے۔

ہمیشہ یاد رکھیں کہ حقیقی زندگی دنیا میں ڈوبنے میں نہیں ہے بلکہ دین پر قائم ہونے میں ہے۔ یہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا تھا تا کہ روحانی زندگی عطا کریں۔ یہی قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے بارے میں فرمایا ہے اور اسی مقصد کے لئے اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھیجا گیا ہے۔

پس اگر اپنی اور اپنی اولادوں کی حقیقی زندگی چاہتی ہیں تو اپنے  اس عہد کو کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گی پورا کریں۔ اسے ہر وقت اپنے سامنے رکھیں۔ اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ دعا کر لیں۔ (دعا)

image_printپرنٹ کریں