skip to Main Content
  • جماعت احمدیہ کے برعکس دوسرے لوگوں کے پیر اپنی خدمت کروانے اور اپنے آپ کو بر تر ہونے کا احساس دلاتے ہیں۔ ایک واقعہ میں اپنے نانا جان کا بیان کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے بذریعہ خط حضرت مسیح موعودؑ  کی بیعت کی تھی جنکا نامِ گرامی میاں  حسن دین صاحب تھا۔ اُن کے گاؤں میں ایک پیر صاحب کسی گھر میں تشریف فرما تھے۔ نانا جان کو ایک غیر از جماعت دوست کہنے لگے کہ آؤ میں  اپنے پیر صاحب سے ملواؤں۔ نانا جان کو دعوت الیٰ اللہ کا بڑا شوق تھا وہ تو کوئی موقع  ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے فوراً تیار ہو گئے۔ جب اُس گھر میں پہنچے تو سب لوگ نیچے زمین پر بیٹھے تھے اورپیر صاحب بڑے ٹھاٹھ سے گاؤ تکیہ لگائے بڑے پلنگ پر برا جمان ہیں۔ نانا جان نے جاتے ہی  بآواز بلند  السلام علیکم کہا اور پیر صاحب کے پہلو میں بیٹھ گئے۔سب لوگ بڑےحیران و پریشان ہوئے  کہ اس نے کیا کیا ہے پیر صاحب کے برابر بیٹھ گیا ہے۔ اب پیر صاحب ہم سے ناراض ہوں گے۔ جو گھر کی مالکہ تھیں وہ اشاروں اشاروں سے پیر صاحب  کے پہلو  سے اٹھنے کو  کہہ رہی تھیں۔ نانا جان نے کہا کہ ایسے مواقع       روز روز تھوڑے آتے ہیں پیروں کے جتنے قریب بیٹھیں اتنی  ہی برکتیں حاصل ہوتی ہیں اور ساتھ ہی پیر صاحب سے تصدیق کروا لی۔ نانا جان تھوڑی ہی دیر  بیٹھ کر چلے گئے بعد میں پیر صاحب نے پوچھا کہ یہ آدمی کون تھا اور اِس کو کون ساتھ لایا تھا۔ لوگوں نے بتایا  کہ یہ احمدی ہے یہ سُن کر اُس آدمی کو جو نانا جان کو لے کر گیا تھا تنبیہ کی کہ آئندہ ایسا آدمی نہ لانا جو آکر میرے ساتھ بیٹھ جائے۔
  • اسی طرح کا ایک واقعہ ہمارے ننھالی گاؤں کا ہے۔ایک شخص راج ولی (راجو) کے گھر پیر صاحب آیا کرتے  تھے۔ یہ صاحب  بمع فیملی اپنے اس پیر سے بڑی عقیدت رکھتے تھے اور بہت خاطر مدارات کرتے تھے۔ اس حلوے مانڈے  کی افراط کی وجہ سے پیر صاحب کے دوروں میں اضافہ ہو گیا۔ بالآخر  یہ دورے اہلِ خانہ  پر بھاری پڑنا شروع ہو گئے اورپیر صاحب نے ان کو فاقوں پر مجبور کر دیا۔ راجو کو ایک ترکیب سوجھی وہ اس طرح کہ  آئندہ دورہ پر انہوں نے طاقت نہ ہوتے ہوئے بھی کافی پرتکلف کھانا تیار کیا۔ ابھی کھانے میں کچھ دیر باقی تھی کہ راجو پیمائش کرنے والا فیتہ لے آیا اور پیر صاحب سے کھڑا ہونے کے لئے  عرض کی  لہذا پیر صاحب کھڑے ہو گئے اِس طرح انہوں نے لمبائی کا ناپ لیا۔ پھر دونوں شانوں کی چوڑائی ناپی اور پیر صاحب کو کہا کہ اب تشریف رکھیں۔بعدہٗ اس نے اُن کے سامنے فرش پر لمبائی چوڑائی کے مطابق  لکیریں لگائیں اور فرش کی کھدائی شروع کر دی۔ ایک دو ضربوں پر پیر صاحب نے راجو سے پوچھا کہ راجو یہ کیا  کر رہےہو۔اُس نے کمال  اداکاری کرتے ہوئے بڑے ہی مؤثر انداز میں عرض کی پیر صاحب آپ کا وجود ہمارے لئے خیر و برکت کا موجب ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ  اِس رات کے وقت جبکہ سب افراد سو چکے ہوں کسی کو پتہ بھی نہیں لگے  گا ہم  اکیلے ہی آپ کے وجود کی برکتوں سے  مستفیض ہونے کے لئے یہاں اسی جگہ آپ کی تُربت بنائیں گے تا کہ ہماری آنے والی نسل برکتوں سے مستفیض ہوتی رہے۔ پیر صاحب کو یقین ہو گیا کہ آج راجو نے جو سوچا ہے کر کے رہے گا۔ وہ پانچ منٹ کی خاموشی کے بعد فرمانے لگے کہ راجو ابھی کھانے میں تھوڑی دیر ہے میں ذرہ پھتّے کے گھر سے ہو کر آتا ہوں۔راجو یہی چاہتا تھا کہنے لگا ذرہ جلدی آ جائیں۔ جب پیر صاحب نکل گئے تو اس کی بیوی آئی۔ ٹوٹے فرش کو  دیکھ کر  کہا یہ تم نے فرش کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔ راجو نے کہا کہ فرش تو دوبارہ بن جائے گا لیکن پیر اب دوبارہ نہیں آئے  گا اور فی الواقع پیر صاحب آج تک پھتے کو مل کر واپس نہیں آئے۔ یہ تھا قصہ جعلی پیروں مریدوں کا!

لیکن اللہ تعالیٰ جن ہستیوں سے خوش ہو کر ان کو عوام الناس کی رشدو ہدایت کیلئے مبعوث فرماتا ہے۔ اُن کو عوام النّاس کی رشدو ہدایت کیلئے مبعوث فرماتا ہے۔ اُن کو ماننے والے مرید بھی عطا فرماتا ہے جو مجسم اخلاص و وفا کے  پُتلے ہوتے ہیں جو اطاعت و قربانی میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔

image_printپرنٹ کریں