skip to Main Content
عشق و وفا کا تقاضا

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں۔
آپ ﷺ تو ان تمام بد عادات اور روایات کو ختم کرنے آئے تھے جن سے انسانی قدریں پامال ہوتی ہیں۔ آپؐ نے تو کفار سے بھی عفو اور نرمی کا سلوک فرمایا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے اس پیارے رسول کے پیارے نواسے جس کے لئے آپؐ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا فرماتے تھے کہ اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تُو بھی اس سے محبت کرنا۔ پھر آپؐ نے فرمایا کہ جو میرے ان نواسوں سے محبت کرتا ہے وہ مجھ سے محبت کرے گا اور جو مجھ سے محبت کرے گا وہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرے گا اور اللہ تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے جنت میں جائے گا اور اسی طرح ناپسندیدگی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لے گا۔

(ماخوذ ازالمستدرک للحاکم کتاب معرفۃ الصحابہ و من مناقب الحسن والحسین ابنی بنت رسول اللہ ﷺ حدیث:4838)

جن کو کسی سے صحیح عشق اور محبت ہو، وہ اس کے پیاروں کو بھی پیارا رکھتے ہیں۔ یہ نہیں کہ ایک طرف تو عشق کا دعویٰ ہو اور جو اُس معشوق کے محبوب ،اُن کی اولادیں ہوں، اُن سے نفرت ہو۔ یا کسی سے عشق کا دعویٰ کر کے اُس کی زندگی میں تو اس کے پیاروں کو پیارا رکھا جائے لیکن آنکھیں بند ہوتے ہی پیاروں سے پیار کے دعوے دھرے کے دھرے رہ جائیں، سب کچھ ختم ہو جائے۔ یہ دنیا داروں کا طریق تو ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھنے والوں کا نہیں۔

(روزنامہ الفضل 25 جنوری 2011ء)

image_printپرنٹ کریں