skip to Main Content
اداریہ: اِنّیِ مُھَاجِرٌ اِلٰی رَبّیْ

ہجرت دو قسم کی ہوتی ہے ۔ایک مادی ہجرت یعنی ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف عارضی یا مستقل ہجرت کرنا اور ایک روحانی ہجرت ہے یعنی اخلاقی، روحانی اور دینی مقام سے اعلیٰ و ارفع مقام کو طلب کرنے کے لئے کوشاں رہنا اور اس کے لئے نیکیاں بجا لاتے رہنا۔اس پر خاکسار کی ایک تفصیلی تحریر ماہ مئی کے ایک شمارہ میں قارئین ملاحظہ کریں گے۔ تاہم روٹین کی صبح کی تلاوت قرآن پاک میں خاکسارجب  سورۃ العنکبوت کی آیت 27سے گزرا۔ جس میں حضرت لوط علیہ السلام کے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ایمان لانے کے ذکر کے ساتھ آپ کا یہ قول درج ہے کہ اِنّیِ مُھَاجِرٌ اِلٰی رَبّی کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرتا ہوں۔ یہاں انتقال مکان مراد نہیں بلکہ انتقال روحانی مراد ہے ۔ جس میں انسان اپنی عبادات کو بہتر کرتا ہے۔ اپنے روحانی مدارج میں بہتری لاتا ہے اپنے اخلاق کو بڑھاتا ہے تو فوراً میرا ذہن اس طرف گیا کہ سورۃ العنکبوت کی اس آیت کی تلاوت ماہ مئی میں ہونا ایک سبق رکھتا ہے۔ کیونکہ سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے جب ہجری شمسی کے اعتبار سے مہینوں کے نام رکھے تو ماہ مئی کو ہجرت کا نام اس لئے دیا کہ 14سوسال قبل آنحضورﷺنے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت مئی کے مہینہ میں فرمائی تھی۔اور دنیا بھر میں امسال رمضان بھی مئی یعنی ہجرت کے مہینہ میں آرہا ہے۔ جو اپنی ذات میں بدیوں سے نیکیوں کی طرف ہجرت کرنے کا مہینہ ہے تو گویا مئی یعنی مادی ہجرت اور رمضان یعنی روحانی ہجرت ایک ہی مہینہ میں اکٹھے ہو گئے ہیں گویا نورٌ علی نور کا مفہوم پورا ہورہا ہے۔لہٰذا میں نے سوچا کہ اپنے قارئین کو رمضان میں روحانی ہجرت کی طرف توجہ دلاؤں۔

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ کے رمضان سے متعلقہ دروس و مضامین میں یہ بات اکثر و بیشتر ملتی ہے کہ ہر رمضان میں ایک مومن ایک نیکی اپنائے اور ایک بدی کو ترک کرے۔ایک انسان کو صحت کی حالت میں 36کے قریب رمضان ملتے ہیں اوریوں وہ اپنی زندگی میں 36نیکیاں بآسانی اپناسکتا ہے اور 36بدیوں سے دُور رہنے کا عزم کر سکتا ہے اور یوں 72نیکیاں وہ صرف رمضان میں ہی اپنی زندگی کا حصہ بنا سکتا ہے۔حضرت صاحبزادہ صاحب موصوف کی اس سبق آموز نصیحت کو سامنے رکھ کر ہر مومن کو اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ کون سی نیکی وہ بآسانی اپناسکتا ہے اور کس بدی کو وہ آنے والے رمضان میں ترک کر سکتا ہے۔آئیں اس سلسلہ میں ہم میں سے ہرایک اپنے اندر موجود ان بدیوں، برائیوں ، کمزوریوں اور کوتاہیوں کی ایک فہرست بنائے اور پھر بھرپور عزم وہمت اور پختہ ارادہ سے ایک بدی کو چھوڑنے اور ایک نیکی کو اپنانے کا اس رمضان میں عہد کرے۔اس سلسلہ میں وہ 36سوالات بھی سامنے رکھے جا سکتے ہیں جو ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے تین سال قبل نئے سال میں داخل ہوتے ہوئے 31دسمبر2016ء کو رکھے تھے یہ سوال کرتے ہوئے کہ ذرا غور کریں کہ کیا یہ نیکی آپ میں موجود ہے یا کیااس بدی سے دُور رہے ہیں۔وہ سوالنامہ الگ سے اسی شمارہ کا حصہ ہے۔

اس اداریہ سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے یہاں بعض اسلامی نیکیاں اور بعض بدیوں کی نشاندہی کی جارہی ہے تا نیکیوں میں سے کسی ایک نیکی کے چناؤ اور بدیوں میں سے ایک بدی سے چھٹکارا آسان ہو سکے۔

نیکیاں

  • اللہ تعالیٰ سے پیار اور اطاعت احکام الٰہی
  • حضرت محمد مصطفیٰﷺ سے عقیدت و محبت اور اطاعت ارشادات رسولؐ
  • قرآن کریم کی روزانہ تلاوت
  • آنحضور ﷺپر روز انہ درود پڑھنا
  • تسبیح و تحمید و تذکیر۔توبہ و استغفار
  • پنجوقتہ نماز کی ادائیگی
  • باجماعت نماز کی ادائیگی
  • نماز جمعہ کی ادائیگی
  • نوافل کی ادائیگی
  • فرض روزے شرائط کے مطابق رکھنا
  • نفلی روزے رکھنا
  • زکوٰۃ دینا
  • حسن معاشرت کرنا
  • امراء و حکام کی اطاعت
  • علماء اور بزرگوں کا احترام
  • پڑوسی کے حقوق ادا کرنا
  • ماں باپ کی خدمت اور صلہ رحمی
  • احسن رنگ میں تربیت اولاد
  • آداب کلام
  • آداب ملاقات اور سلام کو رواج دینا
  • مہمان نوازی
  • تیمارداری
  • تعزیت کرنا
  • رمضان کا احترام اور اس سے متعلقہ نیکیاں اپنانا
  • نیکیوں میں مسابقت
  • امانت و دیانت
  • احترام آدمیت
  • خادموں اور مزدوروں سے حسن سلوک
  • کسب حلال
  • قناعت اور سادہ زندگی
  • دنیا کی محبت سرد کرنا
  • تعاون علی البر
  • تواضع ، انکساری و خاکساری
  • حسن کردار۔بشاشت و خوش خلقی
  • حسن ظن
  • پردہ پوشی و چشم پوشی
  • قرض سے بچنا
  • حلم و بُردباری۔رأفت فطری
  • عفو و معاف کرنا
  • صدقہ دینا
  • کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا باقاعدہ مطالعہ اور اس پر عمل
  • خطبات امام سننا اور بچوں کو سنانا
  • اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ بننا
  • اپنے اندر صبر و استقامت پیدا کرنا
  • صحبت صالحین اختیار کرنا
  • ایمانی حالت میں ترقی
  • پانچ بنیادی اخلاق کو اپنانا

بدیاں

  • تکبر و غرور سے بچنا
  • ایذاء رسانی و حق تلفی
  • حسد و بغض سے پرہیز
  • قطع تعلقی
  • جھوٹی شہادت
  • جھوٹ بولنا۔کذب بیانی سے اجتناب
  • بدعات و رسومات سے بچنا
  • تجسس ، عیب جوئی
  • دوسروں کو حقیر جاننا
  • اسراف و فضول خرچی
  • حرص۔ بُخل
  • خیانت و بددیانتی
  • ریا کاری
  • تکلف۔بناوٹ
  • نقالی، تشبہ بالغیر
  • توہم پرستی
  • غیبت ،چغل خوری
  • لڑائی جھگڑا
  • زبان سے اذیت
  • راز فاش کرنا،افشائے راز کی لذت
  • المجالس بالامانۃ کی خلاف ورزی کرنا
  • شرم و حیاء
  • خدا کی نعمتوں کی ناشکری
  • کنجوسی
  • تعاون علی الشر سے اجتناب
  • اخلاق سیئہ سے اجتناب
  • عہدیداران کی اطاعت و احترام نہ کرنا
  • نظام خلافت کے خلاف باتیں کرنا
  • اتحاد و اتفاق میں کمی
  • اسلامی آداب کی بے حرمتی
  • شبہات سے اجتناب
  • افواہ پھیلانے سے رکنا
  • دوسروں کا تمسخر اور استہزا نہ کرنا
  • لغویات سے اعراض
  • مادیت پرستی سے بے زاری
  • بد ظنی اور غیبت سے بچنا

معزز قارئین! آئیں اس رمضان کو سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس اہم ارشاد کی روشنی میں گزارنے کا عہد کریں۔جس میں روزوں کے ذکر کو تقویٰ کے ساتھ باندھ دیا گیا ہے جو قرآن کریم کاروزوں کے حوالہ سے اولین سبق ہے۔ بالخصوص حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان الفاظ کو اپنے سامنے رکھ کر رمضان کو گزارنے کا عہد کریں کہ اپنے روزوں کو خدا کے لئے صدق کے ساتھ پورے کرو۔

آپ علیہ السلام فرماتے ہیں۔

سو اے وے تمام لوگو! جو اپنے تئیں میری  جماعت شمار کرتے ہو آسمان پر تم اس وقت میری جماعت شمار کئے جاؤگے جب سچ مچ تقویٰ کی راہوں پر قدم مارو گے سو اپنی پنجوقتہ نمازوں کو ایسے خوف اور حضور سے ادا کرو کہ گویا تم خدا تعالیٰ کو دیکھتے ہو اور اپنے روزوں کو خدا کے لئے صدق کے ساتھ پورے کرو۔ہر ایک جو زکوٰۃ کے لائق ہے وہ زکوٰۃ دے اور جس پر حج فرض ہو چکا ہے اور کوئی مانع نہیں وہ حج کرے نیکی کو سنوار کر ادا کرو اور بدی کو بیزار ہو کر ترک کرو یقیناً یاد رکھو کہ کوئی عمل خدا تک نہیں پہنچ سکتا جو تقویٰ سے خالی ہے ہر ایک نیکی کی جڑ تقویٰ ہے جس عمل میں یہ جڑ ضائع نہیں ہوگی وہ عمل بھی ضائع نہیں ہوگا۔                  

    (کشتی نوح روحانی خزائن جلد 9)

سال 2016ء کے اختتام پر محاسبہ نفس کے لئے چند سوالات

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے 30دسمبر2016ء کے خطبہ جمعہ میں پوری دنیا کے احمدی احباب کے سامنے یہ سوالات رکھے۔

احباب جماعت ان کو رمضان میں بھی مدنظر رکھیں تامحاسبہ کے ذریعہ برائیاں کم ہوں اور نیکیاں بڑھیں۔

نمبرشمار

سوال

1

مومن کی شان تو یہ ہے کہ نہ صرف ان لغویات سے بچے اور بیزاری کا اظہار کرے بلکہ اپنا جائزہ لے اور غور کرے کہ اس کی زندگی میں ایک سال آیا اور گزر گیا اس میں وہ ہمیں کیا دے کر گیا اور کیا لے کر گیا؟ ہم نے اس سال میں کیا کھویا اور کیا پایا؟
2 کیا ہم نے شرک نہ کرنے کے عہد کو پورا کیا؟
3 کیا ہماری نمازیں، ہمارے روزے، ہمارے صدقات، ہماری مالی قربانیاں، ہماری خدمت خلق کے کام، ہمارا جماعت کے کاموں کے لئے وقت دینا خداتعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی بجائے غیر اللہ کو خوش کرنے یا دنیا دکھاوے کے لئے تو نہیں تھا؟
4 ہمارے دل کی چھپی ہوئی خواہشات اللہ تعالیٰ کے مقابلہ پر کھڑی تو نہیں ہو گئی تھیں؟
5 کیا ہمارا سال جھوٹ سے مکمل طور پر پاک ہو کر اور کامل سچائی پر قائم رہتے ہوئے گزرا ہے؟
6 کیا ہم نے اپنے آپ کو ایسی تقریبوں سے دور رکھا ہے جن سے گندے خیالات دل میں پیدا ہوسکتے ہیں؟ یعنی آج کل اس زمانے میں ٹی وی ہے، انٹرنیٹ ہے اس قسم کی اس میں ایسے پروگرام جو خیالات کو گندہ ہونے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ ان سب سے بچایا اپنےآپ کو؟
7 کیا ہم نے بدنظری سے اپنے آپ کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے؟اور کر رہے ہیں؟
8 کیا ہم نے فسق و فجور کی ہر بات سے اس سال میں بچنے کی کوشش کی ہے؟
9 کیا ہم نے اپنےآپ کو ہر ظلم سے بچا کر رکھا ہے؟ یعنی ظلم کرنے سے بچا کے رکھا ہے؟
10

کیا ہم نے اپنے آپ کو ہر قسم کی خیانت سے پاک رکھا ہے؟

11 کیا ہم نے ہر قسم کے فساد سے بچنے کی کوشش کی ہے؟
12 کیا ہر قسم کے باغیانہ رویہ سے پرہیز کرنےوالے ہم ہیں؟
13 کیا ہم نفسانی جوشوں سے مغلوب تو نہیں ہو جاتے؟
14 کیا ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کی باقاعدہ کوشش کرتے رہے ہیں؟ یا کرتے ہیں؟
15 کیا ہم باقاعدگی سے استغفار کرتے رہے ہیں؟
16 کیا اللہ تعالیٰ کی حمد کرنے کی طرف ہماری توجہ رہی؟
17 کیا ہم اپنوں اور غیروں سب کو کسی بھی قسم کی تکلیف پہنچانے سے گریز کرتے رہے ہیں؟
18 کیا ہمارے ہاتھ اور ہماری زبانیں دوسروں کو تکلیف پہنچانے سے بچی رہی ہیں؟
19 کیا ہم عفو و درگزر سے کام لیتے رہے ہیں؟
20 کیا عاجزی اور انکساری ہمارا امتیاز رہا ہے؟
21 کیا خوشی غمی تنگی اورآسائش ہر حالت میں ہم خداتعالیٰ کے ساتھ وفا کا تعلق رکھتے رہے ہیں؟
22 کبھی کوئی شکوہ تو نہیں پیدا ہوا اللہ تعالیٰ سے کہ میری دعائیں کیوں نہیں قبول کی گئیں یا مجھے اس تکلیف میں کیوں مبتلا کیا گیا ہے؟
23 کیا ہر قسم کی رسوم اور ہوا و حوس کی باتوں سے ہم نے پوری طرح بچنے کی کوشش کی ہے؟
24 کیا قرآن کریم اورآنحضرتﷺ کے احکامات اور ارشادات کو ہم مکمل طور پر اختیار کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں؟
25 کیا تکبر اور نخوت کو ہم نے مکمل طور چھوڑا ہے یا اس کے چھوڑنے کے لئے کوشش کی ہے؟
26 کیا ہم نے خوش خلقی کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی کوشش کی ہے؟
27 کیا ہم نے حلیمی اور  مسکینی کو اپنانے کی کوشش کی ہے؟
28 کیا ہر دن ہمارے اندر دین میں بڑھنے اور اس کی عزت اور عظمت قائم کرنےوالا بنتا ہے دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد جو ہم اکثر دہراتے ہیں صرف کھوکھلا عہد تو نہیں؟
29 کیا اسلام کی محبت میں ہم نے اس حد تک بڑھنے کی کوشش کی ہے کہ اپنے مال پر اس کو فوقیت دی اپنی عزت پر اس کو فوقیت دی اور اپنی اولاد سے زیادہ اسے عزیز اور پیارا سمجھا؟
30 کیا اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی ہمدردی میں آگے بڑھنے کی کوشش کرنے والے ہیں یا کرتے رہے ہیں؟
31 اپنی تمام تر استعدادوں کے ساتھ مخلوق خدا کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرتے رہے ہیں؟
32 کیا یہ دعا کرتے رہے اور اپنے بچوں کو بھی نصیحت کرتے رہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کی اطاعت کے معیار ہمیشہ ہم میں قائم رہیں ہمیشہ آپ کی اطاعت کرتے رہیں اعلیٰ معیاروں کے ساتھ اور اس میں بڑھتے بھی رہیں؟
33

کیا تعلق اخوت اور اطاعت اس حد تک بڑھایا ہم نے حضرت مسیح موعودؑ سے کہ باقی تمام دنیا کہ رشتے اس کے سامنے ہیچ ہو جائیں معمولی سمجھے جانے لگیں؟

34 کیا خلافت احمدیہ سے وفا کے تعلق میں قائم رہنے اور بڑھنے کی ہم دعا کرتے رہے سال کے دوران؟
35 کیا اپنے بچوں کو خلافت احمدیہ سے وابستہ رہنے اور وفا کا تعلق رکھنے کی طرف توجہ دلاتے رہے اور اس کے لئے دعا کرتے رہے کہ ان میں یہ توجہ پیدا ہو؟
36

کیا خلیفہ وقت اور جماعت کے لئے باقاعدگی سے دعا کرتے رہے؟ اگر تو اکثر سوالوں کے مثبت جواب کے ساتھ یہ سال گزرا ہے تو کچھ کمزوریاں رہنے کے باوجود ہم نے بہت کچھ پایا اگر زیادہ جواب نفی میں ہیں جو سوال میں نے اٹھائے ہیں تو پھر قابل فکر بات ہے۔

 

image_printپرنٹ کریں