skip to Main Content
اختتامی خطاب بر موقع جلسہ سالانہ جرمنی9ستمبر 2018ء   فرمودہ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کابمقام کالسروئے جرمنی

اسلام ہی وہ دین ہے جس نے دنیا میں اپنی خوبصورت تعلیم کے ساتھ پھیلنا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا نور ہے اور اللہ تعالیٰ کے نور کو انسانی کوششیں بجھا نہیں سکتیں۔

پس اللہ تعالیٰ کے اس وعدے اور اعلان کے پورا کرنے کے لئے اس نے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو

 مسیح موعود اور معہدی معہود بنا کر بھیجا جنہوں نے اسلام کی خوبصورت تعلیم کو دنیا کے سامنے پیش کیا اور دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک اسلام کے پیغام کو پہنچایا۔ آپ کے زمانے میں بھی اسلام کا پیغام یورپ میں بھی آ گیا امریکہ تک چلا گیا  اور وہ جماعت آپ نے قائم کی جو اس کام کو خلافت کے نظام کے تحت جاری رکھے ہوئے ہے۔

تمام مخالفتوں کے باوجود جو اپنوں اور غیروں یعنی مسلمان علماء اور ان کے زیر اثر مسلمان حکومتوں اور لوگوں کی  طرف سے ہوئیں اور ہورہی ہیں اور اسی طرح غیر مذاہب کی طرف سے بھی یا غیر طاقتوں کی طرف سے بھی۔ اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ اپنے نور کو دنیامیں پھیلاتا چلا جا رہا ہے۔

دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے اللہ تعالیٰ کی نصرت و تائید، نومبائعین کی رہنمائی اور ثبات قدم کے متعدّد ایمان افروز واقعات کا تذکرہ

 

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللہِ بِاَفْوَاھِھِمْ وَیَأْبَی اللہُ اِلَّآ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَہٗ وَلَوْکَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ۔  ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ۔

       (التوبۃ32:-33)

ان آیات کا ترجمہ یہ ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں سے بجھا دیں اور اللہ (ہر دوسری بات) ردّ کرتا ہے سوائے اس کے کہ اپنے نور کو مکمل کر دے خواہ کافر کیسا ہی ناپسند کریں۔ وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تا کہ وہ اسے سب دینوں پر غالب کر دے خواہ مشرک کیسا ہی ناپسند کریں۔

یہ وہ آیات ہیں جو تمام ان لوگوں کے لئے واضح اور کھل کر اعلان کر رہی ہیں کہ اسلام ہی وہ دین ہے جس نے دنیا میں اپنی خوبصورت تعلیم کے ساتھ پھیلنا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا نور ہے اور اللہ تعالیٰ کے نور کو انسانی کوششیں بجھا نہیں سکتیں۔ قرآن کریم وہ کامل شریعت ہے جو دنیا کی ہدایت کا سامان کر سکتی ہے اور اس کے علاوہ کوئی دین اور کوئی شریعت نہیں جو دنیا کو ہدایت اور نجات کے سامان مہیا کر سکے اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور اب آپ کے بعد کوئی شرعی نبی نہیں آ سکتا۔ ہاں اللہ تعالیٰ کے اس اعلان کے مطابق کہ اب تمام دینوں پر غلبہ دین اسلام کو ہی ہو گا اور بعد میں آنے والے زمانے میں اس ہدایت کی اشاعت کی تکمیل کے لئے وہ ہدایت جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مکمل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کو آپ کی غلامی میں اللہ تعالیٰ ظلی اور غیر شرعی نبی کا درجہ دے کر مسیح موعود اور مہدی معہود کے نام سے بھیجے گا۔ پس اللہ تعالیٰ کے اس وعدے اور اعلان کے پورا کرنے کے لئے اس نے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مسیح موعود اور مہدی معہود بنا کر بھیجا جنہوں نے اسلام کی خوبصورت تعلیم کو دنیا کے سامنے پیش کیا اور دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک اسلام کے پیغام کو پہنچایا۔ آپ کے زمانے میں بھی اسلام کا پیغام یورپ میں بھی آ گیا امریکہ تک چلا گیا اور وہ جماعت آپ نے قائم کی جو اس کام کو خلافت کے نظام کے تحت جاری رکھے ہوئے ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ان آیات کے حوالے سے ایک جگہ اسلام کے مخالفین کو جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

’’یہ لوگ اپنے منہ کی لاف و گزاف سے بکتے ہیں کہ اس دین کو کبھی کامیابی نہ ہو گی یہ دین ہمارے ہاتھ سے تباہ ہو جاوے گا‘‘۔ فرمایا ’’لیکن خدا کبھی اس دین کو ضائع نہیں کرے گا اور نہیں چھوڑے گا جب تک اس کو پورا نہ کرے‘‘۔ آپ فرماتے ہیں کہ ’’…اب قرآن شریف موجود ہے۔ حافظ بھی بیٹھے ہیں (بہت سارے حفاظ دنیا میں ہیں) دیکھ لیجئے کہ کفار نے کس دعوے کے ساتھ اپنی رائیں ظاہر کیں کہ یہ دین ضرور معدوم ہو جائے گا اور ہم اس کو کالعدم کر دیں گے اور ان کے مقابل پر یہ پیشینگوئی کی گئی جو قرآن شریف میں موجود ہے کہ ہرگز تباہ نہیں ہو گا۔‘‘ فرمایا کہ ’’یہ ایک بڑے درخت کی طرح ہو جائے گا اور پھیل جائے گا اور اس میں بادشاہ ہوں گے۔‘‘

(جنگِ مقدس، روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 290-291)

پس یہ اس وقت جبکہ کمزوری کی حالت تھی اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہوا اور اسلام پھیلا اور کوئی کوشش اسے ختم نہ کرسکی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مخالفین اسلام کو کہا کہ آج بھی تم اسے ختم نہیں کر سکتے یہ کھلا چیلنج ہے۔ آپ نے دنیا کو بتایا کہ اسلام کے احیائے نو کے لئے اللہ تعالیٰ نے مجھے اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں بھیجا ہے اور میں اللہ تعالیٰ کے اذن اور مدد سے تمام دنیا میں اسلام کی اعلیٰ تعلیم کو پھیلاؤں گا بلکہ اللہ تعالیٰ نے خود میری حفاظت فرماتے ہوئے فرمایا کہ’’ مَیں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا‘‘۔ (تذکرہ صفحہ 260 ایڈیشن چہارم)

اللہ تعالیٰ کی مدد بھی شامل حال ہے۔ پھر آپ علیہ السلام نے یہ بھی کہا کہ میرے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے جو جماعت قائم فرمائی ہے وہ اب اسلام کے جھنڈے کو لے کر دنیا کے کونے کونے میں جائے گی اور اس خوبصورت تعلیم کے ذریعہ سے دلوںکو جیتے گی نہ کہ کسی تلوار اور بندوق سے اور سعید فطرت لوگوں کو اللہ تعالیٰ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے لائے گا۔ آپ نے تمام مسلمانوں کو بھی کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو سنو اور اس کو سمجھو اور آنے والے مسیح موعود اور مہدی معہود کے ساتھ جڑ کر اپنے ایمان اور ایقان میں ترقی کرو اور پھر دیکھو کہ اللہ تعالیٰ کے تمام وعدے تمہارے ساتھ بھی کس طرح پورے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمہیں ایک نئی شان عطا فرمائے گا لیکن نام نہاد علماء کی باتوں میں آ کر مسلمانوں کی اکثریت اس طرف توجہ نہیں دے رہی بلکہ علماء کی کوشش یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے اس فرستادے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کے کام میں روکیں ڈالیں اور اسے ختم کریں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ سلسلہ ہر مخالفت کے بعد آگے سے آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے اور جیسا کہ میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ سعید فطرت لوگوں کو احمدیت اور حقیقی اسلام کی آغوش میں لارہا ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ بھی الہاماً فرمایا تھا اس وقت میں نے یہ براہین احمدیہ میں بھی لکھا۔ اس وقت جبکہ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے مسیح موعود اور مہدی معہود کے مقام کے ساتھ کھڑا کرے گا۔ یہ پہلے میں نے آپ کے الفاظ کا خلاصہ بیان کیا ہے پھر آگے آپ کے الفاظ یہ ہیں۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ

دیکھو یہ کس قدر عظیم الشان پیشگوئی ہے جو ابتدا سے اکثر علماء کہتے آئے ہیں کہ مسیح موعود کے حق میں ہے۔ یہ جوآیات تلاوت کی گئی ہیں یہ پیشگوئی مسیح موعود کے حق میں بھی ہے اور اس وقت پوری ہو گی یعنی مسیح موعود کے آنے کے وقت ہی پوری ہو گی تاکہ مسیح موعود کے ذریعہ سے تمام ادیان پر اسلام کو غالب کرے۔ آپ فرماتے ہیں کہ ’’سترہ برس سے یعنی جب آپ نے یہ فرمایا اس وقت اس پیشگوئی کو سترہ برس ہو چکے تھے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ نے مسیح موعود کے دعوے سے پہلے لکھی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ سترہ برس سے یہ درج ہے (اور مسیح موعود کے دعوے سے بہت پہلے سے یہ درج ہے) تا خدا ان لوگوں کو شرمندہ کرے کہ جو اس عاجز کے دعوے کو انسان کا افترا خیال کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ براہین خود گواہی دیتی ہے کہ اس وقت اس عاجز کو اپنی نسبت مسیح موعود ہونے کا خیال بھی نہیں تھا اور پرانے عقیدے پر نظر تھی لیکن خدا کے الہام نے اسی وقت گواہی دی تھی کہ تُو مسیح موعود ہے کیونکہ جو کچھ آثار نبویہ نے مسیح کے حق میں فرمایا تھا الہام الٰہی نے اس عاجز پر جما دیا تھا۔

(ماخوذ از سراج منیر، روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 43)

آپ نے فرمایا پس اللہ تعالیٰ نے مجھے مسیح موعود بنا کر بھیجا ہے اور اب یہ اللہ تعالیٰ کا نور جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں مجھے عطا ہوا ہے نہ ان مولویوں کی پھونکوں سے نہ اسلام مخالف طاقتوں کی پھونکوں سے بجھایا جاسکتا ہے۔ آپؑ نے ایک جگہ فرمایا کہ ’’منہ کی پھونکیں کیا ہوتی ہیں؟ یہی کسی نے ٹھگ کہہ دیا۔ کسی نے دکاندار اور کافرو بے دین کہہ دیا۔ غرض یہ لوگ ایسی باتوں سے چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نور کو بجھا دیں۔ مگر وہ کامیاب نہیں ہوسکتے۔‘‘ فرمایا کہ ’’نور اللہ کو بجھاتے بجھاتے خود ہی جل کر ذلیل ہو جاتے ہیں۔‘‘                            (ملفوظات جلد دوم صفحہ 186)

 آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ بھی الہاماً فرمایا ہے کہ’’ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَکَ  یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفُوْا عَرْضَکَ اِنِّی مَعَکَ وَ مَعَ اَھْلِکَ۔‘‘ (ملفوظات جلد 4صفحہ 90)کہ دشمن ارادہ کریں گے کہ تیرے نور کو بجھا دیں وہ تیری ہتک کرنی چاہیں گے مگر مَیں تیرے ساتھ اور تیرے اہل کے ساتھ ہوں۔

پس تمام مخالفتوں کے باوجود جو اپنوں اور غیروں یعنی مسلمان علماء اور ان کے زیر اثر مسلمان حکومتوں اور لوگوں کی طرف سے ہوئیں اور ہو رہی ہیں اور اسی طرح غیر مذاہب کی طرف سے بھی یا غیر طاقتوں کی طرف سے بھی، اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ اپنے نور کو دنیامیں پھیلاتا چلا جا رہا ہے۔ لاکھوں لوگ ہر سال ان تمام مخالفتوں کے باوجود اور علماء کے مکروں اور حیلوں کے باوجود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہو رہے ہیں اور ان کی شمولیت اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ماننے کے لئے اللہ تعالیٰ کی رہنمائی اور ایمان پر مضبوطی سے قائم رہنے کے ایسے ایسے واقعات ہیں کہ ہر سننے والے کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین بڑھتا چلا جاتا ہے۔ صرف اس سال کے بعض واقعات میں اس وقت آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔

غانا سے ہمارے ایک مبلغ بلال صاحب لکھتے ہیں کہ اَپر ایسٹ ریجن کے ایک گاؤں زوگا (Zoga) میں ہمارے تین لوکل معلمین تبلیغ کے لئے گئے اور جس گھر میں ان کی رہائش کا بندوبست ہوا وہاں ایک غیر مسلم عمر رسیدہ عورت آوینی اڈورزیلے (Awini Adorzele) رہتی ہیں۔ وہ ان معلمین کے آنے پر بہت خوش ہوئی۔ اس عورت نے بتایا کہ میں نے سات سال پہلے ایک خواب دیکھا تھا کہ تین آدمی جو دینی علم سکھانے کے لئے آئے ہیں میرے گھر آئے ہیں اور میں انہیں پانی پلاتی ہوں اور یہ معلم پھر گاؤں کے بچوں کو اکٹھا کرتے ہیں اور ان کو مذہبی تعلیم دیتے ہیں اور ان کو نماز پڑھاتے ہیں۔ چنانچہ یہ کہتی ہیں کہ یہ تمام واقعات عین اسی طرح پیش آئے جس طرح مَیں نے سات سال پہلے دیکھا تھا۔ ان معلمین نے اسی طرح گاؤں کے بچوں کو اکٹھا کیا۔ ان کو اسلامی تعلیمات دیں۔ نمازوں کی امامت کروائی۔ یہ سب کچھ دیکھ کر اس گاؤں سے اس عورت اور اس کے خاندان سمیت 92افراد نے احمدیت قبول کرنے کی سعادت حاصل کی تھی۔ اور یہاں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے تھوڑے عرصہ میں ایک جماعت کا قیام عمل میں آ گیا۔ اب کیا یہ کسی انسان کا کام ہے کہ سات سال پہلے افریقہ کے ایک دور دراز علاقے میں رہنے والی ایک عورت کو جو مسلمان بھی نہیں ہے اللہ تعالیٰ خواب دکھاتا ہے اور پھر سات سال کے بعد وہ خواب اسی طرح پوری ہو جاتی ہے اور پھر اللہ تعالیٰ اس گاؤں کے 92 افراد کے دل میں ڈالتا ہے کہ تمہارے پر جو اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا ہے اسے قبول کرو اور وہ قبول کر لیتے ہیں۔

پھر بینن کے ریجن لوکاسا کے معلم دیسی صاحب کہتے ہیں کہ ہم ایک گاؤں میں تبلیغ کے لئے گئے تو وہاں بعض مسلمانوں نے ہمیں گالیاں دینی شروع کر دیں اور نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق بھی غلط الفاظ استعمال کرتے رہے۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ لوگ یہی کہتے ہیں ناں کہ گالیاں دیتے ہیں دکاندار ہے، بے دین ہے، کافر ہے۔ بہرحال یہ لوگ اسی طرح گالیاں دیتے ہیں۔ چنانچہ ہم وہاں سے واپس آگئے اور گاؤں سے نکل کر راستے میں نماز ادا کی اور دعا کی کہ اے اللہ آج ہم تیرے مسیح کا پیغام پہنچانے کے لئے نکلے ہیں ہمیں ناکام مت لوٹانا چنانچہ کہتے ہیں جونہی ہم نے نماز ختم کی ہم نے دیکھا ایک شخص ہمارے انتظار میں کھڑا تھا۔ ہم نے اپنا تعارف کرایا تو کہنے لگا کہ ساتھ ہی میرا گاؤں ہے۔ کیا آپ میرے گاؤں چل سکتے ہیں؟ ہم اس شخص کے گاؤں پہنچے تو اس نے گاؤں کے کافی افراد کو جمع کر لیا جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا پیغام پہنچایا گیا۔ یہ معلم صاحب کہتے ہیں کہ اس تبلیغ کے نتیجہ میں اس دن 65 افراد بیعت کر کے جماعت میں شامل ہوئے اور یوں اس گاؤں میں پودا لگ گیا۔ اب جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ یہ گالیاں ہی دیتے ہیں لیکن کیا ان گالیوں سے اللہ تعالیٰ کا نور ختم ہو سکتا ہے۔ کبھی نہیں۔ ایک جگہ سے گالیاں پڑیں تو دوسری جگہ جہاں ان احمدی لوگوں اور معلم کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا وہاں کا ایک شخص خود آ جاتا ہے یا اللہ تعالیٰ اسے بھیجتا ہے کہ تم لوگوں کی فطرت سعید ہے جاؤ میرے مسیح کے پیغام پہنچانے والے آئے ہوئے ہیں انہیں اپنے گاؤں میں لاؤ اور اس پیغام کو قبول کرو اور سنو اور قبول کرو۔

پھر ایک مثال ہے اللہ تعالیٰ کس طرح تبلیغ کرنے والوں کی مایوسی کے بعد تھوڑے ہی عرصہ میں ان کی دعاؤں کو قبول کرتے ہوئے پھل عطا فرماتا ہے۔ چنانچہ ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے برکینا فاسو کے ریجن بوبو کے معلم سیندے صاحب لکھتے ہیں کہ ہم نے ایک گاؤں میں کافی تبلیغ کی مگر کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ جاتے ہوئے میں نے چند لوگوںکو کہا کہ آپ جب شہر آئیں تو میرے گھر ضرور آنا۔ چنانچہ کچھ دنوں کے بعد ان میں سے ایک آدمی الحسن ہمارے گھر آئے تو مَیں نے اسے ایم ٹی اے لگا دیا اور تھوڑی ہی دیر بعد جب ایم ٹی اے پر میرا خطبہ یا کوئی پروگرام آ رہا تھا مجھے اس میں دیکھا تو کہنے لگا اس شخص کو تو میں نے پہلے خواب میں دیکھا ہے۔ چنانچہ وہ اسی وقت بغیر کسی دلیل کے احمدیت میں داخل ہو گیا اور واپس اپنے گاؤں جا کر گاؤں والوں کو بتایا اور گاؤں کے کافی لوگوں نے اس بات پر احمدیت کو قبول کیا اور خدا کے فضل سے وہاں ایک مضبوط جماعت قائم ہو چکی ہے۔

پھر آصف صاحب مبلغ سلسلہ لائبیریا کہتے ہیں کہ کیپ ماؤنٹ کاؤنٹی کے ایک گاؤں مامبو میں احمدیت کے نفوذ کی کئی بار کوشش کی گئی لیکن وہاں کے مولویوں کی مخالفت کی وجہ سے یہ کوششیں کامیاب نہیں ہوسکیں۔ ہردفعہ جب جاتے تھے تو مولوی جیسی ان کی عادت ہے۔ ٹولہ بن کے اور گالیاں دیتے ہوئے آ جاتے تھے۔ کہتے ہیں کچھ عرصہ قبل اس گاؤں کے ایک فرد محمد الفرید ثانی سے ملاقات ہوئی یہ گورنمنٹ ٹیچر ہیں ا ور دمشق سے تعلیم حاصل کر کے آئے ہیں اور اس گاؤں میں اپنی فیملی کے ساتھ رہتے ہیں۔ ان کو جماعت احمدیہ کے بارے میں تفصیلاً آگاہی دی گئی۔ بتایا گیا اور نظام جماعت اور عقائد کے بارے میں سمجھایا گیا۔ موصوف نے جماعتی پروگرامز اجتماعات اور جلسہ سالانہ میں شرکت کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کو احمدیت کی طرف مائل کیا۔ انہوں نے اپنے گاؤں میں خود ہی احمدیت کا پیغام پہنچایا اور تبلیغ شروع کر دی۔ خدا تعالیٰ نے ان کی کوششوں میں برکت ڈالی جس کے نتیجہ میں وہاں 50 افراد نے احمدیت قبول کرنے کی توفیق پائی اور یہاں بھی نئی جماعت کا قیام عمل میں آیا۔ عام طور پر جو لوگ عرب ملکوں سے پڑھ کر آتے ہیں انہیں اپنی عربی دانی اور علم پر بڑا زعم ہوتا ہے کہ ہم دین کا علم سیکھ کے آئے ہیں۔ اور بہت کم ایسے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے سعید فطرت بنایا ہے اور جو بات سنتے بھی ہیں۔ لیکن ان کی بھی کوئی ادا اللہ تعالیٰ کو پسند آئی ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی رہنمائی فرمائی۔

پھر خواب کے ذریعہ سے ہی قبولیت احمدیت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے مبلغ گھانا بلال صاحب کہتے ہیں کہ گھانا کے اَپرایسٹ ریجن کے ایک گاؤں میں ہم تبلیغ کے لئے گئے وہاں ہم کسی آدمی کو نہیں جانتے تھے اور نہ ہی اس گاؤں میں کوئی مسلمان تھا۔ ہم نے ایک آدمی جس کا نام امبا تھا اس سے چیف کے گھر کا پتہ پوچھا۔ وہ ہمیں اس طرح ملا گویا کہ ہمارا انتظار کر رہا ہو۔ وہ آدمی مسلمان بھی نہیں ہے لیکن مسلمانوں کا انتظار کر رہا تھا اور ساتھ ہی چیف کے پاس لے گیا۔ ہم نے چیف سے اس گاؤں میں تین دن رہنے اور تبلیغ کرنے کی اجازت مانگی جو اس نے بخوشی دے دی۔ اس پر امبا نے ہمارے رہنے کا بھی انتظام کر دیا اور کہتے ہیں اگلے دو دن تو موسلادھار بارش ہوتی رہی اور ہم کوئی پروگرام نہ کر سکے، تبلیغ نہ کر سکے۔ اور دو دن کے بعد جب تبلیغ کی تو تبلیغ کے بعد امبا صاحب نے کہا کہ وہ اسلام قبول کرنے کے لئے تیار ہیں اور بیعت کر لی۔ پھر انہوں نے ہمیں اپنے کچھ خواب سنائے۔ انہوں نے بتایا کہ 1999ء میں خواب میں دیکھا کہ وہ مسلمانوں کے بہت بڑے اجتماع میں ہیں اور مسلمان علماء کے ساتھ نماز پڑھ رہے ہیں۔ پھر ایک دوسرے خواب میں دیکھا کہ ایک مسجد میں نماز پڑھ رہے ہیں اور نماز کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئے ہیں اور امبا نے اپنا ہاتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر رکھا ہے۔ ایک مرتبہ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پہاڑ پر چڑھ رہے ہیں اور وہ بھی ان کے پیچھے پیچھے پہاڑ پر چڑھ رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں میں نے ان کو کہا خوابوں کی تعبیر یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی ہو چکی ہے اور ان کی بیعت کی طرف اشارہ ہے اور ان کے ماننے سے ہی صحیح اسلام پر قائم ہو سکتے ہو۔ پھر یہ بھی اسے بتایا کہ گھانا میں ہرسال ایک بہت بڑا جلسہ ہوتا ہے، مسلمانوں کا اجتماع ہوتا ہے، جلسہ سالانہ۔ اس پر امبا صاحب بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ میں کچھ عرصہ سے کافی پریشان تھا۔ لیکن جب آپ لوگوں کو گاؤں میں دیکھا تو مجھے پتہ چل گیا کہ اب میری ساری خوابیں پوری ہو جائیں گی۔ اس کے بعد گاؤں کے چیف کے پاس گئے۔ اس نے بھی اسلام قبول کر لیا اور کہنے لگا کہ جب آپ لوگوں کے آنے سے اللہ تعالیٰ نے رحمت کی بارش برسائی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کا پیغام سچا ہے اور اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے گاؤں میں 18افراد نے بیعت کی۔ اس طرح یہاں نئی جماعت کا قیام عمل میں آیا اور ان کی تربیت بھی اب ہو رہی ہے۔

پھر خواب کے ذریعہ سے ہی قبول احمدیت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے مالی سے جو افریقہ کا ایک اور ملک ہے وہاں سکاسو ریجن کے مبلغ بلال صاحب ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک دن ایک نوجوان ہمارے مشن ہاؤس آئے اور کہنے لگے کہ میں بیعت کرنی چاہتا ہوں۔ ان سے بیعت کرنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ میرا بھائی گزشتہ دوسال سے احمدی ہے اور اس نے گھر میں امام مہدی علیہ السلام کی تصویر بھی لگائی ہوئی ہے اور میں آپ لوگوں کا ریڈیو بھی سنتا ہوں اور مجھے اس کے پروگرام اچھے بھی لگتے ہیں۔ یہ پہلے بھی مسلمان تھے۔ میں آپ لوگوں کو حق پر سمجھتا ہوں۔ مخالفت مجھے کوئی نہیں۔ میں آپ لوگوں کو بالکل صحیح سمجھتا ہوں لیکن اس کے باوجود مجھے بیعت کرنے کا کبھی خیال نہیں آیا۔ کہتے ہیں کل رات میں نے خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو چاروں خلفاء کے ساتھ ایک وسیع و عریض مسجد میں دیکھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حاضرین کو وضو کرنے کا کہا اور جب سب لوگ وضو کر کے آ گئے تو ایک انتہائی خوبصورت بزرگ مسجد میں داخل ہوئے اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر بیٹھ گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حاضرین کو مخاطب کر کے فرمایا کہ یہی امام مہدی ہیں اور سب کو ان کی بیعت کرنی چاہئے اور یہ وہی بزرگ تھے جن کی تصویر میرے بھائی نے گھر میں لگائی ہوئی ہے۔ اس خواب کے بعد مجھے سمجھ آ گیا کہ بیعت کرنی بھی ضروری ہے اس لئے میں بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوا ہوں۔

پھر افریقہ کا ایک اور ملک گنی بساؤ ہے یہاں کے مبلغ انچارج لکھتے ہیں کہ کیتو جماعت کے ایک ممبر حسین جالو صاحب نے بیان کیا کہ جب انہوں نے احمدیت قبول کی تو گھر آ کر اپنی اہلیہ کو بتایا کہ میں نے احمدیت قبول کی ہے اور میں تمہیں بھی نصیحت کرتا ہوں کہ جس امام مہدی کے آنے کی پیشگوئی ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی وہ آ گئے ہیں اور آج میں نے بیعت کر کے ان کو قبول کر لیا ہے اور میں تمہیں بھی بیعت کرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ اس پر ان کی اہلیہ نے سخت مخالفت کی اور کہا کہ احمدی کافر ہیں۔ مولویوں نے تو سب کو یہی بتایا ہوا ہے۔ یہ صرف پاکستان یا ہندوستان یا عرب ممالک کی بات نہیں ہے افریقہ کے ہر ملک میں جہاں جہاں مسلمان آباد ہیں احمدیوں کے پیچھے غیر احمدی مولوی پہنچتے ہیں، بعض پاکستان کے مولوی بھی یا عرب ممالک کے اور یہی کہتے ہیں کہ احمدی کافر ہیں۔ اس نے کہا کہ احمدی کافر ہیں یا تو احمدیت چھوڑ دو یا مجھے چھوڑ دو۔ بہرحال انہوں نے کہا احمدیت تو میں نے نہیں چھوڑنی اور ان کی بیوی ان کو چھوڑ کر اپنے والدین کے گھر چلی گئی۔ جالو صاحب کہتے ہیں کہ میں نے اپنی بیوی کے لئے دعا کرنی شروع کر دی کہ اے اللہ جس طرح تُو نے مجھے صراط مستقیم پر آنے کی توفیق عطا فرمائی ہے میری بیوی کو بھی صراط مستقیم پر آنے کی توفیق عطا فرما اور کہتے ہیں میں مسلسل پانچ سال تک یہ دعا کرتا رہا اور اللہ تعالیٰ کے دربار سے مایوس نہیں ہوا۔ یہ ان کی ثابت قدمی ہے۔ پانچ سال بعد کہتے ہیں کہ میری بیوی نے فون کیا اور کہا کہ میں آپ سے معافی چاہتی ہوں اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتی ہوں۔جالو صاحب کہتے ہیں کہ میں نے حیران ہو کر پوچھا کہ آخر ہوا کیا ہے۔ یہ تبدیلی کیسی آ گئی تم میں۔ اس پر بیوی نے بتایا کہ آج رات کو میں نے خواب دیکھا ہے اور مجھے احساس ہوا کہ میں غلط تھی اور آپ درست تھے۔ بیوی نے بتایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ دریا کے دوسرے کنارے پر ایک خوبصورت جگہ ہے جہاں سے نور کی روشنی طلوع ہو رہی ہے اور کثرت سے لوگ دریا عبور کر کے اس طرف جارہے ہیں اور میرا بھی دل چاہا کہ میں بھی اس خوبصورت جگہ پر جاؤں۔ جب میں دریا کے قریب گئی تو ایک شخص کنارے پر کھڑا تھا اور اس نے مجھے روکا اور کہا کہ وہ جگہ تو صرف احمدی احباب کے لئے ہے جنہوں نے امام مہدی کو قبول کیا ہے۔ جس پر میں نے جواب دیا کہ میرا خاوند تو احمدی ہے۔ اس پر اس شخص نے کہا کہ خاوند کے احمدی ہونے کی وجہ سے تم وہاں نہیں جا سکتی اور ساتھ ہی میری آنکھ کھل گئی۔ جب میری آنکھ کھلی تو آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور مجھے یقین ہو گیا کہ احمدیت حقیقی اسلام ہے اور میں نے احمدیت کو قبول کر لیا۔ پس ایک تو یہ کہ دین کی خاطر بیوی کو چھوڑنا گوارا کرلیا لیکن دین کو چھوڑنا گوارا نہیں کیا۔ لیکن پھر یہی نہیں کہ چھوڑ دیا اور معاملہ ختم ہو گیا۔ پھر ایک ہمدردی تھی بیوی کے لئے، انسانیت کے لئے۔ مستقل مزاجی سے دعا کرتے رہے۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ پانچ سال تک دعا کرتے رہے اور پانچ سال کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے جب ان کے صبر کو اچھی طرح آزما لیا ایمان کو بھی آزما لیا تو پانچ سال کے بعد وہ دعا بھی قبول ہو گئی اور ایک نشان بھی ظاہر ہوا اور پھر یہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نور بھی نظر آگیا۔ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ اس نور کو تم بجھا نہیں سکتے وہ نور تو ہر جگہ روشن ہے اور کوئی اس کو بجھا نہیں سکتا۔

اسی طرح ایک جگہ اپنی تبلیغی کاوشوں اور اللہ تعالیٰ کی مدد کا ذکر کرتے ہوئے امیر صاحب گھانا لکھتے ہیں کہ گھانا کے ناردرن ریجن کے شہر یینڈی سے قریباً بارہ کلو میٹر کے فاصلے پر ایک گاؤں پنجامبا ہے۔ یہاں ہماری ٹیم نے چار دن تبلیغ کی جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے گاؤں کے چیف اور امام سمیت554 احباب نے احمدیت قبول کی۔ اس گاؤں کے ایک دوست حسین صاحب نے تبلیغ سننے کے بعد کہا کہ میں نے کچھ عرصہ قبل خواب میں دیکھا تھا کہ بعض لوگ مجھے جہنم کی طرف کھینچ کر لے جا رہے ہیں۔ اسی دوران اچانک بعض لوگ آئے اور مجھے ان سے چھڑا کر ایک ایسے راستے پر ڈال دیا جو بہت خوبصورت تھا اور جنت کی طرف لے جاتا تھا۔ یہ دوست کہنے لگے کہ آج آپ کی تبلیغ سننے اور مسیح موعود اور امام مہدی علیہ السلام کا پیغام سننے کے بعد مجھے اپنی اس خواب کی حقیقت سمجھ آ گئی ہے۔ چنانچہ انہوں نے بیعت کی اور جتنے دن تبلیغی ٹیم اس گاؤں میں رہی یہ ہر کام میں بڑھ بڑھ کر بھرپور تعاون کرتے رہے اور جب ہماری ٹیم اگلے گاؤں تبلیغ کے لئے چلی گئی تو وہاں بھی آ کر ملتے رہے اور مسلسل اخلاص کا اظہار کرتے رہے۔

صرف افریقہ کے رہنے والوں کی رہنمائی ہی نہیں ہو رہی بلکہ یورپ میں رہنے والوں کی بھی خدا تعالیٰ رہنمائی فرماتا ہے۔ چنانچہ بوسنیا کے مبلغ ایک دوست الویدن صاحب کی بیعت کا واقعہ لکھتے ہیں کہ الویدن صاحب جماعت کے ساتھ رابطہ سے قبل مغربی طرز پر آزادانہ زندگی گزار رہے تھے لیکن انہیں بعض خوابوں کی بنا پر خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسے اشارے ملے کہ انہوں نے آہستہ آہستہ ان بدیوں سے خود کو دور رکھنے کے لئے کوشش شروع کر دی۔ اس عرصہ میں یہ بعض خطرناک جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہو گئے اور حلقہ احباب میں تمسخر کا شکار بن گئے۔ غرضیکہ ان پر ایسا وقت بھی آیا کہ قریب تھا کہ ذہنی مریض بن جاتے۔ بہرحال انہوں نے پابندی کے ساتھ نماز کی ادائیگی شروع کر دی۔ پہلے سے ہی مسلمان تھے اور دعاؤں میں لگ گئے۔ ایک روز سجدے کے دوران انہیں یہ آواز سنائی دی جیسے کوئی فرشتہ شیطان سے کہہ رہا ہے کہ بس کر اب اسے چھوڑ دے۔ اس پر شیطان کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ ابھی ایک اَور آزمائش باقی ہے۔ کہتے ہیں کہ اس قسم کا روحانی تجربہ ان کے لئے بہت حیرت کا باعث ہوا۔ اس کے بعد ان پر ایک آزمائش آئی لیکن ساتھ ہی انہیں یقین ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ ان کی ہدایت کے سامان پیدا کر دے گا کیونکہ خواب میں دیکھا تھا کہ ایک آزمائش ہے۔ انہوں نے سمجھا کہ بس یہ آخری آزمائش ہے۔ چنانچہ اس واقعہ کے کچھ عرصہ بعد ہی انہیں جماعت کے بارے میں پیغام ملا۔ انہیں اپنا روحانی تجربہ یاد آگیا اور چند تبلیغی نشستوں کے بعد موصوف نے بیعت کر کے جماعت میں شمولیت اختیار کر لی۔

پھر اردن کے ایک عرب دوست احمد صاحب ہیں۔ کہتے ہیں کہ دینی مسائل کے بارے میں جاننے کی کوشش کے دوران ایک روز میں نے دجال کے بارے میں انٹرنیٹ پر ایک آرٹیکل پڑھا جو کسی احمدی نے لکھا تھا۔ یہ مضمون میرے دل کو لگا اور میں نے احمدیت کے بارے میں تحقیق شروع کر دی۔ جب جماعتی علوم اور کتب کا مطالعہ کیا تو میرے دل میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کی صداقت کے نقوش ابھرنے لگے لیکن میرے سامنے ایک بڑا سوال یہ تھا کہ ان عقائد اور مفاہیم کا کیا جائے جو آباؤ اجداد اور معاشرے کے ذریعہ ہم تک پہنچے ہیں، رائج الوقت ہیں۔ مولوی یہ کہتے ہیں بڑوں سے ہم نے یہی سنا ہے کہ امام مہدی کے متعلق مختلف قسم کی کہانیاں ہیں تو کیا  میں اس امام کی بیعت کر لوں جس کی صداقت میرے لئے روشن ہو چکی ہے اور جس کی بیعت کرنے کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم مسلمانوںکو وصیت فرمائی ہے۔(سنن ابن ماجہ کتاب الفتن باب خروج المہدی حدیث 4084)۔ یا پھر دوسری بات وہی ہے کہ آنکھیں بند کر کے مولویوں کے پیچھے چلتا رہوں اور اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے والے عقائد کو ہی منافقانہ طور پر درست تسلیم کرتا رہوں۔ کہتے ہیں کہ اس سوال کے جواب میں میرے سامنے سوائے اس کے اَور کوئی راستہ نہ تھا کہ عالم الغیب خدا کی طرف رجوع کرتا۔ ابھی چند دن ہی گزرے تھے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے ایک غیر معمولی رؤیا سے نوازا میں نے خواب میں سورۃ نساء کی اس آیت کو جلی حروف میں دیکھا کہ وَقَوْلِھِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللہِ وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَاصَلَبُوْہُ وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ۔ وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍ مِّنْہُ۔ مَالَھُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا۔ (النساء158:)کہتے ہیں خواب میں مجھے اس آیت کا آخری حصہ یعنی وَمَا قَتَلُوْہُ  یقیناًبہت زیادہ روشن اور موٹا اور واضح نظر آ رہا تھا۔ تو کہتے ہیں کہ گو میں ایم ٹی اے سے وفات مسیح کا مسئلہ تو سمجھ چکا تھا لیکن اس آیت کی مکمل تفسیر کبھی نہیں سنی تھی۔ ابھی میں اس بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ ایک روز ایم ٹی اے پر لقاء مع العرب میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ کو اسی آیت کی مفصّل تفسیر کرتے ہوئے سنا تو میں حیران تھا کہ یہ اتفاق کیسے ہو سکتا ہے کہ وہی آیت جسے میں نے خواب میں دیکھا تھا اور جس کی تفسیر جاننے کی خواہش میرے دل میں پیدا ہوئی اسی آیت کی تفسیر انہی ایام میں مجھے ایم ٹی اے پر مل گئی یقیناً یہ کوئی اتفاق نہیں تھا بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے میری ہدایت کا سامان تھا۔ بہرحال اس نشان کو دیکھ کر میں نے کہا کہ ابھی شاید مجھے مزید واضح نشان کی ضرورت ہے۔ اس دوران میں نے سوچا کہ مَیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بتائے ہوئے طریق پر استخارہ بھی کر کے دیکھ لوں۔ چنانچہ مَیں نے آپ کی کتاب اتمام الحجۃ میں بیان ہونے والے طریق کے مطابق استخارہ کیا تو خواب میں ایک شخص کو دیکھا کہ وہ گھر کی چھت پر کھڑے ہو کر فجر کی اذان دے رہا ہے۔ اس نے اذان مکمل کرنے کے بعد کچھ اس طرح کہا حَیَّ عَلَی الْاَحْمَدِیَّہ حَیَّ عَلَی الْاَحْمَدِیَّہ یعنی احمدیت کی طرف آؤ۔ احمدیت کی طرف آؤ۔ مؤذن نے رؤیا میں اور بھی جملے کہے لیکن مجھے صرف یہی یاد رہے۔ کہتے ہیں کہ عجیب بات یہ ہے کہ جب میں جاگا تو محلے کی مسجد میں مؤذن فجر کی اذان دے رہا تھا اور اس واضح رؤیا کے بعد میں نے بیعت کا فیصلہ کر لیا۔

پھر ہم دیکھتے ہیں کہ غیر احمدی علماء کی طرف سے احمدیوں کو ان کے ایمان سے ہٹانے کی کوشش کتنی ہوتی ہے اور اس کے بعد کس طرح وہ ثابت قدم رہتے ہیں۔ بینن کا ایک گاؤں اگیلو ہے۔ وہاں کے ایک احمدی ہیں لادیلے حسن صاحب۔ کہتے ہیں کہ میں اپنی فیملی کے پچیس افراد کے ساتھ احمدیت میں داخل ہوا۔ احمدی ہونے کے بعد غیراحمدی مولویوں کا ایک وفد جو کہ سعودی عرب سے تعلیم حاصل کر کے آئے تھے ہمارے پاس آیا اور کہا کہ احمدی کافر ہیں اور وہ آپ کو گمراہ کر رہے ہیں۔ ہم اصل اسلام سعودی عرب سے سیکھ کر آئے ہیں اس لئے آپ احمدیوں کی باتوں میں نہ آئیں۔ چنانچہ کہتے ہیں میں نے ان سے اصل اسلام کے بارے میں چند سوالات کئے کہ ایک مسلمان کس طرح نماز پڑھتا ہے اور احمدیوں اور غیر احمدیوں کے قرآن میں کیا فرق ہے وغیرہ۔ اس پر میں نے مولویوں سے کہا کہ احمدیت کا اسلام بھی یہی ہے۔ لیکن ایک بات سمجھ میں آ رہی ہے کہ جب احمدیوں نے تبلیغ کی تھی تو کسی فرقے یا مذہب کو برا نہیں کہا تھا مگر آپ لوگوں کا انداز ہی بتا رہا ہے کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں اس لئے آپ یہاں سے چلے جائیں۔

ا ب بعض لوگ یہ بھی احمدیوں پر الزام لگاتے ہیں کہ جی آپ بھی تو ہمارے مولویوں کو برا کہتے ہیں اس لئے ہم کہہ دیتے ہیں۔ حالانکہ کبھی ہم نے اس طرح نہیں کہا۔ ہاں جو لوگ گالیاں دیتے ہیں ان کو یہی کہا جاتا ہے کہ اگر تم ہمیں کافر کہتے ہو تو یہی کفر تمہارے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کے مطابق لَوٹ کر پڑتا ہے۔

(صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان حال ایمان من قال لاخیہ المسلم یا کافر حدیث 216)

اس کے بعد کہتے ہیں تقریباً تین سال تک مولوی وفود کی صورت میں آ کر ہمیں گمراہ کرنے کی کوشش کرتے رہے مگر اللہ تعالیٰ نے ہمارے ایمانوں کو ضائع نہیں کیا اور ہم نے اپنے گھر کے ایک چھوٹے کمرے کو نماز اور جمعہ کے لئے مخصوص کر لیا۔ اس کے بعد مزید لوگوں کو بھی احمدیت میں شامل ہونے کی توفیق ملی اور آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسجد کی تعمیر کی توفیق بھی ان کو مل گئی ہے۔

پھر تنزانیہ کے ایک علاقہ میں بیعتوں کا ذکر کرتے ہوئے وہاں کے موانزا ریجن کے مبلغ لکھتے ہیں ایک مغربی افریقہ ایک مشرقی افریقہ ہے، ہزاروں میل کا بیچ میں فاصلہ ہے اور ایک جیسے حالات مختلف جگہوں پر ظاہر ہو رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اس سال شیانگا کے ایک علاقہ وگیہے میں مسجد کی تعمیر ہوئی۔ یہاں گزشتہ سال کچھ فیملیز نے بیعت کی تھی لیکن ان کی تربیت کے لئے باقاعدہ کوئی سینٹر نہیں تھا۔ ہمارے ایک پرانے پیدائشی احمدی یوسف مگلیکا صاحب نے اپنی زمین میں سے کچھ حصہ جماعت کو دیا تا کہ وہاں ایک چھوٹی مسجد بنا دی جائے اور مسجد کی تعمیر کے لئے اینٹیں بھی مہیا کر دیں۔ چنانچہ وہاں مسجد کی تعمیر کا آغاز کیا گیا اور ایک معلم کو بھی اس جماعت میں بھجوایا گیا۔ جب مسجد کی تعمیر شروع ہوئی تو لوگوں کے پوچھنے پر انہیں بتایا گیا کہ یہ مسجد جماعت احمدیہ تعمیر کر رہی ہے۔ کہتے ہیں پہلے ہمیں لگا کہ شاید یہ لوگ مخالفت کریں گے اور نماز کے لئے نہیں آئیں گے لیکن ہمارا اندازہ غلط ثابت ہوا گاؤں کے کئی غیر احمدی لوگ مسجد میں نماز کے لئے آنے لگ گئے اور جماعت احمدیہ کے متعلق مزید سوالات بھی پوچھنے شروع کر دئیے۔ چنانچہ اسی رمضان کے مہینہ میں وہاں بیعتیں بھی ہوئیں اور جماعت کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ کہتے ہیں پہلے ہم سمجھ رہے تھے کہ شاید مسجد کی تعمیر سے مخالفت شروع ہو جائے گی لیکن مسجد کی تعمیر نے تبلیغ کے دروازے کھول دئیے اور گاؤں کے کئی لوگ بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں شامل ہو گئے۔

اللہ تعالیٰ کس کس طرح لوگوں کی رہنمائی فرماتا ہے اس کے عجیب نظارے نظر آتے ہیں۔ نائیجیریا کی جماعت میٹوگن کے مبلغ لکھتے ہیں کہ چند سال قبل ہم تبلیغی غرض سے ایک گھر گئے تو انہوں نے کافی سختی سے ہمیں گھر سے نکال دیا۔ کہتے ہیں اس سال ہم دوبارہ اسی گھر گئے تو ہمیں یہی توقع تھی کہ اس دفعہ بھی نکال دیں گے لیکن ڈرتے ڈرتے چلے گئے۔ بہرحال جب ہم وہاں پہنچے تو گھر کی خاتون بجائے ہمیں دھکے دے کر نکالنے کے کہنے لگی کہ مجھے چھ بیعت فارم دے دیں ہم ساری فیملی بیعت کریں گے۔ اس نے بتایا کہ مَیں کہیں باہر گئی ہوئی تھی اور جب واپس گھر آ رہی تھی تو راستے میں مجھے آواز سنائی دی کہ کچھ لوگ تمہارے گھر تبلیغ کے لئے آئیں گے ان کی بات ماننا تمہارے خاندان کے لئے فائدہ مند ہو گا۔ اب جب میں گھر پہنچی ہوں تو آپ لوگ پہلے سے یہاں موجود ہیں۔ چنانچہ یہ ساری فیملی بیعت کر کے نہ صرف جماعت میں شامل ہو گئی بلکہ بہت فعّال احمدی بن گئے ہیں۔

تاتارستان روس کا ایک علاقہ ہے ۔ اس میں کازان سے 380 کلو میٹر دور ایک قصبہ ہے وہاں ایک احمدی خاندان کے ذریعہ ایک دوست ایرک صاحب کو جماعت کا پیغام ملا تو انہوں نے جماعت کے متعلق مطالعہ کرنا شروع کر دیا۔ پھر انہوں نے جماعتی وفد کو اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔ کہتے ہیں جب ہمارا وفد وہاں پہنچا تو انہیں تفصیل کے ساتھ جماعت کا تعارف کروایا گیا اور انہیں شرائط بیعت کے متعلق بھی بتایا گیا۔ اس پر وہ کہنے لگے کہ میں تو ہر روز دس شرائط بیعت کا مطالعہ کرتا ہوں۔ میں نے شرائط بیعت لکڑی کی چھوٹی تختی پر کندہ کر کے ان کا ایک فریم تیار کر کے گھر کے دروازے پر لٹکایا ہوا ہے۔ (ابھی احمدی نہیں ہوئے اور شرائط بیعت کو اپنے گھر کے دروازے پر لٹکایا ہوا ہے)۔ اور روزانہ صبح اٹھ کر ان دس شرائط بیعت کو پڑھتا ہوں اور اپنے آپ سے پوچھتا ہوں کہ کون کون سی شرط پر عمل نہیں کر رہا۔ ابھی بیعت کرنے سے پہلے یہ حال ہے۔ اس کے بعد موصوف باقاعدہ بیعت کر کے جماعت میں شامل ہو گئے۔ اور انہوں نے میرے نام اپنا ایک خط بھی لکھا کہ مجھے نام نہاد مسلمانوں میں رہ کر علماء کی پھیلائی ہوئی اسلامی تعلیم کی سمجھ نہیں آتی تھی اور نہ ہی عبادت کی حقیقت اور مقصد سمجھ آتا تھا۔ یہی وقت تھا جب یہ باتیں مجھے گمراہی کے گڑھے میں غرق کر سکتی تھیں مگر الحمد للہ کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے گمراہ ہونے سے بچا لیا اور حق کی طرف میری رہنمائی فرمائی۔ جماعتی لٹریچر میں اسلام کی حقیقی تعلیم بہت ہی اچھے اور آسان انداز میں بیان تھی اور جماعت کا نعرہ ’محبت سب سے نفرت کسی سے نہیں‘ مجھے بہت پسند آیا۔

پھر بہت سے واقعات ایسے ہوتے ہیں جہاں یہ بہت ساری چیزیں تبلیغ کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔

محمد احمد راشد صاحب سوئٹزرلینڈ کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ترکی کے ایک کردی شہری اور عالم دین موسیٰ صاحب کا چند سال قبل ایم ٹی اے عربی کے ذریعہ احمدیت سے تعارف ہوا تھا۔ ترکی سے دو سال قبل انہوں نے رابطہ کیا۔ اب ایم ٹی اے کی ترکی زبان میں لائیو نشریات کو بھی دیکھتے رہتے ہیں اور وقتًا فوقتًا نشریات کے متعلق تبصرہ بھی بھجواتے رہتے ہیں۔ کہتے ہیں گزشتہ مہینہ خاکسار کے دورہ ترکی کے دوران انہی کی تبلیغ سے ان کے ایک 23سالہ بھانجے نے جو کہ مذہبی مدارس کے پڑھے ہیں اور ترکی، کُردی اور عربی زبان جانتے ہیں انہوں نے بیعت کی اور خود کو وقف کرنے کے لئے پیش بھی کیا۔ یہ عالم دین اور ان کے ساتھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تمام دعاوی اور خلافت احمدیہ پر ایمان رکھتے تھے اور ایم ٹی اے کی عربی اور ترکی نشریات دیکھتے تھے۔ جماعتی لٹریچر کا مطالعہ بھی باقاعدہ کرتے تھے لیکن اس کے باوجود بیعت نہیں کرتے تھے۔ لیکن آخر ایک وقت ایسا آیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کھولے اور موسیٰ صاحب نے اپنے دو ساتھیوں رمضان صاحب اور حاجی محمود صاحب کے سمیت بیعت کی سعادت حاصل کی اور تینوں کے افراد خانہ کی کل تعداد 23 ہے۔ اور انہوں نے مجھے خط بھی لکھا جس میں انہوں نے بڑے اخلاص اور وفا کا اظہار کیا۔ تو نیک فطرت علماء کی بھی کمی نہیں ہے۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو نیک فطرت ہیں وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کا خوف رکھنے والے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی رہنمائی فرماتا رہتا ہے۔

پھر امیر صاحب فرانس لکھتے ہیں کہ پمفلٹ کی تقسیم کے دوران ایک مسلمان دوست نے جب ہمارا پمفلٹ پڑھا تو کہنے لگا کہ میں بہت دیر سے آپ کا انتظار کر رہا تھا۔ اسلام کے اس پیغام کی آج سخت ضرورت ہے۔ مَیں کچھ سالوں سے فرانس میں ہوں اور میری فیملی جو کہ آئیوری کوسٹ میں مقیم ہے باقاعدگی کے ساتھ آپ کے سینٹر میں جاتی ہے اور ہمیں آپ کی جماعت میں بہت دلچسپی ہے۔ پھر یہ دوست یُوٹیوب پر جماعت کے فرنچ پروگرام دیکھنے لگے اور جماعت کے بارہ میں دو سال تک معلومات حاصل کرنے کے بعد آخر کار بیعت کر کے جماعت میں داخل ہو گئے۔ یہ آئیوری کوسٹ میں رہتے ہیں۔ جماعت وہاں بھی بڑی فعّال ہے۔ ہر سال بیعتیں بھی ہوتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کا سامان کیا تو یہاں فرانس آ کر۔

پھر غیر مسلموں پر بھی اسلام کی تعلیم کا اثر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا نور ان کے دلوں کو بھی روشن کرتا ہے۔ چنانچہ ایک شخص کی بیعت کا ذکر کرتے ہوئے بینن الاڈا ریجن کے مبلغ لکھتے ہیں کہ الاڈا شہر کے شمال مشرق میں زے کا علاقہ ہے جہاں ایک دوست عیسیٰ صاحب کو جماعتی پمفلٹس دئیے گئے۔ بعد میں انہوں نے ریڈیو بھی سننا شروع کر دیا انہوں نے بتایا کہ آپ لوگوں کے پمفلٹس پڑھ کر مجھے تسلی ہوئی ہے اور میں پیدائشی طور پر کیتھولک ہوں۔ لیکن میں جب بھی چرچ جاتا تھا تو پادری بائبل کی آیات کی جو تفسیر کرتے تھے ان سے دل کو تسلی نہیں ہوتی تھی مگر جب سے جماعت احمدیہ کی تبلیغ ریڈیو پر سننی شروع کی ہے تو آپ لوگ بائبل کی آیات کی جو تفسیر کرتے ہیں وہ حقائق اور عقل کی رُو سے بالکل صحیح لگتی ہے۔ چنانچہ انہوں نے بیعت کر کے احمدیت میں شمولیت اختیار کر لی۔

بعض جگہوں پہ مسلمان بھی انتظار میں ہوتے ہیں کہ کب کوئی جماعت کا نمائندہ آئے اور ہماری بیعت لے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب ریڈیو اور ٹی وی کے ذریعہ سے جب سے کہ ایم ٹی اے افریقہ شروع ہوا ہے اور مختلف ممالک میں ریڈیو ہیں۔ ان سے جماعت کا تعارف افریقہ میں تو خاص طور پر وسیع پیمانے پر ہو گیا ہے۔

بینن سے مبلغ سلسلہ کوتونو لکھتے ہیں کہ ہم ایک دور دراز گاؤں اگونجی میں تبلیغ کے لئے گئے۔ انہیں جب تبلیغ کی گئی تو ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا کہ ہم تو ایک عرصہ سے جماعت کے ریڈیو پر پروگرام سنتے ہیں اور جماعت احمدیہ کے عقائد سے واقف ہیں۔ ہم تو انتظار کر رہے تھے کہ احمدیوں کا کوئی نمائندہ ہمارے گاؤں میں آئے اور ہمارے بچوں کو اسلام اور دینی تعلیم سے آگاہ کرے۔ چنانچہ اس گاؤں سے 125 افراد نے بیعت کی توفیق پائی۔

برکینا فاسو سے بانفورہ ریجن کے لوکل مبلغ ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ایک گاؤں موس بدوگو میں تبلیغ کی تھی۔ اس کے بعد ایک شخص کہنے لگا کہ میں آپ کے ریڈیو چینل پر سارے پروگرام سنتا ہوں۔ میرے پاس دو ریڈیو ہیں۔ دور دراز گاؤں ہیں بجلی نہیں ہوتی۔ ایک کی بیٹری چارج ہو رہی ہوتی ہے تو دوسرے ریڈیو پر پروگرام سنتا ہوں تا کہ میرا کوئی بھی پروگرام ضائع نہ ہو جائے۔ اس شوق میں اس نے دو دو ریڈیو رکھے ہوئے ہیں۔ اس نے کہا کہ احمدیت ایک روشنی ہے کوئی اس سے استفادہ کرے یا نہ کرے لیکن فتح احمدیت کو ہی ہونی ہے۔ آج میں باقاعدہ بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں داخل ہوتا ہوں اور دوسروںکو بھی کہتا ہوں کہ اس جماعت میں شامل ہوجائیں۔ تو یہ روشنی ان دور دراز علاقوں میں لوگوں کو نظر آ رہی ہے۔

مالی سے سکاسو ریجن کے مبلغ لکھتے ہیں کہ دو ماہ قبل ایک نوجوان نوح ویدراغو صاحب ہمارے ریڈیو سٹیشن پر آئے اور کہنے لگے کہ جماعت احمدیہ کا واحد ریڈیو سٹیشن ہے جو ہم نوجوان بغیر میوزک کے سننا پسند کرتے ہیں۔ اس لئے میں بھی آپ کے ریڈیو پر نوجوانوں کے لئے پروگرام کرنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ اس نوجوان کو معلم صاحب کے ساتھ مل کر ریڈیو پروگرام کرنے کا موقع دیا گیا جس کی وجہ سے ان کے اندر احمدیت سے دلچسپی پیدا ہوئی اور انہوں نے مطالعہ کر کے بیعت کی توفیق پائی۔ بیعت کرنے کے بعد انہوں نے باقاعدگی سے نمازیں شروع کر دیں اور اس سال رمضان میں انہوں نے خواب میں دیکھا کہ آسمان سے ایک روشنی نکلی ہے جو زمین کی طرف آ رہی ہے اور آہستہ آہستہ ان کے قریب آ گئی اور قریب آنے پر اس میں سے آواز آئی کہ جو راہ تم نے چنی ہے وہی حق کی راہ ہے اس کو کبھی نہ چھوڑنا۔ خوش قسمت لوگ ہیں جو اس راہ کو اپناتے ہیں اور پھر اس راہ کی طرف لوگوں کو بلاتے ہیں۔ چنانچہ اس خواب کے بعد موصوف کے ایمان میں بے پناہ اضافہ ہوا اور وہ بڑی دلچسپی سے اب جماعتی کاموں میں اور تبلیغ میں حصہ لینے لگ گئے ہیں۔

کانگو کنشاسا کے متادی ریجن کے معلم لکھتے ہیں کہ ایک دوست شعبان صاحب کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ میرا تعلق اہل سنّت سے تھا اور جب یہاں جماعت احمدیہ کا مشن کھلا تو ہمارے اساتذہ نے بتایا کہ احمدی تو کافر ہیں۔ اس کے بعد میں نے مقامی ریڈیو پر اسلام کے متعلق ایک پروگرام سنا تو بہت خوشی ہوئی اور بڑے خوبصورت انداز میں اسلامی تعلیمات بیان کی گئیں۔ مگر جب پروگرام کے درمیان احمدیت کا نام سنا تو میری ساری خوشی جاتی رہی۔ مولویوں نے تو کہا تھا کہ یہ کافر لوگ ہیں ’یہ کیا ہو گیا‘ یہ تو کافر ہیں۔ بہرحال اس پروگرام کا مجھ پر اثر ہوا اور اگلے دن میں نے دوبارہ اپنے استاد سے احمدیت کا ذکر کیا تو اس نے وہی بات دہرا دی کہ احمدی کافر ہیں اور گمراہ ہیں۔ کہتے ہیں کہ چند دن بعد دوبارہ ریڈیو پروگرام سنا تو تمام باتیں دل کو لگیں اور دل کو بہت اثر ہوا۔ بالآخر میں نے فیصلہ کیا کہ احمدیوں کی مسجد میں جانے میں کیا حرج ہے۔ جا کے دیکھا تو جائے۔ عقل کا تقاضا تو یہی ہے صرف اندھوں کی طرح مولویوں کی باتوں کے پیچھے تو نہیں چلنا۔ کہتے ہیں میں نے یہ فیصلہ کیا کہ میں جمعہ کو وہاں جاؤں گا اور ان کی مزید باتیں اور عمل دیکھوں گا۔ اس کے بعد میں نے مسلسل کئی جمعے احمدیہ مسجد میں ادا کئے اور قریب سے جماعت کو دیکھتا رہا۔ مجھے کوئی چیز ایسی نظر نہ آئی جس سے میں جماعت احمدیہ کو کافر کہہ سکتا۔ چنانچہ میں نے بیعت کر لی اور جماعت احمدیہ میں شامل ہو گیا۔

کیمرون کے مبلغ انچارج لکھتے ہیں کہ چند سال قبل بائیکوم شہر کے کچھ لوگوں نے جماعت میں شمولیت اختیار کی اور وہاںکی مسجد کے امام جیکام صاحب نے بھی احمدیت قبول کی۔ گزشتہ سال ان کے ایک بیٹے امام زکریاصاحب نے بھی احمدیت قبول کی اور ان کے ساتھ سو سے زائد لوگ جماعت میں شامل ہوئے۔ اور اس وقت زکریا صاحب مساسی علاقہ میں اپنے قبیلہ باعوں کی مسجد کے امام ہیں۔ اسی طرح امام جیکام کے دوسرے بیٹے امام حسینی صاحب ہیں وہ بھی احمدی ہیں۔ اکتوبر  2017ء میں امام جیکام صاحب کی وفات ہو گئی۔ انہوں نے وفات سے قبل اپنے دونوں بیٹوں کو بلایا اور نصیحت کی کہ آپ لوگوں نے جماعت احمدیہ میں شمولیت اختیار کی ہے اور لوگ آپ کی مخالفت کر رہے ہیں۔ علماء آپ کو برا بھلا کہہ رہے ہیں۔ لیکن یاد رکھیں کہ میں نے حدیثوں اور کتابوں میں امام مہدی کے متعلق بہت پڑھا ہے اور اس وقت وہ نشانات پورے ہو گئے ہیں اور امام مہدی علیہ السلام اور جماعت احمدیہ سچی ہے اس کو مضبوطی سے پکڑے رکھنا اور جماعت کی خدمت جاری رکھنا۔ اس وقت دونوں بھائی جماعت میں فعّال ہیں۔ بڑا بھائی امام زکریا اپنی مسجد میں جماعت کی تبلیغ کرتے ہیں اور یہی مسجد ہمارا سینٹر بھی ہے۔ یہاں کی جماعت مالی قربانی میں بھی آگے بڑھ رہی ہے۔ امام مرحوم کے چھوٹے بیٹے امام حسینی بھی اپنی مسجد کے امام ہیں اور جماعت کی تبلیغ کر رہے ہیں۔ امام مرحوم نے ایک پلاٹ بھی نئی مسجد کے لئے دیا ہوا ہے جس پر مستقبل میں انشاء اللہ تعالیٰ نئی مسجد بنائی جائے گی۔ پس جو عقل رکھتے ہیں ان کو پتہ ہے کہ یہ مخالفتیں جو ہورہی ہیں مولویوں کی طرف سے یہ تو وہ پھونکیں ہیں جن کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کے نور کو بجھانے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا نور کبھی بجھ نہیں سکتا اور بڑی ثابت قدمی سے یہ لوگ احمدیت پر اور حقیقی اسلام پر قائم ہیں اور یہی لوگ ہیں جو حقیقی علماء کہلانے کے مستحق بھی ہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ احمدیت قبول کرنے کے بعد ایمان کو کس طرح طاقت بخشتا ہے اور فراست عطا فرماتا ہے اور دلائل بھی سکھا دیتا ہے اس کی ایک مثال دیکھیں۔ تنزانیہ موانزے ریجن کے مبلغ لکھتے ہیں کہ شیانگا ریجن میں جماعت کا قیام 2015ء میں ہوا تھا۔ وہاں کافی لوگوںکو اسلام احمدیت میں شمولیت کی توفیق ملی۔ اس جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک نو مبائع جمعہ ماسانجا صاحب ہیں۔ یہ چھوٹی موٹی چیزیں فروخت کر کے گزر بسر کرتے ہیں۔ یہ نومبائع بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں ٹنڈے جو کہ زیادہ تر عمانی عربوں کا علاقہ ہے وہاں گیا اور باتوں باتوں میں ان کو بتایاکہ میں احمدی ہو گیا ہوں اور اب ہماری مسجد بھی ہے جہاں ہم نماز ادا کرتے ہیں۔ یہ سنتے ہی وہ عرب لوگ آگ بگولہ ہو گئے اور مجھے برا بھلا کہنا شروع کر دیا کہ تم  مسلمان نہیں ہوئے بلکہ تم تو قادیانیوں کے پیچھے چل کے گمراہ ہو گئے ہو۔ پہلے تم لامذہب تھے یا غیر مسلم تھے تو زیادہ اچھے تھے۔ وہ کہنے لگے کہ وہ جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں وہ تو مسلمان ہی نہیں ہیں بلکہ کافر ہیں۔ کہنے لگے کہ اگر تم نے اپنے آپ کو احمدیوں سے الگ نہ کیا تو ہمارے پاس پھر اپنی چیزیں بیچنے کے لئے مت لانا۔ بڑا ابتلا تھا۔ معاشی لحاظ سے غریب لوگ ہیں۔ یہ دوست بیان کرتے ہیں کہ میرے پاس اتنا علم تو نہیں تھا کہ میں ان کو علمی دلائل سے قائل کر سکوں لیکن میں نے ان سے پوچھا کہ آپ لوگ کتنے عرصہ سے یہاں آباد ہیں۔ وہ عمانی عرب کہنے لگا کہ ہم گزشتہ 80 سال سے یہاں آباد ہیں۔ اس پر میں نے کہا کہ ان 80 سالوں میں تم لوگوں نے اس دین کو جس کو تم سچا کہتے ہو اسلام کو ایک ایسے گاؤں تک نہیں پہنچا سکے جو تم سے صرف 15کلو میٹر کے فاصلے پہ ہے۔ اور اب اگر کسی نے ہم تک وہ اسلام کا پیغام پہنچایا ہے تو آپ لوگ ہمیں یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ کافر ہیں اور تم کافر ہو گئے ہو۔ تو عربوں نے جواب دیا کہ ہمارا یہ خیال تھا کہ تم لوگ ابھی اس قابل نہیں ہو کہ اسلام قبول کر سکو۔ یہ ان عربوں کے تکبر کی حالت ہے جو اپنے آپ کو بڑا عالم سمجھتے ہیں۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسی اصول پر چلنے والے ہوتے، نعوذ باللہ، تو یہ عرب کے جو بدّو ہیں وہ تو کبھی بھی مسلمان نہ ہوتے۔ وہ تو اس قابل ہی نہیں تھے کہ ان کو مسلمان کیا جاتا۔ آپ ہی تھے جنہوں نے ان جنگل میں رہنے والوں کو، جانوروں کی طرح رہنے والوں کو انسان بنایا۔ پھر تعلیم یافتہ انسان بنایا۔ پھر باخدا انسان بنایا۔ اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ تم ابھی اس قابل نہیں ہو جو اس موجودہ دور میں رہ رہے ہو کہ تم تک ابھی اسلام کی تبلیغ کی جائے اور اس کے بعد یہ اسلام کے ٹھیکیدار ہیں۔ اس لئے اس نے کہا کہ پہلے تم اس قابل ہو جاؤ تو ہم نے کہا ہم تبلیغ کریں گے۔ اس پر میں نے اس سے کہا کہ تم لوگوں نے اسّی سال اس بات کا اندازہ کرنے میں لگا دئیے کہ یہ لوگ اسلام سیکھ سکتے ہیں یا نہیں جبکہ جماعت احمدیہ نے ہمیں اس قابل سمجھا کہ ہم دین سیکھ سکتے ہیں اور وہ ہمیں مسلمان بنا کر دین سکھا رہے ہیں اور انہوں نے ہمیں لا دینیت سے نجات دلائی ہے۔ ہم تو Pagan تھے۔ لادین تھے۔ اب اگر تم چاہتے ہو کہ میں اور میرے ساتھی جماعت احمدیہ کو چھوڑ دیں تو ہمیں بھی 80 سال کا عرصہ دو تا ہم تم لوگوں کے بارے میں اندازہ لگاسکیں کہ تم اصل مسلمان ہو بھی کہ نہیں۔ یہ میری دلیل ہے۔

تو اس طرح اللہ تعالیٰ بالکل بے دین جو لوگ تھے ان کو بھی احمدیت قبول کرنے کے بعد بعض عجیب قسم کے دلائل سکھا دیتا ہے جو مخالفین کا منہ بند کر دیتے ہیں اور ان کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی جواب نہیں ہوتا کہ تم کافر ہو، بس اس کے علاوہ کچھ نہیں۔

سینیگال سے ہمارے مبلغ لکھتے ہیں کہ اس سال کولک ریجن کے ایک گاؤں ریبو ایسکلے میں دورہ کیا گیا تو وہاں گاؤں کے ایک سابق امام عثمان باہ صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے منور احمد خورشید صاحب سابق امیر جماعت سینیگال کے دور میں بیعت کی تھی اور اس وقت جماعت میں ایک چھوٹی سی مسجد بھی بنائی تھی۔ بعد میں ملکی حالات کی وجہ سے ان لوگوں سے رابطہ نہیں رہا۔ حالات وہاں خراب ہوتے رہتے ہیں۔ کچھ عرصہ بعد گاؤں کی مسجد کو ایک عرب تنظیم الفلاح نے از سر نو تعمیر کیا اور مسجد میں توسیع بھی کی اور جب مسجد کی تعمیر ہو گئی تو اس تنظیم کے لوگوں نے عثمان باہ صاحب سے کہا کہ اگر آپ اس مسجد کے امام رہنا چاہتے ہیں تو آپ کو احمدیت چھوڑنی پڑے گی ورنہ آپ اس مسجد کی امامت جاری نہیں رکھ سکتے۔ چنانچہ عثمان باہ صاحب نے کہا کہ احمدیت تو میں نہیں چھوڑ سکتا۔ امامت چھوڑ دی اور اپنے گھر میں ہی اپنے اہل خانہ کے ساتھ علیحدہ نمازیں پڑھنے لگ گئے۔ چنانچہ وہ گزشتہ آٹھ سال سے امامت چھوڑ کے اپنے اہل خانہ کے ساتھ اپنے گھر میں نمازیں ادا کر رہے ہیں۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ آپ کس طرح اکیلے ثابت قدم رہے ہیں اور آپ کا اتنا عرصہ جماعت سے رابطہ بھی نہیں تھا اس پر روتے ہوئے کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے علم عطا کیا ہے۔ جب میں نے نور دیکھ لیا تو اب اندھیرے میں واپس کیسے چلاجاؤں۔ تو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایسے لوگ عطا فرمائے ہیں اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم احمدیت کا خاتمہ کر دیں گے یہ تو ان دور دراز گاؤں میں رہنے والوں کو بھی ان کے ایمان سے ہٹا نہیں سکتے۔ ہلا نہیں سکتے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اصل میں حقیقی مومن ہیں اور اللہ تعالیٰ کا خوف رکھنے والے ہیں۔

امیر صاحب گھانا لکھتے ہیں کہ ایک کانفرنس میں ہم نے بعض اماموں کو دعوت دی جنہوں نے کچھ عرصہ پہلے بیعت کی تھی۔ ان اماموں نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ساری دنیا کے مولوی اکٹھے ہو کر بھی احمدیت کے خلاف ہمارے پاس آ جائیں تو ہم مضبوط چٹان کی طرح کھڑے ہو کر ان کا مقابلہ کریں گے کیونکہ ہمیں یقین ہو گیا ہے کہ قرآن اور حدیث کی روشنی میں احمدیت ہی سچا اسلام ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ’’میرے پاس وہی آتا ہے جس کی فطرت میں حق سے محبت اور اہل حق کی عظمت ہوتی ہے۔ جس کی فطرت سلیم ہے وہ دور سے اس خوشبو کو جو سچائی کی میرے ساتھ ہے سونگھتا ہے اور اسی کشش کے ذریعہ سے جو خدا تعالیٰ اپنے ماموروں کو عطا کرتا ہے میری طرف اس طرح کھنچے چلے آتے ہیں جیسے لوہا مقناطیس کی طرف جاتا ہے۔ لیکن جس کی فطرت میں سلامت روی نہیں ہے اور جو مردہ طبیعت کے ہیں ان کو میری باتیں سود مند نہیں معلوم ہوتی ہیں۔ وہ ابتلا میں پڑتے ہیں اور انکار پر انکار اور تکذیب پر تکذیب کر کے اپنی عاقبت کو خراب کرتے ہیں اور اس بات کی ذرا بھی پروا نہیں کرتے کہ ان کا انجام کیا ہونے والا ہے۔

 میری مخالفت کرنے والے کیا نفع اٹھائیں گے؟ کیا مجھ سے پہلے آنے والے صادقوں کی مخالفت کرنے والوں نے کوئی فائدہ کبھی اٹھایا ہے؟ اگر وہ نامراد اور خاسر رہ کر اس دنیا سے اٹھے ہیں تو میرا مخالف اپنے ایسے ہی  انجام سے ڈر جاوے کیونکہ مَیں خداتعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مَیں صادق ہوں۔ میرا انکار اچھے ثمرات نہیں پیدا کرے گا۔ مبارک وہی ہیں جو انکار کی لعنت سے بچتے ہیں اور اپنے ایمان کی فکر کرتے ہیں۔ جو حسن ظنی سے کام لیتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے ماموروں کی صحبت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اُن کا ایمان ان کو ضائع نہیں کرتا بلکہ برومند کرتا ہے۔ مَیں کہتا ہوں کہ صادق کی شناخت کے لئے بہت مشکلات نہیں ہیں۔ ہر ایک آدمی اگر انصاف اور عقل کو ہاتھ سے نہ دے اور خدا کا خوف مدّنظر رکھ کر صادق کو پرکھے تو وہ غلطی سے بچا لیا جاتا ہے۔ لیکن جو تکبر کرتا ہے اور آیات اللہ کی تکذیب اور ہنسی کرتا ہے اس کو یہ دولت نصیب نہیں ہوتی۔‘‘                                     (ملفوظات جلد 5 صفحہ12-13)

پس مخالفین جتنا بھی زور لگا لیں اللہ تعالیٰ کے نور کو بجھا نہیں سکتے۔ اس جماعت نے پھیلنا ہے اور پھلنا ہے اور پھولنا ہے انشاء اللہ۔

اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ اپنی تائیدات کے لاکھوں نمونے ہمیں ہر سال دکھاتا ہے۔ پھر بھی یہ مخالفین کہتے ہیں کہ تم لوگ بیوقوف ہو اس شخص کو چھوڑ دو جو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ بیوقوف تو یہ نام نہاد مولوی اور وہ لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کے خوف کی بجائے ان مولویوں سے جنہوں نے دین کو بگاڑ دیا ہے خوف کھاتے ہیں۔ لیکن ہم نے اپنا کام نہیں چھوڑنا۔ دنیاکو صحیح راستے دکھانے کے لئے ہر احمدی نے اپنا کردار ادا کرنا ہے اور کرتے چلے جانا ہے انشاء اللہ تعالیٰ۔ اس کے لئے کوشش بھی کریں اور دعا بھی کریں اور سب سے بڑھ کر اپنے عملی نمونوں سے اسلام کی خوبیاں دنیا پر ظاہر کریں جس طرح بہت سے نئے آنے والے یہ کوشش کر رہے ہیں جس کی چند مثالیں میں نے دی ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔

اللہ تعالیٰ آپ سب کو جلسہ کی برکات سے حصہ لینے کی ہمیشہ توفیق عطا فرماتا رہے اور خیریت سے آپ لوگ اپنے گھروں کو جائیں اور آئندہ بھی انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ جلسہ میں بھی شامل ہوں۔ آپ کے گھروں میں بھی امن اور سکون ہو۔ آپ کے بچوں کی طرف سے بھی آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ ہر تکلیف اور پریشانی سے اللہ تعالیٰ آپ کو بچائے۔ آمین۔

 اب دعا کر لیں۔ (دعا کے بعد حضورایدہ اللہ نے فرمایا)

یہ حاضری کی رپورٹ بھی سن لیں۔ مستورات کی حاضری جو ہے انیس ہزار پانچ سو اڑسٹھ (19568) اور مردوں کی ہے انیس ہزار تیرہ(19013)۔ حاضری تبلیغی مہمان گیارہ سو انتیس(1129)۔ عورتوں کی تعداد جو شامل ہوئیں آپ لوگوں سے زیادہ ہے۔ کُل حاضری اللہ تعالیٰ کے فضل سے انتالیس ہزار سات سو دس (39710) ہے اور گزشتہ سال سے کمی ہے۔ لیکن سکول کھل گئے ہیں اس وجہ سے بھی کمی ہے۔ اور ننانوے (99) ممالک کی نمائندگی ہوئی۔ بیرون جرمنی سے تین ہزار آٹھ سو تینتیس  (3833) احباب شامل ہوئے۔

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

(الفضل انٹرنیشنل 11و18 جنوری2019ء)

image_printپرنٹ کریں