skip to Main Content
اختتامی خطاب جلسہ سالانہ جرمنی 2019ء

سىدنا حضرت مرزا مسرور احمدخلىفۃ المسىح الخامس اىدہ اللہ تعالىٰ بنصرہ العزىزکا معرکہ آرا، بصىرت افروز اور خطاب7جون 2019ء
دنىا کى بقا کے لىے آج جس چىز کى ضرورت ہے وہ اسلامى تعلىم ہى ہے
دنىا کو اسلام کى خوبصورت تعلىم سے آگاہ کرنے کے لىے ہر احمدى کو اپنا کردار ادا کرنے کى ضرورت ہے
اسلام دنىا کے کاموں کى بھى اجازت دىتا ہے لىکن رات دن صرف جائىدادىں بنانے اور دنىا کے کاموں مىں
مبتلا رہنے سے منع کرتا ہےاور بنىادى چىز جس کى طرف توجہ دلاتا ہے وہ اللہ تعالىٰ کى عبادت اور اس پر توکّل ہے
رزق خدا تعالىٰ کى طرف سے ہى آتا ہے اور اس کے حصول کے لىے ہمىں اپنى عبادتوںکو قربان نہىں کرنا چاہىےاحمدى ہو کر ہمىں اپنے نمونے دکھانے چاہئىں
نبى اکرم ﷺ کے پاکىزہ اُسوے سے اسلام کى اصل تعلىمات کا بىان، جماعت احمدىہ کو
حضورؐ کى سىرتِ مبارکہ پر عمل پىرا ہوتے ہوئے دنىا کو اسلام کا اصل چہرہ پىش کرنے کى تلقىن
آنحضرتؐ کے بے مثال اخلاقِ فاضلہ، عبادتِ الٰہى، نماز باجماعت کى پابندى، توکّل على اللہ، عاجزى ،
احسان مندى شکر گزارىامانت عہد کى پاسدارى اور مىانہ روى کا دل نشىں بىان

لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ- بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِ﴿۱﴾اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ يَوۡمِ الدِّيۡنِ﴿۴﴾ اِيَّاکَ نَعۡبُدُ وَ اِيَّاکَ نَسۡتَعِيۡنُ ﴿۵﴾ اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِيۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَيۡہِمۡ ۬ۙ غَيۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَيۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّيۡنَ ﴿۷﴾
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللّٰهَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ َذَكَرَ اللّٰهَ كَثِيْرًا۔ (الاحزاب۔22)

يقيناً تمہارے ليے اللہ کے رسول ميں نيک نمونہ ہے ہر اس شخص کے ليے جو اللہ اور يومِ آخرت کی اميد رکھتا ہے اور کثرت سے اللہ کو ياد کرتا ہے۔
غير مسلم دنيا يا مغربي دنيا يا ترقي يافتہ دنيا ميں جو مسلمانوں کے متعلق تحفّظات پائے جاتے ہيں وہ ان کي اسلامي تعليم کے بارے ميں کم علمي کي وجہ سے زيادہ ہيں اور اس پر بعض مسلمانوں کے اسلام کے نام پر شدّت پسند عمل اور دہشت گردي اور قانون کو اپنے ہاتھ ميں لينے کے عمل نے مزيد ان کے ذہنوں ميں راسخ کر ديا ہے کہ اسلام ہے ہي دہشت گردي کا مذہب۔ آج اسلام کي تعليم کو دنيا ميں پھيلانے اور اسلامي تعليم کے بارے ميں غلط تاثر کو زائل کرنے کا کام اللہ تعاليٰ نے آنحضرت صلي اللہ عليہ واٰلہ وسلم کے غلام صادق مسيح موعود اور مہدي معہودؑ کي جماعت کے سپرد کيا ہے۔ پس اس کے ليے ہر احمدي کو بھرپور کوشش کرنے کي ضرورت ہے۔ دنيا کے لوگ تو پريس اور ميڈيا کي خبروں کو سن کر سمجھتے ہيں کہ جو يہ کہہ رہے ہيں يعني جو پريس کہہ رہا ہے وہي سو فيصد سچ ہے۔ مذہب سے دلچسپي ويسے ہي عمومي طور پر دنيا کي اکثر آبادي کو نہيں ہے۔ پس ان حالات ميں بڑي سخت محنت سے اور مسلسل کوشش سے اسلام کي خوبصورت تعليم کو دنيا کو بتانا ايک بہت بڑا چيلنج ہے۔ عام غير مسلم تو يہي سمجھتا ہے کہ مسلمانوں کے يہ عمل ان کي تعليم کي وجہ سے ہيں اور بانئ اسلام حضرت محمد رسول اللہ صلي اللہ عليہ واٰلہ وسلم کے عمل کي وجہ سے مسلمانوں کے يہ عمل ہيں۔
پس جيسا کہ ميں نے کہا اس اثر کو زائل کرنے اور دنيا کو اسلام کي خوبصورت تعليم سے آگاہ کرنے کے ليے ہر احمدي کو اپنا کردار ادا کرنے کي ضرورت ہے۔ اپنے قول اور عمل سے دنيا کو بتانے کي ضرورت ہے کہ اسلام کي حقيقي تعليم کيا ہے اور آنحضرت صلي اللہ عليہ واٰلہ وسلم کا عمل کيا ہے۔ اللہ تعاليٰ نے جو دنيا ميں انسان کو پيدا کيا ہے تو اس ليے کہ وہ خدا تعاليٰ کي عبادت کے حق بھي ادا کرے اور بندوں کے حق بھي ادا کرے۔ جو اللہ کا حق ادا کرنے والے ہوں گے يقيناً بندوں کا حق ادا کرنے والے بھي ہوں گے اور ان حقوق کي ادائيگي کے ليے اللہ تعاليٰ نے ہمارے سامنے اپنے پيارے اور محبوب نبي اور مطاع اور انسان کامل کا نمونہ رکھا ہے ۔ اور پھر ہميں يہ کہا کہ يہ کامل نمونہ تمہارا رہنما ہے اسے اپناؤ جو اس کي امت ميں ہونے کا دعويٰ کرتے ہيں۔ اس اُسوے کے ہر پہلو پر عمل کرنے کي کوشش کرو اور پھر دنيا کو بھي بتاؤ کہ حقيقي اسلام يہ ہے نہ کہ وہ اسلام جو چند دہشت گرد اسلام کے نام پر پيش کرتے ہيں اور جس کو مغربي ميڈيا اَور زيادہ بڑھا چڑھا کر بيان کرتا ہے۔
آپ صلي اللہ عليہ وسلم نے ہمارے سامنے کيسي کيسي خوبصورت مثاليں اپنے اُسوے سے پيش فرمائي ہيں ان کے چند پہلو ميں اس وقت پيش کروں گا تا کہ ہم اپنے آپ کو ان نمونوں پر پرکھيں اور اعليٰ اخلاق کي روشني ميں جو آپؐ نے ہميں نصيحت فرمائي ہے اس کا عملي زندگي ميں جائزہ ليں۔ اسلامي تعليم کي روشني ميں جو آپؐ نے ہميں ہدايات دي ہيں ان کا جائزہ ليں، جو نمونے دکھائے ہيں ان کے مطابق اپنے آپ کو ديکھيں۔ جب ہم اس کے مطابق اپني زندگياں ڈھاليں گے تبھي دنيا کو بتا سکتے ہيں کہ حقيقت ميں اسلام چيز کيا ہے اور دنيا کي بقا کے ليے آج جس چيز کي ضرورت ہے وہ اسلامي تعليم ہي ہے۔ اللہ تعاليٰ نے انساني زندگي کا اصل مقصد تو عبادت قرار ديا ہے۔ہمارے آقا و مطاعؐ نے ہميں صرف يہ نہيں کہا کہ اللہ تعاليٰ نے يہ فرمايا ہے کہ تمہاري زندگي کا مقصد اللہ تعاليٰ کي عبادت ہے اس ليے عبادت کي طرف ہر مومن کو توجہ کرني چاہيے اور وہ اس مقصد کو حاصل کرنے کي کوشش کرے، بلکہ آپ نے اپني عبادت کے معيار قائم کر کے ہمارے سامنے پيش کيے ہيں جن کي قبوليت کي سند بھي اللہ تعاليٰ نے عطا فرمائي ہے۔ جيسا کہ اللہ تعاليٰ فرماتا ہے

الَّذِيْ يَرٰىكَ حِيْنَ تَقُوْمُ۔ وَتَقَلُّبَكَ فِي السّٰجِدِيْنَ۔ :(الشعراء:219-220)

يعني جو ديکھ رہا ہوتا ہے جب تُو کھڑا ہوتا ہے اور سجدہ کرنے والوں ميں تيري بے قراري بھي۔ پس يہ ہے آپؐ کے سجدوں اور عبادت کي حالت کہ بے قراري ميں اس قدر بڑھے ہوئے ہيں کہ اللہ تعاليٰ اپنے پيار کي نظر ڈال کر خاص طور پر آپؐ کي اس عبادت اور بے قراري کا ذکر فرما رہا ہے۔ يہ بے قراري کس ليے تھي ،کس کے ليے تھي؟ يہ بے قراري اور دعائيں اپني امّت کے ليے تھيں۔ يہ بے قراري اور دعائيں انسانيت کے ليے تھيں۔ يہ بے قراري اور دعائيں ان لوگوں کے اپنے مقصدِ پيدائش کے سمجھنے کے ليے تھيں جو اللہ تعاليٰ سے دُور ہيں کيونکہ يہ دورياں اللہ تعاليٰ کي ناراضگي کا موجب بنا سکتي ہيں اس ليے آپؐ کي اس بے قراري کو ديکھ کر اللہ تعاليٰ نے آپؐ کو يہ بھي فرمايا کہ

لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ۔ (الشعراء:4)

کيا تُو اپني جان کو اس ليے ہلاک کر دے گا کہ وہ کيوں مومن نہيں ہوتے۔ تيرا دل اس بات پر بے چين ہے کہ کافر کيوں ہدايت نہيں پاتے، کيوں خدا تعاليٰ پر ايمان لا کر اپني دنيا و عاقبت نہيں سنوارتے۔ پس جہاں آپؐ کي عبادت کے معيار کا پتہ چلتا ہے يہاں اِس سے، وہاں اس سے آپؐ کےپاکيزہ دل کي اس کيفيت کا بھي پتہ چلتا ہے جو انسانيت کو تباہي سے بچانے کے ليے آپؐ کے دل ميں تھي ۔جو آپؐ کا درد تھا اس کا بھي پتہ چلتا ہے ۔ پس جس کے دل ميں انسانيت کے ليے درد کي يہ کيفيت ہو وہ کيا کبھي ظلم کر سکتا ہے؟ يقيناً نہيں۔ آپؐ نے تو خدا تعاليٰ کي عبادت اور اس کي مخلوق کي خدمت اور اس کے ليے درد ميں زندگي کا ہر لمحہ قربان کيا۔ آپؐ کي عبادت کي کيفيت کو ديکھنے کا بعض دفعہ صحابہؓ کو بھي موقع مل جاتا تھا۔ ايک صحابيؓ بيان کرتے ہيں کہ مَيں نے رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم کو نماز پڑھتے ديکھا۔ اس وقت شدت گريہ و زاري کے باعث آپؐ کے سينے سے ايسي آوازيں نکل رہي تھيں جيسے چکي کے چلنے کي آواز ہوتي ہے۔

(سنن ابوداؤد کتاب الصلوٰۃ باب البکاء فی الصلوٰۃ حدیث 904)

ىہ دعائىں کىا تھىں؟ ىہ اللہ تعالىٰ کى پناہ مىں رہنے کى دعائىں تھىں۔ ىہ امت کے لىے دعائىں تھىں۔ ىہ انسانىت کو تباہى سے بچانے کے لىے دعائىں تھىں۔ ىہ آنحضرت صلى اللہ علىہ وسلم کى دعائىں ہى تھىں جنہوں نے اس وقت بھى انقلاب پىدا کىا اور صدىوں کے مردے زندہ ہو کر اللہ تعالىٰ کے حقىقى عابد بن گئے اور ىہ آنحضرت صلى اللہ علىہ وسلم کى دعائىں ہى ہىں جنہوں نے قبولىت کا درجہ پاتے ہوئے اس زمانے مىں آپ صلى اللہ علىہ وسلم کے عاشقِ صادقؑ کو اس بگڑے ہوئے زمانے مىں اسلام کے احىائے نَو کے لىے بھىجاہے۔ پس آج ىہ ہم احمدىوں کى ذمہ دارى ہے کہ اپنى عبادتوں کے معىار بلند کرىں۔ خدا تعالىٰ کے حضور اس اُسوے پر چلنے کى کوشش کرتے ہوئے وہ سجدے کرىں جو صرف ہمارے ذاتى مقاصد کے لىے نہ ہوں بلکہ اللہ تعالىٰ کى حکومت کو دنىا مىں قائم کرنے کے لىے ہوں۔ رسول اللہ صلى اللہ علىہ وسلم کا جھنڈا دنىا مىں لہرانے کے لىے ہوں۔ اپنے آپ کو اللہ تعالىٰ کا حقىقى عبد بنانے کے لىے ہوں۔ انسانىت کو اپنے پىدا کرنے والے خدا کے قرىب لانے کے لىے ہوں۔ دنىا کو تباہى سے بچانے کے لىے ہوں۔
فرض اور باجماعت نمازوں کے لىے آنحضرت صلى اللہ علىہ وسلم کس قدر اہتمام بلکہ بعض حالات مىں کہنا چاہىے مشقت فرماتے تھے اِس کا اس اىک واقعے سے خوب اندازہ ہو سکتا ہے۔ غزوۂ اُحد کى شام جب لوہے کے خود کى کڑىاں حضور اکرم صلى اللہ علىہ وسلم کے داہنے رخسار مىں ٹوٹ گئىں تو اس کى وجہ سے آپؐ کا بہت سا خون بہہ چکا تھا۔ آپؐ زخموں سے نڈھال تھے۔ علاوہ ازىں ستّر صحابہ کى شہادت کا زخم اس سے کہىں زىادہ اعصاب شکن تھا۔ اس روز بھى آپؐ اذان کى آواز پر اسى طرح نمازفجر کے لىے تشرىف لائے، جس طرح عام دنوں مىں تشرىف لاتے تھے۔

(ماخوذ از اسوۂ انسان کامل صفحہ 84)

اور آپؐ کا ىہى عمل تھا جس نے صحابہؓ مىں بھى عبادتوں کے معىار قائم کر کے دکھائے۔
پس آج ہم مىں سے ہر اىک کو اپنا جائزہ لىنا چاہىے کہ کىا جب ہم ىہ نعرہ لگاتے ہىں کہ اب مسىح موعودؑ کى جماعت کے ذرىعہ سے اسلام کا احىائے نَو ہونا ہے، ہم ہىں جنہوں نے اسلام کى تعلىم کو دوبارہ زندہ کرنا ہے، کىا ہمارى عبادتوں اور باجماعت نمازوں کے معىار اس کے قرىب بھى ہىں؟ ذرا سى تکلىف پر مسجد نہ آنے کے بہانے ہوتے ہىں۔ صبح اٹھ کر دو چھىنکىں آ جائىں تو کہہ دىتے ہىں کہ آج طبىعت خراب ہے نماز گھر مىں پڑھ لو۔ سستىاں تو کوشش کرنے سے دور ہوتى ہىں۔ پس ہمىں کوشش کرنى چاہىے کہ ہم بھى اپنى عبادتوں کے معىار بلند کرنے کى کوشش کرىں۔ ىہ وہ دعائىں ہى ہىں جو دنىا مىں انقلاب کا اس زمانے مىں ذرىعہ بنىں گى۔ ہمارى تبلىغ بغىر دعاؤں کے بے نتىجہ ہے۔ ہمارى علمى کاوشىں بغىر دعاؤں کے بے نتىجہ ہىں۔ پس اگر دنىا کو حقىقى اسلام سکھانا ہے تو سب سے پہلے ہمىں خدا تعالىٰ سے اس معىار کا تعلق جوڑنے کى کوشش کرنى چاہىے جو آنحضرت صلى اللہ علىہ وسلم کے صحابہ نے آپ صلى اللہ علىہ وسلم کے اُسوےکى پىروى مىںچلتے ہوئے قائم کىے تھے اور جس کا نقشہ حضرت مسىح موعود علىہ الصلوٰة والسلام نے اس طرح کھىنچا ہے فرماتے ہىں کہ
‘‘موٹى سى بات ہے کہ قرآن مجىد نے ان کى پہلى حالت کا تو ىہ نقشہ کھىنچا ہے ىَأکُلُوْنَ کَمَا تَأکُلُ الْاَنْعَام۔’’(محمد:13)ىعنى وہ اس طرح کھاتے ہىں جس طرح جانور کھا رہے ہىں۔ ‘‘ىہ تو ان کى کفر کى حالت تھى۔ پھر جب آنحضرت صلى اللہ علىہ وسلم کى پاک تاثىرات نے ان مىں تبدىلى پىدا کى تو ان کى ىہ حالت ہو گئى۔ یَبِىْتُوْنَ لِرَبِّھِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا۔ (الفرقان:65)ىعنى وہ اپنے ربّ کے حضور سجدہ کرتے ہوئے اور قىام کرتے ہوئے راتىں کاٹ دىتے ہىں۔’’

(ملفوظات جلد 9 صفحہ 145)

پس ىہ وہ حالت ہے جو ہمىں بھى اپنے اندر پىدا کرنے کى کوشش کرنى چاہىے نہ ىہ کہ فجر کى نماز کے وقت بھى اٹھنے مىں سستى دکھائىں۔ حضرت على رضى اللہ تعالىٰ عنہ بىان کرتے ہىں کہ آنحضرت صلى اللہ علىہ وسلم کى آخرى وصىت اور آخرى پىغام جبکہ آپؐ جان کنى کى حالت مىں تھے اور سانس اُکھڑ رہا تھا ىہ تھا کہ نماز اور غلام کے حقوق کا خىال رکھنا ۔

(سنن ابن ماجہ کتاب الوصایا باب وھل اوصی رسول اللہ حدیث 2698)

ىہ ہے اللہ تعالىٰ کى عبادت کا حق ادا کرنے اور مخلوق کا حق ادا کرنے کى آپؐ کى کىفىت اور ىہ وہ آخرى نصىحت ہے جس کو اىک مومن کو ہمىشہ پىش نظر رکھنا چاہىے اور ىہى ہمارا حضرت مسىح موعود علىہ الصلوٰة والسلام کو ماننے کا مقصد ہے جسے ہمىں ہمىشہ سامنے رکھنا چاہىے نہ کہ سستىوں اور دنىاوى مصروفىات مىں ڈوب کر اپنى زندگى کے مقصد کو بھى بھول جائىں۔
پھر اللہ تعالىٰ پر توکّل کى حالت ہے تو اس بارے مىں بھى آپؐ کے نمونے اعلىٰ ہىں۔ اللہ تعالىٰ کا ىہ فرمان ہے کہ وَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَكِيْلًا۔ (النساء:82) ىعنى اور اللہ پر توکل کر اور اللہ ہى کارساز کے طور پر کافى ہے۔ تو پھر آپؐ کى زندگى مىں ہر موقع پرىہ نمونے ہمىں نظر آتے ہىں بلکہ مرض الموت کے وقت بھى آپؐ کو اس چىز کى فکر تھى کہ کہىں اىسا نہ ہو کہ اىسى حالت مىں مَىں اللہ تعالىٰ کے حضور حاضر ہو جاؤں جس مىں ذرا سا بھى اللہ تعالىٰ پر توکّل نہ کرنے کا شبہ پىدا ہو سکتا ہو۔ چنانچہ حضرت عائشہؓ بىان کرتى ہىں کہ مىرے پاس آپؐ نے سات ىا آٹھ دىنار رکھوائے۔ آخرى بىمارى مىں فرماىا کہ عائشہؓ !وہ سونا جو تمہارے پاس تھا کىا ہوا؟ حضرت عائشہؓ کہتى ہىں مَىں نے عرض کىا کہ وہ مىرے پاس ہے۔ آپ صلى اللہ علىہ وسلم نے فرماىا عائشہ وہ صدقہ کر دو۔ پھر حضرت عائشہؓ کسى کام مىں مصروف ہو گئىں۔ پھر آپ صلى اللہ علىہ وسلم کو جب دوبارہ ہوش آئى تو پوچھا کہ وہ صدقہ کر دىا؟ حضرت عائشہؓ نے جواب دىا کہ ابھى نہىں کىا۔ آپؐ نے ان کو بھىجا کہ جاؤ ابھى جاؤ اور مىرے پاس لے کے آؤ۔ آپؐ نے وہ دىنار منگوا کر اپنے ہاتھ پر رکھ کر گنے اور پھر فرماىا محمد (صلى اللہ علىہ وسلم) کا اپنے ربّ پر کىا توکل ہوا اگر خدا سے ملاقات اور دنىا سے رخصت ہوتے وقت ىہ دىنار اس کے پاس ہوں۔ پھر حضور صلى اللہ علىہ وسلم نے وہ دىنار صدقہ کر دىئے۔

(الطبقات الکبریٰ جلد 2 صفحہ 183 ذکر الدنانیر التی قسمھا رسول اللہ ؐ فی مرضہ الذی مات فیہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)

لىکن دوسروں کو آپؐ نے ىہ نصىحت فرمائى کہ مَىں تو اللہ تعالىٰ کا نبى اور محبوب ہوں ىہ مىرے ساتھ سلوک ہے۔ اللہ تعالىٰ پر تم توکّل بھى کرو لىکن اپنى اولاد کو فقر اور ابتلا سے بچانے کے لىے ان کے لىے اگر تمہارے پاس کوئى جائىداد ہے ىا کوئى رقم ہے تو چھوڑ کر جاؤ۔ 3/1 حصہ سے زىادہ کى وصىت کى اجازت نہىں دى۔

(صحیح البخاری کتاب الوصایا باب ان یترک ورثتہ اغنیاء خیر من ان یتکففوا الناس حدیث 2742)

اور اللہ تعالىٰ نے اس لىے قرآن کرىم مىں وراثت کا طرىق بھى تفصىل سے بتا دىا لىکن ساتھ ہى آپؐ نے ىہ بھى فرماىا کہ ابنِ آدم کے دل کى ہر وادى مىں اىک گھاٹى ہوتى ہے، ہر انسان کے دل مىں اىک گھاٹى ہے، اىک وادى ہے اور جس کا دل ان سب گھاٹىوں کے پىچھے لگا رہتا ہے تو اللہ تعالىٰ اس کى پروا نہىں کرتا کہ کون سى وادى اس کى ہلاکت کا سبب بنتى ہے اور جو اللہ تعالىٰ پر توکّل کرتا ہے تو اللہ اسے ان سب گھاٹىوں سے بچا لىتا ہے۔

(سنن ابن ماجہ کتاب الزھد باب التوکل والیقین حدیث 4166)

پس اسلام دنىا کے کاموں کى بھى اجازت دىتا ہے لىکن رات دن صرف جائىدادىں بنانے اور دنىا کے کاموں مىں مبتلا رہنے سے منع کرتا ہے اور بنىادى چىز جس کى طرف توجہ دلاتا ہے وہ اللہ تعالىٰ کى عبادت اور اس پر توکّل ہے اور جب ىہ ہو تو دنىاوى مشکلات سے بھى انسان بچ جاتا ہے۔ آپ صلى اللہ علىہ وسلم نے امت کو اللہ تعالىٰ پر توکل کرنے کى نصىحت کرتے ہوئے فرماىا اگر تم اللہ پر توکّل کرو جس طرح کہ اس پر توکّل کرنے کا حق ہے تو وہ تمہىں ضرور اس طرح رزق دے گا جس طرح پرندے کو دىتا ہے۔ جو صبح خالى پىٹ نکلتے ہىں اور شام کو پىٹ بھر کر لوٹتے ہىں۔

(سنن ابن ماجہ کتاب الزھد باب التوکل والیقین حدیث 4164)

پس ىہ بات ہمىں اس طرف ہمىشہ توجہ دلانے والى ہونى چاہىے کہ رزق خدا تعالىٰ کى طرف سے ہى آتا ہے اور اس کے حصول کے لىے ہمىں اپنى عبادتوں کو قربان نہىں کرنا چاہىے۔ کام ضرور ہوں لىکن اصل توکّل اللہ تعالىٰ کى ذات پر ہو اور کام کے لىے عبادتىں قربان نہ ہوں۔ آنحضرت صلى اللہ علىہ وسلم کے توکّل کے بارے مىں اىک جگہ حضرت اقدس مسىح موعود علىہ السلام بىان فرماتے ہىں کہ ‘‘واقعات حضرت خاتم الانبىاء صلى اللہ علىہ وسلم پر نظر کرنے سے ىہ بات نہاىت واضح اور نماىاں اور روشن ہے کہ آنحضرت اعلىٰ درجہ کے ىک رنگ اور صاف باطن اور خدا کے لىے جان باز اور خلقت کے بىم و امىد سے بالکل منہ پھىرنے والے اور محض خدا پر توکّل کرنے والے تھے۔ کہ جنہوں نے خدا کى خواہش اور مرضى مىں محو اور فنا ہو کر اس بات کى کچھ بھى پروا نہ کى۔ کہ توحىد کى منادى کرنے سے کىا کىا بلا مىرے سر پر آوے گى۔ اور مشرکوں کے ہاتھ سے کىا کچھ دکھ اور درد اٹھانا ہو گا۔ بلکہ تمام شدتوں اور سختىوں اور مشکلوں کو اپنے نفس پر گوارا کر کے اپنے مولىٰ کا حکم بجا لائے۔ اور جو جو شرط مجاہدہ اور وعظ اور نصىحت کى ہوتى ہے وہ سب پورى کى اور کسى ڈرانے والے کو کچھ حقىقت نہ سمجھا۔ ہم سچ سچ کہتے ہىں کہ تمام نبىوں کے واقعات مىں اىسے مواضعاتِ خطرات اور پھر کوئى اىسا خدا پر توکّل کر کے کُھلا کھلے شرک اور مخلوق پرستى سے منع کرنے والا اور اس قدر دشمن اور پھر کوئى اىسا ثابت قدم اور استقلال کرنے والا اىک بھى ثابت نہىں۔’’

(براہىن احمدىہ حصہ دوم،روحانى خزائن جلد 1 صفحہ 111-112)

پھر اعلىٰ اخلاق کا اىک وصف شکر گزارى ہے۔ اس وصف کے اعلىٰ معىار کا ہمارے آقا و مطاع کا نمونہ اور اسوہ کىا تھا۔ آپ صلى اللہ علىہ وسلم کو ہر وقت اس بات کى تلاش رہتى تھى کہ کس طرح شکر گزار بنىں۔ خدا تعالىٰ کا سب سے زىادہ شکر گزار بندہ بنىں۔ چنانچہ حدىث مىں آتا ہے اس مقصد کے لىے آپؐ دعا کىا کرتے تھے کہ اے مىرے اللہ! تُو مجھے اپنا شکر بجا لانے والا اور بکثرت ذکر کرنے والا بنا دے۔

(سنن ابو داؤد کتاب الوتر باب ما یقول الرجل اذ اسلم حدیث 1510)

اور اىک رواىت مىں ىہ الفاظ زائد ہىں کہ اے اللہ! مجھے اىسا بنا دے کہ مىں تىرا سب سے زىادہ شکر کرنے و الا ہوں اور تىرى نصىحت کى پىروى کرنے والا ہوں اور تىرى وصىت کو ىاد کرنے والا ہوں۔

(مسند احمد بن حنبل جلد 3 صفحہ 216 حدیث 8087 مسند ابی ھریرہ مطبوعہ عالم الکتب بیروت 1998ء)

کىا ہى عاجزى کا مقام ہے! دنىا کا سب سے زىادہ شکر گزار ىہ دعا کر رہا ہے کہ مىں سب سے زىادہ شکر گزار بنوں۔
اىک دفعہ آپ صلى اللہ علىہ وسلم اىک روٹى کے ٹکڑے پر کھجور رکھ کر کھا رہے تھے اور فرماتے تھے ىہ کھجور اس روٹى کا سالن ہے اور اس پر شکر گزارى فرما رہے تھے۔

(سنن ابو داؤد کتاب الاطعمۃ باب فی التمر حدیث 3830)

ا کثر ىہ ہوتا کہ سرکے سے ىا پانى سے ہى روٹى تناول فرماتے اور اس پر بھى اللہ تعالىٰ کا شکر ادا کر رہے ہوتے۔

(صحیح الاثر وجمیل العبر من سيرة خير البشر ﷺ جلد 1 صفحہ 254، مکتبۃ روائع المملکۃ، جدہ 2010ء از الشاملہ)

آج کل ہم مىں سے بہت سے اىسے ہىں جن کو اعلىٰ کھانا بھى مىسر آتا ہے اور پھر بھى ہزار نخرے ہوتے ہىں۔ گھروں مىں بعض ناچاقىاں اسى وجہ سے پىدا ہو رہى ہوتى ہىں کہ بىوى نے اچھا کھانا نہىں پکاىا۔
پھر فتح مکّہ پر آپؐ کى عاجزى اور شکر گزارى کى مثال اىک انتہا کو پہنچى ہوئى ہے۔ رواىت مىں آتا ہے جب آپؐ ذى الطوىٰ مقام پر پہنچے تو سرخ ىمنى کپڑے کا عمامہ باندھے ہوئے اپنى سوارى پر ٹھہر گئے اور ىہ خىال کر کے کہ اللہ تعالىٰ نے آپؐ کو فتح دے کر کس قدر عزت افزائى کى ہے حضور صلى اللہ علىہ وسلم نے عاجزى اور شکر گزارى سے اپنا سر اس قدر جھکاىا کہ ىوں لگتا تھا کہ آپؐ کى رىش مبارک سوارى کے کجاوے سے چھو جائے گى۔

(سیرت ابن ہشام صفحہ 546 ذکر الاسباب الموجبۃ المسیر الیٰ مکۃ وذکر فتح مکۃ …… مطبوعہ دار ابن حزم بیروت 2009ء)

پھر آپؐ کى احسان مندى اور شکر گزارى کى اىک اعلىٰ مثال ىوں ملتى ہے کہ جب مکے کے مسلمانوں پر کفّار کى طرف سے ظلم کىے گئے اور مسلمانوں نے حبشہ کى طرف ہجرت کى اور شاہ حبشہ نے انہىں پناہ دى آنحضرت صلى اللہ علىہ وسلم نے نجاشى بادشاہ کے اس احسان کو ہمىشہ ىاد رکھا۔ چنانچہ جب نجاشى کا وفد آنحضرت صلى اللہ علىہ وسلم کى خدمت مىں اىک دفعہ حاضر ہوا تو رسول اللہ صلى اللہ علىہ واٰلہ وسلم ان کے استقبال کے لىے خود کھڑے ہوئے۔ صحابہؓ نے عرض کى کہ ىا رسولؐ اللہ! ان کے استقبال کے لىے ہم کافى ہىں کہ ان کى مہمان نوازى بھى ہم کرىں گے استقبال بھى کر لىں گے آپؐ کىوں تکلىف کرتے ہىں۔ آپ صلى اللہ علىہ وسلم نے فرماىا کہ ىہ لوگ ہمارے ساتھىوں کے ساتھ بڑے اخلاق کے ساتھ پىش آئے تھے اور عزت سے انہىں اپنے پاس رکھا تھا اس لىے مىں پسند کرتا ہوں کہ ان کے اس احسان کا بدلہ خود اتاروں۔

(السیرۃ الحلبیۃ جلد 3 صفحہ 72 باب ذکر مغازیہ غزوۃ خیبر مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 2002ء)

پس ىہ ان لوگوں کے لىے بھى سبق ہے جو ىہاں ہجرت کر کے آئے ہىں کہ ان حکومتوں نے جنہوں نے ہمىں ىہاں پناہ دے کر ہمارے لىے سہولتىں مہىا کى ہىں ان کا شکرىہ ادا کرتے ہوئے ان ملکوں کى بہترى کے لىے اپنى صلاحىتىں استعمال کرىں اور انہىں اسلام کى خوبصورت تعلىم نہ صرف علمى طور پر بلکہ عملى طور پر بھى دکھا کر بتائىں کہ کىا حقىقى اسلام ہے اور ىہ ہمىشہ ىاد رکھىں کہ کسى بھى طرح نقصان نہىں ہم نے پہنچانا ىا ان سے غلط طرىق سے مالى منفعت حاصل نہىں کرنى، کوئى سہولت حاصل نہىں کرنى۔ آنحضرت صلى اللہ علىہ وسلم کے ذرىعے جو ہمىں دىن ملا اور جس طرح ہمىں ہر خلق کى گہرائى اور اس کے اعلىٰ معىار کا علم ہوا اس پر شکر گزارى کا اظہار ہونا چاہىے۔ اس بارے مىں حضرت مسىح موعود علىہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہىں کہ
‘‘ىہ اللہ تعالىٰ کا کمال فضل ہے کہ اس نے کامل اور مکمل عقائد کى راہ ہم کو اپنے نبى کرىم صلى اللہ علىہ وسلم کے ذرىعے بدوں مشقت و محنت کے دکھائى ہے۔’’ بغىر کسى مشقت اور محنت کے ہمىں وہ سىدھا راستہ دکھا دىا ‘‘وہ راہ جو آپ لوگوں کو اس زمانہ مىں دکھائى گئى ہے بہت سے عالم ابھى تک اس سے محروم ہىں۔ پس خدا تعالىٰ کے اِس فضل اور نعمت کا شکر کرو۔ اور وہ شکر ىہى ہے کہ سچے دل سے ان اعمالِ صالحہ کو بجا لاؤ جو عقائدِ صحىحہ کے بعد دوسرے حصہ مىں آتے ہىں اور اپنى عملى حالت سے مدد لے کردعا مانگو کہ وہ ان عقائد صحىحہ پر ثابت قدم رکھے اور اعمال صالحہ کى توفىق بخشے۔’’

(ملفوظات جلد 1 صفحہ 149-150)

پس ىہ ہے اىک احمدى کے حقىقى شکر گزار ہونے کا طرىق۔
پھر اىک خلق امانت کى ادائىگى ہے اور عہد کى پابندى ہے۔ اللہ تعالىٰ نے فرماىا

وَالَّذِيْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ۔ (المومنون: 9)

اور وہ لوگ جو اپنى امانتوں اور عہدوں کا خىال رکھتے ہىں۔ ىہ دىکھتے ہىں کہ کس طرح ہم انہىں پورا کر رہے ہىں۔ اس کے اعلىٰ ترىن معىار آنحضرت صلى اللہ علىہ وسلم نے کس طرح قائم فرما کر ہمارے سامنے اپنا اسوہ پىش فرماىا۔ رواىت مىں آتا ہے کہ جب اسلامى فوجوں نے خىبر کو گھىرا تو اس وقت وہاں کے اىک ىہودى سردار کا ملازم جو جانور چرانے والا تھا جانوروں سمىت اسلامى لشکر کے علاقے مىں آ گىا اور مسلمان ہو گىا۔ اس نے آنحضرت صلى اللہ علىہ وسلم کى خدمت مىں حاضر ہو کر عرض کىا کہ ىا رسولؐ اللہ! مىں تو اب مسلمان ہو گىا ہوںمىں واپس بالکل جانا نہىں چاہتا ۔ واپس جاؤں گا تو مىرے پہ ظلم بھى ہو گا ۔ ىہ بکرىاں مىرے پاس ہىں ان کا اب مىں کىا کروں۔ ىہ ىہودى کا رىوڑ ہے، ان کا مالک ىہودى ہے۔ آپ صلى اللہ علىہ وسلم نے فرماىا کہ ان بکرىوں کا منہ قلعے کى طرف پھىر کر ہانک دو وہ خود اس کے مالک کے پاس پہنچ جائىں گى۔ چنانچہ اسى طرح ہوا اور قلعے والوں نے وہ بکرىاں لے لىں۔

(سیرت ابن ہشام صفحہ 517 ذکر المسیر الیٰ خیبر مطبوعہ دار ابن حزم بیروت 2009ء)

ىہ ہے وہ اعلىٰ ترىن مثال امانت اور دىانت کى کہ جنگ کى صور ت ہے، دشمن کا مال ہاتھ آىا ہے لىکن مسلمان ہونے والے کو پہلا سبق آپؐ نے ىہ دىا کہ اىک مسلمان کا امانت اور دىانت کا معىار بہت بلند ہونا چاہىے۔ اس مال پر نہ تمہارا کوئى حق ہے نہ ہمارا۔ اسے اس کے مالکوں کو لوٹا دو۔ آج کل کے اس ترقى ىافتہ معاشرے مىں جنگ کى صورت مىں کہىں بھى دنىا مىں آپ کو ىہ معىار نظر نہىں آئىں گے۔ جو اسلام پر اور اسلام کى تعلىم پر اعتراض کرتے ہىں وہى سب سے زىادہ اس خىانت کے مرتکب ہوتے ہىں۔
پھر عہد کى پابندى کا حال ہے کہ دشمن بھى ىہ کہنے پر مجبور ہے کہ آپؐ عہد کے پابند ہىں۔ ہرقل کے دربار مىں ابوسفىان کو ىہ اقرار کرنا پڑا کہ آج تک اس شخص نے ہمارے ساتھ بدعہدى نہىں کى۔

(صحیح مسلم کتاب الجہاد والسیر باب کتب النبی ؐ الیٰ ھرقل ملک الشام …… حدیث (1773)

پھر صلح حدىبىہ مىں جب معاہدہ لکھا جا رہا تھا تو اىک شخص زنجىروں مىں جکڑا ہوا آتا ہے جو مسلمان ہونے کى وجہ سے زنجىروں مىں جکڑا گىا ہے اور پناہ طلب کرتا ہے لىکن اس کا باپ جو مسلمان نہىں ہے وہاںموجود ہے ۔ وہ آپؐ سے کہتا ہے کہ اب ہمارا معاہدہ ہو چکا ہے کہ ہمارا کوئى آدمى آپؐ کے ساتھ نہىں جائے گا۔ اس لىے آپؐ اسے ساتھ نہىں لے جا سکتے چاہے وہ آپؐ کى پناہ مىں آنے کے لىے بھىک مانگ رہا ہے۔ وہ شخص بہتىرا شور مچاتا ہے کہ کىا مىں کافروں مىں واپس کر دىا جاؤں گا تا کہ وہ مجھے تکلىفىں پہنچائىں تو آنحضرت صلى اللہ علىہ واٰلہ وسلم فرماتے ہىں ہاں اب معاہدہ ہو گىا ہے حالانکہ اس وقت معاہدہ ابھى لکھا جا رہا تھا، کچھ شرائط لکھى گئى تھىں لىکن دستخط ہونے سے پہلے ہى آپؐ نے فرماىا کىونکہ لکھا گىا ہے اس لىے بڑے مقصد کى خاطر اور اس معاہدے کى خاطر تمہىں قربان ہونا پڑے گا ۔ اس لىے تم واپس جاؤ۔ لىکن ساتھ ہى ىہ بھى فرما دىا کہ تم چند روز صبر کرو مىں تمہىں خوشخبرى دىتا ہوں کہ خدا تعالىٰ تمہارے لىے کشادگى پىدا کر دے گا۔ آپؐ نے فرماىا کہ اس معاہدے کى وجہ سے آج مىں مجبور ہوں کىونکہ ہم بدعہدى نہىں کرتے۔

(سیرت ابن ہشام صفحہ 504 امر الھدنۃ امر ابی جندل ابن سھیل بن عمرو مطبوعہ دار ابن حزم بیروت 2009ء)

تو ىہ معىار تھے آپؐ کے معاہدوں کى پابندى کے۔ آج کل کى دنىا دار حکومتىں تو اس کے قرىب بھى نہىں پہنچ سکتىں۔ آج اىک معاہدہ ہوتا ہے اور کل وہ ٹوٹ جاتا ہے لىکن ساتھ ہى ہمىں بھى اپنے جائزے لىنے چاہئىں کہ ہمارے اپنے معاہدوں کى پابندى کے معىار کىا ہىں۔ اپنى روز مرہ زندگى مىں ہمىں اپنى مثالىں دىکھنى چاہئىں۔ اپنى گھرىلو زندگى مىں بھى اس کى مثال دىکھىں کہ کىا عہدوں کى پابندى ہم کرتے ہىں۔ آنحضرت صلى اللہ علىہ واٰلہ وسلم نے تو گھرىلو زندگى مىں بھى عہد کى پابندى کے متعلق فرماىا ہے کہ قىامت کے دن سب سے بڑى خىانت ىہ شمار ہو گى کہ اىک آدمى اپنى بىوى سے تعلق قائم کرے پھر وہ بىوى کے پوشىدہ راز بھى دنىا کو بىان کرتا پھرے۔

(صحیح مسلم کتاب النکاح باب تحریم افشاء سر المراۃ حدیث1437)

آج کل ہم دىکھتے ہىں کہ بعض لوگ ىہ گھٹىا حرکت کرتے ہىں۔ نہاىت ذلىل اور کمىنى حرکت کرتے ہىں اور پھر صرف زبانى ہى نہىں بتاتے لوگوں کو بلکہ وٹس اىپ پر اور دوسرے مىڈىا پر جو آج کل مىسجز کے ذرىعہ سے، ٹوىٹر کے ذرىعہ سے اس بات کو پھىلاتے چلے جاتے ہىں۔ ىہ ىقىناً سب سے بڑے خائن ہىں اور اللہ تعالىٰ نے اس سے منع فرماىا ہے۔ اور اگر علىحدگىاں بھى ہو جاتى ہىں تو تب بھى کسى کو ىہ حق نہىں ہے کہ اىک دوسرے کا راز باہر نکالے۔ ىہ بہت بڑى خىانت ہے اور ىہ اللہ تعالىٰ کى پکڑمىں آنے والى بات ہے ۔ اللہ تعالىٰ اس بارے مىں ضرور پوچھے گا۔
پس اىسے لوگوں کو اپنى فکر کرنى چاہىے۔ حضرت مسىح موعود علىہ الصلوٰة والسلام اىک جگہ عہد کى پابندى کے بارے مىں فرماتے ہىں کہ ‘‘کىا ہى خوش قسمت وہ لوگ ہىں جو اپنے دلوں کو صاف کرتے ہىں اور اپنے دلوں کو ہر اىک آلودگى سے پاک کر لىتے ہىں اور اپنے خدا سے وفادارى کا عہد باندھتے ہىں کىونکہ وہ ہرگز ضائع نہىں کىے جائىں گے۔ ممکن نہىں کہ خدا ان کو رسوا کرے کىونکہ وہ خدا کے ہىں اور خدا ان کا۔ وہ ہر اىک بلا کے وقت بچائے جائىں گے۔’’

(کشتى نوح، روحانى خزائن جلد 19 صفحہ 19-20)

پس اگر خدا تعالىٰ سے خالص تعلق جڑے گا تو پھر اللہ تعالىٰ کے احکامات کى بھى پابندى ہو گى اور گھرىلو عہدوں سے لے کر باہر کے معاشرے کے عہدوں تک ىہ پابندىاں ہوں گى اور دوسرے تعلقات کو نبھانے مىں بھى ىہ پابندىاں ہوں گى۔ کاروبارى معاہدوں اور عہدوں مىں بھى ىہ پابندىاں ہوں گى۔ ہر قسم کے عہدوں کى خدا تعالىٰ کى رضا کو سامنے رکھتے ہوئے پابندى سے ہر قسم کے نقصان سے پھر اىسے لوگ بچنے والے ہوں گے کہ خدا تعالىٰ کے حکم کى وجہ سے ہم عہدوں کى پابندى کر رہے ہىں اور ىہى اىک حقىقى احمدى کا طرىق اور حقىقى مسلمان کا طرىق ہونا چاہىے۔
پھر عاجزى اىک بہت بڑا خلق ہے اس کے بارے مىں اللہ تعالىٰ فرماتا ہے کہ

وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِيْنَ يَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا (الفرقان:64)

اور رحمان کے سچے بندے وہ ہوتے ہىں جو زمىن پر آرام سے چلتے ہىں اور جب جاہل لوگ ان سے مخاطب ہوتے ہىں تو وہ لڑتے نہىں کہتے ہىں کہ ہم تو تمہارے لىے سلامتى کى دعا کرتے ہىں اىک طرف ہو جاتے ہىں،فضول باتىں نہىں کرتے۔ اس بارے مىں آنحضرت صلى اللہ علىہ واٰلہ وسلم کا اپنا اسوہ کىا تھا؟ حضرت عمرؓ بىان کرتے ہىں کہ مىں نے آنحضرت صلى اللہ علىہ وسلم کو ىہ کہتے ہوئے سنا کہ مىرى بہت زىادہ تعرىف نہ کرو جس طرح عىسائى ابن مرىمؑ کى کرتے ہىں۔ مىں صرف اللہ کا بندہ ہوں۔ پس تم مجھے صرف اللہ کا بندہ اور رسول ہى کہو۔

(صحیح البخاری کتاب احادیث الانبیاء باب قول اللہ واذکر فی الکتاب مریم …… حدیث 3445)

حضرت مسىح موعود علىہ السلام نے اىک موقع پر فرماىا کہ
‘‘ہمارے نبى کرىم صلى اللہ علىہ وسلم سے بڑھ کر دنىا مىں کسى کامل انسان کا نمونہ موجود نہىں اور نہ آئندہ قىامت تک ہو سکتا ہے۔ پھر دىکھو کہ اقتدارى معجزات کے ملنے پر بھى حضورؐ کے شامل حال ہمىشہ عبودىت ہى رہى اور بار بار اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ (الکہف:111) ہى فرماتے رہے۔ ىہاں تک کہ کلمہ توحىد مىں اپنى عبودىت کے اقرار کا اىک جزوِ لازم قرار دىا۔جس کے بدوں مسلمان مسلمان ہى نہىں ہو سکتا۔ سوچو! اور پھر سوچو!! پس جس حال مىں ہادىٔ اکمل کى طرز زندگى ہم کو ىہ سبق دے رہى ہے کہ اعلىٰ ترىن مقام قرب پر بھى پہنچ کر عبودىت کے اعتراف کو ہاتھ سے نہىں دىا تو اور کسى کا تو اىسا خىال کرنا اور اىسى باتوں کا دل مىں لانا ہى فضول اور عبث ہے۔’’

(ملفوظات جلد 1 صفحہ 117-118)

آپ صلى اللہ علىہ وسلم نے اىک موقع پر فرماىا کہ تم لوگ اپنے جھگڑے لے کر مىرے پاس آتے ہو اور مىں بھى اىک بشر ہوں اور ہو سکتا ہے تم مىں سے اىک اپنى دلىل پىش کرنے مىں دوسرے سے زىادہ تىز ہو اور مىں جو سنوں اس کے مطابق اس کے حق مىں فىصلہ کر دوں جو زىادہ باتىں کرنے والا ہے، زىادہ دلىلىں پىش کرنے والا ہے۔ پس جس کو مىں اس کے بھائى کے حق مىں سے کچھ دوں، ان دلىلوں کى وجہ سے دے دوں اور اس کا حق نہ ہو، حق اس کے بھائى کا بنتا ہو اور مىں اس کے بھائى کے حق مىں سے اسے کچھ دے دوں تو وہ اس کو نہ لے۔ اىماندارى کا تقاضا ىہى ہے کہ باوجود فىصلے کے نہ لےکىونکہ اىسى صورت مىں مىں اس کو آگ کا اىک ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں گا۔

(صحیح البخاری کتاب الشہادات باب من اقام البینۃ بعد الیمین حدیث 2680)

اپنے حق مىں فىصلہ تو کرا لو گے لىکن وہ آگ کا ٹکڑا ہو گا بہتر ىہى ہے کہ اس آگ کے ٹکرے سے بچو ،جہنم کى آگ سے بچو اور صاف صاف کہہ دو کہ نہىں مىرا حق نہىں۔ حق کسى کا بنتا ہے۔
پس جو لوگ غلط فىصلے کروانے کى کوشش کرتے ہىں ان کے لىے بڑا خوف کا مقام ہے۔ گھرىلو زندگى مىں بھى آپؐ کى عاجزى اور گھر والوں کى مدد کا ىہ حال تھا کہ حضرت عائشہ رضى اللہ تعالىٰ عنہا فرماتى ہىں کہ رسول کرىم صلى اللہ علىہ وسلم اپنے گھر اپنے اہل خانہ کے ساتھ گھرىلو کام مىں مدد فرماتے تھے۔ آپؐ کپڑے خود دھو لىتے تھے،گھر مىں جھاڑو بھى دے لىا کرتے تھے۔ خود اونٹ کو باندھتے تھے، پانى لانے والے جانوروں کو خود چارہ ڈالتے تھے، بکرى خود دوہتے تھے، اپنے ذاتى کام بھى خود کر لىتے تھے۔ خادم سے کوئى کام لىتے تو اس مىں اس کا ہاتھ بھى بٹاتے تھے حتٰى کہ اس کے ساتھ مل کر آٹا بھى گوندھ لىتے تھے۔ بازار سے اپنا سامان خود اٹھا کر لاتے۔

(الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ صفحہ 176 حدیث 271، 272، 273 باب الثانی فصل فی تواضعہﷺ مطبوعہ جائزۃ دبی الدولیۃ للقرآن الکریم 2013ء) (وسائل الوصول إلى شمائل الرسولﷺ جلد 1 صفحہ 241۔ دار المنہاج جدہ 1425ھ۔ از الشاملہ)

آج کل گھروں مىں بعض مرد بڑا تکبر دکھاتے ہىں۔ کپڑے وقت پر نہ دھلىں تو گھر مىں فساد کھڑا ہو جاتا ہے حالانکہ اب تو ہاتھ سے نہىں دھوتے، واشنگ مشىن گھر مىں موجود ہے، خود بھى وہ واشنگ مشىن مىں کپڑے ڈال سکتے ہىں لىکن پھر بھى اتنى بھى تکلىف نہىں کرنى۔ جھاڑو تو پھىرنا اب رہا نہىں ہر جگہ hoover ہىں، آرام سے hooverپھىرا جا سکتا ہے لىکن وہاں بھى نخرے ہوتے ہىں اور اس وجہ سے گھروں مىں فساد ہو رہا ہوتا ہے۔ پس احمدى ہو کر ہمىں اپنے نمونے دکھانے چاہئىں۔
پھر آنحضرت صلى اللہ علىہ وسلم کى باہر کى زندگى دىکھىں تو اس مىں بھى آپؐ کے اعلىٰ نمونے اىک مثال ہىں۔ ان کا ذکر کرتے ہوئے حضرت اقدس مسىح موعود علىہ السلام بىان فرماتے ہىں کہ ‘‘متکبر خدا تعالىٰ کے تخت پر بىٹھنا چاہتا ہے۔ پس اس قبىح خصلت سے ہمىشہ پناہ مانگو۔ خدا تعالىٰ کے تمام وعدے بھى خواہ تمہارے ساتھ ہوں مگر تم جب بھى فروتنى کرو ۔کىونکہ فروتنى کرنے والا ہى خدا تعالىٰ کا محبوب ہوتا ہے۔ دىکھو ہمارے نبى کرىم صلى اللہ علىہ وسلم کى کامىابىاں اگرچہ اىسى تھىں کہ تمام انبىائے سابقىن مىں اس کى نظىر نہىں ملتى مگر آپؐ کو خدا تعالىٰ نے جىسى جىسى کامىابىاں عطا کىں آپ اتنى ہى فروتنى اختىار کرتے گئے۔
اىک دفعہ کا ذکر ہے کہ اىک شخص آپؐ کے حضور پکڑ کر لاىا گىا۔ آپؐ نے دىکھا تو وہ بہت کانپتا تھا اور خوف کھاتا تھا مگر جب وہ قرىب آىا تو آپ نے نہاىت نرمى اور لطف سے درىافت فرماىا کہ تم اىسے ڈرتے کىوں ہو؟ آخر مىں بھى تمہارى طرح اىک انسان ہى ہوں اور اىک بڑھىا کا فرزند ہوں۔’’

(ملفوظات جلد 10 صفحہ 258)

پھر اىک موقع پر آنحضرت صلى اللہ علىہ وسلم کى عاجزى اور انکسارى کا ذکر فرماتے ہوئے حضرت اقدس مسىح موعود علىہ السلام فرماتے ہىں:
‘‘خالى شىخىوں سے اور بے جا تکبّر اور بڑائى سے پرہىز کرنا چاہىے اور انکسارى اور تواضع اختىار کرنى چاہىے۔ دىکھو آنحضرت صلى اللہ علىہ وسلم جو کہ حقىقتاً سب سے بڑے اور مستحق بزرگى تھے ان کے انکسار اور تواضع کا اىک نمونہ قرآن شرىف مىں موجود ہے۔ لکھا ہے کہ اىک اندھا آنحضرت صلى اللہ علىہ وسلم کى خدمت مىں آ کر قرآن شرىف پڑھا کرتا تھا۔ اىک دن آپؐ کے پاس عمائدِ مکہ اور رؤسائے شہر جمع تھے اور آپؐ ان سے گفتگو مىں مشغول تھے ۔ باتوں مىں مصروفىت کى وجہ سے کچھ دىر ہو جانے سے وہ نابىنا اُٹھ کر چلا گىا۔ ىہ اىک معمولى بات تھى۔ اللہ تعالىٰ نے اس کے متعلق سورت نازل فرما دى۔ اس پر آنحضرت صلى اللہ علىہ وسلم اس کے گھر مىں گئے اور اسے ساتھ لا کر اپنى چادر مبارک بچھا کر بٹھاىا۔’’
آپؑ فرماتے ہىں کہ۔ ’’اصل بات ىہ ہے کہ جن لوگوں کے دلوں مىں عظمت الٰہى ہوتى ہے ان کو لازماً خاکسار اور متواضع بننا ہى پڑتا ہے کىونکہ وہ خدا تعالىٰ کى بے نىازى سے ہمىشہ ترساں و لرزاں رہتے ہىں۔
‘‘آنانکہ عارف تر اند ترساں تر’’
کہ وہ لوگ جو زىادہ جانتے ہىں زىادہ ڈرتے ہىں ‘‘کىونکہ جس طرح اللہ تعالىٰ نکتہ نواز ہے اسى طرح نکتہ گىر بھى ہے۔ اگر کسى حرکت سے ناراض ہو جاوے تو دم بھر مىں سب کارخانہ ختم ہے۔ پس چاہىے کہ ان باتوں پر غورکرواور ان کو ىاد رکھو اور عمل کرو۔’’

(ملفوظات جلد 10 صفحہ 343-344)

آنحضرت ﷺ نےتو ہمىں جو نصىحت فرمائى وہ ىقىناً ہمىشہ ہمارے لىے عمل کے لىے ہے اور جو نصىحتىں ہىں آپؐ کى وہ ىقىناً ہمىں فکر مىں ڈالنے والى ہونى چاہئىں۔ آپ صلى اللہ علىہ وسلم نے اىک جگہ فرماىا۔ تم مىں سے کوئى بھى اپنے اعمال کى وجہ سے نجات نہىں پائے گا۔ صحابہؓ نے عرض کىا ىا رسول اللہ صلى اللہ علىہ واٰلہ وسلم! آپؐ بھى؟ آپ صلى اللہ علىہ وسلم نے فرماىا ہاں مىں بھى اپنے اعمال کى وجہ سے نجات نہىں پاؤں گا لىکن اللہ تعالىٰ مجھے اپنى رحمت کے سائے مىں لے لے گا۔ پھر آپؐ نے فرماىا پس تم سىدھے رہو اور شرىعت کے قرىب رہو اور صبح اور شام اور رات کے اوقات مىں عبادت کرو اور مىانہ روى اختىار کرو۔ تم اپنى مراد کو پہنچ جاؤ گے۔ عبادت کرو اور درمىان کا رستہ اختىار کرو۔

(مسند احمد بن حنبل جلد 3 صفحہ 753 حدیث 10688 مسند ابو ھریرہ مطبوعہ عالم الکتب بیروت 1998ء)

مىانہ روى ہر معاملے مىں ضرورى ہے۔ دنىا دارى مىں نہ پڑ جاؤ۔ اللہ تعالىٰ نے دنىا دارى کا جائز اختىار دىا ہے لىکن مىانہ روى ہونى چاہىے۔ خدا نہ بھول جائے۔ جہاں اللہ تعالىٰ کى عبادت کے حق ادا کرنے ہىں وہاں اس کى طرف توجہ کرو۔ جو کاروبار ہے اس کى طرف توجہ کرو اور اس کے جو حق ہىں وہ ادا کرنے کى کوشش کرو لىکن دنىا دارى خدا تعالىٰ کے حق کے مقابلے پہ نہىں ہونى چاہىے۔ دىن دنىا پر ہمىشہ مقدم ہونا چاہىے۔ جب ىہ ہو گا تو آپؐ نے فرماىا تم اپنى مراد کو پہنچ جاؤ گے۔ اللہ تعالىٰ کا رحم تمہىں مل جائے گا، فضل مل جائے گا۔ پس جہاں اس بات سے آپ صلى اللہ علىہ وسلم کى عاجزى کا اظہار ہوتا ہے وہاں اللہ تعالىٰ کى خشىت اور خوف کا بھى اظہار ہو رہا ہے اور فرماىا کہ جب مىرا ىہ حال ہے تو تم لوگوں کو کس قدر خدا تعالىٰ کو راضى کرنے اور اس کا رحم مانگنے کى فکر کرنى چاہىے۔ ىہ اللہ تعالىٰ کا رحم اور فضل ہى ہے جو اللہ تعالىٰ کے انعاموں کا وارث بناتا ہے اور ہمىں ىہ نہىں پتہ کہ کس ذرىعہ سے قبول کىے جائىں گے اس لىے اس رحم اور فضل کو حاصل کرنے کے لىے اپنى عبادتوں اور اعلىٰ اخلاق کى طرف ہمىں توجہ کرنى چاہىے۔
ظاہرى حالت بھى اور انسان کے چہرے کے تاثرات بھى اس کے اخلاق کى عکاسى کرتے ہىں اس بارے مىں صحابہ آپ صلى اللہ علىہ وسلم کے بارے مىں کس طرح بىان کرتے ہىں۔ حضرت براء بن عازبؓ بىان کرتے ہىں کہ رسول اللہ صلى اللہ علىہ وسلم لوگوں مىں سب سے زىادہ خوبصورت اور خوش اخلاق تھے۔

(صحیح البخاری کتاب المناقب باب صفۃ النبی حدیث 3549)

لوگ خوش شکل ہوں تو تکبّر پىدا ہو جاتا ہے۔ آپؐ ىہ دعا کىا کرتے تھے کہ اے خدا! جس طرح تو نے مجھے خوش شکل بناىا ہے اسى طرح خوب سىرت بھى بنا دے۔

(مسند احمد بن حنبل جلد 8 صفحہ 288 حدىث 25736 مسند عائشہ مطبوعہ عالم الکتب بىروت 1998ء)

ىہ زندگى کے چند پہلو ہىں جو مىں نے ابھى بىان کىے ہىں جن سے آپؐ کى سىرت کى خوبصورتى روشن ہو کر نظر آتى ہے لىکن عاجزى ىہ ہے کہ خدا تعالىٰ سے دعا کر رہے ہىں کہ مىرى سىرت مىرے اخلاق مىرے عبادت کے معىار ہمىشہ اىسے ہوں جو تجھے اور تىرى مخلوق کو پسند ہوں۔
پھر اىک اور صحابى گواہى دىتے ہىں کہ مىں نے آنحضرت صلى اللہ علىہ وسلم سے زىادہ کسى کا چہرہ متبسم نہىں دىکھا اور مسکرانے والا نہىں دىکھا۔

(سنن الترمذی ابواب المناقب باب ما رایت احدا اکثر تبسما حدیث 3641)

اُم معبد آنحضرت صلى اللہ علىہ وسلم کى شخصىت کے بارے مىں ىوں بىان کرتى ہىں کہ آپ صلى اللہ علىہ وسلم دور سے دىکھنے مىں لوگوں مىں سب سے زىادہ خوبصورت تھے اور قرىب سے دىکھنے مىں انتہائى شىرىں زبان اور عمدہ اخلاق والے تھے۔

(مستدرک علی الصحیحین للحاکم جلد 3 صفحہ 10-11 کتاب الھجرۃ حدیث 4274 دار الکتب العلمیۃ بیروت 2002ء)

حضرت علىؓ بىان فرماتے ہىں کہ آپؐ لوگوں مىں سب سے زىادہ فراخ سىنہ تھے اور گفتگو مىں لوگوں مىں سب سے زىادہ سچے تھے اور ان مىں سب سے زىادہ خوبصورت تھے اور معاشرت و حسن معاملگى مىں سب سے زىادہ معزز تھے اور محترم تھے۔

(سنن الترمذی ابواب المناقب باب وصف آخر من علی حدیث 3638)

آپؐ کے اسوۂ حسنہ کى بے شمار مثالىں اور اخلاق کے بے شمار مثالىں ہىں۔ آپؐ کے اخلاق کے کسى پہلو کو بھى لے لو وہ آپؐ مىں کامل اور مکمل نظر آتا ہے اور ىہى اسوہ ہے جسے اپنانے کے لىے اللہ تعالىٰ نے ہمىں حکم دىا ہے۔ پس اگر ہم نے دنىا کو اسلام اور آنحضرت صلى اللہ علىہ وسلم کا حقىقى چہرہ دکھلانا ہے تو آپؐ کے اُسوے کے ہر پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے عمل اور قول سے وہ چہرہ دکھانا ہو گا تبھى ہم حضرت مسىح موعود علىہ الصلوٰة والسلام کى بىعت مىں آنے کا بھى حق ادا کر سکىں گے جن کو اللہ تعالىٰ نے آنحضرت صلى اللہ علىہ وسلم کے دىن کى اشاعت کے لىے اس زمانے مىں بھىجا ہے۔
حضرت مسىح موعود علىہ الصلوٰة والسلام اىک جگہ آنحضرت صلى اللہ علىہ وسلم کا اخلاق کا ذکرکرتے ہوئے فرماتے ہىں کہ ‘‘ہاں جو اخلاق فاضلہ حضرت خاتم الانبىاء صلى اللہ علىہ وسلم کا قرآن شرىف مىں ذکر ہے وہ حضرت موسىٰ سے ہزارہا درجہ بڑھ کر ہے۔ کىونکہ اللہ تعالىٰ نے فرما دىا ہے کہ حضرت خاتم الانبىاء صلى اللہ علىہ وسلم تمام ان اخلاق فاضلہ کا جامع ہے جو نبىوں مىں متفرق طور پر پائے جاتے تھے اور نىز آنحضرت صلى اللہ علىہ وسلم کے حق مىں فرماىا ہے اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ۔ (القلم:5) توخُلق عظىم پر ہے اور عظىم کے لفظ کے ساتھ جس چىز کى تعرىف کى جائے وہ عرب کے محاورہ مىں اس چىز کے انتہائے کمال کى طرف اشارہ ہوتا ہے۔ مثلاً اگر ىہ کہا جائے کہ ىہ درخت عظىم ہے تو اس سے ىہ مطلب ہو گا کہ جہاں تک درختوں کے لىے طول و عرض اور تناورى ممکن ہے وہ سب اس درخت مىں حاصل ہے۔ اىسا ہى اس آىت کا مفہوم ہے کہ جہاں تک اخلاق فاضلہ و شمائل حسنہ نفس انسانى کو حاصل ہوسکتے ہىں وہ تمام اخلاق کاملہ تامّہنفس محمدؐى مىں موجود ہىں۔ سو ىہ تعرىف اىسى اعلىٰ درجہ کى ہے جس سے بڑھ کر ممکن نہىں۔’’

(براہىن احمدىہ حصہ چہارم، روحانى خزائن جلد 1 صفحہ 606 حاشىہ در حاشىہ نمبر 3)

پھر آپؑ فرماتے ہىں ‘‘وہ انسان جس نے اپنى ذات سے اپنى صفات سے اپنے افعال سے اپنے اعمال سے اور اپنے روحانى اور پاک قوىٰ کے پُرزور درىا سے کمال تام کا نمونہ علماً و عملاً و صدقاً و ثباتاً دکھلاىا اور انسان کامل کہلاىا …… وہ انسان جو سب سے زىادہ کامل اور انسان کامل تھا اور کامل نبى تھا اور کامل برکتوں کے ساتھ آىا جس سے روحانى بعث اور حشر کى وجہ سے دنىا کى پہلى قىامت ظاہر ہوئى اور اىک عالم کا عالم مرا ہوا اس کے آنے سے زندہ ہو گىا وہ مبارک نبى حضرت خاتم الانبىاء امام الاصفىاء ختم المرسلىن فخر النبىّىن جناب محمد مصطفىٰ صلى اللہ علىہ وسلم ہىں۔ اے پىارے خدا! اس پىارے نبى پر وہ رحمت اور درود بھىج جو ابتداء دنىا سے تو نے کسى پر نہ بھىجا ہو۔ اگر ىہ عظىم الشان نبى دنىا مىں نہ آتا تو پھر جس قدر چھوٹے چھوٹے نبى دنىا مىں آئے جىساکہ ىونس اور اىوب اور مسىح بن مرىم اور ملاکى اور ىحىٰ اور زکرىا وغىرہ وغىرہ ان کى سچائى پر ہمارے پاس کوئى بھى دلىل نہىں تھى اگرچہ سب مقرب اور وجىہ اور خدا تعالىٰ کے پىارے تھے۔ ىہ اُسى نبى کا احسان ہے کہ ىہ لوگ بھى دنىا مىں سچے سمجھے گئے۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِکْ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِىیْنَ وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِىْنَ۔

(اتمام الحجۃ، روحانى خزائن جلد 8 صفحہ 308)

اللہ تعالىٰ ہمىں توفىق دے کہ اس کامل نبى کى امت مىں آنے کا حق ادا کرنے والے ہوں اور اس خوبصورت اور روشن چہرے کو دنىا کے سامنے پىش کر کے دنىا کے اندھىروں کو دور کرنے والے بنىں۔ اللہ تعالىٰ ہمىں اس کى توفىق عطا فرمائے۔ آمىن۔ اب دعا کر لىں۔

(الفضل انٹرنیشنل 13۔اگست 2019ء)

image_printپرنٹ کریں