skip to Main Content
راجہ برھان احمد۔ برطانیہ: حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی مصروفیات برموقع جلسہ سالانہ برطانیہ 2018

مکرم عابد وحید خان صاحب انچارج پریس اینڈ میڈیا  آفس ،سال 2012ء سے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے مختلف ممالک کے  دورہ جات کی  ذاتی  ڈائری لکھ رہے ہیں۔سال 2016سے حضورکی برطانیہ میں مصروفیات اور خاص کر جلسہ سالانہ کے دنوں کی  ڈائری بھی  منظر عام پر آئی  ۔یہ ڈائریاں درج ذیل لنک سے انگریزی زبان میں پڑھی جاسکتی ہیں ۔

گلدستہ ء علم و ادب کے قارئین کے لئے جلسہ سالانہ 2018ء کی  ڈائری کے حصہ اول سے کچھ حصوں کا ترجمہ پیش ہے ۔

 حضورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے جامعہ احمدیہ برطانیہ آمد کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔

حضور جامعہ میں داخل ہوئے تو وہاں موجودجلسہ سالانہ کے لئے آئے ہوئے  عرب اور افریقن احمدیوں نے نہایت محبت کے ساتھ آپ کا استقبال کیا ۔حضور جامعہ احمدیہ کے ہال کے پاس سے گزرے تو وہاں ڈیوٹی والوں نے حضور سے ملنے کے لئے قطار بنائی ہوئی تھی ۔جامعہ کے کچھ طلبہ نہایت  سنجیدگی سے کھڑے تھے انہیں دیکھ کر حضور  مسکرائے اور فرمایا۔

’’پہلے ہی پریشان ہو ڈیوٹی کیا دینی ہے ؟‘‘

اکثر حضور  چند الفاظ ہی ارشاد فرماتے ہیں جن میں گہرے مطالب اور حکمت ہوتی ہے ۔ یہاں حضور  اس طرف اشارہ فرمارہے تھے کہ ڈیوٹی پر معمور ہمیشہ خوش خلقی بر قرار رکھیں اور یہ ان کی ڈیوٹی کا اہم حصہ ہے اور اسی بات کی طرف حضور نے بعد ازاں حدیقۃ المہدی میں اپنے خطاب میں بھی توجہ دلائی ۔

حضور  نے انٹرنیشل جامعہ احمدیہ غانا سے جلسہ کیلئے آئے تین طلبہ کو دیکھا تو نہایت محبت سے ان کے نام پوچھے اور یہ بھی استفسار فرمایا کہ ان کا تعلق افریقہ کے کس علاقے  سے ہے  ؟ طلبہ نے اردو میں جواب عرض کیا ، حضور نے  محبت کے ساتھ فرمایا :’’چلو اردو تو آگئی کم از کم ‘‘

ہمیشہ کوئی حکمت

پھر مکرم عابد وحید خاں لکھتے ہیں۔

احمدی دنیا بھر سے آرہے تھے اورہر  روز فیملی  ملاقاتوں  کی  تعداد بڑھ رہی تھی،مزید یہ کہ حضور نے جلسہ سالانہ کے اپنے خطابات کی تیاری بھی کرنی ہوتی تھی ۔خاکسار کی ملاقات کا وقت کم ہوتا جا رہا تھا ۔عام دنوں میں خاکسار ایک درجن کے قریب خبریں حضور  کی خدمت میں پیش کرتا ہے، مگر جیسے جیسے جلسہ کے دن قریب آرہے تھے میں صرف تین یا چار خبریں پیش کرتا ۔ باوجود اس کے کہ حضور نہایت مصروف تھے ،ایک شام مجھے نہایت تعجب ہوا ،جب حضور  نے ایک خبر میں خاص دلچسپی لی،جس  میں امریکہ کے صدر نے ایک چھوٹے سے Balkanملک Montenegroکو ’’بہت جارحانہ ‘‘ کہا تھا ۔

یہ پوچھنے کے بعد کہ صدر نے معین کیا کہا ہے ،حضور نے Montenegroکے بارے میں سوالات پوچھنا شروع فرمائے ۔آپ نے دریافت فرمایا۔ کیا اس ملک میں مذہبی آزادی  ہے ؟کیا آبادی مختلف قوموں سے تعلق رکھتی ہے ؟ گو میں Montenegroکے بارے میں کچھ پڑھ چکا تھا مگر وہ کافی نہیں تھا  چنانچہ میں نے اپنا موبائل فون نکا لا اور فوراً کچھ معلومات حاصل کرنے لگا۔اسی وقت حضور  نے اپنے iPadپر سرچ کی اور دس منٹ تک حضور  انور نے ملک کی آبادی ، جغرافیہ ،مذہب اور  لوگوں کے عمومی طرز عمل کے بارے میں پڑھا ۔بنیادی تحقیق سے معلوم ہوا کہ دیگر سابقہ یوگوسلاویہ کی ریاستوں کے مقابل میں Montenegroمیں زیادہ مذہبی  آزادی ہے جیسے جیسے حضورسرچ فرمارہے تھے۔ میں مزید حیران ہورہا تھا کہ حضور اتنی دلچسپی لے رہے ہیں گو مجھے اندازہ کرلینا چاہئے تھا کہ حضورکبھی بھی کوئی کام بغیر حکمت کے نہیں فرماتے ۔چنانچہ اپنی تحقیق مکمل کرنے اور iPadایک طرف رکھنے کے بعدحضور  نے فرمایا:

’’میرا خیال ہے کہ Montenegroمیں ہمارے لئے تبلیغ کی بہت گنجائش ہے ۔ بلکہ لازماً ہمیں وہاں تبلیغ حکمت کے ساتھ کرنی چاہئے ۔ہمیں مقامی لوگوں سے رابطہ کرنا چاہئے اور اس سر زمین پر اپنے نمائندے بھیجنے چاہئے تاکہ وہ لوگوں کو بتائیں کہ حقیقی اسلام کیا ہے ؟یہ وقت ہے کہ ہم اس ملک میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام پہنچائیں ۔‘‘

چنانچہ ابتداء سے ہی حضورکی اس ملک کے بارے میں جاننے کی خواہش اس لئے تھی کہ آپ چاہتے تھے کہ یہ معلوم کریں کہ اس ملک میں تبلیغ اور اسلام کے پیغام کو کیسے بڑھایا جائے

چند قیمتی لمحات

اگلے دن جب میں ملاقات کے لئے حاضر ہوا ،حضورجماعتی دفتری ڈاک ملاحظہ فرمارہے تھے ۔خاکسار خاموش رہا یہاں تک کہ  حضورنے خود خاکسار کی  بائیں کلائی کی طرف دیکھا اور حضور نے مسکراتے ہوئے فرمایا۔’’کیا تمہاری گھڑی  اب بھی ٹھیک کام کررہی ہے ؟‘‘

میں نے عرض کی یہ بالکل  ٹھیک  کام کررہی ہے لیکن  ’’تاریخ ‘‘ کبھی کبھی  ایک  دن پیچھے رہ  جاتی ہے ۔یہ  سن کر حضورنے فرمایا:

’’یہ روایتی گھڑیاں آجکل کی  جدید ڈیجیٹل گھڑیوں سے مختلف ہیں اور انہیں اندازہ نہیں ہوتا کہ کون سا ماہ 31سے کم دنوں کا ہے چنانچہ ان میں 31 دن ہوتے ہیں اورانہیں  خود درست کرنا پڑتا ہے ۔‘‘

بظاہر اس ڈیجیٹل دور میں بڑا ہونے کے باوجود میرے ذہن میں کبھی  یہ خیال نہیں آیا تھا کہ  خود تاریخ  تبدیل کرنا ہوگی بلکہ میں تو اسے گھڑی  کی خرابی سمجھتا تھا ۔اس وقت حضور نے مجھے گھڑی اُتار کر دینے کا فرمایا ۔

حضور نے نہایت مشفقانہ انداز میں تاریخ خود درست فرمائی اور نصیحت  فرمائی کہ آئندہ جب کبھی بھی تاریخ تبدیل  کرنا ہو تو صبح کے بجائے شام کے وقت کرنا ۔ایسا  لگا کہ  گویا حضورمیز پر پڑی فائلوں کو ملاحظہ فرمانے سے پہلے  کچھ لمحات  آرام کرنا چاہتے تھے ۔چنانچہ میری گھڑی کی  تاریخ  درست فرمانے کے بعد حضورنے مجھ سے پوچھا  کہ کیا   تمہیں  علم ہے کہ کس ماہ میں کتنے دن ہوتے ہیں ؟میں نے عرض کی کہ ہم نے سکول میں ایک نظم یاد کی تھی جو مجھے یاد تو نہیں لیکن مجھے علم ہے کہ ہر ماہ میں کتنے دن ہوتے ہیں ۔

حضور مسکرائے اور فرمایا:’’چھوٹے ہوتے ہوئے پاکستان میں ہمیں اس طرح سکھایا گیا تھا کہ اپنی انگلیوں کے پوروں اور ان کے درمیان نالی کو استعمال کرو۔ہر ماہ جو پورے پر آئے اس کے دن 31اور ہر وہ ماہ جو پوروں کے درمیان نالی  میں آئے اس کے دن 30یا فروری کی صورت میں 28دن ‘‘

حضورنے عملی طور پر کرکے دکھایاکہ حضور کی اس سے کیا مراد ہے اور کون سے مہینے 31 دن لمبے اور کون سے کم کے ہیں ۔

حضور نے فرمایا:’’پاکستان میں اکثر یاد کرنے والی ایسی باتوں کو جن میں تبدیلی نہ ہو اس طرح کے طریقوں سے پڑھایا جاتا ہے ۔‘‘

پھر حضور نے مجھ سے پوچھا کہ مجھے قوس قزح  کے رنگوں کا علم ہے ۔مجھے اچھی طرح علم تھا  اس لئے میں ایک ایک کرکے اس طرح بولنے لگا۔

Red, Yellow, Green, Blue  Orange…

مزید  رنگوں کو یاد کرنے کی کوشش کررہاتھا  ۔حضور نے فرمایا:’’ VIBGYOR‘‘

مجھے بالکل سمجھ نہیں آیا اس لئے میں نے صرف یہ عرض کی ’’جی حضور ؟‘‘

حضورنے یہ کہتے ہوئے وضاحت فرمائی:

VIBGYOR-Violet, Indigo, Blue, Green, Yellow, Orange and Red!” “

میں ہنس پڑا اور حضور بھی مسکرائے ۔

ایک غلط email

جلسہ سالانہ کے آغاز سے ایک  دن پہلے خاکسار نے حضور کی خدمت میں ایک  عجیب واقعہ کا ذکر کیا ۔ایک ماہ سے ہم مختلف صحافیوں  سے رابطہ کررہے تھے تاکہ انہیں جلسہ سالانہ پر بلائیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ آسان نہیں تھا ۔ ہمیں کئی صحافیوں  نے بتایا کہ سکول کی چھٹیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ اپنی فیملیز کے ساتھ جلسہ  کے دنوں میں باہر جارہے ہیں ۔چند ایک نے دلچسپی  کا اظہار بھی کیا لیکن جنہوں نے آنے کی یقین دہانی  کروائی ان کی تعداد ہماری  امید سے کم تھی ۔ بہرحال ہم فون کال کرتے رہے ،پریس ریلیز اور  emailsبھیجتے رہے ۔ہم نے کچھ ایسے صحافیوں  کو  بھی دعوت دی جن کے بارے میں ہمارا  خیال  تھا  کہ وہReview of Religionsکی جانب سے لگائی جانے والی  Turin Shroud کی  نمائش میں دلچسپی لیں گے ۔اس بارے میں ایک  صحافی نے جو ایک  معتبر ملکی اخبار کے لئے کام کرتا ہے ،ہمارے آفس میں کام کرنے والے ایک مبلغ کو جوابا ً email لکھی ۔اس  نے نہایت غیر سنجیدگی سے جلسہ سالانہ میں شامل ہونے والوں کا ذکر کیا اور Turin Shroud کے علماء کے کام کا بھی مذاق اُڑایا ۔ ہمیں فوراً ہی اندازہ ہو  گیا کہ یہ email صحافی اپنے ایڈیٹر کو بھیجنا چاہتا تھا مگر غلطی سے ہمیں بھیج دی ۔میں نے مبلغ کو کہا کہ بغیر کسی  ناراضگی کے اظہار کے اسے بتادیں کہ لگتا ہے کہ اس نے غلطی  سے ہمیں emailکردی ہے ۔ اپنی غلطی کا احساس ہوتے ہی صحافی نے فوراً معذرت کے لئے کال کی ۔اب خدا بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی معذرت میں سنجیدہ تھا یا اُسے زیادہ فکر اس بات کی تھی کہ ہم اس کی emailکو پھیلا دیں گے،جس میں اس نے مسلمانوں اور تحقیق کرنے والے دونوں کی تحقیر کی تھی ۔بہر حال  ہم نے اُسے تسلی دلائی کہ ہمارا یہ طریق نہیں کہ کسی  کے خلاف بغض رکھیں اور مزید یہ کہ ہماری طرف سے اُسے ابھی بھی دعوت ہے کہ جلسے پر آئے اور خود دیکھے کہ  اسلام کیا ہے ۔اس نے فوراً ہماری دعوت قبول کرلی اور کہا کہ وہ جمعہ کی صبح  آئے گا ۔

جب میں نے حضور کی خدمت میں یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے بہت دلچسپی لی اور فرمایا کہ یہ بالکل  ٹھیک  کیا کہ کسی بھی قسم کے غصہ سے جواب نہیں دینا ۔آپ نے مزید فرمایا:

’’کبھی اللہ بظاہر بالکل ناممکن یا غیر یقینی حالات سے مواقع پیدا فرماتا ہے اب آپ کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور اس کے دل کو تبدیل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اُسے دکھانا چاہئے کہ اصل اسلام کیا ہے ۔‘‘

یہ حضور کی طرف سے نہایت خوبصورت رہنمائی تھی ۔

لجنہ سیشن بر موقع جلسہ سالانہ

ہفتہ ،4اگست 2018ء کو دن کے درمیانی حصہ میں  حضور کی  لجنہ جلسہ گاہ خطاب کے لئے آمد ہوئی ۔سٹیج پر آمد کے بعد حضور نے فرمایا کہ مردوں کی طرف ائیرکنڈیشن بہتر لگتا ہے اور یہ بات غلط ہے ۔حضور نے فرمایا اس معاملہ میں عورتوں کو فوقیت دینی چاہئے تھی ۔میں اس وقت افسر صاحب جلسہ سالانہ   کے ساتھ MTA پر دیکھ رہا تھا ۔جب حضور نے یہ فرمایا تو میں نے دیکھا کہ افسر صاحب جلسہ سالانہ کے چہرے پر فوری طور پر  تشویش نمایاں ہوئی ،انہوں نے فوراً اپنے ساتھیوں سے بات کی جنہوں نے فوری طور پر لجنہ کی طرف ائیرکنڈیشنگ بہتر بنانے کا انتظام شروع کیا ۔

حضور کا ارشاد اس بات کو ظاہر کررہا تھا کہ جلسہ پر  جب بھی آرام اور آسانی کی بات ہو تو   عورتوں اور بچوں کومردوں پر  فوقیت  دینی چاہئے۔یہ ایسی  بات ہے جو میں پہلے بھی کئی  مواقع پر دیکھ چکا ہوں ،حضور ہمیشہ خاص طور پر عورتوں ،بچوں اور بوڑھوں کے آرام کا خیال رکھتے ہیں ۔

ہمیشہ ڈیوٹی پر

میٹنگز کے بعد،  حضور اپنے آفس سے باہر رہائش گاہ کے سامنےکھڑی کار تک تشریف لائے اور راستے میں تبشیر مارکی کی طرف جانے سے پہلے ،نہایت محبت کے ساتھ اپنے چھوٹے پوتے معاذکی طرف ہاتھ ہلایا ،تبشیر مارکی میں جلسہ سالانہ کے سینکڑوں عالمی مہمانوں کے ساتھ ڈنر تناول فرمایا جس  کے فوراً بعد مغرب اور عشاء کی نمازیں ہوئیں ۔کھانے کے بعد ،جبکہ لوگ نماز کے لئے اکٹھے ہورہے تھے ،حضور جلسہ گاہ کے باہر چند منٹوں کے لئے کھڑے ہوئے اور ناصر خان صاحب افسر جلسہ سالانہ کو بلایا اور لجنہ کی طرف کی ائیر کنڈیشنگ کے بارے میں رپورٹ لی ۔ حضور نے ہدایت فرمائی کے لجنہ کو آلات استعمال کرنے کی ٹرینگ دی جائے ۔حضور نے فرمایا : ’’ایک دفعہ انہیں مشینیں استعمال کرنا آجائیں ،خواتین اور لڑلیاں مردوں سے بہتر انتظام کرلیں گی‘‘

حضور نے صدر مجلس انصار اللہ یوکے ،ڈاکٹر اعجاز الرحمٰن صاحب کو بھی بلایا اور فرمایا کہ کیونکہ آپ افسر معائنہ ہیں اس لئے آپ کی ڈیوٹی ہے کہ جلسہ سالانہ کے تمام شعبہ جات میں باقاعدگی کے ساتھ دن کے مختلف اوقات میں جائیں اور ان کی کمزوریوں کی نشاندہی  کریں تاکہ بہتری پیدا کی  جاسکے ۔

حضور کھڑے تھے، میر محمود احمد ناصر صاحب( جو ربوہ سے آئے ہوئے تھے )چند میٹر کے فاصلے پر کھڑے تھے ۔

حضور نے میرمحمود صاحب کو دیکھا (جوعمر کی  اسی کی دہائی میں ہیں )حضور نے محبت سے فرمایا:  ’’آپ کھڑے نہ ہوں بلکہ مارکی میں جائیں اور کرسی پر بیٹھیں ۔‘‘

میر محمود صاحب نے عرض کی :حضور میں کیسے بیٹھ سکتا ہوں جبکہ آپ کھڑے ہیں ؟

حضور مسکرائے اور فرمایا: ’’میں تو ڈیوٹی پر ہوں اس لئے کھڑا ہوں آپ تو مہمان ہیں ۔‘‘

یہ بہت ہی محبت بھرے الفاظ تھے اور یقیناً پیارے حضور ہمیشہ ڈیوٹی پر ہوتے ہیں ۔آپ کی زندگی کا ہر لمحہ خدمت اسلام اور احباب جماعت کی راہنمائی کے لئے وقف ہے ۔

یہ ایک نہایت ہی پیار بھرا مکالمہ پیارے حضور اور آپ کے بزرگ عزیز کے درمیان تھا جس میں حضور کی میر محمود صاحب کے بارے میں محبت بھی عیاں تھی ۔

image_printپرنٹ کریں