skip to Main Content
سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالٰی بنصرہ العزیز کا دورہ امریکہ:قسط نمبر22

احباب جماعت سے ملاقات اور مجلس خدام الاحمدیہ عاملہ سے میٹنگ اور جائزہ

عبدالماجد طاہر۔لندن

4نومبر2018ء

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے صبح پانچ بج کر چالیس منٹ پر مسجد بیت الرحمان تشریف لا کر نماز فجر پڑھائی۔نماز کی ادائیگی کے بعد حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزاپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔امریکہ میں آج اتوار سے Winter Timeشروع ہوا ہے اور گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے کی گئی ہیں۔

صبح حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے دفتری ڈاک ،خطوط اور رپورٹس ملاحظہ فرمائیں اور ہدایات سے نوازا۔

پروگرام کے مطابق دس بجکر پچاس منٹ پر حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ مسجد کے ہال میں تشریف لائے اور پاکستان سے امریکہ پہنچنے والے احباب اور نوجوانوں کی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزسے ملاقات کا پروگرام شروع ہوا۔ان نو جوانوںکی تعداد 145تھی اور یہ امریکہ کی مختلف جماعتوں سے بڑے لمبے سفر طے کر کے پہنچے تھے۔

آج یہ سب اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ خلیفۃ المسیح کے دیدار سے فیضیاب ہو رہے تھے۔یہ سبھی وہ لوگ تھے جو اپنے ہی ملک میں ظالمانہ قوانین اور اپنے ہی ہم وطنوں کے ظلم وستم سے ستائے ہوئےتھے اور اپنے گھر بار اور عزیز و اقارب کو چھوڑ کر ہجرت کر کے اس ملک میں آبسے تھے۔

حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے باری باری ہر ایک کو شرفِ مصافحہ سے نوازا۔ حضورانور نے بعض سے پوچھا کہ پاکستان سے کہاں سے آئے ہیں۔یہ نوجوان بھی مصافحہ کرتے ہوئے اپنے پیارے آقاسے بات کرنے کی سعادت پاتے۔ہر ایک نے حضور انور کے ساتھ تصویربنوانے کی بھی سعادت پائی۔

یہ سب لوگ آج کتنے ہی خوش نصیب تھے کہ انہوں نے اپنے پیارے آقا کے قرب میں چند ساعتیں گزاریں۔ان کے غم اور فکر کافور ہوئے اور دل تسکین سے بھر گئے اور کبھی نہ ختم ہونے والی دعاؤں کے خزانے پاکر یہاں سے رُخصت ہوئے۔

ملاقات کی سعادت پانے والے یہ احباب اور نوجوان جب مسجد کے ہال سے باہر آئے  تو ان کے دلوں کی عجیب کیفیت تھی۔اکثر کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

ملاقات کرنے والوں کے جوابات

  • دوالمیال پاکستان سے آنے والے ایک نوجوان محمد ناصر اقبال نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں آج بہت خوش ہوں۔اس وقت میرے جسم پر کپکپی طاری ہے۔میں نے حضور کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔مجھے بہت سکون ملا ہے۔میں اپنی حالت بیان نہیں کر سکتا۔
  • گھٹیالیاں،پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان منصور احمد صاحب نے کہا کہ اس وقت میرے دل کی دھڑکن بند ہے۔مجھ سے بات نہیں ہو رہی۔ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔بڑی مشکل سے کہنے لگے کہ آج میری حضور انور سے پہلی ملاقات تھی۔میں نے اپنی زندگی میں پہلی دفعہ حضور انور کو اتنا قریب سے دیکھا ہے۔
  • چوہدری سلیم احمد صاحب جن کا تعلق لاہور سے تھا کہنے لگے کہ ایک خواب تھا جو آج پورا ہوگیا۔میں نے اپنی زندگی میں پہلی دفعہ حضور انور سے ہاتھ ملایا ہے۔میں ایک بہت خوش قسمت انسان ہوں اور اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے۔
  • گوجرانوالہ پاکستان سے آنے والے بشارت احمد صاحب کہنے لگے کہ اس وقت میری حالت ایسی ہے کہ مجھے اپنے آپ پر یقین نہیں آرہا کہ میں حضور انور سے ملا ہوں۔پہلے میں ایم ٹی اے پر حضور انور کو دیکھتا تھا اور آج زندگی میں پہلی دفعہ ملا ہوں۔اس وقت جو میرے جذبات ہیں بیان کرنابہت مشکل ہے۔
  • انڈیا کیرالہ سے آنے والے ایک نوجوان عبدالکبیر عادل صاحب کہنے لگے کہ حضور انور سے مل کر میری حالت بالکل بدل گئی ہے۔اب میں پہلے والا انسان نہیں رہا۔میں اب بدل چکا ہوں اور اب میں نیکیوںمیں آگے بڑھوں گا۔
  • اسد بشیر گھمن صاحب جومُوسے والاپاکستان سے آئے تھے کہنے لگے کہ میں بہت خوش نصیب شخص ہوں کہ آج زندگی میں پہلی مرتبہ اپنے آقا کو نہ صرف قریب سے دیکھا بلکہ ہاتھ ملانے کی سعادت بھی ملی۔ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔کہنے لگے کہ آج مجھے نئی زندگی ملی ہے۔
  • چک نمبر61فیصل آباد سے آنے والے ایک نوجوان احسان احمد صاحب نے بیان کیا کہ اس وقت میرے جذبات کنٹرول میں نہیں ہیں۔جونہی میں حضور انور کے قریب پہنچا تو میں اس وقت دنیا میں نہیں تھا۔ایک دوسری دنیا میں جاچکا تھا۔
  • احمد نگر پاکستان سے آنے والے ایک نوجوان وحید احمد صاحب کہنے لگے کہ مجھ میں اس وقت بات کرنے کی ہمت نہیں۔حضور انور کے سامنے میری یہ حالت تھی کہ مجھ سے بات نہیں ہو رہی تھی اور مجھ سے باوجود کوشش کے بولا نہیں جارہا تھا۔میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ اپنے پیارے آقا سے زندگی میں پہلی دفعہ ملاہوں۔
  • ربوہ سے آنے والے ایک نوجوان کلیم احمد صاحب نے بیان کیا کہ جب میں حضور انور کے قریب پہنچاتو مجھے یہ عجیب احساس ہوا کہ میں اس دنیا سے کٹ چکا ہوں اور ایک دوسری روحانی دنیا میں ہوں۔اب میں اپنے اندر ایک نمایاں تبدیلی محسوس کرتا ہوں۔
  • اسلام آباد سے آنے والے ایک دوست ارشد مسلم کہتے ہیں کہ میں حضور انور کو خواب میں دیکھا کرتا تھا۔آج میرے خواب پورے ہوگئے ہیں اور میں نے اپنی آنکھوں سے اپنے سامنے حضور انور کو دیکھ لیا ہے اور حضور انور سے ہاتھ ملایا ہے۔
  • کراچی سے آنے والے نوجوان احمد معز ہاشمی صاحب نے بیان کیاکہ پہلے میں حضور انور کو ٹی وی پر دیکھا کرتا تھا۔آج میں نے زندگی میں پہلی مرتبہ حضور انور کو اپنے سامنے دیکھا ہے۔خلیفہ وقت کوملنا بہت بڑا انعام ہے۔میں نے خلیفہ وقت کا ہاتھ چوما،برکتیں حاصل کیں۔میں اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھتا ہوں۔
  • پاکستان ربوہ سے آنے والے ایک نوجوان سید مصور احمد صاحب نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میری زندگی میں کسی بھی خلیفۃ المسیح سے آج میری پہلی ملاقات تھی۔میری زندگی کی صرف ایک خواہش تھی کہ حضور انور سے زندگی میں ملاقات نصیب ہو جائے۔آج اللہ تعالیٰ نے میری یہ خواہش پوری کر دی ہے۔
  • طاہر آباد ربوہ سے آنے والے ایک دوست تنویر احمد صاحب کہتے ہیں کہ میرے لئے اپنے جذبات بیان کرنا مشکل ہے۔میں کچھ زیادہ کہہ نہیں سکتا ۔صرف اتنا کہناچاہتا ہوں کہ میرے اندر روحانیت آرہی ہے میں اندرسے بدل چکا ہوں۔
  • منڈی بہاؤ الدین سے آنے والے ایک خادم ولید احمد طاہر صاحب کہتے ہیں کہ حضور انور کو اپنے قریب دیکھ کر اور حضورا نور سے ہاتھ ملا کر میری زندگی کا مقصد پورا ہوگیا ہے۔میں نے اپنی زندگی میں حضور انور کو مل لیا ہے۔میرے زندہ رہنے کی خواہش پوری ہوگئی ہے۔
  • لاہورسے آنے والے ایک نوجوان مرزا وسیم احمد صاحب نے عرض کیا کہ آج خدا کی حمد سے دل بھر گیا ہے۔خدا تعالیٰ نے پیارے آقا سے ملاقات کی توفیق دے دی ہے۔خدا تعالیٰ میرے بچوں کو بھی ہمیشہ خلافت سے وابستہ رکھے۔بس یہی زندگی ہے۔اس کے سوا کچھ بھی نہیں۔
  • بھیرہ ضلع سرگودھا سے ایک نوجوان رضوان حیدر صاحب نے حضور انور سے ملاقات کی سعادت پائی۔موصوف کہنے لگے کہ میں کچھ بتا نہیں سکتا۔بس صرف اتنا کہوں گا کہ آج میں بہت خوش قسمت انسان ہوں۔مجھے آج بہت سکون اور اطمینان حاصل ہوا ہے۔آج میری زندگی کا سب سے بہترین دن تھا۔
  • آخر پر چار ایسے افراد نے حضور انور سے ملاقات کی سعادت پائی جو عمر رسیدہ یا معذور تھے اور کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔حضور انور ان احباب کے پاس آئے، ان کا حال دریافت فرمایا اور سبھی کو شرف مصافحہ سے نوازا۔
  • ان احباب سے ملاقات کا یہ پروگرام گیارہ بج کر 25منٹ تک جاری رہا۔بعد ازاں حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے دفتر تشریف لے آئے اور فیملیز ملاقاتیں شروع ہوئیں۔آج صبح کے اس سیشن میں 62فیملیز کے 269افراد نے اپنے پیارے آقا سے ملاقات کی سعادت پائی۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کو قلم عطا فرمائے اور چھوٹی عمر کے بچوں کو چاکلیٹ عطا فرمائیں۔
  • آج ملاقات کرنے والی یہ فیملیز امریکہ کی مختلف 35جماعتوں اور علاقوں سے آئی تھیں۔بعض دور کی جماعتوں سے آنے والی فیملیز815 کلو میٹرکا فاصلہ بارہ سے تیرہ گھنٹوں میں طے کر کے اپنے پیارے آقا کی ملاقات کے لئے پہنچی تھیں۔ان سبھی نے حضور انور کے ساتھ تصویربنوانے کی سعادت بھی پائی۔
  • آج حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے دورہ امریکہ کے اس سفر میں فیملی ملاقاتوں کا یہ آخری سیشن تھا۔

ملاقات کروانے والے دوست کے جذبات

  • ملاقات کے شعبہ کے انچارج مکرم شمشاد احمد ناصر صاحب مبلغ Dayton امریکہ بتاتے ہیں کہ جونہی حضور انور کے امریکہ کے دورہ کی اطلاع ملی تو احباب جماعت کے اندر ایک خوشی و مسرت کی لہر دوڑ گئی اور ملاقاتوں کے لئے فارمز آنے کا تانتا بندھ گیا۔دس ہزار سے زائد احمدی احباب نے اپنی فیملیز کے ساتھ اور انفرادی طور پر ملاقات کے لئے فارم جمع کروائے۔ خواتین اور مردفارم جمع کروانے کے بعد بار بار اس بات کا اظہار کر رہے تھے کہ کسی طرح بھی ممکن ہو صرف ایک منٹ کے لئے ہی ہماری ملاقات کر وا دی جائے۔بعض خواتین نے رو رو کر اس بات کا اظہار کیا کہ جب سے ہم نے اپنے بچوں کو بتایا کہ حضور انور امریکہ تشریف لار ہے ہیں تو ان کے اندر ایک عجیب excitementہے۔ملک کے کونے کونے سے ملاقات کی درخواستیں آئیں۔

اس دفعہ جماعتی انتظامیہ نے یہی فیصلہ کیا کہ صرف ان احباب اور فیملیز کی ملاقات ہوگی جن کی زندگی میں پہلے حضور انور سے ملاقات نہیں ہوئی۔چنانچہ حضور انور کے اس سفر کے دوران ملاقاتوں کے کل 12سیشن مسجد بیت العافیت فلاڈلفیا، مسجد بیت السمیع ہیوسٹن اور مسجد بیت الرحمان واشنگٹن میں ہوئے ۔ان بارہ سیشن میں 757فیملیز نے اپنے پیارے آقا سے ملاقات کی سعادت پائی اور مرد و خواتین کے انفرادی گروپس کو شامل کر کے 3ہزار 970سے زائد افراد نے اپنے آقا سے شرف ملاقات پایا۔ہر ایک نے اپنے پیارے آقا کے ساتھ تصویر بنوانے کی سعادت پائی۔

آج کی فیملی کا پروگرام دو بج کر دس منٹ تک جاری رہا۔

بعد ازاں حضورا نور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزمسجد کے مردانہ ہال میں تشریف لائے جہاں انفرادی طورپر لجنہ کے ایک گروپ نے ملاقات کی سعادت پائی۔اس گروپ میں شامل خواتین کی تعداد 128تھی۔یہ  ملاقات دو بج کر پانچ منٹ تک جاری رہی تھی۔

بعد ازاں حضور انور  ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزمیٹنگ روم میں تشریف لائے جہاں نیشنل مجلس عاملہ خدام الاحمدیہ یوایس اے کی حضور انور کے ساتھ میٹنگ شروع ہوئی۔سب سے پہلے حضور انور  ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے دعا کروائی۔

مجلس عاملہ خدام الاحمدیہ سے میٹنگ

نومبر 2018ء میں خد ام الاحمدیہ یو ایس اے کی نئی ٹرم شروع ہوئی ہے اور نئے صدر کا تقرر ہوا ہے اس مناسبت سے حضور ا نورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزصدر صاحب خدام الاحمدیہ یو ایس اے سے استفسار فرمایا کہ زیادہ تر عاملہ کے ممبران وہی ہیں جو پہلے تھے؟کیا آپ نے عاملہ ممبران کی ڈیوٹیوں کے حوالہ سے بتا دیا ہے؟

اس پر صدر صاحب خدام الاحمدیہ نے عرض کیا کہ جی حضور۔عاملہ کے ممبران کو ان کے فرائض کے حوالہ سے بتایا جا چکا ہے۔

اس پر حضور انور  ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے نائب صدران و معاون صدران سے تعارف حاصل کیا اور حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے ہدایت فرمائی کہ:

بیٹھنے کی ترتیب اس طرح ہونی چاہئے کہ صدر کے بعد معتمد بیٹھا ہو اور پھر تمام مہتممین اور پھر معاون صدران اور اس کے بعد ایک طرف نائب صدران کو بیٹھنا چاہئے۔

بعد ازاں حضور انور  ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکے استفسار پر مہتمم اطفال نے عرض کیا کہ اطفال کی کُل تجنید1ہزار240ہے۔اطفال کی تربیت کے حوالہ سے ہمارا فوکس نیشنل اجتماع ہے اور پھر ریجنل اطفالrelliesکا انعقاد ہے۔

حضور انور  ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے استفسار فرمایا:لوکل سطح پر تربیتی کلاسوں کا انعقاد کرتے ہیں؟ ان میں کتنے اطفال شامل ہوتے ہیں۔

اس پر مہتمم اطفال نے عرض کیا کہ تقریباً600 اطفال ان کلاسوں میں شامل ہوتے ہیں۔

حضورا نور  ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنےفرمایا جب اطفال خدا م الاحمدیہ میں جاتے ہیں تو اتنے فعال نہیں ہوتے۔اگر اطفال کی ٹھیک طرح سے تربیت ہو اور ان کی ٹریننگ ہو تو پھر ان کی خدام الاحمدیہ میں جا کر جماعتی activitiesمیں دلچسپی ختم نہیں ہوتی۔

اس کے بعد معتمد صاحب نے عرض کیا کہ میں گزشتہ سال ایڈیشنل معتمدکے طور پر کام کر رہا تھا اور امسال معتمد کی ذمہ داری ملی ہے۔ہماری کل مجالس72ہیں جبکہ گزشتہ سال 74تھیں۔

اس پر حضور انور  ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:آپ کی مجالس زیادہ ہونے کی بجائے کم کیوں ہو رہی ہیں؟بعض مجالس کو مدغم کیا ہے؟

اس پر معتمد صاحب نے عرض کیا کہ ہم نے بعض مجالس کو مدغم کیا ہے۔

حضور انور  ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے دریافت فرمایا کہ تمام مجالس اپنی رپورٹس بھجواتی ہیں؟ساری مجالس فعال بھی ہیں؟

اس پر معتمد صاحب نے عرض کیا کہ الحمدللہ تمام مجالس کی طرف سے سو فیصد رپورٹس موصول ہوتی رہی ہیں۔

اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے باری باری تمام مہتمین،ریجنل قائدین اور سابق مہمتمین سے تعارف حاصل کیا۔

بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے تمام مہمتمین کو ارشاد فرمایا کہ وہ آگے آکر بیٹھیں۔اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:

آپ لوگوں کو خدم الاحمدیہ میں کام کرتے ہوئے  اب کافی عرصہ ہوگیا ہے اور آپ سب کو علم ہے کہ اپنی ذمہ داریوں کو کس طرح ادا کرنا ہے۔سب سے پہلی چیز تو یہ ہے کہ اپنا سالانہ پروگرام یا منصوبہ تیار کریں۔اگر تو سابقہ مہمتمین کے پاس کوئی منصوبہ وغیرہ پڑاہوا ہے تو انہیں چاہئے کہ وہ نئے مہمتمین کو دے دیں۔اگر تو سابقہ مہمتمین کی طرف سے باقاعدہ کوئی منصوبہ ہے تو ٹھیک ہے ورنہ آپ لوگ خود سارے سال کا پلان بنائیں۔اور یہ پلان پُرعزم ہونا چاہئے۔میں نے دیکھا ہے کہ خدام الاحمدیہ کے نیشنل اجتماع میں ایک ہزار سے زائد خدام بھی شامل نہیں ہوئے۔ریجنل لیول کے اجتماع میں ایک ہزار سے زائد خدام بھی شامل نہیں ہوئے۔ریجنل لیول کے اجتماعات کا تو مجھے علم نہیں۔

نیز حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے استفسار فرمایا کہ کیا آپ لوگوں کے ویسٹ کوسٹ اور ایسٹ کوسٹ کے ریجنل اجتماعات ہوتے ہیں؟

اس پر صدر جماعت نے عرض کیا کہ پہلے ہمارے ویسٹ کوسٹ اور ایسٹ کوسٹ کے اجتماعات ہوتے تھے لیکن اب نہیں ہوتے بلکہ اب مجالس کو 12ریجنز میں تقسیم کیا ہوا ہے اور ہر ریجن اپنا اجتماع منعقد کرتی ہے؟

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکے استفسار پر ایک ریجنل قائد نے عرض کیا کہ اُن کے ریجن میں خدام کی تجنید 370ہے جس میں سے 90خدام ریجنل اجتماع میں شامل ہوئے تھے۔اسی طرح ایک اور خادم نے عرض کیا کہ اُن کے ریجن کی اطفال اور خدام کی کُل تعداد 454ہے۔

اس پر حضور انور  ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:جب خدام اور اطفال کی اکٹھی تجنید بتاتے ہیں تو مبہم ہوجاتا ہے۔آپ کے ناظم اطفال ہیں وہ اطفال کی تجنید بتاسکتے ہیں۔آپ اطفال الاحمدیہ کے قائد نہیں بلکہ خدام الاحمدیہ کے قائد ہیں اس لئے علیحدہ علیحدہ صاف اور واضح معلومات دیا کریں۔

اس پر قائد صاحب نے عرض کیا کہ ہمارے ریجن میں کل 340 خدام اور114اطفال ہیں۔340میں سے 80خدام اجتماع پر حاضرہوئے تھے۔

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:یہ تو بمشکل چوتھا حصہ بنتا ہے۔ریجنل لیول پر بھی نیشنل لیول والا حال ہے۔

حضور انورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ آپ کے پروگراموں میں outdoor activitiesاور کھیلوں کے پروگراموں وغیرہ پر زیادہ زور دیا جاتاہے۔اجتماع کے موقع پر ستر سے اسی فیصد پروگرام تعلیمی وتربیتی ہونے چاہئیں جن میں جنرل نالج،مذہبی و دینی علوم، تلاوت قرآن کریم کا مقابلہ، اذان کا مقابلہ اور اس طرح کئی دیگر سوال و جواب کے پروگرام ہو سکتے ہیں۔آئندہ سال کیلئے اسی طرز پر پروگرام بنائیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: میں نے آپ کے صدر صاحب سے کہا ہے کہ وہ پورے سال کے لئے کوئی Themeسوچ کر بتائیں۔میں نے انہیں کہا کہ تین عناوین بتائیں ان میں سے جو themeبھی فائنل ہوگا اُسی پر آپ سب نے کام کرنا ہے۔سال بھر آپ کے پروگرام اُسی themeکے مطابق ہونے چاہئیں اور آپ کے نیشنل اور ریجنل اجتماعات کے پروگرام بھی اُسی themeکے مطابق ہوں تاکہ سال بعد آپ کو علم ہو کہ آپ نے دورانِ سال کیا کچھ حاصل کیا ہے یا کہاں تک اس themeکے مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کی ہے،ان شاء اللہ چند دنوں تک آپ کو اس کے متعلق علم ہو جائے گا۔جونہی آپ کو themeکا پتہ چلے آپ اُس کے مطابق کام شروع کر دیں۔ مہمتمین کو بھی چاہئے کہ وہ اگلے دو ہفتوں میں اپنے پلان مکمل کر کے صدر صاحب کی وساطت سے مجھے بھجوائیں تا کہ مجھے بھی علم ہو کہ آپ لوگوں نے کس قدر بھر پور منصوبہ بندی کی ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز :آپ لوگوں کو اب پہلے سے بڑھ کر فعال ہونا ہے۔بلکہ ہر سال پہلے سے زیادہ فعال ہونا چاہئے۔میں یہ نہیں کہہ رہا کہ آپ سے جو پہلے تھے انہوں نے کام نہیں کئے۔انہوں نے بھی کام کیا اور بڑی محنت سے کام کیا ہے۔لیکن ہر سال ہمارا قدم آگے بڑھنا چاہئے اور ہماری ترقی کی رفتار گزشتہ سال کی نسبت زیادہ بہتر ہونی چاہئے۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ  نے فرمایا:معتمدصاحب آپ یہ نوٹ کر لیں۔یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ ہر مہتمم اپنا پلان بنا کر جمع کروائے اور پھر یہ پلان مجھے منظوری کے لئے بھجوائے جائیں۔اگر منظوری ہونے میں چند دن یا کچھ ہفتے لگ جائیں تو بھی مہمتمین اپنے اپنے پلانز کے مطابق کام کرنا شروع کر دیں۔جو بھی مہمتمین پلان بھجوائیں گے میں ان میں کسی قسم کی کمی نہیں کروں گا لیکن ہو سکتا ہے بعض چیزوں کا اضافہ کر دوں۔اس لئے مہمتمین جو بھی پلان بنائیں فوراًاس پر عمل بھی شروع کر دیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ باقاعدہ منظوری بھی حاصل کریں۔پھر ہرسہ ماہی رپورٹ میں اس کاذکرکریں کہ اس پلان میں سے کتنا کام ہو چکا ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:اب نئی عاملہ بنی ہے۔اس لئے چاہئے کہ نئے جذبہ اور ولولہ کے ساتھ کام کریں۔ریجنل قائدین کو بھی چاہئے کہ وہ بھی اب نئے جذبہ کے ساتھ کام کا آغاز کریں۔جب آپ لوگ اپنا پلان بنا لیں تو فوراً مقامی مجالس کے قائدین کو بھجوائیں۔اسی طرح معتمد صاحب کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام ناظمین کو یہ پلان بھجوائیں اور پھر دیکھیں کہ اس پر کس حدتک عمل ہو رہا ہے اور ہدف کو حاصل کرنے  کے لئے کتنی کوشش کی جارہی ہے؟ لوکل اور ریجنل لیول کے اجتماعات پر بھی اس themeکو اپنا ہدف بنائیں۔

معاون صدران اور نائب صدران جن کے ذمہ مختلف شعبہ جات لگائے جائیں گے انہیں بھی چاہئے وہ اپنے اپنے شعبہ کو دیکھیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے شعبہ جات کے منصوبہ جات پر عمل ہو رہا ہے اور اہداف حاصل کرنے کے لئے خاطر خواہ کوششیں بھی جاری ہیں۔

حضور انور  ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اگر آپ کچھ کرنا چاہتے ہیں اور دنیا کو تبدیل کرنا چاہتےہیں اورآپ کا نعرہ یہ ہے کہ ’’قوموں کی اصلاح نوجوانوں کی اصلاح کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتی ‘‘ تو پھر آپ کو اس کے لئے انتھک محنت کرنی پڑے گی۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:    دیکھتے رہیں کہ سال بھر میں ہم نے کیا حاصل کیا ہے۔سابقہ مہمتمین کی کمزوریاں اور خامیاںتلاش کرنے کی بجائے یہ دیکھیں کہ ہم اپنے کاموں میں کس طرح بہتری لاسکتے ہیں۔میں نے صدر صاحب خدام الاحمدیہ کو تفصیلی ہدایات دی ہیں وہ یہ ہدایات آپ سب تک پہنچادیں گے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا: اسی طرح آپ کو سابق صدر خدام الاحمدیہ بلال رانا صاحب کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہئے کہ انہوں نے اپنی صلاحیتوں اور قابلیتوں کے مطابق گزشتہ چھ سال نہایت محنت سے کام کیا ہے۔اسی طرح اُن تمام مہمتمین اور نائب صدران کا بھی شکریہ ادا کریں جو امسال خدام الاحمدیہ سے رُخصت ہو رہے ہیں۔آپ ان کے لئے الوداعیہ کا پروگرام بھی  منعقد کر سکتے ہیں۔

اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکے استفسار پر مہتمم مال نے عرض کیا کہ اُن کا بجٹ 6لاکھ43ہزار 397ڈالرز ہے۔

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:لوگ اپنی تیس سے چالیس سال کی عمر میں اپنے کاموں وغیرہ کے حوالے سے عروج پر ہوتے ہیں یا کم از کم ان کی آمدن کافی زیادہ ہوتی ہے اس لئے اگر سارے خدام معیار کے مطابق چندہ کی ادائیگی کریں تو آپ کا یہ بجٹ دوگنا ہو سکتا ہے۔

اس پر مہتمم مال نے عرض کیا کہ ہمارا اندازہ ہے کہ اگر تمام خدام اپنی آمد کے مطابق چندہ کی ادائیگی کریں تو دو گناہ سے بھی زیادہ اضافہ ہو سکتا ہے۔شاید ہم دو ملین تک پہنچ جائیں۔

اس پرحضور ا نور  ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:آپ دو ملین کا کہہ رہے ہیں۔چلیں آپ اس سال کے لئے اپنا ٹارگٹ ایک ملین کا رکھ لیں۔لیکن خدام کو اس بات کا احساس دلانا چاہئے کہ وہ کوئی ٹیکس وغیرہ نہیں ادا کر رہے بلکہ یہ چندہ اُن کی اپنی بھلائی کے لئے ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:اگر سیکرٹری تربیت فعال ہو اور اسی طرح مقامی سطح پر ناظمین تربیت فعال ہوں اور ٹھیک طرح سے خدام کی تربیت کریں اور انہیں ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائیں تو اس طرح وہ مال اور دوسرے شعبہ جات کی بھی مدد کر سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے کے بعد نماز کا حکم ہے اور اس کے بعد تیسرے نمبر پر قربانی کرنے کا حکم آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جن نعمتوں سے نوازا ہے ان میں سے قربانی کریں۔

اس کے بعد مہتمم مال نے عرض کیا کہ جب ہم انکم بجٹ اکٹھا کرتے ہیں تو قائدین ایسے خدام جو ان کے ساتھ رابطہ میں نہیں ہوتے ان کے ناموں کے آگے صفر لکھ دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہوتا ہے کہ چونکہ ان سے رابطہ نہیں ہے اس لئے ان کا بجٹ نہیں دے رہے۔کیا ہم ایسے خدام جن کا رابطہ بہت کم ہے اُن کے بجٹ میں صفر کی بجائے 60ڈالرزجو کم از کم معیار ہے وہ لکھ سکتے ہیں؟

اس پر حضور انور  ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:یہ ناظمین تربیت کا فرض ہے وہ ایسے خدام کے لئے کوشش کریں۔اگر ناظم تربیت کے اندر یہ جذبہ ہے اور اُس کا ایسے خدام کے ساتھ ذاتی رابطہ ہے تو پھر وہ مسجد آجائیں گے۔جب ایسے خدام مسجد آنے لگ جائیں اور جماعتی پروگراموں میں شمولیت کرنا شروع کر دیں تو ان کا ناظم مال کے ساتھ خود ہی رابطہ ہو جاتا ہے۔اگر وہ کہتے ہیں وہ اپنی آمد کے مطابق چندہ نہیں دے سکتے بلکہ وہ صرف اتنی رقم ادا کر سکتے ہیں تو پھر جتنی رقم وہ دیں وہ لے لیا کریں۔یہ ضروری نہیں کہ ایسے خدام کو مجبور کیا جائے کہ وہ لازمی  اپنی آمد کے مطابق چندہ دیں۔شروع میں جو بھی چندہ وہ ادا کریں وہ لے لیا کریں چاہے وہ خدام الاحمدیہ کا چندہ، تحریک جدید کا ہو ۔یا وقف جدید کا ہویہ چندے لازمی نہیں ہیں۔صدر خدام الاحمدیہ اس چندہ میں کسی حد تک چھوٹ دے سکتے ہیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکے استفسار پر مہتمم مال نے عرض کیا کہ اُن کے پاس اس وقت ڈیٹا نہیں ہے کہ کتنے کمانے والے چندہ ادا کر رہے ہیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:اگر مقامی سطح پر ناظمین تجنید فعال ہوں تو انہیں پتہ ہوتا ہے کہ ان کی مجلس میں کُل اتنے خدام ہیں اور ان میں سے اتنے کماتے ہیں اور اتنے نہیں کماتے۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کو پکا پکایا مل جائے۔ہر ناظم مال یا ہر قائد کو بھی چاہئے کہ وہ ہر خادم کے ساتھ گھر گھر جا کر رابطہ کریں۔یہاں امریکہ میں جماعت کی تعدادلاکھوں میں تو نہیں ہے۔ہر مجلس میں سو سے زیادہ تعداد نہیں ہوتی۔پورے ریجن میں 400کی تعداد بتا رہے تھے۔اگر آپ کہتے ہیں چونکہ اتنی زیادہ تعداد ہے اس لئے رابطہ نہیں ہو سکتا تو یہ جھوٹے بہانے ہیں۔اگر تو تعداد کم ہے تو پھر ہر ایک کے ساتھ انفرادی رابطہ کرنا مشکل کام نہیں ہے۔آپ کو اپنے متعلقہ ناظمین کو فعال کرنا پڑے گا۔صرف شعبہ مال کو نہیں بلکہ ہر شعبہ کے مہتمم کو اپنے اپنے شعبہ کے ناظمین کو فعال کرنا پڑے گا۔اگر مقامی سطح پر تمام ناظمین فعال ہو جائیں تو آپ کو خود ہی ایک بڑی تبدیلی نظر آنا شروع ہو جائے گی۔

حضور انور  ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسار پر صدر مجلس نے عرض کیا کہ وہ رپورٹوں پر تبصرہ کر کے مہمتمین کو بھجواتے ہیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:صدر مجلس کا ہر مقامی مجلس کے قائد کے ساتھ ذاتی رابطہ بھی ہونا چاہئے۔اس لئے اگر ہر مہینہ نہیں تو کم از کم دو مہینہ میں ایک مرتبہ مقامی مجلسوں کی رپورٹس پر آپ کا تبصرہ ہونا چاہئے۔اور متعلقہ مہمتمین اپنے اپنے شعبہ کی  رپورٹ پر ہر ماہ تبصرہ بھجوائیں۔ اسی طرح معتمد کو چاہئے کہ وہ ہر ماہ قائدین اور ریجنل قائدین کی رپورٹس پر تبصرہ کر کے بھجوائیں۔

حضور ا نور  ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:معتمد کی ذمہ داری ہے کہ وہ دفتر میں آئے اور دفتر میں بیٹھ کر خدام کے ساتھ ذاتی رابطے کرے۔آپ کے پاس پرنٹنگ مشین ہونی چاہئے اور سارا ریکارڈ پرنٹ شکل میں دفتر میں موجود ہونا چاہئے۔

معتمد نے عرض کیا کہ ہماری ساری رپورٹس Google Drivesپر ہوتی ہیں اور وہیں سے ہم اسے accessکر لیتے ہیں۔

اس پر حضورا  نور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:ایسی چیزوں پر مکمل بھروسہ نہ کیا کریں۔آپ کے پاس پرنٹ شکل میں ریکارڈ ہونا چاہئے۔اپنا ریکارڈ زیادہ عرصہ کے لئے آن لائن نہ رکھا کریں۔جب آپ یہ ڈیٹا USBمیں ڈال لیتے ہیں یا پرنٹ کر لیتے ہیں تو پھر آن لائن ڈیٹا ختم کر دیا کریں۔کم از کم شعبہ مال سے متعلقہ جو بھی ڈیٹا ہے وہ ضرور deleteکر دیا کریں ۔اسی طرح خدام کی اگر ذاتی معلومات ہیں وہ بھی ختم کر دیا کریں۔امریکہ میں آپ لوگ بہت زیادہ الیکٹرانک ٹیکنالوجی پر بھروسہ کرتے ہیں۔

ایک خادم نے عرض کیا کہ گزشتہ دس سال کاچندے کا ڈیٹا آن لائن ہی ہے۔ہمارا سسٹم آن لائن ڈیٹا بیس ہے۔

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:سسٹم بے شک آن لائن ہو لیکن پُرانا ریکارڈ آن لائن نہیں رکھنا۔اس کو کہیں محفوظ کریں۔اگر خدانخواستہ یہ ڈیٹا hackہو جاتا ہے تو آپ کے پاس تو کچھ نہیں رہے گا۔

اس پر معاون صدر نے عرض کیا کہ اس وقت ہمارے پاس ڈیٹا کو backupکرنے کی سہولت میسر نہیں ہے۔ہمارا مال کا سسٹم کافی پُرانا ہے،ہم نے اس کو اَپ ڈیٹ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وقت نہیں ملا۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسار پر ایک خادم نے عرض کیا کہ جماعت کا اپنا سسٹم ہے اور آن لائن نہیں ہے۔وہ ہر ماہ ڈیٹا کا بیک اَپ کرتے ہیں۔

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز  نے فرمایا:اگر جماعت اپنا ڈیٹا اس طرح سے بیک اپ کر رہی ہے اور اس کو محفوظ کر رہی ہے تو پھر آپ لوگ کیوں نہیں کر رہے؟ پہلے تو AIMSکا سارا ڈیٹا مرکز بھجوایا جاتا تھا لیکن اب سارا ڈیٹا تو نہیں بھجوایا جاتا لیکن بجٹ اور اخراجات وغیرہ کا ریکارڈ بھجوایا جاتا ہے۔اس طرح سے وہ مرکز میں بھی محفوظ ہو رہا ہے۔لیکن لوگوں کا ذاتی ڈیٹا یہاں ہی محفوظ ہونا چاہئے۔

بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز  نے مہتمم مال کو مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا:اگر آپ امسال35فیصد کا اضافہ کر لیتے ہیں تو آپ کا ایک ملین کا ٹارگٹ پورا ہو جائے گا۔جو لوگ زیادہ امیر نہیں ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اپنی آمد کے مطابق چندہ ادا نہیں کر سکتے تو آپ انہیں چھوٹ دے سکتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ لوگ جو صاحبِ حیثیت ہیں انہیں بھی چھوٹ دے دی جائے۔ صاحبِ حیثیت خدام کو چاہئے کہ وہ اپنی آمد کے مطابق چندہ کی ادائیگی کریں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز  نے فرمایا: آپ کا کام ہے کہ خدام کو چندے کی اہمیت کے متعلق بتائیں۔مہتمم تربیت کو چاہئے کہ وہ اس سلسلہ میں شعبہ مال کی مدد کرے،یو کے میں بھی بعض خدام تھے جنہوں نے کبھی چندہ کی ادائیگی نہیں کی۔نہ صرف مجلس بلکہ جماعتی چندہ بھی ادا نہیں کرتے تھے۔لیکن اجتماعات کے دوران discussion sessionsاور سوال و جواب کی مجالس کے ذریعہ انہیں چندہ کی اہمیت کا احساس ہوا اور انہیں اپنے چندہ جات کے استعمال کے متعلق پتہ چلا تو کافی خدام نے ازخود اپنی مجالس کے ناظمین مال کے ساتھ رابطہ کر کے چندہ کی ادائیگی کی اور انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ ہم غلط تھے اور اب ہمیں احساس ہوا ہے کہ یہ چندہ کہاں استعمال ہو رہا ہے۔پہلے وہ سمجھتے تھے کہ صرف جماعتی عہدیدار وں کی پُرتکلف دعوتوں پر ہی یہ چندہ استعمال ہوتا ہے۔انہیں پتہ ہی نہیں تھا کہ چندہ کہاں کہاں استعمال ہو رہا تھا۔اس لئے اگر چندے کے استعمال کا انہیں پتہ لگ جائے تو وہ ادائیگی بھی کر دیتے ہیں۔اس طرح اس سے نہ صرف خدام الاحمدیہ کے چندہ میں بہتری آئے گی بلکہ جماعتی چندہ جات میں بھی اضافہ ہوگا۔

مہتمم تبلیغ نے عرض کیا کہ جب مالی قربانی کے مسائل سامنے آتے ہیں تو کیا خدام الاحمدیہ کو چاہئے کہ وہ ایسے خدام کو پہلے جماعتی چندہ ادا کرنے کی طرف توجہ دلائیں اور پھر خدام الاحمدیہ کے چندہ کی طرف توجہ دلائی جائے۔

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز  نے فرمایا: آپ انہیں جماعتی چندہ کی ادائیگی کی طرف بھی ضرور توجہ دلائیں لیکن اگر وہ کہتے ہیں کہ آپ فی الحال ہم سے صرف خدام الاحمدیہ کا چندہ ہی لے لیں تو آپ وہ چندہ لے لیا کریں۔انہیں قریب لانے کے لئے اور انہیں مالی قربانی کا احساس دلانے کے لئے شروع میں جس مدمیں بھی چندہ دیں وہ لے لیا کریں۔نومبائعین یا کمزور احمدی ہیں ان کے لئے بھی یہی طریقہ ہے کہ اگر وہ صرف تحریک جدید کا ہی چندہ ادا کر تے ہیں تو ٹھیک ہے۔لیکن انہیں جماعتی چندہ کی اہمیت کا احساس ضرور دلائیں۔ہاں اگر کوئی خادم اپنی آمدن کے مطابق مجلس خدام الاحمدیہ کا چندہ ادا کر رہا ہے تو پھر ایسے خدام کوبتائیں کہ ان کی پہلی ترجیح لازمی چندہ ہونی چاہئے۔اس صورت میں مہتمم مال یا صدر مجلس فیصلہ کر سکتے ہیں کہ وہ چندہ لازمی چندہ کے طور پر قبول کرنا ہے یا پھر مجلس کے چندہ کے طور پر ۔بہرحال ایسے تمام خدام جو اپنی آمد کے مطابق خدام الاحمدیہ کا چندہ ادا کر رہے ہیں اور تمام قواعد و ضوابط پر عمل کر رہے ہیں تو انہیں کہیں کہ جماعتی چندہ ادا کریں۔

اس کے بعد مہتمم تبلیغ نے عرض کیا کہ ہمیں جماعتی پروگراموں کو کس حد تک followکرنا چاہئے۔اگر جماعتی طور پر کوئی تبلیغی پروگرام ہو رہے ہیں تو کیا ہمیں ان پروگراموں کو فالو کرنا چاہئے؟

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز  نے فرمایا:آپ لوگوں کواپنے پروگرام منعقد کرنے چاہئیں لیکن اگر کوئی جماعتی پروگرام ہو تو ذیلی تنظیموں کو چاہئے کہ وہ جماعتی پروگراموں میں بھی بھر پور تعاون کریں۔ذیلی تنظیمیں بھی جماعت کا حصہ ہوتی ہیں۔اس لئے جماعت اگر کوئی پروگرام بناتی ہے تو تعاون کرنا چاہئے اور ان پروگراموں میں بھرپور شرکت ہونی چاہئے۔اس کے علاوہ آپ کا جو بھی سالانہ پلان ہے یا پروگرام ہیں ان کی صدر صاحب کی سفارش کے ساتھ مجھ سے منظوری لے لیں اور پھر ان پر عمل درآمد ہو۔لیکن جہاں کہیں بھی جماعتی پروگرام اور ذیلی تنظیم کے پروگرام کا آپس میں clashہو تو وہاں جماعتی پروگرام کو ترجیح ملنی چاہئے۔خدام الاحمدیہ اور دیگر ذیلی تنظیمیں جماعتی پروگراموں میں معاون اور مدد گار ہونی چاہئیں۔

مہتمم تعلیم نے عرض کیا کہ جماعتی طور پر ’طاہر اکیڈمی‘میں بچوں کی تعلیمی کلاسز کا انعقاد ہوتا ہے اور ان کے امتحانات بھی ہوتے ہیں۔تو کیا ہمیں اطفال الاحمدیہ کے علیحدہ پرچہ جات حل کروانے چاہئیں یا جو جماعتی طور پر امتحان ہوتا ہے وہی کافی ہوتا ہے؟

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:آج کل مختلف قسم کے نصاب اورپروگرام ہیں جیسے وقفِ نو کے مختلف پروگرام ہوتے ہیں،خدام الاحمدیہ کے الگ پروگرام ہوتے ہیں اور جماعت کے اپنے پروگرام ہوتے ہیں۔

قائد عمومی صاحب نے عرض کیا کہ تمام مجالس میں مختلف پروگراموں کا انعقاد ہوتا ہے اور اس کا ذکر مجالس کی رپورٹ میں ہوتا ہے۔

اس پر  حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:اگر تو جماعت’طاہر اکیڈمی‘کو چلا رہی ہے تو لجنہ اماء اللہ اور خدام الاحمدیہ کو چاہئے کہ وہ جماعت کے ساتھ تعاون کریں۔لیکن اس اکیڈمی میں وقفِ نو کے نصاب کی طرز پر باقاعدہ ایک نصاب ہونا چاہئے۔اس نصاب کے لئے اگر خدام الاحمدیہ یا لجنہ اماء اللہ بعض چیزیں تجویز کر یں تو اُن کو بھی اس نصاب میں شامل کیا جاسکتا ہے۔اب یوکے میں بھی اور بعض دیگر ملکوں میں بھی وقفِ نو نصاب کی طرز پر خدام الاحمدیہ اور لجنہ اماء اللہ اپنا تعلیمی و تربیتی نصاب تیار کرتی ہیں تا کہ واقفین نو کے ذہنوں میں یہ نہ آئے کہ وہ کوئی علیحدہ چیز ہیں یا وہ دوسرے بچوں سے زیادہ بہتر ہیں یا مختلف ہیں۔اس کے لئے باقاعدہ ایک جامع اور مؤثر منصوبہ بنایا جاسکتا ہے۔اگر جماعت اور ذیلی تنظیموں کے بیچ تعاون ہو تو اس قسم کے پروگرام بنانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

 حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:اگر جماعتی سیکرٹری کے ساتھ کوئی مسئلہ ہو تو آپ امیر صاحب سے بات کر سکتے ہیں۔ہم اسی صورت میں ترقی کر سکتے ہیں اور آگے بڑھ سکتے جب ہمارے پروگراموں میں ایک دوسرے کے ساتھ بھرپور تعاون ہو۔اگر کوئی تعاون نہیں کرتا تو آپ صدر صاحب کی وساطت سے امیر صاحب تک رسائی کریں اور مسئلہ کا حل نکالیں۔اگر پھر بھی مسئلہ کا حل نہیں نکلتا تو پھر مجھے لکھیں۔

ایک عاملہ ممبر نے عرض کیا کہ ہم سائقین کے نظام کا امریکہ میں صحیح طرح کس طرح اطلاق کر سکتے ہیں؟

اس کے جواب میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:اگر آپ سائقین کے نظام کا اطلاق کریں تو یہ بہت معاونت کرتا ہے۔اگر آپ grass root levelوالانظام اپنائیں تو آپ کو خدام الاحمدیہ کے پروگراموں میں ایک بہت بڑی تبدیلی نظر آئے گی۔اطفال الاحمدیہ اور خدام الاحمدیہ کی حاضری میں بھی اضافہ ہوگا۔جب میں خود اطفال الاحمدیہ میں تھا تو میں پہلے سائق بنا، اس کے بعد منتظم اطفال کا نائب اور اس کے بعد منتظم اطفال بنا۔پھر زعیم مجلس کے طور پر کام کیا،پھر ربوہ میں ناظم عمومی کے طور پر کام کیا پھر نیشنل لیول پر مہتمم کے طور پر خدمت کی۔بحیثیت ایک عام طفل کے میری ٹریننگ کا آغاز ہوگیا تھا۔یہ نہیں کہ آپ نے نہ کبھی خدام الاحمدیہ کی کلاس میں حصہ لیا ہو اور نہ ہی کسی دوسرے تربیتی پروگرام میں حصہ لیا ہو اور ایک دن صدر مجلس خدام الاحمدیہ آپ کو بلا کر کہیں کہ آپ کو فلاں شعبہ کا مہتمم بنایا جارہا ہے۔جب تک آپ نے grass root levelکر کے خود اپنی ٹریننگ نہ کی ہو اُس وقت تک آپ کو اس ٹریننگ کی افادیت کا پتہ نہیں چل سکتا۔اس لئے اس ٹریننگ کا آغاز نہایت بنیادی سطح سے کریں۔

ایک عاملہ ممبرنے عرض کیا کہ مقامی مجالس میںہر مہینہ ایک اجلاس عام ہوتا ہے۔کیا ہمیں لوکل عاملہ کی بھی ایک ماہانہ میٹنگ کرنی چاہئے؟

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:جب میں اپنے حلقہ کا زعیم تھا۔ربوہ میں قائد نہیں ہوتے بلکہ زعماء ہوتے ہیں اور مہتمم مقامی کی عاملہ میں ناظمین ہوتے ہیں۔اس لئے زعماء کی مہتمم مقامی کے ساتھ میٹنگز ہوتی تھیں اور اب بھی ہوتی ہیں۔جہاں تک ممکن ہو اور حالات اجازت دیں میٹنگز کا انعقاد ہوتا ہے۔ربوہ ایک چھوٹا سا شہر ہے جہاں 45سے 50ہزار احمدی آباد ہیں اور خدام الاحمدیہ کی تعداد بارہ ،تیرہ ہزار ہوگی اور 70مجالس ہیں اور ہر مجلس کا اپنا زعیم ہوتا ہے جس کی اپنی عاملہ ہوتی ہے اور ان کی عاملہ کی ہر ماہ میٹنگ ہوتی ہے۔ مہتمم مقامی زعماء کے ساتھ علیحدہ میٹنگ کرتا ہے اور ناظمین کے ساتھ علیحدہ میٹنگ کرتا ہے اور پھر میٹنگ ساروں کی اکٹھی بھی ہوتی ہے۔اس لئے grass root levelکا جو قائد ہے یا جو زعیم ہے وہ مہینہ میں دو مرتبہ مہتمم مقامی کے ساتھ میٹنگ کرتا ہے ۔مجھے نہیں پتہ کہ اس وقت کیا صورت حال ہے لیکن جب میں بطور زعیم اور ناظم کے کام کررہا تھا اُس وقت تو یہی طریق کار تھا۔اس لئے ناظمین اور قائدین کو چاہئے کہ وہ مہینہ میں کم از کم ایک میٹنگ ضرور کیا کریں۔اسی طرح مہمتمین کو بھی چاہئے کہ وہ بھی مہینہ میں ایک میٹنگ ضرور کیا کریں۔

 حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکے استفسار پر صدر مجلس نے عرض کیا کہ عاملہ کی کانفرنس کال کے ذریعہ ہر ماہ میٹنگ ہوتی ہے جبکہ تین ماہ میں ایک میٹنگ ایسی ہوتی ہے جہاں سارے مہمتمینحاضر ہوتے ہیں۔مقامی سطح پر بھی مقامی عاملہ کی میٹنگ ہر مہینہ ہوتی ہے۔

اس پر  حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:بہرحال ہر تین ماہ بعد کسی ایک جگہ پر میٹنگ ہو جس میں تمام عاملہ کے ممبران،نائب صدران اور معاون صدر ان حاضرہوں۔ 

ایک خادم نے عرض کیا کہ خدام میں جماعتی علم کم ہے جس کی وجہ سے وہ تبلیغ نہیں کر سکتے۔خدام کوسکھانے کا بہترین حل کیا ہے جس سے  وہ تبلیغ کر سکیں؟

اس پرحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:انٹرنیٹ پر خلفاء کی سوال و جواب کی مجالس بڑی تعداد میں مل جاتی ہیں۔اسی طرح بعض مربیان اور جماعتی سکالرز کی سوال و جواب کی مجالس بھی انٹرنیٹ پر میسر ہیں۔پھر یہاں امریکہ میں ہمارے مربیان بھی اس حوالہ سے کافی کام کر رہے ہیں اور باقاعدگی کے ساتھ سوال و جواب کی مجالس کا انعقاد ہوتا ہے اور ان کے بڑے اچھے نتائج ظاہر ہو رہے ہیں۔اس لئے آپ اپنے خدام میں ان مجالس کے ذریعہ علم میں اضافہ کرنے کی روح پیدا کریں۔سیکرٹری تبلیغ اور سیکرٹری تربیت کو بھی اس حوالہ سے پروگرام کرنے چاہئیں۔آپ لوگ اپنے iPadsاور فونز کے ساتھ ہمیشہ کھیلتے رہتے ہیں اور ان پر دنیاوی چیزیں دیکھتے رہتے ہیں۔آپ اس کام کے لئے بھی کچھ نہ کچھ وقت مقرر کر سکتے ہیں۔ایک دن کُل 24گھنٹے ہوتے ہیں۔اس میں سے چھ گھنٹے آپ سوتے ہیں اور باقی آپ کے پاس 18گھنٹے بچتے ہیں۔یونیورسٹی ،کالجز اور نوکریوں وغیرہ کا وقت نکال کر آپ کے پاس پھر بھی 2سے 3گھنٹے بچ جاتے ہیں جو آپ بالعموم انٹرنیٹ اور ٹی وی پروگراموں میں ضائع کر دیتے ہیں۔آپ کو عصرِ حاضر کے مسائل کا بھی علم ہونا چاہئے اور ٹی وی بھی کسی حد تک دیکھ لینا چاہئے،ملک کے سیاسی حالات کی بھی خبر ہونی چاہئے لیکن ان سب چیزوں کے علاوہ ایک خاص وقت مقرر کریں جس میں اپنے مذہب کے بارے میں سیکھیں۔آپ لوگوں کو خدام کے اندر اس حوالہ سے شوق پیدا کرنا پڑے گا۔مواد تو پہلے ہی موجود ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا: اگر آپ سمجھتے ہیں کہ بعض ایسے سوالات ہیں جن کے جوابات انٹرنیٹ پر موجود نہیں ہیں تو پھر اپنے مربیان سے پوچھیں،وہ جوابات دے دیں گے۔ بعض متنازع قسم کے سوالات ہوتے ہیں جن کے بارہ میں مربیان کی بھی مختلف رائے ہوتی ہے تو ایسے سوالات مجھے لکھ دیا کریں۔میں جواب دے دوں گا۔پھر ہمارے سکالرز سوالوں کے جامع اور تفصیلی جوابات دے سکتے ہیں جنہیں آپ پھر سوشل میڈیا کے ذریعہ انٹرنیٹ پر بھی ڈال سکتے ہیں تاکہ سارے خدام اس سے فائدہ اُٹھالیں۔

مہتمم امورِ طلبہ نے عرض کیا کہ میرا سوال تعلیمی و مذہبی مباحثوں کے حوالہ سے ہے۔کیا ہمیں یونیورسٹی وغیرہ میں ایسی debatesکا اہتمام کرنا چاہئے؟

اس پرحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:آپ یونیورسٹیز میں سیمینارز منعقد کر سکتے ہیں۔دو قسم کے سیمینار ہوتے ہیں۔ایک تو تعلیمی مضامین کے حوالہ سے ہوتے ہیں اوردوسرے عصرِ حاضر کے بعض مسائل کے حوالہ سے ہوتے ہیں۔ بعض مذہبی عناوین کا بھی انتخاب کیا جاسکتا ہے۔ یوکے اور جرمنی وغیرہ میں جہاں AMSA(احمدیہ مسلم سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن)فعال ہے وہاں یونیورسیٹیوں میں سیمینارز کا انعقاد ہوتا ہے۔بعض اوقات debatesکا بھی انعقاد ہوتا ہے۔مذہبی علوم کا جو بھی شعبہ ہوتا ہے وہ یونیورسٹی کے ہالوں یا auditoriumsمیں ان سیمینارز کو منعقد کرنے کی اجازت دے دیتا ہے۔اور باہر کے لوگوں کو بھی ان میں مدعو کیا جاسکتا ہے۔اپنے حالات کے مطابق آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ کیا طریق کار اختیار کرنا ہے۔عصرِ حاضر کے مسائل ہیں، مذہبی علم ہے یا سائنس کی ریسرچ پر مبنی بعض تعلیمی عناوین ہیں جن پر یہ سیمینار منعقد کئے جاسکتے ہیں۔اس طرح آپ دوسرے طلباء کو بھی اپنے قریب لاسکتے ہیں۔زیادہ تر طلباء academicسے تعلق رکھنے والے عناوین میں دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں۔تو جب یہ طلباء آپ کے قریب آجائیں تو پھر آپ مذہبی موضوع پر بھی سیمینار کر سکتے ہیں مثال کے طور پر مشہور موضوع ’ہستی باری تعالیٰ‘ہے۔پھر ’مذہب کی ضرورت‘،’مذہب کی سچائی‘اور اس طرح اور کئی موضوع ہیں جن پر یہ سیمینارمنعقد کئے جاسکتے ہیں۔اس وقت میں سارے عناوین تو نہیں بتا سکتا لیکن کافی موضوع ہیں جن پر سیمینار رکھ سکتے ہیں۔آپ خود بھی اس حوالہ سے سوچیں تو کافی موضوع سامنے آجائیں گے۔

ایک خادم نے عرض کیا کہ ہم نے سوال و جواب پر مشتمل ایک کتاب شائع کی ہے جو خدام میں تقسیم کی گئی ہے۔

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:کیا آپ نے تربیتی حوالہ سے بھی میرے اقتباسات یا خطبات کو اکٹھا کر کے کوئی کتاب تیار کی ہے؟اس حوالہ سے دو کتب ہیں۔ایک کا تو انگریزی ترجمہ ہو چکا ہے۔

 حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:ایک کتاب ’سوشل میڈیا کے بد اثرات اوران سے کیسے بچا جا سکتا ہے ‘کے حوالے سے ہے۔کتاب کا ٹائٹل تو مجھے یادنہیں لیکن سوشل میڈیا کے بد اثرات کے حوالے سے ہے۔ یہ250صفحات کی کتاب ہے۔اس کا انگریزی میں ترجمہ ہو رہا ہے۔جب یہ تیار ہو جائے تو آپ یہ کتاب بھی خدام میں تقسیم کر سکتے ہیں۔

 حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا: اس وقت جماعت کے دو بڑے مسائل ہیں۔ایک مسئلہ جو کہ ہماری نوجوان نسل کو تباہ کر رہا ہے وہ سوشل میڈیا کا استعمال ہے اور دوسرا ازدواجی مسائل کا مسئلہ ہے۔ہماری جماعت میں شادی کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔دوسری کتاب کا موضوع ’’عائلی مسائل ان کا حل‘‘ہے۔اس کا ترجمہ ہو چکا ہے۔میرا خیال ہے لجنہ اماء اللہ یو کے نے شائع کی ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا: لجنہ ہر جگہ خدام الاحمدیہ کی نسبت زیادہ فعال ہوتی ہیں۔میں ہر جگہ یہ کہتا ہوں لیکن خدام پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔بلکہ مجھے یہ کہنا چاہئے کہ یہ سن کر خدام کو شرم نہیں آتی۔

ایک خادم نے عرض کیا کہ لجنہ کے حوالہ سے میں نے دیکھا ہے کہ وہ بہت زیادہ organisedہوتی ہیں۔ہر کام کی تفصیلی پلاننگ کرتی ہیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:     اصل بات آپ کی ترجیحات کی ہے۔اگر آپ مذہب کو دنیا پر ترجیح دیں گے تو آپ بہتر طور پر کام کر پائیں گے۔آپ خدام الاحمدیہ کے عہد میں دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا وعدہ کرتے ہیں۔اس لئے اگر آپ اپنے دین کو دوسری چیزوں پر فوقیت نہیں دیں گے تو آپ دینی کاموں کو بجالانے میں کس طرحorganisedہو سکتے ہیں۔اگر لجنہ زیادہ organisedہیں تو مجھے بتانے کی بجائے آپ کو افسوس کا اظہار کرنا چاہئے کہ آپ لوگ organised کیوں نہیں ہیں۔اس لئے آج وعدہ کریں کہ آپ آئندہ لجنہ کی نسبت زیادہ organisedہوں گے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا: جب شادی بیاہ کے مسائل کے حوالہ سے میری کتاب چھپی تھی تو خدام الاحمدیہ نے اس کا انگریزی ترجمہ کرنے کی اجازت طلب کی تھی۔میں نے اجازت دے دی لیکن ایک ہفتہ بعد مجھے پتہ چلا کہ لجنہ آدھی کتاب کا ترجمہ مکمل بھی کر چکی ہے۔ہر جگہ یہی حال ہے۔لیکن یو کے میں کم از کم خدام الاحمدیہ نے اب کوئی نہ کوئی قدم اٹھانے شروع کر دئیے ہیں لیکن یہاں آپ لوگ سوچتے ہی رہتے ہیں کہ ہم کوئی قدم اُٹھائیں لیکن عملی طور پر کبھی قدم نہیں اُٹھاتے۔

ایک عاملہ ممبر نے عرض کیا کہ ہیومینیٹی فرسٹ کے حوالہ سے جو اپیل کی جاتی ہے اس کے متعلق میرا سوال ہے۔انہوں نے یونیورسٹی میں AMSAکی طرز پر آرگنائزیشن بنائی ہوئی ہیں جس میں غیر احمدی لڑکے اور لڑکیاں سب شامل ہوتے ہیں۔ہم ان لوگوں کو اپنے پردہ کے معیار کے مطابق نہیں لا سکتے۔

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا: جماعتی پلیٹ فارمز پر ہومینیٹی فرسٹ کی اپیل نہیں ہونی چاہئے۔باقی ہیومینیٹی فرسٹ ایک چیریٹی کی تنظیم ہے۔ہم انہیں اس طرح کرنے سے  منع نہیں کر سکتے۔رسول کریمﷺ بھی دعویٰ نبوت سے قبل ایک تنظیم کا حصہ تھے جو غرباء کی مدد کرتی تھی اور اس تنظیم کا نام ’حلف الفضول‘رکھا گیا تھا۔آپ ﷺنے فرمایا کہ گو کہ اب میں خدا تعالیٰ کا نبی ہوں لیکن اگر غیر مسلم کوئی اس قسم کی تنظیم بناتے ہیں جس کے ذریعہ غرباء کی مدد کی جائے تو میں بڑی خوشی سے ایسی تنظیم کا حصہ بن جاؤں گا۔حالانکہ ان غیر مسلموں کے تقویٰ اور نیکی کے معیار اتنے بلند نہیں تھے لیکن اس کے باوجود رسولِ کریمﷺ اس قسم کے گروپ کا حصہ بننے کے لئے تیار تھے۔

مہتمم صنعت و تجارت نے سوال کیا کہ ہم بڑی کامیابی سے webinarsکا انعقاد کر رہے ہیں۔کیاہم ان webinarsمیں مربیان کوبھی معاشرتی مسائل پر گفتگو کرنے کے لئے مدعو کر سکتے ہیں؟

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: آپ کے شعبہ کا تعلق مذہبی مسائل سے نہیں ہے۔اس قسم کے سیمینار مہتمم تربیت کی طرف سے منعقد کئے جانے چاہئیں نہ کہ صنعت و تجارت کی طرف سے۔مربیان تو آپ کو یہی بتا سکتے ہیں کہ کم سے کم آمدن میں کس طرح گزارا کیا جاسکتا اور کس طرح طمانیت حاصل کی جاسکتی ہے؟اس سے زیادہ تو وہ آپ کو کچھ نہیں بتا سکیں گے۔

ایک عاملہ ممبر نے عرض کیا کہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا ہے کہ چھ گھنٹے کی نیند کافی ہوتی ہے۔لیکن بعض طلباء کہتے ہیں کہ آٹھ گھنٹے کی نیند ہونی چاہئے؟

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: یہ تو آپ پر منحصر ہے۔بعض لوگ پانچ گھنٹے کی نیند کے بعد بھی تازہ ہوجاتے ہیں۔لیکن چھ گھنٹے کافی ہیں۔چند سال پہلے میں نے کہیں پڑھا تھا کہ بعض رشین طالب علم روزانہ اوسطاً14گھنٹے پڑھتے ہیں۔اگر تو آپ کو محنت کی عادت ہے تو آپ کم از کم 12گھنٹے پڑھ سکتے ہیں۔اگر پڑھائی نہیں بھی کر رہے تو جماعتی کاموں میں یہ وقت دیں۔اگر آپ روزانہ 12گھنٹے کام کریں تو اس کے باوجود بھی آسانی سے چھ گھنٹے کی نیند پوری کر سکتے ہیں۔

اس کے بعد معاون صدر صاحب نے quranfacts.comکی ویب سائٹ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو دکھائی۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکے دریافت فرمانے پر معاون صدر صاحب نے عرض کیا کہ اس ویب سائٹ کے  مواد کے لئے زیادہ تر مربیان سے مدد لی گئی ہے۔

ایک عاملہ ممبر نے سوشل میڈیا اور فیس بک پرتبلیغ کرنے کے حوالے سے رہنمائی طلب کی۔

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:ٹرمپ کی وجہ سے Twitterزیادہ مقبول ہے۔میرے خیال میں Twitterپر زیادہ اچھا رسپانس ملتا ہے اسی لئے شاید ٹرمپ اسے استعمال کرتا ہے۔

ایک عاملہ کے ممبرنے عرض کیا کہ میں نے سنا ہے کہ یونیورسٹیوں وغیرہ میں دوسرے مذہب کے سکالرز وغیرہ سے debateنہیں کرنی چاہئے؟

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: میں نے تو ایسا نہیں کہا۔آپ لوگوں کو مذہبی مباحثوں سے بھاگنا نہیں چاہئے لیکن مباحثہ شروع ہونے سے پہلے بعض شرائط ہونی چاہئیں کہ کوئی دوسرے مذہب کے رہنما کو گالی نہیں دے گا۔دوسروں کو چاہئے کہ وہ اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کریں۔اس کی مثال ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملتی ہے۔اُس وقت ایک مباحثہ ہوا جس کی بنیادی شرط تھی کہ مباحثہ میں حصہ لینے والے کوئی بھی دوسرے مذہب کی برائی نہیں کرے گا بلکہ صرف اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کریں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسی مباحثہ کے لئے ’اسلامی اصول کی فلاسفی‘ تحریر فرمائی تھی۔آپ بھی اس قسم کے مباحثوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اختلافی موضوعات پر مباحثے نہ کریں۔آپ لوگ تو اپنے جذبات پر قابو پالیتے ہیں لیکن دوسروں کے جذبات پر آپ کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔شروع میں تو وہ وعدہ کرتے ہیں کہ وہ غصہ نہیں کریں اور بدکلامی نہیں کریں گے لیکن کچھ ہی دیر بعد وہ شدیدغصہ میں آجاتے ہیں اور پھر جو بھی ان کے منہ میں آتا ہے بول دیتے ہیں اور بعض اوقات نہایت غلیظ زبان استعمال کرناشروع کر دیتے ہیں۔

ایک ریجنل قائد نے عرض کیا کہ جو خدامactiveنہیں ہیں اُن کے ساتھ رابطہ کرنے کے حوالے سے کس قسم کی approachہونی چاہئے۔

اس پرحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا: میں پہلے بھی اس موضوع پر کئی مرتبہ بات کر چکا ہوں۔اس کا سب سے بہتر طریقہ یہی ہے کہ عہدیداران کا ایسے لوگوں کے ساتھ ذاتی رابطہ ہونا چاہئے۔آپ کو ایک ایسی ٹیم بنانی چاہئے جن کے ایمان مضبوط ہوں اور وہ ایسے لوگوں کے ساتھ دوستیاں لگائیں اور انہیں جماعت کے قریب کرنے کی کوشش کریں۔سب سے بہتر طریق ذاتی رابطہ ہے۔اور اس کے لئے آپ کو شریف النفس اور اچھے اخلاق کے مالک خدام کی ایک ٹیم بنانا پڑے گی جن کی عمر 20سے30کے درمیان ہو۔یا مختلف عمروں کے حساب سے بھی گروپ بنا سکتے ہیں۔کیونکہ اس قسم کے مسائل ہر عمر کے لوگوں میں نظر آرہے ہیں۔اس لئے جو خدام فعال نہیں ہیں ان کے ہم عمر خدام کو ٹیم میں رکھیں۔لیکن جن کو آپ ٹیم میں رکھتے ہیں وہ خود مضبوط احمدی ہونے چاہئیں اور ان کے اپنے ایمان مضبوط ہونے چاہئیں اور انہیں مذہب کا بھی علم ہونا چاہئے۔

مجلس خدام الاحمدیہ کی یہ میٹنگ تین بج کر 45منٹ پر ختم ہوئی۔

image_printپرنٹ کریں