skip to Main Content
عبدالماجدطاہر۔ایڈیشنل وکیل التبشیر لندن: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کادورہ ہالینڈ: قسط نمبر4

نیشنل مجلس عاملہ ،تینوں ذیلی تنظیموں کے اراکین عاملہ نیز واقفین نو و وافقات نو سے میٹنگزاور ہدایات

30ستمبر2019ء بروز اتوار

حضورانورایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنےصبح6بجکر30منٹ پرمسجدبیت النورمیں تشریف لاکر نمازفجرپرھائی۔نماز کی ادائیگی کےبعدحضورانورایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزاپنی رہائش گاہ پرتشریف لےگئے۔
حضورانورایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنےدفتری ڈاک ملاحظہ فرمائی اورہدایات سےنوازااورمختلف دفتری امورسرانجام دیئے۔

نیشنل مجلس عاملہ سے میٹنگ اور ہدایات

پروگرام کے مطابق صبح11بجکر10منٹ پرحضورانورایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزبیت النورتشریف لائےاورنیشنل مجلس عاملہ جماعت ہالینڈکی حضورانور کےساتھ میٹنگ شروع ہوئی۔ حضورانورنے دعاکروائی۔
 بعدازاں حضورانورنےمکرم جنرل سیکرٹری سےجماعتوں اورتجنیدکےبارہ میں دریافت فرمایا۔جنرل سیکرٹری نےعرض کیاکہ جماعتوں کی تعداد17ہےاوررجسٹرڈ تجنید1612ہے۔یک صدکےقریب ایسےاحباب ہیں جوابھی تصدیق کےپراسیس میں ہیں۔
حضورانورکےاستفسار پرجنرل سیکرٹری نےبتایاکہ ہماری دوتین جماعتیں فعال نہیں ہیں اورباقی سب جماعتیں فعال اورActiveہیں اوران کی طرف سےباقاعدہ رپورٹس موصول ہوتی ہیں۔ایڈیشنل جنرل سیکرٹری رپورٹ کےحوالہ سےتمام صدران سےرابطہ کرتےہیں اوریاددہانی بھی کرواتے ہیں۔ حضورانورنےہدایت فرمائی کی جن کی رپورٹس نہیں آتیں ان کےصدران کوتوجہ دلائیں۔
نیشنل سیکرٹری تبلیغ سے حضورانورنےتبلیغی منصوبہ بندی اورپروگراموں کےبارہ میں دریافت فرمایا۔ اس پر سیکرٹری تبلیغ نے بتایا کہ ہم نے نیا تبلیغی پلان بنایا ہے۔ اب حضور انور جو ہدایات دیں گے ہم وہ بھی اس میں شامل کریں گے۔حضور انور کے استفسار پر بیعتوں کی رپورٹ کے حوالہ سے جنرل سیکرٹری نے بتایا کہ اس سال ہماری بیعتوں کی تعداد7 تھی۔ہم نے سابقہ 100بیعتوں کا ٹارگٹ اپنے مد نظر رکھا ہوا ہے۔حضور انور نے دریافت فرمایا کہ کیا لوکل لوگوں نے بھی بیعت کی ہے؟ اس پر عرض کیا گیا کہ مقامی لوگوں نے بھی بیعت کی ہے۔ وہ نوجوان ہیں اور جلسہ سالانہ پر آئے ہوئے ہیں اور ڈیوٹیاں بھی دے رہے ہیں۔
نیشنل سیکرٹری ضیافت سے حضورانور نے دریافت فرمایا کہ جلسہ پرمہمانوں کےکھانےکاانتظام کس کےسپردتھا؟اس پر سیکرٹری ضیافت نے عرض کیاکہ انہیں کےسپردتھا۔حضورانورنےاستفسار فرمایاکہ آپ کی توقع سےبہت زیادہ مہمان آئے۔ 5ہزارسےزائدمہمان آئے۔کیاسب کےکھانےکا انتظام ہوگیاتھا۔اس پرسیکرٹری صاحب نےبتایاکہ ہم نےتیاری کی ہوئی تھی،تمام مہمانوں کو کھانا مہیا کیاگیا۔آلو گوشت، دال اورروٹی کےعلاوہ ہم نے چاول بھی مہیا کئےتھے۔
نیشنل سیکرٹری تعلیم القرآن ووقفِ عارضی نےاپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئےبتایاکہ وقفِ عارضی کےشعبہ میں خاص کام نہیں ہوا۔بہت کمی ہے۔اس پرحضورانورنےفرمایاکہ پہلےاپنی عاملہ کوکہیں کہ وقفِ عارضی کےلئےوقت دیں۔ پھرخدام،انصاراورلجنہ کی مجالس عاملہ ہیں ان کوکہیں کہ ان کی عاملہ کےممبران وقفِ عارضی کریں پھرآپ کی مقامی جماعتیں ہیں ان کی مجالس عاملہ ہیں۔پھرذیلی تنظیموں کی مجالس کی عاملہ ہیں۔مختلف لیول پران سب مجالس عاملہ کےممبرانACTIVEہو جائیں توسب ٹھیک ہوجائےگا۔وقفِ عارضی کےلئےضروری نہیں کہ سپین بھجواناہے بلکہ ہالینڈمیں بھی وقفِ عارضی کرسکتےہیں۔بچوں کوقرآن کریم پڑھانے،دینی تعلیم پڑھانےکی کلاسزلیں۔اپنی عاملہ سےرپورٹ لیں اورپھرمجھے رپورٹ بھجوائیں کہ عاملہ میں سےکتنےممبران نےاپنےآپ کو15دن کےلئےوقف عارضی کےلئےپیش کیاہے۔اگرآپ تمام مجالس عاملہ سے75فیصدٹارگٹ لےلیں وقفِ عارضی کےلئے،تواس کامطلب ہےکہ آپ نے75فیصدکو INVOLVEکرلیاتو اس طرح کام شروع کریں۔
نیشنل سیکرٹری تحریکِ جدیدنےحضورانور کے استفسار پر بتایاکہ ہمارے چندوں میں بہتری آرہی ہے۔ہم اس کےلئےجماعتوں کےدورے بھی کررہےہیں۔ حضورانورنےفرمایاسیکرٹری صاحب مال کےساتھ بیٹھ کرچندوں کےمعیاراورچندہ دینے والوں کی حیثیت کاجائزہ لیاجاسکتاہےاورپھر ٹارگٹ دیا جاسکتا ہے۔زیادہ پریشر نہ ڈالیں اور یہ بھی نہ ہو کہ بالکل ڈھیلے ہو جائیں۔
نیشنل سیکرٹری وقف جدید کو اطفال کے چندہ کے حوالہ سے حضور انور نے ہدایت دیتے ہوئے فرمایا کہ اطفال کا چندہ اطفال کے ذمہ لگائیں۔ ایک چندہ تو ان کے سپرد کریں۔ خدام کو ٹارگٹ دیں کہ اطفال کی تجنید اتنی ہے اس لیے اتنا ٹارگٹ ہے۔ایک برگرکتنےکاآتاہے؟کم ازکم اتناتارگٹ توہو۔
حضورانورکی خدمت میں عرض کیاگیاکہ یہاں یہ سمجھاجاتاہےکہ7سے 12سال تک کےطفل سےچندہ وقف جدید لیناہے۔اس پر حضورانورنےفرمایایہ درست نہیں ہے۔7تا15سال دفتراطفال ہے12سال تک نہیں بلکہ15سال تک ہے۔ اطفال کی عمر15سال تک ہے۔
نیشنل سیکرٹری تربیت سےحضورانورنےدریافت فرمایاکہ اب توآپ کےپاس4مساجدہیں۔فجراورمغرب وعشاءپرکتنے لوگ آتےہیں؟سیکرٹری تربیت نےعرض کیاکہ ان مساجد کےعلاوہ ہمارےپاس مختلف جماعتوں میں30نماز سینٹرز ہیں جوہم نےگھروں میں بنائےہوئےہیں۔70فیصدپانچ وقت نمازادا کرتے ہیں،ان میں سے66فیصدباجماعت اداکرتےہیں۔50فیصد لوگ سینٹرز میں جاکرنمازپڑھتےہیں۔
حضورانورنےپاکستان سےآنےوالےمربّی سلسلہ عدیل باسم کےبارہ میں دریافت فرمایاکہ وہ کہاں مقیم ہیں۔اس پرعرض کیاگیاکہ وہARNHEM میں ہیں اوروہاں جماعت نے2سینٹرزبنائے ہوئےہیں اور یہ باری باری دونوں سینٹرز میں جاتےہیں اورنمازیں بھی پڑھاتے ہیں۔
مقامی طورپرخطبہ جمعہ کےحوالہ سےحضورانورنےمبلغ انچارج سےدریافت فرمایاکہ کب شروع کرتےہیں اورکب ختم کرتےہیں۔اس پرمبلغ انچارج نےعرض کیاکہ جماعتوں میں خطبہ جمعہ قریباًڈیڑھ بجے کےلگ بھگ شروع کرتےہیں۔دس پندرہ منٹ کاخطبہ ہوتاہے۔2بجےسے قبل نمازِجمعہ وغیرہ سےفارغ ہوجاتےہیں۔اس کےبعد پھرحضورانورایّدہ اللہ تعالیٰ کاخطبہLiveسناجاتاہے۔
حضورانورنےفرمایاکہ آپ جہاں اپنےخطبات میں گزشتہ خطبہ کاخلاصہ بیان کرتےہیں وہاں ضرورت کےمطابق یہاں کےمقامی مسائل بھی بیان کردیاکریں۔ خصوصاًنمازوںکی طرف توجہ دلایاکریں۔
حضورانورنےاصلاحی کمیٹی کےقیام کےحوالہ سےدریافت فرمایاکہ آپ کوپتہ ہےاس کاکیامطب ہے۔کیایہ مقامی جماعتوں میں بھی قائم کی گئی ہے۔جہاں نہیں ہےوہاں بھی بنائیں۔ حضورانورنےفرمایااس کامطلب یہ ہےکہ مسائل کھڑے ہونےسےقبل نظررکھیں۔اصلاحی کمیٹی کاکام ہےکہ قبل اس کےکہ مسئلہ کھڑاہو اور معاملہ زیادہ بڑھ جائےاس سےپہلےہی نظررکھےاورآغازمیں ہی اصلاحی کاروائی کرے۔
نیشنل سیکرٹری تربیت چیئرمین اصلاحی کمیٹی نےعرض کیانیشنل کمیٹی کےعلاوہ بعض بڑی جماعتوں میں یہ کمیٹیاں بنائی گئی ہیں۔بعض معاملےاصلاحی کمیٹی کےپاس آتےہیں۔کچھ معاملےایسےہوتےہیں جوبڑھ جاتےہیں اورقضاءکےپاس چلے جاتے ہیں۔اس موقعہ پرسیکرٹری امورِعامہ نےبتایاکہ حضورانورایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کاجلسہ جرمنی کےموقعہ پرخطاب سن کرایک جوڑےنےواپسی کافیصلہ کرلیا۔یہ دونوں بالکل علیحدگی کےقریب تھے،وہاں سےان کی واپسی ہوئی اورانہوں نےآپس میں صلح کرلی اوراپنےتمام مطالبات ختم کردیئے۔
نیشنل سیکرٹری امورخارجیہ سےحضورانورنےدریافت فرمایاکہ ALMERE میں مسجدکےافتتاح کےحوالہ سےجوتقریب ہےاس میں کتنےمہمان آرہےہیں؟اس پرسیکرٹری صاحب نےبتایاکہ پارلیمنٹ کاسیشن ان دنوں جاری ہے،حکومت کےمختلف اداروں اورمحکموں سےمہمان آئیں گے۔اس پرحضورانور نےفرمایاایسےپروگراموں کےلئےجوبھی تاریخ رکھنی ہوجائزہ لینےکےبعدرکھنی چاہئے۔
حضورانورنےفرمایاآپ کےبعض اسائیلم کیسز لٹکےہوئےہیں۔یہ جلد کروائیں۔اس پرسیکرٹری صاحب نےعرض کیاکہ حکومت نےاپنےبعض محکموں میں سٹاف کم کیاتھاجس کی وجہ سےتاخیرہوئی ہے۔انشاءاللہ تعالیٰ اس سال جلدیہ کیسز ہوجائیں گے۔
نیشنل سیکرٹری صنعت وتجارت کوحضورانورنےہدایت دیتےہوئےفرمایا کہ یہاں اسائیلم کےلئےلوگ آئے ہوئےہیں۔بعض امیگریشن ہو کر بھی آئے میں ان سے مل کر کام کریں۔ایک دوسرے کی مدد بھی ہو جائے گی۔
نیشنل سیکرٹری وقفِ نونےحضورانورکےاستفسارپراپنی رپورٹ پیش کرتےہوئےبتایاکہ اس وقت شعبہ وقفِ نوکےتحت123لڑکےاور92 لڑکیاں ہیں۔اس وقت یونیورسٹی میں13لڑکےاورلڑکیاں ہیں۔ان میں سے آٹھ لڑکیاں اور پانچ لڑکے ہیں۔
حضورانورنےفرمایالڑکیاں یونیورسٹی میں زیادہ ہیں۔لڑکےبھی زیادہ آگےآئیں جوڈاکٹرز،ٹیچرز، انجئینرز وغیرہ نہیں بن رہے،جامعہ میں نہیں جارہےمیں نےہدایت دی تھی کہ پبلک سروسز میں بھی جائیں۔اس بارہ میں کوشش کریں۔
نیشنل سیکرٹری جائیداد سےحضورانورنےکام کےبارہ میں دریافت فرمایا۔ موصوف نےبتایاکہ انہوں نےنن سپیٹ میں محترم حنیف کےساتھ تعمیراتی کام کیاہے۔تعلیمی لحاظ سےانہوں نےانجئینرنگ میں ڈگری لی ہوئی ہے۔
نیشنل سیکرٹری رشتہ ناطہ نےاپنی رپورٹ پیش کرتےہوئےبتایاکہ12 رشتے طے ہوئےہیں،آٹھ دس پراسس میں ہیں۔لڑکےلڑکیوں کی فہرست قریباً برابرہے۔اس پرحضورانور نے فرمایا۔فہرست برابرہےتو پھرجلدی جلدی میچ کروائیں۔
انٹرنل آڈیٹرنےبتایاکہ انہوں نےابھی کام شروع کیاہے۔
ریجنل امراءبھی اس میٹنگ میں موجودتھے۔ایک ریجنل امیر بریمن لمبرگ سےحضورانورنےدریافت فرمایاکہ کیاامیرصاحب آپ کوسپیشل کام دیتے ہیں یاآپ عمومی طورپراپنےریجن کی جماعتوں کودیکھتےہیں۔اس پرموسوف نےعرض کیاکہ اس وقت ایک مسجدبنانےکاپروگرام ہے۔ہم ساؤتھ میں مسجدبناناچاہتےہیں۔اس پر حضورانورنےفرمایامسجدبنائیں کس نےروکاہے؟عرض کیاگیاکہ ان کےریجن میں مربّی نہیں ہےرہائش کابھی مسئلہ ہے۔اس پرحضورانورنےفرمایا۔جماعت غریب نہیں ہےتومسجدبنائے،گھرلے،نمازسینٹر بنائے۔مربّی کورہائش دے۔حضور انورنےفرمایا آپ ممبران کواِنکرج کریں اورتوجہ دلائیں۔
نیشنل سیکرٹری وصایانےاپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئےبتایاکہ کل 406موصی ہیں۔اکثرین گھرکی عورتیں یاطلباءہیں۔اس پرحضورانورنےفرمایا اصل یہ ہےکہ کمانےوالوں میں کتنےموصی ہیں۔یہ زیادہ ہونےچاہئیں۔
سیکرٹری مال نےعرض کیاکہ167کمانےوالےہیں۔ان میں92انصار ہیں، 56خدام ہیں اور17لجنہ ہیں۔
نیشنل سیکرٹری وصایانےعرض کیاکہ کمانےوالوں میں سے41فیصد موصی ہیں۔حضورانورنےفرمایا 167کمانےوالوں میں سےچوراسی،پچاسی موصی ہونے چاہئیں۔
حضورانورنےیہاں کی ماہانہ انکم،فی گھنٹہ جواجرت ملتی ہےاس حوالہ سے تفصیلی جائزہ لیا۔سیکرٹری صاحب نےعرض کیاکہ فی گھنٹہ اجرت بھی عمرکے حساب سے مختلف ہےجو20,19سال کےنوجوان ہوتےہیں اورکام کرتےہیں۔بعض دفعہ طلباء رخصتوں میں کام کرتےہیں۔ان کی اجرت کم ہوتی ہےاورجواس سےزیادہ عمر کےہیں۔30سال کےلگ بھگ ہیں ان کی فی گھنٹہ اجرت زیادہ ہوتی ہے۔اس لحاظ سےکام کرنےوالوں کی ماہانہ انکم مختلف ہوتی ہے۔
حضورانورنےسیکرٹری صاحب مال سے دریافت فرمایاکہ کیا167کمانے والےسب چندہ دیتےہیں۔جس پرموصوف نےعرض کیاکہ سب دیتےہیں لیکن ان میں سے70فیصدباشرح دیتےہیں۔چندہ دینےوالوں کی کل تعداد608ہے۔
نیشنل سیکرٹری سمعی وبصری سےحضورانورنےاستفسار فرمایاکہ کیاکوئی پروگرام بناتےہیں جس پرموصوف نےعرض کیاکہ پروگرام بناتےہیں۔امیر صاحب نےکام سپردکیاہواہے۔ہم لوکل طورپر پروگرام بناتےہیں۔
ایڈیشنل سیکرٹری اشاعت نےحضورانورکےاستفسار پراپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایاکہ میں یہاں پبلیکیشن کمیٹی کاممبرہوں اس وقت تحفہ قیصریہ کاترجمہ کررہاہوں۔
محاسب نےحضورانورکی خدمت میں عرض کیاکہ تمام اخراجات کاحساب دیکھتاہوں۔سیکرٹری مال کےساتھ مل کرچیک کرتاہوں۔پھرہم دونوں آپس میں کراس چیک بھی کرتے ہیں۔مختلف ڈیپارٹمنٹس کےبجٹ کےلئےمیں نےکوشش کی ہےکہ سب اپنےاپنےبجٹ کےاندر رہیں۔
حضورانورکی خدمت میں رپورٹ پیش کی گئی کہ یہاں لوگ سوشل لیتےہیں اورکام نہیں کرتےاوربعض ایسےہیں جوسوشل لینےکےساتھ ساتھ خفیہ طورپرکام بھی کرتے ہیں۔
اس پرحضورانورنےفرمایاکہ میں اپنےخطبوں میں ذکرکرچکاہوں کہ سوشل نہ لیں اوراپناکام کریں۔حضورانورےفرمایاجوکمزورہیں سیکرٹری تربیت اورمبلغین کاکام ہے کہ ان کوسمجھاتےرہیں۔
حضورانورنےفرمایا:جوسوشل لےرہےہیں کام نہیں کرتےاورٹیکس بچاتے ہیں ان کو2دفعہ سمجھائیں کہ اپنی اصلاح کریں۔اگریہ اصلاح نہیں کرتےتوپھر قانون کوبتادیں۔کسی ہمدردی کی ضرورت نہیں ہےقانون کی پابندی کریں۔
حضورانورنےسیکرٹری امورِعامہ کوہدایت فرمائی کہ امورعامہ اورشعبہ صنعت وتجارت مل کرکام کریں کہ نئےآنےوالوں کوکس طرح کام مہیاکرنا ہے۔ان کی کس طرح مددکی جاسکتی ہےاوران کوکوئی کام دلوایا جاسکتاہے۔یہ کام بھی امورِعامہ کاہےکہ لوگوں کی کام کےحصول میں راہنمائی کرےتاکہ ان کےاپنےمالی حالات بہترہوں۔
باجماعت نمازکی ادائیگی کےحوالہ سےحضورانورنےفرمایاکہ نیشنل عاملہ کے ممبران کوفجراورعشاءکی نماز مساجد،سینٹرمیں جاکراداکرنی چاہئے۔جوممبران نہیں آتے 3ماہ بعدان کی حاضری کی رپورٹ کریں۔نیشنل عاملہ کی حاضری کی رپورٹ صدر جماعت،امیرصاحب کودےدیاکریں
سیکرٹری تبلیغ نے عرض کیاکہ تبلیغ کےلئےبجٹ بہت کم ہوتاہے۔ جس کی وجہ سےپروگرام نہیں کئے جاسکتے۔حضورانورنےفرمایاتبلیغ کےلئےبجٹ دیناچاہئے۔چندہ اشاعتِ اسلام کےلئے ہی دیاجاتاہے۔
حضورانورنےجماعت ہالینڈکےبجٹ کااورمختلف مدّات کاتفصیل سے جائزہ لیااورفرمایاکہ کل بجٹ کا10فیصدتبلیغ کودیں۔
حضورانورنےفرمایاجن برانچز کی اچھی مالی حالت ہےوہ اپنےروزمرّہ کے اخراجات خود برداشت کرسکتی ہیں۔
حضورانورنےسیکرٹری تبلیغ کوفرمایا۔پہلےآپ پلان کریں۔کونسابڑا ایونٹ کرناہے۔بل بورڈزہیں،لیف لیٹس،بروشر کی تقسیم کامنصوبہ ہے۔اپنے امیرصاحب کوتبلیغ کاپلان بناکردیں۔پھر اس کامسلسلfollow upکریں۔
حضورانورنےفرمایاآپ اپنی شوریٰ مئی میں کیاکریں اورتمام شعبے اپنے بجٹ پہلےبھجوایاکریں۔
نیشنل مجلس عاملہ ہالینڈکی حضورانورکےساتھ یہ میٹنگ سوابارہ بجے تک جاری رہی۔آخرپرمجلس عاملہ کےممبران نےحضورانورکےساتھ تصویر بنوانے کی سعادت پائی۔

نیشنل مجلس عاملہ انصاراللہ کے ساتھ میٹنگ اور ہدایات

بعدازاں نیشنل مجلس عاملہ انصاراللہ ہالینڈکی حضورانورکےساتھ میٹنگ شروع ہوئی۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے دعا کروائی۔
حضور انور نے قائد عمومی سے دریافت فرمایا کہ آپ کی مجالس کتنی ہیں اور کیا سب باقاعدہ رپورٹس بھجواتی ہیں اوران رپورٹس پرتبصرہ بھی کرتےہیں؟اس پر قائدعمومی نےجواب دیاکہ ہماری14مجالس ہیں اورسب باقاعدہ رپورٹس بھجواتی ہیں اورہم اپناتبصرہ،جواب ان کوبھجواتےہیں۔ایمسٹرڈم بیت المحمودمیں ہم نےاپناآفس بنایاہواہے۔
قائدمال سےحضورانورنےبجٹ کےبارہ میں دریافت فرمایاکہ آپ کا بجٹ کس طرح بنتاہے؟اس پرموصوف نےعرض کیاکہ ہم مجالس کےزعماءکوفارم بجھواکربجٹ اکٹھاکرتےہیں۔پھراس کےذریعہ ہمارامجموعی بجٹ تیارہوتاہے۔اس وقت30ہزار یوروہماراسالانہ بجٹ ہے۔اس پرحضورانورنے فرمایااگرہرناصراپنی آمدکےحساب سے انصارکاچندہ دےتوبجٹ بڑھ سکتاہے۔
قائدتربیت سےحضورانورنےدریافت فرمایاکہ تربیت کاکیاپلان ہے۔ کتنےانصارباجماعت نمازاداکرتےہیں۔اپنی نیشنل عاملہ کےممبران کو،اسی طرح اپنی مجالس کی عاملہ کےممبران کوباجماعت نماز کاعادی بنائیں۔ان سب کونماز فجر اورعشاءپراپنےاپنےسینٹرمیں آناچاہئے۔کم ازکم یہ2نمازیں توباجماعت اداہوں۔
حضورانورنےفرمایاآپ کی نیشنل عاملہ کےممبران اور مقامی مجالس کی عاملہ کےممبران،جہاں جہاں بھی سینٹر ہیں وہاں فجراورعشاءپرآئیں۔
 نائب صدر صفِ دوم سےحضورانورنےدریافت فرمایاکہ کتنےانصارسائیکل چلاتےہیں۔اس پر نائب صدر صفِ دوم نےعرض کیاکہ بعض انصار سائیکل چلاتےہیں اورکئی انصاربہتACTIVEہیں۔
قائدتجنیدنےاپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئےعرض کیاکہ اس وقت انصارکی تجنید266ہے۔
قائدایثارنےحضورانورکےاستفسارپرعرض کیاکہ انصارعیادت کےلئے ہسپتال جاتے ہیں۔OLD AGEہاؤسزمیں جاتےہیں۔اسی طرح ہم نےرقم اکٹھی کرکےافریقہ میں2کنویں لگائے ہیں۔کل20ہزاریورواکٹھاکرکےہم نےہیومینٹی فرسٹ کودیاہے۔
قائد تربیت نومبائعین سےمخاطب ہوتےہوئےحضورانورنےفرمایاکہ انصاراللہ ہرسال50نئی بیعتیں کروائے۔50نئےConcertکرے۔
مختلف مجالس کےزعماءبھی اس میٹنگ میں موجودتھے۔حضورانورنےزعیم ایمسٹرڈم سینٹر سےنمازوں کےبارہ میں دریافت کیاکہ کیامسجدمحمودمیں اداکرتے ہیں اوروہاں کتنی حاضری ہوتی ہے؟اس پرموصوف نےعرض کیاکہ مسجد محمود دور ہے۔لوگوں کےپاس گاڑی نہیں۔آتے ہوئے دیر لگتی ہے۔کچھ سستی بھی ہے۔اس پرحضورانور نےفرمایا سستی زیادہ ہے،دیرکم ہے۔
قائدذہانت وصحتِ جسمانی سےحضورانورنےاستفسارفرمایاکہ کتنےلوگ ورزش کرتےہیں۔سائیکل چلاتےہیں۔اس کاجائزہ ہوناچاہئے۔
 قائدتبلیغ سےحضورانورنےاستفسارفرمایاکہ آپ کاتبلیغ کاپلان کیا ہے؟اس پرقائدتبلیغ نےعرض کیاکہ ہماراتبلیغ کابجٹ اڑھائی ہزاریوروہے۔ایک ہم پیس کانفرنس کاانعقادکرتےہیں چونکہ وہ جماعتی سینٹر میں ہوتی ہےاس لئے2ہزاریورومیں ہوجاتی ہے۔اس کےعلاوہ ہماراچیرٹی واک کاپروگرام ہوتاہے۔اس کےذریعہ بھی تبلیغ کی راہیں کھلتی ہیں۔
حضور انور نے فرمایا : جو انصار کے ذریعہ بیعتیں ہوتی ہیں تو آپ جماعتی شعبہ تربیت نومبائعین کو بتا دیتے ہیں کہ انصار کے ذریعہ یہ یہ بیعتیں نومبائعین کو بتا دیتے ہیں کہ انصار کے ذریعہ یہ یہ بیعتیں ہوئی ہیں اور ان کے سپرد کر دیتے ہیں۔
حضورانورنےفرمایایہاں افریقنوں کی،عربوں کی پاکٹس ہوں گی۔ان کاجائزہ لیں اوروہان کام کریں۔تبلیغ کریں۔
معاون صدرانصاراللہ نےعرض کیاکہ ہم گیسٹ ہاؤس انصاراللہ کےپراجیکٹ پرکام کررہےہیں۔
نائب صدراوّل نےعرض کیاکہ صدرمجلس انصاراللہ جوکام میرےسپرد کرتے ہیں،میں اسےسرانجام دیتاہوں۔ان کی غیرحاضری میں بھی قائمقام صدر کےفرائض انجام دیتاہوں۔
قائدتعلیم نےاپنی رپورٹ پیش کرتےہوئےبتایاکہ ہم سال میں5کتابیں رکھتےہیں۔حضرت مسیح موعودؑ کی کتب’’برٹش گورنمنٹ اورجہاد‘‘اور’’مسیح ہندوستان میں‘‘ہوچکی ہیں۔حضورانورنےفرمایاحضرت اقدس مسیح موعودؑ کی جوبڑی کتب ہیں ان کومختلف حصوں میں تقسیم کرکےرکھاکریں۔حضورانورنےفرمایا۔’’حقیقۃالوحی‘‘ کو5 حصوں میں تقسیم کرلیں اب آئندہ’’حقیقۃالوحی‘‘کے100 صفحات رکھ لیں۔انصار کوپتہ چل جائےگا کہ خواب کی،الہام کی اصل حقیقت کیاہے۔
عاملہ کےایک ممبر نےحضورانورکی خدمت میں عرض کیاکہ لوگ رپورٹ نہیں دیتےجب ان سےنمازوں اوردوسرے کاموں کی رپورٹ مانگی جاتی ہےتوکہتےہیں کہ یہ ہمارااورخداکامعاملہ ہے۔ہم آپ کوپورٹ نہیں دیں گے۔اس پرحضورانور نےفرمایاایسے لوگوں کوسمجھاناچاہئے۔ان کوبتاناچاہئےکہ آنحضرتﷺ نےیہ کیوں فرمایاکہ جولوگ نماز پرنہیں آتےان کاگھرجلادوں۔اگریہ خداکامعاملہ ہےتوپھرآپؐ رہنےدیتےاورکچھ نہ کہتے۔کیوں کہاکہ گھرجلادوں!پس ایسےلوگوں کوسمجھائیں اوران کےجائزےلیتےرہیں۔عمومی جائزہ لےلیں۔ایسا فارم بنالیں کہ بس خانےکوٹِک کردیاکریں۔زیادہ تفصیل میں نہ جائیں۔
حضورانورنےفرمایااپنی مجالس کےزعماءکوتلقین کریں کہ وہ انصارکوکہیں کہ جوہمارےنمازسینٹرہیں ان میں نمازکےلئےآیاکریں۔توجہ دلاناضروری ہے۔
حضورانورنےفرمایاجولوگ یہ کہتےہیں کہ ہم سےنہ جماعتی طورپراور نہ انصاراللہ کےطورپرابطہ کرو۔ان سےپوچھاجائےکہ آپ یہاں کس لئے آئے تھے۔آپ جماعتی طورپرہی آئےتھے۔آپ ایسے لوگوں کےبارہ میں اپنی مقامی جماعت کےصدرکوبتادیں اورامیرصاحب کوبھی بتائیں۔پھرمرکزلکھ دیں کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم سےرابطہ نہ کرو۔
قائدتعلیم نےعرض کیاکہ ہم کتب کےمطالعہ کےبعدپرچےبھجواتےہیں لیکن انصارکی طرف سےحل ہوکرنہیں ملتے۔245تجنیدکوسامنےرکھتےہوئے ہم نےسال کےدوران4پرچےجاری کئےاورجواب میں صرف70پرچے آئے۔اس پرحضورانور نےفرمایایعنی قربیاً1ہزارمیں سے70آئے۔
حضورانورنےفرمایااپنےزعماءکوACTIVEکریں۔سب سےپہلےاپنی نیشنل عاملہ کوپکڑیں،پھرمقامی مجالس عاملہ ہیں ان سب سےپرچےحل کروائیں۔ لوگوں کےپیچھےپڑنےکی بجائےخودگھر سےشروع کریں۔انصارکوکہیں کہ پرچےمیں صرف اپنانام لکھ کربھجوادوکہ کتاب پڑھ لی ہے۔آخرکچھ دفعہ کرنےکےبعد پھرپرچہ حل کرکےبھجواہی دےگا۔
حضورانورنےفرمایاجوعربی جانتےہیں اورڈچ زبان جانتےہیں ان کےلئے ان کی زبان میں پرچہ ہوناچاہئےاورجونصاب مقررکرناہےوہ بھی ان کی اپنی زبان میں ہو۔
حضورانورنےفرمایاکہ حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ نےفرمایاتھا۔مجھےسمجھ نہیں آتی کہ40سال کاخادمACTIVEکام کررہاہوتاہےجب41ویں سال میں داخل ہوتاہے۔انصاراللہ میں جاتاہےتوپھراس جیسا سست کوئی نہیں ہوتا۔
حضورانورنےفرمایا۔بس آپ نےہرایک کونصیحت کرنی ہے۔خداتعالیٰ نےیہی فرمایاہےکہ نصیحت کرتے چلےجاؤ۔
حضورانورنےفرمایاکہ قائدمال اورقائدتربیت مل کرکام کریں۔جوسست مسجد نہیں آتے،چندہ نہیں دیتےتودونوں کومل کرکوشش کرنی چاہئےکہ ان کوجماعت کےقریب لائیں۔حضورانورنےفرمایااپنےذاتی رابطےبھی بنائیں،ان سےجا کرملیں۔ ان کومعلوم ہوکہ آپ ان کوملنے جارہےہیں لیکن چندہ وغیرہ کےلئےنہیں بلکہ ذاتی ابطہ اورایک تعلق اوردوستی کےلئےملے ہیں۔اس طرح یہ لوگ قریب آجائیں گے۔
حضورانورنےفرمایااگر کوئی چندہ نہیں دیتااوراپنےآپ کواحمدی کہتاہےتو آپ اس کوانصارکی تجنیدمیں سےنہیں نکال سکتے۔جب تک وہ کہتاہےکہ میں احمدی ہوں خواہ چندہ دےیانہ دےآپ نےاسےاپنی تجنیدمیں شامل رکھناہے۔
حضورانورنےفرمایاان کےلئےپلان بنائیں۔تربیت لمباپراسس ہےہماراکام نصیحت کرناہے۔جماعت سےدوڑانابڑاآسان کام ہے۔جماعت میں لانامشکل کام ہے۔
ایک ممبرنےعرض کیاکہROTTERDAMمیں چرچ کی خریدکا معاملہ ہےاس پرحضورانورنےفرمایا۔آپ امیرصاحب کوبتائیں۔میں نےکب روکاہے۔
ایک سوال کےجواب میں حضورانورنےفرمایاجوشرح سےچندہ نہیں دیتےوہ عہدیدارنہیں بن سکتے۔کم شرح سےجودیناچاہتاہےوہ اجازت لےلے۔میں اجازت دےدیتاہوں۔لیکن پھروہ عہدیدارنہیں بن سکتا۔
حضورانورنےفرمایایہ بتاناچاہئےچندہTAXنہیں ہے۔خداتعالیٰ کےاحکام میں مالی قربانی کاحکم ہےاوریہ خداتعالیٰ کی رضاکےحصول کےلئےہے۔
نیشنل مجلس عاملہ انصاراللہ کی یہ میٹنگ دوپہر1بجےختم ہوئی۔آخرپرممبران نےحضورانور کےساتھ تصویربنوانےکی سعادت پائی۔
نیشنل مجلس عاملہ خدام الاحمدیہ کے ساتھ میٹنگ اور ہدایات
بعدازاں پروگرام کے مطابق نیشنل مجلس عاملہ خدام الاحمدیہ ہالینڈکی حضورانورکےساتھ میٹنگ شروع ہوئی۔حضورانورنےدعاکروائی۔
معتمدنےحضورانورکےاستفسارپربتایاکہ ہماری10مجالس میں370کی تجنید ہےاورہماری سب مجالس کی طرف سےرپورٹ آتی ہے۔
مہتمم تربیت سےحضورانورنےدریافت فرمایاکہ کیاپلان بنایاہے۔؟ایک سال میں کیاٹارگٹ حاصل کیاہے۔؟ایک سال میں کتنےباجماعت نمازی بنائے۔؟اس پرموصوف نےعرض کیاکہ40فیصدخدام ایک نمازباجماعت پڑھتےہیں۔اس پرحضورانور نےفرمایااپنی نیشنل عاملہ اورمقامی مجالس عاملہ کوباجماعت نمازی بنادیں توباقی سب ٹھیک ہوجائےگا۔
حضورانورنےفرمایاآپ کی نیشنل عاملہ اورمقامی مجالس عاملہ کےممبران 100ہوگئے۔یہ سب باجماعت نماز پڑھنے لگ جائیں تو100ہوجائیں گے۔ان 100کودیکھ کرپھرپچاس ساٹھ اوربھی آجائیں گے۔تب آپ40فیصد کےقریب پہنچیں گے۔پھرآہستہ آہستہ50فیصد،60فیصدتک جائیں گے۔
حضورانورنےفرمایاجتنےبھی مبلغین ہیں سب خدام کوتوجہ دلائیں کہ نمازوں پرآیاکریں،خدام سےتعلق بڑھائیں اوراتنےاپنےقریب لائیں۔
مہتمم تبلیغ نےاپنی رپورٹ پیش کرتےہوئےبتایاکہ ہم سال میں4تبلیغی کمپین کرتےہیں۔ہمیں ایک بیعت حاصل ہوئی ہے۔
حضورانورنےفرمایاکہ تبلیغ کرناآپ کاکام ہے۔دعاکرکےتبلیغ کرنی ہے اور تھکنا نہیں ہے۔ہدایت دیناخداکاکام ہے۔آپ کاکام ہےکہ ہرایک کوپیغام پہنچادیں۔نن سپیٹ کےلوگ بھی جماعت کونہیں جانتے۔شہرجاکرجماعت کاتعارف کروائیں تاکہ لوگوں کوپتہ ہوکہ احمدیت کیاہے۔
مہتمم تبلیغ نےبتایاکہ نصاب میں‘‘کشتی نوح’’رکھی ہے۔اس سےپہلے کتاب‘‘گورنمنٹ انگریزی اورجہاد’’تھی۔اس کاڈچ ترجمہ ہےہم باقاعدہ امتحان بھی لیتےہیں۔
مہتمم امورطلباءنےحضورانورکےاستفسارپربتایاکہ ہمارےطلباءکی تعداد 134 ہے۔جس میں سے24یونیورسٹی میں جاتےہیں۔
مہتمم صحتِ جسمانی نےاپناپروگرام پیش کرتے ہوئےبتایاکہ ہم کرکٹ لیگ اورفٹبال لیگ کاپروگرام اپنی مقامی مجالس میں کررہےہیں۔
مہتمم خدمت خلق نےعرض کیاکہ پیس کانفرنس کاانعقادکرتےہیں۔اس پرحضورانورنےفرمایاکہ پیس کانفرنس کےانعقادکاخدمت خلق کاکیاکام ہے۔آپ کاکام ہےکہ غریبوں کی مددکریں،چیرٹی واک آرگنائز کریں۔ اس پرموصوف نےعرض کیاکہ ہم نےچیرٹی واک کی تھی اور8ہزاریوروجمع کیاتھااوریہ رقمHFکواور چیریٹی والوں کودی تھی۔
محاسب نےاپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئےبتایا۔ہرسہ ماہی آڈٹ کرتےہیں اورساراحساب چیک کرتےہیں۔
مہتمم صنعت وتجارت نےبتایاکہ ہم نے4پراجیکٹس پر کام شروع کیاہےایک تعلیم کےلئےگائیڈکرنا۔ اس پرحضورانورنےفرمایاتعلیم کےلئےگائیڈ کرناامورطلباءکا کام ہے۔آپ کاکام ملازمت دلواناہے،ملازمت کےمواقع مہیاکرنا ہے۔
مہتمم عمومی نےحضورانورکےاستفسارپربتایاکہ جلسہ پر50خدام سیکیورٹی کی ڈیوٹی دےرہےتھے۔اب بعض ایک دن کےلئےواپس گئے ہیں دوبارہ آجائیں گے۔حضورانورنےفرمایاجرمنی سےبھی سیکیورٹی ڈیوٹی کےلئے5خدام آئےتھے۔
مہتمم تربیت نومبائعین نےبتایاکہ اس وقت6نومبائعین ہیں جوزیرِ تربیت ہیں۔ان میں سےمقامی نوجون کرسچن بیک گراؤنڈ سےبھی ہیں۔
حضورانورنےفرمایاجومقامی ڈچ لوگ ہیں ان کوسورۃ فاتحہ سکھائیں اور نماز بھی سکھائیں۔سب کی تربیت کریں اورباقاعدہ نظام کاحصہ بنائیں۔
مہتمم تجنیدےبتایاکہ ہماری تجنید ڈبل ہونےکوہے۔ہماری نصف تعداد نئےخدام پرمشتمل ہے۔اس پرحضورانورنےفرمایاجوپاکستان سےآئےہیں ان کواپنےسسٹم میں لےکرآئیں۔اپنےقریب لائیں،نمازوں سے،جمعہ سےاٹیچ کریں اورقریب لائیں۔
مہتمم تحریک جدید نےبتایاکہ13ہزاریوروخدام نے جمع کرنےہیں۔ ساڑھے7ہزارٹارگٹ گزشتہ سال تھا۔اب امسال اس کوڈبل کریں گے۔
نائب صدر نےشعبہ اشاعت کےحوالہ سےبتایاکہ خدام نےگزشتہ دوتین سالوں میں8کتب ڈچ زبان میں شائع کی ہیں۔ان میں دعاؤں پرمشتمل کتب بھی ہیں۔
مہتمم اطفال نےاپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئےبتایاکہ جوجماعت کی تجنید ہےاس میں121اطفال ہیں۔ضورانورنےفرمایاجوبھی نیاطفل آتاہےآپ کاکام ہےکہ اس کواپنی تجنید میں شامل کریں۔آپ کی تجنیدساتھ کےساتھ مکمل ہوتی رہنی چاہئے۔
مہتمم وقارِعمل نےبتایاکہ دورانِ سال ہم نے371وقارِ عمل کروائےہیں۔ زیادہ تروقارِعمل مسجدبیت العافیتALMEREکی تعمیرکے حوالہ سےکئےگئے ہیں۔حضورانورنےفرمایاایک تووقارِ عمل آپ نےسال کے شروع میں کروائے،مئیر بھی آیاتھا اورتعریف کرگیاتھا۔
مہتمم مال نےحضورانورکےاستفسارپربتایاکہ ہماراسالانہ بجٹ44ہزاریورو کا ہے۔92ایسےخدام ہیں جونہیں کماتے۔170خدام کمانےوالےہیں وہ صحیح چندہ ادا کرتےہیں۔حضورانورنےفرمایاجوخدام اس وقت کیمپ میں ہیں۔ان کی انکم کم ہے۔وہ جتنادےسکتےہیں دےدیں۔
مختلف قائدمجالس بھی اس میٹنگ میں موجودتھےسبھی نےباری باری اپنی مجالس کی تجنید کےحوالہ سےبتایا۔
صدرخدام الاحمدیہ نےعرض کیاکہ گزشتہ کچھ عرصہ سےپانچوں نمازوں کی ادائیگی کی طرف توجہ دلارہےہیں۔50فیصدخدام باجماعت پڑھتےہیں۔حضورانور نے فرمایاجوکمزورہیں ان کوپیارسےسمجھاتے رہیں۔نوجوان مربیان پیچھے ہٹے ہوئے خدام کوقریب لائیں۔جن خدام کاان کمزورخدام سے دوستی کاتعلق ہےتووہ ایسے خدام سےرابطہ کرکےقریب لائیں۔
حضورانورنےفرمایالوکل سپورٹس پروگرام میں اطفال کواِنکرج کیاکریں وہ اس میں شامل ہوں۔صرف ریموٹ سےT.Vپرہی نہ دیکھاکریں بلکہ عملاًکھیلوں کےپروگرام میں شامل ہوں۔
مجلس عاملہ کےایک ممبرنےعرض کیاکہ ہمارےگھر سےنمازسینٹر13 کلومیٹر دورہے۔اس پرحضورانور نےفرمایا۔ایک نمازوہاں جاکرباجماعت پڑھ سکتےہو۔ حضورانورنےفرمایامسجدکےلئےایک دفعہ جاتے ہوئےپیٹرول پرجوخرچ آتاہےوہ رقم پیٹرول کےلئے معیّن کرو،مہینہ میں30دن اور5جمعےلگالو۔40 دن کاحساب رکھ لوتویہ225یوروبنتےہیں۔خداکی خاطریہ رقم مسجدجانےکےلئے نکالو،نماز کےلئے نکالو،برگرنہ کھاؤ۔بیوی کوکہوگھرمیں کھانا بناؤ۔اس سےکچھ رقم بچے گی وہ نماز کی خاطر مسجدجانےکےلئےخرچ کرو۔
حضورانورنےفرمایااپنےضمیرسےفتویٰ لوکہ گھرکتناقریب ہے۔مسجد،نمازسینٹر نہ جانااورگھررہ کرنمازپڑھناجائزہےیانہیں۔
مہتمم تبلیغ کوحضورانورنےہدایت دیتےہوئےفرمایاکہ ہرمجلس کوٹارگٹ دیں کہ اتنےفیصدلوگوں کوجماعت کاتعارف پہنچ جاناچاہئے۔کم ازکم50فیصد لوگوں کوپتاہوکہ جماعت کیاچیزہے۔
حسابات رکھنے اورآڈٹ کےحوالہ سےمتعلقہ شعبہ نےحضورانورسے راہنمائی چاہی کہ ای میل کےذریعہ صدرصاحب خدام الاحمدیہ کی طرف سےاخراجات کرنےکی منظوری یاکسی بِل کی منظوری آجاتی ہےلیکن یہ صرف ایک پیغام کی شکل میں ہوتاہے اس پرصدرصاحب کانام توموجود ہوتاہےلیکن دستخط نہیں ہوتے۔جبکہ آڈٹ کے حساب سےدستخط ہونے چاہئیں یہ ضروری ہے۔
اس پر حضور انور نے فرمایا:دستخط ہونے چاہئیں۔ یہ ضروری ہیں۔
ایک ممبرنےسوال کیاکہ بعض دفعہ سکول میں بچوں کی برتھ ڈے کرتےہیں اوردوسرے بچوں کوکہتےہیں کہ کیک لاؤ۔اس پرحضورانورنےفرمایا اگرسکول والےکہتےہیں توکیک لےجاؤ۔کوئی شرعی مسئلہ نہیں ہے۔
آپ اپنےبچوں کوگھرمیں بتائیں کہ آج سکول میں اس طرح ہواہے اس موقع پرتم غریبوں کےلئےآج کچھ دو۔کچھ رقم چیرٹی میں ڈالو۔
حضورانورنےفرمایاآپ کےاپنےگھرمیں تین چاربچےہیں یہ بچےآپس میں بیٹھ کرکیک کھالیں تواس میں کوئی حرج نہیں۔اصل یہ ہےکہ خاص اہتمام کرکےدوسروں کونہ بلائیں،تحفےنہ لائیں،فنکشن نہ ہو۔
ایک ممبرنےیہ سوال کیاکہ اگرکوئی دوسری غیرمسلم فیملی اپنے بچے کے پروگرام پربُلارہی ہے؟اس پرحضورانورنےفرمایاتوچلےجاؤ۔ان کارواج ہے۔بچےکو کوئی تحفہ دیناہےتودے دو۔
حضورانورنےفرمایا۔اگرسکول میں،کلاس میں کوئی ایساپروگرام ہےتووہاں بتانا چاہئےکہ اس موقع پرغریبوں کوکچھ دیناچاہئے۔بہت سےغریب لوگ ایسےہیں جن کےپاس پینےکاپانی نہیں ہے۔تعلیم نہیں ہےہم چاہتےہیں کہ ان کےلئےچیرٹی میں کچھ دیں تاکہ ان کی مددہوسکے۔اس موقع پردعاکریں کہ ہم معاشرہ کا اچھاحصہ بنیں۔خدمت کرنےوالےہوں۔
ایک ممبرنےعرض کیاکہ ایک سکھ دوست کی بچی کی عمر6ماہ ہوئی تھی۔اُس نےکھاناکیاتھا۔اس پر حضورانورنےفرمایا۔جاکرکھالیاکروکوئی حرج نہیں۔
حضورانورنےفرمایاآپ کسی کےگھر گئےہیں اوروہاں ختم ہورہاہےاورختم کاکھاناپکایاہواہے۔آپ ختم میں توشامل نہیں ہوں گےہاں جوکھاناہےوہ کھاناسمجھ کرکھالو۔
چندہ کےحوالہ سے حضورانورنےفرمایاکہ حکم یہ ہےچندہ پاک مال سے دو، چندہ TAXنہیں ہے۔بلکہ یہ مالی قربانی خداتعالیٰ کی رضاکےلئے ہےاور اس لئے ہےتاکہ تمہارےمال میں برکت پڑے۔جومال غلط طریق سےکمایا جائےیاناجائزطورپرحاصل کیاجائےاس پرچندہ نہیں لینا۔
نیشنل مجلس عاملہ خدام الاحمدیہ کی حضورانورایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکےساتھ یہ ملاقات1بجکر50منٹ پرختم ہوئی۔آخرپرعاملہ کےممبران نےحضورانورکےساتھ تصویربنوانےکی سعادت پائی۔
اس کےبعدحضورانورایّدہ اللہ تعالیٰ کچھ دیرکےلئےاپنی رہائش گاہ پرتشریف لےگئے۔
2بجکر15منٹ پرحضورانورایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے تشریف لاکرنماز ظہر وعصر جمع کرکےپڑھائی۔نمازوں کی ادائیگی کےبعدحضورانوراپنےرہائشی حصہ میں تشریف لےگئے۔

نیشنل مجلس عاملہ لجنہ اماء اللہ کے ساتھ میٹنگ اور ہدایات

پانچ بجے حضورانورایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مسجد بیت النور تشریف لائے اور نیشنل مجلس عاملہ لجنہ اما ء اللہ ہالینڈ کی حضور انور کے ساتھ میٹنگ شروع ہوئی۔ اس میٹنگ میں عاملہ کی ممبرات کے ساتھ ریجنل صدرات اور لوکل مجالس کی صدرات بھی شامل ہوئیں۔
حضورانورایّدہ اللہ تعالیٰ نے دعا کروائی ۔
حضورانورایّدہ اللہ تعالیٰ نے جنرل سیکرٹری سے دریافت فرمایا کہ لجنہ کی کتنی مجالس ہیں۔کتنی مجالس رپورٹس بھجواتی ہیں اور ان رپورٹس پر فیڈ بیک کون دیتا ہے۔اس پر جنرل سیکرٹری نے عرض کیا کہ کل 17مجالس ہیں اور اپنی رپورٹس بھجواتی ہیںاور ان پر نیشنل صدر فیڈ بیک دیتی ہیں۔اس پرنیشنل صدر نے بتایا کہ نیشنل عاملہ کو فیڈ بیک دیتی ہیں۔اس پر حضورانورنے فرمایا کہ نیشنل صدر لجنہ بھی لوکل مجالس کو فیڈ بیک دیا کریںتا کہ ان کو پتہ ہو کہ نیشنل صدر کا بھی رابطہ ہے۔
اسسٹنٹ جنرل سیکرٹری نےحضورانور کے استفسار پر بتایا کہ وہ نیشنل جنرل سیکرٹری کی مدد کرتی ہیں۔
حضور نے نائب صدر اول سے ان کی ذمہ داری کے بارہ میں دریافت فرمایا جس پر موصوفہ نے بتایا کہ ان کے پاس سیکرٹری محاسبہ مال کی ذمہ داری بھی ہے ۔حضور انور نے آڈٹ کرنے کے حوالہ سے دریافت فرمایا جس پر موصوفہ نے عرض کیا کہ وہ سالانہ آڈٹ کرتی ہیں۔
نائب صدر دوم نے حضور انور کے استفسار پر بتایا کہ وہ سیکرٹری مال بھی ہیں۔ حضورانور نے چندہ دھندگان اور کمانے والی خواتین کے بارہ میں دریافت فرمایا جس پر موصوفہ نے بتایا 411چندہ دہندگان ہیں۔جن میں سے 29کمانے والی ہیں جو ایک فیصد کے حساب سے چندہ دیتی ہیں۔
اس کےبعد معاون صدر لجنہ مینجمنٹ نےاپنے سپرد ذمہ داری کےبارہ میں بتایا۔
نگران واقفاتِ نوسےحضورانورنےدریافت فرمایاکہ کتنی واقفاتِ نو ہیں؟ موصوفہ نےبتایاکہ ان کی تعداد83ہے۔اس کےبعدحضورانورنے15سال سے بڑی واقفات کےبارہ میں دریافت فرمایا۔
معاونہ صدر نےحضورانورکےاستفسارپربتایاکہ وہ سیکرٹری سلطان القلم اور سوشل میڈیاہیں۔اس پرحضورانورنےدریافت فرمایاکہ سوشل میڈیامیں، نیشنل اور لوکل اخبارات میں کتنےتبلیغی آرٹیکل لکھےہیں۔اس پرسیکرٹری نےبتایاکہ ہم نےاپنی ویب سائٹ لانچ کی ہےاورہم نے برقعہ پرلگنے والی پابندی کےمتعلق آرٹیکل ڈالا ہے جس پرحضورانورنےفرمایادوسروں کی ویب سائٹ پربھی کمنٹ ڈال دیاکریں۔آجکل جواسلام اورآنحضرتﷺکےخلاف چیزیں چھپتی ہیں ان پرکمنٹ ڈالا کریں۔
معاونہ صدر برائے رشتہ ناطہ اور وصیت سےحضورانور نےخواتین کی وصیت کےحوالہ سےدریافت فرمایاجس پرموصوفہ نےعرض کیا225لجنہ کی وصیت ہے۔
سیکرٹری تربیت نےحضورانورکےاستفسار پراپناتبلیغی پروگرام بتایا۔ حضورانور نے کتاب عائلی مسائل،سوشل میڈیااورپردہ کےمتعلق نئی چھپنےوالی کتب کاڈچ ترجمہ کرنےکی ہدایت فرمائی۔
حضورانور نےسیکرٹری امورطالبات سےان کے کاموں کے بارہ میں دریافت فرمایااورفرمایاکہ کیاسیمینارزمیں دلچسپی لیتی ہیں۔جس پرسیکرٹری نےعرض کیاکہ ابھی کلاسزہورہی ہیں۔70فیصدطالبات بھی حصہ لیتی ہیں۔
حضورانورایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنےسیکرٹری ناصرات سےناصرات کی تعداداورتربیت کے پروگرام کےبارہ میں دریافت فرمایا۔جس پرسیکرٹری نےاپنےپروگرام کی رپورٹ پیش کی اوربتایاکہ ناصرات کی تعداد110ہے۔موصوفہ نےعرض کیاکہ پاکستان سےبہت سی بچیاں آئی ہیں۔زبان اوربعض دوسری وجوہات کی بنا پر یہاں کی بچیوں کےساتھINTEGRATEہونےمیں مشکل پیش آرہی ہے۔
اس پرحضورانورنے فرمایا۔نئی آنےوالی بچیاں زبان توسیکھ رہی ہیں۔یہ مسئلہ ہونا نہیں چاہئے۔یہاں رہنےوالی بچیوں کےساتھ دوستی کریں۔
سیکرٹری خدمتِ خلق نےاپنی رپورٹ پیش کی۔صدر نےبتایاکہ حضورانورکی اجازت سےہم نےہیومینیٹی فرسٹ سےرابطہ کیاہے۔انہوں نے ہمیں آئیوری کوسٹ میں بننے والےہسپتال کےبیڈز کےلئے عطیہ فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔حضورانور کےمزیداستفسار پرصدر نے بتایاکہ ہم نےہیومینیٹی فرسٹ ہالینڈکےانچارج سےرابطہ کیاتھا۔انہوں نےہمیں تمام معلومات دی ہیں۔
سیکرٹری تعلیم کی رپورٹ پرحضورانورنےدریافت فرمایاکہ کیانیشنل عاملہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کامطالعہ کرتی ہے؟جس پرسیکرٹری تعلیم نےعرض کیاکہ مطالعہ کرتی ہے۔امتحان کےحوالہ سےعرض کیاکہ156لجنہ کی ممبرزامتحان دیتی ہیں۔اس پرحضورانورنےفرمایاکہ نیشنل عاملہ بھی امتحان دیاکرے۔
سیکرٹری تجنید سےحضورانورنےتجنید کےحوالہ سےدریافت فرمایاکہ کتنی تجنید ہےاورلوکل صدرات سےتجنیدکس طرح لیتی ہیں؟سیکرٹری نےعرض کیاکہ کل تجنید475ہے۔ماہانہ لوکل رپورٹس سےتجنیداپ ڈیٹ ہوتی رہتی ہے۔
سیکرٹری تبلیغ نےحضورانورکےاستفسار پررپورٹ پیش کرتے ہوئےبتایاکہ اس سال2ہوئی ہیں اورگزشتہ3سالوں میں7بیعتیں ہوئی ہیں۔
سیکرٹری اشاعت ڈچ اورسیکرٹری اشاعت اردو نےاپناتعارف پیش کیا۔ جس پرحضورانورنےفرمایاسیکرٹری اشاعت ایک ہی ہو،2کی کیاضرورت ہےوہ اپنی معاونہ رکھ سکتی ہیں۔
اس پرصدر لجنہ نےعرض کیاکہ حضورانور کی اجازت سے2سیکرٹریان بنائی گئی ہیں۔
حضورانورکےاستفسار پرسیکرٹری اشاعت ڈچ نے بتایاکہ رسالہ شائع ہوتاہے۔حضورانور نےفرمایایوکےمیں ایک رسالہ’’مریم‘‘وقفِ نوبچیوں کےلئے شائع ہوتاہےوہ مستقل لگوائیں۔اس رسالےمیں سے مضامین اپنے رسالہ میں ڈالا کریں۔اچھےترتیب دیئےہوتےہیں۔
سیکرٹری تربیت نومبائعات نےحضورانورکےاستفسار پر بتایاکہ7نومبائعات کی ہفتہ وارکلاسز ہورہی ہیں۔حضورانورنےفرمایاکہ لوکل ڈچ لوگوں کی بھی بیعت کروائیں۔
سیکرٹری صنعت ودستکاری نےاپنی رپورٹ پیش کی۔حضورانورکے استفسار پرموصوفہ نےاپنی آمدن بتائی۔
سیکرٹری صحتِ جسمانی سےحضورانورنےدریافت فرمایاکہ خودکھیلتی ہیں،باقاعدہ کھیلنے والی کتنی ہیں؟موصوفہ نے عرضکیا کہ یورپین والی بال ٹورنامنٹ کے لیے جاتے رہے ہیں۔
سیکرٹری ضیافت سے ان کے کام اور بجٹ کے بارہ میں حضور انورنے دریافت فرمایا ۔موصوفہ نے اپنے بجٹ کے بارہ میں بتایا۔
سیکرٹری تحریک جدید اور وقف جدید نے اپنی رپورٹ پیش کی حضور انور نے ہدایت فرمائی کہ 7سے15سال کی ناصرات کو شامل کریں۔
اس کے بعد ریجنل اور لوکل صدرات نے باری باری اپنے کام کے بارہ میں بتایا۔ حضور انور نے سب سے ان کی مجالس کی تجنید دریافت فرمائی۔
ایک لوکل صدر نے سوال کیا کہ آجکل کی دنیا میں مرد اور عورت کا کام کرنا ضروری ہے۔اور بعض لجنہ ممبرز کام کی وجہ سے جماعتی پروگراموں پر نہیں آ سکتیں۔ ان کے بارہ میں حضور انور رہنمائی فرمائیں۔
اس پر حضور انور نے فرمایا ۔ یہ تو سچ ہے کہ آجکل مرد اور خواتین کام کئے بغیرگزارہ نہیں کرسکتے۔یہ شعبہ تربیت کاکام ہےکہ ان کویاددہانی کرواتی رہیں،میرےخطبات کےذریعہ لجنہ کوبچوں کی اچھی پرورش کرنی چاہئےاگرمائیں نیک ہوں گی اوران میں دنیاوی خواہشات نہیں ہوں گی تووہ اپنی ذمہ داری سمجھیں گی۔مثال کےطورپرامریکہ میں کچھ لجنہ ہیں جوکام بھی کرتی ہیں اوران کی تربیت کامعیار بھی اچھا ہے۔کام کرنےکی اجازت ہےاگرمجبوری ہےاورشوہرکی آمدنی اتنی اچھی نہیں ہے۔لیکن آپ کواپنے عہد کی اہمیت کوسمجھناچاہئے۔پھراس عہدکودوہرانےکاکیافائدہ؟
ایک لوکل صدر نےسوالہ کیاکہ میری مجلس میں کچھ ممبرات کا کہنا ہےکہ ہم جماعت تک اپناتعلق رکھناچاہتی ہیں اورجماعتی چندہ بھی دیتی ہیں لیکن وہ لجنہ اماءاللہ سے کوئی تعلق نہیں رکھناچاہتیں اورنہ ہی لجنہ کاچندہ دیتی ہیں۔
اس پر حضور انور نے فرمایاجماعت کےنظام کی یہی خوبصورتی ہےکہ جولجنہ قائم کی ہوئی ہےوہ براہِ راست خلیفۂ وقت کےماتحت ہےتوپھریہ اپنےعہدِ بیعت کےساتھ منافقت کرتی ہیں۔چندہ دیں یانہ دیں پہلےان کواحمدی بنائیں۔اگرچندہ نہیں دے سکتیں تومجھ سے اجازت لےسکتی ہیں۔ان کی یہ سوچ غلط ہے۔خلیفۂ وقت کی بنائی ہوئی تنظیم ہےاس میں شامل ہونا پڑےگا۔اگر خلیفۂ وقت سے تعلق ہےاوراحمدی ہیں توپھرممبرہیں۔
ایک عاملہ ممبرنےسوال کیاکہ اگر کسی جماعتی یاذیلی تنظیم کےعہدہ دار کےبہت قریبی رشتہ دار کواخراج ازنظامِ جماعت کی سزاہوجائےتواس عہدہ دار کارویہ اُس مخرَج رشتہ دارسےکیاہوناچاہئے؟
اس کے جواب میں حضور انور نے فرمایا۔سزایہ تونہیں کہ جیل میں ڈال دیں۔صرف مقاطعہ ہوتا ہےجیساکہ آنحضورﷺ کےزمانہ میں ہواتھا۔اصل مقصدیہ ہےکہ سزایافتہ شخص کواحساس دلایاجائےکہ اس نےغلطی کی ہے۔سزابہرحال اس لئے دی جاتی ہےکہ بہتری ہو۔قریبی رشتہ دارجیسےماں باپ،بہن بھائی تعلق رکھ سکتےہیں تاکہ اصلاح ہو۔چاچی،مامی،پھوپھی نہ رکھےتاکہ غلطی کااحساس ہواوراس کوسمجھائیں کہ تم نےغلطی کی ہے۔اب یہ توعہدیدارنےدیکھناہےکہ جماعتی مفادمقدم ہےیاذاتی رشتہ داری۔
ایک ممبرنےیہ سوال کیاکہ کیاہم لجنہ کی تصاویر جوکہ معیاری پردہ میں ہوں اوردورسےکھینچی گئی ہوں ان کواپنےرسالہ میں شائع کرسکتے ہیں؟
اس پر حضور انور نے فرمایارسالوں میں نہیں لےکرآنی۔شائع نہیں کرنی۔دیکھنے والےمردوں کی نیت کانہیں پتا۔بعض فعہ نومبائع امریکی اورافریقی کی تصاویرآجاتی ہیں۔ان کوچھوٹ ہے۔لیکن پیدائشی احمدی کی نہیں ڈالنی۔
ایک ممبرنےسوال کیاکہ اکثرتبلیغی مہمان انگلینڈ یاجرمنی کےجلسہ پر لے جاتےہیں لیکن جماعت کےپاس اتنابجٹ نہیں ہوتا۔
اس پر حضور انور نے فرمایا۔اپنی جماعت سےمددلیں۔یوکےوالےتو پیسےنہیں لیتے۔اگرجماعتی طورپرتبشیروالوں کواطلاع کردیں تووہ انتظام کردیں گے۔
حضورانور کی خدمت میں عرض کیاگیاکہ کچھ عہدیدارایسی ہیں جومسجد اورپروگراموں میں توپردہ کرکےآتی ہیں۔لیکن اس سے باہرپردہ نہیں کرتیں۔
اس پر حضور انور نے فرمایا۔ان کوعہدیدارنہیں بنانا۔لیکن ان سےکام لےسکتےہیں کچھ توتعلق رکھناہے۔اگرمسجدمیں کرتی ہیں توکچھ توحجاب ہے،کم ازکم مسجدمیں توپردہ کرکےآتی ہیں۔
ایک عاملہ ممبرنےسوال کیاکہ اگرنیشنل صدریالوکل صدر سےکوئی اختلاف رائے کرے یااس پرتنقید کرے تو صدر کا رویہ اس کےساتھ کیساہوناچاہئےاوراس ممبر کااطاعت کامعیار کیساہوناچاہئے؟
اس پر حضور انور نے فرمایااگرباہمی مشورے ہورہےہیں تواس پرمثبت اختلافِ رائے ہوتاہےتوٹھیک ہے۔ٹانگیں کھینچنےوالےنہ ہوں۔کوئی مشورہ ہے تولکھ کردیں۔صدر کافیصلہ ہوگا۔ورنہ خلیفۂ وقت کولکھیں۔خلیفۂ وقت کا فیصلہ آخری فیصلہ ہوگا۔
صدرلجنہ نےعرض کیاکہ ریجنل اورلوکل سطح پرمردوں سے رابطہ کرنا ہوتا ہےلیکن مردوں سےکام کروانااکثر مشکل ہوجاتاہے۔
اس پر حضور انور نے فرمایا۔مردوں کوتعاون کرناچاہئے۔گھروں میں بہت سےمسائل آپ لڑجھگڑ کےحل کروالیتی ہیں تویہاں بھی لڑاکریں۔
نیشنل مجلس عاملہ لجنہ اماءاللہ ہالینڈکی حضورانورایّدہ اللہ تعالیٰ کےساتھ یہ میٹنگ6بجکر5منٹ تک جاری رہی۔

واقفات نو اپنے آقا کے حضور

بعدازاں6بجکر15منٹ پرواقفاتِ نوبچیوں کی حضورانورایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکےساتھ کلاس شروع ہوئی۔
پروگرام کاآغازتلاوت قرآن کریم سےہواجوعزیزہ ھُدٰی اکمل نےکی بعدازاں اس کااردوترجمہ عزیزہ امۃالسبوح باجوہ نےپیش کیا۔
اس کےبعدعزیزہ تسنیم اَودیح نےآنحضرتﷺکی حدیث کاعربی متن پیش کیااوراس کادرج ذیل اردوترجمہ عزیزہ نائلہ فرحان نےپیش کیا۔
حضرت ابوایوب انصاریؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نےآنحضرت ﷺکی خدمت میں عرض کیا۔اےاللہ کےرسول!کوئی ایساعمل بتائیےجو مجھے جنت میں لےجائےاورآگ سےدورکردے۔آپﷺنےفرمایا۔اللہ تعالیٰ کی عبادت کر،اس کےساتھ کسی کوشریک نہ ٹھہرا،نمازپڑھ ،زکوٰۃ دےاورصلہ رحمی کر۔یعنی رشتہ داروں سےپیارومحبت سےرہ۔

(بخاری کتاب الادب باب فضل صلۃ الرحم)

اس حدیث کےبعدعزیزہ مناھل منصورنےحضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام کادرج ذیل اقتباس پیش کیا۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتےہیں۔
‘‘نمازوں کو باقاعدہ التزام کے ساتھ پڑھو۔بعض لوگ صرف ایک ہی وقت کی نماز پڑھ لیتے ہیں۔وہ یاد رکھیں کہ نمازیں معاف نہیں ہوتیں۔یہاں تک کہ پیغمبروں تک کو معاف نہیں ہوئیں۔ایک حدیث شریف میں آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس ایک جماعت آئی۔انہوں نے نماز کی معافی چاہی۔آپ نے فرمایا کہ جس مذہب میں عمل نہیں وہ مذہب کچھ نہیں ۔اس لئے اس بات کو خوب یاد رکھو اور اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق اپنے عمل کر لو ۔’’

(ملفوظات جلد1ص263)

بعدازاں عزیزہ طاہرہ الحدوشی نے حضرت اقدس مسیح موعودؑ کادرج ذیل منظوم کلام پیش کیا۔
وہ دیکھتا ہے غیروں سے کیوں دل لگاتے ہو
جو کچھ بتوں میں پاتے ہو اس میں وہ کیا نہیں
بعد ازاں عزیزہ رمیز ہ شبیر لجنہ اماءا للہ ہالینڈ کی 50سالہ جوبلی (1969ء۔ 2019ء)کے حوالہ سے ایک تعارف پیش کیا۔
اللہ کے فضل سے اس سال لجنہ اماء الله بالینڈ اپنی50 سالہ جوبلی منارہی ہے۔ آج ہم لجنہ اماءالله ہالینڈ کی تار یخ میں سے احمدیت قبول کرنے والی پہلی 5 ڈچ خواتین کا مختصر تعارف کروائیں گے۔
اگر ہالینڈ میں جماعت احمدیہ کی تاریخ کا جائزہ لیں تو شروع میں یہاں کوئی مسجد یا مشن ہاؤس نہ تھا۔ اس وقت بھی ہالینڈ میں چند نیک فطرت وجود ایسے تھے جنہوں نے اسلام کے نور کو پہچانا اور اللہ کے فضل سے احمدیت قبول کرنے کی توفیق پائی۔
اس کے بعد عزیزه عدیلہ ریحان نے پہلی احمد ی ڈچ خاتون محترمہ شارلٹ ولبری بڈ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا۔
ان بابر کت و جودوں میں سب سے پہلے محترمہ شارلٹ ولبر ی کا نام آتا ہے۔ وہ قرآن کریم کے مطالعہ کے ذریعہ اسلام سے متعارف ہو ئیں پھر انہوں نے امریکہ میں ہمارےمشن سے رابطہ کیا اور کتابیں منگوا کر پڑھیں ۔ اس دوران حضرت چو ہدری محمد ظفر اللہ خان لندن سے ہالینڈ سیر کی غرض سے پہنچے اور مس بڈسے مل کر انہیں تبلیغ کی۔ چنانچہ انہوں نے 1924ءمیں حضرت خليفة المسیح الثانیؓ کی بیعت تحریر اً کرلی۔ بعد میں ان کو قادیان جانے اور لجنہ اماء اللہ میں شامل ہونے کا بھی شرف حاصل ہوا، اس لحاظ سے وہ ہالینڈ کی پہلی ڈچ لجنہ ممبر ہیں۔
مس بڈ کا اسلامی نام حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ہدایت تجویز فرمایا تو موصوفہ نے لکھا۔
حضرت اقدس نے مجھے جو نام دیا ہے اس سے مجھے بہت خوشی ہوئی۔ میرے ولندیزی کانوں میں یہ بہت بھلا معلوم ہو تا ہے اور اس نام (ہدایت) کے معنی خصوصاً میرے لیے ہمیشہ بڑی مد د ثابت ہوں گے۔
محترمہ ہندوستان آئیں ۔ اس موقع پر کئی اخباروں نے ان کی آمد اور قبول اسلام کی 1929ء میں مس ہدایت بڈ کی خبریں شائع کیں۔ قادیان جانے پر موصو فہ کا شاندار استقبال کیا گیا۔

( اخبار فاروق21۔28 مئی 1929ءصفحہ18-17)

23مئی 1929ء کو لجنہ اماء الله قادریان نےمس ہد ایت بڈ کے اعزاز میں ایک استقبالیہ دیا اور انگریزی زبان میں ایڈ ر یس پیش کیا اور اس بات پر خوشی کا اظہار کیا گیا کہ آپ ہالینڈ میں حضرت مسیح موعودؑ پر ایمان لانے والوں میں سے سب سے اول ہیں اور اہل ہالینڈ میں پہلی فرد ہیں جو ہزار ہا میل کا سفر کر کے مرکز میں آئیں۔ ایڈریس میں ان کی استقامت کی دعا کی گئی، جس کے جواب میں انہوں نے انگریزی میں تقریر کی۔
اس کے بعد عزیزہ بشر یٰ زبیر نے دوسری احمد ی ڈچ خاتون محترمہ رضیہ ڈین بور کے بارہ میں بتایا۔
دوسری ڈچ احمدی خاتون محترمہ رضیہ ڈین بور ہیں۔ ہیگ میں مشن کے قیام کے بعد سب سے پہلے انہوں نے احمدیت قبول کی۔
مکرم حافظ قدرت اللہ کے بطور مبلغ اسلام ہالینڈ آنے پر پریس میں جو خبریں شائع ہوئیں ان کو پڑھتے ہی انہوں نے حافظ صاحب سے رابطہ کیا۔ رضیہ صاحبہ کو خواب میں سبز روشنی میں اسلام لکھا ہوا نظر آتا تھا اور ان کی خواہش تھی کہ کوئی مسلمان ملے تو اس کے ذریعہ سے اسلام سے وابستگی اختیار کریں۔ یہ ہیگ سے بہت دور رہتی تھیں، انہوں نے بڑالمباسفر کر کے حافظ صاحب سے ملاقات کی،انہوں نے محترمہ کو لٹریچر دیا اور انہوں نے40 دن کے اندر آکر بیعت کر لی۔
ان کی بیعت کے بارہ میں حافظ قدرت اللہ فرماتے ہیں۔
ہالینڈ کی دنیامیرے لیے بالکل نئی تھی۔ نہ زبان سے واقفیت تھی اور نہ کسی اور کے ساتھ وہاں کا تعارف تھا۔
ابتدائی کام تو حالات کا جائزہ لینا ہو تا ہے اور پھر اس کے ساتھ زبان کا سیکھنا اور پھر تبلیغی میدان کی تلاش وغیرہ۔ مگر تبلیغی جوش کے نتیجہ میں ان دنوں میرے دل میں خواہش موجزن ہوئی کہ کاش خداتعالیٰ40روز کے اندر اندر مجھے یہاں اسلام پر فدا ہونے والی کوئی روح عطاء فرمادے تو کیا ہی اچھا ہو۔ چنانچہ میں نے اس کے لیے خصوصی طور پر دعا بھی کی۔
حافظ صاحب بیان کرتے ہیں کہ بیعت کے چند دن کے بعد ہی وہ ایک ہزار گلڈر لے کر حاضر ہوئیں اور خدمت اسلام کے لیے پیش کر دیئے۔ میں نے اس کی مالی حالت کی وجہ سے سمجھانا چاہا کہ اتنی بڑی قربانی اس کے لیے مشکل ہوگی لیکن اس نے اصرار کیا کہ یہ رقم قبول کی جائے کیونکہ وہ ایک لمبا عرصہ اسلام کی روشنی سے دور رہی ہے اور جب اس نے اس کو پا لیا ہے اس کی خاطر وہ اپناسب کچھ پیش کر نا چاہتی ہے۔
بعد ازاں عزیزہ طیبہ سعدیہ نے تیسری احمد ی ڈچ خاتون محترمہ ناصرہ زمرمین کا ذکر کرتے ہوئے کہا۔
1945ءمیں قرآن مجید کا ڈچ ترجمہ لندن میں مولانہ جلال الدین شمس کی نگرانی میں کرایا گیا تھا۔ یہ کام محترمہ ناصرہ زمر مین نے کیا تھا۔
اسلام احمد یت کی طرف ان کا سفر ایسے شروع ہو ا کہ لندن میں ایک ٹرانسلیشن بیورو نے ان سے رابطہ کیا اور ان کو قرآن پاک کے آخری 300 صفحات ڈچ میں ترجمہ کرنے کے لیے دیئے۔ ان کے دل میں خواہش پید اہو ئی کہ پہلے حصہ کا ترجمہ بھی دیکھنا چاہیے۔ وہ دیکھا تو بہت قدیم اور مشکل ڈچ میں ترجمہ کیا گیا تھا اور قرآن کی تعلیمات ان کے اپنے عیسائی عقائد کے خلاف تھیں۔ انہوں نے یہ کام لینے سے انکار کر دیا۔ آخر بہت سوچ بچار کے بعد انہوں نے اس مبارک کام کو کرنے کا فیصلہ کیا اور ترجمہ کا سارا کام ہی اپنے ذمہ لے لیا۔ جب انہوں نے 40,30 صفحات کا ترجمہ کر لیاتو اپناکام دکھانے ڈائریکٹر کے پاس گئیں تو اس نے اور اس کے دفتر کے چند لوگوں نے قرآن کے لئے نہایت توہین آمیز کلمات استعمال کئے اور بعد میں جب وہ وہاں جاتیں، وہ قرآن مجید کی توہین کرتے رہتے۔ ایک بار وہ گئیں توڈائریکٹر کو سخت المناک حالت میں پایا، اس کی طبیعت شدید خراب تھی، اگلے دن ہی وہ فوت ہو گیا۔ اسی طرح اس دفتر میں سے جن جن افراد نے قرآن کی توہین کی تھی وہ مختصر عرصہ میں فوت ہو گئے ، جو اس گفتگو میں شامل نہیں ہوئے تھے وہ سلامت رہے۔ ان واقعات کا ان کے دل پر گہرا اثر ہوا اور قرآن کریم کی صداقت اور حقانیت کا سکہ بیٹھنا شروع ہوا اور اس کتاب کی عظمت کا ان کے دل پر اثر ہو ا۔ آہستہ آہستہ انہوں نے مسجد فضل لندن جانا شروع کیا اور احمدیت کا مطالعہ کرنا شروع کیا۔
کچھ عرصہ بعد آپ اپنے ملک ہالینڈ واپس آگئیں۔ یہاں ہالینڈ میں مشن کے قیام کے بعد الله تعالیٰ کے فضل اور اس وقت کے مبلغین کی مخلصانہ کوششوں سے آپ کواحمدیت کی نعمت حاصل ہوئی۔
اس کے بعد عزیزہ نائلہ طارق نے چوتھی احمد ی ڈچ خاتون محترمہ عزیز ہ والٹرکا تعارف کرواتے ہوئے کہا۔
ہالینڈ کی تاریخ میں ایک انتہائی نیک اور مخلص خاتون محترمہ عزیزہ والٹر تھیں۔ بہت دعاگو اور صاحب رویاوکشوف تھیں۔ حضرت سر ظفر الله خان بھی یہاں قیام کے دوران اپنے کاموں کے لیے ان کو دعاؤں کا کہا کرتے تھے۔ نمازوں کی بے حد پابند تھیں اور مسجد سے بہت لگاؤ تھا۔ بسوں پر لمبا سفر کر کے باقاعدگی سے مسجد آیا کرتی تھیں۔ انہوں نے قرآن کریم سیکھنے کے لیے عربی سیکھی اور احادیث نبویہ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات اور جماعت کے لٹریچر کا وسعت سے ترجمہ کیا۔
محترمہ عزيزه والٹر کو پینٹنگ اور فن خطاطی کا بہت شوق تھا اور اللہ اور قرآن کریم سے اپنی محبت کا اظہار بھی وہ ان کے ذریعہ کرتی تھیں۔ مسجد کے محراب کے لیے انہوں نے کلیگرافی کی تھی۔ 1985ء میں آگ کی وجہ سے بیشتر تباہ ہو گئی تھی۔( محترمہ عزیز ہ و الٹر کی مسجد مبارک کےلئےبنائی کیلی گرافی کا ایک نمونہ اور مسجد مبارک کی پینٹنگ تصویر دکھائی جائے گی)
اس کے بعد عزیزہ مریم نعیم نے پانچویں احمد ی ڈچ خاتون محترمہ بحری حمید کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔
محترمہ بحری حمید ایک انتہائی مخلص ڈچ احمد ی خاتون ہیں جو آجکل امریکہ میں رہتی ہیں۔ 1957ءمیں فوج میں اپنی نوکری کے دوران انہوں نے سیر کے لیے مڈل ایسٹ کا سفر کیا تو ان کا تعارف اسلام سے ہوا۔ ہالینڈ واپسی پر ان کا رابطہ ہماری مسجد سے ہوا۔ وہاں ان کو قرآن پاک دیا گیا جس کو پڑھ کر حضرت عیسیٰ کے مقام اور گناہوں کے کفارہ کے بارے میں ان کے شبہات دور ہوئے۔ یہ مسجد میں باقاعدگی سے آنے لگیں اور وہاں آنے والے غیر از جماعت مسلمانوں سے ان کی مختلف موضوعات پر بات چیت ہوتی تھی لیکن ان کو صرف مکرم حافظ قدرت اللہ کے دلائل قرآن مجید کی تعلیمات کے عین مطابق نظر آتے تھے۔ انہوں نے1962ءمیں بیعت کی۔
محترمہ بحری حمید انتہائی مخلص اور محنتی خاتون ہیں۔ مالی قربانی اور تبلیغی کاموں میں ہمیشہ پیش پیش رہیں۔ یہاں مختلف لائبریریز میں تبلیغی لیکچر ز اور قرآن کریم کی نمائشیں کرواتی رہی ہیں۔ لجنہ اماء الله ہالینڈ کی نیشنل صدر بھی رہی ہیں۔ نن سپیٹ میں بیت النور کے حصول میں کی جانے والی کوششوں میں ان کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی عمر اور صحت میں برکت ڈالے۔ آمین
بعدازاں واقفاتِ نوکےایک گروپ عزیزہ ناجیہ اسلم،آصفہ ملک، درّعدن، ھبۃالبصیر،کاشفۃالنور،عالیہ نتھواورعزیزہ دانیہ احمدنے مل کرحضرت اقدس مسیح موعودؑ کاعربی قصیدہ پیش کیا۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے استفسار فرمایا کیا کوئی ڈچ خاتون احمدی ہوئی ہے پچھلے 10 سال میں؟ اس پر ایک لجنہ نے عرض کیا کہ ایک لجنہ ہیں جو کافی active بھی ہیں اور تبلیغ بھی کرتی ہیں۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا یہاں کتنی واقفات نو بیٹھی ہوئی ہیں؟ ہر ایک واقفہ نو یہ عہد کرے اور تبلیغ کا شوق پیدا کرے کہ اس نے ایک ڈچ عورت کو احمدی بنانا ہے۔
حضور انور کے استفسار پر لجنہ نے بتایا کہ اس وقت یہاں 83 لجنہ موجود ہیں۔ اس پر حضور انور نے فرمایا کہ پہلے 83 تو بناؤ۔ اگر کسی کو احمدی بھی نہیں بنانا تو آپ کے واقفات نو ہونے کا کیا فائدہ۔
ایک لجنہ نے سوال کیا ہم کہتے ہیں کہ انسان کی فطرت نیک ہوتی ہے تو اگر انسان کی فطرت نیک ہے تو ہمیں بری چیز یں attract کیوں کرتی ہیں اور ہمیں ان کی عادت اتنی جلدی کیوں ہو جاتی ہے؟
اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا۔ انسان کی فطرت تو نیک ہے۔ بچے کی فطرت نیک ہوتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔
ہر طرف آواز دینا ہے ہمارا کام آج
جس کی فطرت نیک ہے آئے گا وہ انجام کار
اس کا مطلب ہے کہ ساروں کی فطرت نیک تو نہیں ہو گی، جس کی فطرت نیک ہوگی وہ اچھائیوں کی طرف آئے گا۔ اور اس زمانہ کی اچھائی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ وابستہ ہے۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ ہر بچہ نیک فطرت کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بعد جو اس کا ماحول ہے، environment ہے ،ماں باپ ہیں، اس کو متاثر کرتے ہیں۔ کوئی مجوسی بن جاتا ہے، کوئی عیسائی بن جاتا ہے، کوئی یہودی بن جاتا ہے، کوئی مسلمان بن جاتا ہے اور مسلمان بن کر اگرآج کےمولوی کی طرح بن گیا تو پھر فطرت نیک کہاں ہوگی، وہ تو زہر سے بھی زیادہ زہریلا ہے۔ تو اس لیے بچے نیک فطرت ہوتا ہے۔ ہر انسان نیک فطرت نہیں ہوتا۔
حضور انور ایده الله تعالی بنصرہ العزیز نے فرمایا: حدیث یہ ہے کہ بچہ نیک فطرت ہوتا ہے۔ ہاں اس کا environment اس کو خراب کر دیتا ہے۔ اب یہ جو خاتون تھیں جو گلڈر لیکر گئیں تھیں۔ انہوں نے 1000 گلڈر (guilder) کی بات کی۔ انہوں نےبھی یہی کہا کہ ساری زندگی میں نے غلطیوں اور گناہوں میں گزاری اور اب میرے اندر کا اصل انسان جاگا ہے اور مجھے مذہب کی تعلیم کا پتہ لگا ہے۔ انہوں نے باوجود اس کے کہ مختلف وقتوں میں کی ہوئی savings تھیں، وہ سارے گلڈ ر لیکر آگئیں۔ اب دیکھیں وہ جو نیک فطرت لیکر پیدا ہوا تھا اسکو ماحول نے خراب کر دیا تھا، اب دوبارہ اس کی فطرت نیک ہو گیا۔ اور جن کی فطرت ٹھیک ہو جائے گی وہ انجام کار آئیں گے۔جن کی نہیں ہو گی وہ نہیں آئیں گے۔
ایک لجنہ نے سوال کیا کہ حضورانورSwimming کے دوران یا sports کرتے ہوئے یا lab میں بعض اوقات بر قعہ نہیں پہن سکتے اس صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہئے؟
اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: وہاں کا جو code ہے اس کی پابندی کرنی ہے اور جو swimming ہے وہ کوئی compulsory تو نہیں ہے۔ لیکن اگر لازمی ہو تو آجکل جو عورتوں کا پورا ڈریس نکلا ہوا ہے وہ پہن کر ایک کونے میں جا کر swimming کر سکتی ہیں۔ اگر نہیں ہے تو ان سے کہو کہ ہمیں ایسا وقت دیں جس وقت عور تیں صرف swimming کر رہی ہوں ۔ اگر پھر بھی مسئلہ ہے تو ان سے کہو کہ میں ایک حصہ میں چلی جاؤں گی، اتنی پابندی میں مان لیتی ہوں کہ میں علیحدہ ہو کر اور dressپہن کر کروں گی۔ ان کا جو dress ہوتا ہے وہ نہیں پہننا۔
لجنہ نے سوال کیا کہ جو باہر سے یورپ میں آتے ہیں انہیں سوشل ملتی ہے اور سوشل ملنے کے ساتھ black میں بھی کام کرتے ہیں۔ جو وہ انکم لیتے ہیں کیا وہ رزق حلال میں شامل ہوتی ہے؟ اور کیا وہ اس پر جماعت کو چندہ دے سکتے ہیں؟
حضور انور ایده الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: جو قانون کے خلاف کرتے ہیں وہ رزق حلال کس طرح ہو سکتا ہے؟ وہ دھوکہ دیتے ہیں۔ وہ ایسا کام کرتے ہیں کہ پتا بھی نہ لگے اور پھر tax بھی نہیں دیتے۔ صرف ایک جرم نہیں کر رہے ہوتے، وہ دوہرا جرم کرتے ہیں۔ سوشل بھی لیتے ہیں اور کام بھی کرتے ہیں۔ پھر کام کرنے کے بعد اسے چھپاتے ہیں اور گورنمنٹ کو جو tax دینا چاہئے وہ بھی نہیں دیتے۔ تو پھر ایسے لوگوں سے چندہ کیوں لیا جائے ؟ نہیں لینا چاہئے۔ یا تو ان سے کہیں کہ تم لوگ جو سوشل لیتے ہو کہ تمہاری انکم نہیں ہے اور پھر جتنا تم کماتے ہو اتناتم taxدو اور باقی سوشل والوں کو بتاؤ کہ میری اتنی انکم ہے اور جو میرا بقایا خرچ ہے اسے compensate کرو۔ دوسرے ملکوں میں یہی ہوتا ہے کہ جتنی انکم ہوتی ہے اس کے حساب سے وہ کاٹ لیتے ہیں۔ اگر انکی انکم ایک لیول تک نہیں آتی تو باقی سوشل مل جاتی ہے تاکہminimum wageاس کے مطابق پہنچ جائے۔ اس لئے بہت ساروں سے ہم چندہ نہیں لیتے۔ ہاتھ جوڑ کر کہتے ہیں کہ جو ہمارا حلال رزق ہے، جس کا ہم tax دیتےہیں اس پر توکم از کم چندہ لے لیں۔ میں کہتاہوں کہ نہیں ! سارے رزق کو پاک کر وہم نے چندہ نہیں لینا۔
حضور انور ایده الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی جماعتوں کو ترقی کے لئے پیسہ تو چاہیے ہو تا ہے اور دنیامیں ہر ایک چیز پیسے سے چلتی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ جو پاک رزق ہے وہ دین کیلئے خرچ ہو نا چاہئے۔ اس لئے جو سؤر کا کاروبار کرتے ہیں، شراب کا کاروبار کرتے ہیں یاجو کلبوں کو چلاتے ہیں ان سے بھی ہم چندہ نہیں لیتے۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے کہ تم بھوکے مر رہے ہو تو سؤر کھا سکتے ہو۔ تم لوگ تو سؤر کا کام کر کے سؤر کھا سکتے ہو اس لئے کہ تم لوگوں کی مجبوری تھی کہ بھوکے مررہے تھے لیکن جماعت توبھوکی نہیں مر رہی کہ ضرور ان سے چندہ لے۔
ایک بچی نے سوال کیا کہ جب امام نماز پڑھاتے ہیں تو سورة فاتحہ کے بعد امام آمین کیوں نہیں کہتے اور دوسرے بچے آمین کیوں کہتے ہیں؟
اس پر حضور انورایده الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: تمہیں کس نے کہا کہ وہ آمین نہیں کہتے ؟ آمین دو طرح ہوتی ہے۔ اونچی آواز میں بھی کہہ دیتے ہیں اور ہلکی آواز میں بھی۔ جو نماز ی پیچھے کھڑے ہوتے ہیں وہ سارے اونچی آواز میں تو آمین نہیں کہتے۔ تم نے دیکھا ہوگا کہ تم بچے اونچی آواز میں آمین کہہ دیتے ہو یا بعض دفعہ بڑے جو آپ کے اماں، ابا ہیں وہ ہلکے سے آمین کہہ دیتے ہیں۔ صرف آمین کہنا چاہیے۔ دل میں بھی کہہ سکتے ہو جس طرح تم ظہر اور عصر کی نماز پڑھتی ہو تو ہو گی تو اونچی تو نہیں پڑھتی؟ اس وقت بھی دل میں ہلکی آواز میں ہو نٹوں کے اندر ہی آمین کہتے ہیں۔ تو سارے آمین کہتے ہیں۔ بچوں کی طرح شور نہیں مچاتے بلکہ ہلکا سا کہہ دیتے ہیں۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: الله تعالیٰ کوئی بہر ہ تو نہیں ہے کہ اونچی آواز میں ہی آمین کہا جائے۔ اگر آپ ہلکا سا بھی کہو گے تواللہ میاں کو آواز آجائے گی۔
حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: ایک دفعہ مسجد میں لوگ نماز پڑھ رہے تھے تو آپ ﷺ آئے اور دیکھا کہ کچھ لوگ اونچی اونچی آواز میں تلاوت کر رہے ہیںاور دعائیں پڑھ رہے ہیں اور دوسرے لوگ آہستہ آہستہ کر رہے تھے۔ آپ ﷺنے فرمایا کہ در میان کار استہ استعمال کرو۔ اللہ تعالی کوئی بہرہ نہیں ہے کہ تمہاری آواز نہ سن سکے اس لئے شور مچاکر دعائیں نہ کیا کرو بلکہ آرام آرام سے کیا کرو۔
ایک بچی نے سوال کیا کہ آپ کو ہالینڈ کیسا لگتا ہے؟ حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: ہالینڈ بہت اچھا ہے۔
ایک لجنہ نے سوال کیا کہ حضور ہمارے معاشرے میں ہوتا ہے کہ اگر ایک لڑکی کو depression ہے یا anxiety ہے تو کہتے ہیں کہ اس کا الله تعالیٰ سے رابطہ اتنا مضبوط نہیں ہے۔ تو آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟
حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: ڈپریشن تو دنیا داری کی وجہ سے ہے۔ بعض دفعہ حالات کی وجہ سے anxiety ہو جاتی ہے۔ گھبراہٹ ہوتی ہے۔ حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: ایک گھبراہٹ ہے اور ایکdepression ہے۔ ڈپریشن مایوسی ہے کہ میں مرنےلگی ہوں اور دنیا ختم ہونےلگی ہے۔ اب کچھ نہیں ہو سکتا اور میرے لئے کوئی علاج نہیں ہے اور اسے دنیا کی فکر یں ہوتی ہیں کہ میرے پاس یہ نہیں، وہ نہیں ۔ پس یہ ڈپریشن دنیاداری کی وجہ سے ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں کہتا ہے أَلاَ بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ۔ کہ اللہ کہ ذکر سے تمہارے دلوں کو تسلی ہوتی ہے اور اطمینان ہوتا ہے۔ لیکن ایک گھبراہٹ ہے جو بزرگوں کو بھی ہوتی ہے۔ گھبراہٹ آنحضرتﷺ کو بھی تھی۔ جب بدر کی جنگ ہورہی تھی تو آنحضرت ﷺ کی گھبراہٹ بہت شدید تھی اور آپﷺ رورو کر دعائیں کر رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ بچالے کہ اگر یہ لوگ ختم ہو گئے تو پھر تیرا نام لینے والا کوئی نہیں ہو گا۔ آپ ﷺ کو بھی گھبراہٹ تھی، اسی لئے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ کو کیوں گھبراہٹ ہورہی ہے جبکہ الله تعالیٰ نے آپ کے ساتھ فتوحات کا وعدہ کیا ہوا ہے۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے بھی چھپے ہوئے ہوتے ہیں۔ کیا پتہ ہمارا کوئی قصور یاغلطی ایسی ہو جس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو جائے اور وہ وعدے آگے چلے جائیں یاٹل جائیں، جس طرح موسیٰ کی قوم 40 سال تک دھکےکھاتی رہی۔
حضور انور ایده الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: پس ایک وہ گھبراہٹ ہوتی ہے جو نیک لوگوں کو ہوتی ہے اور اس کی وجہ اور ہوتی ہے۔ ایک depression ہے جو دنیاداری کی وجہ سے ہو جاتی ہے اور دنیا کی خواہشات اتنی ہوتی ہیں کہ وہ انتہاتک پہنچی ہوتی ہیں۔
حضور انور ایده الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: ایک فکر اپنے بچہ کی یہ ہوتی ہے کہ میرے بچوں کی اس ماحول میں تربیت ہو سکے گی یا نہیں؟ میں اس قابل ہوں بھی یا نہیں؟ اس کے لئے انسان پھر الله تعالیٰ سے دعا بھی کرتا ہے اور کرنی بھی چاہئے اور اللہ تعالیٰ آہستہ آہستہ تسلی بھی کروادیتا ہے۔ تواللہ تعالیٰ نے جو کہا ہے کہ میرا ذکر کرو، مجھے یاد کرو تو میں تمہارے دل کو تسلی دوں گا تو وہ تو یقیناً تسلی دیگا۔ پھر اللہ تعالیٰ پر پورا trust کرناپڑتا ہے۔
ایک لجنہ نے سوال کیا کہ ہم اگر روز کا ایک سکہ صدقہ میں دیں اور مہینہ کے آخر میں اس کی رسید بنوالیں، تو کیا یہ ہو سکتا ہے کہ وہی سکہ پھر استعمال کریں یا انہیں سکوں کو دیناضروری ہے؟
حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: ہو سکتا ہے۔ کیوں نہیں ہو سکتا؟ نیت کی بات ہے۔ تم ایک جگہ پیسے ڈالتی گئی اور مہینہ کو آخر میں تم نے گناتو وہ 30 پاؤنڈ یا40 پاؤنڈ یا 100 پاؤنڈ یا یورویاجتنے بھی بنتے ہیں، وہ نوٹ کی شکل میں صدقہ میں دے دیئے۔ تو پھر تم وہی سکے دوبارہ بھی صدقہ میں ڈال سکتی ہو۔ اصل چیز تو تمہاری نیت ہے
ایک لجنہ نے سوال کیا کہ architecture کے لحاظ سے مسجد بناتے ہوئے کن باتوں کا خیال رکھنا چاہئے۔ اور گنبد اور مینار کے لئے کیا ہدایت ہے؟
حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: کوئی ہدایت نہیں۔ جس کا جو دل کرے وہ بنائے۔ ہم نے جو اسلام آباد میں مسجد مبارک بنائی ہے اس کا مختلفarchitectures نے designبناکر دیا تھا۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: جو کپڑے ٹانگنے والا stand ہوتا ہے جو ٹوپیاں، کورٹ اور چھتری و غیر ہ ر کھنے کے لئے استعمال ہوتا ہے وہی مسجد مبارک کا ڈیزائن تھا۔ انگریز architecture نے اس سٹینڈ کو الٹا کر کے مسجد کا design بنادیا۔ تو innovation ہونی چاہیے۔ بس یہ خیال رکھو کہ مینار ہ اور گنبد و غیره ٹھیک ہیں۔
حضور انور ایده الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: آنحضرتﷺ نے جو مسجد نبوی بنوائی تھی اس میں کون سے گنبد یامینارے بنوائے تھے۔ یہ سب بعد کی پیداوار ہے۔ اس وقت چھپڑی ڈال دی اور کھجور کی چھت بنائی تھی۔ اس لئے کوئی خاص ہدایت نہیں ہے۔
آپ جدید innovation کر سکتی ہیں اور کرتی رہیں۔ لیکن اچھی چیز ہو نی چاہئے۔ یہاں کسی بھی جماعت احمدیہ کی مسجد میں الله تعالیٰ کے نام نہیں لکھے ہوئے لیکن اسلام آباد کی مسجد میں ہم نے بہت سارے لکھ دیئے اور اس کے سینٹر میں گنبدآ گیا اور اس کو چھتری کی طرح بنادیا اور مینارے اس کے باہر نکال دئے۔ تو یہ آپ کی مرضی ہے۔ بس ڈیزائن اچھا ہونا چاہئے۔ کریں۔
ایک لجنہ نے سوال کیا کہ کشتی نوح میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلاة والسلام نے our lords prayerپر اعتراض کیا تھاتو کیا ہم مانتے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ دعاکیا کرتے تھےیا یہ بعد میں عیسائیوں نے ایجاد کی ہے؟
اس پر حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا لکھا ہے وہ پورا فقرہ پڑھو ، پھر میں بتاؤں گا۔ اس پر بچی نے عرض کیا کہ اس میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا kingdom ابھی زمین پرنہیں آیا۔
حضور انور ایده الله تعالی ٰبنصرہ العزیز نے فرمایا: سامنے فقرے ہوں تبھی میں بتا سکتا ہوں کہ ان کی تشر یح کیا ہے۔ اس وقت تو مجھے یاد نہیں کہ وہ فقرے کیا ہیں۔ اگر حوالہ ہے تو سامنے لیکر آؤ یا پھر لکھ کر بھیج دینا تو میں بتادوں گا۔ اس وقت زبانی تو مجھے بھی یاد نہیں کہ کیا فقرے تھے۔
ایک لجنہ نے سوال کیا کہ اس وقت آپ کی سب سے بڑی کیا خواہش ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بصرہ العزیز نے فرمایا: تمام احمدی اور ہم سب اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلنے والے بن جائیں اور ویسے بن جائیں جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام بنانا چاہتے ہیں۔ یہ دنیا ہمارے اوپر حاوی نہ ہو جائے۔
ایک بچی نے سوال کیا کہ جب آپ کےپاس وقف کے لئے ماں باپ کی درخواست آتی ہے توآپ ہر درخواست پرہاں کرتے ہیں یا بعض دفعہ نہ بھی کرتے ہیں؟
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: میں نہ ہاں کرتا ہوں ، نہ انکار کرتا ہوں۔ میں اس درخواست کو وقف نو دفتر بھیج دیتا ہوں کہ وہ اس کو process کریں۔ ان کو یہی کہا ہوا ہے کہ تم ہر درخواست کو قبول کر لو۔ اگر بعد میں بعض بچےیا ان کے ماں باپ ٹھیک نہ ر ہیں تو پھر ان کو list میں سے نکال دیتے ہیں۔
ایک بچی نے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ جس طرح فرماتا ہے کہ وہ کسی بھی جان سے بڑھ کر کسی پر بوجھ نہیں ڈالا لیکن دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ بیماری یا معاشرے کی تنگی کی وجہ سے فوت ہو جاتے ہیں توایسا کیوں ہوتا ہے؟
حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: وہ یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے آگے کیا لکھا ہوا ہے۔ اس کے آگے بھی پڑھو کہ کیا لکھا ہے۔ اس کے آگے لکھا ہے کہ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ۔ جس نے جو حرکت کی اس کے مطابق اس کو بدلہ مل جاتا ہے۔ الله تعالیٰ تو بوجھ نہیں ڈالنا لیکن انسان اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے۔ وہ جو کماتا ہے اس کو اس کا خمیازہ بھگتناپڑتا ہے۔ اسی لئے آگے دعا سکھائی، کہ جو ہم سے پہلے لوگ گزرے ہیں، ان پر جو مشکلات آتی ہیں وہ مشکلات ہم پر نہ آئیں اور ہمارے ایسے حالات نہ ہو جائیں اور ہم ایسی حرکتیں کرنے نہ لگ جائیں اور پھر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث بن کر سزائیں ملنے لگ جائیں یا ہم سے ایسی باتیں نہ ہوں۔ اللہ ہمیں معاف کردے، ہم پررحم کر دے اور ان چیزوں سے ہمیں بچا۔ یہ دعائیں بھی اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسی لئے سکھائی ہیں۔ تم لوگ دعائیں کرتے رہو اور ان برائیوں سے بچتےر ہو۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: دیکھیں ایک قانون قدرت ہے یعنیlaw of nature ہے، اور ایک قانون شریعت یعنی law of shariat ہے۔ اگر کسی نے زہر کھا لیا ہے تو قانون قدرت نے اس کا نتیجہ نکالنا ہے اور اس نے مرنا ہے۔ یہ نہیں کہ میں مسلمان ہوں ، اس لئے میں زہر کھا کر نہیں مروں گا اور عیسائی مر جائے گا یا یہودی مر جائے گا۔ جو الله تعالیٰ کو نہیں مانتا اور atheist ہے اس نے محنت کی ہے تو ظاہر ہے وہ اچھے نمبر لے لے گا اور مسلمان کہہ دے کہ میں مسلمان ہوں اور بغیر پڑھے میرےاچھے نمبر آجائیں گے تو وہ نہیں آئیں گے۔ پس جب انسان خود ایسی حرکتیں کرے تو پھر اس کو اس کے بدلے میں بھگتناپڑتا ہے۔ باقی بیماری و غیرہ تواللہ تعالیٰ نے رکھی ہوئی ہے۔ ہر چیز ساتھ ساتھ ہے۔ کیا نبی بیمار نہیں ہوتے تھے ؟ آنحضرتﷺ کو کسی نے ہاتھ لگایا توآپﷺکا جسم بڑا سخت گرم تھا۔ اس پر اس نے پوچھا کہ کیا آپﷺ کو بھی بخار ہوتا ہے ؟ اس پر حضورﷺنے فرمایا میں بھی انسان ہوں، مجھے بھی بخار ہوتا ہے اور بہت زیادہ ہوتا ہے۔ تم لوگ اتنابرداشت بھی نہیں کر سکتے۔ تو یہ چیزیں،تکلیفیں بھی ساتھ ساتھ رکھی ہوئی ہیں اور ساتھ ساتھ دنیاکا قانون بھی چل رہا ہے۔ ہاں انسان دعا کرتار ہے اور ان سے بچنے کی کوشش بھی کرے تو بہت سارے فائدے بھی ہیں اور یہ کہنا کہ کسی نے مرنا نہیں ہے یا کسی نے جانا نہیں ہے ٹھیک نہیں۔ الله تعالیٰ نے خود کہا ہے کچھ لوگوں کو میں بچپن میں اٹھالیتا ہوں، کچھ کو جوانی میں، کچھ کو بڑی عمر دیتاہوں ،کچھ کو اتنی عمر دیتا ہوں کہ ان میں بچپن دوبارہ آجاتا ہےیعنی بھولنے لگ جاتے ہیں ۔ یہ بیماریاں اور بھولنے کی بیماری بوڑھے ہو کر ہو جاتی ہے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ سے فضل مانگتے رہنا چاہئے۔ پس اس کا یہی مطلب ہے کہ اگر غلط حرکتیں یاغلط کام کر و گے تو اس کا نتیجہ غلط نکلے گا۔
حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جو قرآن کریم میں حکم دیئے ہیں وہ ایسےحکم ہیں جو انسان کی طاقت سے بڑھ کر نہیں ہیں۔ پہلے اللہ تعالیٰ کے حکم تلاش کرو اور پھر ان پر عمل کرو۔ اس کے بعد شکوہ کرنا کہ زیادہ بوجھ ہے یانہیں۔
واقفاتِ نوبچیوں کی حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیزکےساتھ یہ کلاس6بجکر55منٹ تک جاری رہی۔

واقفین نو اپنے آقا کے حضور

بعدازاں7بجےواقفینِ نوبچوں کی کلاس حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ شروع ہوئی۔
پروگرام کاآغازتلاوت قرآن کریم سے ہوا۔جوعزیزم علی شہریارنے کی۔اس کااردوترجمہ عزیزم طٰہٰ شکیل نےپیش کیا۔
اس کےبعد عزیزم ندیم احمد نےآنحضرتﷺ کی حدیث مبارکہ کاعربی متن پیش کیا جس کادرج ذیل اردوترجمہ عزیزم مسروراحمدنےپیش کیا۔
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺنےبتایاکہ اللہ تعالیٰ فرماتاہےمیرابندہ میری تکذیب کرتاہےحالانکہ اسےایسانہیں کرناچاہئے۔وہ مجھےگالیاں دیتاہےحالانکہ اسےایسا کرنےکاحق نہیں تھا۔مجھے جھٹلانےسےمرادیہ ہےکہ وہ کہتاہےاللہ تعالیٰ ہمیں دوبارہ اس طرح پیدانہیں کرسکتاجس طرح اس نےہمیں پہلےپیداکیاہےاورمجھےگالی دینےکامطلب یہ ہےکہ وہ کہتاہےاللہ تعالیٰ نےکسی کواپنابیٹابنایاہے۔حالانکہ میری ذات صمد یعنی بےنیاز ہےاورنہ میراکوئی بیٹاہےاور نہ میں جناگیاہوں۔یعنی نہ میں کسی کابیٹاہوں اورنہ ہی میراکوئی ہمسرہوسکتاہے۔

(مسنداحمدجلد2ص317)

بعدازاں عزیزم خرم شہزادنےحضرت اقدس مسیح موعودؑ کادرج ذیل اقتباس پیش کیا۔
حضرت اقدس مسیح موعودؑ فرماتےہیں۔
‘‘پس چونکہ قدیم سے اور جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی ہے خدا کا شناخت کرنا نبی کے شناخت کرنے سے وابستہ ہے اِس لئے یہ خود غیر ممکن اور محال ہے کہ بجز ذریعہ نبی کے توحید مل سکے۔ نبی خدا کی صورت دیکھنے کا آئینہ ہوتا ہے اسی آئینہ کے ذریعہ سے خدا کا چہرہ نظر آتا ہے۔ جب خدا تعالیٰ اپنے تئیں دنیا پر ظاہر کرنا چاہتا ہے تو نبی کو جو اس کی قدرتوں کا مظہر ہے دنیا میں بھیجتا ہے اور اپنی وحی اس پر نازل کرتا ہے اور اپنی ربوبیت کی طاقتیں اس کے ذریعہ سے دکھلاتا ہے۔ تب دنیا کو پتہ لگتا ہے کہ خدا موجود ہے۔ پس جن لوگوں کا وجود ضروری طور پر خدا کے قدیم قانونِ ازلی کے رُو سے خد اشناسی کے لئے ذریعہ مقرر ہو چکا ہے اُن پر ایمان لانا توحید کی ایک جزو ہے اور بجز اس ایمان کے توحید کامل نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ ممکن نہیں کہ بغیر اُن آسمانی نشانوں اور قدرت نما عجائبات کے جو نبی دکھلاتے ہیں اور معرفت تک پہنچاتے ہیں وہ خالص توحید جو چشمہء یقین کامل سے پیدا ہوتی ہے میسر آسکے۔ وہی ایک قوم ہے جو خدا نما ہے جن کے ذریعہ سے وہ خدا جس کا وجود دقیق در دقیق اور مخفی در مخفی اور غیب الغیب ہے ظاہر ہوتا ہے اور ہمیشہ سے وہ کنزِ مخفی جس کا نام خدا ہے نبیوں کے ذریعہ سے ہی شناخت کیا گیا ہے۔ ورنہ وہ توحید جو خدا کے نزدیک توحید کہلاتی ہے جس پر عملی رنگ کامل طور پر چڑھا ہوا ہوتا ہے اُس کا حاصل ہونا بغیر ذریعہ نبی کے جیسا کہ خلاف عقل ہے ویسا ہی خلاف تجارب سالکین ہے۔’’

(حقیقۃالوحی،روحانی خزائن جلد22ص115۔116)

اس کےبعدعزیزم حسن محمود نےحضرت اقدس مسیح موعودؑ کی نظم
حمد و ثناء اسی کو جو ذات جاودانی
ہمسر نہیں ہے اس کا کوئی نہ کوئی ثانی
میں سے منتخبہ اشعار خوش الحانی سے پڑھ کرسنائے۔
بعدازاں عزیزم نوراحمدرضا اورعزیزم حمزہ ابتسام نے‘‘ہستیٔ باری تعالیٰ’’ کےعنوان پراپنامضمون پیش کرتےہوئےمختلف دلائل دیئے۔
اس کےبعدحضورانورایدہ اللہ تعالیٰ ےواقفین نو بچوں کوسوالات کرنےکی اجازت عطا فرمائی۔
ایک بچے نے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا کیوں بنائی ہے؟
اس کے جواب میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے۔ تم کاغذ کی کشتی بناتے ہو؟ تمہارا دل چاہتا ہے تو بتاتے ہو۔ تو اللہ کی بھی مرضی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات بنائی، پھر یہ دنیا بھی بنائی، پھر اس میں انسان پید اکئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ میں نے یہ دنیا بے مقصد نہیں بنائی۔ اس کا ایک مقصد بھی ہے۔ تاکہ جو نیک لوگ ہیں، ان کو ان کی نیکیوں کا بدلہ دے، پھر ان سے خوش ہو، ان کو انعام دے۔تو اس لئے اللہ تعالیٰ نے دنیا بنائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ میری باتیں ماناکرو اور نیک کام کیا کرو۔ پھر میں تمہیں انعام دیا کروں گا۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: جب تم بڑے ہو جاؤ گے تو پھر تمہیں دنیا بنانے کا اور بھی مقصد پتہ لگ جائے گا۔
 ایک بچے نے سوال کیا کہ ہم ہالینڈ میں احمدیت کس طرح پھیلا سکتے ہیں؟
اس پر حضور انور ایدہ الله تعالی ٰبنصرہ العزیز نے فرمایا: تمہارا کام یہ ہے کہ تم اچھے کام کرو۔ تم بتا ؤکہ میں احمدی مسلمان ہوں۔ نیک کام کرو۔ نماز کا وقت ہو جائے تو ٹیچرسے اجازت لے کرسکول میں نماز پڑھو۔ لوگ پوچھیں گے کہ کیا کرتے ہو تو کہو کہ عبادت کرتے ہیں اور پانچ وقت کی نمازیں پڑھتے ہیں۔ ہمیں الله تعالیٰ کا حکم ہے کہ اس کی عبادت کرو۔ نیک کام کرو تو لوگ attract ہوں گے۔ اچھی باتیں کرو، شرارتیں نہ کرو۔ غلط کام نہ کرو۔ تو لوگوں کو توجہ پیدا ہوگی کہ کس طرح کے یہ بچے ہیں کہ اچھے کام کرتے ہیں۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: پڑھائی میں بھی اچھے ہو، کھیلوں میں بھی اچھے ہو تو توجہ پیدا ہو جائے گی۔ پھر جب احمدیت کا تعارف ہو جائے تو پھر اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے۔ دل تو الله تعالیٰ نے کھولنا ہے۔ پھر ایک وقت آئے گا جب لوگوں کی خود ہی توجہ ہو گی، ان کو پتہ ہو گا کہ ہمیں ایک لڑکے نے بتایا تھا کہ احمدیت کیا چیز ہے۔ جو نیک لوگ ہوں گے ان کی خود ہی مذہب کی طرف توجہ پیدا ہو جائے گی۔ زبر دستی تو کسی کو احمدی نہیں بنایا جاسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے کہہ دیا ہے کہ زبردستی کچھ نہیں کرنا۔ ہاں اچھے کام کرو تو لوگ خود بخود تمہیں دیکھ کر تمہاری طرف توجہ کریں گے، پھر ریسرچ کریں گے اور پھر کسی وقت احمدی بھی ہو جائیں گے۔
ایک خادم نے سوال کیا کہ حضور کو جب فری ٹائم ملتا ہے تو اس میں حضور کیا کرتے ہیں؟
اس کے جواب میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: سب سے پہلے تو میں کوشش کرتا ہوں کہ مجھے فری ٹائم مل جائے۔
ایک بچے نے سوال کیا کہ دنیا میں سب سے پہلی چیز کیا بنی تھی؟
اس کے جواب میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: یہ تو اللہ تعالیٰ کو پتہ ہے کہ اس نے سب سے پہلے کیا بنایا۔ بہر حال جب اللہ تعالیٰ نے زمین بنائی تو یہ بڑی گرم چیز تھی، آگ تھی، کو ئلہ تھا۔ پھر آہستہ آہستہ اس پر بارش ہوئی، ٹھنڈی ہوئی۔ دنیا سے مراد اگر یہ زمین ہےتو یہاں پہلے آگ تھی، پھر آہستہ آہستہ ٹھنڈی ہوئی۔ پھر اس میں آبادی آئی۔ اس سے پہلے الله تعالیٰ نے کتنی زمینیں بنائی ہیں یہ تو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ یہ جو ہماری دنیا ہے، یہ بھی تو کئی ارب سال پرانی ہے۔ لاکھوں ارب سال پرانی ہے۔ اتنی پرانی ہسٹری کون جانتا ہے کہ پہلی چیز کیا تھی۔ ہاں یہ ہے کہ یہ جو زمین کی موجودہ شکل ہے اس سے پہلے یہ آگ کا گولہ تھی۔ پھر آہستہ آہستہ یہ ٹھنڈی ہوتی گئی اور اس میں آبادی آتی گئی۔ پہلے بیکٹیریا پید اہوئے، پھر اور جاندار اور جانور پیدا ہوئے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے evolutionسے اس دنیا کو آباد کیا۔
ایک بچے نے سوال کیا کہ جن واقفینِ نوبچوں کو بڑا ہو کر مربی بنناہے لیکن ان کے اندر ابھی مربی بننے کا شوق نہیں ہے، وہ کیا کر سکتے ہیں؟
اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: کس نے کہا ہے کہ اگر interest نہیں ہے تو پھر بھی مربی بننا ہے۔ زبردستی تو کوئی نہیں کر رہا۔ اگر تمہارے ماں باپ کی خواہش ہے کہ تم مربی بنو اور تمہارا interestہے کہ تم ڈاکٹر بنو توڈا کٹر بن جاؤ، اگر انجینئر بننے کا شوق ہے توانجینئر بن جاؤ، lawyer بننے کا شوق ہے تو lawyer بن جاؤ۔ یا اگر کوئی اور کام کرنا ہے تو اجازت لےکر کر سکتے ہو۔ بے شمار واقفین نو ہیں۔ ہر ایک تو جامعہ میں جا بھی نہیں سکتا اور جاتے بھی نہیں۔ ہاں ماں باپ کی خواہش ہوتی ہےکہ مربی بنے لیکن پہلی choice تمہاری ہے۔ اگر تمہارا دل چاہتا ہے یا تمہارے پاس options ہیں اور تمہیں نہیں پتہ کہ کیا بننا ہے تو پھر پہلی option مربی کی ہونی چاہئے۔ پھر ڈاکٹر ز ہیں، ٹیچر ز ہیں اور جو دوسرے شعبہ ہیں ان کو لے سکتے ہو۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسار پربچے نے بتایا کہ وہ مربی بننا چاہتا ہے۔
اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ تم تو مربی بننا چاہتے ہو تو تمہیں کس چیز کی فکر ہے؟ باقی جس نے جو بھی بننا ہے وہ بنے، مجھے لکھ کر بتادیا کرو۔
ایک بچے نے سوال کیا کہ حضور انور نے کونسی دعا کی تھی کہ آپ اللہ تعالیٰ کے پیارے بندے بن گئے ہیں؟
اس پر حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے ویسے ہی دعاکرنی چاہئے کہ الله تعالیٰ ہم سے راضی ہو جائے۔ اگر تمہارا خیال یہ ہے کہ خلیفہ بنے کیلئے دعا کی تھی تو کوئی بھی یہ دعا نہیں کرتا۔ ہاں یہ دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں نیکیوں کی توفیق دے، ہمیں اچھا احمدی بنائے، ہمیں خلیفۂ وقت کی باتیں ماننے والا بنائے، اور نیک کام کرنے والا بنائے۔ یہ دعا کیا کرو۔
ایک بچے نے سوال کیا کہ جب ہم سفر کررہے ہوتے ہیں اور نماز کا وقت ہو جائے تو ہم ٹرین یا گاڑی میں ہی نماز پڑھ لیتے ہیں لیکن ہمیں خانہ کعبہ کارخ کا پتہ نہیں ہوتا۔
اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: جب تم سفر کر رہےہو تو اس میں اجازت ہوتی ہے۔ آنحضرتﷺ نے اجازت دی ہوئی ہے۔ اگر تمہیں قبلہ کے رخ کا نہیں پتا اور مجبوری ہے تو نماز پڑھنا زیادہ ضروری ہے۔ عبادت تو اللہ کی ہی کر رہے ہو۔ جہاں مجبوری ہے وہاں تم پڑھ سکتے ہو۔ کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن نماز وقت پر پڑھنی چاہئے۔ نماز ضائع نہیں ہونی چاہئے۔
اس بچے نے عرض کیا کہ میری نظر بہت کمزور ہوگئی ہے۔ اس کیلئے دعا کی درخواست کرنی تھی۔
اس پر حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ اللہ تعالی ٰفضل کرے۔ اپنی آنکھوں کی میڈیکل رپورٹ لکھ کر مجھے بھیجو۔ پھر ہومیو پیتھی دوائی استعمال کرنا۔
ایک خادم نے عرض کیا کہ میری ایک عیسائی دوست سے بحث ہورہی تھی۔ وہ کہہ رہا تھا کہ اگر صرف عیسیٰ علیہ السلام پر ہی ایمان لے آؤتو تمہیں جنت حاصل ہو جائے گی۔ میں اس کا کوئی صحیح جواب نہیں دے سکا تھا۔
اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اسے کہو کہ تم بالکل ٹھیک کہتے ہو۔ تم کہتے ہو کہ صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لاؤ، ہم تو کہتے ہیں کہ سارے نبیوں پر ایمان لاؤ تو جنت ملتی ہے۔ ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی نبی مانتے ہیں اور ان پر ایمان لاتے ہیں اور ان کو اللہ تعالیٰ کا سچا نبی مانتے ہیں۔ آنحضرتﷺکے آنے کی انہی کی پیشگوئی تھی جو کہ بائیبل میں بھی موجود ہے۔ اس کے مطابق ہم آنحضرتﷺکو بھی مانتے ہیں۔ پھر اس سے بھی بڑھ کر آنحضرتﷺ نے آنے والے مسیح کی پیشگوئی کی اور ہم اس کو بھی مانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تو قرآن شریف میں لکھا ہے کہ سارے نبیوں پر ایمان لانا ضروری ہے۔ ہم تو ایمان لاتے ہیں۔
حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اسے کہو کہ اگر تو جنت تم نے دینی ہے تونہ دینا۔ اگر جنت اللہ تعالیٰ نے دینی ہے تو ہم اللہ تعالیٰ کی بات سن کر ایمان لاتے ہیں۔ ہاں، اگر جنت تمہارے ہاتھ میں ہے تو ہم ایسی جنت سے باز آئے۔ اس میں بحث کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ بعض ضدی آدمی ہوتے ہیں۔
حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ یہ کہاں لکھا ہوا ہے کہ اگر آنحضرتﷺ پر ایمان لے آؤ تو تمہیں جنت مل جائے گی۔ آنحضرت ﷺ نے تو اپنی بیٹی کو بھی فرمایا کہ اگر تم نے نیک عمل نہ کئے تو یہ نہ سمجھنا کہ تم رسول کی بیٹی ہو کر جنت میں چلی جاؤ گی۔ عمل سے بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی۔ اس لئے اپنے عمل نیک ہوں گے تو الله تعالیٰ اس کا بہتر reward دیتا ہے۔ باقی اللہ تعالیٰ کی رحمت بڑی وسیع ہے۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ میں معاف کردیتا ہوں۔ ایک شخص تھا جو بہت گنہگار تھا، اس نے ننانوے قتل کر دیئے تھے۔ ہر کوئی اسے کہتا تم دوزخ میں جاؤ گے اور جو بھی اسے کہتا کہ تم دوزخ میں جاؤ گے تو وہ اسے بھی قتل کر دیتا۔ بالآخر کسی نے اسے بتایا کہ تم فلاں شخص کے پاس جاؤ، وہ تمہیں جنت کا راستہ بتائے گا۔ وہ اس طرف چل پڑا۔ وہ چل رہا تھا کہ راستہ میں اس کو موت آگئی۔ اب وہاں جنت کے فرشتے بھی آگئے اور دوزخ کے فرشتے بھی آگئے۔ دوزخ کے فرشتے کہیں کہ ہم نے اسے لیکر جانا ہے کیونکہ اس نے گناہ کئے ہوئے ہیں۔ جنت کے فرشتے کہیں کہ نہیں! یہ نیکی کی طرف جارہاتھا۔ ہم نے اسے جنت میں لیکر جانا ہے۔ خیر بڑی بحث کے بعد فیصلہ ہوا کہ فاصلہ ناپا جائے۔ اگر تو جنت کا راستہ تلاش کرنے جس بزرگ کی طرف جارہا تھاوہاں کا فاصلہ کم ہوا تو پھر جنت میں چلا جائے گا۔ لیکن اگر جہاں سے آیا تھاوہاں سے فاصلہ کم ہوا تو پھر دوزخ میں چلا جائے گا۔ یہ حدیث ہی ہے۔ اور جب پیمائش کرنے لگے تو نیکی کی طرف جانے والا جو فاصلہ تھاوہ کم تھا اور اس طرف اس کے قدم زیادہ ہو گئے تو الله تعالیٰ نےاس کو جنت میں ڈال دیا اس کے اس حسنِ ظن پر کہ الله تعالیٰ مجھے بخش دے اور اس نے آخری وقت تک کو شش کی۔ تو انجام بخیر ہونے کی دعا کرنی چاہئے ۔ اور اسی پر اللہ تعالیٰ نے reward دینا ہے۔ باقی کسی بندے نے جنت میں لے کر نہیں جانا ہے۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: ہاں، الله تعالیٰ نے یہ ضرور کہا ہے کہ تم آنحضورﷺ کو مانو لیکن ان کی تعلیم پر بھی عمل کرو۔ قرآن شریف میں لکھا ہوا کہ ہے ظاہری نمازیں پڑھ لینا اور مسلمان کہہ دیناکافی نہیں ہے۔ قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّيْنَ۔ کہ یہ نماز میں ہلاکت کا باعث بن جاتی ہیں۔ ان نمازوں سے مار پڑ جاتی ہے۔ ہر چیز کرو تو پھر الله تعالی ٰکے حکموں پر عمل کرنے والے بنتے ہو۔ صرف کلمہ پڑھنے سے کوئی مسلمان نہیں ہو جاتا۔ ٹھیک ہے، شرک نہیں کرنا۔ شرک ایک بہت بڑا جرم ہے۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ میں نہیں بخشوں گا۔ لیکن اصل یہ ہے کہ مسلمان ہو کر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ جنت و دوزخ کا فیصلہ الله تعالىٰ نے کرنا ہے اور وہی کرے گا۔ اس دنیا میں کوئی نہیں بتاسکتا کہ کون جنت میں جائے گا اور کون دوزخ میں۔ اس لئے ہر وقت استغفار کرنی چاہئے اور اپنے انجام اچھے ہونے کی دعا کرنی چاہئے۔
ایک خادم نے سوال کیا کہ کیا حضور انور نے تیسری عالمی جنگ کیلئے کوئی تیاری کی ہے؟ ہمیں کس قسم کے measures لینے چاہئیں؟
اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: تم میرے خطبے سنتے ہو؟ میرے غیروں کے ساتھ بہت سارے ایڈریسز ہیں ان میں میں کہہ چکا ہوں کہ ہم بڑی تیزی سے World War III کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اب تو دنیا دار اور دوسرے بڑے بڑے لوگ بھی کہنے لگ گئے ہیں۔ باقی جو measuresہیں تو ان کے حوالہ سے میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ اگر World War III ہوتی ہے تو ہو سکتا ہے کہ atomic war بھی ہو جائے ۔ اس کیلئے تم لوگ جو کم از کم ظاہری علاج ہے وہ کرو۔ ہومیو پیتھی دوائی کا بھی بتایا تھا کہ وہ کھاؤ۔ دوسرا یہ کہ کچھ دیر کیلئے دو تین مہینے کیلئے اپنا راشن وغیرہ بھی اپنے پاس رکھو۔ جماعتوں کو سرکلر کیا ہوا ہے کہ measures لے لیں اور کھانے پینے کا سامان رکھیں ۔ میں تو پچھلے پانچ چھ سال سے کہہ رہا ہوں۔ مختلف وقتوں میں اس کی ضرورت پڑتی بھی رہی ۔ نیچرل طوفان اور hurricane آتےرہے۔ ان ساری باتوں کو سامنے رکھو۔
حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: ہم ظاہری طور پریہی کر سکتے ہیں، باقی اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ الله تعالیٰ بچائے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ جنگیں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کیلئے پیشگوئی کے طور پر آئیں۔
پہلے بھی دو world wars ہو چکی ہیں۔ تم لوگ نیک بن جاؤ۔ اس آگ سے بھی بچ سکتے ہو جب تم لوگ نیکیاں کرو گے۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھو گے تو الله تعالیٰ تمہیں بچالے گا یا کم ازکم اس حد تک محفوظ رکھے گا کہ اگر کچھ ہوتا بھی ہے تو اللہ تعالیٰ اگلے جہاں میں تم لوگوں سے بہتر سلوک کرے گا۔ جب جنگیں ہوتی ہیں تو ان کے ایک نیچرل اثر ات تو ظاہر ہونے ہی ہیں ۔ لیکن اس سے بچنے کیلئے ہم جو ظاہر کوشش کر سکتے ہیں وہ کرنی چاہئے۔ radiation سے بچنے کیلئے دوائی ہے۔ بھوک سے بچنے کیلئے کچھ راشن وغیرہ ہے۔ باقی اللہ سے پیار کرو، اللہ سے تعلق رکھو۔ یہی سب سے بڑا measureہے۔
اس کے بعد ایک خادم نے سوال کیا کہ ہمارے مسلمان ممالک خاص کر جو ترقی پذیر ممالک ہیں ان میں blast وغیرہ بھی ہوتے ہیں، ان میں بعض بچے یتیم ہو جاتے ہیں۔ یورپ میں تو ایسے بچوں کی کفالت کی ذمہ داری حکومت لے لیتی ہے لیکن وہاں ایسا نہیں ہے۔ ان کی بری سوسائٹی میں پڑنے کے چانسز زیادہ ہو جاتے ہیں۔ اس طرح جب وہ بری سوسائٹی میں پڑتے ہیں اور غلط کام کرتے ہیں تو پھر عام طور پر خیال جاتا ہے کہ الله تعالیٰ کی طرف سے ان کو سزا بھی ملے گی اور جہنم میں بھی جائیں گے۔ حالانکہ ان کے بچوں کا تو کوئی قصور نہیں جب ان کے ماں باپ ہی ان سے بچھڑ جاتے ہیں۔ وہ اس وقت تو بے گناہ ہوتے ہیں۔
اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالی ٰبنصرہ العزیز نے فرمایا: اس لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں حکم دیا ہے کہ یتیموں کا خیال رکھو۔ ایسے بچوں کو بری سوسائٹی میں ڈالنے والے بھی گناہ گار ہوں گے اور ان کو اس کی سزا ملے گی۔ باقی اللہ تعالیٰ کی رحمت بڑی وسیع ہے۔ اگر کسی بچے کا اس ماحول کی وجہ سے قصور نہیں ہے تو ہمیں کیا پتہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ کیا سلوک کرنا ہے؟ میں نے ابھی مثال بھی دی ہے ہر ظاہر ی طور پر اچھے کام کرنے والا جنت میں جائے اور ہر برے کام کرنے والا دوزخ میں جائے اس کا فیصلہ تو الله تعالیٰ نے کرنا ہے۔ باقی اللہ تعالیٰ کی رحمت وسیع ہے۔
حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: کتنے لوگ ہیں جو بری سوسائٹی میں جاتے ہیں؟ اسی ماحول میں پلنے والے بچے بہتر بھی نکلتے ہیں اور خراب بھی ہوتے ہیں۔ اس ماحول میں جو یورپ میں رہنے والے ہیں یہاں تو ساری سہولتیں میسر ہیں۔ یہاں یتیم خانے، Orphanages بنے ہوئے ہیں جو بچوں کو اچھار کھتے ہیں تو ان کے کونساسو فیصد بچے اچھے کام کرنے والے ہوتے ہیں۔ اگر نیکی کا معیار اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل سے دیکھا جائے تو کہاں لکھا ہوا ہے کہ سارے نیک ہیں ؟ صرف پیسہ ہونا تو نیکی نہیں ہے۔ روٹی مل جانا تونیکی نہیں ہے۔ باقی سز ایا جز ادینا الله تعالیٰ کا کام ہے۔ اس کے بارہ میں ہم نہ جانتے ہیں اور نہ فیصلہ کر سکتے ہیں۔ اگر کسی کا قصور نہیں ہے اور ماحول نے اس کو خراب کیا ہے تو اللہ تعالیٰ رحمان ہے جو اس کے بخشش کے سامان اگلے جہان میں کر سکتا ہے۔ اور وہ کس طرح کرے گا؟ یہ الله تعالی ٰبہتر جانتا ہے۔
حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: یہاں یورپ میں جو آپ مثال دے رہے ہیں کہ آپ نے orphanages بنادیئے ہیں اس کی کیا گارنٹی ہے وہاں سارے ٹھیک ہوں گے۔ ان کے اندر بھی تو چور، ڈاکو، اچکے پیدا ہوتے ہیں ۔ اگر یہاں ایسے لوگ پیدا نہیں ہوتے تو پھر انہوں نے ایسے قانون کیوں بنائے ہوئے ہیں؟ یہ قانون بنانے کا مقصد ہی یہ ہے کہ برائیاں موجود ہیں۔ دوسرا یہ کہ ان کی نظر میں جو برائیوں کا معیار ہے اور جو الله تعالیٰ کی نظر میں برائیوں کا معیار ہے وہ مختلف ہے۔ ہاں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم ضرور دیا ہے تم یتیموں کو سنبھالو، انہیں پالو۔ جنگوں کی وجہ سے یا دوسری لڑائیوں کی وجہ سے جو مر جاتے ہیں اور بچے یتیم ہو جاتے ہیں ، اس زمانہ میں جنگیں ہوتی تھیں اسی لئے اسلام میں اس وقت زیادہ شادیوں کا بھی حکم تھا تا کہ یتیم بچوں کو پالا جائے۔ شادیوں کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ یتیم بچوں کی پرورش کی جائے، یہ نہیں تھا کہ مرد صرف اپنی عیاشی کیلئے شادیاں کرتے رہیں۔ اسلام نے یہ کہیں نہیں لکھا۔ اسلام نے بعض قوانین ر کھے ہیں۔ کچھ شرائط رکھی ہیں، ان شرائط کے اندر رہ کر شادی کی اجازت ہے ۔ ہر ایک کو چار چار شادیاں کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ آپ کھڑے ہو جائیں کہ میں مسلمان ہوں اور میں چار شادیاں کر لوں۔ اور اس ملک کا قانون بڑا خراب ہے۔ مجھے چار شادیاں کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ آپ کی چار شادیوں کا مقصدبھی پورا ہونا چاہئے۔ کوئی وجہ ہونی چاہئے۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے بار بار تلقین بھی کی ہے کہ وہ لوگ جو یتیم کی پرورش نہیں کرتے، اس کا خیال نہیں رکھتے ان کو میں جہنم میں ڈالوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے یتیم کی تو بات کی ہی نہیں کہ وہ جہنم میں جائے گا۔ یتیم جو خراب ہوتا ہے، اس کو خراب کرنے کی وجہ بننے والا جہنم میں جائے گا۔ اللہ تعالی ٰکی رحمانیت بھی تو بہت وسیع ہے۔ جو انتہائی شرک کرنے والا ہے اللہ تعالی ٰنے کہا ہے کہ میں اس کو نہیں بخشوں گا۔ دوسری طرف ایک جگہ کہا کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب جہنم بالکل خالی ہو جائے گی۔ اس لئے جنت کے مزے تو سارے لے لیں گے۔ لیکن تھوڑی بہت سزا انسان اپنے کئے کی پا تا ہے۔ باقی حکومت کا کام ہے، اور اس ماحول کا کام ہے اور لوگوں کا کام ہے کہ ان کو سنبھالیں۔ اگر وہ نہیں سنبھالتے تو یتیموں کے پاس تو عذر ہے کہ وہ کہہ دیں گے کہ ہمیں کوئی سنبھالنے والا نہیں تھا تو الله تعالیٰ ان کا عذر شاید مان لے۔ لیکن جنہوں نے نہیں پالا،ان کا عذر نہیں مانا جائے گا۔ وہ ضرور اپنے کئے کی سزا پائیں گے۔ بظاہر الله تعالیٰ کی باتوں سے یہی لگتا ہے۔ باقی تو ہم کسی کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ اس لئے قرآن شریف کو بار بار پڑھو۔ قرآن شریف میں یتیم کو پالنے کے بارے میں بہت تلقین کی گئی ہے۔
ایک خادم نے سوال کیا کہ جماعت climate change کے حوالہ سے کیا کردار ادا کر سکتی ہے؟
اس کے جواب میں حضور انور ایده الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: خدام الاحمدیہ والے ایک پودالگا کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے climite چینج کر دیا ہے۔یالجنہ نے چار درخت لگادیئے یا انصار الله نے لگادیئے ۔ سوال یہ ہے کہ اب جس طرح آبادی بڑھ رہی ہے، اس آبادی کیلئے زمین چاہئے۔ جب زمین چاہئے ہوگی تو ظاہر ہے جو جنگل ہیں، درخت ہیں وہ کم ہوں گے۔ جنگل کی percentage کم ہے۔ اس لئے درخت لگاتے رہنا چاہئے۔ اس لئے ان ملکوں میں کہتے ہیں کہ تیس یا چالیس فیصد جنگل ہونا چاہئے۔ لیکن پاکستان جیسے ملک ہیں جہاں صرف چور اکٹھے ہوئے ہیں اور جنگل کاٹ کاٹ کر بیچ دیئے اور مزید لگانہیں رہے۔ وہاں بد اثرات پیدا ہوں گے۔ پس یہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ، جہاں ہمارے وسائل ہیں ان کے ذریعہ لوگوں کو awarenessدینےکی کوشش کریں۔ درخت زیادہ کریں۔ greenery زیادہ کریں۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اور باقی یہ کہ دنیا جس طرح ترقی کررہی ہے کہ یہاں بھی آنا ہو تو کار میں بیٹھ کر آجاتے ہیں۔ اس لئے کاربنemission کو کم کریں۔ ڈچ لوگ سائیکل چلاتے ہیں، آپ بھی زیادہ سائیکل چلایا کریں۔ آپ لوگوں نے ذرا سا بھی کہیں جانا ہو تو کاروں پر چلے جاتے ہیں ۔ ہمارے پاکستان سے آنے والے زیادہ تر اسی طرح کرتے ہیں۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: پس یہی کام ہیں جو کر سکتے ہیں۔ ایک توplantation زیادہ کرو باقی دنیا میں جو ترقی ہورہی ہے اس کے مقابلہ میں ہمارے پاس تو انڈسٹری نہیں ہے۔ اس لئے ہمارا کیا کردار ہو سکتا ہے۔ ہمارے پاس کوئی ایسا کارخانہ ہو گا جس کی چمنی سے smoke نکل کر pollution پیدا کرے گا تو پھر ہم بھی کچھ کریں گے۔ ابھی جماعت کے پاس تو کوئی ایسی چیز نہیں ہے۔ باقی جو کر سکتے ہیں وہ کر دار تو ادا کر ہی رہے ہیں۔
ایک خادم نے سوال کیا کہ ناکامی کی کیا تعریف ہے ؟ یا کونسا ایسا شخص ہے جو اس دنیامیں ناکام کہلایا جائے گا؟ جو اپنے آپ کوناکام سمجھے؟ س پر حضور انور ایدہ الله تعالی ٰبنصرہ العزیز نے درج ذیل شعر پڑھا:
مایوس و غمزدہ کوئی اس کے سوا نہیں
قبضہ میں جس کے قبضۂ سیف خدا نہیں
اس کے بعد حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اللہ تعالی سے دعا کیا کرو۔ ناکامی کا کیا ہے؟ مایوسی ہی ناکامی ہوتی ہے۔ باقی آدمی اپنی پوری کوشش کرے اور پھر اس کے لئے جتنی دعا کر سکتا ہے کرے۔ اس کے بعد جونتائج ہیں وہ الله تعالیٰ پر چھوڑ دے۔ وہ سمجھے کہ پھر اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے۔ اس کی وجہ سے مایوسی پیدانہیں ہوئی۔ مایوسی ہی ناکامی ہوتی ہے۔ باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ ہمارے لئے کیا بہتر ہے۔ ناکامی کی definition کیا ہے ؟ آپ سمجھتے ہیں کہ ایک چیز آپ کو ضرور ملنی چاہئے۔ آپ نے اس کیلئے پوری کوشش کی، اس کے جو لوازمات ہیں وہ پورے کئے، جو محنت تھی وہ کی، اور اس محنت کے ساتھ پھر دعا کی۔ ایک مومن کا یہی کام ہے۔ ایک دہر یہ صرف محنت کر تا ہے اور اس کو اس کا reward مل جاتا ہے۔ ایک مومن صرف محنت کرے گا تو اس کو reward نہیں ملے گا جب تک اللہ تعالیٰ کو شامل نہ کرے۔ یا پھر کہہ دے کہ میں اللہ کو مانتاہی نہیں ہوں ، دہریہ ہوں۔ پس جب ایک احمد ی ہو کر الله کو مانتے ہو تو پھر محنت بھی کرنی پڑے گی اور دعا بھی کرنی پڑے گی۔ اور جب دعا کرو اور محنت کرو اور پھر اس کےنتائج نہ ہوں تو پھر اللہ تعالیٰ دل میں ڈال دیتا ہے کہ یہ تمہارے لئے بہتر نہیں ہے۔ یا پھر تسلی ہو جاتی ہے کہ جو بھی ہو گا، میرے لئے بہتر ہو گا۔ اس طرح مایوسی ہوتی ہی نہیں۔ اس لئے ناکامی کی definition حساب کے فارمولے کی طرح تو نہیں بتاسکتے۔ بہر حال مایوس نہیں ہونا۔ پوری محنت کرو، اپنی ساری potential ہے ، صلاحیتیں ہیں، وسائل ہیں ان کو کام میں لاؤ اور پھر دعا کرو۔ پھر اللہ تعالیٰ پر معاملہ چھوڑ دو۔
واقفین نوبچوں کی حضور انور ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیزکےساتھ یہ کلاس8بجے ختم ہوئی۔بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیزنےنماز مغرب وعشاءجمع کرکے پڑھائی۔نمازوں کی ادائیگی کےبعد حضور انور ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیزاپنی رہائش گاہ پرتشریف لے گئے۔

image_printپرنٹ کریں