skip to Main Content
عبدالماجدطاہر۔ایڈیشنل وکیل التبشیر لندن:سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کادورہ ہالینڈ:قسط نمبر6

ہالینڈ سے روانگی اور فرانس میں ورود مسعود، بیت العطاءکی تختی کی نقاب کشائی اور اس زمین کی خرید کے مختلف ایمان افروز مراحل نیز فرانس کے جلسہ کا افتتاح

2۔ اکتوبر 2019ء بروز بدھ
نن سپیٹ ہالینڈ سے روانگی اور بیت العطاءTRIE CHATEAU فرانس میں ورود مسعود

حضور انور ایدہ اللہ تعا لیٰ بنصرہ العزیز نے صبح ساڑھے چھ بجےمسجد بیت النور تشریف لا کر نما ز فجر پڑھائی ۔نما ز کی ادائیگی کے بعدحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزاپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔
صبح حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے دفتری ڈاک ، خطوط اور رپورٹس ملاحظہ فرمائیں اور ہدایات سے نوازا۔
گیارہ بجکر بیس منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مکرم امیر صاحب ہالینڈ ھبۃ النور فرحاخن صاحب اور مکرم حامد کریم محمود صاحب مبلغ نن سپیٹ ہالینڈ کو یاد فرمایا ۔ دونوں نے حضور انور سے دفتری ملاقات کی سعادت پائی۔ حضور انور نے بعض ضروری امور کے حوالہ سےہدایات فرمائیں ۔ہالینڈ کے مختلف علاقوں سے احباب جماعت مردو خواتین حضور انور کو الوداع کہنے کے لئے صبح سے ہی جماعتی مرکز بیت النور جمع ہونا شروع ہو گئے تھے ۔

فرانس کو روانگی

گیارہ بجکر پچیس منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزاپنی رہائش گاہ سے باہر تشریف لائے اور اپنا ہاتھ بلند کر کے سب کو ‘‘السلام علیکم ’’کہا اور دعا کروائی اور قافلہ نن سپیٹ (NUNSPEET) سے فرانس کے لئے روانہ ہوا ۔
نن سپیٹ (ہالینڈ) سے فرانس کے شہر TRIE CHATEAU (جہاں جماعت فرانس کا نیا خرید کردہ سینٹر ‘‘بیت العطاء’’ہے)کا فاصلہ 536 کلو میٹر ہے۔ 130کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعدہالینڈ کا بارڈرعبور کر کے ملک بیلجیئم میں داخل ہوئے ۔
پروگرام کے مطابق جماعت فرانس نے بیلجیئم کے شہرKORJRIJK کے قریب واقع قصبہSINT-ANNA کے ایک ہوٹل ‘‘HOSTELL ‘‘ERIE KLOKHOF میں نماز ظہر و عصر کی ادائیگی اور دوپہر کے کھانے کا انتظام کیا ہوا تھا ۔ فرانس سے آنے والے وفد نے جس میں مکرم امیر فرانس اشفاق ربّانی صاحب ،مکرم فہیم احمد نیاز صاحب جنرل سیکرٹری، مکرم اسلم دُوبوری صاحب نائب امیر جماعت فرانس ، مکرم منصور احمد وینس صاحب نیشنل سیکرٹری تربیت، مکرم جمیل الرحمٰن صدر مجلس خدام الاحمدیہ فرانس اپنی سیکیورٹی ٹیم کے ساتھ شامل تھے۔
ہالینڈ کا بارڈرکراس کر کےبیلجیئم میں داخل ہونے کے بعدمزید 155کلومیٹر کا سفر طے کر کے دو بجکر پندرہ منٹ پر قصبہ SINT- ANNA کے ہوٹل HOSTELL ERIE KLOKHOF آمد ہوئی۔ جہاں امیر صاحب فرانس نے اپنے وفد کے ساتھ حضور انور کا استقبال کیا اور خوش آمدید کہا اور شرف مصافحہ حاصل کیا ۔
یہاں نمازوں کی ادائیگی کے لئے ایک ہال میں انتظام کیا گیا تھا۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دو بجکر چالیس منٹ پر تشریف لا کر نماز ظہر و عصر جمع کر کے پڑھائی۔
نمازوں کی ادائیگی اور دوپہر کے کھانے کے بعد آگے فرانس روانگی کا پروگرام تھا ۔ روانگی سے قبل حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے از راہ شفقت ہالینڈ سے اس جگہ تک قافلہ کے ساتھ آنے والے وفد کو شرف مصافحہ سے نوازا۔
ہالینڈ سے مکرم ھبۃ النور فرحاخن صاحب امیرجماعت ہالینڈ ،مکرم عبدالحمید ورفیلون صاحب نائب امیر ہالینڈ ،مکرم نعیم احمد وڑائچ صاحب مبلغ انچارج ہالینڈ ، مکرمہ زبیر اکمل صاحب نیشنل سیکریٹری تعلیم القرآن و وقف عارضی ، مکرم ظلّ الرحمان صاحب انٹرنل آڈیٹر،مکرم ثمر احمد ناصر صاحب سیکرٹری جائیداد ،مکرم چودھری مبشر احمد صاحب افسر جلسہ سالانہ ،مکرم چودھری لئیق احمد صاحب ،مکرم صدر صاحب مجلس خدام الاحمدیہ ہالینڈ، مکرم عثمان احمد صاحب اپنی خدام کی سیکیورٹی ٹیم کے ساتھ یہاں تک حضور انور کو الوداع کہنے کے لئے آئے تھے ۔ اب یہاں سے اس وفد کی ہالینڈ کے لئے واپسی تھی
تین بج کر 35منٹ پر حضور انورنے دعا کروائی اور قافلہ آگے فرانس کے لئے روانہ ہوا۔ اب یہاں سے فرانس کی گاڑی قافلہ کوLeadکر رہی تھی ۔یہاں سے ‘‘بیت العطاء’’( فرانس) کا فاصلہ 251کلومیٹر ہے ۔
قریباً تین گھنٹے پانچ منٹ کا سفر طے کرنے کے بعد ساڑھے چھ بجے حضور انور ایدہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا جماعت فرانس کے ایک نئے سینٹر بیت العطا میں ورود مسعود ہوا ۔بیت العطا ءمیں تشریف آوری کے بعد جو نہی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کار سے باہر تشریف لائے تو فرانس کی مختلف جماعتوں سے آئے ہوئے احباب جماعت مرد و خواتین اور بچوں ،بچیوں نے بڑے والہانہ اور پُر جوش انداز میں اپنے پیارے آقا کااستقبال کیا۔ فرط ِعقیدت اور محبت سے ہر طرف ہاتھ بلند تھے اور اَھْلاً وَّ سَھْلاً وَّمرحَبَا کی صدائیں بلند بلند ہو رہی تھیں۔
ایک طرف احباب جماعت بڑے پُرجوش انداز میں اپنے آقا کو خوش آمدید کہہ رہے تھے تو دوسری طرف خواتین شرف ِزیارت سے فیض پا رہی تھیں۔ بچے اور بچیاں مختلف گروپس کی صورت میں خیر مقدمی گیت اور دعائیہ نظمیں پڑھ رہی تھیں۔
پروگرام کے مطابق حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جماعت فرانس کے اس نئے سینٹر‘‘بیت العطاء’’کی تختی کی نقاب کشائی فرمائی اور دعا کروائیں۔
دعا کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے رہائشی حصہ میں تشریف لے گئے ۔
اپنے پیارے آقا کا استقبال کرنے والے یہ احباب اور فیملیز پیرس ،EPERNAY ،سٹراسبرگ اورLYON سے آئے تھے ۔پیرس کی جماعتوں سے آنے والے 80 کلومیٹر ، اور EPERNAY سے آنے والے یکصد کلومیٹر جبکہ سٹراسبرگ سے آنے والے 441 کلومیٹر اور LYON سے آنے والے 449 کلو میٹر کا طویل فاصلہ طے کرکے پہنچے تھے ۔
اس علاقہ کے میئر DAVID DIDIER صاحب بھی حضور انور کے استقبال کے لئے آئے ہوئے تھے ۔موصوف نے حضور انور کو خوش آمدید کہا اور عرض کیا کہ حضور اس چھوٹے سے قصبہ میں تشریف لائے ہیں ۔ حضور انور کے دریافت فرمانے پر میئر نے بتایا کہ وہ تھوڑا سا نیچے رہتے ہیں۔ حضور انور نے میئر کا شکریہ ادا کیا ۔
نمازوں کی ادائیگی کے لئے یہاں ایک بیسمنٹ ہال کو بطور مسجد تیار کیا گیا ہے۔جس میں چار صدکے لگ بھگ لوگ نماز ادا کرسکتے ہیں۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے آٹھ بج کر پندرہ منٹ پر تشریف لاکر نماز مغرب و عشاء جمع کر کے پڑھائی ۔
نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور انور اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے ۔

بیت العطاء کا تعارف

جماعت احمدیہ فرانس کا یہ نیا سینٹر ‘‘بیت العطاء ’’، فرانس کے صوبہ HAUTS-DE-FRANCE کے ضلع OISE(DEPARTMENT) کے شہرTRIE-CHATEAU میں واقع ہے۔ اس قطعہ زمین کا رقبہ 55700 مربع میٹر، قریباً پونے چھ ھیکٹرہے ۔ یہ جگہ سال 2014 ءمیں چھ لاکھ پچاس ہزار یورو کی لاگت سے خریدی گئی ۔یہ جگہ اونچائی پر واقع ہے اور پیرس کے موجودہ مشن ہاؤس سے 60 کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے اور شہر TRIEکے ریلوے اسٹیشن سے دو کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے ۔یہ جگہ ایک رشین فیملی کی تھی جو گھوڑوں اور بڑے پرندوں کا کاروبار کرتے تھے ۔

بیت العطاء نام رکھنے کی وجہ تسمیہ اور خرید کےمراحل

اس جگہ کا انتہائی کم قیمت پر عطا ہو نا ایک معجزہ سے کم نہیں۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس جگہ کا نام رکھتے ہوئے، امیر صاحب فرانس کو فرمایا تھا جب اللہ تعالی ٰ نے عطا کی ہے تو پھر‘‘ بیت العطاء ’’نام رکھ لیں ۔
اس جگہ میں بڑی وسیع و عریض عمارت، رہائشی حصے اور ہال وغیرہ پہلے سے تعمیر شدہ ہیں۔ یہ سب تعمیرات چودہ سو مربع میٹر کے رقبہ پر موجود ہیں ۔
ایک بڑی وسیع و عریض دو منزلہ عمارت ہے اس کے اندر تین ہال موجود ہیں ۔ خواتین اپنے اجتماعات ،رہائش، طعام اور دیگر پروگرام انہیں ہالوں میں کرتی ہیں ۔
ایک بڑی عمارت ،جس میں بیسمنٹ کے علاوہ تین منازل ہیں۔ اس دو منازل پر گیسٹ روم موجود ہیں جن کی تعداد نوہے اور چار غسلخانے بھی ہیں۔ لاؤنج ہے اور میٹنگ روم بھی ہے ۔گراؤنڈ فلور پر بہت بڑا جماعتی کچن بھی ہے ۔ جبکہ بیسمنٹ ابھی زیر استعمال نہیں ہے ۔
اسی عمارت کے ساتھ ملحقہ عمارت میں شعبہ اشاعت اور ہیومینیٹی فرسٹ کے دفاتر ہیں ،بک اسٹور بھی ہے اور ایک حصّہ میں غسل خانے اور وضو کرنے کے لئے جگہیں بنائی گئی ہیں ۔ایک دوسری عمارت میں رہائشی اپارٹمنٹس ہیں۔ اس عمارت سے ملحقہ ایک ہال کو مسجد کے طور پر تیار کیا گیا ہے۔ اس میں چار صدسے زائد لوگ نماز ادا کرسکتے ہیں ۔
تین مختلف عمارات کے درمیان جگہ کو فرش بناکر پختہ کیا گیا ہے اور اس کے اوپر ایک شیڈ بنا ہوا ہے۔ اس شیڈ کے نیچے بھی بوقت ضرورت تین صدکے قریب لوگ نماز ادا کرسکتے ہیں اور سینکڑوں لوگ کھانا وغیرہ بھی کھا سکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ اس وسیع و عریض قطعہ زمین مختلف جگہوں پر بعضHUTS بنے ہوئے ہیں۔
اس قطعہ زمین کے دائیں اور سامنے کی طرف کھیت ہیں اور بائیں طرف ایک ہمسایہ کا گھر ہے ۔ اس قطعہ زمین کے پچھلے حصہ میں جہاں جلسہ گاہ ہے ایک بہت بڑا گھنا جنگل ہے۔ جس کا رقبہ تقریباً دو لاکھ پچاس ہزارمربع میٹر ہے اور اس کی قیمت ایک لاکھ یورو ہے ۔ حضور انور نے اس کی خرید کی بھی منظوری عطا فرمائی ہوئی ہے۔ جماعت فرانس نے 10 ہزار یورو کا بیا نہ ادا کر دیا ہوا ہے ۔چونکہ اس جنگل کو راستہ صرف ہمارے قطعہ زمین سے ہی لگتا ہے اور اگر کسی نے جنگل میں جانا ہو ہماری زمین سے گزر کر ہی جانا ہوگا ۔اس لئے اس کو بھی خریدنے کا فیصلہ کیا گیا ۔
فرانس کے دارالحکومت پیرس(PARIS) سے صرف 60 کلومیٹر کے فاصلہ پر محض ساڑھے چھ لاکھ یورو میں اتنے بڑے قطعہ زمین کی خرید، جس پر کئی بڑی وسیع عمارات بنی ہوئی ہیں ، ناقابل یقین ہے ۔ اتنی رقم میں تو ایک تین چار بیڈروم کا مکان نہیں ملتا ۔کجا یہ کہ 14 ہزار مربع فٹ کے رقبہ پر بڑی پختہ تعمیرات موجود ہیں اور بڑا وسیع و عریض قطعہ زمین جلسہ گاہ اور اس کے سارے انتظامات کے لئے ہیں ۔ یہ صرف اور صرف خدا تعالی ٰکی طرف سے ایسا انعام ہے جو خلافت کی برکت سےعطا ہوا ہے۔
اس کی خرید میں کچھ مشکلات پیش آتی رہیں لیکن حضور انور ایدہ اللہ و تعالیٰ بنصرہ العزیز کی دعاؤں سے تمام مشکلات کافور ہوئیں اور بالآخر یہ جگہ جماعت کو عطا ہوگئی اور 22؍اپریل 2014ءکو اس جگہ کی جماعت کے نام رجسٹری بھی ہوگئی۔الحمد للہ علی ذالک

حضور انور کے الفاظ ‘‘لے لیں’’ کا بار بار اعادہ

امیر فرانس مکرم اشفاق ربّانی صاحب اس جگہ کی خرید کے حوالہ سے بتاتے ہیں کہ حضور انور کی منظوری کے بعد ایک وسیع جگہ کی تلاش شروع ہوئی تو معلوم ہوا کہ ایک ایجنسی میں پونے چھ ایکٹر کا رقبہ جس پر عمارات بھی موجود ہیں، فروخت ہونے پر لگا ہوا ہے ۔ رابطہ کرنے کے بعد مالک سے 6 لاکھ 40 ہزار یورو میں سودا طے پاگیا ۔
بعد ازاں حضور انور کی خدمت میں منظوری کے لئے لکھا گیا جس پر حضور انور نے ارشاد فرمایا ‘‘لے لیں’’
ہم نے 70ہزار یورو بیانہ دے کر منتقلی کے لئے قانونی کارروائی شروع کی تو جب اس بات کا علم کورٹ کو ہوا تو ہمیں اطلاع دی گئی کہ اس عورت کو مکان ،یہ جگہ فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ یہ بینک کرپٹ ہے ۔ اس بات کا ذکر جب ہم نے اس عورت سے کیا تواس پروہ بد تمیزی پر اُتر آئی۔اس نے جانور بھی پال رکھے تھے، کہنے لگی کہ میں آپ پر اپنے کتے بھی چھوڑ دوں گی ۔
دوسری طرف بینک نے عدالت سےنیلامی کی اجازت مانگی اور ہمیں نیلامی میں بیٹھنے کی اجازت نہ ملی ۔ خدا کا کرنا یہ ہوا کہ پہلی نیلامی پر کوئی نہ آیا ۔چونکہ دوسری نیلامی پر قیمت کم کردی جاتی ہے۔ اس پر اس جگہ کی مالکن کو فکر ہوئی کہ قیمت کم ہونے پر اب مجھے تو کچھ بھی نہیں ملے گا ۔تب اس نے عدالت کا رخ کیا کہ اگر ایسا ہوا تومجھے کچھ نہیں ملے گا ۔میرے دو چھوٹے بچے ہیں، خاوند جیل میں ہے۔عدالت میری مدد کرے ۔
اب اس جگہ کی خرید میں مشکلات بڑھ رہی تھیں۔ میں نے بعض بزرگوں کو بھی دعا کا خط لکھا۔ ایک بزرگ کی طرف سے خط موصول ہوا کہ اب آپ یہ دعا کریں کہ اےاللہ!خلیفۃالمسیح تو کہتے ہیں کہ ‘‘لے لیں’’ لیکن یہ لوگ لینے نہیں دیتے ۔چنانچہ اس سے دعا میں اور بھی زیادہ درد پیدا ہوا ۔
ایک دن جج نے اس خاتون سے کہا کہ احمدیوں سے بات کرو ۔اس پر اس مالکن خاتون نے جج سے کہا کہ احمدیوں سے میں نے بہت بد تمیزی کی ہے۔ میں کس طرح ان کے پاس جاؤں۔ اس پر جج نے کہا کہ اس کے علاوہ تمہارے پاس اور کوئی راستہ بھی نہیں ہے ۔ چنانچہ یہ خاتون ایک دن، رات کو ہمارے پاس آئی اور معذرت کی اور اپنے کئے کی معافی مانگی اور کہنے لگی کے آپ یہ جگہ ‘‘لے لیں’’میں نے عدالت میں بات کر لی ہے۔
بعدازاں عدالت نے ایک نوٹس بھی جاری کیا کہ یہ جگہ ہم جماعت احمدیہ کو دینے لگے ہیں۔ اگر کسی کو اعتراض ہو تو ایک ماہ کے اندر اندر عدالت سے رجوع کرے ورنہ یہ جگہ جماعت احمدیہ کو دے دی جائے گی مگر کسی کی طرف سے کوئی اعتراض نہ آیا ۔چنانچہ عدالت نے رجسٹری کی تاریخ مقرر کر دی۔
تاریخ مقرر ہونے کے بعد ہم نے اس خاتون سے کہا کہ رجسٹری والے دن گھر کی چابیاں لے کر آؤ۔ مگراس نے کہا کہ میں اپنے دو بچوں کو لے کر کہاں جاؤں گی ۔ اس پر ہم نے اس کو کرایہ پر جگہ لے کر دینے کا وعدہ کیا اور کرایہ کی رقم اس کی قیمت سے کاٹ لی گئی۔ مکان کو دیکھ کر کہنے لگی کہ اس کا رنگ اچھا نہیں۔ خدام نے اس کی پسند کا رنگ بھی کر دیا ۔کہنے لگی کہ سامان اٹھانے کے لئے گاڑی نہیں۔ خدام نے اس کا سامان بھی منتقل کر دیا ۔
امیر صاحب بیان کرتے ہیں کہ رجسٹری والے دن جب دستخط ہونے لگے تو میں نے کہا کہ میں تو کوئی کام بغیر دعا کے نہیں کرتا ۔دعا کروں گا اور پھر دستخط کروں گا ۔ اس پر حکومتی افسر جج کہنے لگا کہ یہ حکومتی ادارہ ہے اس کے لئے اجازت نہیں دی جاسکتی ۔میں نے کہا میں یہ جگہ بغیر دعا کےنہ لوں گا ۔اس پر مالکن پریشان ہوگئی اور بینک والے بھی پریشان ہوئے کیونکہ ان کی رقم بھی جاتی تھی۔ اس پر وہ خاتون مجھے فرنچ زبان میں بار بار کہنے لگی کہ ‘‘لے لیں ’’مہربانی کرکے ‘‘لے لیں ’’وہی الفاظ جو حضور انور نے فرمائے تھے وہی الفاظ وہ بار بار کہتی جا رہی تھی ۔اس وقت دفتر کے لوگ یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے۔
یہ لوگ مجھے کہنے لگے کہ آپ نے کیا دعا کرنی ہے۔ اس پر میں نے کہا کہ مجھے یہ دعا کرنی ہے کہ یہ جگہ اسلام اور انسانیت کا سب سے بڑا مرکز بن جائے ۔ اس پر جج نے کہا کہ اگر یہ بات ہے تو میں بھی یہ دعا کرتا ہوں ۔
چنانچہ دستخط کر دیئے گئے اور یہ جگہ قانونی طور پر جماعت کے نام رجسٹرڈ ہوگئی۔ خدا تعالی ٰنے اپنے خلیفہ کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ ،لفظ لفظ ،حرف حرف پورے کردیئے اور اللہ تعالیٰ نے یہ جگہ ہمیں عطا فرما دی۔ حضور انور نے اس کا نام ‘‘بیت العطا ء ’’عطا فرمایا۔
آج بدھ کے روز ہالینڈ کے ایک ریجنل ٹی وی OMROEP FLEVOLANDنےدرج ذیل خبر دی ۔
المیرے میں احمدیہ مسجد کا افتتاح کی خبر ٹی وی پر
بروز منگل بیت العافیت کا افتتاح ہوا ۔یہ مسجد جماعت احمدیہ کی ہے۔ یہ پاکستان سے تعلق رکھنے والی ایک اسلامی جماعت ہے جن کا ایمان یہ ہے کہ ان کے بانی جماعت وہ موعود مسیح ہیں جن کی پیشگوئی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھی ۔ باقی مسلمان فرقے اس جماعت کو غیرمسلم قرار دیتے ہیں ۔
مسجد کا افتتاح جماعت کے خلیفہ حضرت مرزا مسرور احمد نے کیا۔ یہ موجودہ عالمگیر جماعت کے سربراہ ہیں ۔احمدی اپنے خلیفہ کودنیا کا سب سے اہم ترین انسان سمجھتے ہیں ۔ یہاں کے احمدی بہت خوش ہیں کہ خلیفہ وقت ان سے ملنے آئے ہیں۔
اس تقریب میں بہت سے غیر از جماعت مہمان شامل ہوئے تھے ۔جن کو عشائیہ بھی پیش کیا گیا ۔ احمدیہ جماعت دوسری مذہبی جماعتوں سے ملنے کے لئے تیار ہے اور مذہبی رواداری کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ المیرے ) (ALMEREمیں تقریباً 80 احمدی رہتے ہیں اور ملک میں تقریبا پندرہ صد۔

3 ۔اکتوبر 2019ءبروزجمعرات

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صبح 6 بجکر45 منٹ پرہال میں تشریف لا کر نماز فجر پڑھائی۔ نماز کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔
صبح حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی دفتری امور کی انجام دہی میں مصروفیت رہی۔
پروگرام کے مطابق2 بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ہال میں تشریف لاکر نماز ظہر و عصر جمع کر کے پڑھائی ۔نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے ۔
پچھلے پہر بھی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی دفتری امور کی ادائیگی میں مصروفیت رہی ۔
پروگرام کے مطابق6 بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے دفتر تشریف لائے اور فیملی ملاقاتیں شروع ہوئیں۔ آج ملاقاتوں کےاس سیشن میں45 فیملیزکے 160 افراد نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ملاقات کی سعادت پائی ۔ہر ایک فیملی نے حضور انور کے ساتھ تصویر بنوانے کا شرف پایا ۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے تعلیم حاصل کرنے والے طلباء اور طالبات کو قلم عطا فرمائے۔
آج ملاقات کرنے والی یہ فیملیز پیرس (PARIS)کی پانچ جماعتوں سے 80 کلومیٹر کا سفر طے کر کے آئی تھیں۔ اس کے لئے EPERNAY جماعت سے آنے والے احباب اور فیملیز یکصد کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے پہنچی تھیں۔ ان سبھی نے جہاں اپنے پیارے آقا سے ملاقات کا شرف پایا۔ وہاں ہر ایک ان بابرکت لمحات سے بے انتہا برکتیں سمٹتے ہوئے باہر آیا ۔ بیمار وں نے اپنی صحت یابی کیلئے دعائیں حاصل کیں ۔مختلف پریشانیوں اور مسائل میں گھرے ہوئے لوگوں نے اپنی تکالیف دور ہونے کے لئے دعا کی درخواستیں کیں اور تسکین قلب پاکر مسکراتے ہوئے چہروں کے ساتھ باہر نکلے ۔طلبا اور طالبات نے اپنی تعلیم اور امتحانات میں کامیابی کی حصول کے لئے اپنے پیارے آقا سے دعائیں حاصل کیں۔غرض ہر ایک نے اپنے پیارے آقا کی دعاؤں سے حصہ پایا ۔ راحت و سکون اور اطمینان قلب حاصل ہوا ۔

ملاقات کا شرف پانے والوں کے تاثرات

 ایک افریقن فیملی جب ملاقات کرکے دفتر سے باہر آئی تو فیملی کے سربراہ حافظ سلیم طورے صاحب کہنے لگے کہ آج میں بہت خوش ہوں ۔ پیارے آقا کا قرب ہمیں نصیب ہوا ہے۔ میرے پاس الفاظ نہیں کہ میں بیان کر سکوں کہ اس وقت میرے دل کی کیا کیفیت ہے ۔ میرے دل میں کیا ہے ۔میرا دل شکر کے جذبات سے بھرا ہوا ہے ۔صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ الحمدللہ۔ الحمدللہ !
پاکستان سے آنے والے ایک دوست عمران احمد صاحب نےبیان کیا آج یہ ملاقات میری زندگی کا خوش قسمت ترین لمحہ ہے ۔میں ہمیشہ یہ دعا کیا کرتا تھا کہ کبھی زندگی میں میری بھی پیارے آقا سے ملاقات ہو۔ آج میری دعا کی قبولیت کی گھڑی تھی۔ مجھے انتہائی قریب سے حضور انور کا دیدار نصیب ہوا ۔میں اسے کبھی بھول نہیں سکتا۔
ایک نوجوان کہنے لگا آج میں بہت خوش ہوں ۔میں زیادہ بیان کرنے کی سکت نہیں پاتا۔ بس اتنا کہتا ہوں کہ‘‘اَللّٰھُمَّ اَیِّدْ اِمَامَنَا بِرُوْحِ الْقُدُسِ ’’

ایک بچہ خوش خوشی بتا رہا تھا کہ حضور نے مجھے پن اور چاکلیٹ دی ہے ۔میں اس پن سے اپنے سکول کا کام کروں گا اور اب زیادہ محنت کروں گا ۔
ملاقات کا یہ پروگرام آٹھ بجے تک جاری رہا۔ بعد ازاں سوا آٹھ بجےحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ہال میں تشریف لاکر نماز مغرب و عشاء جمع کر کے پڑھائی۔ نماز کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

جلسہ گاہ فرانس

جماعت احمدیہ فرانس کا 27 واں جلسہ سالانہ 4۔اکتوبر بروز جمعۃ المبارک کو اسی جگہ پر شروع ہو رہا ہے ۔پختہ عمارات کے علاوہ اس وسیع و عریض قطعہ زمین پر مارکیز اور شامیانے، خیمہ جات لگاکر جلسہ سالانہ کے انتظامات کئے گئے ہیں۔
مردانہ اورلجنہ کے جلسہ گاہ کی علیحدہ علیحدہ احاطہ میں مارکیز لگائی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ جلسہ کے مردانہ حصہ میں MTA کے انتظامات کے لیے علیحدہ مارکی ہے ۔ خاص مہمانوں کا انتظام ایک علیحدہ مارکی لگاکر کیا گیا ہے ،اس کے علاوہ شعبہ نمائش، شعبہ تبلیغ ، شعبہ ہیومینیٹی فرسٹ، شعبہ امانات کے لئے مارکیز لگاکر انتظام کیا گیا ہے۔
دفتر جلسہ سالانہ ،شعبہ رجسٹریشن اور شعبہ SCANNING کے لئے بھی دفاتر قائم کئے گئے ہیں۔
رہائش کے لئے اور کھانا کھانے کے لیے علیحدہ علیحدہ مارکیز لگائی گئی ہیں۔ بازار کا بھی انتظام کیا گیا ہے ۔ بیوت الخلاء کا انتظام بھی علیحدہ طورپر کیاگیاہے ۔
جلسہ گاہ کے لجنہ کے حصہ میں لجنہ کے جلسہ گاہ کے علاوہ لجنہ کے لیے کھانا کھانے کی مارکی بھی لگائی گئی ہے ۔شعبہ رجسٹریشن اور دیگر دفاتر اورلجنہ کے لئے علیحدہ بازار کا بھی انتظام کیا گیا ہے ۔بیوت ا لخلا ءکا انتظام بھی ہے۔
مردوں اور خواتین کے لئے علیحدہ علیحدہ پارکنگ کا انتظام بھی ہے اور پارکنگ کے لئے کھلی جگہ مہیا کی گئی ہے۔ اللہ تعالی ٰکے فضل سے اس قطعہ زمین پر، جماعت کے اس سینٹر’’ بیت العطاء‘‘ میں جو قریباً پونے چھ ہیکٹر پر مشتمل ہے ۔ جلسہ سالانہ کے تمام انتظامات بڑی آسانی طے پائے ہیں۔
اللہ کے فضل و کرم سے جماعت فرانس کو ایک بڑی وسیع اور کھلی جگہ اپنے جلسہ کے لئے میسر آگئی ہے۔ الحمدللہ

4؍اکتوبر 2019ءبروز جمعۃ المبارک

حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صبح 6بج کر 45منٹ پر تشریف لا کر نماز فجر پڑھائی۔نماز کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزاپنی رہائش گاہ پرتشریف لے گئے۔صبح حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی مختلف نوعیت کے دفتری امور کی انجام دہی میں مصروفیت رہی۔
آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ فرانس کے 27ویں جلسہ سالانہ کا آغاز ہو رہا تھااور آج جلسہ سالانہ کا پہلا روز تھا۔

جلسہ سالانہ کا پہلا روز۔ پرچم کشائی اور خطبہ جمعہ

پروگرام کے مطابق2بجے حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزپرچم کشائی کی تقریب کے لئےتشریف لائےحضور انور نے لوائے احمدیت لہرایاجبکہ امیر صاحب فرانس نے فرانس کا قومی پرچم لہرایا۔بعد ازاں حضور انور نے دعا کروائی۔MTAانٹرنیشنل کی یہاں جلسہ گاہ سے liveنشریات شروع ہو چکی تھی۔پرچم کشائی کی یہ تقریب بھی دنیا بھر میں براہ راست liveدکھائی گئی۔بعد ازاں حضور انور مردانہ جلسہ گاہ میں تشریف لائے اور خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔جس کے ساتھ جلسہ کا افتتاح ہوا۔
خطبہ جمعہ کا مکمل متن حسب طریق علیحدہ شائع ہو گا۔
حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا یہ خطبہ جمعہ 2بجکر55منٹ تک جاری رہا۔بعدازاں حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نماز جمعہ کے ساتھ نماز عصر جمع کر کے پڑھائی۔نمازوں کی ادائیگی کے بعدحضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے امیر صاحب فرانس کو ہدایت فرمائی کہ سٹیج پر جو بینر ہے،نمازوں کے وقت اس کے نچلے حصہ کو کپڑے سے ڈھانپ دیا کریں تاکہ نظر نہ پڑے۔اس بینر پر جماعت احمدیہ فرانس کے گزشتہ جلسہ سالانہ کو تصویری زبان میں پیش کیا گیا تھا ۔بعد ازاں حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائش گا ہ پر تشریف لے آئے۔
آج نمازِجمعہ پر حاضری 13صد کے لگ بھگ تھی۔اس میں بیرونی ممالک سے چار صد سے زائد مہمان شامل ہوئے تھے۔ فرانس کے علاوہ جرمنی، برطانیہ، بیلجئیم، سپین، الجیریا، بورکینا فاسو، کینڈا، گیمبیا، آئیوری کوسٹ، ھالینڈ، اٹلی، مالی، پاکستان، سینیگال،سوئٹزرلینڈ،متحدہ عرب امارات اور یو ایس اے سے تعلق رکھنے والے احباب شامل ہوئے۔حضور انور کا خطبہ جمعہ اس جلسہ گاہ سے MTAانٹرنیشنل پر براہ راست (Live)نشر ہوا۔
پروگرام کے مطابق 8بجے حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جلسہ گاہ تشریف لاکر نماز مغرب و عشاء جمع کر کے پڑھائی۔نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

image_printپرنٹ کریں