skip to Main Content
عبد الماجد طاہر لندن :سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا دورہ جرمنی:قسط 4

عالمی بیعت،تقسیم تعلیمی ایوارڈز،اختتامی خطاب، نومبائعات و نومبائعین کی ملاقات، تاثرات اور میڈیا کوریج

7جولائی2019ء

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صبح 4بج کر 15منٹ پر تشریف لا کر نماز فجر پڑھائی۔نماز کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔
صبح حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکی دفتری امور کی انجام دہی میں مصروفیت رہی۔

عالمی بیعت

آج جماعت احمدیہ جرمنی کے جلسہ سالانہ کا تیسرا اور آخری روز تھا۔پروگرام کے مطابق 3بج کر 45منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزمردانہ جلسہ گاہ میں تشریف لائے اور بیعت کی تقریب ہوئی۔
یہ ایک عالمی بیعت تھی جو MTAانٹرنیشنل کے ذریعہ دنیا بھر کے ممالک میں براہ راست Liveنشر ہوئی اور دنیا کے تمام ممالک کی جماعتوں نے اس مواصلاتی رابطہ کے ذریعہ اپنے پیارے آقا کی بیعت کی سعادت پائی۔
آج حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکے دست مبارک پر جرمنی، گیمبیا،چیچینیا، سیریا، رومانیہ،بیلجئم، سینیگال، لبنان،گنی کوناکری، ازبکستان، ہالینڈ ، ترکی، سربیا، کوسوو (Kosovo)غانااور البانیا سے تعلق رکھنے والے 37افراد نے بیعت کی سعادت پائی۔آخر پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے دعا کروائی۔
بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے نماز ظہر و عصر جمع کر کے پڑھائی۔
نماز کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزجونہی سٹیج پر تشریف لائے تو ساری جلسہ گاہ فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھی اور احباب جماعت نے بڑے ولولہ اور جوش کے ساتھ نعرے بلند کئے۔

اختتامی تقریب

اختتامی تقریب کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو مکرم محمد الیاس منیر صاحب مبلغ سلسلہ جرمنی نے کی اور بعد ازاں اس کا اردو ترجمہ پیش کیا۔تلاوت کا جرمن ترجمہ بھی پیش کیا گیا۔
اس کے بعد عزیزم مرتضیٰ منان صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منظوم کلام؎

ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکایا ہم نے

کوئی دین دین محمدؐسا نہ پایا ہم نے

میں سے منتخبہ اشعار خوش الحانی سے پیش کئے۔
بعد ازاں پروگرام کے مطابق جرمنی کے صوبہThuringianسٹیٹ کی سٹیٹ سیکرٹری فار کلچر و یورپ، ڈاکٹرBabette Winterنے اپنا ایڈریس پیش کیا۔
اس کے بعد ایک عرب سکالر ڈاکٹر محمد حبش صاحب (جن کا تعلق سیریا سے ہے) نے اپنا ایڈریس پیش کیا۔
بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے اور اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے طلباء کو اسناد اور میڈل عطا فرمائے۔
حضور انور کے دستِ مبارک سے درج ذیل 53 خوش نصیب طلباء نے تعلیمی ایوارڈ حاصل کئے۔
ایوارڈ لینے والے ان 53 طلباء میں سے41کا تعلق جرمنی سے ہے جبکہ ایک پاکستان سے ، ایک بیلجئیم سے،2کا فن لینڈ سے ایک کا ترکی سے، ایک کا سوئٹزرلینڈ، ایک کا لتھوانیا سے، 2کا سویڈن اور ایک کا سپین، ایک کا بورکینیا فاسو اور ایک کا ملک بینن سے تھا۔

نام جماعت تعلیم

کلیم احمد سید جرمنی Specialization in Surgery
محمد محسن بھٹی جرمنی Specialization in Internal Medicine
عامر عمران جرمنی Specialization in General Surgery
ڈاکٹر معتمد احمد جرمنی Specialization in Internal Medicine
ڈاکٹر معتمد احمد جرمنی PhD in Medical
علی وجاہت جرمنی PhD in Dentistry
عبدالعظیم جرمنی PhD in Mechanical Engineering
عرفان احمد بھٹی جرمنی State Examination in Medicine
مکرم احمد رانا جرمنی State Examination in Medicine
ولید احمد خان ملک جرمنی M.A in Peace and Conflict Studies
کفیل ارشد جرمنی MSC in electrical Engineering, Information Technology and Business Management
کلیم احمد شیخ جرمنی MSC in Chemistry
سجیل اسلم کاہلوں جرمنی MSC in business Analytics
سمیع اللہ واہلہ جرمنی MA in International Management
قاصد احمد جرمنی MSC in Applied Geo Science
وسیم احمد مرزا جرمنی MBA
مدثر شکیل جرمنی MSC in Electrical Engineering and Information Technology
حسن طارق جرمنی MSC in Management
مبشر احمد منہاس جرمنی MSC in Polymer Material Science
سفیر احمد جرمنی MSC in Power Engineering
دانش اقبال رانا جرمنی MSC in Agro Bio Technology
سہیل مقصود جرمنی MSC in business Informatics
منیب عا بد جرمنی MSC in Energy Science and Technology
طاہر محمود جرمنی MSC in Electrical engineering
ارسلان احمد طاہر جرمنی MSC in Construction and Real Estate Management
نوید خان ملک جرمنی BSC in Software Engineering
سرمد احمد باجوہ جرمنی BSC International Business Information Systems
کلیم احمد جرمنی BA in Business information
ذیشان اجمل جرمنی BA in Public Administration & Police Management
فواد الدین احمد جرمنی Bachelor of Engineering in Electrical Engineering
صفوان خالد جرمنی Bachelor of Engineering in Urban Planning
محمد ہیوبش جرمنی BA in social Works
اسامہ احمد جرمنی BSC in Physics
نوید احمد جرمنی BA in Business Administration
احمد کامران لون جرمنی BA in Business Administration
حمزہ علی ملک جرمنی BA in Film and TV
نبیل احمد جرمنی BSC in Business Administration
عامر خان جرمنی A-Level Abitur
یونس لطیف حئی جرمنی A-Level Abitur
شاہ زین منصور پاکستان Master in Mechanical Engineering
جواد ظفر بیلجئیم MSC in Architecture
عمار احمد جرمنی MSC in Management of Innovation
سید عبدالصمد فن لینڈ MSC in Information Technology
صہیب احمد ترکی MSC in Data Science
شہریار احمد ملک سوئٹزرلینڈ MA in Business Management
مسرور احمد قمر لیتھوانیا Bachelor of Nursery in General Practice Nursing
عدیل احمد جرمنی BSc (Honours) in Mechatronics Engineering
رئیس احمد فن لینڈ Bachelor of Nursing in Social and Health Care
کاشف محمود ورک سویڈن Bachelor in History of Religion
عمر تنویر بٹ رمیض سپین A-Levels
حمزہ حیات سویڈن International Baccalaureate Bilingual Diploma
مرزا ایقان برکینا فاسو Baccalaureate-F.A
خاقان احمد عارف بینن Baccalaureate

اختتامی خطاب کا خلاصہ علیحدہ سے شائع ہو چکا ہے

خطاب کا مکمل متن حسبِ طریق علیحدہ الفضل انٹرنیشنل میں شائع ہوگا۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جلسہ سالانہ کی حاضری کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا۔
امسال جلسہ سالانہ کی مجموعی حاضری 42ہزار729ہے جس میں سے مستورات کی حاضری 20ہزار924اور مرد حضرات کی حاضری 20ہزار706ہے۔اس کے علاوہ جو تبلیغی مہمان یہاں شامل ہوئے ہیں ان کی تعداد 1ہزار99ہے۔
اس سال جلسہ سالانہ میں 102ممالک کی نمائندگی ہوئی ہے اور 4ہزار 25مہمان مختلف ممالک سے جلسہ سالانہ جرمنی میں شامل ہوئے ہیں۔اس موقع پر جلسہ سالانہ کینیڈا کا بھی ذکر فرمایا اور حاضری کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جلسہ سالانہ کینیڈا کی حاضری 18ہزار572ہے اور 27ممالک کی نمائندگی ہے۔
بعد ازاں پروگرام کے مطابق مختلف گروپس نے دعائیہ نظمیں اور ترانے پیش کئے۔سب سےپہلےجرمن زبان میں ایک گروپ نے دعائیہ نظم پیش کی بعد ازاں افریقن احباب پر مشتمل گروپ نے اپنے مخصوص روایتی انداز میں اپنا پروگرام پیش کیا۔اس کے بعدعرب احباب پر مشتمل گروپ نے قصیدہ پیش کیا۔بعد ازاں جامعہ احمدیہ جرمنی کے طلباء نے اردو زبان میں دعائیہ نظم پیش کی۔اس کے بعد سپینش زبان میں ترنم کے ساتھ ایک دعائیہ نظم پیش کی گئی۔
بعد ازاں ملک مسیڈونیا (Macedonia)سے آئے ہوئے احمدی احباب نے مسیڈونین زبان میں خوش الحانی کے ساتھ اپنا ترانہ پیش کیا۔
اس کے بعد البانین زبان میں دعائیہ نظم پیش کی گئی۔آخر پر خدام نے اردو زبان میں دعائیہ نظم پیش کی۔
جب یہ ترانے اور نظمیں پیش کی جارہی تھیں اس وقت بڑا روح پر ور ماحول تھا۔جونہی یہ پروگرام اپنے اختتام کو پہنچا احباب جماعت نے بڑے ولولہ اور جوش کے ساتھ نعرے بلند کئے اور سارا ماحول نعروں کی صدا سے گونج اٹھا۔ہر چھوٹا، بڑا، جوان اور بوڑھااپنے آقا سے اپنی محبت،عقیدت اور فدائیت کا اظہار بڑے جوش سے کر رہا تھا۔یہ جلسہ کے اختتام کے الوداعی لمحات تھے اور دل عشق و محبت اور فدایئت کے جذبات سے بھرے ہوئے تھے۔
اس ماحول میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنا ہاتھ بلند کر کے اپنے عشاق کو السلام علیکم اور خدا حافظ کہا اور نعروں کے جَلو میں جلسہ گاہ سے باہر تشریف لائے اور کچھ دیر کے لئے اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

نومبائعات کی ملاقات

پروگرام کے مطابق 7 بج کر 20 منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائش گاہ سے با ہر تشریف لائے اور مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی نومبائعات نے حضور انور سے ملاقات کی سعادت حاصل کی۔
ان نومبائعات کی تعداد 21 تھی اور 6بچے بھی ان کے ساتھ شامل تھے۔ان خواتین کا تعلق جرمنی، پاکستان، فلسطین،عرب، آسٹریا، افغانستان، اسٹونیا اور سیریا سے تھا۔ان میں سے 7 خواتین ایسی تھیں۔ جنہوں نے آج ہی بیعت کی توفیق پائی تھی۔
ایک خاتون نے جلسہ سالانہ کی مبارک باد پیش کی تو اس پر حضورانور نے فرمایا آپ سب کو بھی جلسہ مبارک ہو۔
حضور انور نے استفسار فرمایا کہ کیا یہ سب نومبائعات ہیں یا زیادہ عرصہ سے احمدیت قبول کی ہوئی ہے۔اس پر ایڈیشنل سیکرٹری تربیت برائے نومبائعات نے عرض کیا کہ زیادہ تر اسی سال کی ہیں۔
حضور انور کے استفسار پر ایک خاتون نے عرض کیا کہ وہ فسلطین سے ہیں اور انہیں انگریزی زبان نہیں آتی۔ لیکن ان کی بہن جو اسٹونیا سے آئی ہیں ان کے ساتھ ترجمانی کے لئے موجود ہیں۔
حضور انور کے استفسار پر ایک لجنہ ممبر نے عرض کیا کہ ان کی عمر18سال ہے اور اس نے آج ہی بیعت کی ہے۔ان کی والدہ اور نانی نے کچھ عرصہ قبل بیعت کی تھی۔اس پر حضور انور نے فرمایا اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔
حضور انور نے ایک نومبائع خاتون سے دریافت فرمایا کہ کیا وہ جرمنی میں رہتی ہیں۔اس پر موصوفہ نے عرض کیا کہ وہ ایک سال 8ماہ قبل جرمنی آئی تھیں اور اس وقت فرینکفرٹ میں رہائش پذیر ہیں۔موصوفہ نے اپنے غیر از جماعت خاوند کے لئے دعا کی درخواست کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ان کی رضامندی کے بغیر جلسہ میں شامل ہوئیں،اس پر حضور انور نے فرمایا دعاکریں ، برداشت کریں اللہ فضل کرے گا۔
حضور انور کے استفسار پر سیکرٹری نومبائعات نے ایک نومبائع کے بارہ میں بتایا کہ اس کی عمر19 سال ہے اور اس نے اپنے والدین کی مرضی کے برخلاف بیعت کی ہے اور یہ اپنے والدین کے ساتھ نہیں رہتی اوراس وقت Practical Trainingحاصل کر رہی ہے۔
اسٹونیا سے تعلق رکھنے والی خاتون نے عرض کیا کہ حضور اس کے کمسن بچے کو پیار دیں۔اس پر حضور انور نے ازراہ شفقت اُس خوش نصیب بچے کو گود میں لیا اور چاکلیٹ بھی عنایت فرمائی۔نیز ازراہ شفقت باقی بچوں کو بھی چاکلیٹ عطا فرمائیں۔
ایک نومبائع خاتون نے اپنے بچے کے لئے جو وہاں موجود نہیں تھا چاکلیٹ کی درخواست کی۔اس پر حضور انور نے ان کو بھی چاکلیٹ عطا فرمائی۔
ایک نومبائع بہن جو اکنامکس کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں انہوں نے مزید اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے رہنمائی کی درخواست کی۔اس پر حضور انور نے فرمایاآپ کے لئے جو آسان ہو اس فیلڈ میں جاسکتی ہیں۔
ایک غیر احمدی خاتون کا سوال حضور انور کی خدمت میں پیش ہوا کہ وہ ملک شام سے تعلق رکھنے والے ایک احمدی سے اپنی بیٹی کی شادی کرنا چاہتی ہیں۔اس پر حضور انورنے فرمایا دعا کریں ۔جب رشتہ کی بات چیت ہوگی تو تبھی میں جواب دوں گا۔باقاعدہ رشتہ کی تجویزآئے گی تو اجازت دوں گا۔ابھی تو پرپوزل ہی نہیں ہے۔
پاکستان سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے عرض کیا کہ کچھ عرصہ قبل بیعت کی ہے۔ پانچ بچے ہیں۔خاوند پہلے سے احمدی ہیں۔موصوفہ نے اپنے خاوند کی صحت کے لئے دعا کی درخواست کی۔
راولپنڈی پاکستان سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے عرض کیا کہ 15 سال قبل پاکستان میں ان کی بیعت نہیں ہو سکی تھی۔تو اس وقت انہیں یہ مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ اپنی تعلیم کو جاری رکھیں۔ چنانچہ انہوں نے محنت کی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں گولڈ میڈل کی حقدار ٹھہریں۔ تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابی پر انہوں نے ایک روز قبل حضور انور سے ایوارڈ حاصل کیا ہے موصوفہ نے اپنے والدین کے قبول احمدیت کے لئے دعا کی درخواست کی۔
ایک خاتون نے سوال کیا کہ کوئی ایسا عمل بتائیں جو نفس کو مار دے تو اس پر حضور انور نے فرمایا کہ پانچ نمازیں پڑھو۔اللہ اور اس کے رسول ﷺنے جو باتیں بتائی ہیں ان پر عمل کرو۔
ایک خاتون نے عرض کیا کہ وہ جرمنی سے ہیں اور افغان نژاد ہیں۔ وہ حضور انور کے خطبات باقاعدگی سے سنتی ہیں۔موصوفہ نے اپنے ایک خواب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دیکھا کہ وہ جلسہ میں شرکت کے لئے اپنی فیملی کے ہمراہ سفر میں ہیں لیکن وہ اکیلی جلسہ میں پہنچتی ہیں۔فیملی کا راستہ میں حادثہ ہو جاتا ہے اس پر حضور انور نے فرمایا۔’’صدقہ دیں اور دعا کریں‘‘
عرب سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے اپنے خواب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ا نہوں نے اپنا سر حضور انور کی گود میں رکھ دیا ہے اور پاؤں کو پکڑ لیا ہے۔اس پر حضور انور نے فرمایا ان کو دین کی طرف توجہ دینی چاہئے ۔شادی کے حوالہ سے حضور انور کے استفسار پر موصوفہ نے عرض کیا کہ ان کی طلاق ہوگئی ہے اور ایک بیٹا بھی ہے۔اس پر حضور انور نے فرمایا کہ اس کا مطلب ہے کہ اللہ اس کے لئے بہترکرے گا۔اللہ ان کے لئے بہتر انتظام کر ے۔دین کی طرف ،تہجد اور نمازوں کی طرف توجہ دیں۔اللہ آپ کے لئے آسانیاں پیدا فرمائے۔
ملک آسٹریا سے آنے والی ایک خاتون نے عرض کیا کہ وہ جماعت کی خدمت کس طرح کر سکتی ہیں اس پر حضور انور نے فرمایا آسٹریا کی صدر لجنہ اور مبلغ انچارج سے رابطہ کریں۔
جرمنی سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے عرض کیا کہ حضور بہت فریش ہیں اس طاقت کا راز کیا ہے؟ اس پر حضور انور نے فرمایا۔’’اللہ کی مدد‘‘
ایک خاتون نے عرض کیا کہ جلسہ سالانہ کے موقع پر کسی مقررنے برکات خلافت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کسی خاتون نے حضور انور کا چہرہ مبارک دیکھ کر اولاد کے لئے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اولاد کی نعمت سے نوازااور آج جلسہ کی کارروائی کے دوران انہوں نے حضور انور کا چہرہ مبارک دیکھ کر پیارے آقا سے ملاقات کی دعا کی تھی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی خواہش پوری کر دی۔
ملاقات کے آخر پر ان نومبائعات نے حضور انور کے ساتھ تصویر بنوانے کی سعادت پائی۔ان کی درخواست پر حضور انور نے ازراہ شفقت ان کو قلم بھی عطا فرمائے۔
ملاقات کا یہ پروگرام 7 بج کر 45 منٹ پر ختم ہوا۔

نومبائعین کی ملاقات

بعد ازاں نومبائع مرد حضرات نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے شرف ملاقات پایا۔ان نومبائع کی تعداد22کے قریب تھی۔ جن میں عرب، جرمن اور ترکی سے تعلق رکھنے والے نومبائع شامل تھے۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے باری باری سب نومبائعین سے تعارف حاصل کیا۔ان میں بعضوں نے کہا کہ انہوں نے آج بیعت کی ہے ۔
اکثر نومبائعین نے حضور انور کی خدمت میں سلام عرض کر کے اپنے لئے اور اور اپنی فیملی کے لئے دعا کی درخواست کی۔
ایک نومبائع نے عرض کیا کہ گزشتہ سال حضور انور کی خدمت میں باقی افراد خانہ کے ناروے پہنچنے کے لئے دعا کی درخواست کی تھی۔اللہ کے فضل سے اب سب افراد خانہ ناروے پہنچ گئے ہیں۔موصوف کے والد صاحب نے حضور انور کی خدمت میں ناروے آنے کی درخواست کی۔
ایک دوست محمد ساتب صاحب نے حضور انور کی خدمت میں عرض کیا کہ خواب میں دیکھا کہ حضور انور بچوں کی ایک کلاس میں تشریف لائے ہیں۔میں بھی وہیں ہوں حضور نے میری طرف دیکھ کر اپنی طرف بلایا اور مصافحہ سے نوازا اور پیارکیا۔حضور نے فرمایا اللہ اس پیار کو قائم رکھے۔
سیریا کے ایک دوست محمد الصباغ صاحب نے جنوری2019ء میں بیعت کی۔ انہوں نے اپنی قبولیت احمدیت کے حوالہ سے بتایا کہ ان کے والد صاحب نے 2008ء میں سیریا میں بیعت کی تھی۔پھر ایک بھائی نے بھی کر لی۔لیکن میں تین دفعہ جلسہ پر آیا ہوں اور لوگوں کو جذبات سے روتے دیکھ کر حیران ہوتا تھا اور ہنستا تھا کہ یہ لوگ کیوں روتے ہیں۔لیکن میں مخالف ہی رہا اور بیعت نہیں کی۔پھر خدا تعالیٰ سے دعا کی کہ اگر یہ جماعت سچی ہے تو اللہ تعالیٰ خود ہی رہنمائی فرما دے۔اس پر میں نے خواب میں دیکھا کہ اسی ملاقات کا سا موقع ہے۔لوگ بیٹھے ہیں۔میں پہلی صف میں بیٹھا ہوں۔ سب دوست خاموش ہیں ۔ حضور تشریف لائے اور میں نے بے اختیاری سے رونا شروع کر دیا۔حضور نے اپنے پاس بلا کر پیار سے فرمایا کہ ادھر پاس بیٹھ جاؤ۔اس پر بیدارہوا تو بیعت کے لئے شرح صدر ہوگیا اور بیعت کرلی۔موصوف نے اپنی والدہ کی بیعت کے لئے بھی درخواست کی۔اس نوجوان نے حضور انور سے مصافحہ کی اجازت چاہی۔اس پر حضور انور نے فرمایا ملاقات کے بعد سب کو موقع ملے گا۔ملاقات کے بعد ان صاحب نےحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے شرف مصافحہ بھی حاصل کیا اور تصویر بنوانے کی سعادت بھی پائی۔
ایک دوست نے عرض کیا کہ بیعت کے بعد میرے سارے کام درست ہوگئے ہیں۔کیس بھی پاس ہوگیا ہے۔رہائش کا انتظام بھی ہوگیا ہے اور Jobبھی مل گئی ہے۔
ایک جرمن نومبائع نے عرض کیا کہ میں نے بیعت کر لی ہے میں کس طرح روحانیت میں بڑھ سکتا ہوں۔اس پر حضور انور نے فرمایا۔پانچ وقت کی نمازوں کی پابندی کریں۔سورۃ فاتحہ یاد کریں پھر اس کا ترجمہ یاد کر کے اس پر غور کرتے رہیں۔
ایک نومبائع نے عرض کیا کہ میں نے آج بیعت کی ہے۔بیوی نے گزشتہ سال بیعت کی تھی اب ہم دونوں احمدی ہیں۔موصوف نے حضور انور کی خدمت میں دعا کی ۔
ایک نومبائع نے عرض کیا کہ میرا تعلق ترکی سے ہے۔اب جرمنی میں رہتا ہوں۔مجھے پہلے شرح صدر نہ تھا۔اب شرح صدر ہوا ہے اور میں نے بیعت کر لی ہے۔اب میں تادم مرگ اس کو نبھاؤں گا۔ موصوف نے عرض کیا کہ مجھے بہت پہلے بیعت کر لینی چاہئے تھی۔
ایک نومبائع نے عرض کیا کہ حضور انور کے ساتھ مجلس میں بیٹھنا ہمارے لئے بہت اعزاز کی بات ہے۔حضور انور کی خدمت میں والدہ کے لئے بھی دعا کی درخواست ہے۔والدہ نے کہا تھا کہ جب حضور سے ملو تو میرا سلام عرض کرنا۔
نومبائعین کی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے یہ ملاقات 8 بج کر 15 منٹ تک جاری رہی۔آخر پر تمام نومبائعین نے حضور انور کے ساتھ انفرادی طورپر تصاویر بنوانے کا شرف پایا۔

جلسہ گاہ سے واپسی اور بیت السبوح میں ورود

بعد ازاں پروگرام کے مطابق یہاں Karlsruheسے فرینکفرٹ کے لئے روانگی ہوئی۔حضور انور نے دعا کروائی اور قافلہ 8بج کر 40منٹ پر بیت السبوح فرنیکفرٹ کے لئے روانہ ہوا۔
جب حضور انور کی گاڑی جلسہ گاہ کے احاطہ سے باہر نکل رہی تھی تو راستہ کے دونوں اطراف کھڑے ہزار ہا لوگ مرد و خواتین اور بچوں ، بچیوں نے اپنے ہاتھ ہلاتے ہوئے اپنے پیارے آقا کو الوداع کہا۔احباب جماعت مسلسل نعرے بلند کررہے تھے۔بچیاں گروپس کی صورت میں الوداعی نظمیں پڑھ رہی تھیں۔ قریباًایک گھنٹہ35منٹ کے سفر کے بعد سوا10بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی بیت السبوح تشریف آوری ہوئی۔
بعد ازاں حضورا نور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ساڑھے10بجے تشریف لا کر نماز مغرب و عشاء جمع کر کے پڑھائیں۔نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

نومبائعین کے تاثرات

آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے 37 افراد نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے دست مبارک پر بیعت کی سعادت حاصل کی۔ان بیعت کرنے والوں کا تعلق 16 مختلف اقوام سے تھا۔بیعت کی سعادت پانے والے احباب نے اپنی اس خوش نصیبی پر بہت خوشی کا اظہار کیا۔بعض احباب نے بیعت کے بعد اپنے تاثرات اور جذبات کا اظہار کیا جو ذیل میں درج ہیں۔
٭کوسووو کے وفد میں شامل ایک دوست Mr . Skender Asllani صاحب جو کہ البانین زبان اور لٹریچر کے استاد ہیں اور انہیں اس سال بیعت کرنے کی سعادت نصیب ہوئی ہے، انہوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ انتظامات بہت اعلی پائے کے تھے۔ ڈھونڈنے پر بھی کوئی نقص نہیں ملا۔ تقاریر کا معیار بہت عمدہ تھا۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطابات بہت پُر اثر تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ سفر کی تھکاوٹ اس قدر تھی کہ بیان سے باہر ہے۔ لیکن حضور انور کو دیکھنے اور پہلی دفعہ آپ کے پیچھے نماز پڑھنے کے بعد تھکاوٹ کا نام و نشان نہ رہا اور ایسا محسوس ہورہا تھا کہ گویا ابھی ایک لمبی نیند کے بعد جاگا ہوں۔ بیعت کرنا ایک انعام ہے جس کی قدر ہم سب کو کرنی چاہئے کیونکہ اس ماحول میں ایک ہاتھ پر جمع ہوناہی کامیابی کی کنجی ہے۔
٭ وفد میں شامل ایک دوست Mr. Labinot Rexhad صاحب وہاں ایک ہائی سکول کے پرنسپل ہیں اور پہلی دفعہ جلسہ سالانہ میں شامل ہوئے ہیں۔ ان کو بیعت کرنے کی بھی سعادت ملی۔ انہوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: جلسہ سالانہ نے مجھ پر ایک خاص جذباتی اثر ڈالا ہے۔ جب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ ہال میں تشریف لاتے تو نعروں کا بلند ہو جانا اور اسی طرح حضور کا فرمانا کہ ’’بیٹھ جائیں‘‘۔ تو اتنے بڑےمجمع کا فورا ًبیٹھ جانا، یہ دنیا میں کہیں دیکھنے کو نہیں ملتا۔
حضور انور کے خطابات ہر قسم کے علوم سے مرصع تھے اور انسان کی توجہ کو کھینچتےتھے۔ میرایہ کہنا ہے کہ یہ جلسہ 3 دن کا نہیں بلکہ 30 دنوں کا ہونا چاہئے۔ انتظامات میں کوئی کمی دیکھنے کو نہیں ملی۔ اگلے سال کے جلسہ میں شامل ہونے کے لئے بیقرار ہوں۔ میرا ارادہ بیعت کرنے کا نہیں تھا لیکن بیعت کے دوران طبیعت میں ایسا اثر پیدا ہوا کہ خود بخود ہی ہاتھ اٹھ گیا اور الفاظ دہرانے شروع کر دیئے۔
٭ کوسوو کے وفد میں ایک اور دوست Mr.Afim Hosha صاحب پہلی مرتبہ اپنی فیملی کے ہمراہ جلسہ میں شامل ہوئے ہیں اور 5 افراد کی ساری فیملی کو بیعت کرنے کی بھی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے۔
پہلے مجھے بیعت کا ایک ڈر تھا کہ کس طرح ہو گی اور جسم گھبراہٹ سے کانپ رہاتھا لیکن پیارے حضور کو دیکھنے اور بیعت کرنے کے بعد طبیعت میں سکون سا محسوس ہونے لگا اور جسم کانپنا بند ہو گیا۔
٭ کوسووو کے وفد میں ایک دوستMr . Minator Nalokw صاحب پہلی دفعہ جلسہ میں شامل ہوئے اور انہیں بیعت کرنے کی بھی سعادت ملی۔ وہ کہتے ہیں۔ اپنے احساسات اور جذبات کو الفاظ میں بیان کرنے سے قاصر ہوں۔ خلیفۃ المسیح سے ملنے کے بعد ایسا محسوس ہو تا ہے کہ جیسے زندگی مکمل اور کامیاب ہوگئی ہے۔ میری زندگی میں کب سے ایک خواہش تھی کہ کوئی ایساوجود مجھے ملے جو دنیا کی فکر کرنے والا ہو اور جس سے مل کر میرے تمام مسائل اور تکلیفیں حل ہو جائیں ۔ میرا اس جلسہ میں شامل ہونا خدائی تصرف سے تھا اور بیعت کرتے وقت مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ گویا کہ میں خدا کے قریب ہو گیا ہوں۔
٭ قرغیزستان سے آنے والے ایک دوست صلاح الدین صاحب بیان کرتے ہیں۔
مجھے جلسہ بہت اچھا لگا کر سوال کا موقع نہیں ملا۔ جلسہ سے قبل خاکسار کے جسم میں شدید درد تھی مگر بیعت کے بعد درد کا کچھ نہ رہا۔
٭ قرغیرستان سے آنے والے ایک دوست Jagyn bek Dr Baer صاحب بیان کرتے ہیں۔
میں جو چاہتا تھا وہ مجھے خلیفۃ المسیح کے ساتھ ملاقات میں حاصل ہو گیا۔ بیعت کے دوران مجھے بہت رونا آیا۔ آج بھی مشکل سے اپنے آپ کو روکا تھا۔
میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے خلیفۃ المسیح سے ہاتھ ملانے کا موقع دیا اور مجھے ایسا لگا کہ جیسے میرے پَر نکل آئے ہیں اور میں پرواز کر رہا ہوں۔ جلسہ کے دن میری زندگی میں بہت غیر معمولی دن ہیں۔
٭ سیودیان سلیمانوسکی صاحب(Sevdjan Sulejmanovski) اپنے جذبات کا اس طرح اظہار کرتے ہیں کہ
آج میں نے احمدیت قبول کی ہے اور اس اعزاز پر بہت خوش ہوں۔ امسال جلسہ پر میں نے زیادہ تعداد میں لوگوں کو دیکھا۔ کھانا اور رہائش اچھی تھی۔ خلیفۃ المسیح کی تقاریر بہت اچھی تھیں کیونکہ اسلام کے بارہ میں وہ بہت اچھے انداز میں بتاتے ہیں۔خصوصاً جب وہ اسلام کے بارہ میں مختصر الفاظ میں وضاحت بیان فرماتے ہیں۔ وہ آسان اور سادہ الفاظ میں بتاتے ہیں ۔ میرے خیال میں 2019ء کا جلسہ بہت کامیاب رہا۔
٭ آذربایئجان سے آغا صف اصغر وو صاحب جلسہ میں شریک ہوئے تھے۔ انہیں جلسہ کے دوران حضور انور کے دست مبارک پر بیعت کرنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ یہ اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ
میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ میں روحانیت کی اتنی بلندیوں کو دیکھوں گا جو خلیفۃ المسیح کی ذات میں ہیں۔ مربی محمود صاحب نے مجھے جماعت کے بارہ میں اور اس کے عقیدوں کے بارہ میں معلومات دینی شروع کیں ۔ مجھے یہ سب بناوٹی اور جھوٹ لگا۔ میں نے ان باتوں کو سنتے ہی انکار کر دیا لیکن معلوم نہیں تھا کی یہ قوت مجھے جلد اپنی طرف کھینچ لے گی۔ یقینی طور پر جماعت کی سچائی اور اس کے پیش کردہ دلائل بہت پختہ ہیں۔
ویڈیوز میں دیکھے جانے والے نظارے یہاں آکر حقیقت میں دیکھنے کا موقع ملا۔ حضور کو قریب سے دیکھنے کی خاطر میں جمعہ میں پہلی صف میں جا کر بیٹھا تھا۔ حضور کو تشریف لاتا دیکھ کر بہت ہی لذت محسوس کی۔ یہ روحانی لذت اس وقت اور بڑھ گئی جب حضور کی زبان مبارک سے قرآن کریم کی تلاوت سنی۔ ایسے لگا کہ یہ آواز اور اس کا روحانی اثر صرف حضور سے ہی خاص ہے۔
جلسہ میں بہت سے لوگوں سے ملنے کا موقع ملا لیکن ہر ایک سے مل کر ایک ہی جیسا خوشگوار احساس ہوتا تھاجو یقینی طور پر دلیل ہے کہ یہ ایک جماعت ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے مجھے حضور کے ہاتھ پر بیعت کی سعادت بخشی۔ پہلی دفعہ جب مجھے یہ اطلاع دی گئی تو مجھے یقین نہ آیا۔ میں نے چار پانچ بار پوچھا کہ کیا واقعی میں حضور کے دست مبارک پر ہاتھ رکھ کر بیعت کروں گا۔ میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور ساتھ ہی پریشان ہو گیا کہ میں تو اس قابل نہیں۔ پھر میں نے درود شریف اور استغفار کا ورد شروع کیا۔ بیعت کا موقع آنے تک میں نہ کھا سکا اور نہ ہی کچھ اور کر سکا۔ الحمد للہ بیعت کا موقع بھی آگیا۔ حضور اپنے پرنور چہرے کے ساتھ تشریف لائے تو میری آنکھیں ساتھ نہیں دے رہی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسے قوت بخش روحانی موقع سے نوازا کہ میں بیعت کے بعد سجدہ میں گر گیا اور اس ذات کا شکر ادا کیا جس نے اپنے اس ناچیز گناہگار بندے کو اپنے اتنے مقدس بندے کے ہاتھ پر بیعت کی توفیق عطا فرمائی۔ جلسہ کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ حضور انور کے ساتھ ہمیں ایک ملاقات کا موقع مل جائے گا۔ میں سارا دن کئی سوال سوچتا رہا۔ ذہن میں یہ بھی آتا رہا کہ بیعت کے وقت جو چہرہ دیکھا تھا اس کو اتنی جلدی دوبارہ دیکھوں گا۔ جب ملاقات کا موقع آیا تو میں اپنے ذہن میں سوچے ہوئے کئی سوالوں کو بھول گیا اور صرف سب سے زیادہ فکر مند کرنے والا سوال یاد رہے کہ آیا جلسہ کے بعد اپنے ملک جانے کے بعد کیا روحانیت کا یہ معیار قائم رہے گا؟ یا اسکو کیسے قائم رکھ سکتے ہیں۔ الحمدللہ حضور نے میری یہ مشکل حل فرمادی۔ آپ کے جواب نے مجھے تسلی عطا فرما دی کہ نماز ،سورۃ فاتحہ، اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ۔ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ اور استغفار اس کا حل ہے۔ میں یہاں سے عہد کر کے جارہاہوں کہ اگلے جلسہ تک اس نصیحت پر عمل پیرا ہوں گا اور اگلے جلسہ پر آکر حضور کو بتاؤں گا۔
٭ آسٹریا سے تعلق رکھنے والی ایک مہمان فاطمہ سامر اللبا بیدی صاحبہ ککھتی ہیں۔
میں نے جلسہ جرمنی کے موقع پر مورخہ 7 جولائی کو بیعت کی ہے۔ حضور انور سے در خواست دعا ہے کہ میری بیعت بابرکت ہو اور میری کوئی غلطی میرے اس عہد بیعت کو توڑ نہ دے۔ اللہ کرے کہ میں اپنے اندر وہ تبدیلیاں پیدا کر سکوں جن کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسلامی اصول کی فلاسفی میں ذکر کیا ہے۔ میں اپنی فیملی کے ساتھ 2011ء سے احمدی ہوں۔ دو ماہ بعد میری عمر 18 سال ہو جائے گی۔ میری بچپن سے یہ خواہش تھی کہ خود بیعت کروں۔ میں نے 2011ء سے اپنا بیعت فارم محفوظ کیا ہوا تھا تا کہ خود پیش کروں اور حضور انور کے ہاتھ پرخود بیعت کروں۔
یہ تیسرا جلسہ ہے جس میں شامل ہوئی ہوں۔میری ترجمہ اور عرب مہمانوں کو تبلیغ کرنے کے سیکشن میں ڈیوٹی تھی۔اس قدر تبلیغ کی توفیق ملی کہ میری آواز بھی بیٹھ گئی۔مجھے محسوس ہوا کہ گویا میں نورانی راستے پر چل رہی ہوں اور اللہ تعالیٰ کی جماعت کے ساتھ ہوں۔ یہ سب کچھ حضور انور کی مبارک خلافت کے سائے کی وجہ سے ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے آپ کو ہمارے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ایک خوبصورت واسطہ بنایا ہے اور آپ کی اور الله تعالی کی قربت بخشی۔
٭ ایک کُردلڑکی اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہے۔
چند سال قبل میری والدہ نے احمدیت قبول کی تھی لیکن اس وقت میں تیار نہ تھی۔ اب گزشتہ چند ماہ سے مجھے شرح صدر ہو رہی ہے کیونکہ میں نے احمدیوں میں باہمی محبت دیکھی ہے اور آج حضورانور کو دیکھنے اور حضورانور کی باتیں سننے سے میرے تمام خدشات دور ہو گئے ہیں۔ گزشتہ سال بھی میں آئی تھی لیکن یہ کیفیت نہ تھی جو آج ہے۔ مجھے آپ کے وجود سے نور نكلتا محسوس ہوا۔ میری والدہ بہت خوش ہو گی کیونکہ اب مجھے یہ احساس بہت شدت سے ہونے لگا ہے کہ مجھے احمدی ہو جانا چاہئے۔
٭ ڈاکٹر محمد الحمود صاحب اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
جب میں دو سال قبل پہلی بار جلسہ پر آیا تو مجھے بہت عجیب لگا اور میرے لئے بالکل نئی بات تھی کہ احمدی کہتے ہیں کہ مہدی اور مسیح آگیا اور ہمیں اس کا بالکل علم ہی نہیں، میرے ذہن میں کئی سوالات گردش کرتے کہ ہم نے تو یہی سیکھا اور پڑھا ہے کہ مہد ی عربی ہو گا اور اس کا نام محمد بن عبد الله ہو گا۔ کیا یہ جماعت دینی ہے یا سیاسی؟ اسی طرح کے کئی سوالات نے میرے ذہن کو جکڑ لیا۔ ان سوالات کے جوابات حاصل کرنے کے لیے میں اگلے سال پھر جلسہ پر آیا اور احمد ی بھائیوں سے مختلف موضوعات پر بات چیت ہوتی رہی۔ جلسہ کے بعد بھی میرا احمدیوں سے رابطہ رہا اور آہستہ آہستہ میرے تمام سوالات کے جوابات ملتے رہے اور مجھے یقین ہو گیاکہ احمدی ہی ایک حقیقی مسلمان کی تمام صفات اپنے اندر رکھتے ہیں۔ چنانچہ میں نے جماعت کی محبت اور الفت سے متاثر ہو کر بیعت کرنے کا ارادہ کر لیا۔
موصوف کہتے ہیں۔ یہ محبت جو جماعت کے لوگوں میں پائی جاتی ہے اگر اللہ تعالیٰ اس کا بیج ان کے دلوں میں نہ بوتا تو کبھی بھی یہ محبت پیدانہ ہوتی۔ الحمد لله الله تعالیٰ نے خاکسار کو اس جلسہ پر حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی سعادت نصیب فرمائی اور بیعت کے وقت حضورانور کا چہرہ دیکھ کر اور بیعت کے الفاظ دہراتے ہوئے جو احساس تھا اس کو بیان کرنا بہت مشکل ہے۔ میں بہت خوش قسمت ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے خلیفۂ وقت کے ہاتھ پر مجھے بیعت کرنے کی توفیق دی۔ میں جانتا ہوں کہ لاکھوں ہاتھ اس بابرکت ہاتھ کو چھونے کی تمنا کرتے ہیں۔
بیان کرتے ہیں: اگر بیعت پانچ گھنٹے بھی جاری رہتی تو میں بور نہ ہو تا اور نہ مجھے وقت کے گزرنے کا احساس ہو تا۔ جلسہ کے اختتام پر ملاقات کے دوران میں حضور انورسے بہت کچھ کہنا چاہتا تھالیکن شدت جذبات سے کچھ بھی نہ کہہ پایا۔
٭ فواد النزّال صاحب جو ایک سیرین دوست ہیں اور جرمنی میں مقیم ہیں کہتے ہیں۔
میں جماعت کے تعارف سے پہلے اللہ تعالیٰ کی عظمت کے بارے میں سوچتا تھا اور مسلمانوں کی حالت پر نظر کر تا تھا جو دن بدن بُری ہوتی چلی جارہی تھی اور یہ کہ ان کی حالت کب ٹھیک ہو گی، پھر جب میں جرمنی آ گیا میں یورپ کے عرب دوستوں کو دیکھ کر سوچا کرتا تھا کہ کیا ان لوگوں کے ذریعہ یورپ میں اسلام پھیلے گا جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ آخری زمانہ میں یورپ میں اسلام پھیلے گا۔ اس دوران ایک احمد ی دوست ماہر المعانی صاحب سے میری ملاقات ہوئی اور اس نے جماعت کے بارہ میں بتانا شروع کیا۔ شروع میں تو میں نے اس کی مخالفت کی لیکن جماعتی کتب کا مطالعہ کرنے کے بعد میں نے جلسہ پر جانے کا ارادہ کر لیا۔ میں نے جلسہ دیکھا اور سوچا کہ اس قدر لوگ کس طرح ایک شخص کے ہاتھ پر اکٹھے ہو گئے اور آپس میں محبت اور الفت کا تعلق ان میں قائم ہو گیا، میں نے تہجد میں بہت دعا کی کہ اے اللہ اگر یہ جماعت سچی ہے تو مجھے اس جلسہ میں بیعت کی توفیق عطاء فرمادے۔ پس اس جلسہ پر میرا دل مطمئن ہو گیا اور میں نے بیعت کرلی۔ لیکن میری بیوی نے بیعت کرنے سے انکار کر دیا اور میں نے اسے سمجھایا کہ تم یہ کتابیں پڑھو اور خدا سے استخارہ کرو۔ تین مہینے بعد میری بیوی نے استخارہ کیا اور اس نے خواب میں دیکھا کہ لوگ جمع ہیں اور ایک سفید کبوتر ان کے در میان موجود ہے، میری بیوی نے پوچھاکہ یہ کبوتر کیا ہے ؟ تو ان میں سے ایک شخص نے کہا کہ یہ کبوتر اسلام پھیلانے کےلئے قُدس کے علاقہ میں آیا ہے۔ اس خواب نے میری بیوی کے دل کو کھول دیا اور وہ اس جلسہ میں شامل ہوئیں اور بیعت کر لی۔ موصوف بیان کرتے ہیں۔ میں اس بات پر بہت خوش ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے میری تمام فیملی کو حضرت مسیح موعود کی بیعت کرنے کی توفیق دی ، میں اپنے تمام رشتہ داروں کو جماعت کی خوبصورت تعلیم پہنچانا چاہتا ہوں، الله تعالیٰ مجھے اس کی توفیق دے۔ آمین
٭ کمال علوان صاحب جو ایک لبنانی دوست ہیں وہ اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
میرے پاس ایک ریسٹورانٹ تھا جس میں ایک احمدی دوست محمد شہادہ صاحب آیا کرتے تھے، ایک دن مجھے کہنے لگے کہ میں آپ کو ایک بات بتانا چاہتا ہوں کہ امام مہدی آ بھی چکے ہیں اور وفات بھی پا چکے ہیں۔ ان کے جانے کے بعد میں نے سوچا کہ وہ شخص کون تھا؟ پھر کچھ عرصہ کے بعد وہ احمدی آتا اور کہتا کہ امام مہدی آچکا ہے اور ایک دن اس نے بعض باتوں کی وضاحت کی جن میں دجال اور وفات مسیح کا ذکر تھا، میرے لیے یہ حیرت انگیز معلومات تھیں اور میرے دل میں گھر کر گئیں اور میرے دل میں تحریک پیدا کرنے لگیں کہ میں جماعت کے بارے میں مزید معلومات حاصل کروں۔پھر اُس نے مجھے جلسہ پر جانے کی دعوت دی جسے میں نے بخوشی قبول کر لیا۔
کہتے ہیں۔جلسہ میں جو سب سے پہلے میرے لیے جماعت کی سچائی کی دلیل بنی وہ اتنی بڑی تعداد اور اس کا حسن انتظام تھا۔ جلسہ کے دوران ایک دوست نے مجھے بتایا کہ یہ خلیفۃ المسلمین ہیں۔ پھر میں نے احمدیوں سے مختلف سوالات کئے جن کا انہوں نے بڑے پیار سے جواب دیا۔ میرا دل احمدیت کی صداقت سے مطمٔن ہو تا چلا گیا۔ میں نے سوچا کہ اگلے سال تک زندہ رہوں گا بھی یا نہیں اس لیے ابھی بیعت کرنی چاہئے تو میں نے بیعت کر لی۔ اسی طرح میری دوخوابیں بھی جماعت کی صداقت کی وجہ بنیں ۔ اللہ کے فضل سے میرے ایک بیٹے نے بھی بیعت کر لی اور میں چاہتا ہوں کہ میری باقی اولاد بھی احمدی ہو جائے۔ میں الحوار المباشر اور خطبات جمعہ غور سے دیکھتا ہوں ، میرے نزدیک10 شرائط بیعت حضرت مسیح موعود ؑکی طرف سے صرف چند شرائط ہی نہیں بلکہ یہ خدائی لائحہ عمل ہے، بیعت سے قبل میں دعا کیا کرتا تھا کہ خدا تعالیٰ مجھے امام مہدی کو دیکھنے کی توفیق دے۔ گزشتہ زندگی جو جماعت کے بغیر میں نے گزاری ہے اس پر مجھے ندامت ہوتی رہتی ہے، میں اس لیے ہر احمدی کا تہہ دل سے احترام کرتا ہوں کیونکہ یہ لوگ دین مصطفیٰ ﷺ کی خدمت کر رہے ہیں۔ مجھے اب اپنے بیوی بچوں اور کام کرنے کی اتنی فکر نہیں بلکہ مجھے یہ فکر لاحق رہتی ہے کہ میرے پاس اتنے پیسے ہوں کہ میں جماعت کی ترقی کے لیے خرچ کر سکوں اور جماعت کی خدمت کر سکوں۔ اللہ تعالیٰ میری خواہش کو قبول فرمائے۔ آمین
٭ پَلُومب بے يا Pellumb Beja صاحب اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
میں نے حضورانور کے ہاتھ پر بیعت کی اور جماعت میں داخل ہونے کی سعادت پائی اور اس کے لئے میں الله تعالیٰ کا بے حد شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے احمدیت میں آنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔ حضور نے مجھ سے پوچھا کہ میں کس وجہ سے احمدی ہوا ہوں تو میں نے جواب دیا کہ شک سے یقین کی طرف اور اندھیرے سے نور کی طرف سفر کرنے سے میں احمدی ہوا ہوں۔ میں اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر گزار ہوں۔ ایک سال قبل میں ایمان سے خالی تھا۔ اس سال اللہ تعالیٰ نے مجھے ایمان کی دولت نصیب فرمائی ہے۔ میری پیدائش اور پرورش مکمل طور پر لامذ ہب ماحول میں ہوئی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے جلسہ سالانہ میں شمولیت اور حضور انور سے ملاقات کے ذریعہ مجھے ایمان سے آراستہ کیا۔
٭ ایک مہمانBesim Gjoziبیسم جوزی صاحب کہتے ہیں کہ
میں ایک دن قبل یعنی جلسہ کے آخری روز ہی بیعت کر کے جماعت احمدیہ مسلمہ میں شامل ہو اہوں اور اس کے لئے میں اللہ تعالی کا بہت شکر گزار ہوں۔
٭ ایک جرمن نومبائع خاتون جنہوں نے امسال بیعت کی سعادت حاصل کی انہوں نے بتایا۔
میں پہلی مرتبہ جلسہ سالانہ میں شامل ہوئی ہوں۔ میں جماعت کے بارے میں کسی حد تک واقف تھی۔ لیکن مزید علم حاصل کرنے کی غرض سے میں نے جلسہ سالانہ میں شرکت کی۔ جلسہ پر جس طرح کی محبت بھری اور روحانی فضا تھی، جسے گویا چھو کر محسوس کیا جا سکتا تھا۔ ہر چہرہ نفرت سے پاک اور ایک دوسرے کے لئے محبت لئے ہوئے تھا۔ میں نے تمام تقریروں کو بہت غور سے سنا اور ان سے بہت کچھ سیکھا۔ جلسہ سالانہ کی چند چیزیں تو میں عمر بھر نہیں بھول سکوں گی۔ ان میںسر ِفہرست نماز باجماعت کی ادائیگی ہے۔ نماز کے دوران جو روحانی ماحول ہوتا تھا، وہ روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا تھا۔ دوسرا وہ لمحہ جب میں نے بیعت کر لی تو میں نے اپنے اندر ایک ایسادائمی سکون اترتے پایا، جو بیان نہیں کر سکتی۔ ایک امن و سکون کا دریا تهاجو میرے اندر اتر گیا۔
اس کے بعد جب ہم نو مبائعات کی حضور انور کے ساتھ ملاقات تھی، اس کے بارے میں سوچتی ہوں تو کیفیت بیان کرنے کے لئے الفاظ نہیں ملتے۔ اس لمحے میں جب حضور انور نے میٹنگ روم میں قدم رکھا، تمام ماحول بدل گیا تھا۔ دل ایک بہت خوبصورت کیفیت سے بھر گیا تھا، جیسے اس عاجزہ کو ان بابرکت قدموں کی برکت سے خدا تعالیٰ کا قرب نصیب ہو گیا ہو۔
ایک اور جر من نومبائعہ جنہوں نے امسال بیعت کرنے کی توفیق پائی وہ لکھتی ہیں۔
جب میں نے پہلی مرتبہ حضور انور کی آواز مائیک پر سنی تو معلوم ہوا حضور میرے بہت بہت قریب ہیں۔ حضور کی آواز میری روح میں اتر گئی۔ اس وقت میرے جو جذبات اور کیفیت تھی، وہ بیان کرنے سے قاصر ہوں۔ میں نے خود کو بہت ہی ہلکا پھلکا سا محسوس کیا، ایک خوشی اور سکون کی کیفیت تھی جس سے میں سرشار تھی۔ میں جان گئی تھی کہ جس سکون اور روحانیت کی تلاش میں میں تھی، وہ مجھے آج احمدیت کی آغوش میں آکر مل گیا تھا۔ میں نے بیعت کرنے کا فیصلہ حضور کی آواز سننے کے بعد کر لیا تھا۔ بیعت کرنے کے اگلے روز ہم نو مبائعات کو حضور انور کے ساتھ ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ اس ملاقات کے دوران ایک ناقابل یقین واقعہ ہوا، وہ یہ کہ مجھے یہ شرف حاصل ہوا کہ حضور انور مجھ سے مخاطب ہوئے۔ حضور انور کی پر شو کت شخصیت سے اتنی محبت، اتنا سکون اور روحانی کشش محسوس ہورہی تھی، جنہیں بیان کرنا اس عاجزه کے لئے ممکن نہیں۔ اس جلسہ سے بہت روحانی تحفے لے کر میں رخصت ہو گئی اور اب بیعت کرنے کا شرف حاصل کرنے کے بعد بطور احمدی مسلمان خاتون اپنی زندگی کا آغاز کر چکی ہوں۔
٭ جلسہ سالانہ جرمنی کے موقع پر Fyrkzada Aliyev(فُرک زادہ عليو) صاحب نے بھی بیعت کی توفیق پائی۔ موصوف نسلاً کُرد ہیں اور ان کا تعلق قازقستان سے ہے۔ جرمنی میں پناہ گزیں ہیں۔ چار سال پہلے ان سے ڈاکٹر عزیر صاحب کے ذریعہ جو ان کے ساتھ پناہ گزین کیمپ میں تھے رابطہ ہوا تھا۔ انہوں نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا۔
2 سال پہلے جب میں پہلی دفعہ جلسہ سالانہ جرمنی میں شریک ہو اتو جماعتی کتب کا مطالعہ کر چکا تھا اور مبلغ صاحب سے بالمشافہ اور فون پر بھی جماعتی عقائد سے واقفیت حاصل کر چکا تھا۔ جلسہ سالانہ کاماحول، حضور انور کی ملا قات اور آپس کے بھائی چارے نے مجھے بہت متاثر کیا تھا اور میں اسی وقت بیعت کیلئے تیار تھا۔ لیکن اس وقت خاکسار اپنی بعض گھریلو پریشانیوں اور بیماریوں سے مغلوب تھا اس لئے بیعت کا ارادہ کہیں دب کر رہ گیا۔ ان 2سالوں میں اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا۔ جماعت کے احباب سے بھی رابطہ مضبوط ہوا۔ مزید مطالعہ کا بھی موقع ملا جس نے دو سال پہلے کئے گئے میرے فیصلے کو جس کا میں نے کسی سے اظہار نہیں کیا تھا بہت تقویت دی اور الله کا شکر ہے کہ اس جلسہ کے موقع پر خاکسار نے پورے شرح صدر اور تقیّت کے ساتھ بیعت کی توفیق پائی۔ الحمدللہ ۔ خاکسار کی اہلیہ مزید غور کر رہی ہیں۔ ان کیلئے دعا کی درخواست ہے ۔
٭ ایک دوسری جرمن نومبائع خاتون جنہوں نے گزشتہ سال بیعت کی تھی وہ لکھی ہیں۔
گزشتہ برس بیعت کرنے کے بعد خاکسار کے لئےبحیثیت احمدی یہ پہلا جلسہ تھا۔ پتہ نہیں چلا یہ ایک سال کیسے گزر گیا۔ جماعت میں شامل ہو کر میں ایسے محسوس کرتی ہوں، جیسے میں اپنے گھر پہنچ گئی ہوں۔ جلسہ سالانہ کا ہر لمحہ روحانیت سے بھر پور تھا۔ تمام تقارير خصوصاً حضور انور کے خطابات بہت روح پرور تھے۔ ایک ایک لفظ روح میں اتر جانے والا تھا۔
گزشتہ سال میں مہمان تھی، جبکہ امسال میں بحیثیت میزبان مہمانوں کی خدمت کرنے کی توفیق پارہی تھی۔ یہ امر میرے لئے اتنا خوبصورت تھا کہ الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ میں نے جماعت احمدیہ کو اس وقت پایا جب میں امن، محبت اور روحانیت کی تلاش میں بہت تھک چکی تھی۔
موصوفہ نے کہا: اب میں چاہتی ہوں کہ خدا تعالیٰ کا جس نے مجھے اس سلسلہ میں شامل ہونے کی توفیق دی، ہر لمحہ حق ادا کرنے کی کو شش کروں۔ میں بہت شکر گزار ہوں کہ مجھے اس ٹیم میں شامل کیا گیا اور اس طرح مہمانوں کی خدمت کی توفیق ملی۔ میں نہیں جانتی میری کس نیکی کے بدلے خدا تعالیٰ نے مجھے جماعت میں شامل ہونے کی توفیق دی، لیکن میں صرف یہ جانتی ہوں کہ اگر میں ساری عمر بھی سجدے میں رہوں تو شکر ادا نہیں کر سکتی۔ جلسہ سالانہ روح کے لئے ایک تربیتی کیمپ ہے۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ حضور پر نور بنفس نفیس ہم میں موجود ہوتے ہیں۔ وہ لمحہ جب حضور انور لجنہ جلسہ گاہ میں خطاب کے لئے تشریف لائے میری آنکھوں سے آنسو نہیں تھم رہے تھے کہ اب سے میرے بھی حضور ہیں ، میں بھی حضور کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی توفیق پا چکی ہوں۔ حضورانور کے ہر لفظ کے ساتھ میری آنکھ سے آنسو گرتے رہے، یہاں تک کہ ترانے بھی ختم ہو گئے اور میں روتی رہی۔ میرے ساتھ بیٹھی جرمن بہن نے مجھے گلے سے لگا لیا اور ہم دونوں زارو قطار رونے لگے۔ یہ بے چینی کے آنسو نہیں تھے بلکہ یہ خوشی کے آنسو تھے جو امن کی آغوش میں آنے کے بعد فرط جذبات میں بہے چلے جارہے تھے۔ شکریہ پیارے خد ا کہ تو نے ہمیں سیدھار ستہ دکھادیا۔
بیعت کی تقریب کے حوالہ سے بعض مہمانوں کے جذبات
٭ جارجیا کے وفد میں شامل دینی علوم کی طالبہ Nanuka Zumbululidze بیعت کی تقریب کے حوالہ سے کہتی ہیں کہ
بیعت کی تقریب جذبات سے بھر پور تھی۔ مجھے مذ ہبی اتحاد کا ایک نظارہ دیکھنے کو ملا اور معلوم ہوا کہ کس طرح مختلف رنگ و نسل کے لوگ امن کے ساتھ اکٹھے رہ سکتے ہیں۔ میں دینی علم حاصل کررہی ہوں۔ جلسہ پر پہلی مرتبہ آئی ہوں اور میرا یقین ہے کہ یہ جلسہ امن کے حصول کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔
٭ مشرقی علوم کے طالب علم Giga Gigauri بھی اس وفد میں شامل تھے۔ یہ کہتے ہیں۔
لوگ بہت ہمدرد تھے جس کی وجہ سے میں یہاں ہوں۔ بیعت کی تقریب کو میں ایک زائر کے طور پر دیکھ رہا تھا۔ میرے پاس الفاظ نہیں کہ میں اپنے جذبات کا اظہار کر سکوں۔ لوگوں کا اس رنگ میں اکٹھا ہونا ایک شاندار امر ہے۔
٭ جارجیا سے ایک وکیل اور یونیورسٹی لیکچرارTemor Shengelaya پہلی مرتبہ جلسہ میں شامل ہوئے اور بہت متاثر ہوئے۔ بیعت کی تقریب کے بعد بار بار کہتے رہے کہ یہ ایک معجزہ ہے، یہ ایک معجزہ ہے۔
کہتے ہیں کہ جماعت میں باہمی محبت بہت زیادہ ہے۔ بالخصوص میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ آپ لوگوں کے چہروں پر ہمیشہ مسکراہٹ رہتی ہے۔

جلسہ سالانہ جرمنی کے موقع پر میڈیاکوریج

جلسہ سالانہ جرمنی کی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا میں بڑے وسیع پیمانہ پر کوریج ہوئی۔
٭ جرمنی میں کل 13۔ میڈیا Outlets پر جلسہ کی کور یج ہو گی۔
٭ اس میں جرمنی کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اخبار Faz سے لے کر بعض لوکل اخبارات، آن لائن اخبارات اور میگزین بھی شامل ہیں۔
٭ صوبائی ٹی وی SWR پر بھی خبر نشر ہوئی اور اس کی ویب سائٹ پر آرٹیکل کے ساتھ خبر لگائی گئی۔
٭ جرمنی کے علاوہ اٹلی، چین اور سلوواکیا کے آن لائن اخبارات میں بھی جلسہ کے حوالہ سے خبریں شائع ہوئیں۔
٭ ایک اندازے کے مطابق ان تمام media outlets کی پہنچ 2 کروڑ 26لاکھسے زائد افراد تک ہے۔
ایم ٹی اے (افریقہ)
٭ ایم ٹی اے افریقہ کی ٹیم نے افریقہ بھر میں نیشنل ٹی وی چینلز کو روزانہ کی بنیاد پر جلسہ سالانہ جرمنی کے حوالہ سے رپورٹ بناکر مہیا کیں جو کہ درج ذیل نیشنل ٹی وی چینلز پر چلائی گئیں۔
1۔ گھانانیشنل ٹیلی ویژن 2۔سیر الیون نیشنل ٹیلی ویژن 3۔گیمبیا نیشنل ٹیلی ویژن 4۔ یوگنڈانیشنل ٹیلی ویژن5۔ روانڈا نیشنل ٹیلی ویژن
٭ جلسہ کے حوالہ سے رپورٹس خاص نیوز بلٹن میں نشر ہوئیں۔ ان ٹی وی چینلز کو دیکھنے والوں کی تعداد 30 ملین سے زائد ہے۔
٭ سیرالیون کے نیشنل ٹیلیویژن اور دیگر دو نیشنل ٹی وی چینلز پر جلسہ سالانہ جرمنی کی کارروائی روزانہ 24 گھنٹے نشر کی جاتی رہی۔
٭ امسال پہلی مرتبہ جلسہ سالانہ جرمنی کی نشریات افریقن زبانوں میں ترجمہ کے ساتھ نشر ہوئیں۔ پہلی مرتبہ جلسہ کے تینوں دن ایم ٹی اے سٹوڈیو کے تمام پروگرام جس میں studio discussion بھی شامل ہیںTwi، یوروبا اور سواحیلی زبانوں میں ترجمہ کے ساتھ نشر ہوئے۔
٭ رسالہ ریویو آف ریلیجنز کے ذریعہ بھی سوشل میڈیا پر وسیع پیمانہ پر کوریج ہوئی ہے۔
٭ امسال انگریزی، سپینش اور جرمن ایڈیشن کی ویب سائٹس پر جلسہ سالانہ کی کور یج کی گئی۔
٭ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے دورہ کے دوران مختلف مصروفیات جس میں وفود کے ساتھ ملا قا تیں، انفرادی ملا قا تیں اور آمین وغیرہ کے پروگرام کے حوالہ سے 13مختصراویڈیوز بنائی گئیں۔
٭ اس کے علاوہ 21 نئے آرٹیکل ڈالے گئے۔
٭ سوشل میڈیاپر بھی 115 سے زائد پوسٹس ڈالی گئیں۔
٭ ان ویڈیوز، آرٹیکلز اور سوشل میڈیا کی posts کے ذریعہ 7 لاکھ 30 ہزار کے قریب لوگوں تک پیغام پہنچا جس میں کوشش کی گئی تھی کہ پیغام غیر مسلم اور مغربی ممالک کے لوگوں کو جائے۔
٭ اس تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور اندازے کے مطابق آئنده یہ تعداد ایک ملین تک ہو جائے گی۔ انشاءاللہ۔

image_printپرنٹ کریں