skip to Main Content
عبدالماجدطاہر۔ایڈیشنل وکیل التبشیر لندن: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کادورہ فرانس:قسط نمبر9

واقفین و واقفات نو کی کلاسز میں شمولیت۔ ڈپٹی گورنرومیئرزکی حضور سے ملاقاتیں اور اعلانات نکاح

7؍اکتوبر 2019ء بروز سوموار

حضور انور اید ہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صبح 6بجکر 46منٹ پر تشریف لاکر نماز فجر پڑھائی۔ نمازکی ادائیگی کے بعد حضور انور اید ہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

جلسہ گاہ بیت العطاء سے مسجد مبارک

آج پروگرام کے مطابق بیت العطاء (جلسہ گاہ سے) مسجد مبارک Saint Prix کے لئے روانگی تھی۔ پروگرام کےمطابق 11بج کر20منٹ پر حضور انور اید ہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے رہائشی حصہ سے باہر تشریف لائے اور دعا کروائی اور اس موقع پر موجود احباب و خواتین کو السلام علیکم کہا اور یہاں سے قافلہ روانہ ہوا۔ یہاں سے جماعت کے مرکزی مشن ہاؤس ؍ سینٹر دارالسلام اور مسجد مبارک Saint Prixکا فاصلہ 60 کلو میٹر ہے۔
فرانس میں جماعت احمدیہ کا یہ پہاڑ مرکزی مشن ہاؤس اور پہلی مسجد ہے Saint Prix کا علاقہ پیرس کے نواحی علاقوں میں سے ہے۔ حضور انور کو خوش آمدید کہنے کے لئے پیرس کی مختلف جماعتوں سے احباب جماعت و خواتین صبح سے ہی جمع ہونے شروع ہوگئے تھے۔ 12بج کر20منٹ پر جب حضور انور اید ہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی گاڑی مشن ہاؤس کےاحاطہ میں داخل ہوئی تو حضور انور کو خوش آمدید کہنے کے لئے ہر طرف ہاتھ فضا میں بلند تھے اور بچیوں کے گروپس خیر مقدمی گیت پیش کر رہے تھے۔ اھلاً و سھلاً و مرحبا یا امیر المؤمنین کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں۔
جب حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز گاڑی سے باہر تشریف لائے تو ایک طفل عزیزم فرید احمد نے حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں پھول پیش کئے اورایک بچی عزیزہ عیشہ منصور نے حضرت بیگم صاحبہ مد ظلہا العالیٰ کی خدمت میں پھول پیش کئے۔
حضور انور نے اپنے ہاتھ بلند کر کے سب کو السلام علیکم کہا اور اپنے رہائشی حصہ کی طرف تشریف لے گئے۔ مشن ہاؤس کے ساتھ بعض نئے حصے بنائے گئے تھے۔ حضور انور نے ان کے بارہ میں دریافت فرمایا۔ امیر صاحب فرانس نے بتایا کہ ایک طرف مجلس انصار اللہ فرانس کا دفتر بنایا ہے اور ایک دوسرے حصہ میں فنانس کا دفتر بنایا ہے اور ایک میٹنگ روم بھی بنایا گیاہے۔
بعد ازاں حضور انور اپنی رہائش گاہ میں تشریف لے گئے۔2بج کر15 پر حضور انور اید ہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسجد مبارک تشریف لا کر نماز ظہر و عصر جمع کر کے پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور انور اید ہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔پروگرام کے مطابق 5بج کر15منٹ پر حضور انور اید ہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے دفتر تشریف لائے۔

ڈپٹی گورنر کی حضور سے ملاقات

مشن ہاؤس کے قریب علاقہ SARCELLES کے ڈپٹی گورنر MR.DENIS DOBO SCHO ENENBERG حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزسے ملاقات کے لئے آئے ہوئے تھے۔
موصوف نے حضور انور کی خدمت میں عرض کیا کہ وہ مشن ہاؤس کے قریبی علاقہ SARCELLESکے ڈپٹی گورنر ہیں۔ حضور انور نے دریافت فرمایا کہ آپ کے تحت کتنی آبادی ہے اور کتنے شہر و قصبات ہیں۔ اس پر گورنر نے عرض کیا کہ 62 مختلف شہر اور قصبات وغیرہ ان کے ماتحت ہیں اور ان کی ریجن میں 4 لاکھ 72 ہزار لوگ ہیں۔حضور انور کے استفسار پر مو موصوف نے بتایا کہ فرانس میں گزشتہ دنوں جو پروٹیسٹ ہوئے تھے وہ زیادہ تر پیرس میں ہوئے تھے۔ ان کے علاقہ میں بہت کم تھے، کچھ حد تک تھے۔
حضور انور نے فرمایا یہ ہنگامے ہوئے تھے اور لوگ سڑکوں پر آئے تھے اس کی وجہ کیا تھی۔ اس پر موصوف نے عرض کیا کہ اکنامک وجوہات بھی ہیں ۔ بے روزگاری ہے، کچھ BROKEN HOME سے بھی آتے ہیں یہ بھی وجہ ہے۔ لیکن ہم کوشش کرتے ہیں کہ JOBS مہیا کریں ۔ بچوں کے لئے اسکولز مہیا کریں کہ ٹرانسپورٹ کو بہتر کریں۔ لیکن یہ کام آسان نہیں ہے۔
انہی دنوں پولیس سٹیشن پر حملہ ہوا تھا اور حملہ آور نے اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کیا تھا، اس کا ذکر ہوا۔حضور انور نے فرمایا ۔جس نے حملہ کیا تھا اس نے تو کچھ عرصہ قبل اسلام قبول کیا تھا۔ وہ تو شادی کےلئےمسلمان ہواتھااسےکیا پتہ ہو سکتا ہے کہ اسلام کی تعلیم کیا ہے ۔ جو لوگ بھی (RADICALIZE) ہوتے ہیں ۔ جن مولویوں سے بھی ان کا رابطہ ہوتا ہے وہ اصل اسلام پر عمل نہیں کرتے اور جو وہ سکھاتے ہیں اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ بہت افسوس ہوا ہے کہ آپ کے پولیس کے لوگ قتل کئے گئے ہیں۔
حضور انور نے فرمایا:اس وقت تو پوری دنیا میں ڈسٹربنس ہے صرف فرانس میں نہیں ہے۔ یو کے میں بھی بریگزٹ کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں۔ حضور انور نے دریافت فرمایا آپ اس پوسٹ کے لئے باقاعدہ منتخب ہوتے ہیں یا آپ کو نامزد کیا جاتا ہے؟
اس پر موصوف نے عرض کیا کہ صدر اور وزیر اعظم نے ان کا تقررکیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میں ڈپلو میٹ رہا ہوں ، جرمنی کروشیا اور کینیا میں کام کیا ہے۔ فرنچ ایمبیسیز میں کلچرل کونسل رہا ہوں۔
اس پر حضور انور نے فرمایا :یہ بھی وجہ ہے کہ آپ کا جماعت سے اچھا تعلق ہے ۔حضور انور نے فرمایا ہم جہاں بھی ہیں بڑی امن پسند کمیونٹی ہیں۔ کینیا میں بھی ہماری کمیونٹی ہے۔ مساجد ہیں مختلف شہروں میں اور سینٹرز ہیں ابھی فرانس میں ہم نے ایک فارم لینڈ پر جلسہ کیا ہے۔ بہت اچھی اور خوبصورت جگہ ہے۔ یہاں سے 40 کلومیٹر دور ہے مجھے ذاتی طورپر شہروں کی نسبت اس طرح کے کھلے علاقے زیادہ پسند ہیں۔
آخر پر زراعت کے حوالہ سے بھی مختلف امور پر گفتگو ہوئی۔ یہ ملاقات 6 بجکر 25 منٹ تک جاری رہیں۔ آخر پر موصوف نے حضور انور کے ساتھ تصویر بنوانے کی سعادت بھی پائی۔ اس کے بعد حضور انور اید ہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مسجد مبارک کے ہال میں تشریف لے آئے۔

واقفات نو بچیوں کی کلاس

بعد ازاں پروگرام کے مطابق 6 بج کر 25 منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ واقفات نو بچیوں کی کلاس شروع ہوئی۔ پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو عزیزہ عشنہ أمل نے کی اور اس کااردو ترجمہ عزیزہ صالحہ یوسف اور فرنچ ترجمہ عزیزہ ایمان ہدوی نے پیش کیا۔
بعدا زاں عزیزہ ثوبیہ حفاظت نے آنحضرتﷺ کی حدیث کا عربی متن پیش کیا اور عزیزہ انیلہ انس نے اس حدیث کا درج ذیل اردو ترجمہ پیش کیا۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے یہ آیت پڑھی۔آسمان لپٹے ہوئے ہیں اس کے داہنے ہاتھ میں وہ پاک ہے اور بہت بلند، ان شریکوں سے جو لوگ اس کے مقابل میں ٹھہراتے ہیں۔ حضور ﷺ نے کہا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں بڑی طاقتوں والا اور نقصان کی تلافی کرنے والا ہوں ۔ میرے لئے ہی بڑائی ہے ۔ میں بادشاہ ہوں،میں بلند شان والا ہوں۔اللہ تعالیٰ اس طرح اپنی ذات کی مجد اور بزرگی بیان کرتا ہے۔ آنحضرتﷺ ان کلمات کو بار بار بڑے جوش سے دہرا رہے تھے یہاں تک کہ منبر لرزنے لگا او رہمیں خیال ہوا کہ کہیں آپؐ منبر سے گر ہی نہ جائیں۔
اس کے بعد عزیزہ عاطفہ رشید نے اس حدیث کا فرنچ زبان میں ترجمہ پیش کیا۔ بعد ازاں عزیزہ سلمیٰ محمد حسین نے حضرت اقدس مسیح موعودؑ کےمنظوم کلام میں سے چند منتخبہ اشعار خوش الحانی سے پیش کئے ۔

کس قدر ظاہر ہے نور اس مبدأ الانوار کا
بن رہا ہے سارا عالم آئینہ ابصار کا

اس کے بعد عزیزہ عاصمہ کاہلوں نے اس نظم کا فرنچ زبان میں ترجمہ پیش کیا۔ بعدازاں عزیزہ رمیزہ نصیر نے حضرت اقدس مسیح موعودؑ کا درج ذیل اقتباس پیش کیا۔
‘‘سو یہ بات بغیر کسی بحث کے قبول کرنے کے لائق ہے کہ وہ سچا اور کامل خدا جس پر ایمان لاناہر ایک بندہ کا فرض ہے وہ رب العالمین ہے اور اس کی ربوبیت کسی خاص قوم تک محدود نہیں۔ اور نہ کسی خاص زمانہ تک اور نہ کسی خاص ملک تک بلکہ وہ سب قوموں کا رب ہے اور تمام مکانوں کا رب ہے۔ اور تمام زمانوں کا رب ہے اور تمام ملکوں کا وہی رب ہے اور تمام فیضوں کا وہی سرچشمہ ہے۔ اور ہر ایک جسمانی اور روحانی طاقت اسی سے ہے اور اسی سے تمام موجودات پرورش پاتی ہیں۔ اور ہر ایک وجود کا وہی سہارا ہے۔خدا کا فیض عام ہے جو تمام قوموں اور تمام ملکوں اور تمام زبانوں پر محیط ہو رہا ہے۔ یہ اس لئے ہوا کہ تاکسی قوم کو شکایت کرنے کا موقع نہ ملے۔ اور یہ نہ کہیں کہ خدا نے فلاں فلاں قوم پر احسان کیا۔ مگر ہم پر نہ کیا۔ یا فلاں قوم کو اس کی طرف سے کتاب ملی تا وہ اس سے ہدایت پاویں گے ہم کو نہ ملی۔ یا فلاں زمانہ میں وہ اپنی وحی اور الہام اور معجزات کے ساتھ ظاہر ہو امگر ہمارے زمانہ میں مخفی رہا پس اس نے عام فیض دکھلا کران تمام اعتراضات کو دفع کر دیا۔ اور اپنے ایسے وسیع اخلاق و کھلائے کہ کسی قوم کو اپنے جسمانی اور روحانی فیضوں سے محروم نہیں رکھا۔ اور نہ کسی زمانہ کو بے نصیب ٹھہرایا۔’’

فرانس پریزنٹیشن

بعد ازاں عزیزه رغیبہ ظہور، عزیز ادیبہ علیم اور عزیزہ نائلہ اکرم نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے 1924ء کے دورہ فرانس کے بارہ میں ایک پریزنٹیشن دی:
حضرت مسیح موعو دؑ نے اپنی ایک کتاب میں نزول مسیح کی بحث کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے کہ یہ جو بعض حدیثوں میں ذکر آتا ہے کہ مسیح موعود علیہ السلام دمشق کے مشرقی جانب ایک سفید مینار پر نازل ہوگا اس سے اصل مراد تو یہی ہے کہ وہ دمشق کے مشرقی ممالک میں مضبوط اور بے عیب دلائل کے ساتھ ظاہر ہوگا مگر ممکن ہے کہ اس کے ایک ظاہری معنے اس رنگ میں بھی پورے ہو جائیں کہ کبھی ہمیں جانے کا اتفاق ہو جائے یاہمارے خلفاء میں سے کوئی خلیفہ دمشق کا سفر اختیار کرے۔ سواللہ تعالی نے آپ کی اس ضمنی تشریح کو بھی حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓکے ذر یعہ پورا فرمادیا۔ آپ رضی اللہ عنہ ملک شام اور دیگر ممالک سے ہوتے ہوئے فرانس بھی تشریف لائے۔
جماعت احمدیہ کی طرف سے فرانس میں تبلیغ اسلام کی سرگرمیوں کا براہ راست آغاز 1924ء میں ہوا جبکہ حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ اپنے خدام کے ساتھ و یمبلے کانفرنس میں شرکت اور مسجد فضل لنڈن کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد 26اکتوبر سے 31 اکتوبر 1924ء تک فرانس کے دارالحکومت پیرس میں رونق افروز رہے۔ حضور رضی الله عنہ کے ہمراہ حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد رضی اللہ عنہ، حضرت حافظ روشن علی رضی اللہ عنہ، حضرت چودھری سر ظفراللہ خان رضی الله عنہ، حضرت مولوی عبد الرحیم درد رضی اللہ عنہ اور 18خدام بھی آئے تھے۔ اپنے دورے کا مقصد بیان کرتے ہوئے آپ رضی اللہ عنہ نے ایک خبر رساں ایجنسی کے نمائندے سے فرمایا:۔ ‘‘میں اس غرض سے یورپ میں سفر کر رہا ہوں کہ یورپ کی مذہبی حالت کو اپنی آنکھ سے دیکھ کر صحیح اندازہ کروں جس سے مجھ کو ان ممالک میں اشاعت اسلام کے لئے ایک مستقل سکیم تیار کرنے میں مدد ملے  اور میرا یہ مقصد ہے کہ چونکہ میں دنیا میں صلح کا جھنڈا بلند کرنا چاہتا ہوں میں دیکھوں کہ مشرق اور مغرب کو کون سے امور ملا سکتے ہیں ’’

( الفضل 29نومبر 1924ء)

تبلیغی سرگرمیوں کے علاوہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے پیرس میں ایک زیر تعمیر مسجد کا دورہ بھی کیا جس میں آپ رضی الله عنہ نے نماز پڑھائی اور مسجد کے محراب میں کھڑے ہو کر اپنی جماعت کے ساتھ ایک لمبی دعا کی۔ بلکہ آپ رضی الله عنہ سب سے پہلے شخص تھے جنہوں نے یہاں دعاکی اور فرمایا۔
‘‘میں نے تو یہی دعا کی ہے کہ یا اللہ یہ مسجد ہم کو ملے اور ہم اس کو تیرے دین کی اشاعت کا ذریعہ بنانے کی توفیق پائیں۔’’

(الفضل 18دسمبر1924ء)

امید کا جوبیج حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے پیرس میں بویا تھا اب وہ محض اللہ تعالی کے فضل سے فرانس میں پھیل رہا ہے۔ الحمد لله على ذالک۔ اسکے بعد عزیزه خولہ احد اور عزیزه بشریٰ لطیف پیرس کے کیٹا کومبس (The Catacombs of Paris)یعنی پیرس میں ڈھانچوں کے تہہ خانہ کے بارہ میں پریزنٹیشن دی:
کیٹا کومب ‘‘یونانی لفظ ‘‘کاتا’’سے آیا ہے جس کا مطلب ہے ‘‘نے’’ اور لاطینی ‘‘کو مبالے’’سے ہے جس کا مطلب ہے ‘‘کھوکھلی جگہ’’ کیٹا کومب زیر زمین ایسی کھوکھلی جگہ کو کہتے ہیں جو ہڈیوں کے ڈھانچوں کو رکھنے کے طور پر استعمال کی جاتی تھی۔
کیٹا کومب کا آغاز دوسری صدی میں ہوا جو کہ روم میں واقع ہے، جس میں اذیت دیئے گئے عیسائی چھپ کے عبادت کرتے تھے اور اپنے مرنے والوں کو یہاں ہی دفنایا کرتے تھے۔ ان عیسائیوں کا ذکر سورة الكہف کی آیت نمبر 10 میں ’’غاروں والے ‘‘کے نام سے ہوا ہے۔ چنانچہ الله تعالی فرماتا ہے:
أَمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحَابَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ كَانُواْ مِنْ آيَاتِنَا عَجَباً
کیا تو گمان کرتا ہے کہ غاروں والے اور تحریروں والے ہمارے نشانات میں سے ایک عجیب نشان تھے؟
البتہ پیر س کے اس تہہ خانے کا مذاہب کی تاریخ سے کوئی واسطہ نہیں ہے، یہ نام روم کے کیٹاکومب کے حوالے سے 1786ء میں منسوب کیا گیا تھا۔ در اصل 45 ملین سال پہلے پیر س اور اس کے اردگرد پانی ہی پانی تھا جس کی وجہ سے لائم سٹون (limestone)کے ذخیرے بن گئے۔ اور جب سمندر کا پانی ہٹ گیا تو ان غاروں میں لوگوں نے رہنا شروع کر دیا۔ انسان پھر ان غاروں سے نکلا اور اس نے یہاں شہر آباد کرنا شروع کیا۔
عمارت سازی کے دور میں پیرس کے لوگوں نے ان غاروں سے لائم سٹون نکالا اور یہ پتھر عمارت سازی اور قلعہ سازی میں کام آنے لگا، پیرس کا گرجہ گھر اور مشہور میوزیم لوور (Louvre)اس کی مثال ہیں۔ آہستہ آہستہ پیرس ایک شہر بن گیا اور لوگوں نے اس میں رہنا شروع کر دیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ مرنے والوں کی تعداد بڑھتی گئی اور قبرستانوں میں جگہ کم پڑنے لگی۔ 18ویں صدی کے آخر میں فرانس میں بھی بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا جس سے پیرس میں موجود یہ قبرستان پانی سے بھرنے لگے۔ اور مردوں کی ہڈیاں شہر میں تیرنے لگیں جو وباؤں کے پھوٹنےپرمنتج ہوئیں۔ چنانچہ حکومت وقت نے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے یہ تمام ہڈیاں جمع کر کے ان تہہ خانوں میں دفن کرنے کا حکم دے دیا۔ یوں 1786ء میں قبروں کا تہہ خانہ بنانے کا سلسلہ شروع ہو ایعنی پیرس کے ہر قبرستان سے ڈھانچے نکال کر اس تہہ خانے میں منتقل کر دیئے گئے۔
بیسویں صدی کے شروع میں اس تہہ خانے کو سیاحوں کےلئے کھول دیا گیا مقامی گائیڈ لوگوں کو اس تہہ خانے میں لے کر جاتے ہیں اور انہیں ہڈیوں کا ڈھیر دکھاتے ہیں۔ یہ تہہ خانہ 200 کلومیٹر طویل ہے اس کا صرف 2 کلو میٹر لمباحصہ سیاحوں کےلئے کھولا گیا ہے۔ آپ 131 سیڑھیاں اتر کر تہہ خانے میں داخل ہوتے ہیں۔ اور پھر اس جگہ پہنچتے ہیں جہاں ہر طرف ہڈیوں اور کھوپڑیوں کے ڈھیر ترتیب سے پڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس کی دیواریں ہڈیوں سے بنی ہوئی ہیں۔ اور اس کا درجہ حرارت 14ڈگری رہتا ہے۔ تقریباً 6ملین پیرس کے شہریوں کے ڈھانچے اس میں موجود ہیں۔ اس سے باہر نکلنے کے لئے 112 سیڑھیاں چڑھی جاتی ہیں۔اس تہہ خانے کے اندر زندگی کی سب سے بڑی حقیقت پر فرنچ میں ایک شعر لکھا ہوا ہے، جس کاترجمہ کچھ یوں ہے کہ:
سب پیدا ہوتے ہیں ، رہتے ہیں اور گزر جاتے ہیں ،
اپنی قسمت جانے بغیر،
جیسے سمندر کی لہروں کو پانی بہا لے جاتا ہے،
پتوں کو ہوائیں اڑا لے جاتی ہیں،
پھر ایک رات انسان کی زندگی ختم ہو جاتی ہے!
اس کے بعد ‘‘یہ وقف نو کا قافلہ’’ کے عنوان سے اردو زبان میں ایک ترانہ پیش کیا۔اس ترانہ کے بعد فرنچ زبان میں بچیوں نے ‘‘خلافت’’ کے عنوان پر ایک ترانہ پیش کیا۔

واقفات نو کے سوالات کے جوابات

اس کے بعد حضور انور اید ہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے واقفات نو سوالات کرنے کی اجازت عطا فرمائی۔
اس کے بعد ایک واقفہ نو نے سوال کیا کہ mix culture میں شادی کرنے کے حوالہ سے حضور انور کی کیا رائے ہے؟
اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز نے فرمایا: احمدیوں کی شادیاں تواحمدیوں میں ہونی چاہئیں ، باقی رہ گیا یہ سوال کہ دوسری قومیں ہیں ، یورپین ہیں، افریقن ہیں، امریکن ہیں، ایشین ہیں، فارایسٹرن ہیں، پاکستانی ہیں ، یہ آپس میں کر سکتے ہیں یا نہیں؟ اگر اچھا رشتہ ملتا ہے، احمد ی ہو اور اچھا رشتہ ہو تو کرنی چاہئے، بڑی اچھی بات ہے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ جب عرب مسلمان ہندوستان آئے تھے اگر وہ اس زمانہ کے لوکل لوگوں کے ساتھ وہاں mixہو کر شادیاں کرتے ، تو اس وقت جتنے مسلمان ہیں وہ اب زیادہ ہوتے بلکہ بہت بڑا علاقہ جو ہندوؤں کا ہے مسلمانوں کا ہوتا۔ لیکن اب چونکہ لوگ دنیا داری میں پڑے ہوئے ہیں دین کا پتہ ہی نہیں ہوتا۔ اس لئے culture بے شک مختلف ہوں، اگر دین ایک ہے، مسلمان احمدی ہیں تو اچھا رشتہ ملتا ہے تو دعا کرکے کرنا چاہئے۔ کوئی حرج نہیں ہے ۔ پس اچھا رشتہ ہو نا چاہئے ، احمدی مسلمان ہو توٹھیک ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسار پر اس واقفہ نو نے عرض کیا کہ وہ Mathematics میں ماسٹرز کر رہی ہے۔
ایک بچی نے سوال کیا کہ کیا حضور کچن میں آپا جان کی مدد کرتے ہیں؟ اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اگر ان کو مدد کی ضرورت پڑ جائے تو کر دیتا ہوں۔ میرے خیال میں ان کو کبھی ضرورت پڑتی ہی نہیں سوائے اس کے کہ بیمار ہوں۔ یہی ہے کہ پلیٹ اٹھادی، چمچہ اٹھا دیا ۔ اور کیا کام ہوتا ہے۔ ہاں جب ہم باہر غانا میں رہتے تھے تو ایک دوسرے کی مدد کیا کرتے تھے۔ اس وقت تو نہ گیس ہوتی تھی نہ پانی ہو تا تھا ۔ پانی بھی لا کر دیتا تھا، چولہوں میں kerosene بھی میں بھرتا تھا، لیمپ بھی جلاتا تھا۔ سارا کچھ کرتا تھا۔
ایک وقف نوبچی نے فرنچ زبان میں سوال کیا کہ حضور کوئی ایسا خواب جو بہت دلچسپ ہو اور حضور کو یادرہاہو ہمیں بتا سکتے ہیں؟
اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا: بہت پرانا خواب ہے۔ ایک دفعہ جب میں امتحان د ے رہا تھا تو میں نے دیکھا تھا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھے خواب میں دکھایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام ہےيَنْصُرُکَ رِجَالٌ نُوْحِیْ اِلَيْهِمْ مِنَ السَّمَآءِ وہ مجھے بھی اللہ تعالیٰ نے بتایا اور اس حساب سے اس کے بعد سالوں سے لےکر اب تک اللہ تعالی مدد کرتا رہتا ہے۔
ایک واقفہ نوبچی نے سوال کیا کہ جب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سکول میں پڑھتے تھے تو کوئی ایسا مضمون تھاجو آپ کو مشکل لگتا تھا؟
اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: مجھے تو ساری پڑھائی مشکل لگتی تھی، اس لئے میں کوئی ایسا اچھاسٹوڈنٹ نہیں تھا۔ لیکن آخر میں الله تعالیٰ نے اپنے فضل سے کچھ اچھا کر دیا۔ مجھے نہیں پتہ کہ کس طرح MSc ہوگئی۔ آج کل تم لوگوں کو بہر حال پڑھناچاہئے۔
ایک واقفہ نونے سوال کیا کہ حضور انور بچپن میں زیادہ اپنی امی کے قریب تھے یا اپنے ابو کے زیادہ قریب تھے؟
اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: دونوں کے ہی قریب تھا۔ ہمارے زمانے میں جو پرانے بزرگ تھے وہ ایک barierر کھا کرتے تھے لیکن کھانے وغیرہ کا خیال دونوں ہی کیا کرتے تھے۔ جب بیمار ہوتا تھاتو ابا کہتے تھے چھٹی کرلو،سکول نہیں جانا۔ اس وقت ہمیں ابااچھے لگا کرتے تھے۔ کھانے کا خیال رکھنا اور دوسری چیزوں میں دونوں کاہی مجھ سے اچھا سلوک تھا۔ اس پر اس بچی نے عرض کیا کہ آپ کو زیادہ ڈر کس سے لگتا تھا؟
اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ ڈر تو کسی سے بھی نہیں لگتا تھا۔ ہاں یہ ضرور ہوتا تھا کہ کوئی غلط بات کر دیں گے تو ڈانٹ پڑے گی جو دونوں سے پڑ سکتی تھی۔

واقفین نو کی حضور انور کے ساتھ ملاقات

بعدازاں 6 بج کر 20 منٹ پر واقفین نو کی حضور انور اید ہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ کلاس شروع ہوئی ۔پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو عزیزم شایان اکرم نے کی اور اس کا اردو ترجمہ عزیزم فرید احمد اور فرنچ ترجمہ عزیزم حسنین احمد نے پیش کیا اس کے بعد عزیزم شرجیل احمد دانش نے حضرت اقدس مسیح موعود ؑ کے منظوم کلام!

ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکایا ہم نے
کوئی دین دینِ محمدؐ سا نہ پایا ہم نے

سے چند منتخب اشعار خوش الحانی سے پڑھ کر سنائے۔بعد ازاں عزیزم سمیر احمد نے آنحضرتﷺ کی ایک حدیث مبارکہ کا ارود اور فرنچ زبان میں ترجمہ پیش کیا۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرتﷺ سے پوچھا کہ کونسا عمل اللہ کے نزدیک سب سے افضل ہے؟
فرمایا: وقت مقررہ پر نمازکی ادائیگی۔پھر پوچھنے پر فرمایا اس کے بعد والدین سے حسن سلوک اور پھر جہاد فی سبیل اللہ۔
اس کے بعد عزیزم توصیف احمد نے رسالہ الوصیت سے حضرت مسیح موعودؑ کا ایک اقتباس پیش کیا اور عزیزم ادریس حدوی نے اس کا فرنچ ترجمہ پیش کیا۔
یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے اور جب سے کہ اُس نے انسان کو زمین میں پیدا کیا ہمیشہ اِس سنت کو وہ ظاہر کرتا رہا ہے کہ وہ اپنے نبیوں اور رسولوں کی مدد کرتا ہے اور اُن کو غلبہ دیتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغۡلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیۡ(المجادلہ:22)اور غلبہ سے مراد یہ ہے کہ جیسا کہ رسولوں اور نبیوں کا یہ منشاء ہوتا ہے کہ خدا کی حجت زمین پر پوری ہو جائے اور اُس کا مقابلہ کوئی نہ کر سکے اِسی طرح خدا تعالیٰ قوی نشانوں کے ساتھ اُن کی سچائی ظاہر کر دیتا ہے اور جس راستبازی کو وہ دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں اُس کی تخم ریزی اُنہیں کے ہاتھ سے کر دیتا ہے لیکن اُس کی پوری تکمیل اُن کے ہاتھ سے نہیں کرتا بلکہ ایسے وقت میں اُن کو وفات دے کر جو بظاہر ایک ناکامی کا خوف اپنے ساتھ رکھتا ہے مخالفوں کو ہنسی اور ٹھٹھے اور طعن اور تشنیع کا موقع دے دیتا ہے اور جب وہ ہنسی ٹھٹھا کر چکتے ہیں تو پھر ایک دوسرا ہاتھ اپنی قدرت کا دکھاتا ہے اور ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے جن کے ذریعہ سے وہ مقاصد جو کسی قدر ناتمام رہ گئے تھے اپنے کمال کو پہنچتے ہیں غرض دو قسم کی قدرت ظاہر کرتا ہے (1) اوّل خود نبیوں کے ہاتھ سے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھاتا ہے (2) دوسرے ایسے وقت میں جب نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پیدا ہو جاتا ہے اور دشمن زور میں آ جاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اب کام بگڑ گیا اور یقین کر لیتے ہیں کہ اب یہ جماعت نابود ہو جائے گی اور خود جماعت کے لوگ بھی تردّد میں پڑ جاتے ہیں اور اُن کی کمریں ٹوٹ جاتی ہیں اور کئی بدقسمت مرتد ہونے کی راہیں اختیار کر لیتے ہیں۔ تب خدا تعالیٰ دوسری مرتبہ اپنی زبردست قدرت ظاہر کرتا ہے اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے پس وہ جو اخیر تک صبر کرتا ہے خدا تعالیٰ کے اس معجزہ کو دیکھتا ہے جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے وقت میں ہوا جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موت ایک بے وقت موت سمجھی گئی اور بہت سے بادیہ نشین نادان مرتد ہوگئے اور صحابہؓ بھی مارے غم کے دیوانہ کی طرح ہوگئے۔ تب خدا تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓؓ کو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا اور اسلام کو نابود ہوتے ہوتے تھام لیا اور اُس وعدہ کو پورا کیا جو فرمایا تھا وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِى ارْتَضٰی لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناًیعنی خوف کے بعد پھر ہم ان کے پیر جما دیں گے۔

(رسالہ الوصیت، روحانی خزائن جلد20صفحہ304۔305)

اس کے بعد عزیزم فارس احمد ،طلال احمد ، ہاشم اشتیاق اور مغفور احمد نے حضرت مسیح موعودؑ کے قصیدہ سے پانچ اشعار پیش کئے۔

پریزنٹیشن

بعدازاں ڈاکٹر طلحہ رشید صاحب نے درج ذیل پریزنٹیشن دی:
ڈی این اے میں معمولی تبدیلی ایک غیر فعال پروٹین کی پیداوار کا باعث بن سکتی ہے۔ اس کے کچھ سنگین نتائج ہو سکتے ہیں، کیونکہ یہ پروٹین سیل کے اندر اپنا کردارادا نہیں کرے گی۔ 2008 ءمیں، بچوں کے ڈی این اے میں ایک ایسا تغیر دیکھا گیا جو پٹھوں کی بیماری جسے ر ابڈ ومائیو مسی Rhabdomyomysis کہا جاتا ہے کا باعث بن رہا تھا۔ یہ بیماری پٹھوں میں نقص کا باعث بنتی ہے۔ یہ ایک نقصان دہ صورت حال ہے کیوں کہ پٹھوں کی مذکورہ خرابی غیر فعال پروٹین کے خون میں شامل ہونے کا باعث بنتی ہے۔ خون میں ایسے عناصر کی موجودگی دل اور گردے کو متاثر کر سکتی ہے ۔ ہارٹ اٹیک یا گردوں کی ناکامی کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ اور جب پٹھوں کو پہنچنے والا یہ نقصان شدید ہو تو مریض کی موت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ مرض ر ابڈ ومائیو مسی Rhabdomyomysis مختلف وجوہات جیسے انفیکشن، منشیات کا استعمال، بخار، طویل روزے یا جینیاتی تغیرات کی وجہ سے پیدا ہو سکتا ہے۔ بنیادی طور پر یہ تمام چیزیں انسانی جسم میں موجود جین LPIN1 کو متاثر کرتی ہیں جس سے یہ مرض پیدا ہوتا ہے۔ پیرس کے ہسپتالوں میں کچھ ایسےبچے لائے گئے کہ ان کے جین LPIN1پر اس مرض کا حملہ بہت شدید تھا۔ یہ 6سال سے کم عمر بچوں پر اثرانداز ہو رہا تھا، اور ایک اہم مسل کی خرابی کا باعث بن رہا تھا جس کے نتیجے میں 33فیصد کیسز میں بچوں کی موت واقع ہوئی۔
میڈیکل ٹیم یہ سمجھنے سے قاصر تھی کہ یہ مرض کس طرح سے جین LPIN1 کو متاثر کر رہا ہے۔یہیں پر ایک خاص قسم کی چربی پیدا ہو کر خون کے خلیوں میں داخل ہورہی تھی جو مسل کو متاثر کرتی تھی۔لیپین 1 خلیوں میں چربی کی پیداوار میں شامل ہے جو خلیے کے ذریعہ توانائی میں تبدیل ہوتا ہے۔ اس طرح لپین ون کی غیر موجودگی میں ہم میں چربی جمع نہیں ہونا چاہئے لیکن جب ہم انسانی عضلات کے نمونوں کا تجزیہ کرتے ہیں تو ہم نے دیکھا کہ غیر فعال لپین 1 پر وٹین رکھنے والے بچوں کے پٹھوں میں بہت ساری چربی موجود ہے۔ یہاں ایک واضح تضاد تھا۔ اس کی تفتیش کے لئے ہم نے ایک چوہے پر تجربات کئے۔ ماؤس ماڈل میں ملتے جلتے تغیر اور بیماری پیدا کی۔ ہم ایک ایساماؤس ماڈل بنانے میں کامیاب ہو گئے جس میں پٹھوں کے مرض کی ویسی ہی خصوصیات موجود تھیں ، تجربات کے دوران ہم نے چوہوں کے پٹھوں میں حیران کن طور پر زیادہ چربی جمع ہوتے دیکھا۔ اسماڈل نے تحقیقات کو آگے بڑھانے میں ہماری بہت مدد کی۔
ہم نے 3سالوں کے دوران بہت سارے تجزیے کیے اور پتہ چلا کہ لیپین ون پروٹین کی عدم موجودگی سے خلیوں کا ایک عنصر متاثر ہوا تھا، سیل کے اس عنصر کو اینڈ و پلاسمک ریٹیکولم کہا جاتا ہے، اور یہ کیلشیئم بیلنس، پروٹین فولڈنگ جیسے بڑے حیاتیاتی عمل کے لئے بہت اہم ہے۔ ہم نے ظاہر کیا کہ لپین ون پروٹین کی عدم موجودگی میں یہ اینڈ و پلاسمک ریٹیکولم (ER)متاثر ہوتا ہے جو کہ ER میں ایک اہم تناؤ کا باعث بنتا ہے جسے ER-Stress کہتے ہیں۔ ER میں کچھ پروٹین ہوتے ہیں جن کوSREBP2اورc-SREBP1 کہا جاتا ہے۔ جب ER- تناؤ ہوتا ہے تو یہ خلیہ کے نیو کلئس کو متاثر کرتا ہے۔ نیو کلئس کے اندر یہ پر وٹین ڈی این اے سے منسلک ہو جاتے ہیں جس سے چربی کی پیداوار میں شامل جینز کی مقدار میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
ہمارا مفروضہ یہ تھا کہ فعال لیپین 1 پروٹین کی عدم موجودگی میں ایک اہم چیز ERتناؤ ہوتا ہے جو c /SREBP2 -SEREBP1پر وٹینز کو نیو کلئس میں چھوڑ دیتا ہے جو چر بی کی پیداوار میں شامل جینز کی سرگرمی کو بڑھانے کے لئے ڈی این اے کو متاثر کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے بیمار پٹھوں میں تناسب سے زیادہ چربی جمع ہوتی ہے۔ ہم نے بہت سارے تجربات کر کے اس نظریہ کاثبوت مہیا کیا اور تصدیق کی۔
آخر میں ہم نے چوہوں کا TUDCAنامی دوائی سے علاج کیاجو ERتناؤ کو دور کرنے کے لئے جانا جاتی ہے ، اور مریضوں کو جگر کی بیماری جیسے دیگر امراض کا سامنا کرنے کی صلاحیت مہیا کرتی ہے، تجربات سے ظاہر ہوا کہ یہ چوہوں میں بیماری کی بہت سی خصوصیات کو درست کررہی ہے، اور اس میں بہتری لانے میں مدد فراہم کر رہی ہے۔ اگلا مرحلہ کلینیکل ڈاکٹروں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے تا کہ اس بات کی تصدیق کی جا سکے کہ واقعی یہ دو ایل پی این ون جین میں تغیر کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماری را بڈ مائیومسی Rhabdomyomysis کے مریض کو دی جاسکتی ہے۔

ایک اور پریزنٹیشن

اس کے بعد عزیزم اسامہ ابدال ربانی نے فرانس کے مشہور پہاڑی سلسلوں کے تعارف پہ مشتمل ایک پریزنٹیشن دی۔
خدا تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے: ‘‘اور زمین کو ہم نے بچھا دیا اور اس میں ہم نے مضبوطی سے گڑے ہوئے (پہاڑ) ڈال دیئے اور اس میں ہر قسم کی متناسب چیز اگائی۔’’
اس سلسلہ میں خاکسار نے فرانس کے مشہور پہاڑی سلسلوں کے متعلق چند معلومات اکٹھی کی ہیں جو پیارےآقا کی خدمت میں پیش ہیں: سب سے پہلے میں الپس (Alps) کے پہاڑی سلسلہ کے بارہ میں چند معلومات آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ الپس سب سے اونچی اور وسیع پیمانے پر پہاڑی سلسے کا نظام ہے جو یورپ میں واقع ہے اور آیلپائن کے 8ممالک (مغرب سے مشرق) کے پار لگ بھگ 1200 کلو میٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ ان ممالک میں سوئٹزر لینڈ، اٹلی، آسٹریا، لیچسٹین، جرمنی، فرانس، موناکو، سلووینیا، شامل ہیں۔
موں بلاں (Mont Blanc )، اس پہاڑی سلسلہ میں واقع جنوبی یورپ کا سب سے اونچا پہاڑ ہے جس کی اونچائی 4808 میٹر ہے۔ موں بلاں فرانس کے شہر شامونی میں واقع ہے۔ موں بلاں کے لفظی معنی سفید پہاڑ کے ہیں کیونکہ یہ سارا سال برف میں ڈھکا رہتا ہے اس پہاڑ کو ہر سال تقریباً 50 لاکھ لوگ دیکھنے کے لئے آتے ہیں۔ موں بلاں کے اطراف میں سکی(ski) کے راستے بھی ہیں جہاں لوگ خاص طور پر موسم گرمامیں سکی کرنے کےلئے آتے ہیں۔ موں بلاں کے بیچ میں ایک ٹنل بھی ہے جس کا افتتاح19 جولائی1925ء میں ہوا تھا۔
یہ ٹنل فرانس کے شہر شامونی (Chamonix) اور اٹلی کے شہر کو مایور (Courmayeur) کو آپس میں ملتا ہے۔ اس ٹنل کو تیونل دے موں بلاں (Tunnel de Mont Blanc) کہا جاتا ہے۔
آپس میں واقع ایک اور مشہور پہاڑ ہے جس کا نام بار دے ایکریں (Barres des Ecrins) ہے۔ اس پہاڑ کی اونچائی تقریباً 4100 میٹر ہے اور یہ پہاڑ پلوو (Pelvoux) کے شہر میں واقع ہے۔ ان پہاڑوں میں چند مشہور دریاؤں کے نام پر (Pau) اور رون (Rhone)ہیں۔
اس کے بعد پی رے نے (Pyrénées) جنوب مغربی یورپ کا ایک پہاڑی سلسلہ ہے جو فرانس اور اسپین کے در میان قدرتی سرحد ہے۔ اس پہاڑی سلسلے کی بلند ترین چوٹی اینٹوں کی ہے جس کی بلندی 3404 میٹر ہے۔ یہاں ایک قابل دید جھیل بھی پائی جاتی ہے جس کا نام لک دار توست (lac d ‘ Artouste ) ہے۔ یہ جھیل کافی مشہور ہے۔
آخر میں ماسیف سینٹرل کے پہاڑی سلسلہ کے متعلق چند معلومات پیش ہیں۔ ماسيف جنوبی فرانس کے وسط میں ایک پہاڑی علاقہ ہے جو نوک دار اور چوٹیوں اور متوازن اونچائیوں پر مشتمل ہے۔ یہ اتنا بڑا ہے کہ فرانس کے کل رقبہ کا 15فیصد بنتا ہے۔ اس میں سب سے اونچا پہاڑ پوئی دے سانسی ہے۔ یہ ایک قدیم اسٹرو و لکانو(astro volcano) کا حصہ ہے جو تقریباً 220000 سال سے غیر فعال ہے۔ اس پہاڑ کی اونچائی 1886میٹر ہے۔

واقفین نو کے سوالات کے جوابات

اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے واقفین نو بچوں کو سوالات کرنے کی اجازت عطا فرمائی۔
ایک وقف نو بچے نے سوال کیا کہ حضور کو اگر خلیفہ بننے کا موقع نہ ملتا تو حضور کیا بنتے؟ اس پر حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: میں پہلے بھی دین کی خدمت کر رہا تھا، ویسے بھی جماعت کی خدمت کرتا رہتا۔ باقی میں کسی موقع کی تلاش میں نہیں تھااور نہ کوئی ہوسکتا ہے۔
ایک واقف نوبچے نے سوال کیا کہ حضور کو فرانس کاجلسہ کیسالگا؟
اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: یہ تو جلسہ نہیں، چھوٹی سی جلسی تھی۔ وہاں ابھی یو کے میں خدام الاحمدیہ کا اجتماع ہوا ہے، ان کی حاضری تقریباً 6000 تھی اور تمہارے پورے جلسہ کی حاضری / 2700 2800تھی۔
ایک وقف نو بچے نے سوال کیا کہ کیا مسلمان ماؤں کے قدموں میں جنت ہوتی ہے تو کیا غیر مسلمان ماؤں کے قدموں میں جنت نہیں ہوتی؟
اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا: ہر ماں جو اپنے بچے کی اچھی تربیت کرتی ہے، اس کو نیک بناتی ہے تو ظاہر ہے وہ نیکیاں کرے گا اور جنت میں جائے گا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ماں کی خدمت کرنی چا ہئے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جو مائیں دین دار ہیں وہ اپنے بچوں کو نیک بناتی ہیں، دین بھی سکھاتی ہیں، اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا سکھاتی ہیں اور ان کو اچھے اخلاق بھی سکھاتی ہیں ٹھیک ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو زیادہ پسند کر تا ہے۔ باقی تمہیں یہ کہا گیا ہے کہ اپنی ماں کی خدمت کرو،کہنا مانو، اور اس میں ماؤں سے کہا گیا ہے کہ اپنے بچوں کی نیک تربیت کر و۔ باقی اللہ تعالیٰ نے جنت میں لے کر جانا ہے۔ الله تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ کس کو لےکر جاتا ہے۔ لیکن آنحضرتﷺنے فرمایا کہ جو مائیں اپنے بچوں کی نیک تربیت کریں کہ ان کو اللہ تعالیٰ کا بھی پتہ لگ جائے اور اس کی عبادت کرنے والے ہوں اور مخلوق کی خدمت کرنے والے ہوں اور ان کا حق ادا کرنے والے بھی ہوں ان کے بارے میں یہ ہے کہ وہ جنت میں جانے والے ہوں گے۔ لیکن انسان مسلمان ہو یا غیر مسلم اچھا انسان وہی ہے جو اپنے ماں باپ کی عزت کرتا ہے، احترام کرتا ہے، جو صحیح باتیں مانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں بھی یہی کہا ہے ان کی باتیں مانو اور ان کی خدمت کرو لیکن اگر وہ کہیں کہ اللہ کے مقابلہ میں شریک بناؤ تو پھر ان کی بات نہیں ماننی۔
ایک وقف نو نے سوال کیا کہ آپ نے کتنے ممالک وزٹ کے ہیں؟
اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: کافی ملک وزٹ کئے ہیں۔ رپورٹس پڑھ کر گنتی کر لینا۔ میں نے 35یا36 ملک وزٹ کئے ہوں گے۔
ایک وقف نونے سوال کیا کہ حضور ابھی میں 15سال کا ہوں اگلے سال میں جامعہ جاسکتا ہوں یا نہیں؟
حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: جامعہ جانے سے عمر کا سوال نہیں ہے۔ جامعہ جانے کے لئے سیکنڈری سکول پڑھنا ضروری ہو تا ہے۔ اگر تم نےسیکنڈری سکول پاس کر لیا ہے اور جامعہ کے interview پاس کر لیتے ہو اور وہ کہتےہیں ٹھیک ہے، ہم تمہیں لے لیں گے تمہاری تعلیم کے مطابق بھی اور تمہارے مذہبی علم کے مطابق بھی۔ ان کا ٹیسٹ دے کر پھر چلے جاؤ گے۔ 15، 16 ، 17 سال کا سوال نہیں ہے، 15 ،16سال سے لےکر 18سال کی عمر تک جامعہ جاتے ہیں۔ لیکن سیکنڈری سکول پاس کرنا پڑتا ہے۔
ایک وقف نو بچے نے سوال کیا کہ آپ کو گوشت کو نساپسند ہے؟
اس پر حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: مجھے گوشت کوئی زیادہ پسند نہیں ہے۔
اسی وقف نوبچے نے عرض کیا کہ حضور انور کو fish پسند ہے؟
اس پر حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: fish پسند ہے۔ باقی جانوروں کے گوشت کھا کر دانت ہی خراب ہو جاتے ہیں۔ جو زیادہ گوشت کھاتے ہیں ان کے دانت خراب ہو جاتے ہیں اس لئے balance خوراک کھانی چاہئے۔ اس لئے سبزی بھی کھانی چاہئے ، دالیں بھی کھانی چاہئیں، گوشت بھی کھانا چاہئے، گوشت کھانے کےلئے زیادہ نخرے نہ کیا کرو۔
ایک واقف نوبچے نےسوال کیا کہ آپ کے Bodyguard کیسے بنتے ہیں؟
اس پر حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا ان سے پوچھیں۔ میرا خیال ہے جو کچھ نہیں کرتے وہ Bodyguard بن جاتے ہیں۔ تم پڑھائی کرو اور قابل بنو۔ تم ڈاکٹر بنویاٹیچر بنو۔
واقف نوبچے نے عرض کیا کہ میں نے مربی صاحب بننا ہے۔
اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: مربی بننا، صاحب نہ بننا۔ اگر تم صاحب بن گئے تو پھر کام سے گئے۔ مربی صرف مربی رہے تو بڑا اچھا رہتا ہے۔ جہاں وہ صاحب بن گیا تو سمجھو کہ وہ ہمارے کام سے گیا۔
ایک واقف نوبچے نے عرض کیا کہ حضور انور کو سپورٹس میں کیا پسند ہے؟
اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اب تو میں کھیلتا نہیں لیکن بچپن میں میں کرکٹ بھی کھیلتارہا ہوں، badminton بھی کھیلتارہاہوں۔
واقفین نو بچوں کی حضور انور اید ہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ یہ کلاس سوا8 بجے تک جاری رہی۔ بعدازاں حضور انور اید ہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے دفتر تشریف لے آئے۔
SAINT PRIXکے میئر کی حضور انور سے ملاقات
علاقہSAINT PRIX (جہاں ہمارا مرکزی مشن ہاؤس دارالسلام اور مسجد مبارک ہے) کے میئر JEAN-PIERRE ENJALBERT حضور انور اید ہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ملاقات کے لئے آئے ہوئے تھے۔ ایک وقت میں یہ میئر جماعت کا سخت مخالف تھا ۔ اس نے جماعت کا موجودہ مشن ہاؤس بند کردیا تھا اور یہ الزام لگا کر سیل کردیا تھا کہ اس مشن ہاؤس سے فساد پیدا ہوتا ہے۔
اس واقعہ کے کچھ ہی عرصہ بعد جب دسمبر 2004ء حضور انور اید ہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرانس دورہ پر تشریف لے گئے تو فرانس کے جلسہ سالانہ میں یہ میئر شامل ہوا اور حضور انور کی موجودگی میں اس نے اپنے ایڈریس میں کہا۔
‘‘آج اسلام کا جو چہرہ دوسرے افراد پیش کر رہے ہیں وہ ٹھیک نہیں ہے۔ اسلام کا اصل چہرہ تو یہ جماعت احمدیہ ہے جو اس کا پر امن اور خوبصورت رخ دکھا رہی ہے۔’’
یہ میئر اس وقت صرف 5منٹ کے لئے آیا تھا۔ اپنے مختصر خطاب کے بعد جب حضور انور کا پر معارف خطاب سننے بیٹھا تو پھر اٹھ نہ سکا اور پورا خطاب سنا۔ بعد میں بھی آدھا گھنٹہ وہاں سپیشل مارکی میں بیٹھا رہا اور انتہائی متأثر ہو کر اور یہ کہہ کر واپس گیا کہ جو بھی آپ کا کام ہو مجھے بتائیں میں حاضر ہوں۔
پھر یہ میئر 10 اکتوبر 2008ء میں جب مسجد مبارک فرانس کا افتتاح حضور انور نے فرمایا تھا۔ حاضر ہوا تھا اور آج پھر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ملاقات کے لئے آیا تھا۔ کہنے لگا کر میں حضور کو دیکھ کر بہت خوش ہوں اور حضور سے ملنے آیا ہوں۔
حضور انور نے دریافت فرمایا آپ کا کام کیساجاری ہے۔اس پر میئر نے عرض کیا کہ ہمارا جو علاقہ ہے ایک قصبہ کی طرح ہے۔ سب کچھ اچھا ہے۔
حضور انور کے دریافت فرمانے پر میئر نے بتایا کہ انہیں اس پوسٹ پر 25سال ہو گئے ہیں۔ لیکن اس ٹرم کے بعد اب میں یہ کام ختم کر رہا ہوں۔ اس پر حضور انور نے فرمایا کیا تھک گئے ہیں یا آئندہ پارلیمنٹ میں جانا چاہتے ہیں۔ موصوف نے عرض کیا کہ کچھ نہ کچھ کام تو جاری رکھوں گا لیکن اب میں سیاست میں نہیں رہنا چاہتا۔
میئر نے عرض کیا کہ اب میں اپنے علاقے میں زیادہ توجہ Greenery پر دے رہا ہوں۔ ہم چاہتے ہیں کہ بغیر مصنوعی کھاد کے ہم اشیاء مہیا کریں۔ 2008ءسے میں نے کھاد کی چیزیں سکولوں میں رکھنے سے منع کیا ہوا ہے۔ بغیر مصنوعی کھاد کے استعمال کے اشیاء ہم سکولوں میں مہیا کر رہے ہیں۔ اس پر حضور انور نے فرمایا دوسروں سے بھی کہیں۔
میئر نے عرض کیا کہ جماعت احمدیہ ہر سال ،سال کے شروع میں مختلف علاقوں میں جاکر صفائی کرتی ہے۔ جماعت اس علاقے میں ہماری بہت مدد کرتی ہے ۔ بغیر پیسوں کے کام کرتی ہے، باغوں کی صفائی بھی کرتی ہے۔
امیر صاحب فرانس نے عرض کیا کہ میئر ہر جگہ جماعت کی مدد کرتے ہیں جماعت کے حق میں بات کرتے ہیں۔
میئر نے عرض کیا مجھے اس قدر خوشی ہے کہ جماعت احمدیہ میرے علاقے میں ہے۔ میں کسی اور پر اعتماد نہیں کرتا صرف جماعت احمدیہ پر اعتماد کرتا ہوں۔ مجھے پتہ ہے کہ کوئی اور مجھے کچھ بھی نہ دے لیکن میں جماعت سے جو مدد مانگوں گا جماعت مجھے دے دے گی۔میئر نے کہا کہ میرا سارا شہر جماعت احمدیہ سے پیار کرتا ہے صرف میں ہی پیار نہیں کرتا۔
پلاسٹک کے لفافوں کو بین (BAN) کرنے کے حوالہ سے بات ہوئی تو میئر نے کہا کہ جہاں جہاں تک میرا دائرہ کار ہے میں نے وہاں پابندی لگا دی ہے۔ باقی ابھی اس پر بہت کام ہونے والا ہے،دوکانوں وغیرہ میں استعمال ہوتا ہے۔
حضور انور نے فرمایا آدھی دنیا میں پولوشن اس پلاسٹک کی وجہ سے ہوئی ہے۔ گند سمندر میں جا کر پھینک رہے ہیں۔ انڈسٹریز کا جو Wasteہے۔ جوآلودگی ہے وہ سب پانی سمندر میں جاتا ہے اور پھر اس سے سمندر کی زندگی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
میئر نے عرض کیا مجھے اس بات کا علم ہے کہ آپ کی جماعت درخت لگانے میں ہر وقت لگی رہتی ہے۔
حضور انور نے فرمایا:۔ جنگلوں سے جو درخت کاٹے گئے ہیں کچھ انہوں نے دنیا کے ماحول کو خراب کیا ہے اور کچھ اب پلاسٹک تباہ کردے گا۔
اس پر میئر نے کہا یہ 100 فیصد صحیح ہے۔ میئر نے عرض کیا کہ حضور ساری دنیا میں جاتے ہیں۔ بہت بڑی شخصیت ہیں حضور ہمارا ساتھ دیں۔ اس پر حضور نے فرمایا ہم ساتھ دیں گے۔ آپ کے علاقے کو ڈویلپ کرنے کے لئے مدد کریں گے۔
اس پر میئر نے کہاجماعت پہلے ہی بہت مدد کرتی ہے میں صرف پیار و محبت کے لئے یہاں آیا ہوں۔
اس پر حضور انور نے فرمایا ہم جہاں بھی رہتے ہیں وہاں کے حالات کے لحاظ سے مدد کرتے ہیں۔ جماعت ہر جگہ یہ کام کرتی ہے اس پر میئر نے عرض کیا میں تو صرف حضور کو دیکھنے کےلئے آیا ہوں۔
حضور انور نے فرمایا آپ سے مل کر بہت خوشی ہے۔آپ 11سال بعد ملے ہیں تو یاد رکھا ہے۔آپ کا شکریہ۔
میئر نے عرض کیا کہ حضور انور جو دنیا میں امن کے قیام کےلئے کوشاں ہیں ۔آپ تیزی سے اس کام کو آگے لے کر جائیں۔ میں حضور انور کے اندر جو چیز دیکھتا ہوں وہ مجھے دنیا میں اور کہیں نظر نہیں آتی اسلام پر جو داغ لگائے جا رہے ہیں ان کو مٹانے کی کوشش کرنی چاہئے۔
اس پر حضور انور نے فرمایا: ہم کررہے ہیں ۔چھوٹے لیول پر کام ہوتا ہے پھر پھیلتا ہے ۔ احمدی تو ہر جگہ کر رہے ہیں۔ امن کے قیام کے لئے ہم مختلف جگہ پر وگرام کر رہے ہیں۔ اسلام کا صحیح چہرہ پیش کررہے ہیں ۔
میئر نے کہا ہمارے اس ٹاؤن کی آبادی 7000 افراد پر مشتمل ہے ریجن پیرس کے حساب سے یہ ایک چھوٹا ساعلاقہ ہے اور بعض لوگ یہاں سے اپنے کام کاج کے سلسلہ میں پیرس منتقل ہورہے ہیں۔
اس پر حضور انور نے فرمایا۔ جولوگ یہاں سے جا رہے ہیں۔ اس کے لئے اگر یہاں فلیٹ ٹائپ سستے گھر بنائے جائیں تو جو لوگ شہروں سے باہر رہنا چاہتے ہیں وہ یہاں آکر سستے گھروں میں رہیں گے اور آبادی بھی Maintain رہے گی۔
اس پر میئر نے عرض کیا کہ میری کوشش ہے کہ کوئی غریب بھی ہے تو ہم اس کو گھر دیں۔ سستی رہائش دیں، چھوٹے گھر بنائیں۔
حضور انور نے فرمایا اب زمانہ آ رہا ہے کہ لوگ چھوٹے گھر چاہتے ہیں تاکہ Main Tainکرسکیں۔ اب بڑے گھروں کو سنبھالنا مشکل ہے۔ لوگ یہاں بڑے گھر فروخت کر رہے ہوں گے۔
اس پر میئر نے عرض کیا کہ حضور انور جو فرما رہے ہیں بالکل صحیح ہے۔ یہی میری سوچ ہےمیں اس پر کام کر رہا ہوں۔
اس پر حضور انور نے فرمایا ۔اللہ تعالیٰ کامیاب کرے۔
میئر کی حضور انور اید ہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے یہ ملاقات 8:45 منٹ تک جاری رہے۔آخر پر میئر صاحب نے حضور انور کے ساتھ تصویر بنوانے کا شرف پایا۔
بعد ازاں حضور انور اید ہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مسجد مبارک تشریف لے آئے اور نماز مغرب و عشاء جمع کر کے پڑھائی۔نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور انور اید ہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے درج ذیل تین نکاحوں کا اعلان فرمایا۔

اعلانات نکاح

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسنونہ خطبہ نکاح کے بعد فرمایا۔چند نکاحوں کا اعلان کروں گا۔
عزیزہ زہر کنول بنت مکرم احمد اسلم(بیلجیئم) کا نکاح عزیزم قاسم عباس باجوہ ابن مکرم ندیم عباس باجوہ (بیلجیئم)کے ساتھ طے پایا۔
عزیزہ دانیہ نصیر بنت مکرم نصیر احمد (جرمنی) کا نکاح عزیزم احتشام احمد ابن مکرم ذوالفقار علی(فرانس) کے ساتھ طے پایا۔
عزیزہ شہزین خالد بنت مکرم خالد مسعود جرمنی کا نکاح عزیزم انیل احمد انس ابن مکرم انس احمد(فرانس) کے ساتھ طے پایا ۔
نکاحوں کے اعلان کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔
’’دعا کر لیں اللہ تعالیٰ یہ رشتے ہر لحاظ سے بابرکت فرمائے۔بعد ازاں حضور انور نے دعا کروائی ۔’’
اس کے بعد حضور انور اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

image_printپرنٹ کریں