skip to Main Content
عبدالماجدطاہر۔ایڈیشنل وکیل التبشیر لندن:سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کادورہ فرانس:قسط نمبر8

جلسہ سالانہ فرانس کے آخری روز تقسیم اسناد، ولولہ انگیز خطاب۔ تقریب آمین اور نومبائعین کی ملاقاتیں

6؍اکتوبربروزاتوار2019ء

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے صبح6بجکر45منٹ پر تشریف لا کر نماز فجر پڑھائی۔نماز کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔
صبح حضور انور کی دفتری امور کی انجام دہی میں مصروفیت رہی۔آج جماعت احمدیہ فرانس کےجلسہ سالانہ کا تیسرا اور آخری روز تھا۔پروگرام کے مطابق سوا تین بجےحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزمردانہ جلسہ گاہ میں تشریف لائےاور بیعت کی تقریب ہوئی۔بیعت کی یہ تقریب MTAانٹرنیشنل کے ذریعہ دنیا بھر کے ممالک میں براہ راست نشر ہوئی اور دنیا کے مختلف ممالک کی جماعتوں نے اس مواصلاتی رابطہ کے ذریعہ اپنے پیارے آقا کی بیعت کی سعادت پائی۔

11بیعتیں

آج حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کےدست مبارک پرالجزائر،مراکش ،بورکینا فاسو ،ماریشس ،تیونس ،فرانس ،کیمرون، جزائر قموروز ،ترکی اور کینڈا سے تعلق رکھنے والے 11؍افراد نے بیعت کی سعادت پائی۔آخر پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دعا کروائی۔
بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نماز ظہر و عصر جمع کر کے پڑھائی ۔نمازوں کی ادائیگی کے بعد جونہی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جلسہ کی کاروائی کے لئے تشریف لائے تو سارا جلسہ گاہ فلک شگاف نعروں سے گونج اُٹھا احباب نے بڑے جوش کے ساتھ نعرے بلند کئے۔
3بجکر40منٹ پر اختتامی تقریب کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہواجو مکرم حافظ سلیم طورے نے کی اور اس کا اردو ترجمہ مکرم منصور احمد مبشر مبلغ سلسلہ سٹراس برگ فرانس نے پیش کیا ۔بعد ازاں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا عربی قصیدہ بِکَ اَلحَوْلُ یَا قَیُّوْمُ یَا مَنَبَعَ الْھُدٰی کے منتخب اشعار مکرم حمزہ بلا ربّی نے پیش کئے۔ اس کے بعد اسامہ احمد مبلغ فرانس نے اس قصیدہ کا اردو ترجمہ پیش کیا۔بعدازاں مکرم مطلوب احمد نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا منظوم کلام
وہ دیکھتا ہے غیروں سے کیوں دل لگاتے ہو
جو کچھ بتوں میں پاتے ہو اس میں وہ کیا نہیں
پیش کیا ۔

تعلیمی اسناد

بعد ازاں پروگرام کے مطابق حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے تعلیمی میدان میں نمایا ں کامیابی حاصل کرنے والے 36طلباء کو اسناد عطا فرمائیں۔تعلیمی اسناد حاصل کرنے والے ان خوش نصیب طلباء کے اسماء درج ذیل ہیں۔
نعمان رشید اے لیول ہیومن ریسورسز اینڈ کمیونیکیشن
ابصار احمد اےلیول ٹیکنالوجی،انفارمیشن اینڈ ڈیجیٹل سسٹم
imene Akkoucheاےلیول سائنس
شفیق محمد بی اے ٹیکنالوجی
مطلوب احمد بی اے الیکڑیکل انجینئرنگ
نصیر احمد راجپوت بی اے اکاؤنٹسی اینڈمینجمنٹ
محمد فہیم افضل بی اے سائنس اینٖڈ ٹیکنالوجی
ملک نعمان مظفر بی اے ٹیکنالوجی
اسد اللہ بی اے سائنس الیکٹریکل انجینئرنگ
ذیشان رشید Bachelor in Nursing
توصیف افضل BTECھائر نیشنل ڈپلومہ اکاؤٹنسی اینڈ مینجمنٹ
فرزان احمد گریجوایٹ کیمکل کنٹرول پراسز
سلیمان طارق BTECھائر نیشنل ڈپلومہ الیکٹرانک
Samir Bounpeng ماسٹر انٹرنیشنل اینڈکواپریٹ فنانس
محمد انور احمد ماسٹر ہسٹری
سعید احمد راجپوت ماسٹر فنانس
حسان احمد ماسٹر ٹیکنالوجی
احمدchettih ماسٹر سائنس ،ٹیکنالوجی اینڈ ھیلتھ
فہد محمود بٹ )ماسٹر پروفیشنل اِنْ مینجمنٹ،کوالٹی
clint relationship management)
وجاہت چوہدری ماسٹر ان مارکیٹنگ اینڈ کمرشل ڈوپلمنٹ
تمثال ملک ماسٹر مینجمنٹ آف انفارمیشن سسٹم
ہادی جمال احمد ماسٹر مینجمنٹ
محمد عثمانpereخالد محمود ماسٹر پبلک ایڈمنسٹریشن
ابراہیمChettih ماسٹر Intellectual propertylaw
Khan ahmadاےلیول بیالوجی
غلام اعجاز یاسرماسٹرEmbedded system Engineering
محمد کاہلوں Advocate in the bar of Strasbour
Baijan nourou dine ماسڑ سائبر سکیورٹی
عادل احمد BTECہائرنیشنل ڈپلومہ اکاؤنٹسی اینڈکوآپریٹ مینجمنٹ
شکیل احمد ڈپلومہ آف مینجمنٹ اینڈ اکاؤنٹسی
Dapa Sackoپی ایچ ڈی MRI
ندیم احمد خان ماسٹر بزنس اینڈمنسٹریشن
سیّد حسین علی ماسٹرز
Louis le Chevallier ماسٹرز ایڈمنسٹرٹیو افیسرز
رحمان بشیر ماسٹر ہیومن اینڈ سوشل سائنس
عطا ءالعلیم
تعلیمی ایوارڈ کی تقریب کے بعد 4بجکر12منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اختتامی خطاب فرمایا۔

اختتامی خطاب

تشہد، تعوذ، تسمیہ اور سورة فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے سورة المجادلہ کی آیت 42کی تلاوت و ترجمہ فرمایا۔ اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز نے فرمایا۔
اللہ يقيناً طاقتور اور غالب ہے۔ اللہ تعالیٰ جب انبیاء کو مبعوث فرماتا ہے تو فوری طور پر ہی ساتھ ہی انہیں کامیابیاں ملنی شروع نہیں ہو جاتی بلکہ مخالفین کی طرف سے مخالفت کی آندھیاں چلتی ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ بس اب ختم ہوا کہ اب ۔ تمام انبیاء کی تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ مخالفین اپنی انتہاتک زور لگا لیتے ہیں لیکن الله تعالیٰ کی تقدیر پھر انہیں ہی ختم کرتی ہے اور انبیاء کامیاب ہوتے ہیں۔ قرآن کریم کی یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے ہی بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ اور اس کا رسول ہی غالب آئیں گے اور دشمن ناکام و نامراد ہوں گے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو بھی بد ترین مخالفت میںسے گزرنا پڑا اور مخالفین کا خیال تھا کہ ان چند نہتے اور غریب لوگوں کو ہم بڑی آسانی سے اپنے پاؤں تلے کچل دیں گے ، ان کو ختم کر دیں گے۔ لیکن ہوا کیا؟ وہ لوگ خود ہی چلے گئے۔
حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اور پھر اس زمانہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق نے جب مسیح اور مہدی ہونے کا دعوی کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے عین مطابق اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھیجا۔ آپ کوئی خود ساختہ د عوی نہیں تھا۔ تو پھر الله تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بھی جہاں بہت کی خوشخبریوں سے نوازا، جماعت کی ترقی کی خبر دی، آپ کی مدد اور تائید کی خبر دی، تکمیل اشاعت ہدایت کے وعدہ کے پورا ہونے کی خبر دی، آپ علیہ السلام کو فتح اور غلبہ کی خبر دی وہاں مخالفین کی ناکامیوں کی بھی خبر دی۔ چنانچہ آپ کو کَتَبَ اللہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ کا الہام 1883ءسے لے کر 1906ء تک مختلف اوقات میں متعدد بار ہوا۔ الله تعالیٰ نے تسلی دی کہ اس مخالفت کے باوجود، مخالفین کے تمام حیلوں کے با وجود حکومتوں کے آپ کے خلاف ہونے کے باوجود، ہر مذہب اور مسلمانوں کے تمام فرقوں کے آپ کے خلاف تمام تر کوششوں کے باوجود اللہ تعالیٰ آپ کو کامیابیاں عطا فرمائے گا اور آپ کی جماعت ترقی کرتی چلی جائے گی۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز نے فرمایا: ایک موقع پر، ایک مجلس میں آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ یادر کھو خدا کے بندوں کا انجام بھی بد نہیں ہوا کرتا۔ اس کا وعدہکَتَبَ اللہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ بالکل سچا ہے اور یہ اسی وقت پورا ہو تا ہے جب لوگ اس کے رسولوں کی مخالفت کریں۔
پھر ایک جگہ آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے اور جب سے کہ اس نے انسان کو زمین میں پیدا کیا ہمیشہ اس سنت کو ظاہر کرتا رہا ہے کہ وہ اپنے نبیوں اور رسولوں کی مدد کر تا ہے اور ان کو غلبہ دیتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے کَتَبَ اللہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْاور غلبہ سے مراد یہ ہے جیسا کہ رسولوں اور نبیوں کا منشاء ہوتاہے کہ خدا کی حجت زمین پر پوری ہو جائے اور اس کا مقابلہ کوئی نہ کر سکے اسی طرح خداتعالیٰ قوی نشانوں کے ساتھ ان کی سچائی ظاہر کر دیتا ہے اور جس راستبازی کو وہ دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں اس کی تخم ریزی ان کے ہاتھ سے کر دیتا ہے۔ ان کے ہاتھ سے اس کا بیج بویا جاتا ہے، یہی غلبہ ہو تا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا پیغام ایک دفعہ جاری ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حمایت کی ہوائیں چلنی شروع ہو جاتی ہیں اللہ تعالیٰ کی تائیدات اور نصرت کی ہوائیں چلنی شروع ہو جاتی ہیں۔ یہ رسالہ الوصیت میں آپ علیہ السلام نے فرمایا اور پھر وضاحت بھی فرمائی کہ تخم ریزی تو ان کے ہاتھ سے کر دیتا ہے، جو اپنے انبیاء بھیجتا ہے، لیکن تکمیل ان کے ہاتھ سے نہیں کرتا بلکہ ان کی وفات کے بعد جب مخالفین ہنسی ٹھٹھا کر چکتے ہیں تو پھر دوسری قدرت کا ہاتھ دکھا کر ان مقاصد کی تکمیل کرتا چلا جاتا ہے۔ آپ نے فرمایا ہے کہ دوسری قدرت خلافت ہے۔ پس ہم دیکھتے ہیں کہ آپ کے بعد اللہ تعالی ٰکس طرح خلافت کے ذریعہ آپ کی جماعت کی ترقی اور وسعت کے سامان پیدا فرماتا چلا جارہا ہے اور خود لوگوں کے دلوں میں ڈال کر آپ کی جماعت میں شامل ہونے کی تحریک فرماتا چلا جارہا ہے اور آج ایک چھوٹے سے گاؤں سے جو کیا ہو ادعویٰ تھاوہ دنیا کے کونے کونے میں گونج رہا ہے۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: پس جماعت احمدیہ کی تاریخ گواہ ہے کہ جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اس کے بندے روز بروز ترقی پاتے ہیں۔ جو اس کے بھیجے ہوئے فر ستادے ہیں ۔ان کی ترقی کے قدم روز بروز آگے بڑھتے ہیں، ان کی جماعتیں آگے بڑھتی چلی جاتی ہیں ۔ اس کے نظارے ہم ہر روز دیکھتے ہیں۔ اس کے بعض واقعات اس وقت میں آپ کے سامنے رکھوں گا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ غیر معمولی طریق پر یہ ترقیات دیتا چلا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کس طرح آپ علیہ السلام کے مشن کی تکمیل کے یہ کام کر رہا ہے۔
کیمرون سے ہمارے معلم ابو بکر کہتے ہیں کہ شہر Banyo(بانیو) سے ایک شخص احمد نے مجھے فون کیا کہ مجھے جماعت احمدیہ کے متعلق بالکل علم نہیں تھالیکن چند دن قبل میرے بیٹے کو ایک پمفلٹ ملا جس کا ٹائٹل تھاجاء المسیح میں اسی پمفلٹ کے حوالے سے آپ سے رابطہ کر رہا ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ میں نمازوں میں بہت سست تھا ایک دن خواب میں ایک شخص جن کی سفید داڑھی ہے تشریف لائے اور فرمایا کہ اٹھو اور نماز پڑھو۔ پھر مجھے نصیحت کی کہ نماز باقاعدگی سے پڑھا کرو۔ چنانچہ اس خواب کے بعد سے میں نمازوں میں باقاعدگی کی کوشش کر رہا ہوں کہ ایک دن کیبل پر چینل تلاش کر رہا تھا کہ میری نظر ایم۔ ٹی۔ اے افریقہ چینل پر پڑی اور دیکھا کہ وہی سفید داڑھی والے کوئی لیکچر دے رہے ہیں۔ اس طرح مجھے ایم ۔ٹی۔اے اور جماعت کے متعلق کچھ معلومات تو ملیں لیکن یہ پتہ نہ چلا کہ کیمر دن میں بھی جماعت ہے کہ نہیں۔ اب پمفلٹ کے ذریعہ رابطہ ہوا ہے۔ چنانچہ معلم نے انہیں تبلیغ کی، انہیں میرا تعارف کروایاکہ یہ ہمارے خلیفہ وقت ہیں اور اس پر کہنے لگے جو شخص مجھے خواب میں نماز کی باقاعدگی کی نصیحت کر رہا ہے وہ جھوٹا نہیں ہو سکتا۔ یقینا وہ خدا تعالیٰ کی طرف سےہے اور اس کام کے لئے مامور ہے۔ اس نے خلافت کی طرف اشارہ کیا۔ معلم نے انہیں بتایا کہ آپ کے شہر بانیو میں ہماری جماعت ہے اور وہاں ایک ہمارے دوست آدمو ہیں ، وہ ہمارے صدر جماعت ہیں وہ آپ ان سے رابطہ کریں۔ اس پر موصوف نے صدر جماعت سے رابطہ کیا اور بیعت کر کے جماعت میں شمولیت اختیار کر لی۔ اب خدا تعالیٰ کے فضل سے باقاعدگی سے موصوف نمازیں پڑھنے والے بھی ہیں ایم۔ ٹی۔ اے بھی دیکھتے ہیں اپنے علم اور ایمان میں اضافہ بھی کر رہے ہیں۔
پھر امیر تنزانیہ ایک واقعہ لکھتے ہیں کہ لنڈی شہر جہاں 1948ء میں مخالفین کی طرف سے مبلغ مولانا فضل الہٰی بشیر کے ساتھ بہت ناروا سلوک کیا گیاتھا اور ان کو وہاں سے نکالاگیا تھا۔ اب اسی شہر کے دونوں مقامی ریڈیوز میں ہفتہ وار جماعتی پروگرام نشر ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ احمدیہ ریڈیو کی چوبیس گھنٹے کی نشریات بھی سنی جاتی ہیں ان پروگرامز کی وجہ سے لنڈی شہر کی بڑی مسجد کے امام کے بیٹے نے بیعت کی سعادت پائی۔ موصوف کئی مدارس سے تعلیم یافتہ اور بہت اچھی آواز میں تلاوت کرتے ہیں۔ ان کا جماعت سے بہت اچھا تعلق ہے۔ ان کے علاوہ ایک دوسری مسجد کے امام بھی حال ہی میں احمدی ہوئے ہیں۔
ان دونوں با اثر شخصیات کی وجہ سے مزید پچاس بیعتیں ہمیں ملی ہیں۔ لنڈی شہر کا اب یہ حال ہے کہ اگر کوئی یہ کہے کہ احمدی کافر ہیں تو اہل علاقہ خود ہی اس کا جواب دینے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں چاہے وہ احمدی ہوئے یانہیں ہوئے۔ ایک جامعہ مسجد میں مولوی نے کہا کہ احمدیوں سے چھیڑ چھاڑ نہ کیا کرو، ان کا علم ہم سے بہت زیادہ ہے۔ ہمارے بڑے بڑے علماء وہ باتیں نہیں جانتے جو ان کے عام مولوی جانتے ہیں۔
پھر نائیجیریا کا ایک واقعہ ہے (ای جے بو) سرکٹ کی OMU (رومو) میں ایک داعی الی اللہ مبارک نے میرا خطبہ جمعہ لائیو د کھانا شروع کیا اور میرے خطبہ کے بعد اپنا خطبہ مختصر أدینے لگ گئے تو ایک غیر احمدی دوست جامعیو جو جمعہ پڑھنے ہماری مسجد آتے تھے انہوں نے اعتراض شروع کر دیئے کہ یہ بدعت ہے، اسلامی طریق نہیں ہے۔ ہم تو جمعہ پڑھنے آتے ہیں اب جماعت احمدیہ ٹی وی کے ذریہ سے جمعہ پڑھنے لگی ہے۔ اس طرح کے اعتراض کرنے لگ گئے۔ اس پر ان کو سمجھایاگیا کہ ہم بھی اس طرح نہیں پڑھ رہے، خطبہ سن رہے ہیں آپ پہلے خطبات سن کر تو دیکھیں۔ اس پر انہوں نے خطبات میں دلچسپی لینی شروع کر دی اب چند ہفتے قبل وہ اپنی فیملی سمیت آئے اور بیعت کر لی۔ کہتے تھے کہ خليفۃ المسیح کے خطبات نے مجھے ہلا کر رکھ دیا۔ آج اگر اسلام کی تعلیم کسی کے پاس ہے تو وہ خلیفۃ المسیح کے پاس ہے اور جس طرح آپ اپنے خطبات اور خطابات کے ذریعہ مسلمانوں کی تربیت اور رہنمائی کر رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ ہمارے دلوں کے تمام راز آپ کے پاس ہیں۔ یہ یقینا الله تعالیٰ کی طرف سے رہنمائی ہے اور میں اپنے بیوی بچوں سمیت جماعت احمدیہ میں داخل ہو کے اسلام کی حقیقی تعلیم کے زیر سایہ اپنی زندگی گزارناچاہتاہوں۔
سہارن پور انڈیا سے ایک اختر اپنی قبولیت احمدیہ کا واقعہ سناتے ہیں۔ کہتے ہیں: میں نے 2007ء میں خواب میں ایک بزرگ کو دیکھا جس کاچہرہ بہت نورانی تھا جس نے ان کے دل پر گہرا اثر چھوڑا۔ پھر کہتے ہیں جب میں 2009ء میں پاکستان گیا وہاں جماعت احمدیہ کی مخالفت کا تذکرہ سنا جس پر جستجو ہوئی کہ آخر یہ جماعت کون سی ہے۔ تحقیق کرنے پر مجھے جماعت احمدیہ کاٹال فری نمبر ملا اور میں نے جماعت کے ساتھ رابطہ کیا۔ کہتے ہیں اسی دوران ایک اور خواب آئی جس میں میں نے خلیفۃ المسیح الخامس کو دیکھا۔ وہ ایک تخت پر بیٹھے ہوئے ہیں اور بیعت لیتے ہیں۔ بہت سے لوگ آپ کے ہاتھ پر ہاتھ بڑھاتے ہیں اور بیعت میں شامل ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں میں بھی ہاتھ بڑھاتا ہوں تو کچھ نہیں پاتا اور مجھے پیچھےسے آوازیں آتی ہیں کہ تونہیں پہنچ سکتا۔ کہتے ہیں اس خواب کے بعد میری بے چینی مزید بڑھ گئی اور میں دعاکرتارہا اور ٹال فری سے رابطہ کر کے اپنے شکوک و شبہات کو دور کرتا رہا۔ انہی دنوں ایک اور خواب آئی کہ ایک قافلہ ہے جو مسجد اقصیٰ کی طرف جارہا ہے اور کوئی آواز لگاتا ہے کہ تو نہیں بن سکتامگر میں پھر بھی کو شش کر تا ہوں اور اس قافلے میں شامل ہو جاتا ہوں اور بیعت کا وہی نظارہ جو میں نے پہلے دیکھا تھا دیکھتا ہوں لیکن جب بیعت کے لئے اپنا ہاتھ اٹھاتا ہوں تو خليفة المسیح میری کلائی کو پکڑ کر اپنے ہاتھ میں رکھ دیتے ہیں۔ اس خواب کے بعد میں نےقادیان کی زیارت کی اور بہت اچھا تاثر حاصل کی لیکن بعض ذاتی مسائل کی وجہ سے بیعت کرنے کی جرأت نہیں کر سکا اور پھر کچھ عرصہ بعد رابطہ بھی قائم نہ رہا۔ وقت یونہی گزرتا گیالیکن یہ خوابیں میں نے دیکھی تھیں اور احمدی احباب سے بعض مسائل پر گفتگو ہوئی تھی اس سے دل میں ایک کسک اور بے چینی سی رہتی تھی۔ کہتے ہیں بالآخر ایک لمبے وقفے کے بعد اس سال میں سیر و تفریح کی غرض سے شملہ گیا تو وہاں کے بک فیئر میں جماعت احمدیہ کا ایک سٹال لگا ہوا دیکھا اور بک فیئر کے ذریعہ دوبارہ جماعت سے رابطہ ہو گیا اور اس دفعہ مکمل اطمینان اور خوابوں کی بنا پر میں نے بیعت کرلی اور جماعت میں شامل ہو گیا۔
امیر مالی لکھتے ہیں کہ مال کے ریجن کولیکوریا کے ایک گاؤں میں امسال جماعت کا نفوذ ہوا۔ اس سے قبل گاؤں والے لوگ لامذ ہب تھے، ان کا کوئی مذہب نہیں تھا۔ لیکن اللہ کے فضل سے انہوں نے ہماری تبلیغ کے بعد احمدیت قبول کر لی۔ اس گاؤں میں مسجد نہیں تھی اب جماعت وہاں مسجد تعمیر کروارہی ہے۔ مسجد کے سنگ بنیاد کے موقع پر گاؤں کے چیف نے بتایا کہ ہم بہت عرصے سے امام مہدی کی جماعت کے منتظر تھے اور وہ کہنے لگے کہ یہ ان کی خوش قسمتی ہےکہ اللہ تعالی ٰنے انہیں اپنی زندگی میں احمدیت قبول کرنے کی توفیق دی کیونکہ ان کے والد بھی اسی انتظار میں رہے کہ امام مہدی نے آنا ہے تو اس کو قبول کرنا ہے لیکن ان کی زندگی میں ان تک پیغام پانی نہیں سکا تھا۔
غانا کے northern ریجن کے مبلغ لکھے ہیں کہ ایک علاقہ نسوانا ہے جہاں اہل سنت کافی زیادہ اثر رسوخ رکھتے ہیں۔ نارتھ میں مسلمان کافی ہیں وہاں سنی عوام بڑے سخت مخالف ہیں۔ وہ مصر سے ایک عالم کو فروری 2019ء میں لے کر آئے تا کہ جہاں جہاں نئی جماعتیں قائم ہوئی ہیں وہاں اس کے ذریعہ اہل سنت کی مساجد قائم کی جائیں اور پانی کے نلکے لگائے جائیں کیونکہ وہاں جماعت احمدیہ پانی کے نلکے لگاتی ہے تا کہ لوگ احمدیت چھوڑ کر ان کے ساتھ مل جائیں۔ نیز انہوں نے امام بھی مقرر کر دیئے جن کی تین سو سی ڈی جو وہاں کی کرنسی ہے تنخواہ مقرر کی۔ مصری عالم نے اپنے لئے سات سو سی ڈی پر ترجمان بھی رکھا اور یہ لوگ تمام علاقے میں دورے کرنے لگ گئے۔ کہتے ہیں کہ رمضان المبارک کے آغاز میں ترجمان نے مصری عالم کے پیسے چوری کر لئے۔ وہاں مصری عالم پیسے بھی لے کے آیا تھا۔ مصری عالم کے لئے جو ترجمان تھا اس کو اس امام سے بھی زیادہ تنخواہ ملتی تھی۔ تو بہر حال کافی رقم تھی۔ اسلام احمدیت کے خلاف جو مختلف حکومتیں مدد کرتی ہیں ان کی بھی کر رہی ہوں گی تو ان کا ترجمان اس کی رقم چوری کر کے لے گیا۔ اس عالم نے مصر سے جو آئے ہوئے تھے اسے بہت سمجھایا کہ میرے پیسےجو تم نے چوری کئے ہیں واپس کر دو لیکن اس نے پیسے واپس نہیں کئے۔ اس پر اس مصری عالم نے اس ترجمان سے قطع تعلق کر لیا اور اس کے گھر سے ایک دوسرے گھر شفٹ ہو گیا۔ ترجمان نے غصے میں آکر اس پر چھری سے حملہ کر دیا جس کی وجہ سے وہ مصری عالم وہاں سے اپنے ملک واپس بھاگ گیا اور اس طرح الله تعالیٰ نے ان کے جو ہمارے خلاف ارادے تھے کہ یہاں سے ہم احمدیت کو ختم کر دیں گے، احمدیت کو کیا ختم کرنا تھاخود ہی وہاں سے دوڑ گئے۔
لائبیریا کی بومی کاؤنٹی (Bomi Country) کے مبلغ لکھتے ہیں کہ کس طرح مخالفین کی ناکامی و نامرادی ہو رہی ہے۔ کہتے ہیں ہم ایک گاؤں بیفینی (Bifini) میں تبلیغ کی غرض سے گئے۔ یہ گاؤں اپنے ارد گرد کے دیہاتوں سے قدرے بڑا ہے اور علاقے میں اس کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ تبلیغ کے بعد ان کو مارچ 2019ء میں ہونے والے جلسہ سالانہ لا ئبیریا میں شمولیت کی دعوت دی گئی۔ چنانچہ جلسہ سالانہ پر وہاں سے ایک پانچ رکنی وفد شامل ہوا جس میں ان کے امام اور پیراماؤنٹ چیف بھی شامل تھے۔ تبلیغ اور پھر جلسے کے ماحول سے متاثر ہو کر انہوں نے بیعت کرنے کا اعلان کر دیا۔ نو مبائعین کی تربیت کے لئے جماعت کی طرف سے وہاں ایک لوکل معلم کو تعینات کر دیا گیا جس نے جاتے ہی وہاں تعلیم القرآن کی کلاسز شروع کر دیں اور بچوں کو نماز اور دوسری دینی باتیں سکھانی شروع کر دیں۔ اسی اثنامیں جب مخالفین کو معلوم ہوا کہ احمدیت کا اس علاقے میں نفوذ ہواہے تو انہوں نے ایک وفد کی صورت میں اس گاؤں میں جانے کا پروگرام بنایاجن میں پیشں پیشں بونی کاؤئنٹی کے غیر احمدیوں کا چیف امام تھا۔ جب یہ لوگ پہنچے تو پیراماؤنٹ چیف سے مل کر اس کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ احمدی اچھے مسلمان نہیں ہیں۔ پہلے تو پیراماؤنٹ چیف نے ان سے کافی مرتبہ نرمی سے پوچھا کہ مجھے کوئی اس کی بات تو بتاؤ جس سے یہ ثابت ہو کہ احمدی اچھے مسلمان نہیں ہیں۔ اس پر مولوی نے کہا کہ یہ قرآن نہیں مانتے اور صرف آپ لوگوں کو یہ بیوقوف بنارہے ہیں کہ ہم قرآن مانتے ہیں۔ اس پر چیف کو غصہ آگیا اور اس نے ان کو مخاطب کر کے کہا کہ پچھلے بیس سال میں تم میں سے کوئی بھی ہمارے گاؤں نہیں آیا کہ ہمیں قرآن پڑھاؤ۔ اب احمدی آئے ہیں توانہوں نے ہمیں دین سکھاناشروع کیا ہے اور قرآن پڑھارہے ہیں تو تم اب روکنے کے لئے پہنچ گئے ہو۔ لہٰذا احمدی ہمیں بیوقوف نہیں بنار ہے بلکہ تم بیوقوف بنانے آئے ہیں۔ اس لئے تم سب یہاں سے فوراً چلے جاؤ اور آئندہ ہرگز اس گاؤں میں قدم نہ رکھنا۔ انہوں نے کہا کہ ہم جماعت احمدیہ کے ساتھ آج بھی ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔ چنانچہ مخالفین وہاں سے ناکام و نامراد لوٹے۔ اب اس گاؤں کے لوگ پہلے سے بھی زیادہ اخلاص اور وفاکا نمونہ دکھارہےہیں اور باقاعدگی سے چندے کے نظام میں بھی شامل ہیں۔
حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوةوالسلام فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کا حامی ہو جاتا ہے۔ دشمن چاہتے ہیں کہ ان کو نیست و نابود کریں مگر وہ روز بروز ترقی پاتے ہیں اور اپنے دشمنوں پر غالب آنے کا وعدہ ہے کَتَبَ اللہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ یعنی خدا تعالیٰ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ضرور غالب رہیں گے۔ اول اول جب انسان خدا تعالیٰ سے تعلق شروع کرتا ہے تو سب کی نظروں میں حقیر اور ذلیل ہو تا ہے مگر جوں جوں وہ تعلقات الہیٰ میں ترقی کرتا ہے توں توں اس کی شہرت زیاده ہوتی ہے تھی کہ وہ ایک بڑا بزرگ بن جاتا ہے۔
پھر آپ علیہ السلام فرماتے ہیں میں خداسے تین علم پاکر کہتا ہوں کہ اگر یہ تمام مولوی اور ان کے سجادہ نشین، ان کے ملہم اکٹھے ہو کر الہامی امور میں مجھ سے مقابلہ کرنا چاہیں تو خدا ان سب کے مقابل پر میری فتح کرے گا کیونکہ میں خدا کی طرف سے ہوں۔
حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: پس یہ بات یقینی ہے کہ اب غلبہ اسلام مسیح موعود کے ذریعہ سے ہی ہونا ہے۔ الله تعالیٰ نے یہ غلبہ عطا فرماتا ہے اور جیسا کہ واقعات سے ظاہر ہے۔ چند ایک واقعات میں نے بیان کئے ہیں کہ عجیب عجیب طریقوں سے الله تعالیٰ لوگوں کی رہنمائی فرما رہا ہے اور لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی جماعت میں شامل ہو رہے ہیں لیکن اگر ہم جو پرانے احمدی ہیں جن کو احمدیت میں ایک عرصہ گزر گیا ہے ان برکتوں کا حصہ بننا چاہتے ہیں جو اس سے وابستہ ہیں تو ہمیں بھی اس پیغام کے پہنچانے میں اپنا بھر پور کردار اداکرنا ہو گا۔ اسی طرح جو نئے آنے والے ہیں ان کو بھی ان برکتوں سے فیض پانےکے لئے اپنے اس پیغام کو جو ان کی اصلاح کا باعث بنا جس نے ان کی حق کی طرف رہنمائی کی ان کو دوسروں کو پہنچانا چاہئے اور تبلیغ کے میدان میں پہلے سے بڑھ کر کوشش کرنی چاہئے۔ الله تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے اور الله تعالیٰ کے مسیح کے مددگار بن کر ہم الله تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والے اور جذب کرنےوالے ہوں۔
حضور انور کا خطاب 5بجکر15 منٹ تک جاری رہا۔ اس کے بعد حضور انور ایدہ الله تعالی بنصرہ العزیز نے دعا کروائی۔دعا کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جلسہ کی کل حاضری کا اعلان فرمایا کہ: امیر کی طرف سے جو حاضری کی رپورٹ ملی ہے اس کے مطابق جماعت فرانس کی حاضری 1441 ہے۔ غیر از جماعت کی تعداد 130 ہے۔ مردوں کی کل تعداد 1638 ہے خواتین کی 1095 ہے۔ اس طرح ٹوٹل حاضری 2733 ہے۔ یہاں بھی ہمسایہ اور دوسرے 21 ممالک کی نمائندگی ہے۔
حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطاب کا مکمل متن حسب طریق علیحده شائع ہو گا۔
بعد ازاں خدام اور اطفال کے مختلف گروپس نے باری باری دعائیہ نظمیں اور ترانے پیش کئے۔ سب سے پہلے عرب نوجوانوں نے عربی زبان میں قصیدہ پیش کیا۔ بعدازاں خدام نے اردو زبان میں ایک دعائیہ نظم پیش کی اس کے بعد بنگالی نوجوانوں نے بنگلہ زبان میں ایک ترانہ پیش کیا۔ اس کے بعد اطفال الاحمدیہ فرانس کے ایک گروپ نے خوش الحانی کے ساتھ نظم
ہم احمدی بچے ہیں کچھ کر کے دکھا دیں گے
شیطان کی حکومت کو دنیا سے مٹا دیں گے
پیش کی۔ بعد ازاں خدام کے ایک گروپ نے پنجابی زبان میں نظم پیش کی ۔اس کے بعد واقفین نو کے گروپ نے دعائیہ نظم پیش کی۔ آخر پر افریقن احباب نے مل کر اپنے مخصوص انداز میں اپنا پروگرام پیش کیا اور کلمہ طیبہ کا ورد کیا اور آخرت پر بڑے بھرپور اور پُرجوش انداز میں نعرہ ہائےتکبیر بلند کئے۔ اس پروگرام کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

فیمی ملاقاتیں

پروگرام کے مطابق سوا چھ بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے دفتر تشریف لائے اور فیملیز ملاقاتیں شروع ہوئیں آج شام کے سیشن میں 32 فیملیز کے 107 احباب نے اپنے پیارے آقا سے شرف ملاقات پایا ۔اس کے علاوہ 25 افراد نے انفرادی طور پر ملاقات کی سعادت پائی ۔ہر ایک نے باری باری اپنے آقا کے ساتھ تصویر بنوانے کی سعادت بھی پائی۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ازراہِ شفقت تعلیم حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کو قلم عطا فرمائے اور چھوٹی عمر کے بچوں کو چاکلیٹ عطا فرمائیں۔
ملاقات کرنے والوں میں تیونس سے تعلق رکھنے والے ایک دوست خلیل اسباعی بھی تھے۔انہوں نے آج حضور انور کے دست مبارک پر بیعت کی سعادت بھی پائی تھے کہنے لگے کہ اگرچہ میں نے چند سال قبل بیعت کی تھی لیکن آج زندگی میں پہلی مرتبہ اپنے آقا کے دست مبارک پر بیعت کی ہے ۔میں پیدا تو ایک مسلمان گھرانے میں ہوا تھا لیکن آج مجھے ایسے لگ رہا ہے کہ میں نئے سرے سے پیدا ہوا ہوں ۔آج مجھے ایک نئی زندگی عطا ہوئی ہے جب میں نے حضور انور کو دیکھا تو مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ ایک فرشتہ کو دیکھ رہا ہوں۔ ملاقاتوں کا یہ پروگرام ساڑھے آٹھ بجے تک جاری رہا۔
تقریب آمین
بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ہال میں تشریف لے آئے جہاں پروگرام کے مطابق تقریباً آمین کا انعقاد ہوا۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے درج ذیل 27 بچیوں اور بچوں سے قرآن کریم کی ایک ایک آیت سنی اور آخر پر دعا کروائی۔ آمین کی تقریب میں شمولیت کی سعادت پانے والے ان بچیوں اور بچوں کے اسماء درج ذیل ہیں۔
عزیزہ عائشہ منصور، ایمان عطاء، سبیکہ رضوان ، تابینہ شاد، یاسمین شیراز، انیلہ حسن، تبینہ کاہلوں، کشف موقیت، سبیکہ اظہر، ہانیہ ضیاء، واشمہ شاہد، حمزہ أحسن عزیزم یوسف خاقان، سکندر شاہ، یوسف عرشمان غنی شاہ،جہانزیب تنویر رحمان ، سمیر کمال احمد دین، خاقان لبیب،فرید رحمان، طاہر احمد، ملک سلیمان احمد، نعمان احمد، انتصار احمد، محمد کامران ،مغفور احمد، شاہ حسیب طیب، عزیزم امن منصور آمین کی تقریب کے بعد حضور انور نے نماز مغرب و عشاء جمع کرکے پڑھائی نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

تاثرات

آج بیعت کرنے والے بعض نو مبائع احباب نے اپنے تاثرات کااظہارکیا۔
 جزائر قموروز سے تعلق رکھنے والے ایک نو مبائع احمد نے بیان کیا کہ جماعت احمدیہ دلیل سے بات کرتی ہے اور دلیل کے ساتھ قائل کرتی ہے۔ آپ کو بس صرف اس وجہ سے بات نہیں ماننی پڑتی کہ بس ملاں نے کہہ دیا تو اسی طرح کرنا ہے ۔ میں نے آج خلیفۃ المسیح کے ہاتھ پر بیعت کی ہے احمدی ہونے کے بعد مجھے بہت سکون حاصل ہوا ہے۔
فرانس کے ایک نو مبائع فلورنٹ نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا مجھے حضور ا نور کے دست مبارک پر براہ راست بیعت کی سعادت حاصل ہوئی یہ میری زندگی میں میرے لئے بہت جذباتی واقع ہے۔
ایک نو مبائع therese le coq خاتون نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا میں پہلے افریقہ میں تھی اور مذہب سے کافی لگاؤ تھا لیکن جب سے میں یورپ آئی ہوں آہستہ آہستہ مذہب سے دور ہوگئی جلسہ پر آنے سے قبل میں بیمار تھی لیکن جلسہ پر آکر میری جسمانی بیماری دور ہوگی اور اس جلسہ کے ماحول نے مجھے پھر سے دین کی دولت عطا کردی اور یہی وجہ ہے کہ میں نے احمدی ہونے کا فیصلہ کیا اور بیعت کرلی۔ اس کے خاوند نے کہا جب سے میری اہلیہ نے جلسہ میں شرکت کرکے بات کی ہے یہ باقاعدگی سے پنجوقتہ نماز ادا کر رہی ہے۔ جبکہ اس سے پہلے تو یہ مسلمان بھی نہیں تھی۔
 فرانس سے بیعت کرنے والے ایک دوست لوئیس نے کہا کہ آج میری خوشی کی انتہا نہیں ہے ۔ بیعت کر کے بہت اچھا اور سکون محسوس کر رہا ہوں اور انشاء اللہ آئندہ بھی بہت اچھا رہوں گا۔

image_printپرنٹ کریں