skip to Main Content
عبدالماجدطاہر۔ایڈیشنل وکیل التبشیر لندن: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کادورہ فرانس:قسط نمبر7

جلسہ سالانہ فرانس کے دوسرے روز لجنہ سے خطاب۔ فرنچ مہمانوں سے ملاقات، خطاب اور کھانے میں شرکت۔ ریویوآف ریلیجنز کے فرنچ ایڈیشن کا افتتاح اور مہمانوں کے تاثرات

5۔اکتوبر2019ءبروز ہفتہ

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صبح 6بج کر 45منٹ پر تشریف لا کر نماز فجر پڑھائی۔ نماز کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے رہائشی حصہ میں تشریف لے گئے۔
صبح حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مختلف دفتری امور کی انجام دہی میں مصروف رہے۔

لجنہ اماء اللہ سے خطاب

آج پروگرام کے مطابق لجنہ جلسہ گاہ میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خطاب تھا۔
پروگرام کے مطابق ساڑھے12بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز لجنہ جلسہ گاہ میں تشریف لائے۔ صدر لجنہ اماءاللہ فرانس فرحت فہیم صاحبہ و ناظمہ اعلیٰ نے اپنی نائب ناظمات کے ساتھ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا استقبال کیا اور اپنے پیارے آقا کو خوش آمدید کہا۔
اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو عزیزہ انعم کاہلوں صاحبہ نے کی اور اس کا اردو ترجمہ عزیزہ ہاجرہ ہادی صاحبہ نے پیش کیا۔
اس کے بعد عزیزہ عائشہ سندس صاحبہ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا منظوم کلام
اک نہ اک دن پیش ہوگا تو فنا کے سامنے
چل نہیں سکتی کسی کی کچھ قضاء کے سامنے
خوش الحانی سے پیش کیا۔

تعلیمی اسنادو میڈل

بعد ازاں پروگرام کے مطابق حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والی 41طالبات کو اسناد عطا فرمائیں۔ تعلیمی ایوارڈ حاصل کرنے والی ان خوش نصیب طالبات کے نام درج ذیل ہیں۔
اقراء خلیل BTEC نیشنل ڈپلومہ
مہہ جبین اظہر BTEC نیشنل ڈپلومہ
سائرہ کنول داؤد BTEC نیشنل ڈپلومہ
قمر ضیاء BTEC نیشنل ڈپلومہ
درثمین طوبیٰ وسیم BTEC نیشنل ڈپلومہ
طوبیٰ طاہر BTEC نیشنل ڈپلومہ
Aneeza Asih ماسٹر ان سائنس
Ines Rezig اے لیول
Amina Chettih اے لیول
Imane Haddioui اے لیول
Nughz Tul Zahra بی اے ٹیکسٹائل ڈیزائننگ
ذنوبیہ عامر بی اے ان سائنس
(Digital and Creative Media)
Ines Doobory بی اے ماڈرن لٹریچر
فوزیہ چوہدری ماسٹر ان ہومیوپیتھی
آصفہ خان ماسٹر ان سائنس آف Medication
سعدیہ ظفر ماسٹر سائیکالوجی
عطیہ کوثر ماسٹر ہسٹری (History)
رضوانہ اعجاز ماسٹر Mathematic
مبشرہ صوف ماسٹر اردو
شفیقہ اشتیاق
Master in Foreigner Languages International Relation and Comparisons
اذکیٰ غلام ماسٹر ان مینجمنٹ
قدسیہ عالم ماسٹر ان ایجوکیشن
Asima Naseer ماسٹر ایجوکیشن
بشریٰ سلام ماسٹر فزکس (Physics)
ثناء سہیل ماسٹر سائیکالوجی
مریم ناصر ماسٹر الیکٹریکل انجینئرنگ
ہبۃ النور مریم ماسٹر Masterial Sciences
مہوش حفیظ ماسٹر ایجوکیشن
مہہ جبین حفیظ ماسٹر پرائیویٹ لاء
(Diplome of Architect of Duriah Malik Interior/Enviromental Designer)
نداء نصیر ماسٹر ایجوکیشن
جویریہ خان ماسٹر اکاؤنٹنسی ،کنٹرول اینڈ آڈٹ
نداء ناصر ماسٹر ان انگلش
میمونہ خان ماسٹر بیالوجی
مدیحہ چوہدری پی ایچ ڈی جنرل میڈیسن
صنوبر خان پی ایچ ڈی جنرل میڈیسن
Mamode Hossen Karina ماسٹر ٹورازم
رابعہ بن اویس اے لیول سائنس
نادیہ انجم اے لیول
ہانیہ افضال ماسٹر ایجوکیشنل سائنس
باسمہ چوہدری ماسٹر

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کاخطاب
lتعلیمی ایوارڈ کی تقریب کے بعد ایک بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطاب فرمایا۔
(اس خطاب کا خلاصہ مورخہ 11؍اکتوبر 2019ء کے اخبار میں شائع ہو چکا ہے۔)
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا لجنہ سے یہ خطاب ایک بج کر 40منٹ تک جاری رہا۔ دعا کے بعد لجنہ اور بچیوں کے مختلف گروپ نے عربی، اردو، فرنچ زبان میں ترانے اور دعائیہ نظمیں پیش کیں۔ آخر پر افریقن خواتین نے اپنے مخصوص انداز میں کلمہ طیبہ کا ورد کیا اور نعرے بلند کئے۔
بعد ازاں دو بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مردانہ جلسہ گاہ میں تشریف لا کر نماز ظہر عصر جمع کر کے پڑھائی نمازوں کی ادئیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

فرنچ مہمانوں کے ساتھ پروگرام

پروگرام کے مطابق 6بج کر 40منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مردانہ مارکی میں تشریف لائے اور فرنچ مہمانوں کے ساتھ پروگرام شروع ہوا۔ مکرم عطاء الحئی صاحب نے تلاوت قرآن کریم کی اور بعد ازاں اس کا فرنچ زبان میں ترجمہ پیش کیا۔ اس کے بعد مکرم آصف عارف صاحب نیشنل سیکرٹری امور عامہ فرانس نے اپنا تعارفی ایڈریس پیش کیا۔
مہمانوں کے تاثرات
lبعدازاں سب سے پہلے Trie Chateau کے میئر Mr David نے اپنا ایڈریس پیش کیا جس میں انہوں نے کہا:
خلیفہ کی اس چھوٹے سے شہر Trie Chateau میں آمد ہمارے لئے بہت خوشی اور اعزاز کا باعث ہے۔ اس کمیونٹی کی بھلائی اور جماعت احمدیہ کے ساتھ تعلقات میں اضافہ کے لئے امن کا پیغام بہت اہم ہے۔ مجھے امید ہے کہ موسم کی خرابی کے باوجود بھی آپ اس جلسہ سے محظوظ ہوں گے جو کہ ایک ایسی جگہ پر منعقد ہورہا ہے جو پیرس کے قریب ہے اور بہت خوشگوار مقام ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ لوگ ہمیں جانیں گے اور اپنا تعارف ہمیں کروائیں گے۔ پس میں آپ لوگوں کا اور بالخصوص خلیفہ کی اس موقع پر تشریف آوری پر شکریہ ادا کرناچاہتاہوں۔ آپ سب کا شکریہ۔
lاس کے بعد ڈاکٹر Annelise Defaix صاحبہ نے اپناایڈریسں پیش کیا۔ موصوفہ پیرس یونیورسٹی کے ساتھ منسلک ہیں اور ساؤتھ ویسٹ ایشین ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتی ہیں۔ موصوفہ نے کہا:
میں پیشہ کے اعتبار سے سوشیالوجسٹ ہوں اور مسلمان اقلیتوں پر تخصص کر رہی ہوں۔ اس غیر معمولی تقریب میں دعوت پر آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں۔ میں 10سال سے احمدیوں کو جانتی ہوں۔ سب سے پہلے میری احمدیوں کیساتھ ملاقات انڈونیشیا میں ہوئی جہاں انہیں مخالفت کا سامنا تھا۔ میں ان سے بہت متاثر ہوئی تھی۔ پھر مجھے کمبوڈیا میں بھی احمد ی ملے۔ میں Saint Prix میں بھی تین سال سے احمدیوں سے مل رہی ہوں اور مذہبی اقلیتوں کے atlas میں احمدیوں کے حوالہ سے ایک باب لکھا ہے۔ اس وقت ہمارا ملک مسلمانوں کے حوالہ سے ایک نازک دور سے گزر رہا ہے جس کی مثال پہلے کبھی نہیں ملتی اور ایسے وقت میں خلیفہ نے جو پیغام دیا ہے وہ ہمارے دلوں کیلئے راحت کا باعث بنا ہے اور اس تاریک دور سے نکلنے کیلئے ہمارے اندر جذبہ پیدا کر تا ہے۔ فرانس میں اسلامو فوبیا بہت عام ہو چکا ہے لیکن امن اور پیار کبھی علیحدہ نہیں ہوسکتے۔ السلام علیکم۔
lاس کے بعد ڈاکٹر Langewish Katrineصاحبہ جو کہ Antopologist ہیں اور یونیورسٹی آف Jonnas Gutenberg میں افریقن سٹڈیز کی انچارج نے اپنا ایڈر یس پیش کیا جس میں انہوں نے کہا۔ میری جماعت احمدیہ سے ملاقات ویسٹ افریقہ کے ملک بورکینافاسو میں واقع ان کے ایک ہسپتال میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد میں نے اس جماعت کیساتھ اپنارابطے بحال رکھا اور پھر فرانس، جرمنی اور دیگر ممالک میں بھی اس جماعت کو دیکھا۔ بطور Anthropologist ہونے کے میں جماعت کے فلاحی منصوبوں بالخصوص ہیومینٹی فرسٹ میں بہت زیادہ دلچسپی لیتی ہوں اور اس جماعت کا روحانیت کی تلاش اور فلاحی کاموں میں ساتھ ساتھ چلنا بہت ہی اعلیٰ چیز ہے۔ اس لئے مجھے خلیفہ کی موجودگی میں آج اس جلسہ میں شمولیت کر کے بہت خوشی مل رہی ہے۔ آپ لوگوں کو شاید بورکینافاسو میں شائع ہونے والی میری ایک کتاب اچھی لگے جس کا ایک باب ہی جماعت احمدیہ کے متعلق ہے۔
حضور انور ایدہ اللہ کا خطاب
اس کے بعد حضور انور ایدہ الله تعالی بنصرہ العزیز نے 6بجکر 53منٹ پر انگریزی زبان میں خطاب فرمایا جس کا اردو ترجمہ پیش ہے۔
تشہد، تعوذ اور تسمیہ کے بعد حضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
آپ سب پر الله تعالیٰ کی رحمتیں اور سلامتی ہو۔ سب سے پہلے تو میں تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جو کہ ایک مسلمان کمیونٹی کی طرف سے منعقدہ خالص مذہبی تقریب میں شامل ہوئے ہیں۔ حالیہ چند سالوں میں بعض نام نہاد مسلمان گروہوں کےبہیمانہ اور گھناؤنے مظالم فرانس سمیت مختلف ممالک میں بے انتہاء دکھ اور تکلیف پہنچانے کاباعث بنے ہیں۔ اس طرح کے حملوں کی پرزور مذمت ہی کی جاسکتی ہے اور ہماری دعائیں اور ہمدردیاں ہمیشہ ظلم وستم کا شکار ہونے والے ان لوگوں کے ساتھ رہیں گی۔
lحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اسلام کی حقیقی تعلیمات کا دہشت گردی اور انتہاء پسندی سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اسلام تو امن، پیار، تحمل اور صلح کا مذہب ہے۔ ‘‘اسلام ’’کا لفظی مطلب ہی ‘‘امن اور سلامتی ’’ہے۔ پس ایک حقیقی مسلمان وہی ہے جو کہ خود بھی پرامن ہے اور دنیا میں بھی امن و آشتی قائم کرنے کی کوشش میں لگارہتا ہے۔ مسلمانوں کو انتہائی بنیادی سطح پر ہی تعلیم دی گئی ہے کہ جب دوسروں کو خواہ وہ مسلمان ہیں یا غیر مسلم ملیں تو ‘‘السلام علیکم’’کہیں جس کا مطلب ہی یہ ہے کہ آپ پر سلامتی ہو۔ ملنے کا یہ اسلامی طریق خیر خواہی کی علامت ہے جو کہ دوسرے کو امن اور سلامتی کا پیغام دیتا ہے۔ بلکہ میں نے کئی غیرمسلموں کو بھی دیکھا ہے جن کے مسلمان دوست یا واقف کار ہوتے ہیں اور وہ انہیں اسلامی طریق کے مطابق ‘سلام’کہہ کر ملتے ہیں۔ بہر حال یہ ممکن نہیں ہے کہ ہمارا مذہب ہمیں ہر ایک پر امن و سلامتی بھیجنے کی تلقین کرتا ہو اور ساتھ ہی ہم سے یہ بھی مطالبہ کرے کہ لوگوں کی مخالفت میں ان کے حقوق غصب کریں اور ان کے خلاف مشتعل ہو کر ہتھیار لے کر کھڑے ہو جائیں۔ یہ ناممکن ہے کہ اسلامی تعلیمات میں اس قدر تضاد پایا جائے۔ اس لئے یہ واضح رکھیں کہ ہر قسم کی انتہاء پسندی اور ظلم و تعدّی اسلامی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے۔
lحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اسلام کی حقیقت سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ بانی اسلام حضرت محمد مصطفی ﷺ کے زمانہ پر غور کیا جائے۔ جب آپؐ نے الله تعالیٰ کے نبی ہونے کا دعوی فرمایا توآپؐ اور آپؐ کے صحابہ شدید مخالفت اور بہیمانہ مظالم کا شکار بنے۔ اولین مسلمانوں میں سے صرف چند ایک کا ہی تعلق عزت دار اور متمول خاندانوں سے تھا لیکن اکثریت غریبوں اور غلاموں کی تھی۔ کفار مکہ ان لوگوں کو ڈرانے اور دھمکانے کیلئے ان پر شدید ظلم و بربریت ڈھاتے۔ لیکن رسول کریمﷺ عظیم صبر و حوصلہ کیساتھ اس غیرانسانی سلوک اور سنگدلانہ نا انصافیوں کو برداشت کرتے رہے اور اپنے پیرو کاروں کو بھی اسی بات کی نصیحت فرماتے رہے۔ مثال کے طور پر ایک موقع پر رسول کریمؐ نے ایک مسلمان میاں بیوی اور ان کے چھوٹے بچے کو دیکھا کہ کفار انہیں مار پیٹ رہے تھے اور ان پر ظلم ڈھارہے تھے۔ اس سنگدلی اور ظلم و بربریت کے باوجود رسول کریمﷺ نے انہیں ان مظالم کو صبر و استقامت کےساتھ برداشت کرنے کی تلقین فرمائی۔ آپ نے نہ تو ان کو بدلہ لینے کا حکم دیا اور نہ ہی دیگر مسلمانوں کو ان کفار کا مقابلہ کرنے کیلئے بلایا بلکہ آپؐ نے تو اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو پرامن رہنے کا ارشاد فرمایا خواہ ان کی جان بھی چلی جائے۔ آپؐ نے انہیں اس بات کی تاکید فرمائی کہ انہیں اس کا اجر آخرت میں الله تعالیٰ کے حضور حاضر ہو کر ملے گا۔
lحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا۔ چنانچہ رسول کریم ﷺ اور آپؐ کے صحابہ کئی سال تک یہ ظلم و ستم بر داشت کرتے رہے جب تک کہ ہجرت کر کے مدینہ نہیں چلے گئے تاکہ وہاں پر آزادی کیساتھ اپنے مذہب پر عمل کر سکیں اور پرامن زندگیاں گزار سکیں۔ لیکن ہجرت کو زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا کہ کفار مکہ مسلمانوں کا پیچھا کرتے ہوئے ان کے نئے وطن بھی پہنچ گئے اور وہاں بھی مسلمانوں کے خلاف جنگ شروع کر دی۔ پس تب پہلی مرتبہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو مقابلہ کرنے کی اجازت عطا فرمائی اور اس اجازت کا ذکر قرآن کریم کی سورة الحج کی آیات 40 و 41 میں ملتا ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جنگ کرنے کی اجازت اس لئے دی گئی ہے کہ لوگوں کی طرف سے مسلمانوں پر حملے کئے جارہے ہیں اور یہ لوگ صرف اسلام کو ہی نہیں بلکہ مذہب کو ہی صفحہ ہستی سے ختم کر دینا چاہتے تھے۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ اگر مسلمانوں کو دفاع کرنے کی اجازت نہ دی جاتی تو کوئی بھی کلیسا، گر جا، مندر، مسجد اور کسی بھی مذہب کی کوئی بھی عبادتگاه محفوظ نہ رہتی۔ پس اگر رسول کریم ﷺ اور آپؐ کے صحابہ کو مجبور جنگوں میں حصہ لینا پڑا تویہ تمام لوگوں کے حقوق کی حفاظت کی خاطر تھا۔ یہ اس لئے تھا کہ اس بات کی یقین دہانی کروائی جائے کہ عیسائی، یہودی، ہندو، مسلمان اور دوسرے مذاہب و عقائد کے لوگوں کو اپنے اپنے عقیدہ کے مطابق اپنی مرضی سے عبادت کرنے کا حق حاصل ہو۔
lحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:جیسا کہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اگر اسلام نے مسلمانوں کو زبردستی اپنی تعلیمات پھیلانے اور ملکوں پر قبضہ کرنے اور دیگر مذاہب کو ختم کرنے کی اجازت دی ہوتی تو قرآن کریم اتنا کھل کر کیوں کہتا کہ دیگر مذاہب کی حفاظت کرنا اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے حقوق کی حفاظت کرنا مسلمانوں کا مذہبی فریضہ ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ابتدائی مسلمانوں نے شخصی و مذہبی آزادی کے دائمی اصول قائم کرنے کیلئے اپنی جانیں تک دے دیں۔ یہ آزادیاں اسلامی عقیدہ کی بنیاد ہیں اور ہمیشہ کیلئے قرآن کریم میں محفوظ ہو چکی ہیں۔ قرآن کریم کی سورہ بقرہ کی آیت 257 میں اللہ تعالی ٰقطعی طور پر فرماتا ہے کہ ‘‘دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔ ’’یہ آزادی خیال، آزادی مذہب اور آزادی شعور کے حق میں بڑا واضح بیان ہے جس میں کسی قسم کا ابہام نہیں پایا جاتا۔
l حضورانور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے دور میں غیر مسلم افراد کی کبھی حق تلفی نہیں کی گئی اور نہ ہی انہیں اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا گیا یا انہیں اپنی روایات و عقائد کو چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ آنحضرتﷺ تمام عمر امن، بین المذاہب مکالمات اور مختلف قوموں کے مابین مفاہمت اور باہمی عزت و احترام کے خواہاں رہے۔ مثال کے طور پر ہجرت مدینہ کے بعد آنحضرت ﷺنے یہودیوں سے ایک معاہدہ کیا، جس کے تحت ایک مشتر کہ حکومت قائم کی گئی اور بانی اسلام ﷺ کو متفقہ طور پر سربراہ ریاست منتخب کیا گیا۔ اس معاہدہ کی شرائط کے مطابق مسلمانوں اور یہودیوں نے ریاست کے ساتھ تعاون کرنے اور وفادار شہری بننے کا عہد کیا۔ اس معاہدہ کے تحت ہر ایک کو اپنے مذہب اور عقائد پر بغیر کسی خوف، تکلیف یا پابندی کے عمل کرنے کا حق دیا گیا تھا۔ آنحضرتﷺ نے کبھی بھی اس معاہدہ کی خلاف ورزی نہیں کی۔ جبکہ دوسری طرف بعض ایسے مواقع آئے کہ غیر مسلموں نے اس معاہدہ کی خلاف ورزی کی اور پھر پہلے سے ہی متعین کردہ قوانین کے مطابق انہیں سزا دی گئی۔
lحضور انور ایده الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اسلام نے کبھی بھی اپنے پیروکاروں کو یہ اجازت نہیں دی کہ وہ طاقت کے ذریعہ اپنا عقیدہ پھیلائیں اور نہ ہی کسی مسلمان حکومت اور رہنما کو یہ اجازت دی کہ وہ یہ اعلان کریں کہ یہاں صرف مسلمانوں کو رہنے کی اجازت ہے۔ جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ میثاق مدینہ کے تحت ہر قوم کو اپنی روایات اور عقائد پر عمل کرنے کی آزادی تھی۔ وہ معاشرہ ایک اہم اصول پر یکجا تھا کہ ہر کوئی بلاامتیاز مذہب و عقیدہ اپنی اپنی ذمہ داری ادا کرے گا اور ریاست کا وفادار شہری بن کر رہے گا اور ہر اس کام سے اجتناب کرے گا جس سے معاشرے کے امن و تحفظ کو خطرہ لاحق ہو۔ اس لئے یہ بالکل نا انصافی ہے کہ چند معدودے مسلمانوں کے گمراہ کن اور برے اعمال کا الزام اسلام کی امن پسند تعلیم پر ڈالا جائے۔ یہ افراد اور تنظیمیں جو انتہا پسند ہیں اور جن کے ذاتی مفادات دہشت گردی اور انتہا پسندی سے وابستہ ہیں ، ان کا اسلام سے کوئی بھی واسطہ نہیں ہے۔ وہ بیشک اپنے نفرت سے بھرے ہوئے اقدامات کو اسلام کے نام پر جائز قرار دیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ صرف اور صرف قرآن کریم اور بانی اسلامﷺ کی پاکیزہ اور امن پسند تعلیمات کو بدنام کرتے ہیں۔
lحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا۔ قرآن کریم کا ورق ورق اس روشن تعلیم سے بھرا ہے جس کے مطابق مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ دنیا میں امن قائم کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ مثلاً قرآن کریم کی سورہ زخرف کی آیات 89 اور 90 میں آنحضرت ﷺ کی ان درد بھری اور پر سوز دعاؤں کا ذکر کیا گیا ہے جن میں آنحضرت ﷺ خدا تعالی سے التجا کر رہے ہیں کہ وہ جو پیار بھری اور سچی تعلیم لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں اس کا انکار ہورہا ہے۔ جواباً الله تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو ان لوگوں سے در گزر کرنے اور امن کا پیغام پھیلاتے رہنے کی تاکید فرمائی۔
lحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا۔ لفظ ‘‘اَمَنَ’’ کا مطلب ہے کہ ایمان لانا اور امن پھیلانا۔ اور اس لحاظ سے اللہ تعالی نے آنحضرت ﷺ کو اسلام کا پیغام پہنچانے اور باقی معاملہ اللہ پر چھوڑنے اور جن لوگوں نے اس پیغام کو مسترد کیا، انہیں مسلسل امن دیتے رہنے کی تاکید فرمائی۔ قرآن کریم نے کسی ایک جگہ بھی انکار کرنے والوں کے خلاف فساد اور طاقت کے استعمال کی تعلیم نہیں دی بلکہ مسلمانوں کو برداشت اور صبر کی نصیحت کی ہے۔ لہٰذا آجکل کے نام نہاد مسلمان رہنما یا اسلامی حکومتیں جو انتہا پسندی اور جنونیت کا مظاہرہ کرتی ہیں، اس کا الزام انہی کے کندھوں پر ہے۔ ان کے فریبی اور مکروہ رویوں کو، جن کے باعث دنیا کا امن اور ہم آہنگی تباہ ہورہی ہے، کسی بھی صورت جائز قرار نہیں دیا جاسکتا اور نہ ہی اس کی کسی طرح تلافی کی جاسکتی ہے۔
lحضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا۔ اسلامی تعلیم اس بارہ میں قطعی ہے کہ کسی کا زبردستی مذہب تبدیل کرنا ظلم وستم کے ذریعہ دوسروں پر فتح حاصل کرنا سختی سے منع ہے۔ بلکہ امن اور معاشرہ کے تحفظ کے خلاف کوئی بھی ضرر رساں عمل ممنوع ہے۔ رسول کریمﷺ نے ہر موقع پر ملاطفت اور کریم النفسی کا مظاہرہ فرمایا۔ آپ نے سکھایا کہ کیا مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے محفوظ ہیں۔ آپؐ نے یہاں فرق نہیں کیا کہ مسلمان صرف مسلمانوں سے ہمدردی اور رحم کا سلوک کریں۔ بلکہ واضح طور پر فرمایا کہ عقائد کے اختلافات سے بالا ہو کر معاشرہ کے تمام لوگوں کو تحفظ فراہم کرنا چاہئے۔ پس وہ شدت پسند جو نائٹ کلبوں، کانسرٹ ہالوں اور سٹید یمز پر خود کش حملہ کرتے ہیں یا پاگلوں کی طرح عوام الناس پر گاڑیاں چڑھادیتے ہیں وہ انتہائی وحشیانہ اور ظالمانہ رنگ میں اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں۔
lحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:قرآن شریف نے بنیادی انسانی حقوق کے طور پر مذہبی آزادی کے علاوہ اور بھی بہت سے روز مرہ کی زندگی کے اصول سکھائے ہیں جن کے ذریعہ لوگ بلاامتیاز نسل و عقائد مل جل کر پرامن زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر سورة البقرة کی آیت نمبر 189 میں قرآن شریف نے انصاف پر مبنی تجارت کے بارہ میں بیان فرمایا ہے اور مالی تعلقات یا پیسوں کے لین دین میں نیک نیتی کی یقین دہانی کروائی ہے۔ اس آیت میں الله تعالیٰ نے مسلمانوں کو نصیحت فرمائی ہے کہ انہیں کبھی دھوکہ دہی سے مال حاصل نہیں کرناچاہئے۔ بلکہ مسلمانوں کو ایماندار اور قابل اعتبار بننے کی تعلیم دی گئی ہے تاکہ مختلف لوگوں کے در میان عداوت اور کینہ نہ پید اہو۔
lحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا۔ اسلام یہ سکھاتا ہے کہ غیرمنصفانہ تجارت اور بد معاملگی معاشرہ میں اتحاد کو کمزور کر دیتی ہے اور معاشرہ کے امن کو تباہ کر دیتی ہے۔ جہاں دنیا میں انفرادی اور مجموعی سطح پر خود غرضی اور لالچ کے باعث اس قدر انتشار اور تکلیف موجود ہے، وہاں معاشرے میں امن کے قیام کیلئے انصاف اور برابری کے اصول بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ پھر سورة المطففین کی آیات 2 تا 4 میں قرآن شریف فرماتا ہے۔ ”ہلاکت ہے تول میں ناانصافی کرنے والوں کے لئے۔ لیکن وہ لوگ کہ جب وہ لوگوں سے تول لیتے ہیں بھر پور (پیمانوں کے ساتھ) لیتے ہیں ۔ اور جب ان کو ماپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں۔‘‘ یہ آیات اس بات کی توثیق کرتی ہیں کہ جو لوگ تجارتی لین دین میں استحصالی کرتے ہیں، جو دوسروں کو کم دیتے ہیں جبکہ بدلہ میں واجب الادا سے بھی زیادہ کا مطالبہ کرتے ہیں اور دھوکہ دہی اور فریب سے کام لیتے ہیں، ان پر لعنت بھیجی گئی ہے اور ان کا شمار ذلیل و رسوا ہونے والوں میں ہو گا۔
lحضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا۔ قرآن کریم نے بین الا قوامی تعلقات اور اندرونی اختلافات یا مختلف قوموں کے مابین اٹھنے والے اختلافات کو حل کرنے کے بارہ میں بھی رہنما اصول تفصیل کے ساتھ بیان فرمائے ہیں۔ اسلام کی توجہ ہمیشہ پائیدار امن کے قیام اور عناد اور دشمنی کے خاتمہ کی طرف رہی ہے۔ مثال کے طور پر سورة الحجرات کی آیت نمبر 10 میں بیان فرمایا ہے کہ اگر دو گروہوں میں تصادم ہو جائے تو ان کے ہمسایوں یا کسی غیر جانبدار گردہ کو مذاکرات کے ذریعہ ان میں مفاہمت کروادینی چاہئے۔ ثالثی گروہ جو صلح کروائے اپنے مفادات سے مبرا ہو کر کروائے۔ پھر اگر مفاہمت سے پر امن فیصلہ نہ ہو سکے یا کوئی اگر وہ معاہدہ کے بعد اس کی پاسداری نہ کرے تو دوسری اقوام اس فریق کے خلاف متحد ہو جائیں جو نا انصافی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور اس کو زور بازو سے روکیں۔ پھر جب وہ ظلم کرنے والا باز آجائے تو پھر اس کی تذلیل نہیں کرنی چاہئے اور نہ ہی اس پر غیرمنصفانہ پابندیاں لگانی چاہئیں۔ بلکہ انصاف اور پائیدار امن کے حصول کے لئے انہیں موقع فراہم کرنا چاہئے کہ وہ آزاد معاشرہ کے طور پر آگے بڑھ سکیں اور انہیں دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کیلئے ہر قسم کی مدد بھی فراہم کرنی چاہئے۔
lحضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمايا۔ میرا اعتقاد ہے کہ یہ غیرمعمولی قرآنی اصول صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ عالی طور پر تنازعات کو سلجھانے کے لئے بنیادی اصول ہے اور اگر اس پر عمل کیا جائے تو یہ دنیا کے استحکام اور پائیدار امن کے حصول کا ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ بہت سے مسلمان ممالک اس قرآنی اصول پر عمل درآمد کرتے نظر نہیں آتے جس کے نتیجہ میں وہ بےوقوفانہ تنازعات میں الجھے ہوئے ہیں اور مسلسل ظلم و نانصافی کے دائرے میں جکڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے کہ یہ آیت اس بات کو بھی بیان کرتی ہے کہ فاتح کو فتح حاصل کرنے کے بعد شکست خوردہ پر دباؤ نہیں ڈالنا چاہئے اور اس کی تذلیل نہیں کرنی چاہئے۔ اس کی حکمت واضح ہے کہ اگر شکست خوردہ کو ذلیل کیا جائے تو امن زیادہ دیر قائم نہیں رہے گا بلکہ اس قوم کے لیڈروں اور عوام میں اضطراب اور رنجشیں پیدا ہو جائیں گی۔ اور اگر اس کے برعکس اگر شکست خوردہ قوم کے ساتھ شفقت اور انصاف کا سلوک کیا جائے تو باہمی احترام اور اعتماد کی فضاء پیدا ہو گی۔
lحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: تاہم آجکل ہم بارہا دیکھتے ہیں کہ بڑی طاقتیں قیام امن کے نام پر ظلم و نا انصافیاں روا رکھتی ہیں جس کی وجہ سے بے چینی اور عداوتیں پیدا ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہر قسم کا امن معاہدہ نازک دھاگے سے بندھا ہوتا ہے جو کہ ہر وقت ٹوٹنے کے خطرہ سے دو چار رہتا ہے۔ اس قسم کے عدم استحکام سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا ماسوائے دہشت گردوں اور شدت پسندوں کے جو مایوس لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں اور اس کے نتائج ہم کئی سالوں سے دیکھ رہے ہیں۔ مشرق و مغرب دونوں میں امن اور کامرانی کے نیلے آسمان پر نا انصافی اور جنگ کے گھنے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ دنیا کی اکثر و بیشتر اقوام، لڑائی جھگڑا اور انتقام اور دوسروں کو نیچا دکھانے کی خواہش کی وجہ سے چھوٹ کا شکار ہیں۔ بے چینی کا یہ عالم بڑھتا چلا جائے گا جب تک کہ بین الاقوامی تعلقات کی اساس انصاف ، دیانتداری اور دوسروں کے حقوق کی ادائیگی پر نہ رکھی جائے۔ جیسا کہ میں دنیا کو آج دیکھتا ہوں، میری دعا ہے کہ دنیاماضی کی غلطیوں کو نہ دہرائے، بلکہ ہمیں تاریخ سے سبق سیکھنا چاہئے تاکہ ہم اپنے لئے اور اپنی آئندہ نسلوں کے لئے بہتر مستقبل تعمیر کریں۔
lحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اگر ہم پہلی جنگ عظیم کے بعد کے حالات کو دیکھیں تو لیگ آف نیشنز بنائی گئی تھی لیکن یہ اپنے مقاصد کے حصول میں بری طرح ناکام ہوئی۔ اس کی ناکامی کی وجہ یہ تھی کہ انصاف اور غیرجانبداری کو روانہ رکھا گیا تھا۔ بلکہ دوستیاں اور گروہ بندیاں بن گئی تھیں اور بعض اقوام سے غیر مناسب سلوک کیا گیا اور ان کو اپنے وقار سے محروم رکھا گیا۔ جس کے نتیجہ میں جلد ہی انسانی تاریخ کی سب سے ہلاکت کن جنگ یعنی جنگ عظیم دوم شروع ہوگئی۔ بالآخر چھ سال کی تباہ کاری اور فریب کاری کے بعد یہ جنگ اپنے اختتام کو پہنچی ، تو دنیا میں امن و تحفظ کے قیام کیلئے اقوام متحدہ بنائی گئی۔ لیکن اقوام متحدہ بھی اپنے بلند و بالا مقاصد اور بیان کر دہ عزائم کے باوجود اپنے مشن میں ناکام ہو چکی ہے۔ آج دوبارہ گروہ بندی ہو رہی ہے، معاشرہ تفریق کا شکار ہو رہا ہے ۔ اور قوموں کے در میان شگاف روز بروز گہرے ہوتے جارہے ہیں۔ بہت سے مسلمان اور غیرمسلم ممالک امن کا صحیح رنگ میں ادراک نہیں رکھتے اور درپیش خطرات سے لاعلم ہیں۔
lحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا۔ یقیناً اب ہونے والی جنگ کے نتائج ان جنگوں سے کہیں زیادہ بھیانک اور تباہ کن ہیں جو کہ ہم پہلے دیکھ چکے ہیں۔ کیونکہ کئی ملکوں نے ایٹمی ہتھیار بنا لئے ہیں۔ اگر ان میں سے ایک ملک نے بھی یہ مہلک ہتھیار استعمال کر لئے تو وہ نہ صرف اس دنیا کو جو ہم دیکھ رہے ہیں تباہ کر دیں گے بلکہ آئندہ نسلوں کے لئے بھی بھیانک اور تباہ کن نتائج پیچھے چھوڑ کر جائیں گے۔ اگر ایٹمی جنگ شروع ہوتی ہے تو نسل در نسل بچے ذہنی اور جسمانی طور پر معذور پیدا ہوں گے۔ پس اس طرح وہ اپنی قوم کی خدمت کرنے کی بجائے انتہائی تکلیف دہ و جو د بن کر زندگی گزار رہے ہوں گے اور معاشرہ پر بوجھ بن رہے ہوں گے۔ ان کے گھر مایوسی سے بھرے ہوئے ہوں گے، ان کے قصبے افسردہ اور ان کی قوم بد حالی کا شکار ہو گی۔ ہماری بیوقوفیوں اور خود غرضی کی وجہ سے ہونے والی جنگوں کی وجہ سے اگر وہ ہم پر ملامت کریں تو وہ ایسا کرنے میں بجا ہوں گے کیونکہ ان جنگوں نے ان کی پیدائش سے قبل ہی ان کے خواب چکنا چور کر دیئے ہوں گے۔ پس کسی کو بھی اس خیال میں نہیں رہنا چاہئے کہ ہم جس بحران سے گزر رہے ہیں وہ ایک معمولی چیز ہے یا یہ بحران ہمارے رویے تبدیل کئے بغیر خود ہی ٹل جائے گا۔
lحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا۔ علاوہ ازیں، اگر دنیا میں امن اور تحفظ کے فقدان کا الزام اسلام پر ڈالا جا تار ہاتو د نیاکی یہ غیرمستحکم صورتحال مزید بگاڑ کا شکار ہوتی رہے گی۔ کسی مذہب یا اس کے پیروکاروں پر حملہ کرنے سے اس تفریق میں مزید اضافہ ہی ہو گا۔ اس سے صرف انتہا پسندوں کی حوصلہ افزائی ہی ہوگی جس سے تمام جماعتوں اور عقائد کے مابین نفرت کی آگ بھڑکانے کی کوششوں میں مزید اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔
lحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا۔ جیسا کہ میں نے صاف طور پر بیان کر دیا ہے کہ اگر مسلمان ممالک یا دہشت گرد گروہ اسلام کے نام پر ظلم کرتے ہیں تو یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ اپنی تعلیمات سے منحرف ہوچکے ہیں اور صرف ذاتی مفادات کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ آجکل کے تنازعات اور جنگوں کا مذہب سے کچھ لینا دینا نہیں بلکہ فقط دولت، طاقت اور جغرافیائی فتح کی غرض سے ہیں۔
lحضور انور ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا۔ ان باتوں کے پیش نظر میں اپنے دل کی گہرائیوں سے دعا گو ہوں کہ اللہ کرے کہ دنیا والے مشترکہ مفاد کی خاطر اکٹھے ہوں اور اور اتحاد کے ساتھ کام کریں اور باہمی اعتماد اور مفاہمت کو پروان چڑھائیں۔ آیئے ہم سب مذہب پر الزام لگانے یا ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھانے کی بجائے مل کر اپنی تمام تر طاقت امن کے قیام کے لئے صرف کریں اور اپنی آئندہ نسلوں کے لئے محفوظ مستقبل چھوڑ کر جائیں۔ ہماری آئندہ نسلیں ہمیں نفرت اور ناراضگی کیساتھ نہیں بلکہ انس اور پیار کے ساتھ یاد کریں۔ اللہ کرے کہ تمام افراد اور تمام اقوام ایک دوسرے کے حقوق پورے کرنے والی ہوں ۔ اور الله کرے کہ ہمدردی اور انصاف ہر قسم کی نا انصافی اور تنازعات پر غالب آجائے۔ ان الفاظ کے ساتھ میں اب ایک دفعہ پھر آپ سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ سب یہاں آئے۔ بہت بہت شکریہ
خطاب کے آخر میں حضور انور ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز نے دعا کروائی۔ جس میں تمام مہمان اپنے اپنے طریق کے مطابق شامل ہوئے۔
رسالہ ریویو آف ریلیجنز کا فرنچ ایڈیشن
lحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا یہ خطاب 7بجکر 23منٹ تک جاری رہا۔ بعد ازاں پروگرام کے مطابق حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے رسالہ ریویو آف ریلیجنز کے فرنچ ایڈیشن کی ویب سائٹ کا اجراء فرمایا۔
اب اس رسالہ کے پرنٹ ایڈیشن کے ساتھ ساتھ اس کا انٹرنیٹ ایڈیشن بھی دستیاب ہوگا۔ اس طرح ان شاء اللہ العزیز اس رسالہ کے ذریعہ فرنچ زبان بولنے والے کروڑوں لوگ تک اسلام کا حقیقی پیغام پہنچے گا۔
رسالہ ریویو آف ریلیجنز وہ بابرکت رسالہ ہے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے 1902ء میں مغربی دنیا کو اسلام کی خوبصورت اور حقیقی تعلیم سے روشناس کروانے کے لئے جاری فرمایا۔ حضور علیہ السلام کے عہد مبارک میں ہی اس رسالہ کی شہرت اس قدر ہوئی کہ مغربی اخبارات، رسائل اور علمی طبقہ نے اس کے مختلف حوالہ جات دیئے۔
اس وقت تک رسالہ ریویو آف ریلیجنز چار زبانوں انگریزی (ماہانہ) جرمن (سہ ماہی)، فرنچ (سہ ماہی) اور سپینش (سہ ماہی) شائع ہو رہاہے۔
فرنچ ایڈیشن گزشتہ دو سالوں سے پرنٹ ایڈیشن میں دستیاب تھا۔ لیکن اب انٹرنیٹ کے ذریعہ ایک کثیر تعداد کو اسلام کی حقیقی تعلیمات سے آگاہ کرنے کا باعث ہوگا۔ ان شاء اللہ العزیز
ہو مینیٹی فرسٹ فرانس کے دفتر میں ورود
بعدازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزمارکی سے باہر تشریف لائے اور ہیومینیٹی فرسٹ فرانس کے دفتر میں تشریف لے گئے۔ اس شعبہ نے بھی جلسہ کے موقع پر اپنا ایک دفتر قائم کیا تھا۔ جس میں اس شعبہ کے ذریعہ ہونے والے کاموں کو نمایاں کر کے تصویری اور تحریری زبان میں دکھایا گیا تھا۔ حضور انور نے معائنہ فرمایا اور بعض امور کے متعلق دریافت فرمایا۔
آج کی اس تقریب میں Francophone ممالک سے تعلق رکھنے والے 75مہمان شامل ہوئے۔ علاوہ ازیں ان ممالک سے تعلق رکھنے والے نومبائع احمدی احباب بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔
حضور کی طعام میں شرکت اور مہمانوں سے ملاقات
ایک علیحدہ مارکی میں ان مہمانوں کے لئے شام کے کھانے کا انتظام کیا گیا تھا۔ پروگرام کے مطابق حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اس مارکی میں تشریف لائے جہاں ان مہمانوں نے حضور انور کی معیت میں کھانا تناول فرمایا۔
کھانا کھانے کے بعد مہمانوں نے باری باری حضور انور سے ملاقات کی سعادت پائی۔ مہمان باری باری حضور انور کے پاس تشریف لاتے۔ حضور انور ازراہ شفقت مہمانوں سے گفتگو فرماتے۔ مہمان حضور انور کے ساتھ تصویر بنوانے کی سعادت پاتے۔
بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکچھ دیر کے لئے اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔
8بجکر 50منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مردانہ جلسہ گاہ میں تشریف لا کر نماز مغرب و عشاء جمع کر کے پڑھائی۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔
مہمانوں کے تاثرات
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے آج کے خطاب نے غیرمسلم اور غیرازجماعت مہمانوں پر گہرا اثر چھوڑا اور بعض مہمان اپنے جذبات کا اظہار کئے بغیر نہ رہ سکے۔
lاس علاقہ کے میئر نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب میں بدھ کے دن خلیفۃ المسیح کے استقبال کے لئے یہاں آیا تھا تو جس بات نے سب سے زیادہ مجھے متاثر کیا وہ یہ تھی کہ خلیفۃ المسیح بہت ہی سکون اپنے اندر رکھتے ہیں۔ آج دنیا بھاگ دوڑ میں لگی ہوئی ہے۔ کیا سیاسی لیڈر اور کیا مذہبی لیڈرز سب بے چینی میں مبتلا ہیں۔ لیکن خلیفۃ المسیح باوجود اس کے کہ لمبا سفر کر کے آئے تھے۔ بہت پرسکون تھے اور بہت مسکراتے ہوئے ملے۔
lایک مہمان خاتون Alfonsina Bellio صاحبہ جو پیشہ کے اعتبار سے Anthropologist ہیں انہوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خلیفۃ المسیح کے خطاب سے بہت متاثر ہوئی ہوں۔ جب خلیفۃ نے یہ بات کی کہ وہ فرانس میں جو مختلف حملے ہوئے ہیں ان کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کر دیا کہ اسلام کا ایسے حملوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ خلیفۃ المسیح امن پسند اور کھلے ذہن کے مالک ہیں اور رواداری کو فروغ دیتے ہیں۔
آپ نے اسلام کی جو حقیقی تصویر پیش کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان آسانی سے مغربی دنیا میں Integrate ہو سکتے ہیں۔ جو کہتے ہیں کہ مغربی دنیا میں اسلام کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ مسلمان باہم مل کر نہیں رہ سکتے وہ غلط کہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو آج کی تقریر سننی چاہئے۔
lایک غیراحمدی مسلمان مرتضیٰ صاحب جن کا تعلق ایران سے ہے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہیں آج احمدیہ کمیونٹی اور خلیفۃ المسیح کے سٹیٹس کا پہلی مرتبہ علم ہوا ہے۔ لوگ دنیا میں اسلام کے خلاف بہت پراپیگنڈہ کرتے ہیں۔ آپ کے خلیفہ نے آج ان سب کا زبردست جواب دیا ہے۔ مسلمانوں کی حالت ایسی ہے کہ ان کو تو اپنے عقیدہ اور ایمان کے بارہ میں علم نہیں۔ ان کو آپ کے خلیفہ سے اسلام سیکھنا چاہئے۔ خلیفہ نے آج واضح کر دیا ہے کہ جہاد اصل میں کیا ہے اور آج کس طرح اس کی غلط تشریحات کی جارہی ہیں۔ خلیفہ نے اسلام کے ابتدائی دور کے واقعات اور آنحضرتﷺ کے جو واقعات پیش کئے ہیں ان سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام ایک امن پسند مذہب ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں پہلی دفعہ اتنا پر حکمت خطاب سنا ہے۔
lمراکش سے تعلق رکھنے والے ایک غیراحمدی مہمان سفیان صاحب بیان کرتے ہیں۔ مجھے آج خلیفۃ المسیح کے خطاب سے اس بات کا اندازہ ہوا ہے کہ آپ لوگ ہی حقیقی اور اصل مسلمان ہیں اور جو لوگ کہتے ہیں کہ آپ مسلمان نہیں ہیں۔ وہ بالکل غلط کہتے ہیں۔ مولویوں نے جو مجھے بچپن سے احمدیوں کے بارہ میں سکھایا تھا وہ سب جھوٹ تھا۔ لوگ فرانس میں اسلام سے ،مسلمانوں سے ڈرتے ہیں۔ ہمیں پتہ نہیں تھا کہ ہم کس طرح اس کا دفاع کریں۔ آج خلیفۃ المسیح نے بہت عمدہ طریق سے دفاع کیا ہے۔
lایک عیسائی مہمان Jacob صاحب نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔
ایسے پرگراموں کی دنیا میں بہت ضرورت ہے۔ آپ کے خلیفہ مختلف اقوام اور مذاہب میں جو آپ کے فاصلے ہیں۔ ان کو گرا رہے ہیں۔ انہوں نے ہمیں یہ سمجھایا ہے کہ جو دہشت گرد ہیں ان کے سیاسی مقاصد ہوتے ہیں۔ مذہب ایک اچھی چیز ہے۔ مذہب سے ڈرنا نہیں چاہئے۔ خلیفہ نے باربار آزادی کی بات کی ہے۔ یہ فرانس کے لوگوں کے لئے ایک نئی بات ہے۔ فرانس کے لوگوں میں اسلام کے بارہ میں بالکل اور سوچ ہے۔
lایک مہمان Maxine Onfray صاحب جو تھنک ٹینک میں کام کرتے ہیں کہنے لگے کہ آج میری زندگی کا بہت پیارا دن ہے۔ جس میں میں نے خلیفۃ المسیح کو براہ راست سنا ہے اور دیکھا ہے۔ آپ کے خلیفہ نے بالکل صحیح کہا ہے کہ اس وقت ہم ایک ایسے اندھیرے دور سے گزر رہے ہیں۔ جس میں نفرت پائی جاتی ہے۔ لیکن ساتھ ہمیں یہ بھی سمجھا دیا کہ یہ سب کچھ مذہب کی وجہ سے نہیں ہے اور لوگوں کو اسلام سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ خلیفہ نے جو یہ کہا ہے کہ مذہب کو شدت پسند لوگوں نے Highjack کر لیا ہے اور اسے اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ بالکل درست کہا ہے۔ میں اس سے متفق ہوں۔
lجب مہمان حضور انور کے ساتھ کھانا کھانے کے بعد تصاویر بنوا رہے تھے تو اس وقت ایک خاتون جس کا تعلق کوریا سے تھا اس نے بھی تصویر کی درخواست کی۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ عرض کرتی۔ حضور انور نے فرمایا آپ کا تعلق کوریا سے ہے۔ یہ الفاظ سنتے ہی وہ عورت حیرت سے اچھل پڑی کہ حضور کو کیسے علم ہوا کہ میرا تعلق کوریا سے ہے۔ چنانچہ اس نے اپنی روایتی انداز میں ہاتھ جوڑتے ہوئے اور جھکتے ہوئے بتایا کہ اس کا تعلق کوریا سے ہے۔ بعد ازاں اس نے تصویر بنوانے کی سعادت بھی پائی۔

image_printپرنٹ کریں