skip to Main Content
سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالٰی بنصرہ العزیز کا دورہ امریکہ:قسط نمبر21

حضور انور کا مہمانوں سے انگریز ی میں خطاب اور احباب کے تاثرات

عبدالماجد طاہر۔لندن

03۔نومبر2018ء

(حصہ دوم)

مسجد مسرور کی افتتاحی تقریب پرحضور انور کا خطاب

اس کے بعد چھ بج کر 12منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے مہمانوں سے انگریزی زبان میں خطاب فرمایا۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطاب کا اردو ترجمہ پیش کیا جارہا ہے۔

حضورا نور نے اپنے خطاب کا آغاز تشہد و تعوذ سے فرمایا۔اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:

تمام معزز مہمانان!السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ۔آپ سب پر اللہ تعالیٰ کی سلامتی اور برکتیں ہوں۔اس موقع پرسب سے پہلے تو میں اپنے تمام مہمانوں کا ہماری دعوت قبول کرنے اور اس مسجد کے افتتاح میں شامل ہونے پر شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔آپ لوگوں کا شکریہ ادا کرنا دراصل میرا مذہبی فريضہ ہے کیونکہ بانیٔ اسلام حضرت محمد مصطفیﷺ نے یہ تعلیم دی ہے کہ جو انسان دوسرے انسان کا شکر گزار نہیں وہ خدا تعالیٰ کا بھی شکر گزار نہیں ہو سکتا۔

حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:۔اس شہر میں رہنے والی اکثریت غیر مسلموں کی ہے اور اس علاقہ میں احمدیوں کی تعداد بہت تھوڑی ہے لیکن اس کے باوجود یہاں کے لوگ اور کاؤنٹی آفیشلز نے ہمیں یہاں مسجد تعمیر کرنے کی اجازت دی ہے۔اس سے آپ لوگوں کی وسعتِ قلبی اور رواداری کے اعلیٰ معیار ظاہر ہوتے ہیں۔مزید یہ کہ آپ میں سے اکثر مسلمان نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود ایک مذہبی اور اسلامی تقریب میں شامل ہو رہے ہیں،یہ چیزبھی آپ کے کشادہ ذہن ہونے کی عکاسی کرتی ہے اور یہ آپ کی باہمی رواداری اور نیک فطرت کی وجہ سے ہے کہ آپ لوگ بڑی کامیابی سے اپنے اندر نئی کیمونیٹیز اور سوسائیٹز کو جذب کر لیتے ہیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:۔ہم سب جانتے ہیں کہ اس دور میں اسلام کو میڈیا میں بڑے پیمانہ پر منفی رنگ میں دکھایا جا رہا ہے۔اس منفی کوریج کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ بعض نام نہاد مسلمانوں کی ایک قلیل تعداد کو انتہا پسند بنایاگیا ہے جنہوں نے اپنی نفرت سے بھر پور اعمال کو درست ثابت کرنے کے لئے اسلام کا نام استعمال کر کے شدید قابل مذمت طریق اختیار کئے ہیں۔اس کے نتیجہ میں اکثر غیر مسلموں کے دلوں میں اسلام کے متعلق تحفظات اور خدشات جنم لے چکے ہیں۔بلکہ لوگ دن بدن اسلام کو معاشرے کے لئے ایک خطرہ سمجھنے لگ گئے ہیں۔ان باتوں کی روشنی میں مقامی لوگوں کا مسجد کی تعمیر کی اجازت دے دینا اور پھر اس مسجد کے افتتاح کی خوشی میں شامل ہونا انتہائی قابلِ تعریف عمل ہے اور مجھے پابند کرتا ہے کہ میں ایک مرتبہ پھر آپ سب لوگوں کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کروں۔

حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:

میں آپ لوگوں کو اس بات کا بھی یقین دلانا چاہتا ہوں کہ میڈیا میں جو اسلام کو منفی رنگ میں دکھایا جا رہا ہے اس کا مذہب کی حقیقت سے دور دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔بعض انفرادی لوگ یا چند گروہ جو اپنی گھناؤنی حرکتوں کو درست ثابت کرنے کے لئے اسلام کا نام استعمال کرتے ہیں ان کا اسلام کے ساتھ کوئی بھی تعلق نہیں۔اسلام تو پیار،محبت ، امن، صلح اور بھائی چارے کی تعلیم دیتا ہے۔دراصل ’اسلام‘جو کہ عربی لفظ ہے اس کے معانی ہی ’امن‘کے ہیں۔پس ایک مذہب جس کا نام اور اس کی بنیاد ہی امن پر قائم ہے اس کے لئے یہ ناممکن ہے کہ وہ ایسی باتوں کی اجازت دے یا ایسی چیزوں کو فروغ دے جن سے معاشرے کا امن خطرے میں پڑ جائے بلکہ ایسے مذہب کے لئے ضروری ہے کہ وہ امن کو فروغ دے اور انسانیت میں پیار ومحبت کو پھیلائے ۔یقیناقرآن کریم جو کہ ہماری مقدس کتاب اور اسلامی تعلیمات اور اسلامی قانون کا سب سے زیادہ معتبر اور مستند ذریعہ ہے اس سے ہم نے یہی چیزیں سیکھی ہیں۔شروع سے لے کر آخر تک قرآن کریم صرف امن کی کتاب ہے جو کہ عالمی انسانی حقوق و اقدار کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔اس کی تعلیمات بنی نوع انسان کو انسانیت کے جھنڈے تلے یکجا کرتی ہیں اور ہر فرد واحد کے حق کی ضمانت دیتی ہیں کہ وہ مکمل آزادی،انصاف اور عدل کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکے۔

حضورا نور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:۔

قرآن کریم میں فرمایاگیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام قوموں میں رسول بھیجے تا کہ وہ ان قوموں کے اندر بنیادی حقو ق اور عدل و انصاف کی اقدار کو قائم کریں۔یہ رسول اس لئے مبعوث ہوئے کہ ان قوموں کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور اس کی مخلوق کے ساتھ تعلق قائم ہو اور وہ بنی نوع انسان کو ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ دلائیں۔ہم بحیثیت مسلمان یہ ایمان رکھتے ہیں کہ ان مقاصد کو پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے تمام اقوام میں رسول مبعوث فرمائے اور بڑے بڑے مذاہب کی تاریخ ثابت کرتی ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام اخلاقیات اورنیکی کی اعلیٰ اقدار پر عمل کرنے والے اور ان کی تبلیغ کرنے والے تھے۔ اس لئے اسلام کی تعلیمات تو انسانیت کو متحد کرتی ہیں اور مذہب،رنگ و نسل کے تضادات سے بالا ہو کر آپس میں باہمی محبت اور احترام کے جذبہ کو فروغ دیتی ہیں۔اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو کہ حائل رکاوٹوں کو گراتا ہے اور پُرامن اور رودارانہ گفتگو کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔اس لئے ایک سچے مسلمان کے متعلق یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ وہ دوسرے مذاہب کی مخالفت کرے اور ان کے ماننے والوں پر مظالم ڈھائے۔اسلام نے کبھی اورکہیں بھی شدت پسندی کی تعلیم نہیں دی اور نہ ہی ظلم کی کسی بھی صورت کی حوصلہ افزائی کی۔جب کبھی یا جہاں کہیں بھی اگر کسی مسلمان نے دہشت گردی کا حملہ کیا یا کسی قسم کی انتہائی پسندی یا جنونیت کا مظاہرہ کیا تو یہ صرف اسلامی تعلیمات سے دوری کی وجہ سے کیا۔اس طرح کے لوگ یا اس قسم کی حرکات صرف اور صرف اسلام کے مقدس نام کو خراب کرتی ہیں۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:

قرآن کریم کی سب سے پہلی سورۃ ’الفاتحہ‘میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ رب العالمین ہے جو تمام انسانوں کو پالتا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ وہ لوگوں کے مذہب اور عقیدہ سے بالا ہو کر تمام بنی نوع انسان کو پالتا ہے۔ایسے لوگ جو اللہ تعالیٰ کے وجود کے انکاری ہوتے ہیں یا لامذہب ہوتے ہیں وہ لوگ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمانیت اور رحیمیت سے فیضیاب ہوتے ہیں۔چنانچہ جہاں قرآن کریم اللہ تعالیٰ کو ’رب العالمین‘قرار دیتا ہے، وہاں یہ بھی بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ رحمان اور رحیم ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بانیٔ اسلام حضرت محمد ﷺکے متعلق فرمایا کہ آپ ﷺ رحمۃ للعالمین ہیں۔بلاشک و شبہ پیغمبر اسلام ﷺنے اپنی ساری زندگی انسانیت سے بے پناہ محبت اور شفقت کا مظاہرہ کیا۔آپ ﷺکا دل محبت اور پیار سے معمور تھا اور آپ ﷺہر وقت انسانیت کی بہتری میں لگے رہتے اور ہمیشہ دوسروں کی تکالیف دور کرنے کی کوشش کرتے۔آپ ﷺنے اپنے پیروکاروں کو تمام انسانیت کی عزت و تکریم کرنے کی تعلیم دی۔مثال کے طور پر ایک موقع پر آپﷺتشریف فرما تھے اور قریب سے ایک جنازہ گزرا تو آپ ﷺفوراًکھڑے ہو گئے۔اس پر آپ ﷺکے ایک صحابی نے عرض کیا کہ یہ تو یہودی کا جنازہ تھا نہ کہ مسلمان کا۔اس پر پیغمبر اسلام ﷺنے فرمایا کہ کیا وہ انسان نہیں تھا؟اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ ﷺکے دل میں انسانیت کے لئے کس قدر محبت تھی۔اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ آپﷺنے کس طرح اپنے پیرو کاروں کو دیگر عقائد اور مذاہب کے لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کی تعلیم دی کہ انہیں دوسروں کے احساسات کا خیال رکھنا چاہئے اور ان کے جذبات کابھی احترام کرنا چاہئے۔

حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:۔بہت سے لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا اسلام مذہبی آزادی کو فروغ دیتا ہے؟اس سوال کے جواب میں،میں آنحضرتﷺکی حیاتِ مبارکہ میں سے ایک اور مثال دیتا ہوں۔ایک مرتبہ نجران کے عیسائیوں کا وفد آپ ﷺسے ملنے کے لئے مدینہ آیا۔کچھ دیر کے بعد یہ عیسائی مضطرب ہونے لگ گئے۔رسولِ کریم ﷺنے دریافت فرمایا کہ ’سب خیریت ہے؟‘عیسائیوں نے جواب دیا کہ یہ وقت اُن کی عبادت کا ہے لیکن یہاں پر عبادت کرنے کے لئے کوئی مناسب جگہ نہیں ہے۔اس پر رسول کریمﷺنے عیسائیوں کو ان کے طریق کے مطابق مدینہ میں موجود اپنی مسجد میں عبادت کے لئے دعوت دی۔رسول کریمﷺنے اس عظیم الشان نمونہ کے ذریعہ ساری انسانیت کے لئے مذہبی رواداری اور مذہبی آزادی کی ابدی مثال قائم فرما دی۔لیکن پھر بھی بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ دورِاولیٰ کے مسلمانوں نے جنگیں کیوں لڑیں؟

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:۔میں اس کی بھی وضاحت کر دوں کہ جہاں کہیں بھی اسلام نے طاقت استعمال کرنے کی اجازت دی وہ ملکوں پر قبضہ کرنے کے لئے یا لوگوں کو زبردستی اسلام قبول کروانے کے لئے نہیں دی بلکہ قرآن کریم نے جہاں دور اولیٰ کے مسلمانوں کو کسی حد تک طاقت کا استعمال کرنے کی اجازت دی،وہاں بڑی وضاحت کے ساتھ فرمایا کہ یہ اجازت امن و تحفظ کو قائم کرنے کے لئے دی گئی ہے اور اس بات کی یقین دہانی کروانے کے لئے دی گئی کہ حقیقی مذہبی آزادی کا بول بالا ہو۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ طاقت کے استعمال کی اجازت اسلام کو بچانے کے لئے نہیں بلکہ لوگوں کے حقوق اور تمام مذاہب کی حفاظت کے لئے دی گئی تھی اور تمام لوگوں کے اس حق کی ضمانت کے لئے دی گئی تھی کہ وہ جو چاہیں عقیدہ اختیار کریں۔چنانچہ قرآن کریم کی سورۃ حج کی آیت 41میں جہاں پہلی مرتبہ مسلمانوں کو دفاعی جنگ کرنے کی اجازت دی گئی وہاں اس بات کی بھی وضاحت کی گئی کہ مخالفین اسلام کسی سیاسی یا قومی یا ذاتی وجوہات کی وجہ سے مسلمانوں کے خلاف جنگ نہیں کررہے تھے بلکہ اس جنگ کا محرک ان کی مذہب سے نفرت تھی۔اس آیت میں آتا ہے کہ اگر مسلمانوں نے اس وقت اس ظلم اور ناانصافی کے خلاف قدم نہ اٹھائے تو تمام مذاہب کا خاتمہ ہو جائے گا اور مذہبی آزادی بالکل ناپید ہو جائے گی۔یہ آیت خاص طور پر ذکر کرتی ہے کہ اگر ان کے حملوں کا جواب نہ دیا گیا تو یہود کے معبد خانے،عیسائیوں کے گرجے،مساجد اور دیگر عبادت گاہیں محفوظ نہیں رہیں گی۔اس لئے سچ تو یہ ہے کہ دوسروں پر پابندیاں لگانے یا دوسروں کی مذہبی آزادی کو ختم کرنے کی بجائے قرآن کریم اپنی ذات میں مذہبی آزادی کے سب سے پہلا منشور ہے۔مزید یہ کہ قرآن کریم مذہبی آزادی کو بنیادی انسانی حق قرار دیتا ہے اس لئے اس کا مطلب یہی بنتا ہے کہ حقیقی مساجد مذہبی آزادی کی علامت ہیں اور باہمی عزت و احترام اور پیار و محبت کی روشن مشعلیں ہیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:۔پس میں امید کرتا ہوں آپ کے ماضی میں جو احمدیوں کے ساتھ تعلقات تھے ان سے آپ نے پیار، محبت اور اخوت کا جذبہ ہی دیکھا ہوگا۔اس لئے اس مسجد کی تعمیر کے بعد یہ جذبہ مزید بڑھے گا اور ہماری انسانیت کی خدمت اور پیار و محبت کا پیغام پہلے سے بڑھ کر ہر سُو گونجے گا۔مقامی احمدی مسلمان اس مسجد کے ہمسایوں کے حقوق کی ادائیگی کے لئے اپنی کوششوں میں مزید اضافہ کریں گے۔درحقیقت قرآن کریم بار بار مسلمانوں کو توجہ دلاتا ہے کہ وہ اپنے ہمسایوں کے حقوق ادا کریں اور ان کے ساتھ کمال محبت اور شفقت کے ساتھ پیش آئیں۔میں اس بات کی بھی وضاحت کر دوں کہ ہمارے ہمسائے صرف وہی نہیں جو مسجد یا احمدی گھروں کے قرب و جوار میں رہتے ہیں بلکہ قرآن کریم کے مطابق ہمسائیگی کا دائرہ تو اس سے کہیں وسیع ہے اور اس ہمسائیگی میں آپ کے ساتھ کام کرنے والے ،آپ کے ماتحت کام کرنے والے، آپ کے ساتھ سفر کرنے والے اور اس کے علاوہ اور بھی بہت سے افراد شامل ہیں۔خالصتاًاس شہر کے سارے لوگ ہی ہمارے ہمسائے بنتے ہیں اور یہ ہمارا مذہبی فريضہ ہے کہ ہم اپنے ہمسایوں کے ساتھ نیک اور پیار اور کشادہ دلی کا سلوک کریں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:۔میری دعا ہے کہ یہاں کے مقامی احمدی میری باتوں کے مطابق اپنی زندگیاںگزارنے والے ہوں اور ہر دن اپنے قول اور فعل سے اسلام کی محبت اور پیار کے بنیادی پیغام کی حقیقی عکاسی کرنے والے ہوں۔اللہ کرے کہ احمدی نہ صرف اس علاقہ میں بلکہ سارے ملک میں اسلام کا امن اور خیر خواہی کا پیغام پھیلانے والے ہوں۔اللہ کرے کہ احمدی اپنے ہمسایوں اور معاشرے کے دیگر افراد کے ساتھ پیار اور ہمدردی کا سلوک کرنے والے ہوں تا کہ بعض غیر مسلموں کے ذہنوں میں اسلام کے متعلق جو بھی خدشات اور تحفظات ہیں وہ جلد از جلد ختم ہو جائیں۔میری دعا ہے کہ احمدی ہماری مقدس کتاب قرآن کریم کی اعلیٰ تعلیمات پر عمل کرنے والے ہوں تا کہ یہاں کے مقامی لوگ اسلام کی حقیقت جان سکیں۔اللہ کرے کہ حضرت محمد ﷺجو کہ قرآنی تعلیمات کے کامل مظہر تھے ان کا اعلیٰ اور نیک نمونہ یہاں امریکہ میں اور اس سے باہر بھی لوگوں پر ظاہر ہو۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:۔میری دلی دعا ہے کہ مقامی،علاقائی،ملکی اور بین الاقوامی سطح پر تمام مذاہب کے لوگ دنیا میں امن کا پیغام پھیلانے کی قدرِ مشترک پر متحد ہو جائیں۔میرے دل کی گہرائی سے یہ دعا نکلتی ہے جب ہم لوگ اس دنیا سے کوچ کریں تو ہمارے بچے اور ہماری آنے والی نسلیں ہمیں پیار اور محبت کے ساتھ یاد کریں۔وہ یہ کہنے والے ہوں کہ ہمارے بزرگوں نے بنی نوع انسان میں پیار ،امن اور بھائی چارہ کو پھیلانے اور اپنے پیچھے ایک پُرامن اور روشن دنیاچھوڑنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔اس کے برعکس آپ یقینا یہ گوارا نہیں کر سکتے کہ ہمارے بچے ہمیں نفرت کے ساتھ یاد کریں کہ ہم جنگ اور خون ریزی کو پھیلانے والے تھے اور ان کے مستقبل کو تباہ کرنے والے تھے اور ہم نے ان کے لئے صرف جنگ اور تباہی کے اثرات ہی چھوڑے ہیں۔

حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:۔پس آنے والی نسلوں کی حفاظت کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے تضادات کو نظر انداز کر کے ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے اور انسانیت کی خدمت کرنے کی طرف توجہ دلائیں۔یہ ہماری ذمہ داری ہے بلکہ ہمارا فريضہ ہے کہ ہم اپنے پیچھے بعد میں آنے والوں کے لئے خوشحال اور پُرامن دنیا چھوڑیں۔اس کوحاصل کرنے کے لئے لازم ہے کہ ہم اپنی تما م تر طاقتیں امن کے قیام کے لئے بروئے کار لائیں۔

اسلام کا بنیادی اصول یہ ہے کہ تمام مذاہب اور ان کے رہنمائوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جائے۔جیسا کہ میں نے آغاز میں بھی کہا تھا ہم تمام انبیاء پر ایمان لاتے ہیں اس لئے ایک حقیقی مسلمان کے لئے ممکن نہیں ہے کہ وہ ان انبیاء یا ان کی تعلیمات کے خلاف باتیں کرے۔پس یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ لوگوں کے رنگ و نسل اور مقام و مرتبہ سے بالا ہو کر ہم ایک دوسرے کے مذہب اور عقائد کا احترام کریں۔

حضورا نور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:۔ان الفاظ کے ساتھ میں امید کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اُن تنازعات کو ختم کرنے کی توفیق عطا فرمائے جنہوں نے دنیا کو گھیر رکھا ہے ہر قسم کی ناانصافی اور عدم برداشت کو ختم کرنے میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:۔میری دعا ہے کہ ہم اپنے پیچھے نفرت اور ظلم سے بھری ہوئی دنیا کی بجائے ایک ایسی دنیا چھوڑ کر جائیں جو پیار اور محبت سے بھری ہو۔اپنے ذاتی مفادات کے پیچھے پڑے رہنے کی بجائے لوگ خدمت انسانیت کی اقدار کو پہچاننے والے ہوں اور آخر میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ کرے یہ مسجد اس معاشرے کے  لئے مشعل راہ اور اتحاد اور نئی امید پیدا کرنے کا ذریعہ بنے۔آپ سب کا ایک مرتبہ پھر شکریہ۔اللہ تعالیٰ آپ سب پر فضل فرمائے۔آمین

اس کے بعد حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے دعا کروائی جس میں مہمان اپنے اپنے طریق پر شامل ہوئے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطاب کے اختتام پر مہمانوں نے دیر تک تالیاں بجا کرحضور انورکے خطاب کو سراہنے کا اظہار کیا۔

بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے بعض مہمانوں کو تحائف عطا فرمائے اس کے بعد ڈنرکا پروگرام ہوا۔

کھانے کے بعد مہمانوں نے باری باری حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزسے ملاقات کی۔مہمان ایک قطار میں حضور انور سے ملنے کے لئے آتے رہے۔حضور انور مہمانوں سے گفتگو فرماتے۔مہمان حضورا نور کے ساتھ تصاویر بنواتے۔

بعدازاں حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکچھ دیر کے لئے اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

پونے آٹھ بجے حضورا نور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مسجد مسرور میں تشریف لا کر نماز مغرب و عشاء جمع کر پڑھائیں۔

نمازوں کی ادائیگی کے بعد پروگرام کے مطابق یہاں سے واپس مسجد بیت الرحمن واشنگٹن کے لئے روانگی تھی۔

احباب جماعت مرد و خواتین بہت بڑی تعداد میں حضور انور کو الوداع کہنے کے لئے مسجد کے بیرونی احاطہ میں موجود تھے۔حضورا نور مسجد سے باہر تشریف لے آئے اور کچھ دیر کے لئے احباب میں رونق افروز رہے۔سبھی لوگ چھوٹے بڑے مرد و خواتین اپنے آقا کی زیارت سے فیضیاب ہو رہے تھے۔قدم قدم پر بچے بچیاں خواتین حضور انور کی تصاویر بنا رہی تھیں۔

بعد ازاں حضورا نور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے اپنا ہاتھ بلند کر کے سب کو السلام علیکم کہا اور دعا کروائی اور آٹھ بج کر 25منٹ پر یہاں سے روانگی ہوئی۔قریباًایک گھنٹہ پانچ منٹ کے سفر کے بعد ساڑھے نو بجے حضورا نور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکی مسجد بیت الرحمن تشریف آوری ہوئی اور حضورا نورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزاپنی رہائش گاہ تشریف لے گئے۔

احباب کے تاثرات

آج کی تقریب میں شامل مہمانوں پر حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکے خطاب نے گہرا اثر چھوڑا اور مہمانوں نے برملا اپنے جذبات کا اظہار کیا۔بعض مہمانوں کے تاثرات ذیل میں درج کئے جا رہے ہیں۔

  • طارق خلیل صاحب جو کہ ایک بینک میں کام کرتے ہیں اور غیر احمدی مسلمان ہیں،انہوں نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا:

جماعت احمدیہ کے افراد بہت عقلمند ہیں اور ان کا اپنی جماعت کے ساتھ گہرا تعلق ہے اور دوسرے مسلمانوں کے لئے نمونہ ہیں۔میں مسلمان ہوں لیکن میں مذہبی نہیں ہوں،میں نے احمدیہ جماعت کے کئیinterfaithکانفرنسز میں شرکت کی ہے اور مجھے پتہ لگا ہے کہ جماعت احمدیہ ایک اچھا نمونہ پیش کر رہی ہے۔آپ کو اس بات پر بہت فخرکرنا چاہئے۔

انہوں نے کہا:میں نے آپ کے خلیفہ کے خطاب کا ہر لفظ سنا ہے،اور لہجہ کو بہت غور سے دیکھا ہے،انہوں نے اپنے خطاب میں اسلام کا بہت اچھا دفاع کیا ہے اور یہ صرف احمدی احباب کے لئے نہیں بلکہ تمام مسلمان کے لئے ایک نصیحت تھی کہ ہمیں اپنی زندگیوں کو دیکھنا چاہئے۔

  • ڈاکٹر وارث حسین صاحب جو کہ انٹرنیشنل فریڈم یو ایس اے میں پولیس کمشنر ہیں،انہوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

مجھے پہلے بھی حضور انور کی تقاریر سننے کا موقع ملا۔ہمیشہ پیار اور امن کی طرف دعوت دیتے ہیں اور آج کل کے حالات میں حضور انور کا یہ پیغام نہایت ہی ضروری ہے۔یہ پیغام صرف احمدیوں کے لئے نہیں بلکہ ہم سب کے لئے ہے۔یہ تقریب بہت ہی شاندار تقریب ہے۔کئی لوگ رضا کارانہ طورپر خدمت کر رہے ہیںاور محبت و پیار کے ساتھ ہم سے پیش آرہے ہیں۔یہی وہ چیز ہے جس سے کمیونٹی کو تقویت ملتی ہے۔امریکہ میں جماعت احمدیہ انسانیت کے لئے بہت خدمت کر رہی ہے،Food banksکھول رہی ہے،غرباء کی مدد کر رہی ہے۔اگراس قسم کے لوگ ’ورجینیا‘میں موجود ہیں تو اس سے زیادہ بڑی خوشی کیا ہوگی۔

ایک دوست Corrie Stuartجو کہ یو۔ایس ریپبلکن سٹیٹ کے امیدوار ہیں انہوں نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا۔

خلیفۃ المسیح کا خطاب بہت دل کش اور حکمت سے پُر تھا۔امریکہ کو اور ساری دنیا کو ’محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں ‘ کا پیغام غور سے سننا چاہئے اور اس پر عمل کرنا چاہئے خاص طور پر جب دنیا کے حالات اچھے نہیں ہیں۔یہ نہایت ضروری ہے کہ مذہبی آزادی کا پرچار کریں۔اس لئے یہ مسجد ہمارے لئے باعث فخر ہے کیونکہ آپ لوگ ملک کے لئے بہت کچھ کرتے ہیں۔

ایک مہمانRoberta Austerصاحبہ جو کہ ورجینیا کی ڈائریکٹر آف کمیونیکیشن ہیں،انہوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

میں خلیفہ کی باتیں سن کر بہت متاثر ہوئی ہوں۔مجھے بہت اچھا لگا کہ ایک ایسا روحانی شخص ہمارے اندر موجود ہے جو ہمیں بتا رہا ہے کہ آپس میں محبت،پیار اور اخوت سے رہنا چاہئے۔

ایک اور مہمان خاتون Genine Lossصاحبہ کہتی ہیں:

مجھے خوشی ہے کہ حضوربار بار مذہبی آزادی کے بارہ میں بات کر رہے تھے۔دنیا کے ان حالات کے پیش نظر حضور کا خطاب بہت ضروری ہے۔یہ تقریب بھی بہت اچھی تھی،سارے محبت سے پیش آرہے تھے۔

ایک مہمان Matt Watersجو کہ ورجینیا کے State Candidateہیں،وہ کہتے ہیں:           

میں حضور کا خطاب سن کر بہت متاثر ہوا۔میں اب ان کے متعلق مزید پڑھوں گا اور انٹرنیٹ سے بھی معلومات لوں گا۔نیز میں مزید اسلام سیکھنے کے لئے آپ کی مسجد میں آنا چاہتا  ہوں۔

ایک عیسائی مہمان Johnathon Dershنے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا:۔

حضور انور کا خطاب دنیا کے موجودہ حالات کے عین مطابق تھا اور بہت ضروری تھا۔ہم نے امن کا پیغام سنا۔میں بہت ہی متاثر تھا اور حیران تھا کہ حضورنے پوری تقریر کے دوران صرف امن اور سلامتی کے بارہ میں ہی بات کی ۔

ایک مہمان Ann Littleکہتی ہیں:خلیفۃ المسیح کا خطاب بہت اعلیٰ تھا۔یہ خطاب سُن کر میری آنکھیں بھر آئیں۔اس پیغام کی دنیا کو اشد ضرورت ہے۔

ایک مہمان Alison Saddelway صاحبہ جو پیشہ کے لحاظ سے ٹیچر ہیں وہ کہتی ہیں :جب حضور نے دنیا میں محبت اور عزت پھیلانے کی بات کی تو مجھے بہت اچھا لگا کیونکہ میں بھی سکول میں بچوں کو یہی سکھاتی ہوں۔

ایک مہمانJeromy Nickpikeجو ورجینیا شہر کے سینٹر ہیں وہ کہتے ہیں:میں نے آج ایک چیز سیکھی ہے اور وہ یہ کہ محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں۔اسی تعلیم سے ہم اچھے ہمسایہ بناتے ہیں،مختلف کمیونٹیز بناتے ہیں اور بچوں کو سکولوں میں تعلیم دیتے ہیں۔

ایک مہمان Todd Keggyصاحب جو حکومت امریکہ کے لئے کام کرتے ہیں اور ان کی اہلیہ ٹیچر ہیں وہ بھی اس میں شامل ہوئیں۔ان کی اہلیہ Nancyکہتی ہیں:

حضور کا پیغام نہایت ضروری تھا نا صرف اس جگہ کے لئے بلکہ موجودہ حالات میں ساری دنیا کے لئے بہت ضروری ہے۔مجھے اس پیغام سے بہت امید اور قوت ملی ہے۔

ایک مہمانEmile Reagalmanاپنی بیٹی Jeniferکے ساتھ تقریب میں شامل ہوئیں۔وہ کہتی ہیں:

اس دنیا میں سب سے زیادہ respectکی ضرورت ہے،خواہ کوئی مسلم ہو یا یہودی یا ہندو سب کا فرض ہے کہ ایک دوسرے سے عزت سے پیش آئے۔بعض نام نہاد مسلمانوں کے کاموں کی وجہ سے پچھلے چند سالوں سے اسلام کا نام خراب ہوتا جا رہا ہے۔میرا ایک گہرا دوست احمدی ہے اور جب میں اس کی طرف اور اس کی فیملی کی طرف دیکھتا ہوں تو میں صرف محبت اور عزت محسوس کرتا ہوں۔

ایک اور مہمان Emily Churchillصاحبہ جو کہ نیوز فاؤنڈیشن میں کام کرتی ہیں انہوں نے کہا:

اس تقریب سے میں نے محبت اور برداشت کے بارہ میں بہت کچھ سیکھا اور موجودہ حالات کے تناظر میں اس ملک کے لئے یہ پیغام بہت ضروری ہے۔مجھے بڑی خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ اس علاقہ میں اب ترقی ہو رہی ہے۔

ایک خاتون Lorraine Eckahard اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں:

میں تیس سال سے اس علاقہ میں ہوں اور یہاں کے بدلتے حالات دیکھے ہیں۔حالیہ فائرنگ کے واقعات بہت افسوسناک ہیں۔ایسے موقع پر اس عظیم شخصیت کی جانب سے پیار،محبت اور رواداری کا پیغام بہت شاندار تھا۔مجھے بہت خوشی ہے کہ مجھے بھی یہاں مدعو کیا گیا ہے۔مجھے یہاں آکر احمدیہ مسلم جماعت کے بارے میں بہت کچھ جاننے کا موقع ملا ہے۔مسجد اس علاقہ میں ایک خوبصورت اضافہ ہے، اس سے مجھے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ یہ پرامن جگہ ہے۔میں مسلمان نہیں ہوں اور میں اس مسجد میں آئی ہوں،مجھے یہاں خوش آمدید کہا گیا ہے۔یہی ہمارے معاشرے کی ضرورت ہے۔میں کہنا چاہتی ہوں کہ اب آپ کے یہاں مزید پروگرام بھی ہوں گے، ان پروگراموں میں بھی مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو بھی مدعو کریں۔

ایک یہودی اور ایک عیسائی خاتونJane PickrenاورJudy Lawrence اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں:

یہ ایک شاندار پروگرام تھا۔محبت ہی محبت کا اظہار تھا۔خلیفۃ المسیح نے دس سے زائد مرتبہ ’محبت‘کا لفظ استعمال کیا۔یہ بہت ہی شاندار پیغام تھا۔مجھے ایک لیف لیٹ بھی دیا گیا تھا،میں نے وہ بھی پڑھا ہے۔میں نے جو کچھ یہاں آکر سیکھا ہے،وہ سب کو معلوم ہونا چاہئے۔آج کل اسلام کے بارے میں لوگوں میں بہت سےمنفی خیالات رائج ہیں۔ہم اسلام کے اس رُخ سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔خلیفۃ المسیح بہت ہی اعلیٰ شخصیت کے مالک ہیں۔آپ نے جو یہ فرمایا ہے کہ’ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کی فکر کرنی ہے‘اس جملہ سے اس مسجد کے قیام کی بھی وجہ سمجھ آتی ہے کہ آپ لوگ آنے والی  نسلوں کی بہتری کے لئے کام کر رہے ہیں۔حضور کی تقریر میں ایک امید تھی۔میں یہودی ہوں اور میری دوست عیسائی ہے، لیکن ہم یہاں آ کر بہت محظوظ ہوئے ہیں۔یہ بہت ہی شاندار پروگرام تھا۔میرا جماعت احمدیہ سے تعارف لائبریری میں ہوا تھا،جہاں میں ووٹنگ کے لئے والنٹیئر کرنے گئی تھی۔وہاں چند خواتین ملیں جو بڑے فخر سے کہتی تھیں کہ ہم احمدی مسلمان خواتین ہیں۔پھر انہوں نے تعارف کروایا اور کچھ مفت کتابیں بھی دیں اور پھر ایک فارم دیا کہ ’کیا میں چاہتی ہوں کہ میرے سے دوبارہ رابطہ کیا جائے‘جو کہ میں نےبخوشی سائن کیا۔اور مجھے خوشی ہے کہ میں نے یہ سائن کیا کیونکہ اسی وجہ سے مجھے اس پروگرام کی دعوت آئی اور اس شاندار پیغام کو سنا۔دنیا کو اس پیغام کی بہت ضرورت ہے۔دنیا میں بہت نفرت ہے۔یہ مسجد بہت شاندار ہے۔کمیونٹی کے لئے یہ ایک مثبت اضافہ ہے۔اس سے لوگوں کو مسلمانوں کی اہمیت کا مزید ادراک ہوگا۔ہم آپ لوگوں سے مل کر بہت متاثر ہوئے ہیں۔یہ بہت ہی اچھی جماعت ہے۔ہر ایک بہت اچھے طریقے سے ملا ہے،بہت دوستانہ ماحول ہے۔ہم نے یہاں بہت اچھا وقت گزارا ہے۔

  • ایک مہمانAlex Keisehکہتے ہیں کہ میں بہت متاثر ہو اہوں،میرے لئے یہ اس لحاظ سے بہت جذباتی ہوگیا تھا کہ میں Holocaust Sruvivor ہوں۔ حضور انور کا پیغام بہت متاثرکن تھا۔آپ کا ایک ایک لفظ میری روح تک اثر کر رہا تھا۔حضور انور کا پیغام اس لحاظ سے بھی بہت پُر حکمت تھا کہ ہم نفرت سے نہیں لڑ سکتے۔نفرت کے ازالہ لئے صرف ایک ہی راہ ہے اور وہ یہ ہے کہ محبت قائم کرنے کے لئے جہاد کیا جائے۔نفرت کو محبت سے ختم کیا جائے۔یہ محبت ہر مذہب کے درمیان پیدا کی جانے چاہئے اور ایسی محبت کی بے شمار مثالیں ہمارے معاشرے میں موجو دہیں،جیسا کہ آپ لوگوں کا یہ پروگرام ۔لیکن آج کل جو میڈیا میں دیکھنے کو مل رہا ہے وہ ایک چھوٹی سی اقلیت ہے اور گمراہ عناصر ہیں اور میڈیا ان کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے۔ہمیں اس کی بجائے باہمی محبت کو پھیلانا چاہئے۔یہی پیغام حضورا نور لے کر تشریف لائے ہیں۔ہمیں اس پیغام کو اور اسلام کی حقیقی تصویر کو دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہئے۔
  • 51ویں ڈسٹرکٹ سے ورجینیا سٹیٹ delegatesکی ممبر Hala Ayala جنہوں نے تقریب کے آغاز میں ایڈریس بھی پیش کیا تھا انہوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

میں خود بھی ایک مہاجر کی بیٹی ہوں۔خلیفۃ المسیح (ایدہ اللہ تعالی)کے الفاظ ایک مرہم تھے بالخصوص اس وقت جبکہ ہمیں اُمید کی تلاش ہے۔ہمیں اس وقت وحدانیت کی ضرورت ہے۔اس بات کی ضرورت ہے کہ لوگ اس ملک کی بھلائی کے لئے یکجا ہو جائیں۔ اور میرے خیال میں حضورانور کا خطاب ہمارے ملکی حالات کے پیش نظر نہایت موزوں تھا۔

میں یہاں افتتاح سے پہلے بھی آئی ہوئی ہوں لیکن حضورانور کی آمد سے ایک غیر معمولی روحانی فرق محسوس کر رہی ہوں۔بہت ہی پرسکون ماحول ہے۔حضور انور کا پیغام بہت ہی حیرت انگیز تھا،خاص کر یو ایس اے کے موجودہ حالات میں یہ بہت شاندار تھا۔آپ کا پیغام محبت کا تھا،اتحاد کا تھا۔حضور انور نے فرمایا ہے کہ دوسروں کو اپنے پر مقدم سمجھو۔بے نفس ہو کر خدمت کرو۔آج کل کے سیاسی ماحول میں ہمیں ایسے ہی پیغام کی ضرورت ہے۔ دوسروں کو اپنے پر فضیلت دینا،ایک بہت شاندار اور روحانیت سے بھر پور پیغام ہے۔اپنے ہمسایوں کا خیال رکھنا،دوسروں کے آرام کو اپنے آرام پر ترجیح دینا بہت ہی شاندار ہے۔ایسے مواقع پر اپنی انا کو فوقیت دی جاتی ہے۔حضور انور کا پیغام محبت اور پیار سے پُر تھا۔مجھے بہت خوشی ہے کہ  میرے ڈسٹرکٹ میں یہ مسجد قائم کی گئی ہے۔مجھے فخر ہے کہ اس مسجد کے قیام میں میری کوشش بھی شامل ہے۔جیسا کہ حضورانور نے فرمایاہمیں معاشرے میں اتحاد پیدا کرنا ہے اور یہ کسی ایک گروپ کی کوشش سے نہیں ہو سکتا،ہر ایک کو اس میں اپنا اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔

  • ایک مہمان اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ :

ہمیں اس پیغام کی بہت ضرورت ہے۔’محبت سب کے لئے،نفرت کسی سے نہیں‘ میرے خیال میں اس پیغام کا کوئی متبادل نہیں۔یہاں کی مہمان نوازی سے میں بہت متاثر ہوا ہوں۔جتنی خوش اخلاقی اور گرمجوشی سے استقبال کیا گیا ہے،وہ متاثر کن تھا۔

  • ارجن سنگھ گل صاحب جنہوں نے تیس سال سے زائد عرصہ انڈین ائیر فورس میں کام کیا ہے اور تین سال کے لئے واشنگٹن ڈی سی میں انڈین ہائی کمیشن میں ڈپلومیٹ کے طور پر کام کر چکے ہیں اپنے جذبات کا اس طرح اظہار کرتے ہیں کہ ’’میرے لئے یہ بہت بڑے اعزاز اور فخر کی بات ہے کہ مجھے آج کی اس نشست میں شرکت کا موقع ملا۔خلیفہ وقت کا آج کا خطاب بہت متاثرکن اور امن کی تعلیم پر مبنی تھا‘‘
  • سُر جیت سنگھ سدھو صاحب جو سکھ فائونڈیشن ورجینیا کے چیئرمین ہیں کہتے ہیں کہ میرا تعلق چونکہ پنجاب سے ہے میں پہلے سے ہی احمدیہ جماعت سے متعارف تھا۔اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ جماعت احمدیہ میں ایک بہت پڑھا لکھا طبقہ پایا جاتا ہے۔جماعت احمدیہ خدمت انسانیت کے لئے وسیع پیمانہ پر دنیا بھر کے ممالک میں اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہے اور ان خدمات کو پوری دنیا میں سراہا بھی جاتا ہے۔حضور انور کا آج کا خطاب بھی بہت پُرمعارف تھا اور ہم دل کی گہرائیوں سے اس مسجد کی تعمیر پر جماعت احمدیہ کو مبارکباد پیش کرتے ہیں،اس توقع کے ساتھ کہ مستقبل میں بھی یہاں بین المذاہب کانفرنسز اور ڈائیلاگ کا انعقاد کیا جائے گا۔
  • ایک مہمان Leos Statenصاحب جو نیو جرسی میںChiropractor ہیں، انہوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:چونکہ پہلے سے ہی میرا مسلمانوں میں اُٹھنا بیٹھنا تھا،اس لئے میں اسلامی تعلیمات سے واقف تھا۔اس لحاظ سے میں میڈیا میں پیش ہونے والے اسلام کے بارہ میں واقف تھا۔لیکن مجھے جس بات کی بہت خوشی ہے وہ یہ ہے کہ حضور انور نے وقت نکالا اور ہم سب کو مدعو کیا اور ہم پر اسلام کی سچی اور خوبصورت تعلیمات واضح کیں۔
  • ایک خاتون Shineen Madarazuجونیو جرسی میں surgical coordinatorہیں،انہوں نے بیان کیا:آج کے خطاب میں ہمیں اسلام کی خوبصورت تعلیمات کے بارہ میں دوبارہ بتایا گیا۔میرا بھی یہی نظریہ ہے کہ چند انفرادی لوگوں کی بری حرکات کی وجہ سے پورے مذہب کو ملزم ٹھہرانا اپنی ذات میں ظلم سے کم نہیں۔ہمارے یہاں امریکہ میں ہر روز کوئی نہ کوئی حادثات اور واقعات ہوتے رہتے ہیں،مگر اس کے لئے ایک پورے مذہب کو قصوروار ٹھہرانا غلط ہے۔
  • ایک مہمانSandra Wilsonصاحبہ جوCountry Government میں کام کرتی ہیں اپنے جذبات کا اس طرح اظہار کرتی ہیں کہ : ’محبت سب کے لئے اور نفرت کسی سے نہیں‘ کا سچا نظارہ آپ کی جماعت پیش کرتی ہے اور آج کے خطاب کے بعد میں کہہ سکتی ہوں کہ خلیفۃ المسیح بلا رنگ و نسل کے امتیاز کے صرف اور صرف امن چاہتے ہیں ۔ہم سب ایک ہیں اور دنیا بھر کے تمام مسائل کو ایک طرف رکھتے ہوئے ہم آج سب یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اتحاد کی فضا قائم کرنے کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں۔
  • ایک مہمان ڈاکٹر حمیرہ علی صاحبہ جو Prince William Countyمیں فری کلینک کی میڈیکل ڈائریکٹر ہیں اپنے خیالات کااس طرح اظہار کرتی ہیں کہ میں آج کی تقریب سے بہت متاثر ہوئی ہوں۔ہر کوئی کھلے دل سے ہمارا استقبال کر رہا تھا اور خطاب میں حضور انور نے اس مجلس میں شامل ہونے والے ہر فرد کو دعوت دی کہ ہم سب کو مل کر کوشش کرنا ہوگی کہ امن وشانتی انصاف اور مساوات کے لئے قدم آگے بڑھائیں اور اپنی آنے والی نسلوں کے لئے ایک اچھی مثال چھوڑیں۔خطاب کے دوران ایسا لگ رہا تھا کہ گویا حضور صرف مجھ سے مخاطب ہیں اور مجھے میری ذمہ داریوں کا احساس دلا رہے ہیں۔
  • ایک مہمانRuthy Andersonصاحبہ جو کہ Prince William County کے لئے کام کرتی ہیں اپنے تاثرات کااس طرح اظہار کرتی ہیں کہ مجھے جماعت کے بارہ میں چند سال قبل ایک احمدی خاتون کے ذریعہ تعارف حاصل ہوا۔اس احمدی خاتون نے بطور احمدی مختلف کمیونیٹیز میں اپنی خدمات پیش کیں اور جماعت کے بارہ میں بتایا کہ وہ کن فلاحی کاموں میں خدمات سر انجام دے رہی ہے۔پھر آج یہاں آنے کی دعوت دی گئی۔میرے لئے ایک بہت بڑے اعزاز کی بات ہے۔کیونکہ مجھے حضور انور کے ساتھ ایک چھوٹے گروپ میں گفتگو کرنے کا موقع ملا۔چونکہ میرے پہلے سے ہی جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے کچھ دوست ہیں اس لئے میں آپ لوگوں کی تعلیمات سے کسی حد تک آگاہ تھی اور کافی معلومات انٹرنیٹ پر بھی حاصل کر چکی تھی۔اس لحاظ سے میں بہت خوش قسمت ہوں کہ مجھے یہاں خطاب سننے کے لئے بلایا گیا۔حضور انور کے خطاب میں جو امن اور ہمسایوں کے حقوق پر بات ہوئی جو حقیقت پر مبنی ہے۔میں خود چاہتی ہوں کہ ہر جگہ امن قائم ہو۔
  • ایک مہمان Berry Bernardصاحب جو پولیس ڈیپارٹمنٹ میں گزشتہ 40سال سے کام کر رہے ہیں کہتے ہیں کہ میں سب کو اس مسجد کی مبارکباد دیتا ہوں۔ میرے لئے بہت بڑے اعزاز کی بات ہے کہ مجھے آج کی تقریب میں شامل ہونے کا موقع ملا۔نیز کہتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ حضورا نور کے آج کے خطاب میں پوری دنیا کے لئے پیغام تھا۔اس میں امن و شانتی ،پیار،محبت اورحقوق کے حوالہ سے ضرورت کے مطابق نصائح کی گئیں۔ہمارے یہاں مختلف رنگ و نسل کے 4لاکھ 60ہزار لوگ بستے ہیں اور آج کے پیغام میں سب سے اہم بات ہمسائے کے حقوق کے بارہ میں تھی۔
  • ایک مہمان Reverend Charlotte Raymondصاحبہ کہتی ہیں کہ یہ جان کر مجھے بہت خوشی ہوئی کہ مسلمانوں میں ایسے بھی ہیں جو پیاراور محبت کے پیغامات پھیلاتے ہیں۔
  • ایک مہمانLisa Stuartصاحبہ کہتی ہیں کہ یہاں آنے سے قبل مجھے اسلام کے بارہ میں تجسس تھا اور یہاں آکر دیکھا کہ اس جماعت میں محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہے اور خلیفہ وقت کے لئے جو احترام اور پیار ہے وہ حیران کن ہے۔
  • ایک خاتون مہمان DKimberly Norman Orosco Criminologist   اور مصنفہ ہیں اور انہوں نے پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے، یہ اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں ۔

حضور انور کے آج کے  خطاب میں امن اور انصاف کے حوالہ سے بہت گہرے پیغامات سننے کو ملے اور رنگ و نسل میں امتیاز کے بغیر ہر ایک کو اس پیغام کے مطابق اتحاد کی فضا قائم کرنی ہوگی۔آج کے خطاب میں حضور انور نے اسلام کی حقیقی شکل سامنے لا کر رکھی۔اور اس کا خلاصہ امن و انصاف اور مساوات کا ماحول پیدا کرنا ہے۔

اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے موصوفہ کچھ جذباتی ہوگئی تھیں اور آنسوؤں میں لبریز کہہ رہی تھیں کہ ’’آج کل جو لوگ ظلم و بربریت کے مظاہرے دکھا رہے ہیں اور مذہب کے نام پر ہماری کمیونٹیز اور ملک میں فسادات پھیلا رہے ہیں ، ان کا مذہب سے کوئی واسطہ نہیں اور یہ جاننا ہر انسان کے لئے بہت ضروری ہے‘‘

  • ایک مہمان Martin Noheصاحب کہتے ہیں۔

میری تعیناتی کاؤنٹی کے اسی حصہ میں ہے جہاں یہ مسجد تعمیر کی گئی ہے۔آج حضور نے امریکہ میں عین ضرورت کے مطابق پیار،محبت،اخوت اور بھائی چارہ کا پیغام دیا جس نے ہم سب پر بہت گہرا اثر چھوڑا ہے۔اس مسجد کی تعمیر کے ساتھ ایک نئی عبادت گاہ کا اضافہ ہوا جہاں ہم سب امن اور سلامتی کی تلاش میں ہر وقت آسکتے ہیں۔

  • ایک مہمان Tony Maxiصاحبہ جو Development Directorہیں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ مجھے آج پتہ لگا ہےکہ جماعت متعدد ہسپتال،سکولز اور ہیومینیٹی فرسٹ کے تحت اتنے وسیع پیمانہ میں بغیر معاوضہ کے کام کر رہی ہے۔
  • ڈاکٹر کاترینہ(Katrina Lantos Swett)جو کہTom Lantos Foundation for Human Rights and Justiceکی پریذیڈنٹ ہیں ان کی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ ملاقات ہوئی۔وہ قبل ازیں کیپٹل ہِل اور لندن میں منعقدہ کانفرنس آف ورلڈ ریلیجینز میں شامل ہو چکی ہیں۔وہ خصوصی طور پر اپنے شیڈیول میں تبدیلی کرکے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا شرف حاصل کرنے کے لئے New Hampshire سے تشریف لائیں۔موصوفہ نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

خلیفۃ المسیح امریکہ کے لئے ایک روحانی مرہم ہیں اور امریکہ کواس وقت آپ کی رہنمائی اور قیادت کی انتہائی اشد ضرورت ہے۔احمدیوں پر ہونے والے مظالم کے حوالہ سے خلیفۃ المسیح بیشک ہمت اور صبر کا اعلیٰ نمونہ ہیں۔

موصوفہ نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو مساجد کے افتتاح پر مبارک باد پیش کی اور بتایا کہ خلیفۃ المسیح نے یو ایس ایمبیسڈر اور دیگر کانگریس کے ممبران سے جس طرح مذہبی آزادی کے حوالہ سے بات کی،اس سے انہیں بہت خوشی حاصل ہوئی۔امریکہ میں متعین گیمبیا کے ایمبیسڈر Dawda N.Fedraصاحب نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔جماعت احمدیہ امت محمدیہ کا بہت اہم جزو ہے اور دنیا میں موجود نیکی کا ایک اہم ستون ہے۔گیمبیا میں جماعت احمدیہ عام لوگوں کے لئے بہت کچھ کر رہی ہے۔ہم زراعت،صحت اور تعلیم جیسے اہم شعبہ جات میں جماعت احمدیہ کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔گیمبیا میں جمہوریت نئی نئی آئی ہے اور وہاں ہر ایک کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ہم جماعت احمدیہ کے ساتھ مل کر وہاں انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں۔جماعت احمدیہ کا طریق بہت مثبت ہے۔وہ لوگوں کے ایمانوں کو بھی مضبوط کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا پیغام پھیلاتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ لوگوں کی زندگیاں بچانے کے لئے بھی کام کرتے ہیں۔

موصوف نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطاب کے حوالہ سے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطاب میں جو پیغام دیا وہ بہت ہی سیدھا اور صاف ستھرا پیغام تھا جس کی امت مسلمہ کو اشد ضرورت ہے کیونکہ اسلام کا شمار دنیا کے بڑے مذاہب میں ہوتا ہے لیکن اس کے متعلق بہت سے غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔شدت پسندی اور دہشت گردی کی اسلام میں کوئی جگہ نہیں ہے۔حضور انور نے بڑی وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا کہ اسلام تو امن کا مذہب ہے اور ہم سب کو مل کر انسانیت کی بھلائی کی خاطر کام کرنا چاہئے۔            

image_printپرنٹ کریں