skip to Main Content
ترجمہ۔ مکرم راجہ برہان احمد۔ لندن : حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا دورہ امریکہ اور گوئٹے مالا 2018ء

مکرم عابد وحید خان  انچارج پریس اینڈ میڈیا  آفس ،سال 2012ء سے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے مختلف ممالک کے  دورہ جات کی  ذاتی  ڈائری لکھ رہے ہیں ۔ ڈائریاں درج ذیل لنک سے انگریزی زبان میں پڑھی جاسکتی ہیں ۔http://www.pressahmadiyya.com/personal-accounts/

15؍اکتوبر 2018ءکو حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ امریکہ اور گوئٹے مالا کے تین ہفتے کے دورہ پر تشریف لے کر گئے ۔

جو احباب یہ ڈائریاں  پڑھ رہے ہیں عین ممکن ہے کہ انہوں نے ان یادگار لمحات کو دیکھا  ہو ۔کئی خوش نصیب احمدی خود وہاں موجود ہونگے جبکہ ایک بہت بڑی تعداد نے MTAاور سوشل میڈیا کے ذریعے ان مناظر کو دیکھا  ہوگا۔

عابد صاحب لکھتے ہیں کہ خاکسار کی یہ دعا اور امید ہے کہ میں اکتوبر اور نومبر 2018کے ان یاد گار دنوں  کے واقعات کے ایسے  پہلؤوں کوآپ تک پہنچاؤں  جن سے  خلافت کی برکات کا اظہار ہو۔بہر حال اس میں کوئی شک نہیں کہ کوئی تحریر یا  کیمرہ خلیفہ وقت کے ساتھ اس سفر کے عظیم یادگارلمحات کے ساتھ انصاف کرسکتا۔

حضور انور کا یہ دورہ، امریکہ کے گزشتہ دورہ کے ساڑھے پانچ سال بعد ہوا ،جبکہ حضورانور کا گوئٹے مالا کا دورہ نہ  صرف اس ملک کا بلکہ مرکزی امریکہ  کابھی  پہلا دورہ تھا 

نظر ثانی پروگرام

مئی 2018کے آغازمیں پہلی دفعہ میں نے سنا کہ حضورانور ایدہ  اللہ  تعالیٰ  بنصرہ العزیز دورہ امریکہ کا پروگرام بنا رہے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ حضور انور ہیومینٹی فرسٹ کے ہسپتال کے افتتاح کے لئے گوئٹے مالابھی  تشریف لے کر جائیں ……یہ مئی کے آخر یا  جون کے ابتداء کی  بات ہے جب خاکسار حضور کی خدمت میں ملاقات کے لئے حا ضر ہوا ،اپنی روز کی میڈیا کی  رپو رٹ کے بعد خاکسار چند منٹ حضور کے آفس میں ہی بیٹھا رہا ، جبکہ حضور کام میں مصروف تھے ۔شاید حضور نے امریکہ  سے متعلق رپورٹ پڑھی جس کے بعد حضور  نےاپنے کام سے نظر اٹھاتے ہوئے آنے والے دورہ کا ذکر فرمایا۔حضورنے فرمایا ۔

’’چند دن پہلے ،جماعت احمدیہ امریکہ نےمیرے  امریکہ اور گوئٹے مالا کے اکتوبر کے دورہ  کا مجوزہ پروگرام  بھیجا ، لیکن اس میں بہت سی تبدیلیاں ضروری تھیں ،جوکرکے  اب میں نے انہیں واپس بھجوادیا ہے ۔مثلاً انہوں نے یہ تجویز کیا تھا کہ میں جمعہ کی صبح کوPhiladelphia فلاڈلفیا کا سفر کروں اور اسی دن مسجد کا افتتاح اور جمعہ کی  نماز پڑھاؤں ۔جبکہ میں جمعہ کے دن زیادہ لمبا سفر کرنا پسند نہیں کرتا اور اس میں کئی حقیقی دقتیں بھی  ہوتی ہیں جیسا کہ اگر ہم ٹریفک  میں پھنس جائیں تو جمعہ میں تاخیر ہوسکتی ہے۔‘‘

حضور نے مزید فرمایا۔

’’میں نے مجوزہ پروگرام میں ایک اور تبدیلی  یہ کی کہ مسجد بیت الرحمٰن میں جمعہ کا کوئی پروگرام نہیں تھا ،جبکہ کم از کم ایک جمعہ جماعت کے ملکی صدر دفاتر میں ضرور ہونا چاہیئے ۔اس لئے میں نے ہدایت کی ہے کہ دورہ کا آخری  جمعہ وہاں ہو۔‘‘

جب حضور کے دورہ امریکہ کے پروگرام کا یقین ہوگیا تو میں نے عرض کی ،حضور کیا یہ درست ہے کہ آپ گوئٹے مالا بھی  تشریف لے کر جائیں گے ۔

جواباً حضور  مسکرائے اور فرمایا۔

’’ہاں ،مگر میں نے سفر کے اس حصہ میں بھی تبدیلی  کی ہے ۔امریکہ کی جماعت کی یہ تجویز تھی کہ میں تین یا چار دن گوئٹے مالا میں گزاروں تاکہ کچھ مقامات کی بھی سیرکرلوں ۔وہ مجھے مشہور جھیل (اٹٹلان جھیل Lake Atitlan)لے کر جانا چاہتے تھے ،مگر پروگرام کے اس حصہ میں کم از کم دو دن لگنے تھے جو امریکہ میں احمدی فیملیز سے ملاقاتوں میں زیادہ بہتر طور پر صرف کئے جاسکتے ہیں ۔‘‘

دورہ کی تیاری

3؍اکتوبر 2018،حضورانور نے فلاڈلفیا میں کی جانے والی اپنی تقریرکے نوٹس تیار فرمائے اورلکھوانا  شروع کرنے سے پہلے آپ نے مجھ سے پوچھا  کہ فلاڈلفیا کی مسجد شہر کے اندر واقع ہے ؟مجھے درست طور پر معلوم نہیں تھا  مگر سنا تھا کہ مسجد فلاڈلفیا کے باہر  کے علاقے میں ہے ۔ مجھے اچھی طرح معلوم نہیں تھا تو مجھے یہ واضح کردینا چاہئے تھا  ۔  بہرحال حضور نے مساجد کے مقصد کے بارے میں اپنا خطاب لکھوایا ،خاکسار نے یہ محسوس کیا کہ دیگر اس طرح کے مواقع پر مختلف ممالک میں کئے جانے والے خطابات سے یہ خطاب چھوٹا ہے ۔

لکھوانے کے بعد حضور انور نے فرمایا:

’’میں نے جان بوجھ کر تقریر  کا دورانیہ مختصر رکھا ہے کیونکہ امریکہ کے لوگ یورپین لوگوں کے مقابل پر مختصر تقاریر کے عادی ہیں ۔‘‘

حضرت مصلح موعود ؓ سے محبت

ڈائری میں آگے جاکر ایک  موقع پر عابد صاحب  نے ایک شخص کے میسج کا ذکر  کیا کہ جو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی زندگی کے آخری دس سالوں اور بیماری کے بارے میں تھا اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ  بنصرہ العزیز  نے فرمایا :

’’یہ افواہ یا  دعویٰ بالکل  غلط ہے ۔میں ذاتی  طور پر حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سے 1960کے ابتدا ء میں ملا اور آپ ؓ مزاح فرمایا کرتے تھے اور ہمارے ساتھ گفتگو فرمایا کرتے تھے ۔ایک بات جو میں نے محسوس کی کہ حضرت مصلح موعود ؓ قادیان کو بہت یاد  فرماتے تھے اور آپ نے میرے سامنے بھی قادیان واپسی کا ذکر فرمایا ۔ مزید یہ  کہ آخر ی سالوں میں حضرت مصلح موعو د ؓ کبھی کبھار احمد نگر بھی  جایا  کرتے تھے ۔‘‘

حضور نے فرمایا:

’’ حضرت مصلح موعود ؓ اپنی وفات سے چند سال قبل تک جلسہ سالانہ میں شامل ہوتے اور بعد ازاں ہر سال جلسہ پر پیغام بھجواتے رہے ۔‘‘

حضور نے یہ فرمایا اور خاکسار کو کہا کہ انور العلوم ،جو حضرت مصلح  موعو د ؓ کی کتابوں اور خطابات کا مجموعہ  ہے ،کی  ایک خاص جلد اپنی کتابوں کی الماری  سے پکڑانے کا فرمایا ۔ پھر حضور نے حضرت مصلح موعود ؓ کی  تحریرات میں سے آخری سالوں کی تحریرسے اونچی آواز میں پڑھا ۔چند صفحات پڑھتے ہوئے آپ نے فرمایا:

’’دیکھو  گو پیغامات مختصر ہیں لیکن زبردست علم وفراست اور جذبات  سے بھرے ہوئے ہیں ۔مثلاً حضرت مصلح موعود ؓ نے یہ تحریرفرمایا کہ جس طرح لوگوں نے آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارے میں غلط الزامات لگائے ایسا ہی میرے بارے میں الزامات اور غلط دعوئے کئے ہیں ۔‘‘

حضور نے مزید فرمایا:

’’حضرت مصلح موعود ؓ نے تحریر فرمایا کہ وہ ایسے لوگوں کو چیلنچ کرتے ہیں کہ اس طرح کا کام کرکے دکھائیں جو آپ ؓ نے اپنی زندگی میں اسلام کے لئے اسلام کی محبت میں کیا ہے ۔چنانچہ یہ واضح ہے کہ اپنے آخری سالوں میں بھی حضرت مصلح موعود رضی  اللہ عنہ ذہنی طور پر بالکل چاک و چوبند تھے ۔آپ ؓ جماعت  کی راہنمائی اور ہدایات فرمانے  کی اپنی ذمہ داری آخری سانس تک بجا لاتے رہے اور ہماری جماعت کا لٹریچر اور تاریخ سے یہ ثابت ہے ۔‘‘

امریکہ آمد

یہ تیسرا موقع تھا کہ خاکسار حضور کے قافلہ کے ممبر کے طور پرامریکہ آیا تھا اوراس دفعہ  تمام گزشتہ دوروں کی نسبت زیادہ عزت و احترام سے حضور انور اور خالہ صبوحی کا استقبال کیا گیا ۔امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے حضور کے تمام دورہ کے دوران  مکمل سٹیٹ پرٹوکول کی اجازت دی ۔

چنانچہ حضور انور کا استقبال جہاز سے باہر آتے ہی صاحبزادہ مرزا مغفور احمد صاحب ،امیر جماعت احمدیہ امریکہ اور سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی نمائندہ نے کیا ،جو حضور انور اور خالہ صبوحی کو پرائیویٹ امیگریشن لاؤنج لے  کر چلے گئے ۔ امیگریشن لاؤنج میں قافلہ کے ممبران کو حضور اور خالہ صبوحی کے علاوہ ایک ایک کرکے بلایا گیا اور ان کے پاسپورٹ ایک امیگریشن آفیسر نے چیک کئے  ۔ اس دوران سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی نمائندہ اور ائیرپورٹ کے ایک آفیشل حضور انور کے ساتھ رہے ، یہ ان کی ڈیوٹی تھی کہ جب تک سب کچھ کلیئر نہ ہوجائے ساتھ رہیں ۔ اس موقع پر حضور نے اس بات کو واضح فرمایا کہ آپ ذاتی طور پر اس طرح کے پروٹو کول  کو پسند نہیں کرتے ۔ حضور نے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی نمائندہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

’’پہلے ہی کافی دیر ہوگئی ہے ۔میں نہیں چاہتا کہ  آپ کو دیر ہو اس لئے اگر آپ جانا چاہیں تو جاسکتی ہیں ،میں آپ پر کسی قسم کا بوجھ نہیں بننا چاہتا۔‘‘

سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی نمائندہ حضور کی اس بات سے حیران ہوئیں ،ہوسکتا ہے کہ یہ پہلی دفعہ ہوا ہو کہ ایک آفیشل مہمان نے اس طرح اسے جلدی جانے کی اجازت دی ہو۔جوابا ً اس خاتون نے کہا :

’’عزت مآب ہم یہاں آپ کی خدمت کے لئے ہیں ،جب تک کے تمام کام ہوجائیں اور اسی میں ہماری خوشی  ہے ‘‘

جب امیگریشن کا سلسلہ کا جاری تھا تو حضور نے دیکھا کہ امیر صاحب امریکہ ایک طرف مسلسل کھڑے ہوئے ہیں۔ نہایت محبت سے حضور نے امیر صاحب کو فرمایا کہ آپ ہمارے ساتھ بیٹھ جائیں اس پر امیر صاحب بیٹھ گئے۔امیر صاحب امریکہ کے خلافت کے لئے عزت و احترام کے کئی نظاروں میں سےیہ پہلا نظارہ تھا جو خاکسار نے اس دورہ کے دوران دیکھا ۔شاید کچھ لوگوں کا خیال ہو کہ حضور کے بڑے بھائی ہونے کے ناطے امیر صاحب امریکہ حضور کے ساتھ  زیادہ آرام اور غیر رسمی ہوں ۔لیکن عزت و احترام جس کا انہوں نے خلافت کے سامنے  اظہار کیا وہ جماعت کے کئی سینئر عہدیداروں سے زیادہ تھا ۔

حضور نے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی نمائندہ سے گفتگو جاری رکھی اور امریکہ کے موسم کے بارے میں استفسار فرمایا ۔ اس پر امیر صاحب امریکہ نے عرض کی کہHoustonجہاں حضور نے چند دنوں میں جانا ہے وہاں  72ڈگری فارن ہائیٹ متوقع ہے ۔

اس پر حضور نے فرمایا :

’’مجھے فارن ہائیٹ Fahrenheitکا معلوم نہیں مجھے تو سیلسئسCelsius کی عادت ہے !‘‘

خاکسار نے جلد ازجلد کوشش کی کہ موبائل پر Fahrenheitکو Celsiusمیں تبدیل کرے لیکن اس سے قبل ہی حضور نے فرمایا:

’’میں نے دیکھ لیا ہے ،72Fahrenheit22ڈگری Celsiusکے قریب ہوتا ہے ۔‘‘

سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی نمائندہ نے حضور سے پوچھا کہ کیا آپ کا گھومنے پھرنے کا بھی کوئی پروگرام ہے ؟

حضور نے مسکراتے ہوئے فرمایا:

’’میری جماعت کے ساتھ پروگرام ایسا ہے کہ شاید ہی کوئی گھومنے پھرنے کا کوئی وقت ہو  ۔‘‘

اس پر  امیر صاحب نے عرض کی :

’’اس دورہ کے دوران کم از کم 4000چار ہزار افراد نے حضور سے انفرادی  ملاقات کے لئے درخواستیں دی ہیں۔‘‘

یہ سن کر ڈلاس ائیرپورٹ کا نمائندہ جو موجود تھا حیران ہوگیا اور اس نے کہا:

’’واہ ! یہ توبہت بڑی تعداد ہے ۔امریکہ میں اگر آپ 4000چار ہزار افراد سے مصافحہ کرلیں تو امریکہ کے صدر منتخب ہوسکتے ہیں ۔‘‘

حضور مسکرائے اور فرمایا:

’’ماضی میں ،میں 6000چھ ہزار افراد سے انفرادی طور پر مل چکا ہوں ۔‘‘

اللہ تعالیٰ کا اپنا انتظام ہوتا ہے

اگلے دن شام حضور انور نےامریکہ میں رہائش  پذیر  اپنے چند عزیز و اقارب سے مغرب و عشاء کے بعد ملاقات فرمائی ۔ابتدائی سوالات میں سے ایک سوال حضور سے ایک عزیز نے  یہ پوچھا کہ امیگریشن اور امریکہ میں آمد کیسی رہی ،جس پر حضور مسکرائے اور جواباً ایک لفظ فرمایا :                      ’’کمال‘‘

پھر نہایت خوبصورت اور جذباتی انداز میں آپ نے اضافہ فرمایا:

’’اللہ کا اپنا انتظام ہوتا ہے ۔‘‘

image_printپرنٹ کریں