skip to Main Content
سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالٰی بنصرہ العزیز کا دورہ امریکہ:قسط نمبر22

نکاحوں کے اعلان ،نیشنل مجلس عاملہ سے میٹنگ اور جائزہ

عبدالماجد طاہر۔لندن

4نومبر2018ء

(حصہ دوم)

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے مسجد بیت الرحمن تشریف لا کر نماز ظہر وعصر جمع کر کے پڑھائیں۔

نکاحوں کااعلان

نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے چند نکاح کا اعلان فرمایا۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے تشہد،تعوذ اور خطبہ نکاح کی مسنونہ آیات کی تلاوت کے بعد درج ذیل گیارہ نکاحوں کا اعلان فرمایا:

1۔عزیزہ صائمہ نوید بسرا بنت نوید احمد بسرا صاحب آف ورجینیا کا نکاح عزیزم طلحہ ریاض (مربی سلسلہ نظارت اصلاح و ارشاد مرکزیہ ربوہ)ابن مکرم ریاض احمد بسرا صاحب آف ربوہ کے ساتھ طے پایا۔

2۔عزیزہ صوبیہ احمد بنت مکرم ندیم احمدپال صاحب آف ورجینیا کا نکاح عزیزم خرم وقار ملک ابن مکرم وقار احمد ملک صاحب آف فلاڈلفیاکے ساتھ طے پایا۔

3۔عزیزہ نبیلہ انعام کوثر بنت مکرم انعام الحق کوثر صاحب (امیر جماعت آسٹریلیا)کا نکاح عزیزم فراز احمد ابن مکرم طاہر احمد کھوکھر صاحب کے ساتھ طے پایا۔

4۔عزیزہ عزّہ میر بنت مکرم نبراس میر صاحب آف Willingboroکا نکاح عزیزم شہریار سرور ابن مکرم محمد سرور بھٹی صاحب کے ساتھ طے پایا۔

5۔عزیزہ میرال فاطمہ چوہدری بنت مکرم محمد مبشر اللہ صاحب آف کینیڈا کا نکاح عزیزم چوہدری نعیم احمد ابن مکرم ندیم اسلم ارشد صاحب کے ساتھ طے پایا۔

6۔عزیزہ ہانیہ منصور بنت منصور احمد قریشی صاحب ڈیٹرائٹ کا نکاح عزیزم کامل باسط سلام ابن مکرم عبدالسلام ملک صاحب کے ساتھ طے پائی۔

7۔عزیزہ مریم سعدیہ سوسن ملک بنت مکرم شاہد سعید ملک صاحب آف ورجینیا کا نکاح عزیزم شعیب محمود ملک ابن مکرم خلیل احمد ملک صاحب کے ساتھ طے پایا۔

8۔عزیزہ منصورہ احمد سراجی بنت مکرم معین الدین سراجی صاحب آف واشنگٹن ڈی سی کا نکاح عزیزم عبدالکبیر عادل ابن مکرم عبدالقادر شاجی صاحب کے ساتھ طے پایا۔

9۔عزیزہ مریم تحسین بنت تحسین احمد باجوہ صاحب آف ورجینیا کا نکاح عزیزم تسلیم احمد مظفر ابن مکرم مظفر احمد نجمی صاحب کے ساتھ طے پایا۔

10۔عزیزہ سجیل جمیل بنت مکرم محمد جمیل صاحب آف ملواکی کا نکاح عزیزم نفیس احمد ابن مکرم حفیظ احمد صاحب کے ساتھ طے پایا۔

11۔ عزیزہ مدیحہ شمیم ملک بنت مکرم شمیم احمد ملک صاحب آف نارتھ کیرولینا کا نکاح عزیزم محمود کعکی صاحب (لبنان)کے ساتھ طے پایا۔

نکاحوں کا اعلان فرمانے کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا کہ ’’دعا کر لیں۔اللہ تعالیٰ یہ تمام نکاح ہر لحاظ سے بابرکت فرمائے‘‘

دعا کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فریقین کو شرفِ مصافحہ سے نوازا۔بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائش گاہ تشریف لے گئے۔

نیشنل عاملہ امریکہ کی میٹنگ

پروگرام کے مطابق چھ بج کر پینتیس منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزمیٹنگ روم میں تشریف لائے جہاں نیشنل مجلس عاملہ یو ایس اے کی حضور انور کے ساتھ میٹنگ شروع ہوئی۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے میٹنگ کا آغاز دعا کے ساتھ فرمایا۔

اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکے استفسار پر امیر صاحب نے عرض کیا کہ اس وقت جو یہاں نائب امراء اور سیکرٹریان حاضر ہیں ان کی کُل تعداد32ہے۔

اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نائب امیر ڈاکٹر حمید الرحمان صاحب سے اُن کے سپرد کام کے متعلق استفسار فرمایا۔

ڈاکٹر حمیدا لرحمان صاحب نے عرض کیا کہ میرے سپرد نارتھ ویسٹرن سٹیٹس کی جماعتیں ہیں۔امیر صاحب کی ہدایات کے مطابق جب بھی ضرورت ہوتی ہے میں ان جماعتوں کا دورہ کرتا ہوں۔

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:آپ خود سے ان جماعتوں کا دورہ کرنے کا پروگرام نہیں بناتے؟آپ کو خود ان جماعتوں کے دورہ جات کرنے چاہئیں۔ان جماعتوں کی تجنید کیا ہے اور ان میں سے چندہ عام ادا کرنے والے کتنے ہیں اور ان میں سے کتنے کمانے والے ہیں؟سب سے بڑی جماعت کون سی ہے اور اس کی تجنید کیا ہے؟

ڈاکٹر صاحب نے عرض کیا کہ سب سے بڑی جماعت LA Eastہے۔چندہ اداکرنے والوں کی تعدادکے حوالے سے مجھے امیر صاحب کی طرف سے latestڈیٹا مہیا نہیں کیا گیا۔

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا: یہ تو آپ کو چاہئے تھا کہ آپ اپنی جماعتوں کا ڈیٹا انہیں مہیا کرتے بجائے اس کے کہ وہ آپ کو مہیا کریں۔آپ اپنی جماعتوں کے نمائندہ ہیں۔آپ کو چاہئے کہ آپ یہ اعدادو شمار مہیا کریں۔

LA Eastمیں کمانے والے احمدیوں کی تعداد کے حوالہ سے نیشنل سیکرٹری نے عرض کیا کہ وہاں کمانے والے چندہ دہندگان کی تعداد155ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکے دریافت فرمانے پر سیکرٹری مال نے عرض کیا کہ ہم نے چندہ کی ادائیگی کے حساب کو مدِ نظر رکھ کر لوگوں کی انکم کا حساب لگایا ہے تو معلوم ہوا ہے کہ یہ انکم poverty lineسے نیچے ہے۔

اس پرحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا: ایسے لوگوں کے لئے آپ کو چیریٹی کی ضرورت پڑتی ہو گی ۔آپ کو مرکزکی مدد کی ضرورت ہے تو بتائیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے استفسار فرمایا:لوگوں کو ان کی اصل آمد پر چندہ ادا کرنے کے حوالہ سے آپ نے کیا اقدامات کئے ہیں؟

اس پر سیکرٹری مال نے عرض کیا کہ ہم نے ہر جماعت کو اعداد و شمار مہیا کئے ہیں کہ آپ کے لازمی چندہ جات کی یہ صورت حال ہے۔پہلا قدم تو یہی ہے کہ ان جماعتوں میں awarenessپیدا کی جائے۔

اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے سیکرٹری تربیت سے دریافت فرمایا کہ LA Eastجہاں آپ کی مسجد ہے وہاں مغرب و عشاء کی نمازوں کی ادائیگی کے لئے کتنے لوگ آتے ہیں؟

سیکرٹری تربیت نے عرض کیا کہ میرے پاس اس وقت اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ آپ تلوار کے بغیر میدان جنگ میں آگئے ہیں۔

اس کے بعد نائب امیر ڈاکٹر نسیم رحمت اللہ صاحب نے عرض کیا کہ خاکسار نائب امیر کے علاوہ نیشنل سیکرٹری سمعی و بصری بھی ہے اور میرے سپرد میڈیا ٹیم بھی ہے۔(اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ نیشنل سیکرٹری امورِ خارجیہ کے قواعد نکال کر رکھیں)

اس کے بعد نائب امیر وسیم ملک صاحب نے بتایا کہ ان کے سپرد ملک بھر میں جماعتوں کادورہ کر کے مسجد فنڈ اکٹھا کرنا ہے۔اسی طرح یو ایس اے جماعت کا ITڈیپارٹمنٹ بھی ان کے سپرد ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دریافت فرمایا:مسجد فنڈ کے لئے کتنی رقم اکٹھی کرتے ہیں؟دوران سال کتنی رقم جمع ہوئی ہے؟

اس پر موصوف نے عرض کیا کہ2018ء،2019ء کی پہلی سہ ماہی میں ہم نے 2لاکھ 18ہزار ڈالرز جمع کئے ہیں۔جبکہ گزشتہ مالی سال میں3.9ملین ڈالرز جمع کئے گئے تھے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے دریافت فرمایا کہ اس میں سے کتنی رقم خرچ ہوئی ہے۔امیر صاحب نے عرض کیا کہ ساری رقم خرچ ہو چکی ہے بلکہ ’مسجد فنڈ‘اس وقت خسارے میں ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا: اس کا مطلب ہے کہ اس وقت ’مسجد فنڈ‘میں آپ کے پاس کوئی رقم نہیں ہے۔آئندہ مساجد بنانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے؟آئندہ دو تین سال میں کسی بھی مسجد کا پراجیکٹ نہیں ہے؟

اس پر نائب امیر فلاح الدین شمس صاحب جو شعبہ جائیداد کی نگرانی بھی کرتے ہیں انہوں نے عرض کیا کہ Zion,Ilinois میں ہم نئی عمارت خرید رہے ہیں۔وہاں نئی مسجد تعمیر ہوگی ان شاء اللہ۔اس کا آغاز ہو چکا ہے۔ہم نے دس ایکڑکی جگہ خریدی ہے اور اس کی صفائی کا کام شروع چکا ہے۔اگلے سال تک ہماری مسجد کی تعمیر مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔Zionکے لئے سپیشل فنڈ ہے۔وہاں اس وقت ہمارے پاس تین بلڈنگز ہیں جن میں سے دو پہلے فروخت کی جا چکی ہیں ا ور ایک مسجد مربی ہاؤس ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسار پر موصوف نے عرض کیا کہ نئی جگہ جو خریدی ہے وہ موجودہ جگہ سے زیادہ دور نہیں ہے۔تین سے چار میل کا فاصلہ ہے۔احمدیوں کی اکثریت بھی اُسی علاقہ میں رہائش پذیر ہے۔وہاں چھوٹی جماعت ہے اس لئے 5ہزار500 مربع فٹ کی مسجد تعمیر کر رہے ہیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسار پر موصوف نے عرض کیا کہ جماعت کی تجنید 189ہے۔وہاں اس وقت جمعہ پر 12سے 15مرد اور اتنی ہی خواتین شامل ہوتی ہیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا: 189میں سے صرف25سے 30لوگ جمعہ پرحاضر ہوتے ہیں۔وہاں پر تربیت کی ضرورت ہے۔

امیر صاحب نے عرض کیا کہ ابو بکر سعید صاحب انٹرنل آڈیٹر بھی اسی جماعت سے ہیں۔اس پر ابو بکر سعید صاحب نے عرض کیا کہ یہ تعداد درست نہیں ہے۔جمعہ پر 45کے قریب حاضری ہوتی ہے۔

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: یہ تعداد بھی کوئی حوصلہ افزا نہیں ہے۔تیسرا حصہ بھی نہیں ہے۔

ابو بکر سعید صاحب نے عرض کیا کہ وہاں سے 45منٹ کی ڈرائیو پررہتا ہوں اس لئے میں جمعہ ملواکی جماعت میں ادا کرتا ہوں۔ملواکی اور زائن کی جماعت کے ایک ہی مبلغ ہیں۔وہ مہینہ میں ایک جمعہ Zionمیں ادا کرتے ہیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ کو وہاں مستقل مبلغ کی ضرورت نہیں ہے؟

اس پر امیر صاحب نے عرض کیا کہ مزید مبلغین ملیں گے تو وہاں پربھی مبلغ کا تقرر کرنے کا پلان ہے۔Zionملواکی اور شکاگو کے درمیان ہے۔ملواکی میں بھی مبلغ موجود ہے اور شکاگو میں بھی مبلغ ہے۔ہمارا ارادہ ہے کہ Zionمیں بھی مربی ہاؤس بنائیں اور اس کے بعد وہاں مبلغ کا تقرر ہو جائے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسار پر امیر صاحب نے عرض کیاکہ ہماری کُل 74جماعتوں میں سے 56جماعتوں میں مساجد موجود ہیں۔

حضور انور کے استفسار پرسیکرٹری جائیداد  نے   عرض کیا کہ ان 56مساجد میں19باقاعدہ purpose-built مساجد ہیں جبکہ باقی 37چرچز اور دیگر عمارات ہیں جنہیں مسجد میں تبدیل کیا گیا ہے۔

حضور انور کے استفسار پر سیکرٹری جائیداد نے عرض کیا کہ امریکہ میں جماعتی پراپرٹیز جن میں بعض خالی زمین کے قطعات بھی شامل ہیں ان کا کُل رقبہ1ہزارایکڑ سے زائد ہوگا۔ان کی مالیت 120سے 122ملین ڈالرز کے قریب ہوگی۔

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس حساب سے آپ کی انشورنس تو بہت کم ہے۔

سیکرٹری جائیدا نے عرض کیا کہ جو خالی زمین ہے جہاں کوئی عمارات وغیرہ تعمیر نہیں ہیں ان کی انشورنس نہیں ہے۔اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسار پر سیکرٹری اشاعت نے عرض کیا کہ گزشتہ دو سالوں میں ہم نے چار کتب مکمل کی ہیں جن میں ’سیرت خاتم النبیین ﷺ (Chief of the Prophets)اور ’کر نہ کر‘شامل ہیں۔مرکز سے منظوری آچکی ہے سیرت خاتم النبیینﷺ تو مرکز سے شائع ہوگی لیکن ’کر نہ کر‘ یہاں امریکہ سے شائع ہوگی۔شاید انصار اللہ شائع کرے گی۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسار پر سیکرٹری اشاعت نے عرض کیا کہ دس ہزار کی تعداد میں تو ہم شائع نہیں کر سکتے کیونکہ یہاں اتنی بڑی مارکیٹ نہیں ہے۔

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اس کا انگریزی میں ترجمہ ہو رہا ہے۔انگریزی کتب کی مانگ تو ساری دنیا میں ہے۔اگر آپ شائع کریں تو یو کے کی جماعت ہی آپ سے دس ہزار کاپی خریدلے گی۔لیکن امریکن انگریزی میں spellingوغیرہ کافرق ہوتا ہے اس لئے آپ وکیل التصنیف صاحب لندن کو بھجوادیں۔مرکز اسے شائع کر سکتا ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ہدایت فرمائی(یہ نوٹ کر لیں۔اگر اس کا ترجمہ ہوگیا ہے تو اس کو لندن میں شائع کردیں)

اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے نیشنل سیکرٹری تربیت سے جماعتوں کی تعداد اور تجنید کے حوالہ سے دریافت فرمایا۔اس پر سیکرٹری تربیت نے عرض کی کہ امریکہ میں74جماعتیں ہیں جبکہ کُل تجنید 20ہزار 394ہے۔

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز: حال ہی میں تھائی لینڈ،سری لنکا اور نیپال وغیرہ سے کافی احمدی ریفیوجیز امریکہ منتقل ہوئے ہیں۔ان کو بھی تجنید میں شامل کریں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسارپرسیکرٹری تربیت نے عرض کیا کہ جماعت میں نماز سنٹرز کی تعداد 200سے لے کر 257تک ہے۔تعداد تبدیل ہوتی رہتی ہے کیونکہ بہت سے نماز سنٹرلوگوں کے ذاتی گھروں میں بنے ہوئے ہیں۔جن لوگوں کے گھر مسجد سے دس سے پندرہ منٹ کی ڈرائیو پر ہیں،وہاں صلوٰۃ سنٹر بنائے گئے ہیں۔گزشتہ چندسالوں میں صلوٰۃ سنٹرز کی تعداد200سے اوپر ہی رہی ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسار پر سیکرٹری تربیت نے عرض کیا کہ خدام، اطفال اور انصار کو ملا کر تعداد8ہزار500کے قریب بنتی ہے۔ہم نے سروے کیا تھا۔اس سروے کے مطابق 35فیصد لوگ مساجد میں باقاعدگی سے نماز ادا کرتے ہیں۔باقی 22فیصد کا کہنا ہے کہ وہ ہفتہ میں دو سے تین مرتبہ مسجد جاتے ہیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسار پر سیکرٹری تربیت نے عرض کیا کہ سپرنگ ویلی،بیت الرحمان کی جماعت میں نماز پڑھنے والوں کی تعداد کم ہے۔یہاں ہمیں اس حوالہ سے challengesکا سامنا ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسار پراظہر حنیف صاحب مبلغ انچارج امریکہ نے عرض کیاکہ یہاں مرد و خواتین کو ملا کر جمعہ پر کُل حاضری350کے قریب ہوتی ہے۔

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا: یہ تو پانچویں حصہ سے بھی کم ہے۔اگر لوگ نہیں آرہے تو اس کے لئے آپ کیا کوشش کر رہے ہیں؟لوگوں کو مسجد بلانے کے لئے شعبہ تربیت نے کیا اقدامات کئے ہیں؟

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا: بیت الرحمان کے پاس تین جماعتیں ہیں ا ور یہاں ایک مقامی جماعت کے عاملہ ممبرز کی تعداد20کے قریب ہوگی اور تین جماعتوں کے عاملہ ممبرز کی تعداد60ہوگی۔اسی طرح تینوں جماعتوں میں خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کی عاملہ ممبرز کی تعداد60,60ہوگی۔اس طرح 180تو صرف عاملہ ممبرز ہی بن جاتے ہیں۔اگر عاملہ ممبرز ہی نمازوں پر آنا شروع ہو جائیں تو موجودہ تعداد سے تین گنا اضافہ ہو جائے گا۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ فرمایا: نماز بنیادی چیز ہے۔میں تو گاہے بگاہے ،اگر مہینہ میں ایک مرتبہ نہیں تو دو مہینہ میں ایک مرتبہ تو ضرور نماز کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔یہ بہت ضروری ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اگر تربیت ٹھیک ہوگی تو سیکرٹری مال کو چندہ کی وصولی کے حوالہ سے بھی کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔اس لئے تربیت بہت اہم ذمہ داری ہے۔سب سے پہلے نماز کی طرف توجہ دیں اور اس کے بعد مالی قربانی کی طرف توجہ دیں۔اس کے لئے آئندہ ایک دو ہفتہ میں باقاعدہ ایک منصوبہ بنائیں۔جو بھی منصوبہ بنائیں اس کی ایک نقل مجھے بھی بھجوائیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکے استفسار پر سیکرٹری تربیت نے عرض کیا کہ گزشتہ تین سالوں میں انہوں نے 20سے 30 جماعتوں کا دورہ کیا ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ مبلغین سے بھی مدد لیا کریں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکے استفسار پر سیکرٹری تربیت نے عرض کیا کہ گزشتہ دو تین سال سے شعبہ تربیت کے پاس باقاعدہ کوئی مبلغ نہیں ہے۔

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: آپ کے پاس مبلغین کی کمی ہے۔پاکستان سے مبلغین کو یہاں کا ویزہ نہیں ملتا۔گھانین مبلغین کو تو ویزہ مل سکتا ہے۔وہاں سے بھی مبلغ بھجوائے جاسکتے ہیں۔

نیز حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مبلغ انچارج صاحب سے فرمایا:آپ کو چاہئے کہ امریکہ سے بھی زیادہ سے زیادہ لڑکوں کو جامعہ احمدیہ بھجوائیں۔اس کے لئے باقاعدہ منصوبہ بنائیں اور کوشش کریں کہ افریقن امریکن میں سے اگر دس نہیں تو کم ازکم ایک یا دو افریقن امریکن لڑکے ضرور جامعہ جائیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکے استفسار پر عاملہ کے ایک ممبر نے عرض کیا کہ ہمیں واقفینِ نو کے دس فیصد بچوں کو جامعہ بجھوانے کا ٹارگٹ ملا تھا۔دورانِ سال یہاں سے تین واقفینِ نو جامعہ بھجوائے گئے ہیں۔

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایاکہ یہ تو ٹارگٹ کا تیسرا حصہ بنتا ہے۔کوشش کریں کہ امریکہ سے زیادہ سے زیادہ بچوں کو جامعہ بھجوایا جائے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکے استفسار پر افریقن امریکن عاملہ ممبر ابو بکر صاحب نے عرض کیا کہ ان کا ایک بیٹا ہے۔اُن کی خواہش ہے کہ وہ ہائی سکول کی پڑھائی مکمل کرنے کے بعد جامعہ احمدیہ میں داخل ہو۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:اور بھی گھانین لوگ جن کے بچے وقفِ نو میں ہیں انہیں جامعہ احمدیہ بجھوانے کے حوالہ سے کوشش کی جائے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا: آپ نے افریقن امریکن واقفین کے علاوہ ویسٹ افریقہ سے تعلق رکھنے والے دس لڑکے مجھے جامعہ  کے لئے دینے ہیں۔یہ آپ کا ٹارگٹ ہے اور آپ نے اسے ضرور حاصل کرنا ہے۔

اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے سیکرٹری تربیت سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا:اگر آپ اپنی عاملہ کے ممبران کے پیچھے پڑ جائیں اور انہیں نماز باجماعت کی اہمیت کا احساس دلائیں تو اس سے نمازیوں کی تعداد میں کافی اضافہ ہو جائے گا۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسار پر جنرل سیکرٹری نے عرض کیا کہ 60فیصد جماعتیں اپنی رپورٹس بھجواتی ہیں۔جو نہیں بھجواتیں انہیں بار بار یاد دہانی کروائی جاتی ہے اور اب اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نیشنل سیکرٹری تبلیغ سے فرمایا: آپ سپینش ایریا پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔پورے امریکہ میں بھی تبلیغ کے حوالہ سے آپ کا کوئی منصوبہ ہے؟

اس پرنیشنل سیکرٹری تبلیغ نے عرض کیا کہ : شوریٰ میں بھی تبلیغ کے حوالہ سے تجاویز تھیں جن کی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے منظوری عطا فرمائی تھی۔ہم ان پر کام کر رہے ہیں، اسی طرح گاہے بگاہے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی طرف سے جو بھی ہدایات ملتی ہیں اس پر عمل کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے یو کے میں مبلغین کی میٹنگ کے موقع پر فرمایا تھا کہ ’اسلام ،کافی اور کیک‘پر ہی اکتفا نہ کریں۔اس لئے اب ہم مزید چیزوں پر بھی غور کر رہے ہیں۔اسی طرح ریویو آف ریلیجئنز کو تبلیغ کے لئے استعمال کرنے کے حوالہ سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے ہدایت فرمائی تھی۔ہم نے اس کے لئے ایک ممبر مقرر کیا ہے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے ہمسایوں کو تبلیغ کرنے کے حوالے سے ہدایت فرمائی تھی۔اس حوالہ سے بھی کوشش کی جارہی ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے دریافت فرمایا کہ ’اسلام،کیک اور کافی‘ کے پروگرام کے ذریعہ آپ کے کُل کتنے رابطے قائم ہوئے ہیں؟ اس پر سیکرٹری تبلیغ نے عرض کیا کہ گزشتہ اڑھائی سالوں میں ’اسلام،کیک اور کافی‘کی کُل 4ہزار 100نشستیں منعقد ہوئیں جن کے ذریعہ 11ہزار 300لوگوں سے رابطہ ہوا۔لیکن وہ لوگ جن کو ہم نے اپنے ڈیٹا بیس میں داخل کیا ہے اُن کی تعداد 1ہزار27بنتی ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ مسلم کاؤنسل مسلم کمیونٹی کی طرف سے مخالفت کا سامنا بھی ہوتا ہے؟ابھی انہوں نے ایک اوپن لیٹر بھی لکھا تھا جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذات پر کافی اعتراضات کئے تھے۔آپ نے ا ن کے جواب بھی دئیے ہیں؟

نیشنل سیکرٹری تبلیغ نے عرض کیا کہ ابھی تک ان کے جوابات نہیں دئیے۔

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:ان اعتراضات کے فوری طور پر جوابات دینے چاہئیں۔ورنہ بعض مسلمان جو یہ اعتراض پڑھیں گے وہ سوچیں گے کہ یہ اعتراض ٹھیک ہیں۔آپ کو چاہئے کہ کم از کم پانچ سو لوگوں کی ایک ٹیم بنائیں جو کہ سوشل میڈیا پر فوری طور پر جوابات دیں۔اس کے بعد اگر آپ اس حوالہ سے تفصیلی جوابات دینا چاہتے ہیں تو ان کو viralکرنے سے پہلے ان کی منظوری مجھ سے لیں۔اس لئے غیر احمدیوں نے جو خط لکھا تھا اُس کا کل تک کم از کم 100احمدیوں کو چاہئے کہ جواب دے دیں۔آج رات اسی کام پر لگائیں۔

اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نیشنل سیکرٹری تعلیم عاطف میاں سے فرمایا:آپ سیکرٹری تعلیم ہیں۔میں تو سمجھتا تھا کہ آپ جماعت کے اکنامک ایڈوائزر ہوں گے کیونکہ عمران خان نے تو  آپ کو ایڈوائزری کمیٹی کا ممبر بنانے سے انکار کر دیا تھا۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت فرمائی:انہیں فنانس کمیٹی کا ممبر بھی ہونا چاہئے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسار پرنیشنل سیکرٹری تعلیم نے عرض کیا کہ ان کے پاس اس وقت یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کا ڈیٹا موجود نہیں ہے۔

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: آپ کے پاس یہ ڈیٹا تو ہونا چاہئے۔میں نے خدام الاحمدیہ اور لجنہ اماء اللہ کو کہا ہے کہ وہ شعبہ امورِ طلباء اور مہتمم امورِ طلباء مقرر کریں جن کا کام ہی طلباء کی نگرانی کرنا ہو۔آپ ان سے ڈیٹا حاصل کر لیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسار پر نیشنل سیکرٹری تعلیم نے عرض کیا کہ ہم نے مختلف age groupsکے لئے مختلف پروگرام رکھے ہیں۔مثال کے طور پر ہم نے نرسری سے لے کر آٹھویں کلاس کے بچوں کے لئے Mathsکا ایک پروگرام رکھا ہے جو کہ وہ گرمیوں میں مکمل کریں گے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے استفسار فرمایا کہ 12گریڈ کے امتحانوں میں بچوں کے نتائج کیسے آرہے ہیں؟

اس پر سیکرٹری تعلیم نے عرض کیا کہ نتائج بہت زیادہ اچھے نہیں ہیں۔اس حوالہ سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے ہدایت فرمائی تھی کہ اس کو شوریٰ میں رکھیں۔اس پر موصوف نے کہا ہم نے خدام الاحمدیہ کے ساتھ بھی اس کو discussکیا ہے اور حضور انور کی ہدایت کے مطابق شوریٰ میں بھی رکھیں گے کہ کس طرح ہم اپنے بچوں کے تعلیمی معیار کو بہتر کر سکتے ہیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا: سب سے پہلے تو ڈیٹا اکٹھا کریں کہ کتنے بچے، بچیاں ہیں جو یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور کتنے سکولوں میں ہیں۔آپ کے پاس یہ ساری معلومات ہونی چاہئیں کہ ان کے نام،ان کی عمریں،ان کی تعلیم، ان کے آگے مستقبل کے پلان کیا ہیں۔پھر ہر جماعت میں ایک کونسلنگ کا سسٹم بھی ہونا چاہئے۔کم از کم بڑے شہروں کی بڑی بڑی جماعتوں میں یہ سسٹم ضرور موجود ہونا چاہئے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: عام طور پر طلباء مختلف اداروں اور آرگنائزیشنز سے رہنمائی لیتے ہیں کہ انہیں کیا کرنا چاہئے۔بعض تو کمرشل ادارے بھی ہیں جو باقاعدہ فیس لے کر بتاتے ہیں کہ آپ کو کیا کرنا چاہئے۔اس لئے اگر  آپ ہائی سکول کے طلباء کو ان کے مستقبل کے حوالہ سے کونسلنگ مہیا کریں کہ انہیں کون سی فیلڈ اختیار کرنی چاہئے اور کون سی فیلڈ اہم ہے تو اس سے ان کو بہت فائدہ ہوگا۔ہمارے طلباء کو یہ پتہ ہونا چاہئے کہ انہوں نے آگے کیا کرنا ہے۔یہاں تو کافی پڑھے لکھے لوگ موجود ہیں، اس لئے اگر آپ ہر ریجن میں ایسے لوگوں پر مشتمل ایک کمیٹی بنالیں تو وہ طلباء کونسلنگ مہیا کر سکتی ہے۔اگر ہر جماعت یا ہر ریجن میں کمیٹی بنانا ممکن نہیں تو کم از کم ایک سینٹرل کمیٹی تو ہونی چاہئے جو کہ طلباء کی رہنمائی کر سکے۔بجائے اس کے کہ وہ کہیں اور پیسے خرچ کریں، وہ کونسلنگ کے لئے آپ کے پاس آئیں۔

اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے سیکرٹری اشاعت سے استفسار فرمایا کہ آپ اخباروں میں آرٹیکل وغیرہ لکھنے کے علاوہ اور کیاکیا کام کر تے ہیں؟

اس پر سیکرٹری اشاعت نے عرض کیا:ہم بُک سٹور کو manageکر رہے ہیں اور اب Amazonپر کتابیں فروخت کرنا شروع کی ہیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اب ایڈیشنل وکیل الاشاعت برائے ترسیل کا تقرر ہو چکا ہے۔اس لئے آپ کااُن کے ساتھ رابطہ ہونا چاہئے۔جونہی کوئی نئی کتاب چھپے اس کی معلومات آپ کو ملنی چاہئیں اور آپ پھر ا نہیں بتائیں کہ آپ کو کتنی کتب کی ضرورت ہے؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکے استفسار پر سیکرٹری اشاعت نے عرض کیا کہ جہاں جہاں مبلغین متعین ہیں وہاں لائبریریز موجود ہیں لیکن پبلک کے لئے بعض جگہوں پر لائبریریز نہیں ہیں کیونکہ وہاں جگہیں نہیں ہیں۔

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ہدایت فرمائی کہ آئندہ جب آپ مسجد وغیرہ کے نقشہ کی ڈرائینگز بناتے ہیں تو اس میں لائبریری کے لئے بھی جگہ مقرر کیا کریں۔

اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسار پر نیشنل سیکرٹری رشتہ ناطہ نے عرض کیا کہ ہمارے ڈیٹابیس میں تقریباًتقریباً 450لوگوں کا ڈیٹا ہے اور گزشتہ سال 12رشتے طے ہوئے ہیں۔80لڑکے جبکہ 230سے زائد لڑکیاں ہیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکے استفسار پر نیشنل سیکرٹری رشتہ ناطہ نے عرض کیا کہ لڑکوں کی عمریں زیادہ تر25سے 35سال ہیں اور ان کی تعلیم کے معیار بھی مختلف ہیں دوسری طرف لڑکیاں کافی پڑھی لکھی ہیں۔اس وجہ سے بھی مسائل کا سامنا ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسار پر نیشنل سیکرٹری رشتہ ناطہ نے عرض کیا کہ اُن کاانٹرنیشنل رشتہ ناطہ کمیٹی کے ساتھ رابطہ ہے اور انہوں نے بعض تجاویز بھی بھیجی ہیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:اس حوالہ سے مرکز سے باقاعدہ رابطہ رکھیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسار پر نیشنل سیکرٹری رشتہ ناطہ نے عرض کیا کہ ابھی تک دس رشتے طے ہو چکے ہیں۔ان میں وہ شامل ہیں جن کے نکاح ہو چکے ہیں۔

اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نیشنل سیکرٹری امور خارجیہ سے استفسار فرمایا کہ آپ کا اس سال کیا پلان ہے؟ آپ کے شعبہ کے سپرد کون سے کام ہیں؟ کیاآپ کو ان کاموں کاپتہ ہے؟

اس پر نیشنل سیکرٹری امور خارجیہ نے عرض کیا  کہ تحریکِ جدیدکے قواعد کے  مطابق گورنمنٹ اتھارٹیز ،مذہبی آرگنائزیشنز اور دیگر اداروں کے ساتھ روابط قائم کرنا۔الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں جماعتی نقطہ نظر کو اُجاگر کرنا ان کے کام ہیں۔

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کا کام تو آپ نہیں کر رہے۔

سیکرٹری امور خارجیہ نے عرض کیا کہ حضور یہ کام میڈیا ٹیم کے سپرد ہے۔

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:آج سے یہ کام میں آپ کے سپرد کرتا ہوں۔ ایک کمیٹی بنائیں یا ٹیم بنائیں جو کہ میڈیاپریس اور اس سے متعلقہ تمام معاملات سنبھالے۔ آئندہ سے  جماعتی نقطہ نظر کو میڈیا میں اُجاگر کرنے کا کام آپ کے سپرد ہے۔اگر کہیں جماعتی پالیسی کا کوئی مسئلہ ہوتا ہے تو میڈیا یا پریس میں بھجوانے سے پہلے مجھ سے ہدایت لیا کریں۔جماعتیstatementsاور پریس ریلیز یا انٹرویوز دینے کے لئے آپ جماعتی نمائندہ ہوں گے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ڈاکٹر نسیم رحمت اللہ صاحب انچارج میڈیا ٹیم سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا:اگر آپ کا میڈیا ٹیم کے حوالہ سے کوئی پلان ہے یا جو بھی ہدایات ہیں وہ سیکرٹری امور خارجیہ کو دے دیں۔آج سے شعبہ امورِ خارجیہ یہ معاملات دیکھے گا۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: شعبہ امورِ خارجہ ہی دوسری جماعتوں اور کمیونٹیز سے دوستانہ تعلقات رکھنے کی کوشش کرے گا۔میں آپ کو ایک نئی assignmentیہ دے رہا ہوں کہ آپ نے نارتھ امریکن مسلم کونسل کے ساتھ دوستانہ تعلقات بنانے ہیں۔انہوں نے جو جماعت پر اعتراضات وغیرہ لگائے ہیں اُن کے جوابات بھی آپ نے دینے ہیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: آپ ایک ٹیم بنائیں۔آپ کی بعض statementsجو حالات حاضرہ کے مسائل کے حوالہ سے ہوتی ہیں اور کچھ بیانات کا تعلق انٹرنیشل حالات اور بالخصوص پاکستان میں احمدیوں کے حوالہ سے ہوتا ہے۔ان میں آپ کو احتیاط سے کام لینا ہوگا۔جہاں بھی پاکستانی احمدیوں کا معاملہ ہو وہاں آپ نے میری اجازت کے بغیر از خود کوئی بیان نہیں دینا۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: آپ براہِ راست امیر صاحب کی ہدایات کے تحت کام کریں گے۔آپ بالکل آزاد نہیں ہیں۔اس کے علاوہ میرے پریس اینڈ میڈیا سیکشن سے بھی رابطہ رکھیں۔اگر کوئی ایمر جنسی صورتحال ہے تو آپ بذریعہ فون یا ای میل عابد وحید صاحب کے ساتھ رابطہ کر سکتے ہیں۔یہ دفتر24گھنٹے کھلا ہوتا ہے۔صرف عابد صاحب ہی نہیں ،بلکہ اور بھی سٹاف ممبر وہاں کام کرتے ہیں۔وہاں کام کرنے والوں کے رابطہ نمبرز حاصل کر لیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:دوسری بات یہ ہے کہ ضروری نہیں اخبارات میں آنے والے ہر ایشو پر ہی بیان جاری کیا جائے۔بسا اوقات بعض معاملات کا تعلق جماعت کے ساتھ نہیں ہوتا،ایسے ایشوز میں دخل اندازی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ایسی چیزوں کا حصہ نہ بنیں۔دوسرے مسلمانوں کو خود جواب دینے دیں۔ہاں اگر پریس خود آپ کے پاس آتا ہے تو پھر آپ ان کے سوالوں کے جوابات دے سکتے ہیں لیکن پالیسی کے معاملات کے حوالہ سے احتیاط کرنی ہوگی۔اگر کوئی policy matterہو جس کا جواب دینا نہایت ضروری ہو وہاں آپ کا بیان diplomaticہونا چاہئے اور پھر بعد میں مجھ سے ایسے معاملات کے متعلق ہدایت لے لیں۔ہدایت لینے کے بعد آپ پھر حتمی بیان جاری کر سکتے ہیں۔

اس کے بعد نیشنل سیکرٹری امور عامہ نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایاکہ ہمارے زیادہ تر معاملات شادی بیاہ کے جھگڑوں کے حوالہ سے ہوتے ہیں۔ 

گزشتہ اڑھائی سال میں ہمارے پاس 42خلع اور 18طلاق کے کیسز آئے ہیں۔ان میں سے 44کیسز کو حل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔15کیسزکی صورت میں ہم نے صلح کروائی ہے۔

اس پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: صلح تو ہو جاتی ہے لیکن سال بعد بالعموم عورتیں پھر اپنے خاوندوں کی شکایتیں لے کر آجاتی ہیں کہ اُن کا رویہ ٹھیک نہیں ہے۔اس لئے ان معاملات کو حل کرنے کے بعد ایسے لوگوں کے ساتھ رابطہ بھی رکھنا چاہئے۔کم از کم سیکرٹری تربیت کا ایسے لوگوں کے ساتھ ضرور رابطہ ہونا چاہئے۔

 حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے استفسار پر سیکرٹری تربیت نے عرض کیا کہ نیشنل لیول پر بھی اصلاح کمیٹی قائم ہے اور اسی طرح مقامی سطح پر 35اصلاحی کمیٹیاں قائم ہیں۔

 حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے سیکرٹری تربیت کو ہدایت دیتے ہوئے فرمایا کہ صدر لجنہ بھی اصلاحی کمیٹی کا ممبر ہوتی ہے اس لئے آپ کی پہنچ تو ہر گھر تک ہونی چاہئے۔جہاں کہیں بھی مسئلہ کا آغاز ہو اُسی وقت آپ کو رپورٹ ملنی چاہئے ۔ اس کے لئے پلان بنائیں کہ لجنہ کی طرف سے آپ کو معلومات مل جائیں۔بجائے اس کے کہ معاملہ اس حدتک چلا جائے جہاں اُس کا حل ہی ممکن نہ ہو، اُسے شروع سے ہی دیکھ لیا جائے۔یا بجائے اس کے کہ معاملہ قضاء یا  امور عامہ میں جائے، اصلاحی کمیٹی کو پہلے ہی معاملہ کو سلجھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔

 حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے سیکرٹری امورِ عامہ سے استفسار فرمایا کہ ان معاملات کے علاوہ جو ریفیوجیز آئے ہیں، انہیں ملازمتیں وغیرہ دلوانے میں مدد کرنا بھی آپ کا کام ہے۔اس حوالہ سے کیا کر رہے ہیں؟

اس پر سیکرٹری امورِ عامہ نے عرض کیا کہ ہم نے امریکہ میں چار مختلف جگہوں پر سنٹرز بنائے ہوئے ہیں۔گزشتہ ایک یا ڈیڑھ سال میں ہم نے 28فیملیوں کی مدد کی ہے۔اس حوالہ سے ہم خدام الاحمدیہ اور شعبہ صنعت و تجارت کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

 حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے سیکرٹری صنعت و تجارت سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا کہ آپ اس حوالہ سے کیا کر رہے ہیں؟وہاں سے جو آتے ہیں ان کو زبان کا بھی کافی مسئلہ ہوتا ہے۔مکینک یا کارپینٹنگ یا اس قسم کے کام کر سکتے ہیں لیکن زبان کی وجہ سے انہیں مشکل ہوتی ہے۔

اس پر سیکرٹری صنعت و تجارت نے عرض کیا کہ جب لوگ آتے ہیں تو ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا کرناچاہتے ہیں یا پاکستان میں وہ کیا کرتے تھے۔اگر وہ constructionکا کام کرتے ہوں تو ان کا رابطہ کسی contractorسے کروا دیا جاتا ہے۔اس طرح وہ آہستہ آہستہ ماحول کو دیکھ کر بعض اپنا بزنس بھی شروع کر دیتے ہیں۔

 حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے استفسار فرمایا کہ بعض خواتین ہیں جو نوکریاں کر رہی ہیں لیکن وہ یہ نوکریاں چھوڑ کر کچھ اور کرنا چاہتی ہیں۔آپ نے ایسی خواتین کے لئے بھی کوئی منصوبہ بنایا ہے؟

اس پر سیکرٹری صنعت و تجارت نے عرض کیا کہ بعض خواتین کے متعلق پتہ چلتا ہے کہ وہ سلائی کڑھائی کا کام جانتی ہیں۔تو ہم انہیں سلائی مشینیں خرید کر دے دیتے ہیں۔

 حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دریافت فرمایا کہ بعض اکیلی مائیں بھی بچوں کے ساتھ آئی ہیں جنہوں نے یا تو اپنے خاوندوں کو چھوڑ دیا ہے یا بعضوں کے خاوند اُن کے ساتھ نہیں آسکے اور بعض کے خاوندوں کی وفات بھی ہو چکی ہے۔ان کے لئے کیا کوشش کر رہے ہیں؟

اس پر سیکرٹری صنعت و تجارت نے عرض کیا کہ ایسی تین فیملیاں میری جماعت میں بھی ہیں۔ہم ان کے ساتھ رابطہ میں ہیں۔جن فیملیوں میں کوئی مردنہیں ہے اُن کے لئے ہماری پوری کوشش ہوتی ہے کہ کوئی ایسی جاب تلاش کی جائے جو ان کے لئے موزوں ہو۔اگر انہیں سلائی کڑھائی آتی ہو تو شعبہ صنعت و تجارت ان کیلئے سلائی مشینیں بھی خرید کر مہیا کر دیتا ہے۔

 حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نیشنل سیکرٹری تعلیم کو ہدایت دیتے ہوئے فرمایا:آپ کو ریفیوجیز کے بچوں کی بھی مدد کرنی چاہئے کہ وہ تعلیم حاصل کریں۔جن کی عمریں زیادہ ہو چکی ہیں اور سکول میں داخلہ نہیں لے سکتے اُن کی رہنمائی ہونی چاہئے کہ وہ کون سا ڈپلومہ کر سکتے ہیں یا کوئی professional skillسیکھ سکتے ہیں۔آپ شعبہ امورِ عامہ سے ایسے لوگوں کا ڈیٹا حاصل کر لیں اور ان کی رہنمائی کریں۔اگر وہ پلمبنگ، میکینک یا اس قسم کی دوسری skillsسیکھ لیں تو ان کے لئے کام کے زیادہ اچھے مواقع ہوں گے ورنہ وہ Uberپر ٹیکسی چلانی شروع کر دیتے ہیں۔پتہ نہیں کب تک Uberچلتی ہے۔ان پر کیسز وغیرہ چلتے رہتے ہیں۔ پتہ نہیں کتنی دیر یہ کمپنی مزید رہتی ہے۔اس لئے Uberکے علاوہ اور بھی چیزیں ہونی چاہئیں۔سیکرٹری صنعت و تجارت کو بھی اس حوالہ سے دیکھنا چاہئے۔

 حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے سیکرٹری امورِ عامہ کو ہدایت دیتے ہوئے فرمایا: عورتوں کی طرف سے شکایات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے کہ جن جماعتی شعبہ جات میں مرد کام کرتے ہیں وہ مردوں کے حق میں ہوتے ہیں اور عورتوں کے حقوق کو نہیں دیکھا جاتا۔ایسی شکایتیں بھی دور کریں۔

اس کے بعد  حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسار پر نیشنل سیکرٹری ضیافت نے عرض کیا کہ جمعہ کے روز شعبہ ضیافت نے آٹھ ہزار مہمانوں کے لئے کھانا تیا رکیا تھا اور لوگوں نے کھانا پسند بھی کیا ہے۔کھانا پورا ہوگیا تھا لیکن بارش کی وجہ سے مارکی میں کافی کیچڑ ہوگیا تھا جس کی وجہ سے مشکل کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس حوالہ سے الحمدللہ مہمانوں کی طرف سے کسی قسم کی کوئی شکایت نہیں ملی۔

اس کے بعد  حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نیشنل سیکرٹری مال سے استفسار فرمایا کہ جو لوگ چندہ ادا کرتے ہیں اس حساب سے آمدن per capitaکیا بنتی ہے؟

اس پر سیکرٹری مال نے عرض کیا کہ جو لوگ وصیت کا چندہ ادا کر رہے ہیں اُس حساب سے آمدنی 47ہزار ڈالرزسالانہ بنتی ہے۔اور جو لوگ چندہ عام ادا کرتے ہیں ان کی انکم 1ہزار518ڈالر ماہانہ بن رہی ہے ۔

 حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسار پر سیکرٹری مال نے بتایا کہ امریکہ میں ویسے اوسط تنخواہ ہر سٹیٹ کے لحاظ سے علیحدہ علیحدہ ہے۔لیکن بالعموم 32سے 60ہزار ڈالرز سالانہ تنخواہ ہوتی ہے۔ویسے ایک عام مزدور کے لئے 15ڈالرز فی گھنٹہ ہے۔

 حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر 15ڈالرز فی گھنٹہ اجرت ہے پھر ایک ہفتہ میں چالیس گھنٹے کے حساب سے سالانہ تنخواہ تقریباً30ہزار ڈالرز بنتی ہے۔لیکن آپ کی غیرموصیان کی انکم 15سے 18ہزار ڈالرز سالانہ ہے جو کہ اصل آمد سے نصف ہے۔

 حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا: بعض ٹیکسی ڈرائیورز اپنی اصل آمد کے مطابق چندہ ادا کرتے ہیں۔آپ ان کے چندوں سے حساب لگا سکتے ہیں کہ ان کی ہفتہ وار یا ماہانہ آمد کیا ہے۔اس کی بنیاد پر آپ دوسروں کو کہہ سکتے ہیں کہ آپ اپنی انکم کو بڑھائیں۔مقامی جماعتوں کے سیکرٹریان مال کو کہیں کہ وہ اس پر کام کریں۔

 حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے استفسار فرمایا کہ آپ لوگ اپنا بجٹ کیسے تیار کرتے ہیں؟ کیا مقامی سیکرٹریان مال گھر گھر جا کر بجٹ لکھتے ہیں؟

اس پر سیکرٹری مال نے عرض کیا کہ ہم سیکرٹریان مال کو یہی کہتے ہیں کہ وہ ہر ممبر سے رابطہ کرکے بجٹ لکھیں لیکن وہ ہر ممبر تک نہیں جاتے۔اس لئے جب ہمیں بجٹ ملتا ہے تو ہم گزشتہ سا ل کے بجٹ کے ساتھ موازنہ کر لیتے ہیں۔

اس پر  حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:یہ درست طریق نہیں ہے اور نہ ہی معلومات درست ہوتی ہیں۔ہر ایک کے ساتھ انفرادی رابطہ ہونا چاہئے۔

اس کے بعد  حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نیشنل سیکرٹری وصایا سے استفسار فرمایا کہ کیا  آپ نے کمانے والے ممبرز کی 50فیصد وصیتوں کا ٹارگٹ مکمل کر لیا ہے؟

اس پرسیکرٹری وصیت نے عرض کیا کہ ابھی ہم اپنے ٹارگٹ سے پیچھے ہیں۔ابھی 28فیصد مکمل ہوا ہے۔

اس پر  حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اگر آپ موصیان کی تعداد میں اضافہ کر لیں تو آپ کی اصل آمد پر چندہ نہ دینے کی مشکل بھی کسی حدتک دور ہو جائے گی۔

سیکرٹری وصیت نے عرض کیا کہ ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔حضور انور کی خدمت میں دعا کی درخواست ہے۔بعض جماعتوں نے یہ ٹارگٹ حاصل کر لیا ہے لیکن بعض جماعتیں ابھی پیچھے ہیں۔

 حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے استفسار فرمایا کہ کیا آپ کے مقامی سیکرٹریانِ وصیت فعال ہیں؟کیا آپ ان کے کوئی ریفریشر کورسز وغیرہ کرواتے ہیں یا اُن سے پوچھتے ہیں کہ انہیں کن مسائل کا سامنا ہے؟

اس پر سیکرٹری وصیت نے عرض کیا کہ سب سے بڑی مشکل جو سامنے آئی ہے وہ یہی ہے کہ نوجوان کہتے ہیں کہ ابھی ہمارا تقویٰ کا معیار وہ نہیں ہے اس لئے ہم وصیت نہیں کر سکتے۔

اس پر  حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:یہ تو صرف بہانہ ہے۔اس حوالہ سے میں نے ایک خطبہ بھی دیا تھا اگر آپ وصیت کریں تو اللہ تعالیٰ آپ کو تقویٰ کا معیار بڑھانے کی توفیق بھی عطا فرما دیتا ہے۔ایسے لوگوں کو خطبات کے سرکلر بھجوایا کریں۔

 حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:جرمنی بہت بڑی جماعت ہے اور انہوں نے یہ ٹارگٹ حاصل کر لیا ہے۔اسی طرح یو کے بھی اپنے ٹارگٹ کے قریب پہنچ گئی ہے۔

اس کے بعد ایڈیشنل سیکرٹری مال نے عرض کیا کہ میں فنانس ٹیم کے ساتھ کام کرتا ہوں جس کے 10ممبر ہیں اور ہر ممبر کے سپرددس کے قریب جماعتیں ہیں۔

 حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے سیکرٹری مال سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا کہ جو لوگ اپنی اصل آمد پر چندہ ادا نہیں کرتے ان کے لئے کوئی پلان بنائیں۔اگر وہ کسی وجہ سے اصل آمد پر چندہ ادا نہیں کر سکتے تو وہ باقاعدہ لکھ کر چھوٹ لے لیں۔اس حوالہ سے مربیان سے بھی مدد لیں۔بعض مبلغین نے مجھے بتایا ہے کہ جب ہم لوگوں کو یا بعض عہدیداران کو چندہ کی ادائیگی کے حوالہ سے کہتے ہیں تو ان کا جواب ہوتا ہے کہ آپ کے پاس مالی معاملات میں دخل اندازی کرنے کا اختیار نہیں ہے۔حالانکہ یہ تومالی معاملات میں دخل اندازی نہیں ہے،وہ توصرف چندہ کی وصولی میں مدد کر رہے ہوتے ہیں۔

سیکرٹری مال نے عرض کیا کہ ہم نے بعض بزرگان کے ذمہ بعض جماعتیں لگائی ہیں تا کہ وہ وہاں جا کر لوگوں سے رابطہ کریں اور اس حوالہ سے کام کریں۔

اس پر  حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: لیکن اس بات کی یقین دہانی کر لیا کریں کہ جن کو جماعتوں میں بھجوانا ہے اُن کے اپنے چندہ جات اصل آمد کے مطابق ہیں۔

بعد ازاں  حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نیشنل سیکرٹری تعلیم القرآن سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا کہ !

مجھے امریکہ سے بعض لوگوں کے بالخصوص عورتوں کے خطوط ملتے رہے ہیں کہ جب سے ہم نے پیسے دے کر بچوں کی کلاسز بند کروائی ہیں اُس وقت سے ہمیں مشکلات کا سامنا ہے۔لیکن اب تو ربوہ میں نظارت تعلیم کی طرف سے ان کلاسز کا آغاز کیا گیا ہے۔ان کلاسوں میں طالبعلموں کاکافی اضافہ ہوا ہے اور طلباء کی تعداد اب 2ہزار تک ہوگئی ہے۔

سیکرٹری تعلیم القرآن نے عرض کیا کہ ربوہ والی کلاس میں بھی 107طلباء رجسٹرڈ ہوئے ہیں لیکن ہم نے بھی آن لائن کلاسز کا آغاز کیا ہے جس میں 1ہزار240طلباء پڑھ رہے ہیں۔پڑھانے کے لئے 146خواتین اساتذہ اور 11مرد اساتذہ ہیں۔یہ سارے اساتذہ ربوہ سے approveکروائے گئے ہیں۔

اس کے بعد حضورانور ایدہ اللہ تعالی کے استفسار پرنیشنل سیکرٹری تحریکِ جدید نے عرض کیا کہ ہم نے گزشتہ سال اپناتحریک جدید میں شامل ہونے والوں کی تعداد اور بجٹ دونوں کا ٹارگٹ مکمل کر لیا ہے۔گزشہ سال تحریکِ جدید میں حصہ لینے والوں کی تعداد 13ہزار تھی جبکہ اس سال یہ تعداد 14ہزار400ہوگئی ہے۔ہماری وصولی 2.22ملین ڈالرز تھی۔

 حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ تقریباً2لاکھ ڈالرز تو پاکستان میں صرف لجنہ اماء اللہ ربوہ نے ادا کیا ہے۔

بعد ازاں  حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسار پر نیشنل سیکرٹری وقفِ جدید نے عرض کیا کہ وقفِ جدید میں شامل ہونے والوں کی تعداد کے لحاظ سے گزشتہ سال ہمارا ٹارگٹ 13ہزار کا تھا لیکن 12ہزار 74شاملین تھے ٹارگٹ سے تھوڑاپیچھے رہ گئے تھے۔لیکن اس سال ان شاء اللہ ہم 13ہزار کا ٹارگٹ حاصل کر لیں گے۔

بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسار پر ایڈیشنل سیکرٹری تربیت نومبائعین نے عرض کیا کہ گزشتہ تین سالوں کے نومبائعین کی تعداد 385ہے۔سیکرٹری تربیت نومبائعین برائے یو کے کی طرف سے شائع کردہ سلیبس ہم استعمال کر رہے ہیں جس میں نماز سکھانا وغیرہ شامل ہے۔

حضور انور کے استفسار پر ایک عاملہ ممبر نے عرض کیا کہ گزشتہ تین سالوں میں نومبائعین کی تعداد 385ہے لیکن 210کو AIMSکارڈ ایشو ہوئے ہیں۔اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کامطلب ہے کہ 210نومبائعین mainstreamکا حصہ بنے ہیں۔

حضور انور کے استفسار پر ایڈیشنل سیکرٹری تربیت نومبائعین نے عرض کیا کہ نومبائعین کا تعلق مختلف اقوام سے ہے۔افریقن امریکن کی تعداد 83،امریکن کی تعداد2، Caucasianکی تعداد 55، ایشین 32،ہسپانوی48، بنگلہ دیشی 11ہیں۔اس کے علاوہ چار Carbbeanاور پیسیفک آئی لینڈ سے 10مڈل ایسٹ سے 4اور67پاکستانی ہیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ارشاد فرمایا: اس بات کی یقین دہانی کریں کہ ہر نومبائع کو سورۃ فاتحہ اور اس کا ترجمہ آتا ہو۔

اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے استفسار پر نیشنل سیکرٹری وقفِ نو نے عرض کیا کہ واقفینِ نوکی کل تعداد1ہزار385ہے۔اس میں سے 744لڑکے اور611لڑکیاں ہیں۔ عمر کے لحاظ سے 15سے 18سال کی عمر والے واقفین 432اور 18سال سے اوپر واقفین میں 345ہیں۔

حضور انور کے استفسار پر سیکرٹری وقفِ نو نے عرض کیا کہ 327واقفین نے تجدیدِ وقف کیا ہے۔ان میں سے 4واقفین جماعت کے مختلف شعبہ جات میں کام کر رہے ہیں جبکہ 7واقفینِ بطور مبلغ خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے سیکرٹری زراعت سے استفسار فرمایا کہ آپ کا زراعت کے شعبہ کے ساتھ کوئی تعلق بھی ہے؟

اس پر سیکرٹری زراعت نے عرض کیا کہ میں کولمبس جماعت میں تین سال تک سیکرٹری زراعت رہا ہوں۔اس کے علاوہ میرا زراعت کے پیشہ کے ساتھ کوئی خاص تعلق نہیں ہے۔لیکن میں نے بعض چیزوں کے حوالہ سے سوچا ہے کہ وہ کی جاسکتی ہیں۔

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اگر آپ کے ذہن میں کوئی پلان ہے تو اسے لکھ کر مجھے بجھوائیں۔پلان سیدھا سادھا ہونا چاہئے۔

بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسار پر مُحاسب نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں ساری statementsتیار کر کے سیکرٹری مال کو دے دیتا ہوں۔

اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسار پر ’امین‘نے عرض کیا کہ میں بینک کے ساتھ ہونے والی transactionsکو دیکھتا ہوں کہ اخراجات کی رپورٹس کے مطابق ہی رقم نکلوائی جارہی ہے۔

بعد ازاں حضورا نور کے استفسار پر انٹرنل آڈیٹر نے بتایا کہ وہ تین ماہ میں ایک مرتبہ آڈٹ کرتے ہیں۔اس میں اخراجات اور رسیدیں وغیرہ چیک کرتے ہیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے استفسار فرمایا کہ اگر کوئی شعبہ اپنے مجوزہ بجٹ سے زیادہ خرچ کرے تو اس کے لئے کیا کرتے ہیں؟

انٹرنل آڈیٹر نے عرض کیا کہ میں پھر حالات کے  مطابق دیکھتا ہوں کہ اگر واقعی ضرورت کے مطابق خرچ ہوا ہے تو ٹھیک ہے۔

اس پرحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:آپ زائد خرچ کرنے کی اجازت  نہیں دے سکتے۔اگر کوئی شعبہ اپنی limitسے زیادہ خرچ کرے تو آپ کو چاہئے کہ امیر صاحب کو مطلع کریں تا کہ وہ یہ معاملہ عاملہ میں رکھیں اور پھر عاملہ اس پر اپنی سفارش کر کے مرکز بھیجے اور پھر مرکز سے حتمی منظوری آنے کے بعد یہ اخراجات ہوں۔آپ کو چاہئے کہ بحیثیت انٹرنل آڈیٹر کے اخراجات کی سخت جانچ پڑتال کیا کریں۔اگر آپ دیکھتے ہیں کہ کوئی چیز اپنے مقررہ بجٹ سے زیادہ لی گئی ہے یا کوئی شعبہ مقررہ بجٹ سے زیادہ خرچ کر رہا ہے تو آپ اس کو روک دیں۔آپ کے پاس یہ اختیار نہیں کہ آپ کسی شعبہ کو اُس کے مقررہ بجٹ سے زائد خرچ کرنے کی اجازت دیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:انٹرنل آڈیٹر کے فرائض بہت وسیع اور اہم بھی ہیں۔آپ کا فرض ہے کہ آپ تمام اخراجات کو دیکھیں کہ آیا وہ منظور شدہ بجٹ کے مطابق نہیں ہو رہے  ہیں اگر منظور شدہ بجٹ کے مطابق نہیں ہورہے تو فوری طور پر امیر صاحب کو اطلاع کریں۔

اس کے بعد نائب امیر ڈاکٹر حمیدالرحمان صاحب نے عرض کیا کہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز 2013ء میں لاس اینجلس تشریف لائے تھے اور حضور انور نے ہسپانوی لوگوں میں تبلیغ کرنے کی ہدایت فرمائی تھی۔چنانچہ اس کے بعد ہم نے وہاں کافی کام کیا ہے اور 31بیعتیں ہوئی ہیں۔اب وہاں ہم نے چرچ کی بلڈنگ بھی خریدی ہے جس کے ساتھ 26گاڑیوں کے پارک کرنے کی بھی جگہ ہے۔حضور انور کی خدمت میں اس پروجیکٹ میں کامیابی کے لئے دعا کی درخواست ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے استفسار پر موصوف نے عرض کیا کہ 3ہزار800مربع فٹ مسقف حصہ ہے۔اس کے دو حصے ہیں، ایک میں پرانا چرچ جوہے کہ 1ہزار800مربع فٹ کا ہے جبکہ دوسرا حصہ نیا بنا ہے۔جس میں سکول تھا۔اس پر ساڑھے نو لاکھ ڈالرز کے اخراجات آئے ہیں جس میں سے کچھ ہم نے بطور قرض لئے ہیں اور باقی خود ادا کئے ہیں۔ان شاء اللہ مرکز کو بھی اُن کی رقم جلد واپس کر دیں گے۔

حضور انور کے استفسار پر موصوف نے عرض کی کہ عمارت کی ایک ہی منزل ہے لیکن ہم دوسری منزل تعمیر کرنے کی اجازت کیلئے کارروائی کر رہے ہیں۔اجازت ملنے کی صورت میں نئے حصہ پر دوسری منزل تعمیر کی جاسکتی ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت فرمائی کہ آپ structural engineersسے پہلے پوچھ لیں کہ نیچے والی منزل upper floorکا وزن اُٹھا لے گی۔

نیشنل مجلس عاملہ کی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکے ساتھ یہ میٹنگ نو بجے تک جاری رہی۔

image_printپرنٹ کریں