skip to Main Content
سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالٰی بنصرہ العزیز کا دورہ امریکہ: قسط نمبر21

مسجدمسرور کامعائنہ و افتتاح،پریس کانفرنس ،ڈاکٹرکاترینا ،سفیرگیمبیا، گانگریس مین اور بعض حکومتی عہدیداروں سے ملاقات

عبدالماجد طاہر۔لندن

3۔نومبر2018ء

(حصہ اول)

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صبح ساڑھے چھ بجے مسجد بیت الرحمن میں تشریف لا کر نماز فجر پڑھائی ۔نماز کی ادائیگی کے بعد حضورا نور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزاپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

صبح حضورا نورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے دفتری ڈاک ،خطوط اور رپورٹس ملاحظہ فرمائیں اور ہدایات سے نوازا۔

پروگرام کے مطابق گیارہ بج کر 35منٹ پر حضور انور اپنے دفتر تشریف لائے۔ صدرمجلس خدام الاحمدیہ یوایس اے مکرم عدیل احمد صاحب نے حضور انور سے ملاقات کی سعادت پائی اور حضور انور سےہدایات اور رہنمائی حاصل کی۔موصوف امسال مجلس خدام الاحمدیہ یوایس اے کے نئے صدر مقرر ہوئے ہیں۔یہ  ملاقات بارہ بجے تک جاری رہی۔بعد ازاں حضور انور اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

مسجد مسرور کا افتتاح

آج پروگرام کے مطابق ساؤتھ ورجینیا (South Virginia)میں ’’مسجد مسرور‘‘ کے افتتاح کا پروگرام تھا۔

بارہ بج کر پچیس منٹ پر حضور ا نور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزاپنی رہائش گاہ سے باہر تشریف لائے اور دعا کروائی۔بعد ازاں ساؤتھ ورجینیا کے لئے روانگی ہوئی۔مسجد بیت الرحمن سے ساؤتھ ورجینیا کا فاصلہ 52میل ہے۔

آج کا دن جماعت ساؤتھ ورجینیا کے لئے بڑا ہی مبارک اور برکتوں والاایک تاریخی دن تھا۔ہر چھوٹا بڑا،مرد و زن ،جوان،بوڑھا خوشی و مسرت سے معمور تھا۔آج ان کے مسکن میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے مبارک قدم پہلی بار پڑ رہے تھے۔یہ لوگ صبح سے ہی ’’مسجد مسرور‘‘پہنچنا شروع ہوگئے تھے۔

ساؤتھ ورجینیا کی مقامی جماعت کے علاوہ Silicon Valley, Bay Point، لاس اینجلز، کیلیفورنیا، سیاٹل(Seattle)Kansas، سینٹ لوئیس، ہیوسٹن ، Austin،Dallas، Miami، نیویارک،نیوجرسی (New Jersey)، Oshkosh اور ڈیٹرائٹ کی جماعتوں سے احباب جماعت بڑے لمبے اور طویل سفر طے کر کے ’’مسجد مسرور‘‘ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لئے پہنچے تھے۔

لاس اینجلز ،Siliconویلی، Bay Pointاور سیاٹل سے آنے والے احباب قریباً چھ گھنٹے جہاز کا سفر طے کر کے پہنچے تھے۔علاوہ ازیں کینیڈا کی جماعتوں ٹورانٹو،مسسی ساگا، آٹوا، کیلیگری، وینکوور اور بیری سے بھی احباب جماعت کی ایک بہت بڑی تعداد اس مسجد کے افتتاح میں شامل ہونے کے لئے پہنچی تھی۔

حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکی آمد سے قبل جماعت ساؤتھ ورجینیاکے مرکز ’’مسجد مسرور‘‘کا بیرونی احاطہ احباب جماعت سے بھر چکا تھا۔مرد و خواتین کی مجموعی تعداد تین ہزار تین صد کے لگ بھگ تھی۔جن میں سے دو ہزار تین صد افراد امریکہ کی مختلف جماعتوں سے آئے تھے جبکہ ایک ہزار کے لگ بھگ کینیڈا سے آئے تھے۔

قریباًدو بجے حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکی یہاں تشریف آوری ہوئی۔تو ساری فضا نعروں سے گونج اٹھی۔بچیوں کے گروپس نے خیر مقدمی گیت اور ترانے پیش کئے۔جونہی حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزگاڑی سے  باہر تشریف لائے تو صدر جماعت ساؤتھ ورجینیا مکرم کریم اللہ کلیم صاحب اور ریجنل مبلغ سلسلہ فاران احمد ربانی صاحب نے حضور انور کو خوش آمدید کہا اور شرف مصافحہ حاصل کیا۔

بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مسجد کی بیرونی دیوار میں لگی تختی کی  نقاب کشائی فرمائی اور دعا کروائی۔

مسجد کا تعارف

اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مسجد مسرور اور جماعت کے اس سینٹر کا معائنہ فرمایا۔

اس سینٹر کی یہ عمارت نومبر2017ء میں خریدی گئی۔یہ ایک چرچ کی بلڈنگ تھی۔ خریدنے کے بعد اس میں تھوڑی Renovationکی گئی۔اس عمارت کی خرید پر پانچ ملین ڈالرز خرچ ہوئے اور اس کی Renovationپر قریباً75ہزار ڈالرز خرچ ہوئے۔

اس سینٹر کا کل رقبہ 17.6ایکڑ ہے۔مسجد کا کل مسقف حصہ 22ہزار403مربع فٹ پر مشتمل ہے۔

مسجد کے ساتھ ایک Structureہے جو 64فٹ اونچا ہے اور آئندہ آگے چل کر اُسے باقاعدہ مینار میں تبدیل کیا جا سکے گا۔

مسجد کے دو حصے ہیں ایک اوپر کا حصہ ہے اور ایک نیچے کا حصہ ہے۔مسجد کے اوپر کے حصہ میں مردوں کا ہال ہے جس کے ایک حصہ میں باقاعدہ Stageبنا ہوا ہے اور اسی کے ساتھ ایک بڑی TV Screen بھی آویزاں ہے۔ ایک Back Stage آڈیو ویڈیو روم بھی ہے ایک چھوٹا کچن بھی موجود ہے۔

اس سینٹر میں مردوں اور عورتوں کے نماز پڑھنے کے علیحدہ علیحدہ ہال ہیں۔مردوں کے نماز ہال میں 500کے لگ بھگ لوگ نماز پڑھ سکتے ہیں۔ایک Lobbyبھی ہے جو مردوں کے لئےOver Flowکے علاوہ ضیافت کے طور پر بھی استعمال ہوتی ہے۔

ایک اعلیٰ پائے کا آڈیو ویڈیو سسٹم بھی مسجد میں نصب کیا گیا ہے مسجد میں تین Stairwellکے علاوہ ایکElevator بھی موجود ہے۔

نچلی منزل پر عورتوں کے لئے نماز کا ایک ہال ہے جس میں 150سے زائد نمازیوں کو گنجائش ہے۔نیز مسجد کے اس حصہ میں کل گیارہ کمرے ہیں جہاں بچوں کی کلاسز کے علاوہ مختلف شعبہ جات کے دفاتر اور کانفرنس روم بھی موجود ہے۔

ایک ریجنل لائبریری بھی قائم کی گئی ہے۔اس حصہ میں جماعتی کچن بھی بنایا گیا ہے۔چھوٹے بچوں کے لئے ایک نرسری بھی ہے۔

مسجد کی عمارت سے ہٹ کر کچھ فاصلہ پر لنگر خانہ بھی تیار کیا گیا ہے ۔اس کے علاوہ ایک باسکٹ بال کورٹ نیز کرکٹ کے لئے ایک ہارڈبال کی پچ بھی تیار کی گئی ہے۔نیز یہاں226گاڑیوں کی پارکنگ بھی موجود ہے۔

معائنہ مسجد مسرور

حضورا نور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے مسجد کا معائنہ فرمایا اور ہدایت فرمائی کہ محراب کی شکل اندر ہونی چاہئے نیز حضورا نور نے آواز، ساؤنڈ سسٹم کے بارہ میں دریافت فرمایا کہ آواز کی گونج وغیرہ تو نہیں ہے۔

حضور انور نے لجنہ ہال کا بھی معائنہ فرمایا نیز مختلف دفاتر بھی دیکھے اور مرکزی کچن میں بھی تشریف لے گئے اور انتظامیہ سے مہمانوں کے لئے کھانے کے انتظامات کے بارہ میں دریافت فرمایا۔

بعد ازاں حضورا نورایدہ اللہ تعالیٰ کچھ دیر کے لئے رہائشی حصہ میں تشریف لے گئے۔

دو بج کر 20منٹ پر حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے مسجد میں تشریف لا کر نماز ظہر و عصر جمع کر کے پڑھائیں اور اس کے ساتھ ’’مسجدمسرور‘‘کا افتتاح عمل میں آیا ۔

مسجد کے بیرونی احاطہ میں خواتین کے لئے دو بڑی مارکیز لگائی گئی تھیں۔نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضورا نورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزان دونوں مارکیز میں تشریف لے گئے۔جہاں خواتین شرف زیارت سے فیضیاب ہوئیں۔

اس کے بعد مسجد کے بیرونی احاطہ میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے پودا لگایا۔بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

پروگرام کے مطابق ساڑھے چار بجے حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ کے لجنہ ہال میں تشریف لائے جہاں ممبران مجلس عاملہ جماعت ساؤتھ ورجینیا ،مجلس عاملہ انصاراللہ اور مجلس عاملہ خدام الاحمدیہ نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ گروپ تصاویر بنوانے کا شرف پایا۔

پریس کانفرنس

بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کانفرنس روم  میں تشریف لے آئے جہاں پریس کانفرنس کا انعقاد ہوا۔جس میں الیکٹرانک ،پرنٹ اور سوشل میڈیا کے درج ذیل جرنلسٹ اور نمائندگان شامل تھے۔

Wtop واشنگٹنDC کی ایک بہت اہم نیوز سروس ہے۔اس کے جرنسلسٹ شامل ہوئے۔

VOA(وائس آف امریکہ)وائس آف امریکہ کا آغاز1942ء میں ہوا۔یہ غیر فوجی اور بیرون از امریکہ براڈ کاسٹنگ کے لئے امریکی فیڈرل حکومت کا ایک آفیشل ادارہ ہے۔یہ ادارہ یو ایس اے کے بارہ میں امریکہ سے باہر رائے عامہ قائم کرنے  میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

وائس آف امریکہ کے تین جرنلسٹ آج کی پریس کانفرنس میں شامل ہوئے۔

Potomac Localاس کا آغاز 2010ء میں کیا گیا۔ potomaclocal.com پرنس ولیم اور Staffordکاؤنٹیز اور Manassasاور Manassas Parkکے شہروں کی ایک اہم آزاد اور مقامی نیوز ایجنسی ہے۔ اس کے بھی جرنلسٹ اور صحافی شامل ہوئے۔

Whats up Prince William” پرنس ولیم کاؤنٹی کی لوکل نیوز آوٹ لیٹ ہے۔اس کے بھی صحافی شامل ہوئے۔

NRB TVکے جرنلسٹ بھی شامل ہوئے۔

Freelance Journalistبھی پریس کانفرنس میں شامل ہوئے۔

پریس کانفرنس کا آغاز چار بج کر 33منٹ پر شروع ہوا۔

  • ایک جرنلسٹ نے سوال کیا کہ حضور انور گزشتہ مرتبہ پانچ سال قبل امریکہ تشریف لائے تھے۔اب حضور انور نے تقریباًتین ہفتے یہاں قیام کیا ہے؟ کیا حضورانور نے کوئی تبدیلی دیکھی ہے؟ اور آپ کے اس حالیہ دورے کے حوالہ سے کیا تاثرات ہیں؟

اس پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ جہاں تک ہماری جماعت میں تبدیلی کا تعلق ہے تو ہماری جماعت میں یہاں کافی اضافہ ہوا ہے۔پچھلے پانچ سالوں کے دوران احمدی ریفیوجیز کی ایک بڑی تعداد یہاں منتقل ہوئی ہے۔اس کے علاوہ ہماری جماعت نے یہاں چند مساجد بھی تعمیر کی ہیں جو مختلف شہروں او ر سٹیٹس میں ایک  نیا اضافہ ہے۔ تو ہماری جماعت ترقی کر رہی ہے۔

جہاں تک ملک کے باقی حالات کا تعلق ہے تو میرا خیال ہے اس حوالہ سے آپ مجھ سے زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ان حالات میں تبدیلی تو کافی واضح ہے۔جب بھی حکومتیں بدلتی ہیں تو تبدیلیاں آتی ہی  ہیں۔بعض سیاسی تبدیلیاں بھی ہوتی ہیں۔باقی جہاں تک ہماری جماعت کا تعلق ہے تو ہماری جماعت امریکہ میں جہاں جہاں بھی قائم ہے وہاں سیاستدانوں کے ساتھ اچھے رابطے ہیں اور ان رابطوں میں مزید سے مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

حضور ا نور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا : آج کل آپ کے سیاستدان الیکشن میں مصروف ہیں۔دیکھتے ہیں کہ اس کے کیا نتائج نکلتے ہیں۔

  • اس پر صحافی نے پوچھا کہ کیا آپ الیکشن کو followکر رہے ہیں؟

اس پر حضور ا نورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا کہ بہت زیادہ تو نہیں لیکن بہر حال کچھ نہ کچھ معلومات ہوتی ہیں۔آج شاید آپ کے پریذیڈنٹ نے اپنی campaignکے حوالہ سے فائنل تقریر کی ہے۔

  • ایک صحافی نے سوال کیا کہ امریکہ کے علاوہ باقی دنیا میں احمدیوں پر مظالم ہوتے ہیں؟

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:بالکل مظالم ہوتے ہیں بالخصوص پاکستان میں پرسی کیوشن بہت زیادہ ہو رہی ہے۔پاکستان سے احمدیوں کی ایک بڑی تعداد باہر کے ملکوں میں منتقل ہو رہی ہے۔اس کی بڑی وجہ پرسی کیوشن ہی ہے۔ پاکستان میں احمدیوں کے خلاف باقاعدہ قوانین موجود ہیں جن کے مطابق ہم اپنے عقائد کا نہ اظہار کر سکتے ہیں، نہ ان پر عمل کر سکتے ہیں اور نہ ہی ان کی تبلیغ کر سکتے ہیں پاکستان کے علاوہ اور بھی بعض مسلمان ممالک ہیں جہاں احمدیوں کو مسائل کا سامنا ہے۔لیکن خاص طور پر پاکستان میں احمدیوں کی زندگی کافی مشکل ہے۔

  • ایک صحافی نے سوال کیا کہ آپ ترقی پذیر ممالک میں رفاہی کاموں کو فروغ دے رہے ہیں۔آپ کی اپنی جماعت ان ملکوں کی کس طرح مدد کر رہی ہے؟

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:افریقہ بالخصوص ویسٹ افریقہ کے کافی ممالک ہیں جہاں ہمارے ہسپتال کام کر رہے ہیں اور ہم ان ملکوں میں طبی سہولیات مہیا کر رہے ہیں۔ان ملکوں میں ہمارے سکول بھی قائم ہیں اور ہم اُن بچوں کو بھی تعلیم دے رہے ہیں جن کی سکول تک پہنچ نہیں ہوتی۔ہمارے سکول اکثر دور دراز کے علاقوں میں ہیں۔اس کے علاوہ اور بھی کئی پروجیکٹس چل رہے جیسے پینے کے صاف پانی کا پروجیکٹ ہے۔افریقہ میں صاف پینے کا پانی بہت مشکل سے ملتا ہے۔چھوٹے چھوٹے بچے اپنے سروں پر بالٹیاں رکھ کر دو،دوتین تین کلومیٹر پیدل چل کر جاتے ہیں اور تالابوں سے پانی لے کر آتے ہیں اور جو پانی میسر ہوتا ہے وہ بھی گندہ اور آلودہ ہوتاہے۔جب ان لوگوں کے گھروں کے باہر پینے کا صاف پانی ملتا ہے تو وہ بہت خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔یہاں اگر آپ کو مہنگی چیز ملے تو آپ اس کے ملنے پر بہت خوش ہوں گی اور خوشی سے اچھلنے لگیں گی۔پس جب افریقہ کے وہ لوگ جو ان بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہیں انہیں جب پینے کا صاف پانی بھی ملتا ہے تو ان کے چہروں پر خوشی دیکھنے والی ہوتی ہے۔اُس وقت ان کے احساسات ناقابلِ بیان ہوتے ہیں۔

  • ایک صحافی نے سوال کیا کہ احمدیوں اور دوسرے مسلمان فرقوں میں کیا فرق ہے؟

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:رسول کریم ﷺ کی پیشگوئی کے مطابق تمام مسلمان اس بات  پر یقین رکھتے ہیں کہ آخری دور میں ایک شخص ظاہر ہوگا یا ان کی تفسیر کے مطابق دو شخص ظاہر ہوں گےجن میں سے ایک مسیح  اور ایک مہدی ہوگا۔ہمارا یقین ہے کہ بانیٔ جماعت احمدیہ مسلمہ مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام وہی شخص تھے۔اور آپ علیہ السلام نے دعویٰ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر وحی کی کہ آپ علیہ السلام وہی شخص ہیں جس کے متعلق آنحضرت ﷺنے پیشگوئی فرمائی تھی کہ اس آنے والے شخص کا مقام و مرتبہ ’نبی‘جیسا ہوگا۔تو باقی مسلمان فرقے کہتے ہیں کہ وہ شخص ابھی ظاہر نہیں ہوا اور مسیح آسمان سے نازل ہوگا اور مہدی کا ظہور مسلمانوں کے بیچ میں سے ہوگا اور پھر یہ  دونوں اکٹھے مل کر اسلام پھیلانے کا کام کریں گے۔

دوسرے مسلمان فرقے کہتے ہیں کہ احمدی اپنی جماعت کے بانیٔ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو نبی سمجھتے ہیں۔ہمارا جواب یہ ہوتا ہے کہ ہم نبی سمجھتے ہیں لیکن پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺنے اس آنے والے شخص کو ’نبی‘کا لقب عطا فرمایا ہے۔چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو نبی سمجھتے ہیں تو پھر ہم آنحضرتﷺ کی نبوت کی مہر کوتوڑ رہے ہیں جو کہ خاتم النبیین ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ احمدی قرآنی تعلیمات کو نہیں مانتے اور حضرت محمدﷺکی خاتمیت پر حملہ کر رہے ہیں کیونکہ وہ اپنی جماعت کے بانی کی نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔اس طرح ان کی سمجھ بوجھ کے مطابق احمدی مرتد ہیں اور آنحضرتﷺکی شان میں گستاخی کے مرتکب ہوتے ہیں، اس لئے یہ ہر قسم کی سزا کے مستحق ہیں۔جبکہ قرآن کریم میں تو آنحضرت ﷺکی شان میں گستاخی کرنے والے کے لئے یا ارتداد اختیار کرنے والے کے لئے کوئی سزا مقرر نہیں کی گئی۔پس اسی وجہ سے پاکستان میں احمدیوں پر مظالم ڈھائے جار ہے ہیں اور باقی مسلمان ممالک میں بھی احمدیوں کو پسند نہیں کیا جاتا۔باقی جہاں تک ہمارے عقائد کا تعلق ہے تو ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺآخری شرعی نبی تھے۔ہم ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن آخری شرعی کتاب ہے۔ لیکن ہمارا یہ بھی ایمان ہے کہ وہ شخص جس نے آخری دنوں میں آنا تھا اُسے آنحضرت ﷺنے ’نبی‘ کا خطاب دیا ہے لیکن وہ نبی صاحبِ شریعت نبی نہیں بلکہ ظلی نبی ہوگا۔ہم یقین رکھتے ہیں کہ آنحضرتﷺکے بعد ظلی نبی آسکتا ہے لیکن کوئی نئی شریعت نہیں آسکتی۔ہمارے اور دیگر مسلمان فرقوں کے درمیان آنحضرتﷺکے خاتم النبیین ہونے کی تفسیر میں فرق ہے۔ہم کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺآخری شرعی نبی ہیں لیکن ان کے بعد بروزی نبی آسکتے ہیں لیکن دیگر مسلمان کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺچونکہ خاتم النبیین ہیں اس لئے ان کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا خواہ وہ ظلی ہو یا صاحب شریعت نبی ہو۔

  • اس کے بعد وائس آف امریکہ (بنگلہ سروس) کے صحافی نے سوال کیا کہ آج کل ساری دنیا میں ہی مسلمانوں پر ظلم ہو رہے ہیں۔فلسطین میں ظلم ہو رہا۔ افریقہ میں مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے۔حال ہی میں میانمیر میں مسلمانوں پر بہت ظلم ہوا ہے اور لاکھوں کی تعداد میں مسلمانوں کو میانمیرسے ہجرت کرنا پڑی ہے اور وہ بنگلہ دیش میں آکر پناہ لے رہے ہیں جہاں وہ کیمپوں میں انتہائی بدترین حالات میں رہ رہے ہیں۔اس کا کیا حل ہے؟ جماعت احمدیہ اس حوالہ سے کیا سوچ رہی ہے؟

اس پر حضورا نور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:صرف مسلمانوں پر ہی ظلم نہیں ہو رہے،غیر ترقی یافتہ ممالک بالخصوص افریقہ کے لوگ بہت زیادہ مشکل حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔باقی جہاں تک Rohingyaمسلمانوں کا تعلق ہے ان پر واقعی حکومت کی طرف سے یا اُن لوگوں کی طرف سے جنہیں حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے بہت زیادہ مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔ہم ان مظالم کے خلاف آواز اُٹھاتے ہیں اور ان کی سخت مذمت کرتے ہیں۔اپنی چیریٹی آرگنائزیشن کے ذریعہ ہم ان لوگوں کی بنگلہ دیش کیمپوں میں جس حد تک ممکن ہو سکے امداد بھی کر رہے ہیں۔ہم تو ان تمام لوگوں، حکومتوں اور ملکوں کے خلاف آواز اُٹھاتے ہیں جو کسی بھی صورت میں مظالم ڈھا رہے ہیں۔

  • ایک صحافی نے سوال کیا کہ ایک مکمل اسلامی معاشرہ کس طرح کا ہوتا ہے اور ایک اسلامی فیملی کس طرح کی ہوتی ہے؟ اسلامی معاشرہ یا اسلامی فیملی آج کل کے مسائل کو کس طرح حل کر سکتے ہیں؟

اس پر حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:تاریخ میں اسلامی معاشرہ اور اسلامی حکومت کی نظیر ہمارے سامنے ہے اور یہ اسلامی حکومت اس وقت قائم ہوئی جب آنحضرتﷺ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔اُس وقت مدینہ میں موجود مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا اور سارے اپنی اپنی شریعتوں کے مطابق وہاں زندگیاں گزار تے تھے اور ساروں نے متفقہ طور پر رسول کریم ﷺکو اس ریاست کے سربراہ کے طور پر منتخب کیا۔تو اسلامی حکومت کی مثال میثاقِ مدینہ کی ہے۔اُس وقت سارے لوگ بڑے اچھے ماحول میں ایک دوسرے کے ساتھ رہتے رہے ماسوائے ان کے جنہوں نے اس معاہدہ کی پاسداری نہیں کی اور قانون کی خلاف ورزی کی۔تو اسلامی معاشرہ کا وہ ایک ماڈل تھا۔یہی وہ ماڈل ہے جس کے متعلق عمران خان کہتا ہے کہ وہ پاکستان میں قائم کرنا چاہتا ہے جس میں وہ ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکا۔

جہاں تک خاندانوں اور گھروں کا تعلق ہے اور اس کے متعلق اسلام کہتا ہے کہ آپ کو اپنی عورتوں کو عزت دینی چاہئے،آنحضرتﷺنے فرمایا کہ عورت کی عزت کرو،آپ ﷺنے فرمایا جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔اس کا مطلب ہے کہ بچوں کی پرورش اور تربیت میں عورتوں کا بہت اہم کردار ہے۔پھر اسلام نے طلاق کی اجازت تو دی کہ اگر میاں بیوی کے درمیان مفاہمت نہیں ہوتی تو طلاق کی اجازت ہے لیکن اس کے باوجود طلاق کو ناپسندیدہ فعل قرار دیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے طلاق کو پسند نہیں فرمایا۔پس خاندان کے تعلق میں یہ اسلامی تعلیمات ہیں۔اسی طرح دوسرے معاملات کے متعلق بھی کامل رہنمائی فرمائی۔مثلاً تجارت ہے اس کے متعلق اسلام کہتا ہے کہ ایمانداری کے ساتھ تجارت کریں۔ایک مرتبہ رسول کریم ﷺبازار تشریف لے گئے اور وہاں گیہوں کے ڈھیر میں ہاتھ ڈالا تو پتہ چلا کہ ڈھیر کے نیچے دانوں کا معیار اور تھا ااوپر وال دانوں کا معیار اور تھا۔اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم تولوگوں کو دھوکہ دے رہے ہو جس کی ہر گز اجازت نہیں ہے۔اس کی تمہیں سزا ملے گی۔تو اسلام نے ہر لحاظ سے لوگوں کی رہنمائی کی ہے۔اس لئے اگر اسلامی تعلیمات پر حقیقی طور پر عمل کیا جائے تو تمام لوگ انتہائی امن کے ساتھ زندگیاں گزار سکتے ہیں۔

ایک صحافی نے سوال کیا کہ حضور انور دنیا میں امن کے قیام کے لئے کوششیں کر رہے ہیں۔اس وقت دنیاکے حالات کافی خراب ہیں۔شام میں جنگ ہو رہی ہے اور اسی طرح دنیا کو اور بھی کئی مسائل کا سامنا ہے۔چنانچہ ان حالات کے حوالہ سے حضور انور کا کیا نظریہ ہے اور ہم کس طرح امن کا قیام کر سکتے ہیں؟

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:اگر لوگوں اور دنیا کے رہنماؤں نے اپنے خالق اور اُس کی مخلوق کے حقوق کی ادائیگی کی ذمہ داری کو نہ سمجھا تو دنیا میں ایک بہت بڑی تباہی آئے گی جس پر قابو پانا کسی کے لئے بھی ممکن نہ ہوگا۔آج کل ہر کوئی دوسرے کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے کہ فلاں کا قصور ہے یا فلاں کی غلطی ہے لیکن اپنے گریبان میں کوئی نہیں جھانکتا۔اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے کی بجائے ہمیں دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کرنی چاہئے۔یہی واحد حل ہے۔لیکن موجودہ حالات میں اس اصول پر عمل کرنا نہایت مشکل ہو چکا ہے۔ان تعلیمات پر مسلمان ممالک عمل نہیں کر رہے اور ہم احمدی مسلمان ان تعلیمات پر عمل کرتے ہیں اور ان کی تبلیغ کرتے ہیں۔اگر اس اصول پر عمل نہ کیا گیا تو دنیا تیسری جنگ عظیم ہوتا دیکھے گی۔اگر حکومتوں نے اپنی پالیسیاں اور حکمت عملیاں نہ بدلیں تو آپ بھی اس کے نتائج جلد ہی دیکھ لیں گے۔بلکہ کسی حدتک تو یہ جنگ شروع بھی ہو چکی ہے۔شام کی جنگ کی وجہ سے کئی دوسرے ملک بھی اس کا حصہ بن گئے ہیں۔لاوا اُبلنا شروع ہوگیا ہے اور کسی وقت بھی پھٹ سکتا ہے۔

یہ پریس کانفرنس چار بج کر 55منٹ تک جاری رہی۔

ڈاکٹر کاترینہ کی ملاقات

پریس کانفرنس کے بعد حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز میٹنگ روم میں تشریف لے آئے جہاں ڈاکٹر کاترینہ Dr.Katrina Lantos Swettنے حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ ملاقات کی۔موصوفہ Tom Lantsos Foundation for Human Rights and Justice کی پریذیڈنٹ ہیں اور قبل ازیں کیپٹل ہل یو ایس اے کے پروگرام جس میں حضور انور نے خطاب فرمایا تھا اور پیس کانفرنس لندن میں شامل ہو چکی ہیں۔

ڈاکٹر کاترینہ خصوصی طور پر اپنے شیڈیول میں تبدیلی کر کے حضور انور سے ملاقات اور مسجد کی افتتاحی تقریب میں شمولیت کے لئے New Hampshireسے آئی تھیں۔

حضور انور نے فرمایا کہ آپ کا شکریہ کہ آپ نے یاد رکھا اور خصوصی طور ملنے کیلئے آئی ہیں۔

موصوفہ نے عرض کیا کہ حضور انور امریکہ کے لئے ایک روحانی مرہم ہیں اور امریکہ کو اس وقت حضورا نور کی رہنمائی اور قیادت کی اشد ضرورت ہے۔

 حضور انور نے فرمایا ہم تو امن چاہتے ہیں أمن کے قیام کے لئے کوشاں ہیں۔لیکن امن کی طرف قدم بڑھایا نہیں جا رہا ۔حضور انور نے فرمایا میں نے پریس کو بھی کہا ہے کہ اگر ہم نے امن کے قیام کی طرف توجہ نہ کی تو ہم ایک عالمی جنگ کی طرف جار ہے ہیں۔اور اب تو بعض دوسرے ذمہ دار لوگ بھی اس بات کا اظہار کر رہے ہیں کہ اب عالمی جنگ کے خدشات ہیں۔

موصوفہ نے احمدیوں پر ہونے والے مظالم کے حوالہ سے عرض کیا کہ حضور انور بے شک ہمت اور صبر کا اعلیٰ نمونہ ہیں۔

حضور انور نے فرمایا پاکستان میں احمدیہ کمیونٹی سٹیٹ پرسی کیوشن کا سامنا کر رہی ہے۔وہاں قوانین کے ذریعہ احمدیوں کے حقوق سلب کئے گئے ہیں۔

حضور انور نے فرمایا اس وقت جو دنیا کے حالات ہیں ہم کمیو نیٹیز میں نفرت کے بیج بو رہے ہیں ۔ جو اقدام اٹھائے جا رہے ہیں اس سے امن تو قائم نہیں ہوگا۔حضور انور نے فرمایا یہ بڑے ممالک کی ذمہ داری ہے اور لیڈر ہونے کی حیثیت سے آپ لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ کس طرح امن کی طرف قدم اٹھانا ہے۔

حضور انور نے فرمایا ہمیں آپ کی طرح کام کرنے والے مزید لوگ چاہئیں نہ صرف امریکہ میں بلکہ دنیا کے اور دوسرے ممالک میں بھی۔

موصوفہ نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکو مساجد کے افتتاح پر مبارک باد پیش کی اور بتایا کہ حضورا نور نے یو ایس ایمبیسڈر اور دیگر کانگریس کے ممبران سے جس طرح مذہبی آزادی کے حوالہ سے بات کی اس سے انہیں بہت خوشی ہوئی ہے۔

موصوفہ نے حضورا نور سے واپسی کےپروگرام کے حوالے سے دریافت کیا۔جس پر حضور انور نے فرمایا اس سوموار کو واپس جا رہا ہوں۔

یہ ملاقات پانچ بج کر دس منٹ تک جاری رہی۔آخری پر موصوفہ نے تصویر بنوانے کی سعادت پائی۔

سفیر گیمبیا کی ملاقات

بعد ازاں ملک گیمبیا(Gambia)کے ایمبیسیڈر برائے یو ایس اے Hon.Dawada Federaنے حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ملاقات کا شرف پایا۔ملاقات میں موصوف کی اہلیہ اور پولیٹیکل کونسلر بھی شامل تھے۔

نئی حکومت کے حوالہ سے بات ہوئی کہ کس طرح کام کر رہی ہے۔حضور انورنے فرمایا اب گیمبیا میں ہم اپنا TVچینل کھول رہے ہیں ہم گیمبئین TVکی بھی مدد کررہے ہیں وہاں ان کو ٹیکنیک سکھا رہے ہیں اور بعض امور میں مدد دے رہے ہیں۔

موصوف ایمبیسڈر نے عرض کیا کہ جماعت نے جو وہاں سکول اور ہسپتال کھولے ہیں اس کا ملک کو بہت فائدہ ہوا ہے اور ایجوکیشن ہی ملک کی ترقی کی بنیاد ہے۔جماعت کا سکول (بانجل)تالنڈنگ کنجانگ میں ہے وہ ملک میں بہترین سکول ہے۔

حضور انور نے فرمایا:ہم خدا کی خاطر مدد کرتے ہیں اور خدا کی رضا کے حصول کے لئے کام کرتے ہیں۔جبکہ دوسرے لوگوں کا انٹرسٹ اور ہوتا ہے ۔

گیمبیا کے ایمبیسڈر کی حضور انور سے یہ ملاقات پانچ بج کر پندرہ منٹ تک جاری رہی۔آخر پر موصوف اور ان کی اہلیہ نے حضورا نور کے ساتھ تصویر بنوانے کی سعادت پائی۔

کانگریس مین کی ملاقات

اس کے بعد پروگرام کے مطابق کانگریس مین Gerry Connollyنے حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے شرف ملاقات پایا۔

موصوف کے سوال پر حضور انور نے فرمایا تین ہفتہ قبل امریکہ میں آئے تھے اس دوران گوئٹے مالا بھی گئے اور وہاں ہم نے ایک ہسپتال تعمیر کیا ہے۔اس کا افتتاح کیا۔

اس پر موصوف نے عرض کیا کہ گوئٹے مالا بڑا خوبصورت ملک ہے،حضور انور نے فرمایا بڑا خوبصورت ہے۔

موصوف نے عرض کیا کہ اب آئندہ تین دن تک ملک میں الیکشن ہو رہا ہے اس پر حضور انور نے فرمایا میں اس سے ایک دن قبل جا رہا ہوں۔حضور انور کے استفسار پر موصوف نے بتایا کہ ان کے حلقہ میں آٹھ لاکھ کے قریب لوگ ہیں اور غالباًووٹر ٹرن آوٹ پچاس فیصد رہا۔

اس پر حضور انور نے فرمایا اس کا مطلب ہے کہ اگر اب الیکشن کے وقت ووٹر ٹرن آؤٹ میں اضافہ ہوا تو جیتنا آسان ہوگا۔اگر ووٹر کو گھر سے لے آئیں تو پھر آپ جیت جائیں گے۔

موصوف نے جماعت کے حوالہ سے عرض کیا کہ یہاں امریکہ میں آپ کی کمیونٹی ترقی کر رہی ہے۔

اس پر حضور انور نے فرمایا یہاں بھی اور ہر جگہ ترقی کر رہی ہے۔ہر سال پانچ چھ لاکھ لوگ جماعت میں شامل ہوتے ہیں۔بہرحال جماعت ترقی کر رہی ہے۔یہ ملاقات پانچ بج کر بیس منٹ تک جاری رہی۔آخر پر موصوف نے حضور انور کے ساتھ تصویر بنوانے کی سعادت پائی۔

بعض حکومتی افراد کی اجتماعی ملاقات

بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزلائبریری میں تشریف لے آئے جہاں آج کی افتتاحی تقریب کے لئے آنے والے بعض حکومتی افراد اور مہمانوں نے حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزسے  ملاقات کی سعادت حاصل کی۔

ملاقات میں درج ذیل مہمان شامل ہوئے۔

1۔Hala Ayalaممبر آف ورجینیاہاؤس آف ڈیلیگیٹس

Ruth Andersonممبر آف پرنس ولئیم کاؤنٹی بورڈ آف سپر وائزرز

Jeanette Rishellمئیر آف Manassas Park

Maureen Caddiganممبر آف پرنس ولئیم کاؤنٹی بورڈ آف سپر وائزرز

Corey Stewartچیئرمین آف پرنس ولیئم کاؤنٹی بورڈ آف سپر وائزرز

6۔Martin Noheممبر آف پرنس ولئیم کاؤنٹی بورڈ آف سپر وائزرز

Jeremy McPikeسینیٹر برائے سٹیٹ آف ورجینیا

Dawda Fadera ایمبیسیڈر آف دی گیمبیا

Adam Manneیہودی آرگنائزیشن Nershalom Virginaکے وائس پریذیڈنٹ

10۔Kathleen Smith ممبر آف فیئر فاکس کاؤنٹی بورڈ آف ڈائریکٹرز

11۔Elizabeth Guzman ممبر آف ورجینیا ہاؤس آف ڈیلیگٹس

12۔ ڈاکٹرKatrina Lantos Swettپریذیڈنٹ آفTom Lanto Foundationبرائے عدل و انسانی حقوق

13۔ عبدالعزیزSachedinaچئیرمین آف اسلاملک سٹڈیز،جارج میسن یونیورسٹی

14۔آنریبلGerry Connollyیو ایس کانگریس مین

ملاقات کے دوران تمام مہمانوں نے اپنا تعارف کروایا۔

پرنس ولیئم کاؤنٹی کے چیئرمین بورڈ آف سپروائزرز نے کہا کہ میں حضور انور کو اس کاؤنٹی میں خوش آمدید کہتا ہوں۔میں اس سال سینیٹ کی سیٹ کے لئے بھی حصہ لے رہا ہوں۔اور اس کے لئے حضور انور کی خدمت میں دعا کی درخواست کرتا ہوں۔

اس پر حضورا نور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔اللہ تعالیٰ فضل فرمائے۔

Martin Noheنے کہا کہ میں بھی پرنس ولیئم کاؤنٹی بورڈ کا ممبر ہوں۔مجھے بھی احمدیوں کے ساتھ کام کرنے کامو قع ملاہے اور میرے لئے اللہ تعالیٰ کے گھر کی تعمیر کے خواب کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے کام کرنا باعثِ فخر ہے۔

حضورا نور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکے دریافت فرمانے پر موصوف نے کہا کہ میری کاؤنٹی میں بھی احمدی موجود ہیں۔اتنی زیادہ تعداد تو نہیں ہے لیکن ان کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔اس پر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:اس میں مزید اضافہ بھی ہوگا کیونکہ کافی ریفیوجیز یہاں آرہے ہیں۔

اس پر موصوف نے عرض کیا کہ ہماری کاؤنٹی میں پہلے مختلف مذاہب اور اقوام سے تعلق رکھنے والے لوگ بہت کم تھے لیکن اب ہماری کاؤنٹی میں ایسے لوگوں کا بڑی تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ہے جس سے ہماری کاؤنٹی کیdiversityمیں کافی اضافہ ہوا ہے۔

Dawda Federaگیمبین ایمبیسیڈر مع اہلیہ اس میٹنگ میں شامل ہوئے۔ موصوف نے کہا ہم اپنے ملک گیمبیا میں جماعت احمدیہ کی موجودگی سے ہسپتالوں،سکولوں اور مساجد کے ذریعہ بے پناہ فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔جماعت احمدیہ ہمارے ملک میں لوگوں پر نہایت مثبت اثر چھوڑ رہی ہے۔گیمبین حکومت اور جماعت احمدیہ کے تعلقات نہایت مضبوط ہیں اور انہی تعلقات کی بناء پر میں آج یہاں حاضر ہوا ہوں۔اس پر حضور انور ایدہ ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے موصوف کا شکریہ ادا کیا۔

بابر لطیف صاحب چیئرمین آف سکول بورڈ ان پرنس ولئیم کاؤنٹی نے کہا کہ میں حضور انور کو یہاں خوش آمدید کہتا ہوں۔ہمارے سکول سسٹم میں 91ہزار طلباء تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور ان میں سے کافی  احمدی ہیں۔

Adam Manneصاحب synagogueکے نمائندے تھے۔انہوں نے کہا میں یہودی کمیونٹی کی طرف سے دعوت پر آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔

ڈاکٹرKatrina Lantosنے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا آپ کی کمیونٹی اس ملک کی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کر رہی ہے۔اس لئے آپ کی تشریف آوری پر میں آپ کا شکریہ ادا کرتی ہوں اور آپ کی تشریف آوری ہمارے لئے باعثِ فخر ہے۔

مہمانوں کے ساتھ یہ ملاقات پانچ بج کر 35منٹ تک جاری رہی۔

  افتتاحی تقریب

اس کے بعد پروگرام کے مطابق حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مسجد کے بیرونی احاطہ میں نصب مارکی میں تشریف لے گئے جہاں ’’مسجد مسرور‘‘کے افتتاح کے حوالہ سے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا۔اس تقریب میں مختلف جماعتوں سے آنے والےجماعتی عہدیداروں کے علاوہ دو صد کے لگ بھگ مہمان حضرات شامل تھے۔ان مہمانوں میں درج ذیل احباب شامل تھے۔

یو ایس کانگریس مین Hon.Gerry Connolly

پریذیڈنٹ Tom Lantosفاؤنڈیشن آف ہیومن رائٹس اینڈ جسٹس

ایمبیسڈر آف گیمبیا Hon.Dawda Fadera

سینیٹرز سٹیٹ آف ورجینیا

ممبرز ورجینیا ہاؤس آف Delegates

چیئرمین DCسٹی کونسل

مئیر آف Manassas پارک

مئیر آف Fair Fax

چیئر مین پرنس ولیم کاؤنٹی بورڈ آف سپر وائزر

پرنس ولیم اور Fair Faxکاؤنٹی بورڈ کے پانچ ممبران

پروفیسر عبدالعزیزSachedina، جارج Masonیونیورسٹی

جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے دو پروفیسرز صاحبان

وائس پریذیڈنٹ Jewish Organization

کے علاوہ ازیں ڈاکٹرز،ٹیچرز ،وکلاء ، جرنلسٹ،میڈیا کے نمائندے سیکیورٹی کے اداروں کے نمائندے اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے مہمان شامل تھے۔

پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو مکرم فاران ربانی صاحب مبلغ سلسلہ ساؤتھ ورجینیا (یو ایس اے)نے کی اور بعد ازاں انگریزی زبان میں اس کا ترجمہ پیش کیا۔

اس کے بعد مکرم امجد محمود خان صاحب نیشنل سیکرٹری امور خارجہ یو ایس اے نے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے اس تقریب کے حوالہ سے اپنا تعارفی ایڈریس پیش کیا۔

بعد ازاں تین مہمان حضرات نے اپنے ایڈریسز پیش کئے۔

  • سب سے پہلے کانگریس مین Gerry Connollyصاحب نے اپناایڈریس پیش کرتے ہوئے کہا:میں حضور کو Prince William Countyمیں خوش آمدید کہتا ہوں۔مسجد مسرور کے افتتاح کا موقع اپنے اندر نہایت ہی عظمت رکھتا ہے۔حضور امریکہ میں اس وقت تشریف لائے ہیں جبکہ ہم مشکل وقت سے گزر رہے ہیں جہاں ہر دن کوئی نہ کوئی سانحہ ہوتا رہتا ہے۔ابھی حال ہی میں Pittsburghپنسلووینیا میں synagogueمیں بھی سانحہ ہوا۔ہمارے ملک کو’محبت سب کے لئے،نفرت کسی سے نہیں‘جیسے الفاظ پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔حضور انور کے سامنے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے مہمان تشریف فرما ہیں جو کثیر الثقافتی معاشرہ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ہمارے ملک کا ماٹو (motto) اور علامت e pluribus Unumہے۔یہ ایک لاطینی محاورہ ہے جس کا مطلب ہے ’بہت سی چیزوں سے مل کر ایک ‘۔ہم سب ایک معاشرہ ہیں ،ہم سب ایک ملک ہیں۔اس لئے ہم آج آپ کی اس خوبصورت مسجد کے افتتاح کی خوشی میں شریک ہیں اور آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔آپ جو پیغام لے کر آئے ہیں اس میں ہمارے لئے بھی بہتری ہے۔

مجھے یونائیٹڈ سٹیس کا نگریس میں Ahmadiyya Muslim  Caucus میں شامل ہونے پر فخر ہے۔اسی طرح مجھے اس بات پر بھی بہت فخر ہے کہ حضور انور کے استقبال کے لئے جو resolutionپیش ہوا تھا اس کی ڈرافٹنگ میں میرا بھی حصہ تھا۔میں خاص طور پر حضور انور کی ساری دنیا میں امن کے قیام کے لئے مساعی اور جس طرح آپ انتہاء پسندی اور مظالم کی مذمت کر رہے ہیں،اس کو سراہتا ہوں۔آپ کا مذہبی آزادی،انسانی حقوق اور جمہوریت کے قیام کا عزم قابل تعریف ہے۔آج حضور کی یہاں تشریف آوری ہمارے لئے قابل فخر ہے۔شکریہ۔

اپنے ایڈریس کے آخر پر کانگریس مین نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں ریزولوشن کی کاپی بھی پیش کی جس پر حضور انورنے موصوف کا شکریہ ادا کیا۔

  • اس کے بعد ڈاکٹرKatrina Lantos Swettجو کہ انسانی حقوق و انصاف کی تنظیم Tom Lantos Foundationکی سربراہ ہیں انہوں نے اپنا ایڈریس پیش کیا۔

موصوفہ نے کہا:

آپ سب کابہت  شکریہ۔یقینا اس موقع پر حاضر  ہونا میرے لئے بہت خوشی اورفخر کی بات ہے۔گزشتہ چند سالوں میں مجھے حضور انور کے ساتھ چار پانچ مرتبہ ملاقات کرنے کا شرف حاصل ہوا ہے اور جب بھی مجھے حضورکی خدمت میں حاضر ہونے کا موقع ملتا ہے تو میں امن،پیار،محبت اور ہم آہنگی کے جذبات ہی محسوس کرتی ہوں۔

موصوفہ نے کہا:

کانگریس مین Gerry Connollyکی بات کو ہی میں دہراؤں گی کہ ہمیں اس وقت حضورانور کے پیغام کی پہلے سے بڑھ کر اشد ضرورت ہے۔جب میں یونائیٹڈ سٹیس کے ریلیجس فریڈم کمیشن کی صدر تھی تو اس وقت مجھے جماعت احمدیہ کے بارہ میں پتہ چلا تھا۔آپ سارے لوگ جانتے ہیں کہ جماعت احمدیہ بہت ہی زبردست کمیونٹی ہے جنہوں نے دنیا کے ہر کونے میں انسانیت کی خدمت اور ایمان کو پہنچایا ہے۔اور یہ سارے کام جماعت احمدیہ اپنے اوپر ہونے والے شدید مظالم کے باوجود سر انجام دیتی چلی جا رہی ہے۔پاکستان میں احمدی شہریوں کو ووٹ دینے کے حقوق حاصل نہیں ہیں،ان کے تحفظ اور ان کی پاکستان میں بقا کے بنیادی حقوق کو خطرہ لاحق ہے جبکہ حکومت کو چاہئے کہ وہ ان کے حقوق کی حفاظت کرے۔حالانکہ پاکستان کی تاریخ میں جو مشہور ترین شخصیات گزری ہیں ان میں سے سب سے اعلیٰ مقام حاصل کرنے والے لوگ احمدی تھے۔پاکستان میں واحد نوبل انعام یافتہ سائنسدان احمدی تھے۔جس آدمی نے پاکستان کا دستور لکھا وہ ایک احمدی قانون دان تھے۔لیکن اس کے باوجود احمدی اس ملک میں شدید مظالم کا شکار ہیں۔احمدی مجھے ہمیشہ اس سنہری اُصول کو یاد کرواتے ہیں کہ برائی کے بدلہ میں برائی نہ کریں۔ظلم کا مقابلہ ظلم اور غصہ سے نہیں کرنا بلکہ برائی کا مقابلہ اچھائی کے ساتھ کرنا ہے۔جماعت احمدیہ کا وجود ہی ہمیں ہماری اس ذمہ داری کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ ہم نے آزادی ضمیر و مذہب کی حفاظت کرنی ہے۔

  • اس کے بعد ورجینیا ہاؤس آف ڈیلیگیٹ (Delegates)کی ممبرHala Ayalaنے اپنا ایڈریس پیش کیا۔انہوں نے ایڈریس کے آغاز میں سینیٹر Jeremy McPikeکو بھی سٹیج پر آنے کی دعوت دی۔

موصوفہ نے کہا:حضور انور کو خوش آمدید کہنا میرے لئے باعث افتخار ہے اور مسجدمسرور کی افتتاحی تقریب میں شمولیت میرے لئے قابل مسرت ہے۔میں اپنے گورنرRalph Northamکا پیغام لے کر آئی ہوں۔

گورنر نے اس پروگرام میں نہ شامل ہونے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور حضور انور کے لئے مبارکباد کا پیغام بھجوایا ہے۔گورنرNorthamنے اپنے پیغام میں حضورا نور کی دنیا بھر میں امن کے قیام،خدمت انسانیت اور عالمی حقوق کے تحفظ کے لئے کی جانے والی مساعی کو سراہا۔گورنر نے کہا کہ ورجینیا سٹیٹ ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے انسان کو خوش آمدید کہتی ہے اور ہر مذہب کا یکساں احترام کرتی ہے۔گورنر نے اپنے پیغام میں جماعت احمدیہ کے ممبران کا بھی شکریہ ادا کیا جو کہ Food Drive،Colthing Drives کا انعقاد کرنے اور خون کے عطیات دینے میں پیش پیش ہیں۔

اس کے بعد موصوفہ اور ان کے ساتھ سینیٹرMcPike نے حضورا نور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں گورنر کی طرف سے دیا جانے والا recognition certificate پیش کیا۔اس سرٹیفکیٹ پر تحریر تھا کہ ’3نومبر2018ء کو جماعت احمدیہ امریکہ ورجینیا میں اپنے مسجد کے افتتاح کی تقریب منار ہی ہے۔جماعت احمدیہ ورجینیا اس مسجد کے ذریعہ سے بہت سے رفاہی کاموں میں حصہ لے رہی ہے۔حضور مسلمان دنیا کے ایک اہم رہنما ہیں جو اپنے خطبات،خطابات،اپنی کتب اور دیگر میٹنگز کے ذریعہ امن کا پیغام پھیلا رہے ہیں۔ہم حضور کو Prince Williamکاؤنٹی میں خوش آمدید کہتے ہیں۔          (جاری ہے(

image_printپرنٹ کریں