skip to Main Content
سید شمشاد احمد ناصر ۔امریکہ: ہمارا سٹیٹس

گلدستہ علم وادب 19اکتوبر2019ء کا اداریہ مندرجہ بالا عنوان لئے ہوئے تھا۔ جس میں ایک احمدی کی شناخت اور پہچان کے لئے کئی نصیحت آموز باتیں تھیں۔خاص طور پر اداریہ میں لکھی یہ تحریر کہ‘‘عبادت اور خصوصاً نماز کی اپنے وقت پر ادائیگی کی سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک کیا اہمیت تھی جس میں کاآپؑ کا یہ فرمان درج ہے ۔
‘‘ہمارا نشان شناخت صرف یہ ہے کہ جب نماز کا وقت آئے تو وضو کر کے نماز ادا کر لیا کرو یہ نشان کافی ہے۔’’
میں نے جوں ہی یہ واقعہ اور حضور علیہ السلام کا یہ ارشاد پڑھا۔فوراً ہی ذہن ایک اور ارشاد کی طرف چلا گیا اور وہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا ارشاد مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ 48 پر یوں درج ہے۔آپؑ فرماتے ہیں
‘‘سو تم ہوشیار ہو جاؤ اور واقعی نیک دل اور غریب مزاج اور راستباز بن جاؤ۔ تم پنجوقتہ نماز اور اخلاقی حالت سے شناخت کئے جاؤ گے۔’’
ایک شناخت تو ہم نے خود کرانی ہے۔ جس کی وجہ سے اس جماعت کا قیام عمل میں آیا ہے۔ اس ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ۔
‘‘یہ سلسلہ بیعت محض بمراد فراہمی طائفہ متقین یعنی تقوٰی شعار لوگوں کی جماعت کے جمع کرنے کے لئے ہےتا ایسے متقیوں کا ایک بھاری گروہ دنیا پر اپنا نیک اثر ڈالے…… فرماتے ہیں
خدا تعالیٰ نے اس گروہ کو اپنا جلال ظاہر کرنے کے لئے اور اپنی قدرت دکھانے کے لئے پیدا کرنا اور پھر ترقی دینا چاہا ہے۔تا دنیا میں محبت الہی اور توبۃ النصوح اور پاکیزگی اور حقیقی نیکی اور امن اور صلاحیت اور بنی نوع انسان کی ہمدردی کو پھیلا دے۔سویہ گروہ اس کا ایک خالص گروہ ہوگا اور وہ انہیں آپ اپنی روح سے قوت دے گا اور انہیں گندی زیست سے صاف کرے گا اور ان کی زندگی میں ایک پاک تبدیلی بخشے گا۔

(مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 196)

یہ وہ شناخت کے پہلو ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام ساری جماعت کے افراد سے چاہتے ہیں۔جس میں نماز اور تقویٰ شامل ہیں۔ جو شخص باقاعدگی کے ساتھ نماز پڑھتا ہے۔ اس کی تو خدا تعالیٰ نے بھی یوں تعریف بیان فرمائی ہے ۔اِنَّمَا یَعۡمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰہِ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَی الزَّکٰوۃَ وَ لَمۡ یَخۡشَ اِلَّا اللّٰہَ (التوبہ:18) یعنی اللہ کی مساجد تو وہی آباد کرتا ہے جو اللہ پر ایمان لائے اور یوم آخرت شرط پر اور نماز قائم کرےاور اللہ کے سوا کسی سے خوف نہ کھائے۔
ترمذی ابواب التفسیر میں اسی آیت کے ماتحت آنحضرت ﷺ کا ایک ارشاد یوں درج ہے۔
جب تم کسی شخص کو مسجد میں عبادت کے لئے آتے جاتے دیکھو تو تم اس کے مومن ہونے کی گواہی دو۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ‘‘اللہ کی مساجد کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو خدا اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔’’

(حدیقۃ الصالحین حدیث نمبر259)

نماز کا قیام، نماز کی بروقت ادائیگی اور نماز با جماعت پڑھنے کی تو وہ ہماری شناخت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اور پھر حضرت اقدس محمد رسول اللہﷺ اور خدا کے پاک مسیح نے ہمارے لئے مقرر کردی ہے۔ اس لئے نہ تو اس میں ناغہ ہو اور نہ ہی کسل اور سستی، تاقیامت کے دن ہمارا شمار ان لوگوں میں ہو جو نجات اور فلاح پانے والے ہوں گے۔
خاکسار نے شروع ہی میں لکھا ہے کہ جماعت احمدیہ کے قیام کی وجہ یہ ہے کہ خداتعالیٰ کے حقوق، عبادت الہی اور اس کی توحید پر انسان پوری طرح جم جائے اور اس کی یہ خصوصیات پھر اس کی تبلیغ میں بھی معاون ثابت ہوں گی۔ کیونکہ اس کے تقوی کا اثر دوسروں کو کھینچ لانے کا باعث بنے گا۔ان شاء اللہ
کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک شخص حضرت امام جعفرصادق ؓ کے پاس آیا اور اس نے سوال کیا‘‘میں دین کی تبلیغ کے لئے جارہا ہوں۔کوئی ایسا عمل بتا دیں جو دین کی تبلیغ میں بہت مددگار ثابت ہو’’
امام جعفرؒ نے جو جواب دیا اس میں پورا دن بیان کردیا گیا ہے۔آپ نے فرمایا ‘‘کوشش کرنا کہ دین کی تبلیغ کے لئےتمہیں اپنی زبان استعمال نہ کرنی پڑے’’
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی جماعت کے دوستوں کے لئے کچھ نصائح ارشاد فرمائی ہیں۔آپ کی تصنیف ازالہ اوہام صفحہ 546 پر ان دوستوں کے لئے جو بیعت میں داخل ہے نصیحت کی باتیں لکھی ہیں۔ جو ہم سب کے لئے اپنی زندگیوں میں عمل کرنے کے لئے بہت ضروری ہے۔آپؑ فرماتے ہیں
اے میرے دوستو! جو میرے سلسلہ بیعت میں داخل ہو۔ خدا ہمیں اور تمہیں ان باتوں کی توفیق دے جن سے وہ راضی ہو جائے ………
ہم کیونکر خدا تعالیٰ کو راضی کریں اور کیونکر وہ ہمارے ساتھ ہو۔ اس کا اس نے مجھے بار بار یہی جواب دیا کہ تقوی سے۔
سواے میرے پیارے بھائیو! کوشش کروتا متقی بن جاؤ ۔بغیر عمل کے سب باتیں ہیچ ہیں۔اور بغیر اخلاص کے کوئی عمل مقبول نہیں۔سوتقویٰ یہی ہے کہ ان تمام نقصانوں سے بچ کر خدا تعالیٰ کی طرف قدم اُٹھاؤ۔ اور پرہیزگاری کی باریک راہوں کی رعایت رکھو۔ سب سے اول اپنے دلوں میں انکسار اور صفائی اور اخلاص پیدا کرو اور سچ مچ دلوں کے حلیم اور سلیم اورغریب بن جاؤ کہ ہر یک خیر اور شرکا بیج پہلے دل میں ہی پیدا ہوتا ہے ۔ اگر تیرا دل شر سے خالی ہے تو تیری زبان بھی شر سے خالی ہو گی اور ایسا ہی تیری آنکھ اور تیرے سارے اعضاء۔ہر یک نور یا اندھیرا پہلے دل میں پیدا ہوتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ تمام بدن پر محیط ہو جاتا ہے۔سو اپنے دلوں کو ہر دم ٹٹولتے رہو اور جیسے پان کھانے والا اپنے پالوں کو پھیرتا ہے اور ردّی ٹکڑے کو کاٹتا ہے اور باہر پھینکتا ہے۔ اسی طرح تم بھی اپنے دلوں کے مخفی خیالات اور مخفی عادات اور مخفی جذبات اور مخفی ملکات کو اپنی نظر کے سامنے پھیرتے رہو اور جس خیال یا عادت یا ملکہ کو ردی پاؤ اس کو کاٹ کر باہر پھینکو ایسا نہ ہو کہ وہ تمہا رے سارے دل کو ناپاک کر دیوے اور پھر تم کاٹے جاؤ۔
پھر بعد اس کے کوشش کرو اور نیز خداا تعالیٰ سے قوت اور ہمت مانگو کہ تمہارے دلوں کے پاک ارادے اور پاک خیالات اور پاک جذبات اور پاک خواہشیں تمہارےاعضاء اور تمہارے تمام قویٰ کے ذریعہ سے ظہور پذیر اور تکمیل پذیرہوں تا تمہاری نیکیاں کمال تک پہنچیں ۔ کیونکہ جو بات دل سے نکلے اور دل تک ہی محدود رہے وہ تمہیں کسی مرتبہ تک نہیں پہنچا سکتی ۔ خدا تعالیٰ کی عظمت اپنے دلوں میں بٹھاؤ اور اس کے جلال کو اپنی آنکھوں کے سامنے رکھو ……
اگر نجات چاہتے ہو تودين العجائز اختیارکر و اورمسکینی سے قرآن کریم کا جوأ اپنی گردنوں پر اُٹھاؤکہ شریر ہلاک ہوگا اور سر کش جہنم میں گرایا جائے گا۔پر جو غریبی سے گردن جھکاتا ہے اہ موت سے بچ جائے گا۔دنیا کی خوشحالی کی شرطوں سے خدا تعالیٰ کی عبادت مت کرو کہ ایسے خیال کے لئے گڑھا درپیش ہے۔ بلکہ تم اس لئے اس کی پرستش کرو کہ پرستش ایک حق خالق کا تم پر ہے۔چاہئے پرستش ہی تمہاری زندگی ہو جاوے اور تمہاری نیکیوں کی فقط یہی غرض ہو کہ وہ محبوب حقیقی اور محسنِ حقیقی راضی ہو جاوے کیونکہ جو اس سے کمتر خیال ہے وہ ٹھوکر کی جگہ ہے ۔
خدا بڑی دولت ہے اس کے پانے کے لئے مصیبتوں کے لئے تیار ہو جاؤ۔وہ بڑی مراد ہے۔اس کے حاصل کرنے کے لئے جانوں کو فدا کرو۔عزیزو!خدا تعالیٰ کے حکموں کو بے قدری سے نہ دیکھو۔موجودہ فلسفہ کی زہر تم پر اثر نہ کرے۔ایک بچے کی طرح بن کر اس کے حکموں کے نیچے چلو۔نماز پڑھو نماز پڑھو کہ وہ تمام سعادتوں کی کنجی ہے اور جب تو نماز کے لئے کھڑا ہو تو ایسا نہ کر کہ گویا تو ایک رسم ادا کر رہا ہے بلکہ نمازسے پہلے جیسے ظاہر وضو کرتے ہو ایسا ہی ایک باطنی وضو بھی کیا کرواور اپنے اعضاء کو غیر اللہ کے خیال سے دھو ڈالو۔تب ان دونوں وضوؤں کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ اور نماز میں بہت دعا کرو اور رونا اور گڑگرانا اپنی عادت بنا لو تا تم پر رحم کیا جائے۔’’
اس نصیحت کے آخر پر حضرت اقدس مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں
‘‘چاہئے کہ اسلام کی ساری تصویر تمہارے وجود میں نمودار اور تمہاری پیشانیوں میں اثر سجود نظرآوے اور خدا تعالیٰ کی بزرگی تم میں قائم ہو ……… توحید پر قائم رہو اور نماز کے پابند بن جاؤاور اپنے مولیٰ حقیقی کے حکموں کو سب سے مقدم رکھو اور اسلام کے لئے سارے دکھ اٹھاؤوَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُسْلِموْن۔’’(آل عمران :103)

(ازالہ اوہام جلد سوم صفحہ 546۔552)

image_printپرنٹ کریں