skip to Main Content

(لندن مانیٹرنگ ڈیسک) جماعت احمدیہ عالمگیرکی تاریخ میں1974ء کے سال کوبڑی اہمیت حاصل ہے اس کی وجہ مورخہ 29 مئی 1974ء کو ربوہ ریلوے سٹیشن پررونماہونے والاوہ افسوسناک واقعہ بناجس کی آڑمیں جماعت احمدیہ کے خلاف ایک اینٹی احمدیہ ختم نبوت تحریک چلائی گئی اس کانتیجہ قومی اسمبلی سے جماعت احمدیہ کوآئین پاکستان میں ترمیم کروا کر غیرمسلم قراردینے کی صورت میں ظاہرہوا۔اس وقت میرااس موضوع پربحث کرنامقصودنہیں کہ کیاکسی قومی یاصوبائی اسمبلی یاکسی عدالت اورحکومتی مذہبی ادارہ کوکسی کے مذہب کافیصلہ کرنے کااختیارحاصل ہے یا نہیں یایہ فیصلہ کرنے والوں کا اپنا ذاتی کردار اورنمونہ کیاتھا؟ جس کی جنرل ضیاء الحق نے ایک ’’وائیٹ پیپر‘‘ کی صورت میں تصویرکشی کردی تھی۔ یہ مضمون لکھنے کامقصدمحض ریلوے سٹیشن ربوہ پرمئی 1974ء میں رونماہونے والے واقعہ کے نتیجہ میں چلائی جانے والی تحریک اوراس کے نتیجہ میں خاکسارکوجماعت احمدیہ کی تاریخ کاکم عمراسیرراہ مولیٰ ہونے کااعزازحاصل ہونے اوراس تحریک کے دوران خاکساراورمیرے خاندان اورجماعت احمدیہ ہجکہ شریف ضلع سرگودھاکوجن حالات و واقعات کاسامنا کرنا پڑا ان کاذکرکرنامقصودہے۔
مورخہ 31مئی 1974ءکو جب ہم حسب معمول سکول گئے (اس وقت خاکسار گورنمنٹ ہائی سکول بھیرہ میں ساتویں کلاس میں پڑھتا تھا اور میری عمر تقریباً 11۔12سال تھی) حسب معمول صبح اسمبلی میں تلاوت ہوئی۔ تمام کلاسوں کے مانیٹرز نے حاضری لینی شروع کردی۔ ابھی حاضری کا سلسلہ ختم نہیں ہوا تھا کہ ایک دم حضرت مسیح موعود ؑ اور احمدیت کے خلاف نعرے بازی شروع ہوگئی اور تمام طلباء اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنے اپنے بستوں پر ہاتھ مار مار کر بجانے شروع کر دیئے اورحضرت مسیح موعودؑ اور جماعت احمدیہ کے خلاف سخت نعرے بازی شروع کردی۔ چنانچہ فوری طور پر ذہن نے وہاں سے بچ بچا کرنکل جانے کا مشورہ دیا۔ لہٰذامیں فوری طور پر اسمبلی لان سے نکلنے میں کامیاب ہوگیا اور بھاگ کر سکول کے احاطہ سے باہر نکل گیا اور جلدی جلدی گھر پہنچنے کیلئے دوڑ لگادی۔ اب مجھے اپنے بڑے بھائی مکرم عبدالخالق صاحب جو مجھ سے ایک کلاس سینئر تھے کی فکر دامن گیر ہوئی نیز دیگر تمام احمدی طلباء اور اساتذہ کی بھی فکر شروع ہوگئی۔ تاہم اللہ کا شکر ہے کہ میرے بھائی سمیت تقریباً تمام احمدی اساتذہ اور طلباء وہاں سے محفوظ نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ اس کے بعد جلوس نے شہر کا رخ کیا اور شہر میں موجود دیگر دو پرائیویٹ ہائی سکولز کے طلباء کو ساتھ ملایا اور نعرے لگاتے ہوئے شہر کے اندر داخل ہوگیا۔ جیسے جیسے احمدیوں کے خلاف جلوس نکلنے کی خبر شہر میں پھیلتی گئی تمام احمدی دکاندار اپنی دکانیں بند کر کے اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔ شرکاء جلوس نے تمام احمدی دکانوں کی لوٹ مار شروع کردی۔بھیرہ میں میرے ایک بڑے بھائی مکرم ملک محمد اکرم صاحب مرحوم سابق صدر جماعت احمدیہ بھیرہ کی کپڑے کی دکان تھی اس کو بھی مکمل طور پر لوٹ لیاگیا۔
اس صورتحال کا پس منظر معلوم کرنے پر پتا چلا کہ دراصل مورخہ 29مئی کو نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء جو کہ بذریعہ چناب ایکسپریس ایک تفریحی ٹرپ کے سلسلہ میں راولپنڈی کی طرف سے ایک ہفتہ کی سیر وتفریح کے بعد واپس ملتان جارہے تھے ان کے ساتھ ربوہ کے احمدی خدام کا ریلوے سٹیشن ربوہ پر تصادم ہوا ہے۔ کیونکہ یہ طلباء تقریباً ایک ہفتہ قبل مورخہ 22مئی 1974ء کو جب کالج کی طرف سےایک تفریحی ٹرپ کے سلسلہ میں بذریعہ چناب ایکسپریس راولپنڈی جارہے تھے تو انہوں نے ربوہ ریلوے سٹیشن پر جماعت کے خلاف نعرے بازی کی تھی۔ نیز چلتی گاڑی سے ریلوے لائن کے قریب سے گزرنے والے مردوزن کو پتھر مارے تھے۔ جس سے بعض افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ جس کے نتیجہ میں یہ سانحہ رونما ہوا اور اس کے ردعمل کے طور پر یہ جلوس نکلا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ مورخہ 30مئی کی رات کو پنجاب کے وزیر اعلیٰ حنیف رامے نے ریڈیو پاکستان پر اس تعلق میں ایک تقریر کی اور اپنی طرف سے لوگوں کو پر امن رہنے کی تلقین کی مگر اس تقریر کا الٹا نتیجہ نکلا۔ جن شہروں اور علاقوں میں اس واقعہ کی خبر ابھی نہیں پہنچی تھی وہاں بھی اس سانحہ کی خبر پہنچ گئی اور پورے پاکستان میں جماعت احمدیہ کے خلاف ہنگامے شروع ہوگئے اور ان ہنگاموں نے باقاعدہ طورپر ایک تحریک کی شکل اختیار کرلی۔
ملاں نے اس واقعہ سے خوب فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام الناس کو جلسوں، جلوسوں اور خطبات جمعہ کے ذریعہ احمدیوں کے خلاف انتہائی نفرت انگیز اور شر انگیز تقریریں کر کے بھڑکانا شروع کر دیا اور ان ہنگاموں اور تحریک کو ہوا دینے میں اس حد تک جھوٹ اور مکر سے کام لیا گیا کہ بازار سے بکروں کی زبانیں خرید کر سٹیجوں پر لوگوں کو دکھا کر کہاگیا کہ احمدی نوجوانوں نے ہمارے طلباء پر اس قدر تشدد اور ظلم کیا ہے کہ ان کی زبانوں کو چاقوؤں اور چھریوں سے کاٹ ڈالا ہے اور وہ زبانیں یہ ہیں اور لوگوں کو بکروں کی زبانیں دکھائیں۔ کسی کو یہ خیال نہ آیا کہ وہ کاٹی گئی زبانیں ان مولویوں تک کیسے پہنچیں اور ریلوے سٹیشن سے وہ زبانیں کون اکٹھی کر کے لایا اور انہوں نے طلباء کی زبانوں کو جڑوانے کی بجائے ان مولویوں تک کیوں پہنچائیں؟ بہرحال اس صورتحال سے جماعت احمدیہ کے خلاف اس قدر نفرت کی آگ بھڑک اٹھی کہ پورے پاکستان میں جلسے جلوس اور ہنگامے شروع کردیئے گئے اور احمدیوں کی املاک اور دکانوں اور کاروباری مراکز اور فیکٹریوں و کارخانوں اور ملّوں کو لوٹنا شروع کردیاگیا اور آگ لگانی شروع کردی گئی اور احمدیوں پر بدترین تشدد کا سلسلہ شروع ہوگیا اور اس تحریک کے دوران تقریباً 27احمدیوں کو شہید کردیاگیا اور سینکڑوں کو مار مار کر زخمی اور معذور کردیا گیا۔ نیز مولویوں نے احمدیوں کے ساتھ سوشل بائیکاٹ کرنے کی تحریک کرنا شروع کردی اور بائیکاٹ کی وجہ سے احمدیوں پر زندگی تنگ کردی گئی اور اس سارے عرصہ میں حکومت کی مشینری خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی رہی اور احمدیوں کو تحفط دینے کے لئے عمداً کوئی کارروائی نہ کی گئی۔ اگر کسی جگہ احمدی اپنی حفاظت کے نقطۂ نظر سے کوئی اقدامات کرتے تو الٹا ان کو پکڑ کر ان کے خلاف مقدمات قائم کر کے انہیں حوالاتوں اور جیلوں میں بند کردیا جاتا۔ یہی حال ہمارے گاؤں میں بھی ہمارے ساتھ ہوا۔ ہمارے گاؤں میں غیر احمدیوں کی مسجد میں باہر کا ایک تنخواہ دار مولوی سلطان محمود خطیب مقرر تھا اور بڑا شریر طبع تھا۔ جب جماعت احمدیہ کے خلاف تحریک چل نکلی تو اس نے بھی اپنے صبح کے درس قرآن، خطبات جمعہ اور تقاریر کے ذریعے حضرت مسیح موعود ؑ اور جماعت احمدیہ کے خلاف گاؤں کے لوگوں کو بھڑکانا شروع کردیا۔ چونکہ یہ تحریک ملک گیرشکل اختیار کرچکی تھی، اس لئے اس کے اثرات ہمارے گاؤں میں بھی ظاہر ہونا شروع ہوگئے۔
ربوہ سٹیشن کے واقعہ کو بالکل غلط انداز میں مبالغہ آرائی کے ساتھ اخبارات و رسائل اور خطبات و تقاریر کے ذریعہ پیش کیا جارہا تھا اس لئے ہمارے گاؤں کے غیر احمدی لوگوں میں بھی احمدیوں کے خلاف نفرت اور غم وغصہ کے جذبات پیدا کرنے میں مذکور مقامی مولوی کامیاب ہوگیا اور گاؤں کے کافی تعداد میں لوگوں نے احمدیوں کی مخالفت کرنی شروع کردی۔ مخالفت میں زیادہ نمایاں وہ غیر احمدی تھے جن کی کسی احمدی کے ساتھ کوئی ذاتی قسم کی عداوت یا بغض یا کینہ اور مخاصمت تھی ،انہوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھا کر اپنا غصہ نکالنے کی کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔
ہمارے گاؤں میں پانچوں نمازوں کی اذان کے بعد حضرت مسیح موعود ؑ اور احمدیوں کے خلاف باقاعدگی کے ساتھ روزانہ بچوں سے لاؤڈ سپیکر پر گندے گندے نعرے لگوائے جاتے اور جب ہم گاؤں کی گلیوں سے گزرتے تو بعض شر پسند مخالفین محض ہمیں بھڑکانے کیلئے اور ذہنی طور پر ٹارچر کرنے کے پیش نظر حضرت مسیح موعود ؑ کو برا بھلا کہتے اور تکلیف دہ فقرے کستے۔ مگر ہم مجبوراً برداشت کرتے کیونکہ اگر ہم وہاں کسی انتقامی کارروائی کا اقدام کرتے تو اس کے نتائج پورے پاکستان کے احمدیوں کو بھگتنے پڑتے اور الٹا مقدمات بھی ہمارے خلاف قائم کر دیئے جاتے۔ جماعت احمدیہ کے ساتھ سوشل بائیکاٹ کر دیاگیا اورگاؤں کے دکانداروں نے مخالفت کے ڈر سے ہمیں سودا سلف دینے سے انکار کردیا لہٰذا اس کی وجہ سے کافی پریشانی اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔ البتہ خشک قسم کا سودا سلف دوسرے شہروں میں جا کر وہاں سے لے کر آتے مگر روزمرہ کی ضروریات جن میں سبزی، فروٹ اور دودھ وغیرہ شامل ہیں، کے سلسلہ میں بہت مشکلات پیدا کر دی گئیں ۔
ہمارے گاؤں میں اس لئے بھی مخالفت زیادہ ہوئی کیونکہ ایک کلومیٹر کے فاصلہ پرپاکستان کا ایک تاریخی شہر بھیرہ ہے۔ وہاں جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری سابق چیئرمین رؤیت ہلال کمیٹی پاکستان وچیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت پاکستان کا مدرسہ دارالعلوم تھا۔ اس کے علاوہ بھی شہر میں متعددچھوٹے چھوٹے مدرسے تھے۔ چنانچہ وہاں سے ہمارے گاؤں کے لوگوں پر مخالفت اور بائیکاٹ کرنے کا بڑا دباؤ تھا اور ہر جمعہ کو بھیرہ سے کوئی نہ کوئی مولوی خطبہ جمعہ دینے کیلئے ہمارے گاؤں میں آتا اور ہر دفعہ لوگوں کو احمدیوں کے خلاف نئے نئے اعتراضات پیش کر کے لوگوں کو مشتعل کر جاتا اور مقامی مولوی تو پہلے ہی اشتعال انگیزی کر رہے تھے۔ اس تمام صورتحال کے باوجود احمدیوں کے حوصلے بڑے بلند رہے اور احباب جماعت نے وفاداری و استقامت کا بے مثال نمونہ دکھایا اور مخالفت و نقصانات کی ذرا پرواہ نہ کی۔
جیسا کہ پہلے ذکر کیاجا چکا ہے کہ ہمارے گاؤں میں اس تحریک سے پہلے تمام مکاتب فکر کے لوگ گاؤں کی تمام مساجد میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ البتہ دو مساجد میں احمدی اور سنی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے دونوں باری باری باجماعت اپنی نمازیں ادا کرتے تھے۔ گاؤں کے جنوب والی مسجد میں (جسے دکھن والی مسجد کہتے تھے)احمدی نماز جمعہ ادا کرتے تھے اور شمالی حصہ والی مسجد (جو پربت والی مسجد کے نام سے معروف تھی) میں غیر احمدی نماز جمعہ پڑھا کرتے تھے۔ انتظامی طور پر گاؤں کے جنوب والی مسجد پر احمدیوں کا کنٹرول تھا ۔جبکہ شمال والی مسجد پر انتظامی لحاظ سے اہل سنت والوں کا کنٹرول تھا۔ مگر اس تحریک کے دوران احمدیوں کو دونوں مساجد سے نماز پڑھنے سے روک دیا گیا۔ جب یہ معاملہ پولیس تک پہنچا تو پولیس نے بھی حالات کی نزاکت کے پیش نظر وہ مسجد جس پراحمدیوں کا کنٹرول تھا اسے بھی غیر احمدیوں کے کنٹرول میں دے دیا۔ اور احمدیوں کو اس مسجد میں نماز پڑھنے سے روک دیا۔ اس پر جماعت نے عدالت میں جانے کا فیصلہ کیا اور اس سلسلہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ سے رہنمائی حاصل کی۔ حضور ؒنے فرمایا کہ مسجدکے حصول کے لئے عدالت میں مقدمہ نہیں کرنا ۔ آپ اپنی الگ مسجد تعمیر کر لیں۔ چنانچہ حضور ؒکے اس ارشاد کی تعمیل میں جماعت احمدیہ نے موجودہ الگ اپنی مسجد تعمیر کر لی۔مسجد کے لئے زمین استاذی المکرم ملک ممتاز احمد صاحب مرحوم صدر جماعت نے وقف کی تھی ۔ فجزاہ اللّٰہ احسن الجزاء
جن لوگوں نے احمدیوں سے مسجد چھینی تھی چند سال قبل اہل سنّت کے ایک دوسرے فرقہ کے لوگوں نے ان کو اس مسجد سے بے دخل کر دیا۔

اسیرراہ مولیٰ ہونے کا اعزاز

جولائی 1974ء کے پہلے عشرہ میں (معین تاریخ اب مجھے یاد نہیں) ایک روز میں اور میری والدہ محترمہ اپنی حویلی سے واپس گھر آرہے تھے کہ گلی میں آتے وقت ہمارے ایک غیراحمدی کزن محمدنواز نے حضرت مسیح موعودؑ کے خلاف کوئی فقرہ بازی کی۔ جس پر ہمارا اس کے ساتھ جھگڑا ہو گیا۔ اُدھر سے میرے چچا زاد بھائی ملک محمد افضل ظفر صاحب جو ان دنوں جامعہ احمدیہ ربوہ کے پہلے سال میں زیر تعلیم تھے اور گرمیوں کی چھٹیوں میں گاؤں آئے ہوئے تھے وہ باہر سے آرہے تھے۔ جب انہوں نے دیکھا تو وہ بھی دوڑ کر آگئے اور ہم نے خوب اس کی مرمت کی۔ چنانچہ اگلے روز صبح انہوں نے ہسپتال سے بازو کی ہڈی ٹوٹنے کا ایک جعلی سرٹیفیکیٹ بنوا کر تھانہ بھیرہ میں ہم تینوں اور میرے ایک بڑے بھائی جو اس موقع پر موجود بھی نہ تھے کے خلاف FIR کاٹنے کی درخواست جمع کروادی ۔ ساتھ ہی اس واقعہ کی اطلاع مدرسہ دارالعلوم بھیرہ میں کردی گئی کہ احمدیوں نے گاؤں کے ایک غیر احمدی نوجوان کی پٹائی کر دی ہے۔ چنانچہ بھیرہ میں اعلان کردیا گیا کہ اگلے روز ہجکہ میں بھیرہ سے جلوس جائے گا اور وہاں مسجد میں جلسہ ہوگا اور اس واقعہ کے خلاف احتجاج ہوگا اور پولیس کو کارروائی کرنے پر مجبور کیاجائے گا۔ چنانچہ اگلے روز گاؤں کے تمام احمدی اس گلی میں جمع ہوگئے جس میں زیادہ گھر احمدیوں کے تھے اور حفاظتی نقطہ نظر سے زیادہ محفوظ تھی اور دفاع کی تمام تر تیاریاں مکمل کرلیں۔چنانچہ اس صورتحال کے پیش نظر چھتوں پر تمام خدام اور مرد حضرات ڈیوٹی پر بیٹھ گئے۔ مغرب کے وقت بھیرہ سے ایک بہت بڑا جلوس نعرے لگاتا ہوا ہمارے گاؤں پہنچ گیا اور مسجد کے اندر اور گردونواح میں بھی لوگ اکھٹے ہونے شروع ہوگئے۔ دوسری طرف ہم لوگ دعاؤں میں مصروف تھے۔ اس جلسہ کے پیش نظر بھیرہ کی تمام پولیس، بھلوال سے انسپکٹر پولیس اور علاقہ مجسٹریٹ جلوس کے ساتھ بھیرہ سے آیا ہواتھا۔ بظاہر تو تحصیل بھلوال کی تمام انتظامیہ اور پولیس احمدیوں کی حفاظت کے لئے آئی تھی مگر حسب معمول اس دفعہ بھی انہوں نے الٹا احمدیوں کے خلاف ہی کارروائی کی۔
جلسہ شروع ہونے میں ابھی تھوڑا وقت باقی تھا۔ لاؤڈ سپیکر پر اعلانات اور حضرت مسیح موعودؑ اور احمدیوں کو گالیاں دینے کا سلسلہ جاری تھا یہ سب کچھ انتظامیہ اور پولیس خاموش تماشائی بنے دیکھ اور سن رہی تھی۔ بہر حال بڑی خوفناک صورتحال پیدا ہوچکی تھی اور ہم لوگ بڑی گڑگڑا کر دعائیں کر رہے تھے۔ چنانچہ خداتعالیٰ نے ہماری دعاؤں کو سن لیا اور اچانک غیرمتوقع طور پر شمال کی طرف سے بادل نے چمکنا شروع کردیا اور دیکھتے ہی دیکھتے بڑی سرعت کے ساتھ بادل سارے آسمان پر چھا گیا اور بادل نے گرجنا شروع کردیا اور چندمنٹ کے بعد سخت طوفان اٹھا اس کے ساتھ موسلا دھار بارش شروع ہوگئی۔ طوفان بادوباراں کی تاب نہ لاتے ہوئے گاؤں کے لوگ تو اپنے اپنے گھروں کی طرف بھاگ نکلے مگر جو لوگ بھیرہ سے آئے ہوئے تھے وہ کہاں جاتے؟ طوفان اور بارش نے ان کی خوب خبر لی۔بے بسی کے عالم میں بھیرہ سے آئے ہوئے لوگ واپس بھیرہ جانے کیلئے بھاگنے لگے۔ کیونکہ اس طوفان اور موسلا دھار بارش کی وجہ سے جلسہ کا تمام انتظام درہم برہم ہوکر رہ گیا۔ جب جلو س کا ایک بہت بڑا گروپ ہمارے گھروں کے پاس سے گزررہا تھا اور شرکائے جلوس احمدیوں کے خلاف نعرے بازی کرتے جارہے تھے اور گلی میں احمدی گھروں پر لاٹھیاں برساتے جا رہے تھے جس سے احمدی گھروں پر حملہ کرنے کا خدشہ محسوس کرتے ہوئے ہمارے ایک خادم مکرم محمد افضل صاحب ولد مکرم فضل احمد صاحب مرحوم برداشت نہ کر سکےاور انہوں نے چھت پر سے ایک اینٹ دے ماری جو ایک شخص کو لگی اور وہ زخمی ہوگیا۔ چنانچہ اس کے نتیجہ میں شور برپا ہوگیا کہ قادیانیوں نے جلوس پر حملہ کردیا ہے اور بہت سارے لوگ زخمی ہوگئے ہیں اور بعض کی حالت تشویشناک ہے۔ جب اس کا اعلان مسجد میں ہوا تو بھیرہ سے آئے ہوئے لوگ دوبارہ واپس مسجد کی طرف چل پڑے۔ جلسہ کی انتظامیہ نے لاؤڈ سپیکر سے اعلان کیا اور مجسٹریٹ اور پولیس افسران کو الٹی میٹم دے دیا کہ اس واقعہ کے نتیجہ میں فلاں فلاں احمدیوں کو ابھی ایک گھنٹے کے اندر اندر فی الفور گرفتار کیا جائے ورنہ ہم تمام احمدیوں کے گھروں کو مسمار کردیں گے اور بہت زیادہ خونریزی ہو گی۔ اس اعلان میں درج ذیل افراد کے نام تھے۔
1:۔ مکرم ملک ممتاز احمد صاحب مرحوم صدر جماعت احمدیہ ہجکہ شریف۔
2:۔ خاکسار کے والد مکرم ملک ولی محمد ممبرصاحب مرحوم۔
3:۔ راجہ عبدالمجید صاحب مرحوم (چچا مکرم راجہ نصیر احمد صاحب مرحوم)
4۔ مکرم راجہ فرید احمد صاحب مرحوم( چچا مکرم راجہ نصیر احمد صاحب مرحوم)
5:۔ مکرم ملک علی محمد صاحب (خاکسار کے چچا جان اور والد مکرم ملک محمد افضل ظفر صاحب مبلغ سلسلہ احمدیہ حال کینیا)
چنانچہ اس اعلان کے بعد مجسٹریٹ اور پولیس مذکورہ بالا تمام افراد کے گھروں میں گئی اور کہا کہ اس وقت صورتحال سخت خطرناک اور تشویشناک ہے لہٰذا آپ ایک دفعہ مولویوں کے منہ بند کرنے کیلئے اور صورتحال کی نزاکت کے پیش نظر گرفتاری دے دیں۔ صبح ہم آپ کو چھوڑ دیں گے۔ چنانچہ مذکورہ تمام احباب نے گرفتاری دے دی اور جماعت نے ان کے ساتھ مکرم محمد افضل ولد مکرم فضل احمد صاحب مرحوم کو بھی پیش کردیا جنہوں نے اینٹ ماری تھی ۔
اس گرفتاری کی تصدیق کے بعد جلسہ ملتوی کردیاگیا اور بھیرہ سے آیا ہو اجلو س واپس بھیرہ چلاگیا۔ اگلے روز خاکسار کو اور میرے بڑے بھائی ملک محمد اکرم صاحب مرحوم سابق صدر جماعت احمدیہ بھیرہ اور میرے چچا زادبھائی مکرم ملک محمد افضل ظفر صاحب مربی سلسلہ حال مبلغ کینیا کو بھی پولیس نے مذکورہ بالا واقعہ کی تفتیش کے لئے تھانے بلوایا۔ چنانچہ ہم تینوں بھی تھانہ بھیرہ پہنچ گئے۔ ادھر مولویوں نے پولیس پر دباؤ ڈالا کہ دونوں کیسوں کی ایف۔ آئی۔ آر(FIR) کاٹ کر ان کو چالان کر کے جیل بھجوایا جائے۔ چنانچہ پولیس نے مولویوں کے دباؤ کے تحت ہم تینوں اور میری والدہ مرحومہ کے خلاف ضابطہ فوجداری کے تحت زیر دفعہ 324،325ت پ FIR کاٹ دی اور دیگر مذکورہ بالا چھ احباب کے خلاف ضابطہ فوجداری زیر دفعہ 307ت پ (ارادہ قتل) FIRکاٹ دی گئی۔ اور تقریباً دو بجے دوپہر ایک بس کو تھانہ کے سامنے لایا گیا اور تمام افراد کو ہتھکڑیاں لگانی شروع کر دیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے برادرم مکرم محمد افضل ظفر صاحب مربی سلسلہ کو جب ہتھکڑی لگانے لگے تو انہوں نے آنحضرتؐ کے یہ الفاظ دہرائے کہ ’’اے سراقہ! تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تیرے ہاتھوں میں قیصر وکسریٰ کے سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔‘‘ جب پولیس کا ایک سپاہی مجھے ہتھکڑی لگانے لگا اور ہتھکڑی میرے ہاتھ سے گزار کر بازو میں ڈالی اور تالا لگایا تو میں اس وقت اتنا چھوٹا اور دبلاپتلا تھا کہ میں نے اپنا بازو ہتھکڑی سے باہر نکال لیا۔ اس پر وہ سپاہی ہنس پڑا اور دوسرے سپاہی کو کہنے لگا کہ یہ ہتھکڑی تو اس کے بازو سے بڑی ہے لہٰذا ایک رسی لے کر آؤ جس کے ساتھ اس کو باندھ لیں۔ میں نے کہا جناب میں نے دوڑکر کہاں جانا ہے؟ آپ فکر نہ کریں مجھے رسی کے ساتھ باندھنے کی ضرورت نہیں میں اپنے بڑوں کے ساتھ ہی جاؤں گا۔ چنانچہ یہ سن کر اس سپاہی نے مجھے اپنے ہاتھ سے پکڑ لیا اور بس میں لے جا کر بٹھا دیا۔ اور بس نے ہمیں تقریبا ًتین گھنٹے کے بعد ڈسٹرکٹ جیل سرگودھا کے سامنے جا کر اتارا۔ بس سے اترتے وقت سپاہی نے دوبارہ مجھے بازو سے پکڑ لیا اور جیل کے گیٹ سے اندر تک لے جا کر چھوڑ دیا۔ گیٹ کے اندر داخل ہونے پر تمام افراد کی تلاشی لی گئی اور جن کی جیب میں پیسے تھے وہ نکلوا لئے۔ اتفاق سے ہمارے ایک غیر احمدی رشتے دار محمد اکرم صاحب آف گھوگھیاٹ جیل کی پولیس میں تھے جن کی ڈسٹرکٹ جیل سرگودھا میں ڈیوٹی تھی وہ اس وقت ڈیوٹی پر موجود تھے۔ چنانچہ اس نے ہمارے پیسے اپنے قبضہ میں لے لئے اور ان پیسوں سے ہماری ضرورت کی اشیاء خرید کر ہمیں پہنچا دیں۔
جب ہم جیل میں پہنچے تو انتظامیہ کو ہمارے احمدی ہونے کے بارہ میں بتایا گیا تو سپرنٹنڈنٹ جیل نے حکم دیا کہ ہمیں اس وارڈ میں لے جایا جائے جس میں ربوہ سٹیشن پر ہونے والے واقعہ کے نتیجہ میں گرفتار شدگان ربوہ کے احمدیوں کو ٹھہرایا گیاہے۔ یہ سن کر ہم خوش ہوئے کہ چلو ہم اپنوں میں ہی جارہے ہیں۔ یہ احاطہ قصوری احاطہ کہلاتا تھا اس میں کسی غیراحمدی کو آنے کی اجازت نہ تھی اور نہ ہمیں اس احاطہ سے باہر جانے کی اجازت تھی۔ ہمارے احاطہ میں کل 7 کوٹھیاں تھیں جن کو چکی کہا جاتاتھا۔ ہر چکی میں تقریباً دس بارہ افراد کو ٹھہرایا گیاتھا۔ عام حالات میں ایک چکی میں صرف پانچ قیدیوں کو ٹھہرایا جاتاتھا۔ ان چکیوں کے اندر موجود چٹائیاں، کمبل اور برتن ناقابل استعمال تھے۔ مگر ربوہ کے احمدی احباب کیلئے مرکز سے استعمال کا تمام سامان بھجوادیاگیاتھا اور کھانے پینے کا سامان بھی اکثر مرکز سے آتا تھا۔
جیل میں صبح کے وقت ناشتہ میں بھنے ہوئے چنے اور گڑ ملتاتھا جبکہ رات کے وقت دال اور روٹی ہوتی تھی۔ کبھی کبھار سبزی بھی ہوتی تھی۔ مگر سالن روٹی کا معیار انتہائی ناقص ہوتاتھا۔جس کا گلے سے نیچے اترنامشکل ہوتا تھا لہٰذا اکثر وبیشتر احباب جماعت جب ملاقات پر آتے تھے تو فروٹ اور دیگر ضرورت کی اشیاء اچار، بسکٹ اور بند وغیرہ دے جاتے تھے۔ صبح کا ناشتہ ہم خود تیار کرتے تھے۔ جس میں ایک ایک بند اور چائے کا کپ ہوتاتھا اور دوپہر کو بھی مرکز اور گھروں سے آنے والی مختلف چیزیں کھا کر گزارہ کرتے تھے اور رات کا کھانا عموماً اچار وغیرہ کے ساتھ کھا لیتے تھے۔ صبح جیل کی طرف سے ملنے والے چنے اور گڑ ہم حاصل کر لیتے تھے جو دن کے مختلف اوقات میں بھوک محسوس ہونے پر کھا لیا کرتے تھے۔
جس چکی میں ہمیں ٹھہرایا گیا اس میں ہمارے گاؤں کے مذکورہ افراد کے علاوہ چار مزید ربوہ کے نوجوان ٹھہرائے گئے تھے۔ جن میں مکرم برادرم مبارک احمد طاہر صاحب حال سیکرٹری مجلس نصرت جہاں ، مکرم مبارک احمد صاحب ابن مکرم داؤد احمد صاحب سٹیشن ماسٹر نشتر آباد، مکرم مبشر احمد صاحب محلہ فیکٹری ایریا ربوہ اور چوتھے رانا عبدالغفور صاحب محلہ باب الابواب ربوہ تھے۔ جولائی اگست کے مہینے تھے اور سخت گرمی اور حبس ہوتی تھی۔ چکی میں جگہ کی تنگی کے باعث ہم ایک دوسرے کے بازوؤں کے اندر ٹانگیں گھسا کر سوتے تھے۔ مرکز کی طرف سے جیل حکام سے اس شرط پر ہماری چکیوں میں پنکھے لگوائے گئے تھے کہ ہمارے رہا ہونے پر پنکھے ہم اتار کر نہیں لے جائیں گے ان کی مالک جیل انتظامیہ ہوگی۔ ہمارے احاطہ کے صحن میں ایک برگد (بوڑھ) کا درخت لگا ہوا تھا۔ ہم اس کے نیچے دھوتیاں اور جانگیئے بنیانیں پہن کر سارادن بیٹھے باتیں کرتے تھے۔ بعض احباب زمین پر بارہ ٹہنی اور چیرا گزی وغیرہ جیسی کھیلیں کھیل کر اپنا وقت گزار لیتے تھے اوربعض احباب وقت گزارنے کے لئے لڈوکھیل لیتے تھے۔ ہمارے احاطہ میں ایک نلکا تھا جب کسی کو گرمی محسوس ہوتی تھی اس کے نیچے نہا لیتے تھے اور وضو وغیرہ کر لیتے تھے۔
سب سے بڑی تکلیف جس کا جیل میں ہمیں سامنا کرنا پڑا وہ یہ تھی کہ ہم تقریباً 70۔80؍ افراد کیلئے چولہے والی صرف ایک لیٹرین تھی جس کے اندر دو چولہے بنے ہوئے تھے اور اس کی صفائی چوبیس گھنٹوں میں صرف ایک دفعہ ہوتی تھی۔ ہم سب کو خارش کی بیماری لگ گئی۔ جس کی وجہ سے سخت تکلیف محسوس ہوتی تھی۔
ایک اور بڑی تکلیف یہ تھی کہ ہمیں شام 4 بجے چکیوں کے اندر بند کردیاجاتا تھا اور صبح 4بجے چکیوں سے نکالا جاتا تھا۔ اس دوران اگر کسی کو پیشاب یا قضائے حاجت کی ضرورت پڑ جاتی تو اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ تھا کہ لائٹ بند کر کے کسی شاپر وغیرہ میں قضائے حاجت کی تکلیف سے نجات حاصل کر کے اس لفافہ کو سریوں والے دروازے کے باہر رکھ دیا جاتاتھا اور صبح دروازہ کھولتے ہی اس کو اٹھا کر لیٹرین میں رکھ دیا جاتا تھا۔
ہم فجر، ظہر اور عصر کی نمازیں صحن میں برگد کے درخت کے نیچے باجماعت ادا کرتے تھے جبکہ مغرب وعشاء کی نمازیں اپنی اپنی چکیوں کے اندر باجماعت ادا کرتے تھے اور مغرب وعشاء کی نمازوں سے پہلے ہر چکی میں بلند آواز سے اذان دی جاتی تھی جو تمام جیل میں گونجتی تھی۔ رات کو بلند آواز سے اپنی اپنی چکیوں میں نظمیں پڑھی جاتی تھیں۔
22جولائی 1974ء کو حویلی مجوکہ سے درج ذیل مزید چار احمدی احباب کو بھی چالان کر کے ہمارے احاطہ میں لایاگیا۔ جن میں ایک بزرگ تو کافی عمررسیدہ تھے۔
1:۔ مکرم حاجی محمد یار صاحب بعمر 76سال(والد مکرم شیر محمد ملک صاحب ایڈووکیٹ حال کینیڈا)
2:۔ مکرم اللہ داد صاحب ولد محمد نواز صاحب۔
3:۔ مکرم احمدخان صاحب ولد ملک غلام حسن صاحب۔
4:۔ مکرم ذاکر محمد صاحب ولد مکرم حاجی محمد یار صاحب۔
جیل میں ہمارے ساتھ جامعہ احمدیہ کے درج ذیل طلباء بھی اسیر راہ مولیٰ تھے جوسٹیشن والے واقعہ کے نتیجے میں ربوہ سے گرفتار کئے گئے تھے۔
1:۔ مکرم مغفور احمد منیب صاحب سابق مبلغ جاپان حال انچارج جاپانی ڈیسک تحریک جدیدربوہ
2:۔ مکرم محمدادریس شاہد صاحب سابق امیر و مشنری انچارج برکینا فاسو ۔
3:۔ مکرم منصور احمد مبشر صاحب سابق مبلغ ہالینڈ و تنزانیہ حال مربی سلسلہ دفتر وکالت اشاعت ربوہ
4:۔ مکرم خالد محمود لاہوری صاحب جو مربی بننے کے بعدکسی وجہ سے فارغ ہوگئے۔
5:۔ مکرم منیر احمدچوہدری صاحب سابق مبلغ امریکہ و کینیڈاحال انچارج ایم۔ ٹی۔ اے نارتھ امریکہ۔
جیل میں عموماً نمازیں مکرم مغفور احمد منیب صاحب پڑھایا کرتے تھے اور خطبہ جمعہ بھی وہی دیتے تھے۔ جامعہ احمدیہ کے ان طلباء سے ہم جیل میں اکثر آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے ایمان افروز واقعات سنا کرتے تھے۔ ان کے علاوہ ہمارے ساتھ جیل میں مکرم مرزا عبدالسمیع صاحب سٹیشن ماسٹر ربوہ، مکرم داؤد احمد صاحب سٹیشن ماسٹر نشتر آباد اور مکرم خواجہ مجید احمد صاحب خواجہ ریسٹورنٹ ربوہ والے بھی تھے۔ مکرم خواجہ صاحب جو ہمارے جیل میں امیر تھے۔ بعض اہم جماعتی عہدیداروں کو ہم سے الگ ایک دوسرے حصہ میں رکھاگیا تھا جن میں مکرم مولوی عبدالعزیز بھامبڑی صاحب محتسب امورعامہ ربوہ، مکرم چوہدری بشیر احمد صاحب صدر عمومی لوکل انجمن احمدیہ ربوہ اور مکرم رشید احمد صاحب کارکن نظارت امور عامہ ربوہ وغیرہ شامل تھے۔ ربوہ سے گرفتار کئے گئے افراد میں سے زیادہ تر افراد دکاندار تھے جن کو محض گنتی پوری کرنے کیلئے دکانوں سے گرفتار کیاگیا اوربعض افراد کو کہیں سڑک یا بازار یا گلی محلہ میں آتے جاتے پولیس نے گرفتار کیا تھا۔
ہمارے احاطہ کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ پنجاب کا مشہور زمانہ ڈاکو چراغ بالی اس احاطہ میں مقید رہا اور وہیں سے وہ جیل کی بلند و بالا دیوار پھلانگ کر جیل سے فرار ہوگیاتھا جو بعد میں ایک پولیس مقابلہ میں ماراگیا ۔ ہمارے احاطہ کے ساتھ ملحق احاطہ خواتین قیدیوں کا تھا جن کی اکثر لڑائی اور ایک دوسرے کو گالی گلوچ کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔
جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا ہے کہ ہمارے خلاف کاٹی گئی FIR میں میری والدہ محترمہ کا نام بھی شامل تھا تاہم ان کی گرفتاری عمل میں نہ آئی ۔ ان کی قبل از گرفتاری ضمانت کروالی گئی جو بعد میں کنفرم ہوگئی مگر ہماری تینوں کی ضمانت 18 دن کے بعد مجسٹریٹ نے لے لی۔ جس کے بعد ہم تینوں جیل سے رہا ہو کر گھر پہنچ گئے۔ لیکن محترم والد صاحب اور ان کے ساتھ پرچہ میں شامل دیگر افراد کی ضمانت مجسٹریٹ اور سیشن جج نے Reject کردی اور 40 دنوں کے بعد ہائیکورٹ سے ان کی ضمانت ہوئی جس کے بعد وہ رہا ہوئے۔ الحمد للّٰہ علیٰ ذٰلک
میری گرفتاری اور جیل میں جانے کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ کو میری گرفتاری کے بارہ میں اطلاع دی گئی۔ جب والد محترم جیل سے رہا ہونے کے بعد حضور ؒسے ملاقات کیلئے ربوہ گئے تو حضور ؒ کو علم تھا کہ میں آپ کا بیٹا ہوں۔ کیونکہ حضور ؒاباجان کو اچھی طرح جانتے تھے۔ چنانچہ حضورؒ نے اباجان کو فرمایا آپ مبشر کو کیوں ساتھ نہیں لائے؟ آج ہی واپس جائیں اور کل اس کو میرے پاس لے آؤ۔ چنانچہ اباجان اسی روز گاؤں واپس آئے اور اگلے روز ہم تمام گرفتار ہونے والے افراد حضورؒ کی ملاقات کیلئے ربوہ گئے۔ جب حضورؒ کو ہمارے پہنچنے کی اطلاع دی گئی تو حضورؒ نے فوری طور پر ہمیں اندر بلالیا۔ خاکسار سب سے آگے تھا۔ ہم جب حضورؒ کے کمرہ میں داخل ہوئے تو حضور ؒنے مجھے دیکھتے ہی فرمایا:’’یہ ہے وہ شیطان کی حکومت کا تختہ الٹانے والا‘‘ اس کے بعد حضورؒ انور نے اٹھ کر مجھے گلے لگا لیا اور پیار کیا اور ملاقات کے دوران مجھ سے جیل کے حوالے سے باتیں پوچھتے رہے اور ملاقات کے آخر پر پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کو فرمایا کہ اختر فوٹو گرافر کو بلا کر ان کی تصاویر کھینچوائی جائیں۔ چنانچہ اسی وقت اختر صاحب کو بلایا گیا انہوں نے وہاں برآمدے میں ہماری تصویریں بنائیں جس کے بعد ہم واپس آگئے۔ مگر افسوس کہ وہ تصاویر ہم اختر صاحب سے حاصل نہ کرسکے۔ مگر جب ان تصاویر کو حاصل کرنے کا خیال آیا اوراختر صاحب سے رابطہ کیا گیا تو افسوس کہ ہماری تصاویر ڈھونڈنے کے باوجود لمبا عرصہ گزر جانے کی وجہ سے نہ مل سکیں۔
جیل سے رہا ہونے کے بعد تقریباً ڈیڑھ سال تک ہم لوگ (خاکسار کی والدہ محترمہ کے ہمراہ) مقدمہ کے سلسلہ میں مجسٹریٹ درجہ اول بھلوال کی عدالت میں پیش ہوتے رہے۔ ہم فجر کے وقت گھر سے نکلتے تھے اور صبح 7-8بجے عدالت کا وقت شروع ہونے سے پیشتر عدالت میں پہنچ جاتے تھے مگر ہمارا نام اکثر وبیشتر فہرست میں بالکل اخیر پر رکھا جاتاتھا۔ چنانچہ ہم عدالت کا وقت شروع ہونے سے لے کر عدالت کا وقت ختم ہونے تک سخت گرمی میں وہاں کھڑے ہو کر انتظار کیا کرتے تھے۔ جب ہماری باری آتی تھی تو بغیر کسی کارروائی کے ہمیں اگلی تاریخ دے دی جاتی تھی۔ میری والدہ محترمہ برقع کے ساتھ تقریباً ڈیڑھ سال تک ہر ماہ اور ہر پیشی پر عدالت میں حاضر ہوتی رہیں۔ بالآخر اللہ نے فضل کیا اور حکومت کی طرف سے تمام جماعتی مقدمات کو ختم کرنے کا اعلان کردیاگیا۔ جس کی وجہ سے ہمارا مقدمہ بھی خارج کر دیا گیا۔ اس طرح خاکسار کو یہ سعادت اور اعزاز حاصل ہوا کہ جماعت احمدیہ کی تاریخ میں اب تک خاکسار کو کم عمر اسیر راہ مولی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ خاکسار کے اسیر ہونے کا ذکر اور ہمارے خلاف مقدمہ درج ہونے اور گرفتاری کا ذکراردو روزنامچہ مرتبہ افضال ربانی کے صفحہ 73پر موجود ہے۔ اسی طرح ’سلسلہ احمدیہ حصہ سوم صفحہ 300،299 نیز ’’خصوصی کمیٹی میں کیاگزری؟‘‘ صفحہ 122و 123 مرتبہ ڈاکٹر مرزا سلطان احمد صاحب میں بھی کیا گیا ہے۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَلٰی ذٰالِکَ۔
چنانچہ روزنامچہ میں لکھاہے۔
‘‘مورخہ 10 جولائی 1974ء کو ہجکہ میں ایک بہت بڑے جلسہ میں غنڈوں نے احمدیوں کوغلیظ ترین گالیاں دیں۔ ایک بچے نے احتجاج کیا تو پولیس حرکت میں آگئی اور پانچ احمدیوں کو گرفتار کر کے لے گئی۔ ’’ ( بحوالہ روزنامچہ از افضال ربانی صفحہ 73)
‘‘مورخہ 11جولائی 1974ء کو ہجکہ میں پولیس نے تمام احمدی گھرانوں کے مردوں کو پکڑ کر جیل میں بند کردیا ان میں بعض چھوٹی عمر کے بچے بھی تھے جن کی عمریں بمشکل آٹھ آٹھ نو نو سال کی تھیں۔’’ (بحوالہ روزنامچہ از افضال ربانی صفحہ 74)
مکرم ڈاکٹر مرزا سلطان احمد صاحب اپنی کتاب ‘‘خصوصی کمیٹی میں کیا گزری؟’’میں تحریر کرتے ہیں۔
‘‘جماعت احمدیہ کی مخالفت اتنی اندھی ہو چکی تھی کہ ان فسادات کے دوران ایک گیارہ برس کے احمدی بچے کو بھی ہجکہ نامی گاؤں سے گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس اس بچے کو گرفتار کرنے کیلئے آئی تو سپاہی ہتھکڑی لگانے لگے۔ بچے کی عمر اتنی چھوٹی تھی کہ ہتھکڑی لگائی گئی تو وہ بازو سے نکل گئی۔ اس پر پولیس والے نے صرف بازو سے پکڑ کر گرفتار کرنے پر اکتفا کیا۔ البتہ اتنی مہربانی کی کہ اس بچے کو اپنے بھائیوں سمیت جیل میں اس احاطے میں رکھا گیا جہاں پر ربوہ سے گرفتار ہونے والے اسیران کو رکھا گیا تھا۔ اس احاطے میں سات کوٹھڑیاں تھیں۔ اسیران کو شام چار بجے کوٹھڑیوں میں بند کردیا جاتا اور صبح چار بجے وہاں سے نکال دیا جاتا۔ ان کا وقت یا تو دعاؤں میں گزرتا یا پھر دل بہلانے کو کوئی کھیل کھیلنے لگ جاتے۔ مغرب عشاء کے وقت جب ہر کوٹھڑی سے اذان دی جاتی تو جیل کی فضا اذانوں سے گونج اٹھتی۔ جیل میں کھانا اتنا ہی غیر معیاری دیا جاتا جتنا پاکستان کی جیلوں میں دیا جاتا ہے۔ صبح کے وقت گڑ اور چنے ملتے اور شام کو بدمزہ دال روٹی ملتی۔ گرمی کے دن تھے اور جیل میں پنکھاتک موجود نہیں تھا۔ البتہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے وہاں پر پنکھے لگانے کا انتظام فرمادیاتھا۔ اَسّی افراد کیلئے ایک لیٹرین تھی جس کی دن میں صرف ایک مرتبہ صفائی ہوتی تھی اور اگر کوٹھڑیوں میں جانے کے بعد بارہ گھنٹے کے دوران کسی کو قضائے حاجت کی ضرورت محسوس ہوتی تو اسے لیٹرین میں جانے کی اجازت بھی نہیں ہوتی تھی اور اس کیلئے ناقابل بیان صورت پیدا ہوجاتی تھی۔ جب یہ گیارہ سالہ بچہ اپنے رشتہ داروں سمیت رہا ہوا تو اس کے والد ملک ولی محمد صاحب حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ کے ساتھ ملاقات کرنے گئے مگر اس بچے کو اپنے ساتھ نہ لے کر گئے۔ حضورؒ نے اس بچے کے بارہ میں دریافت کرنے کے بعد ارشاد فرمایا کہ اس بچے کو بھی ملاقات کیلئے لاؤ۔ جب یہ بچہ حضورؒ سے ملاقات کیلئے حاضر ہوا تو حضورؒ نے گلے لگا کر پیار کیا اور پرائیویٹ سیکرٹری کو ارشاد فرمایا کہ ان کی تصویریں بنانے کا انتظام کیا جائے۔ یہ بچہ اب تک تاریخ احمدیت کا سب سے کم عمر اسیر ہے۔ یہ اسیر مبشر احمد خالد صاحب مربی سلسلہ ہیں۔’’

(ماخوذ از خصوصی کمیٹی میں کیا گزری از ڈاکٹر مرزا سلطان احمد صفحہ 123-122)

بچپن کے زمانہ میں اسیر راہ مولیٰ ہونے کی وجہ سے تھانہ، کچہری اور عدالتی نظام اور قوانین کے بارہ میں میرے علم میں کافی اضافہ ہوا۔ بچپن میں جیل جانے کا تجربہ میری زندگی کا ایک بڑا اہم باب ہے جس سے میں نے بہت کچھ سیکھا جو میری آئندہ زندگی میں بہت کام آیا۔

مخالف مولوی کا انجام

جیسا کہ پہلے ذکر کیاگیا ہے کہ ہمارے گاؤں میں غیراحمدیوں کی مسجد کے تنخواہ دار مولوی سلطان محمود نے 1974ء کی ختم نبوت تحریک کے دوران گاؤں کے لوگوں کو جماعت احمدیہ کے خلاف مشتعل کرنے اور بھڑکانے میں بڑا اہم کردار ادا کیا تھا اور جماعت کی سخت مخالفت کی تھی اور اپنے صبح کے درسوں اور خطبات و تقاریر میں حضرت مسیح موعود ؑ اور جماعت احمدیہ کو گالیاں دینے اور برا بھلا کہنے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تکذیب میں تمام حدیں پھلانگ دی تھیں۔ مگر خداتعالیٰ نے اس کو عبرت ناک سزا دی اور ذلیل و رسوا کر کے گاؤں سے برقع پہن کر نکلنے پر مجبور کرد یا۔ اس کے گاؤں کی ایک عورت سے ناجائز تعلقات قائم ہوگئے جس کا علم اس عورت کے میاں اور بھائیوں کو ہوگیا۔ حتّٰی کہ سارے گاؤں میں اس بات کا چرچا ہوگیا۔ اس عورت کے بھائیوں نے مولوی کو قتل کرنے کا ارادہ کر لیا مگر مولوی برقع پہن کر گاؤں سے بھاگنے میں کامیاب ہوگیا اور اسے دوبارہ کبھی بھی دن کی روشنی میں ہمارے گاؤں میں واپس آنے کی جرأت نہ ہوئی۔ اس طرح گاؤں والوں پر اس مولوی کی بدطینتی روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی اور اکثر نے احمدیوں سے اس کے بھڑکانے کی وجہ سےمخالفت کرنے پر معذرت کی۔ مولوی سلطان محمود کے اس عبرتناک انجام پر حضرت مسیح موعودؑ کا یہ الہام ‘‘اِنِّی مُہِیْنٌ مَّنْ اَرَادَ اِھَانَتَکَ’’ روز روشن کی طرح پورا ہواجوہمارے ازدیادایمان کاباعث بنا۔الحمدللہ

موجد کیوریٹو کا ذکر

اگرمیں اس مضمون میں مکرم ڈاکٹرراجہ نذیراحمدظفرصاحب مرحوم موجد کیوریٹووسمیل ہومیو سسٹم ربوہ کا ذکر نہ کروں تو میرامضمون نا مکمل رہے گا۔ جب یہ تحریک چل پڑی تو ڈا کٹرراجہ صاحب نے ہرجمعہ کوہمارے گاؤں آناشروع کردیا۔ جب آپ اپنے گاؤں میں تشریف لاتے تھے توآپ ہی نمازجمعہ پڑھاتے تھے اورخطبہ جمعہ میں آپ انبیاء علیھم السلام کی مخالفت بالخصوص آنحضرت ﷺ اورآپؐ کے صحابہ کرام کی مخالفت کے حالات وواقعات بیان کرتے تھے اور واقعہ کربلا میں حضرت امام حسین ؓاورآپ کے قافلہ پرہونے والے ظلم وستم کی دردناک اوردلخراش اور ایمان افروزداستانیں سنایا کرتے تھے جن سے احباب جماعت کے ایمانوں میں مضبوطی اورثابت قدمی دکھانے کاجذبہ پیدا ہوتا تھا نیزخطبہ جمعہ کے علاوہ بھی آپ علمی اورایمان افروزمجالس منعقد کیا کرتے تھے اورافرادجماعت کوحوصلہ اورتسلی دیتے تھے اورمختلف امورمیں راہنمائی بھی کرتے تھے جب تک یہ تحریک جاری رہی آپ کا بھی یہی معمول رہا۔ جب مخالفت کچھ کم ہوئی تو آپ اپنی ذاتی جیب سے بڑی بڑی پرتکلف دعوتوں کااہتمام کیاکرتے تھے جن میں غیرازجماعت احباب کومدعوکرکے مجالس سوال وجواب اورمذاکرات کے ذریعہ تبلیغ کیاکرتے تھے۔

راجہ صاحب کی دعوت الی اللہ

اس تحریک کے دوران محترم ڈاکٹرراجہ صاحب کی دعوت الی اللہ سے کئی گھرانے اور افراد احمدیت کے نورسے منوربھی ہوئے جن میں سے اکثراب تک استقامت اور صدق و وفا کے پیکر ہیں الحمدللہ علیٰ ذالک۔ اللہ تعالیٰ محترم ڈاکٹرراجہ نذیراحمدصاحب ظفرمرحوم کوجنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطافرمائے اورآپ کی اولادکوبھی آپ کے نقش قدم پرچلنے کی توفیق عطافرمائے ۔آمین

image_printپرنٹ کریں