skip to Main Content
ماخوذ: ہما لیہ HIMALAYA

کوہ ہمالیہ سلسلہ کوہ ہمالیہ (ہندی؍سنسکرت ، ‘ہِمالَے’ بمعنی برف کا گھر) ایک پہاڑی سلسلہ ہے جو برصغیر پاک و ہند کو سطح مرتفع تبت سے جدا کرتا ہے۔ بعض اوقات سلسلہ ہمالیہ میں سطح مرتفع پامیر سے شروع ہونے والے دیگر سلسلوں جیسے کہ قراقرم اور ہندوکش کو بھی شامل کرلیا جاتا ہے۔ہمالیہ کے پہاڑ بھارت  ، نیپا ل ، بھوٹان اور تبت میں پھیلے ہوئے ہیں ۔ یہ  پہاڑی سلسلہ  1600 میل  لمبا اور 200 سے 250 میل چوڑا ہے ۔ اور سطح زمین سے  3000 میٹر  بلند ہے ۔  یہ الپائن دور  (30 سے 50  ملین سال ) سے تعلق  رکھتے ہیں ۔ اس سلسلہ میں  دنیا کی 10سب سے اونچی پہاڑی چوٹیاں ہیں ، ان میں سے 8 نیپال میں ہیں ۔

جہاں پرآج ہمالیہ پہاڑ  ہیں  وہاں پہلے  ایک وسیع  و عریض سمندر تھا جس کا نام ٹیتھز(  Tethys sea) تھا ۔ اس سمندر  کے  فرش پر پتھر اور سمندری مواد جمع ہو تا گیا  اور پھر آج  سے تقریبا  40ملین سال قبل Uplifting  کے  عمل  کے دوران  زمین  کی اندرونی  حرکا ت  اور دباؤ  کے سبب یہ مواد   اوپر اٹھتا گیا  اور آہستہ آہستہ  پہاڑ وں کی شکل اختیار  کر گیا ۔ یہ پہاڑ  لا کھوں سالوں کے تدریجی  عمل  سے وجود میں آئے ہیں  اور ابھی  تک بڑھ رہے ہیں اور ان میں Uplifting   کا عمل جا ری ہے ۔

جدید نظریہ کے مطابق اس پہاڑی سلسلہ کا ظہور انڈو آسٹریلین پلیٹس     (Indo Australin Plstes)   اور  یوروشین  پلیٹس(Eurasian Plates) کے ٹکرانے کی وجہ سے ہوا۔اسی وجہ سے اس کو  تہوں والی پہاڑیاں (Fold mountain) بھی کہتے ہیں ۔ٹکراو کا یہ عمل 70  ملین سال پہلے شروع ہوا ۔ جب شمال کی طرف حرکت کرتی ہوئی  انڈوآسٹریلین  پلیٹس (Indo Australian plates)جو کہ  1.5cmفی سال کی رفتار سے حرکت کر رہی ہے ،یوریشین پلیٹس (Eurasian plates ) سے ٹکرائی  اور اس ٹکراو کی وجہ سے انڈوآسٹریلین پلیٹس (Indo Australian )نے  ٹیتھز (Tethys Sea ) کو  اوپر ٹھا دیا  جو کے ایک پہاڑ کی شکل اختیار کر گیا ۔

پہاڑی سلسلے

ہمالیہ دنیا کا سب سے اونچا پہاڑی سلسلہ ہے جس میں دنیا کی بلند ترین چوٹیاں بشمول ماؤنٹ ایورسٹ اور کے ٹو موجود ہیں۔ 8,000میٹر سے بلند دنیا کی تمام چوٹیاں اسی پہاڑی سلسلے میں واقع ہیں۔ اس سلسلے کی بلندی کو سمجھنے کے لئےیہ جان لینا کافی ہے کہ اس میں 7,200 میٹر سے بلند 100 سے زیادہ چوٹیاں ہیں جبکہ اس سے باہر دنیا کی بلند ترین چوٹی کوہ اینڈیز میں واقع اکونکاگوا ہے جس کی بلندی صرف 6,962 میٹر ہے۔

دنیا کے بہت سے بڑے دریا جیسے سندھ ، گنگا ، برہم پتر ، یانگزی ، میکانگ ، جیحوں ، سیر دریا اور دریائے زرد ہمالیہ کی برف بوش بلندیوں سے نکلتے ہیں۔ ان دریاؤں کی وادیوں میں واقع ممالک افغانستان ، بنگلہ دیش ، بھوٹان ، بھارت ، پاکستان ، چین ، نیپال ، برما ، کمبوڈیا ، تاجکستان ، ازبکستان ، ترکمانستان ، قازقستان ، کرغیزستان ، تھائی لینڈ ، لاؤس، ویتنام اور ملائشیا میں دنیا کی تقریباً آدھی آبادی ، یعنی 3 ارب لوگ آباد ہیں ۔

ہمالیہ کا جنوبی ایشیا کی تہذیب پر بھی گہرا اثر ہے؛ اس کی اکثر چوٹیاں ہندو مت بدھ مت اور سکھ مت میں مقدس مانی جاتی ہیں۔ ہمالیہ کا بنیادی پہاڑی سلسلہ مغرب میں دریائے سندھ کی وادی سے لے کر مشرق میں دریائے برہمپترا کی وادی تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ برصغیر کے شمال میں 2,400 کلومیٹر لمبی ایک مہراب یا کمان کی سی شکل بناتا ہے جو مغربی کشمیر کے حصے میں 400 کلومیٹر اور مشرقی اروناچل پردیش کے خطے میں 150 کلومیٹر چوڑی ہے۔ یہ سلسلہ تہ در تہ پہاڑوں پر مشتمل ہے جن کی اونچائی جنوب سے شمال کی طرف بڑھتی جاتی ہے۔ تبت سے قریب واقع انتہائی شمالی سلسلے کو، جس کی اونچائی سب سے زیادہ ہے، عظیم ہمالیہ یا اندرونی ہمالیہ کہا جاتا ہے۔ ہمالیہ میں کم و بیش 15,000 گلیشیر ہیں جن میں تقریباً 12,000 مکعب کلومیٹر پانی ذخیرہ ہے۔ پاکستان اور بھارت کی سرحد پر واقع 70 کلومیٹر لمبا سیاچن گلیشیر دنیا میں قطبین سے باہر دوسرا طویل ترین گلیشیر ہے۔ قطبین کے باہر طویل ترین گلیشیر بھی ہمالیہ سے زیادہ دور نہیں، یہ تاجکستان کا فریڈشینکو گلیشیر ہے جس کی لمبائی 77 کلومیٹر ہے۔ ہمالیہ کے کچھ دوسرے مشہور گلیشیر گنگوتری اور یمنوتری گلیشیر( اتراکھنڈ)، نوبرا ، بیافو اور بالتورو گلیشیر(قراقرم) ، زیمو اور کھُمبو گلیشیر (ماؤنٹ ایورسٹ)ہیں۔

گرم علاقوں کے قریب واقع ہونے کے باوجود ہمالیہ کے بلند تر علاقے سارا سال برف سے ڈھکے رہتے ہیں۔ ان برف پوش چوٹیوں سے بہت سے دریا نکلتے ہیں جو موسمی دریاؤں کے برعکس سارا سال چلتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر دریا برصغیر پاک و ہند کے دو دریائی نظاموں میں سے کسی ایک میں شامل ہوجاتے ہیں:

دریائی نظام

مغربی دریا سندھ طاس کا حصہ ہیں جن میں دریائے سندھ سب سے بڑا ہے۔ دریائے سندھ تبت میں دریائے سینگے اور دریائے گار کے ملاپ سے وجود میں آتا ہے اور بھارت اور پاکستان سے گزرتا ہوا بحیرہ عرب میں گرتا ہے۔ اس کے معاونین میں جہلم ، چناب ، راوی ، بیاس اور ستلج کے علاوہ دوسرے بہت سے چھوٹے دریا بھی شامل ہیں

ہمالیہ کے دیگر دریاؤں کی اکثریت گنگا برہماپترا طاس میں شامل ہے۔ اس طاس کے سب سے بڑے دریا گنگا اور برہماپترا ہیں۔ برہماپترا مغربی تبت میں دریائے یارلنگ تسانگپو کی حیثیت سے شروع ہوتا ہے اور مشرق کی طرف سفر کرتا ہوا تبت اور پھر آسام کی وادیوں سے گزرتا ہے۔ گنگا اور برہماپترا کا ملاپ بنگلہ دیش میں ہوتا ہے جس کے بعد یہ دریا دنیا کا سب سے بڑا ڈیلٹابناتا ہوا خلیج بنگال میں گرتا ہے۔

دریائے سالوین ، میکانگ ، یانگزی اور ہو انگ ہو (دریائے زرد) بھی سطح مرتفع  تبت سے نکلتے ہیں تاہم تبت کے یہ حصے ارضیاتی طور پر کوہ ہمالیہ کا حصہ نہیں اور اس لئے ان دریاؤں کو ہمالیہ کے دریاؤں میں شمار نہیں کیا جاتا۔ تاہم کچھ ارضیات دان ان تمام دریاؤں کو مجموعی طور پر “حلقہ ہمالیہ دریا” کہتے ہیں

ان پہاڑوں میں سینکڑوں جھیلیں موجود ہیں۔ زیادہ تر جھیلیں 5000 میٹر سے کم بلندی پر واقع ہیں اور بلندی کم ہونے کے ساتھ ساتھ جھیلوں کی جسامت بھی کم ہوتی جاتی ہے۔ اس سلسلے کی سب سے بڑی جھیل پنگونگ تسو ہے جو بھارت اور چین کی سرحد پر واقع ہے۔ یہ 4600 میٹر کی بلندی پر ہے، چوڑائی 8 کلومیٹر اور لمبائی لگ بھگ 134 کلومیٹر ہے۔

اثرات

کوہ ہمالیہ کے برصغیر پاک و ہند اور سطح مرتفع تبت کے موسم پر انتہائی اہم اثرات ہیں۔ یہ پہاڑ سردیوں میں آرکٹک اور سائبیریا سے آنے والی انتہائی سرد اور خشک ہوا کو برصغیر میں داخل نہیں ہونے دیتے جس کے باعث برصغیر کا موسم نسبتاً گرم ہے۔ یہ مون سون کی ہواؤں کو بھی مزید شمال کی جانب جانے سے روکتے ہیں جس کے باعث جنوبی ایشیا کے علاقے میں خوب بارش ہوتی ہے۔ اس بارش کے باعث ہوا سے تمام نمی خارج ہوجاتی ہے اور جو ہوائیں ہمالیہ کو پار کرکے تبت تک پہنچتی ہیں، وہ وہاں بارش نہیں برساتیں۔ اسی وجہ سے سائنسدان سلسلہ کوہ ہمالیہ کو صحرائے ٹکلامکان اور صحرائے گوبی کی تشکیل کا باعث بھی سمجھتے ہیں۔

ہمالیہ میں، جسے دنیا کی چھت بھی کہا جاتا ہے ہے، قطبین کے علاوہ سب سے زیادہ گلیشئر پائے جاتے ہیں۔ ایشیا کے دس سب سے بڑے دریا اس سلسلے یا اس سے ملحقہ علاقوں سے نکلتے ہیں اور لگ بھگ ایک ارب لوگوں کی زندگی کا دارومدار ان دریاؤں پر ہے۔

image_printپرنٹ کریں