skip to Main Content
امۃ الباری ناصر۔امریکہ:حضرت سیدہ بشری بیگمؒ حرم حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ مہر آپا کی یاد میں

مامتا، چاندنی نور و نکہت، حیا جیسی اُس پیاری صورت کی یاد آئی ہے
وہ جو مخصوص تھی صرف میرے لئے اس محبت کی، شفقت کی یاد آئی ہے

صبر، قربانی، ہمت، وفا، حوصلہ اک اولوالعزم سے پا گئے تھے جِلا
اُن کی ہستی تھی منسوب جس ذات سے اُس امام اور امامت کی یاد آئی ہے

اُن کے اوصاف ہوتے رہیں گے بیاں تذکرہ فخر سے ہو گا تاریخ میں
مادرِ مہرباں، مہر آپا لقب، اُس سراپا سکینت کی یاد آئی ہے

جامعہ کی محافل کی رونق تھیں وہ اُن میں تھا اک اچھوتا سا ذوقِ ادب
اپنی باتوں میں رنگیں بشاشت لئے اس شگفتہ متانت کی یاد آئی ہے

ڈھل گئی دُھوپ تو سائے لمبے ہوئے ماند سی پڑ گئیں ساری رعنائیاں
چاند کے عین سر پہ تھا جب آفتاب اس کی شان و وجاہت کی یاد آئی ہے

ان کو پیاروں کے پیاروں کی قربت ملے اور رضائے الٰہی کی جنت ملے
اُٹھائے ہیں جب میں نے دستِ دعا پیارے مولا کی رحمت کی یاد آئی ہے

image_printپرنٹ کریں