skip to Main Content
سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کا دورہ امریکہ قسط نمبر 5

(بقیہ رپورٹ19؍اکتوبر2018ء دورہ حضور انور)

مہمانوں کے تاثرات

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے آج کے خطاب نے مہمانوں پر گہرا اثر چھوڑا اور بہت سے مہمانوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔

  • فلاڈلفیا شہر کے مئیر Jim Kennyنے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:۔

میرا جماعت کے افراد سے دو سال قبل رابطہ ہوا تھااس وقت یہ تعمیر ابتدائی مراحل میں تھی۔اب یہ بہت عمدہ اور خوبصورت عمارت بن چکی ہے۔یہ ایک بہت بڑی انویسٹمنٹ ہے۔یہ جگہ بہت ہی مناسب ہے۔میں جماعت کے بارے میں کہنا چاہتا ہوں کہ یہ خدمت کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ہم سب اور اس شہر کے باسیوں کو یہی خدمت کرنی چاہئے۔اگر اس بیت الذکرمیں آنے والے ہمارے آس پاس کے پڑوس میں لوگوں کو ان کے بچوں کو اچھا شہری بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور ان میں احساس ذمہ داری اور سنجیدگی قائم کر دیں تو یہ ہمارے شہر اور اس علاقہ کے لئے ایک بہت بڑی تبدیلی ہوگی۔

حضور انور سے مل کر بہت اچھا لگا۔آپ ایک عظیم روحانی شخصیت ہیں۔آپ وسیع النظر ہیں۔حضور کی موجودگی کا احساس ہی ہمیں یہ باور کرواتا ہے کہ یہ کتنی عظیم شخصیت ہیں اور اسی وجہ سے اللہ نے انہیں اس عظیم مقام کے لئے چُنا ہے۔حضور انور سے ملاقات بہت ہی شاندار رہی۔آپ نے فلاڈلفیا کے حالات اور حکومت کے حوالہ سے سوال کئے۔آپ نے یہاں کی انڈسٹری اور درآمدات کے حوالہ سے پوچھا۔زراعت کے حوالہ سے بات ہوئی۔تو آپ کو ہماری فکر تھی۔مئیر اور کونسل کے اختیارات کے حوالہ سے بات ہوئی۔حضور انور سے یہ تمام بات چیت بہت ہی دلچسپ رہی۔

اس ملک میں مذہبی آزادی ہے۔یہاں کئی مذاہب کے لوگ آباد ہیں۔میں ذاتی طور پر ایک خدا پر یقین رکھتا ہوں۔ہمارا کام یہ ہے کہ ہم سب مل کر معاشرہ کی بہتری کے لئے اپنی صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔میرا خیال ہے کہ خدا ہم سے یہی چاہتا ہے۔

یہاں پر آپ لوگوں نے بہت بڑی انویسٹمنٹ کی ہے، میرا خیال ہے کوئی چھ سات ملین ڈالر کی۔یہ ایک دوسرے کی مدد کرنے کی ایک روشن مثال ہے۔(۔)ایک دوسرے کی مدد کرنے میں بہت سخی ہیں۔آپ لوگوں میں دوسروں کی مدد کا جذبہ بہت مثالی ہے۔حضور انور کا پیغام بہت ہی شاندار ہے۔یہ امن پیار اور محبت ہی ہے، جس کے ذریعہ سے ہم مل کرترقی کر سکتے ہیں۔اور اس شہر کو مزید بھائی چارہ میں بڑھا سکتے ہیں۔ حضور انور کے پیغام سے میں بہت متاثر ہوا ہوں۔حضور انور بہت وسیع النظر ہیں، بہت شفیق اور بنی نوع انسان کی مدد کرنے والے انسان ہیں۔بہت متاثر کن شخصیت ہیں۔

  • کانگریس مینDroit Evansنے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا؛

حضور انور نے امن قائم کرنے کے حوالہ سے بہت ہی عمدہ پیغام دیا ہے۔بدقسمتی سے ہم امریکہ میں ایک تاریک دور سے گزر رہے ہیں اور ایسے دور میں یہ پیغام بہت شاندار تھا۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ (۔)کمیونٹی نہ صرف امریکہ بلکہ تمام دنیا کے لئے کتنی اہم ہے۔بطور کانگریس مین میں حضورِ انور کو دلی خوش آمدید کہتا ہوں۔

ہمیں مستقبل میں امید اور امن چاہئے۔فلاڈلفیا کے مذہبی آزادی کے حوالہ سے ایک اہمیت ہے اور یہ مقام آپ لوگوں کی بیت الذکر کے لئے ایک شاندار مقام ثابت ہوگا۔میں دل کی گہرائیوں سے حضور انور کو اور آپ کی جماعت کو اس بیت الذکر کی مبارک باد پیش کرتاہوں اور بطور یوایس کانگریس مین میں یہ کہتا ہوں کہ  میں ہر وقت آپ اور آپ کی جماعت کے ساتھ کھڑا ہوں۔حضور انور سے ملاقات بہت دلچسپ رہی۔خوارک کے حوالہ سے بات ہوئی۔میرا تعلق چونکہ زراعت سے ہے ، اس لئے فوڈ پالیسی پر بات ہوئی۔عالمی سطح پر یہ معاملہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔حضور انور سے اس حوالہ سے بات کر کے بہت خوشی ہوئی۔

  • اس پروگرام میں ایک ججHarry Schwartzبھی شامل ہوئے تھے۔اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں؛

یہاں مدعو کئے جانامیرے لئے بہت اعزاز کی بات ہے۔بہت سے احمدیوں سے ملاقات ہوئی ہے۔میں اس جماعت سے25سال سے واقف ہوں۔کئی سال سے یہاں کے لوکل صدر میرے اچھے دوست اورہمسائے ہیں۔کئی مرتبہ ان سے ڈنر پر مختلف مسائل پر بات ہوئی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ایک دوسرے کے مسائل حل کرنے کے لئے مل بیٹھنا بہت ضروری ہے۔حضور انور کی شخصیت بہت شاندار ہے۔آپ نے کئی جگہوں کا دورہ کیا ہے اور خطاب کیا ہے۔حضور انور کا محبت ہم آہنگی اور مل بیٹھنے کا پیغام اگر سمجھ لیا جائے تو میرے خیال میں ہم سب بہت بہتر حالت میں ہوں۔

  • فلاڈلفیا پولیس ڈیپارٹمنٹ سے ایک کیپٹن بھی اس پروگرام میں شریک تھے۔اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:۔

مجھے یہاں کیپٹن کے طور پر کام کرتے ہوئے دو سال ہوئے ہیں اور اس بیت الذکر کی تعمیر سات سال پر محیط رہی ہے۔ہمارے یہاں مختلف کمیونٹیز کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے قریب آئیں۔یہ بیت الذکر اس کمیونٹی کا ایک نیا رخ ہے۔میں دیگر پولیس کے افراد کے ساتھ یہاں اس لئے آیا ہوں کہ میں اپنی طرف سے یکجہتی کا اظہار کروں کہ ہم آپ لوگوں کے ساتھ ہیں اور دین حق اور یہاں کے مقامی افراد کے درمیان پُل کا کام کر رہے ہیں۔میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ یہ بیت الذکر یہاں رہنے والوں کے لئے کیا آفر کرتی ہے اور اس میں پولیس اپنا کیا مثبت کردار اداکر سکتی ہے۔ہم دیگر کمیونٹیز کے ساتھ مل کر کام کر رہے  ہیں اور اسی طرح بیت الذکر کے ساتھ بھی کام کریں گے۔اس بیت الذکر کے لئے جب بھی ہمیں بلایا گیا ہے، ہم نے بھر پور تعاون کیا ہے۔یہاں کی جماعت کی انتظامیہ بہت قابل ہے، ہمیں تو کچھ بھی نہیں کرنا پڑا، مقامی لوگوں سے رابطوں وغیرہ میں یہاں کی جماعت نے بہت اہم کردار اداکیا ہے۔

  • ایک خاتون نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

میں نے حضور انور کو بہت ہی منکسر المزاج پایا ہے۔آپ کا بولنے کا انداز بہت نرم ہے۔ہر ایک سے ملنے میں آپ بہت مہربان ہیں۔عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ ایسے اعلیٰ مقام پر پہنچ جاتے ہیں تو ان میں ایک دکھاوا آجاتا ہے۔حضور انور کی ذات اس سے بالکل پاک ہے۔آپ کی ذات میں بہت عاجزی پائی جاتی ہے۔ایک افریقن امریکن (۔)عبدالعزیز نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ:

یہاں بیت الذکر کی بہت ضرورت تھی۔یہ بہت اچھا سنٹر بن گیا ہے۔کہا جاتا ہے کہ ماحول کو بہتر کرنے کے لئے دس سال لگتے ہیں۔میں نے دو سال میں معاشرہ بہتر ہوتا دیکھا ہے۔جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر لگن ہو تو اکٹھے مل کر یہ کام کیا جاسکتا ہے۔حضور انور نے جو فرمایا ہے یہی وقت کی ضرورت ہے۔یہ ایک حیرت انگیز پیغام ہے۔آپ کی ہربات دل کو لگتی ہے۔

  • ایک افریقن امریکن خاتون نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔یہ اپنے چرچ کی ٹرسٹی بھی ہیں۔

یہاں پر ہم دیگر (۔)تنظیموں سے بھی رابطے کرتے ہیں لیکن رابطوں میں احمدیوں سے بڑھ کر کوئی نہیں۔یہ خود آگے بڑھ کر رابطے کرتے ہیں اور تعلقات استوار کرتے ہیں۔یہ ہمیں اپنے پروگراموں پر مدعو کرتے ہیں تاکہ ہم زیادہ سے زیادہ دین حق کے بارے میں سیکھ سکیں۔میں ایک عرصہ سے احمدیہ جماعت سے رابطہ میں ہوں۔یہ شاندار عمارت اس جماعت میں ایک بہت اچھا اضافہ ہے۔یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہر ایک کو مدعو کیا گیا ہے، ہر ایک اس بیت الذکر میں آسکتا ہے۔آپ لوگوں کا موٹو’محبت سب کے لئے،نفرت کسی سے نہیں‘بہت شاندار ہے۔یہ بہت گہر اسبق ہے۔یہ ہمارے نوجوانوں کو سکھاتا ہے کہ باہمی محبت کتنی ضروری ہے۔ہمارے معاشرے میںیہ بیت الذکر ایک بہت حسین اضافہ ہے۔

  • ایک افریقن امریکن خاتون حبیبہ مسلمہ صاحبہ نے کہا کہ اس علاقہ میں بیت الذکر کا اضافہ بہت ہی اچھاا قدام ہے۔اس سے ہمیں اکٹھے ہونے کا ایک مقام مل گیا ہے۔ایسی عمارتیں تو بہت ہوتی ہیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ کیا آپ ہر ایک کمیونٹی سنٹر میں کھلے دل سے قبول کرتے ہیں۔یہ دیکھ کربہت اچھا لگا کہ یہاں ہر ایک کو کھلے دل سے خوش آمدید کہا گیا ہے۔یہی اصل دین حق ہے۔اور یہی احمدیوں کی نمایاں خصوصیت ہے۔حضور انورکیتقریر بہت اچھی تھی۔اس سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔امید ہے کہ ہم اسے اپنی زندگیوں کا حصہ بھی بنائیں گے۔حضور انور کی شخصیت سے عاجزی جھلکتی ہے۔اگر حضورانور کے ارشادات پر عمل کریں تو ہم یقینا صراطِ مستقیم پر ہیں۔
  • ایک (۔)خاتون حانیہ اور ان کی والدہ بھی اس پروگرام میں شامل ہوئیں۔

کہتی ہیں کہ حضور انور کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ایک دوسرے سے مل کر بہت سی اچھی باتیں سیکھنے کو ملتی ہیں۔بیت الذکر کی تعمیر بہت ہی اچھا اقدام ہے۔جو پیغام آپ لوگوں نے دیا ہے اس کے ذریعہ سے دین حق کے خلاف پھیلائی جانے والی غلط فہمیوں کا ازالہ ہوگا۔بہت خوشی ہوتی ہے کہ (۔) کا ایک اور سنٹر بن گیا ہے۔لوگوں میں دین حق کے خلاف تعصب پایا جاتا ہے، جو کہ سراسر غلط ہے۔حضور انور کا پیغام بہت مضبوط تھا۔میں امید کرتی ہوں کہ حضور انور کا پیغام زیادہ سے زیادہ پھیلے اور امریکہ کے لوگ دین حق کی حقیقت جانیں۔آپ لوگوں کا بہت شکریہ، یہاں آکر بہت اچھا لگا۔

ایک لوکل کونسلر بھی اس پروگرام میں شامل ہوئے۔یہ اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں:۔

حضور انور کا امن کا پیغام بہت ہی ضروری تھا۔خاص کر موجودہ حالات کے تناظر میں یہ پیغام اور بھی زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔میرے لئے یہاں آنا بہت اعزاز کی بات ہے۔میں نے اس  بیت الذکر کو اپنے سامنے تعمیر ہوتے دیکھا۔یہاں اس بیت الذکر کا قیام اس علاقہ کے لئے بہت ہی برکت کا باعث ہے۔حضور انور نے جو یہ پیغام دیا ہے کہ آپ لوگ ہمسایوں کی ضرورت میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے، میرے خیال میں صرف یہاں فلاڈلفیا میں ہی نہیں تمام امریکہ میں اس پیغام کی ضرورت ہے۔حضور انور جو یہاں کے باسیوں کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے اور امید کا اظہار کیا ہے، میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ شہر بھائی چارہ کا شہر ہے اور یہ اس پیغام اور اس امید پر پورا اتریں گے۔

  • ایک غیر(از جماعت)امام بھی اس پروگرام میں شامل ہوئے تھے۔یہ اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:

میرا احمدیوں سے پہلا تعلق جماعت کی جانب سے کئے گئے قرآن کریم کے ترجمہ کی وجہ سے ہوا تھا۔یہ ترجمہ مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔حضور انور کا پیغام بہت ہی شاندار تھا۔میں حضور انور سے سو فیصدی اتفاق کرتا ہوں۔یہی ہمارا مشن اور ہمارا مقصد ہے۔ہم سب آدم کی اولاد ہیں اور ہمیں ایک دوسرے کامعیار زندگی بڑھانے کے لئے کوشش کرتے رہنا چاہئے۔ہم نے مل کر آنحضرت ﷺکے حقیقی پیغام کو پھیلانا ہے۔

  • ایک فلسطینی (۔)خاتون بھی اس پروگرام میں شامل تھیں۔یہ اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں:

یہاں مدعو کرنے کا بہت شکریہ۔یہ بہت خوبصورت بیت الذکر ہے۔مجھے آج آپ لوگوں سے مل کر بہت خوشی ہوئی ہے۔حضور انور کا پیغام بہت اہم تھا۔میرا تعلق فلسطین کے ایک چھوٹے سے گائوں سے ہے۔وہ حقیقی تعلیمات جو میں نے بچپن میں سیکھی ہیں، وہ آج حضور انور کے خطاب میں دیکھنے کو ملی ہیں۔یہی حقیقی دین ہے ، جس کا انہوں نے ذکر کیا ہے۔ہم جس بھی فرقہ سے تعلق رکھتے ہوں، ہمارا فرض ہے کہ امن کے لئے متحد ہو کر کام کریں۔حضور انور کی امن کے لئے خدمات بہت شاندار ہیں۔ہمسایوں کا خیال رکھو، مختلف رنگوں، فرقوں، مذاہب سے تعلق رکھنے کے باوجود ہم ایک خدا کو ماننے والے ہیں اور ہمیں بنی نوع انسان کی خدمت کرنے کے لئے متحد ہونا چاہئے، یہ ایک شاندار پیغام تھا۔آپ نے حقیقی رنگ میں تمام (۔)کمیونٹیز کی نمائندگی کی ہے۔

  • ایک سکول کی ڈائریکٹر خاتون بھی اس پروگرام میں شامل ہوئیں۔یہ کہتی ہیں کہ میرے لئے یہاں آنا ایک اعزاز کی بات ہے۔میں چار پانچ سال سے اس کی تعمیر کا انتظارکر رہی تھی، بالآخر یہ ایک بہت خوبصورت بیت الذکر بن گئی ہے۔

ایک مہمان نے کہا؛ہمارے معاشرے کے لئے سب سے اہم چیز اتحاد ہے۔یہی ہم لوگوں کو سمجھاتے رہتے ہیں کہ ایک ہوں۔الگ الگ ہونے میں نقصان ہے۔حضور انور کے اس پیغام کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے اور ہر وقت اسی ایک پیغام کا پرچار کرتے رہنا چاہئے۔سب سے ضروری چیز یہی ہے۔

  • ایک خاتون ٹیچر نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ یہاں آکر مجھے ایسا لگا کہ جیسے میں اپنے گھر میں ہوں۔حضور انور کا پیغام،امن کا پیغام بہت شاندار تھا۔گو کہ میں کیتھولک ہوں۔لیکن حضور انور کے ایک ایک لفظ سے اتفاق کرتی ہوں۔میں یقین سے کہتی ہوں کہ دین حق امن کا پیغام دیتا ہے۔دین حق خدمت انسانیت کا درس دیتا ہے۔میری سٹوڈنٹ ماریہ عرفان نے مجھے دعوت دی ہے، میں اس کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں کہ مجھے اتنے اچھے پروگرام میں بلایا۔ہمیں مل کر معاشرے کی بہتری کے لئے کام کرنا ہے۔ہمسایوں کے حوالہ سے حضور انور کا پیغام بہت ہی ضروری ہے۔بعض اوقات یہ کہا جاتا ہے کہ یہ باتیں تو معلوم ہیں، لیکن ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی نہ کوئی توجہ دلائے اور جب اتنی عظیم شخصیت توجہ دلائے تو ایک نئی روح پیدا ہو جاتی ہے۔میں آپ کا بہت شکریہ ادا کرتی ہوں۔

  • ایک آرکیٹکٹ Richardنے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

  مجھے مدعو کرنے بہت شکریہ۔میں حضور انور کے خطاب سے بہت متاثر ہوا ہوں۔آپ نے جو امن کا پیغام دیا ہے،یہ بہت ہی شاندار ہے۔آج کل کے حالات کی وجہ سے اس پیغام کی اہمیت اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔میرے لئے یہ پیغام اور بھی زیادہ اہم ہے کیونکہ میرا تعلق فلاڈلفیا سے ہی ہے۔یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ بالآخر یہ جگہ لوگوں سے بھر گئی ہے۔میں شروع سے اس عمارت سے وابستہ رہا ہوں،یہ عمارت میرے سامنے بنی ہے،خوشی ہے کہ اب یہ کاغذات سے نکل کر حقیقت کا روپ دھار چکی ہے۔ہر آرکیٹیکٹ کے لئے آخری پروڈکٹ دیکھنا بہت بڑی خواہش ہوتی ہے، چاہے وہ گھر ہو، کوئی میوزیم ہو یا کوئی عبادت کی جگہ۔مجھے آج اس عمارت کو دیکھ کر بہت خوشی ہو رہی ہے، یہ میرے لئے ایک بہت خوبصورت انعام ہے۔اب یہ ڈیزائن کے فیز سے نکل کر عملی شکل میں آچکی ہے اور اب یہ معاشرے میں ایک مثبت کردار ادا کرتی رہے گی۔مجھے بہت خوشی ہے کہ میں اس عظیم عمارت کی تعمیر کا حصہ رہا ہوں۔

  • ایک پروفیسر جو اپنی یونیورسٹی کی پریذیڈنٹ کی نمائندگی کر رہے تھے، اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

میرے لئے یہ بہت ہی شاندار موقع تھا۔میں نے یہ بات نوٹ کی کہ جیسے ہی حضور ہال میں تشریف لائے ایک عجیب سا سکون محفل پر طاری ہوگیا۔میں بالکل حضور کے نزدیک بیٹھا ہوا تھا اور حضور کے بھائی جو یہاں امیر ہیں ،ان کے بھی قریب تھا۔یہ قرب ایسا تھا کہ جیسے میں جنت میں ہوں۔اس قرب میں بہت جلال اور مضبوطی تھی۔ حضور کا طرز کلام ایسا دلنشیں ہے کہ ہر لفظ روح میں اُترتا معلوم ہوتا تھا۔مجھے یہ بھی موقع ملا کہ میں حضور سے مختصر سی بات کر سکوں۔میں نے حضور کو بتایا کہ میں کبابیر بھی گیا ہوں اور وہاں پر بھی حیفا میں جماعت کی بیت الذکر دیکھی ہے اور احمدیہ جماعت سے ملا ہوں۔یہ میرے لئے بہت اچھا تجربہ تھا۔میں جرمن لٹریچر کا پروفیسر ہوں۔میں نے حضور سے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ میں حضور کے اگلے جلسہ جرمنی میں بھی شامل ہونا چاہتا ہوں۔مجھے بہت خوشی ہوئی جب حضور نے فرمایا کہ میں ضرور شامل ہوں۔مجھے جذباتی طور پر اس مختصر سے مکالمے نے بہت متاثر کیا ہے۔مجھے یہاں آکر بہت خوشی ہوئی۔

حضور انور نے جو ہمسایہ کی تعریف کی ہے۔مجھے یہ بہت اچھا لگا ہے۔میری یونیورسٹی یہاں سے ایک میل کے فاصلہ پر ہے۔میرے لئے یہ بہت حیران کُن تھا کہ یونیورسٹی کے پریذیڈنٹ نے اپنا پیغام بھجواتے ہوئے کہا کہ اب ہم ہمسائے ہیں، آئیں ہم مل کر طلباء اورفلاڈلفیا کے لوگوں کے اتحاد کے لئے کام کریں۔جب حضور نے یہی مضمون بیان کیا تو مجھے سمجھ آئی کہ یہی حقیقت ہے اور ایک دوسرے سے رابطہ رکھنے سے کیا مراد ہے۔حضور انور نے جو اس شہر کے لوگوں کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے ان کا تعلق اب سے نہیں بلکہ آنے والے وقت سے ہے۔ایک چیز جو میں نے حضور انور میں دیکھی ہے وہ یہ ہے کہ وہ صرف موجودہ وقت کی بات نہیں کر رہے ہوتے، بلکہ ان کی نظر آنے والے وقت پر ہوتی ہے۔انہوں نے آنے والے تک بھی فلاڈلفیاکے لئے برکتیں چھوڑی ہیں۔میں کہنا چاہتا ہوں کہ حضور انور نے یہاں ایک بیج بو دیا ہے، اب یہ ہمارا کام ہے کہ اس کی نگہداشت کریں اور اسے بڑھائیں اور اس کو بھائی چارہ اور محبت کے مضبوط درخت میں تبدیل کریں۔

  • ایک خاتون نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ:

حضور انور نے جو یہ فرمایا ہے کہ ہم آپ لوگوں کے آنسو پونچھیں گے۔کتنے لوگ ہیں جو یہ کہہ سکتے ہیں۔یہ بہت حیرت انگیز تھا۔میں اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکی۔اپنا پیغام دینے کے لئے ضروری نہیں ہے کہ اونچی اور جوشیلی تقریر ہو، وہ پیغام آپ نے بہت ہی محبت اور پیار ے انداز میں دے دیا۔آپ کی موجودگی ہی حیرت انگیز اثر رکھتی ہے۔کم از کم میرے لئے تو آپ کی موجودگی ہی کافی ہے۔آپ کی خاموش موجودگی ہی سب کچھ کہہ دیتی ہے اور یہ خاموشی جوشیلی تقریروں سے بہت زیادہ اثر رکھنے والی ہے۔یہ موجودگی بہت پرُسکون ہے۔حضور انور نے فرمایا ہے کہ ضرورت پڑنے پر ہرممکنہ مدد کے لئے تیار ہوں گے۔میں نے کوئی رہنما ایسا نہیں دیکھا۔چاہے کوئی سیاسی لیڈر ہو،مذہبی ہو یا کوئی بھی۔ہمارے پاس ایسا کوئی لیڈر نہیں۔حضور کی موجودگی میں ایک عجیب سکون ہے۔میرا یقین کریں، یہ بہت عجیب احساس ہے۔آپ نے مجھے یقین دلادیا ہے کہ آپ میری پریشانی اور ضرورت کے وقت میرے ساتھ ہوں گے۔میری بہت ہی خوش قسمتی ہے کہ میں یہاں آئی ہوں۔

  • ایک لوکل خاتون اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ:

یہ میرے لئے بہت اعزاز کی بات ہے کہ میں اس پروگرام میں شریک ہوئی۔میں خواتین کی طرف گئی اور صرف چند منٹ وہاں گزاررے اور بہت متاثر ہوئی۔حضور انور کا پیغام بہت ہی شاندار تھا۔مجھے مدعو کرنے کا بہت شکریہ ۔حضور انور کا خطاب تمام ضروری باتیں اپنے اندر لئے ہوئے تھا۔آپ لوگوں کا موٹو’محبت سب کے لئے ،نفرت کسی سے نہیں‘ایک عالمی پیغام ہے اور یہی وقت کی ضرورت ہے۔

ایک مہمان نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:حضور انور کے کلام میں بہت تاثیر ہے۔حضور نے پیغام دیا ہے کہ وہ اور ان کی کمیونٹی ہر وقت لوکل کمیونٹی کی مدد کے لئے تیار ہے۔یہ ایک بہت شاندار پیغام ہے۔حضور کو دیکھنا ایک بہت اچھا تجربہ تھا۔

  • ایک خاتون نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ :

خلیفہ نے جو پیغام دیا ہے وہ ہمارے معاشرے کے لئے بہت ضروری ہے۔لوگ جس ملک میں رہتے ہیں،جہاں ٹیکس ادا کرتے ہیں،جہاں ان کے بچے پرورش پاتے ہیں، وہ ایسا ملک نہیں ہونا چاہئے جہاں کسی بھی قسم کا معاشرے میں خوف ہو۔اس لئے خلیفہ کا امن کا پیغام ہمارے لئے اور ہمارے معاشرے کے لئے ایک امید کی کرن ہے۔یہ پیغام بہت اہم ہے ہم سب کو اس مقصد کو اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔اس ماحول میں محبت اور امن پھیلانا بہت اہم اقدام ہے۔یہاں آکر بہت خوشی ہوئی ہے۔آپ لوگوں کا بہت شکریہ۔

  • ایک مہمان نے کہا کہ :

خلیفہ کا امن کا پیغام بہت اہم تھا۔آپ نے فرمایا ہے کہ ایک دوسرے سے محبت کرو۔یہی امن کا منبع ہے۔اگر ایک دوسرے سے محبت کریں گے ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں گے تو امن قائم ہوجائے گا۔یہ بہت اہم پیغام ہے۔یہ پروگرام بہت آرگنائزڈ تھا۔دعوت دینے کا بہت شکریہ۔

  • ایک مہمان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ:

مجھے افسوس ہوا ہے کہ خلیفہ کو یہاں آکر اس قسم کا پیغام دینا پڑا ہے کہ دین حق سے یہاں کے پڑوسیوں کو کوئی خطرہ نہیں۔بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ اس حدتک گراوٹ کا شکار ہو چکا ہے کہ یہاں آکر آپ کو یہ کہنا پڑا ہے کہ آپ ہمسایوں کاخیال کریں گے اور محبت پھیلائیں گے۔

  • ایک اور مہمان نے کہا:

بطور عیسائی میں محبت پر یقین رکھتا ہوں۔میں اس جماعت کو تیس چالیس سال سے جانتا ہوں۔یقینا یہ ہمارے لئے افسوس کا مقام ہے کہ خلفیہ کو یہ پیغام دینا پڑا ہے۔میں یقین رکھتا ہوں کہ جو لوگ یہاں آئیں گے، وہ خدا کی محبت حاصل کریں گے،امن قائم کریں گے اور لوگوں کی خدمت کریں گے۔حضور انور کی آمد سے یہاں برکت نازل ہوئی ہے۔

  • ایک مہمان نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

یہاں آنے سے قبل میں حضور انور کو نہیں جانتا تھا۔اب میں آپ سے مل چکا ہوں۔آپ ایک عالمی لیڈر ہیں اور آپ کی شخصیت انتہائی متاثر کن ہے۔میں نے آپ کے الفاظ سنے ہیں، آپ کی سوچ دیکھی ہے، یہ بہت ہی عظیم شخصیت ہیں اور دنیا کو مزید خوبصورت بنانے کے لئے بہت ہی عظیم پیغام لے کر آئے ہیں۔ہم سب کو اس پیغام کو اپنانا چاہئے۔آج  کی دنیا میں یہ پیغام بہت ہی شاندار اور ضروری ہے۔برداشت، ہم آہنگی، ایک دوسرے کو بہتر انداز میں جاننے کی کوشش کرنا،یہ بہت مضبوط پیغام ہے۔

  • Convery (Inspector Philadelphia Polic Department) – نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

ہمارے شہر اور معاشرہ میں امن کے قیام کی خاطر جماعت احمدیہ کی طرف سے پولیس کے ساتھ مل کر کام کرنے کی کوشش نہایت ہی خوشی کا باعث ہے۔جماعت احمدیہ کے خلیفہ کا خطاب سن کر ہال میں بیٹھا ہر شخص محسوس کررہا تھا کہ جیسے یہ خطاب اسی کے لئے ہے۔

  • Ryan Barksdale (Community Realtions Officer) PPDنے کہا

آپ کی جماعت کی طرف سے مدعو کئے جانے پر نہایت خوش ہوں۔ہمارے شہر میں آپ کی اس بیت الذکر کا افتتاح اور دین حق کے خلیفہ کا ورود مسعود نیز ان کا خطاب بے شک ایک تاریخی امر ہے اور آج ہم بھی اس تاریخی واقعہ کا مشاہدہ کر کے امن کی اس تاریخ کا حصہ بن گئے ہیں جو ہماری آنکھوں کے سامنے رونما ہو رہی ہے۔

  • Hajja Kiniaya Sharrieffنے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

میں اس سے قبل غانا، سالٹ پونڈ کے قریب جماعت احمدیہ کی بیت الذکر اور سکول دیکھ چکی ہوں۔آج جماعت احمدیہ کے خلیفہ کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے۔حضور کا خطاب ایک جامع اور نہایت ہی پر کشش خطاب تھا۔آپ کے خطاب میں خاص طور پر ان لوگوں کوبھی مخاطب کیا گیا ہے جو کہ غیر(۔) اور دین حق کے متعلق کچھ خاص نہیں جانتے۔آپ کی بیت الذکر بھی بہت خوبصورت ہے۔نیز آپ کی جماعت کی طرف سے تمام مہمانوں کو جو اعزاز و اکرام کے ساتھ نوازا گیا ہے اس نے بھی میرے دل پر کافی گہرا اثر چھوڑا ہے۔

  • Queen Samiyah Mu’elنے کہا:

آپ کی بیت الذکر بہت خوبصورت ہے اور ہمارے شہر کے وسط میں شہر کی زینت کو دوبالا کرنے کا باعث بن گئی ہے۔میرا تعلق سینیگال کے ایک صوفی مکتبہ فکر سے ہے۔لہٰذا جب آپ کے خلیفہ کا خطاب سنا تو ان کی ہر بات نے دل پر گہرا اثرکیا ہے آپ کی جماعت کی مہمان نوازی نے بھی میرے دل پر ایک نہایت گہرا اثر چھوڑا ہے۔

  • Ibrahim Branhamنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا؛

آپ کی جماعت کے رفاہی کام نیز حکومت کے اعلیٰ افسران کے ساتھ آپ کے تعلقات کی عکاسی ان افسران کی یہاں موجودگی سے ظاہر ہے۔نیز ہر قسم کے طبقہ سے لوگ یہاں دیکھ کر دل پرمسرت ہوگیا ہے۔میں نے جماعت احمدیہ کے خلیفہ کو پہلی دفعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔آپ کے خلیفہ کی شخصیت نہایت پروقار اور بارعب ہے۔نیز ان کاخطاب ہر اس شخص کو جو اپنی ذات میں امن و آشتی کا خواہاں ہے ضرور اپنی طرف کھینچے گا۔آپ کے خلیفہ کی ہمارے شہر میں آمد بے شک ہمارے شہر کی imageکو دنیا کے سامنے بہتر کر کے پیش کرنے میں بہت بڑا کردار ادا کرے گی۔

  • Roseanna Newoodنے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

خلیفہ کا خطاب سمجھنے کے لحاظ سے نہایت ہی سہل تھا۔صاف معلوم ہوتا تھا کہ الفاظ دل کی گہرائیوں سے نکل کر سامعین کے دل میں داخل ہورہے تھے۔میں امید کرتی ہوں کہ جماعت احمدیہ کی یہ خوبصورت بیت الذکر ہمارے شہر میں خوشحالی کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔آپ کی جماعت نے ہمارے شہر کو ایک نئی امید عطاکی ہے جس کے لئے ہم دل سے آپ کی جماعت کے مشکور ہیں۔

  • Diane Bridgesنے بیان کیا:

جماعت احمدیہ کے خلیفہ کا پیغام ایک مثبت پیغام ہے اور اپنی ذات میں منفرد بھی ہے کیونکہ آج کے دور میں بہت کم ایسے لوگ ہیں جو دل کی گہرائی سے امن کے خواہاں ہیں اور اپنے عمل سے اس کا پرچار کر کے دنیا میں امن قائم کر رہے ہیں۔

  • Bernard Smithنے کہا:

میری عمر85سال ہے اور اپنی زندگی میں پہلی بار خلیفۃ المسیح کو دیکھ کر اور ان کا روح پرور خطاب سن کر بہت متاثر ہوا ہوں۔میں امید کرتا ہوں کہ خلیفۃ المسیح کا خطاب ہمارے شہر کے مکینوں کے لئے اُمید سحر لے کر طلوع ہوگا۔آپ کی بیت الذکر بھی بہت خوبصورت ہے۔میں درحقیقت آپ کی بیت العافیت کے قریب ہی رہتا ہوں اور اس بیت الذکر کی تعمیر میری آنکھوں کے سامنے تکمیل کو پہنچی ہے۔اس کی تکمیل کو دیکھ کرنہایت خوشی محسوس کر رہا ہوں۔

  • Sister sylvia Strahlerنے کہا:

میں پاکستان میں کیتھولک کمیونٹی کے میڈیکل مشن کے ساتھ 52سال کام کر چکی ہوں۔آپ کے رہنما کی تقریر سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آپ لوگ معاشرہ میں امن کے قیام کے لئے نیز غربت دور کرنے کے لئے ہروقت تیار ہیں۔خدا  آپ کی مدد کرے تا آپ معاشرہ میں امن کے قیام میں اپنا اہم کردار ادا کرسکیں۔

  • Terry Guerraنے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

میں نے آج پہلی مرتبہ جماعت احمدیہ کے پروگرام میں شرکت کی ہے اور آج آپ کے خلیفہ کی تقریر سن کر میں اس نتیجہ پر پہنچی ہوں کہ آپ لوگ دین حق کے نہایت ہی اچھے سفیر ہیں۔میں چونکہ مذہباًکیتھولک عیسائی ہوں لہٰذا آپ کے خلیفہ کا خطاب سن کر یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے ہماری کیتھولک کمیونٹی کے پوپ خطاب کر رہے ہیں۔آج میں اس نتیجہ پر پہنچی ہوں کہ گو ہمارا مذہب آپ کے مذہب سے مختلف سہی لیکن دونوں مذاہب کے درپردہ ایک ہی روح کار فرما ہے۔

  • Sister Maria Hornungنے بیان کیا:

میں آپ کی کمیونٹی سے پہلے سے متعارف ہوں۔میں غانا میں اس وقت کیتھولک مشن کے ساتھ کام کرچکی ہوں جب آپ کے خلیفہ غانا میں خدمت بجا لارہے تھے۔لہٰذا آج آپ کی بیت الذکر میں آکر آپ کے خلیفہ کی تقریر سن کر مجھے یہ احساس ہوتا تھا گویا میں اپنے ہی گھر میں ہوں۔جس خوبصورت انداز میں آپ کے خلیفہ نے خطاب فرما کر اپنے پختہ عزم کا ہمارے شہر کے لئے اظہار کیا ہے یقینا ہمارے دلوں میں دیر تک رہے گا۔ 

image_printپرنٹ کریں