skip to Main Content
سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کا دورہ امریکہ قسط نمبر 4

خطاب حضور انور

اس کے بعد 6بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے انگریزی زبان میں مہمانوں سے خطاب فرمایا۔حضور انور کے خطاب کا اردو ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے تشہد، تعوذ اور تسمیہ کے ساتھ اپنے خطاب کا آغاز فرمایا۔اس کے بعد فرمایا:۔

تمام معزز مہمانان !السلام علیکم …آپ سب پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی، رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔سب سے پہلے تو میں اپنے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جنہوں نے ازراہ شفقت ہماری دعوت قبول کی اور ہمارے ساتھ اس اہم اور پُر مسرت تقریب میں شامل ہوئے جس کے ذریعہ ہم اس شہر میں ا پنی (بیت الذکر)کا افتتاح کر رہے ہیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:۔

    یہ زندگی کی ایک حقیقت ہے کہ بنی نوع انسان ایک ایسی مخلوق ہے جس کی بقا ایک دوسرے کے ساتھ سماجی اور باہمی تعلقات قائم کئے بغیر ممکن نہیں ہے۔رنگ ونسل اور تمدنی و مذہبی تضادات کو بالا رکھتے ہوئے ہم بحیثیت انسان متحد ہیں۔اس لئے یہ بات بہت اہمیت کی حامل ہے کہ ہم اپنے آپ کو دوسروں سے الگ رکھنے یا صرف اپنی ہی کمیونٹی کے افراد سے تعلق رکھنے کی بجائے  دوسروں کے ساتھ بات چیت کریں۔ڈائیلاگ ہر لحاظ سے بہت اہمیت کا حامل ہے۔رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے ،ایک دوسرے کو سمجھنے اور جاننے کے لئے، معاشرے کے ارتقاء اور ترقی کے لئے اور امن اور یکجہتی کی فضاء پیدا کرنے کے لئے لوگوں اور مختلف کمیونٹیز کے درمیان باعزت طریق پر بات چیت کرنا نہایت اہم ہے۔اس لئے میں آپ سب کا بہت احترام کرتاہوں کہ آپ لوگ اپنی مصروف زندگی میں سے وقت نکال کر آج یہاںآئے۔آپ میں سے اکثر نے(بیت الذکر) نہ ہونے کے باوجودہماری دعوت قبول کی اور خالصتاً ایک مذہبی تقریب جس کے ذریعہ ایک (بیت الذکر)کا افتتاح کیا جارہا ہے اس میںشامل ہوئے۔اس لئے میں آپ لوگوں کے اندر ایک

دوسرے کے لئے پائی جانے والی برداشت اور احترام کے اعلیٰ معیاروں کی تعریف کئے بغیر آگے نہیں جاسکتا۔

حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:۔

جہاں آپ کی اس تقریب میں شمولیت ظاہر کرتی ہے کہ آپ لوگ ہماری جماعت کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کے خواہاں ہیں وہاں یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آپ لوگ ہمارے مذہب کو بہتر طور پر جاننا چاہتے ہیں۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ آپ وہ لوگ ہیں جو ادھر اُدھر کی سنی سنائی باتوں پر اندھا یقین نہیں کرنا چاہتے۔آج کل کے افواہوں کے دور میں آپ لوگوں کی (دین حق)کے متعلق سچائی جاننے کی خواہش قابل تعریف ہے۔میڈیا جو(دین حق)کے بارہ میں کہتا ہے یا بعض(دین حق)مخالف قوتیں جس طرح(دین حق) کی تصویر دنیا کے سامنے پیش کرتی ہیں اسے من وعن ماننے کی بجائے آپ لوگ خود یہاں دیکھنے آئے ہیں کہ (دین حق)کا اصل مطلب کیا ہے اور (دین حق) کیا تعلیمات پیش کرتا ہے، اس لئے میں آپ کو خراجِ تحسین پیش کرتاہوں اور آپ لوگوں کا شکریہ ادا کرتاہوں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:۔

آپ سب جماعت احمدیہ کے ماٹو یا نعرہ’محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں ‘سے بخوبی واقف ہوں گے۔یہ ماٹو کوئی نئی چیز نہیں ہے یا یہ ہماری کوئی نئی ایجاد نہیں ہے بلکہ اس نعرہ کی بنیاد (دین حق )کی مقدس کتاب قرآن کریم کی تعلیمات ہیں اور وہ تعلیمات ہیں جو بانیٔ اسلام رسول کریم ﷺنے ہمیں دیں۔ابتداء سے ہی (دین حق)نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ باہمی عزت و احترام اور باہمی برداشت بنیادی انسانی اقدار ہیں۔مثال کے طور پر قرآن کریم کی سورۃ الانعام کی آیت 109میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ(۔)غیر مذہبی لوگوں کے بتوں کو برا بھلا نہ کہیں کیونکہ اس کے رد عمل میں وہ بھی اللہ تعالیٰ کو برا بھلا کہیںگے۔پس بات کی یقین دہانی کے لئے کہ آپس میں موجود تنائو کو ہوا نہ دی جائے اور معاشرہ کو نفرت اور عداوت سے بچانے کے لئے (۔)کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ہمیشہ حوصلہ اور برداشت کا مظاہرہ کریں۔پس یہ جو اکثر اعتراض کیا جاتا ہے کہ (۔) دوسرے مذاہب اور مذہبی شخصیات کا احترام نہیں کرتے وہ حقیقت سے عاری ہے۔دراصل قرآن کریم کی تعلیمات کی بناء پر(۔) یہ یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء کو دنیا کی تمام قوموں کی طرف ان کی ہدایت اور اصلاح کی غرض سے بھیجا گیا تھا۔ہمارا تمام انبیاء کی سچائی پر پختہ ایمان ہے اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ تمام انبیاء بنی نوع انسان کو خدا تعالیٰ کی طرف بلانے کے لئے اورا خلاقیات سکھانے کے لئے اور آزادی ضمیر،عدل و انصاف اور انسانی ہمدردی جیسی عالمی اقدار کو قائم کرنے کے لئے بھیجے گئے تھے۔پس ان باتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہمارے لئے یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم دیگر مذاہب کے پیرو کاروں کا احترام نہ کریں۔اس لئے ہم احمدی (۔) اپنے اس دعویٰ میں مخلص ہیں کہ ہم کسی سے نفرت نہیں کرتے۔

حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:۔

پھر مزید یہ کہ ہم تمام بنی نوع انسان سے حقیقی محبت کرتے ہیں اور دوسروں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔مثال کے طور پر گزشتہ سال یہاں فلاڈلفیا میں ایک مقامی یہودی قبرستان پر جب حملہ کیا گیا اور ان کی قبروں کی بے حرمتی کی گئی تو اس قابل نفرت حرکت کے بعد جماعت احمدیہ کے مقامی لوگ فوری طورپر یہودی کمیونٹی کی مدد کے لئے پہنچے اوریہودی کمیونٹی کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ان چیزوں کے بدلہ میں ہمیں کسی انعام یا شکریہ کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ ہم تو صرف اُنہی تعلیمات کی پیروی کر رہے ہوتے ہیں جو ہمارے مذہب نے ہمیں سکھائی ہیں اور یہ تعلیمات یہی ہیں کہ جب دیگر مذاہب یا عقیدہ کے لوگ مشکلات میں مبتلا ہوں تو ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہوا جائے۔

حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:۔

ہم تمام بنی نوع انسان کے حقوق کی مکمل ضمانت دیتے ہیں تاکہ وہ بغیر کسی تعصب اور امتیازی سلوک کے اپنی زندگیاں گزار سکیں۔جو بھی بغیر کسی تعصب کے اور مکمل ایمانداری سے (دینی) تاریخ کا مطالعہ کرے وہ دیکھے گا کہ مذہبی آزادی ہمیشہ (دین حق)کا بنیادی اصول رہی ہے۔

درحقیقت عرب کے شہر مدینہ میں،جہاں رسول کریم ﷺنے مکہ میں سالہاسال مظالم کا سامنا کرنے کے بعد اپنے پیروکاروں کے ساتھ ہجرت کی، جو حکومت بنائی گئی اس میں اس قسم کے Pluralismاور وسعت قلبی کا عملی اظہار دیکھنے کو ملا۔پیغمبر اسلام  ﷺنے دیگر مذاہب کے رہنمائوں اور کمیونٹیز کے ساتھ ایک معاہدہ طے کیا جو ایک ایسے شہر میں حکومت کی بنیاد بنا جہاں مختلف قومیں آباد تھیں۔اس معاہدہ نے اس بات کی ضمانت دی کہ معاشرے کے تمام افراد بغیر کسی ظلم کے امن کے ساتھ رہ پائیں گے اور انہیں اپنے اپنے مذاہب اور عقائد پر عمل کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہوگی۔مزید یہ کہ اس دور کے رسم و رواج کے مطابق ہر کسی کمیونٹی اپنے اپنے مذہبی یا قبائلی قانون پر عمل کرنے کی پابند تھی۔چنانچہ(۔)(دینی)شریعت کے قانون پر عمل کرتے تھے اور یہودی تورات کے قانون کے پابند تھے اور باقی کمیونٹیز اپنے اپنے عقائد اور رسوم و رواج کے مطابق پابند تھیں۔اس وقت تمام لوگ قطع نظر مذہب و ملت کے قیام امن اور دوسروں کا احترام کرنے کے ذمہ دار تھے۔اس معاہدہ نے امن کو فروغ دیا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ بُرد بار اور پُر تحمل معاشرہ قائم ہو۔پس چودہ سو سال قبل مدینہ کے اندر ایک کثیر الجہتی اور مختلف ثقافتوں پر مشتمل معاشرہ پر مبنی ایک کامیاب حکومت چلائی گئی۔

حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:۔

میں یہ تجویز نہیں دے رہا کہ آج معاشرے میں رہنے والے مختلف لوگوں یا قوموں کی سطح پر رائج بے شمار قوانین کو یکجا کر دیا جائے۔بلکہ میرا پوائنٹ صرف اتنا ہے کہ ہماری اولین ترجیح یہ ہونی چاہئے کہ عالمی انسانی اقدار کو قائم کرتے ہوئے اور عدل و انصاف اور اخلاقیات کو فروغ دیتے ہوئے معاشرے میں امن کا قیام ہو۔اس کی مزید وضاحت کے لئے قرآن کریم اور رسول کریم ﷺنے بڑے واضح رنگ میں بیان فرمایا ہے کہ مذہبی معاملات میں کسی قسم کا کوئی جبر وا کراہ نہیں ۔ہر ایک کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی سے جو چاہے راستہ اختیار کرے اور مذہب ہر ایک کے دل و دماغ کا معاملہ ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:۔

اسی طرح(دین حق)تعلیم دیتا ہے کہ مذہب و اعتقاد کے اختلاف کے باوجود ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ پرُ امن رہے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ وہ کسی ایسے عمل کا حصہ نہیں ہے جو معاشرے کے امن کو خراب کرنے والی ہے۔(دین حق)کہتا ہے کہ تمام افراد قانون کے پابند ہوں اور ریاست کے وفادار شہری ہوں اور اس کی ترقی اور استحکام میں حصہ ڈالنے والے ہوں۔اگر آپ میں سے کسی کے ذہن میں اس نئی (بیت الذکر) کے حوالہ سے کوئی بھی تحفظات ہوں اور یہ خدشہ رکھتے ہوں کہ (۔)اس (بیت الذکر) کو باقی معاشرے کے خلاف کسی خفیہ پلان اور سکیم کا ذریعہ بنائیں گے اور نفرت پھیلانے کا باعث بنائیں گے تو یقین رکھیں کہ ایسی کسی بھی بے چینی رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔یہ یقین رکھیں کہ اس عمارت سے صرف محبت پیار اور بھائی چارہ کا پیغام پھیلے گا۔

حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:۔

اس حوالہ سے میں مختصراً (بیت الذکر)کی تعمیر کے مقاصد بیان کرتا ہوں۔(بیت الذکر)کی تعمیر کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ(بیت الذکر)اکٹھے مل کر باہمی محبت اور اتحاد کی فضاقائم کرتے ہوئے، خدائے واحد کی عبادت کریں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے عبادت کرنے کا حکم دیا ہے۔پھر(بیت الذکر)کا دوسرا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بنی نوع انسان کی خدمت کا ایک مرکز قائم کیا جائے۔ہر عبادت کرنے والے کی ایک اہم ذمہ داری یہ ہے کہ وہ معاشرے کے تمام دیگر افراد کے حقوق ادا کرے۔چنانچہ ایک حقیقی (بیت الذکر) محبت، ہمدردی اور اتحاد کا گہوارا ہے۔

حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:۔

احمدیہ(بیت الذکر)جماعت کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ دنیا میں جہاں بھی ہم نے (بیت الذکر)قائم کی ہیں، جو لوگ ان(بیت الذکر)میں عبادت کرتے ہیں، وہ دیگر شہریوں سے ہمدردی، محبت اور خلوص میں پہلے سے بڑھ کر ترقی کرتے ہیں۔اگر ہماری(بیت الذکر)کسی بات پر احمدیوں کو اکساتی ہیں تو انتہا پسندی یا دہشت گردی نہیں بلکہ صرف بنی نوع انسان کی خدمت پر اور اس بات پر اکساتی ہیں کہ ہم اپنے دل دیگر لوگوں کے لئے کھولیں۔ہماری (بیت الذکر)معاشرے میں ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنے اور بھائی چارہ پیدا کرنے کے حوالہ سے ہمارے عزم کو مزید تقویت دیتی ہیں اور معاشرے سے ہر قسم کی نفرت، انتہا پسندی اور تقسیم کو ختم کرنے میں ممد ہیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:۔

یہ شہر اپنے بھائی چارہ کی وجہ سے مشہور ہے اور یقینا ہماری یہ نئی (بیت الذکر)اس بات کی علامت ہے اور ہمارے اس عزم کا اظہارہے کہ ہم اس شہر میں اور گرد و نواح میں محبت ،بھائی چارہ ہم آہنگی پھیلانے کی خاطر پہلے سے بڑھ کر کوشش کریں گے۔

یہ دعویٰ کرنا تو بہت آسان ہے، لیکن ہماری تاریخ ثابت کرتی ہے کہ یہ دعوے کھوکھلے نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی ہیں۔ہم آج تک یہی کوشش کرتے آئے ہیں کہ ہم جو(دعوت الیٰ اللہ)کرتے ہیں وہ کر کے بھی دکھائیں۔پس میں یقینا پُر اعتماد ہوں کہ مقامی افراد جلدہی اعتراف کر لیں گے کہ یہ (بیت الذکر)جسے بیت العافیت کا نام دیا گیا جس کا لفظی معنی ہی حفاظت کرنے والا گھر ہے یہ تمام معاشرے کے لئے حقیقی امن کا باعث بنے گی۔

حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:۔

اس کے علاوہ میں یہ بات بھی بالکل واضح کر دینا چاہتاہوں کہ امن کے لئے اور خدمت انسانیت کے لئے ہمارا عزم کلیۃً ہمارے دین اور مذہبی تعلیمات کی وجہ سے ہے۔

بانی جماعت احمدیہ جنہیں ہم مسیح موعود و مہدی معہود تسلیم کرتے ہیں نے دعویٰ فرمایا کہ آپ مسیح (موعود)ہیں اور فرمایا کہ آپ موسیٰؑ کے بعد آنے والے مسیحؑ کے امن پسندطریق پر عمل پیرا ہیں اور یہ اعلان فرمایا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو عظیم مقاصد دے کر بھیجا گیا ہے۔

پہلا یہ کہ بنی نوع انسان کو اپنے خالق کی طرف لے جایا جائے اور مخلوق کو خالق کے حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ دلائی جائے۔دوسرا مقصد یہ ہے کہ آپ بنی نوع انسان کو توجہ دلائیں کہ وہ انسانی اقدار کا احترام کریں اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کریں۔پس یہ تمام احمدیوں کا فرض ہے، جنہوں نے مسیح موعود و مہدی معہود کی بیعت کی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے قرب حاصل کرنے اور بنی نوع انسان کی خدمت کا کوئی موقع جانے نہ دیں۔یہ وہ تعلیم ہے جس کی ہمیں قرآن کریم اور آنحضرتﷺنے بار ہا تعلیم دی ہے۔

سورۃ نساء کی آیت 37میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے؛اور اللہ کی عبادت کرو اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ ٹھہرائو اور والدین کے ساتھ احسان کرو اور قریبی رشتہ داروں سے بھی اور یتیموں سے بھی اور مسکین لوگوں سے بھی اور رشتہ دار ہمسایوں سے بھی اور غیر رشتہ دار ہمسایوں سے بھی۔اور اپنے ہم جلیسوں سے بھی اور مسافروں سے بھی اور ان سے بھی جن کے تمہارے داہنے ہاتھ مالک ہوئے۔یقینا اللہ اس کو پسند نہیں کرتا جو متکبر (اور)شیخی بگھارنے والا ہو۔

قرآن کریم کی یہ ایک آیت ہی اخلاقیات اور انسانی حقوق کے چارٹر کی ایک عظیم مثال ہے۔یہ امن قائم کرنے کی ایک سنہری راہ اور بھائی چارہ قائم کرنے کا ذریعہ ہے۔اللہ تعالیٰ اس آیت کریمہ میں تلقین فرماتا ہے کہ اپنے والدین اور رشتہ داروں سے پیار اور محبت سے برتائو کرو۔اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ معاشرے کے کمزور ترین طبقہ کو ساتھ لے کر چلو اور ان کی مدد کرو،جیسا کہ یتامیٰ اور دیگر افراد جو کسی بھی طرح کسی محرومی کا شکار ہیں۔پھر اس کے بعد ہمسایوں سے اچھا سلوک کرنے کا الگ سے خاص طور پر ذکر کیا گیا۔(۔)کو تعلیم دی گئی ہے کہ وہ اپنے پڑوسیوں سے پیار کریں اور ان کی حفاظت کریں اور ضرورت پڑنے پر ہمہ وقت ان کی مدد کرنے کو تیار رہیں۔          

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:۔

میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ (دین حق)میں ہمسائیگی کی تعریف بہت وسیع ہے۔اس میں صرف وہ لوگ شامل نہیں جو آپ کے قریب رہائش پذیر ہیں بلکہ دور رہنے والے بھی شامل ہیں ، ساتھ سفر کرنے والے، ساتھ کام کرنے والے، ماتحت اور دیگر بہت سے لوگ بھی ہمسایہ کی تعریف میں شامل ہیں۔درحقیقت قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے کہ (۔)شہر یا قصبے میں رہنے والے تمام افراد ہی پڑوسی ہیں۔

پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺنے بھی با رہا اس طرف توجہ دلائی ہے کہ (۔)اپنے پڑوسیوں کے حقوق ادا کریں۔آپﷺنے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس قدر ہمسایہ کے حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ دلائی کہ آپﷺنے سمجھا کہ شائد اللہ تعالیٰ ہمسایہ کو وراثت میں بھی حقدار ٹھہرا دے گا۔

حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:۔

پس اگر ہم نے فلاڈلفیا میں (بیت الذکر)بنائی ہے اور یہاں احمدی(۔)کی ایک جماعت قائم کی ہے، تو یہ اس نیت سے کی ہے کہ ہم اس شہر کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں اور اس شہر کے رہنے والوں کی خدمت کریں۔اب جبکہ اس (بیت الذکر)کا افتتاح ہوگیا ہے۔اب یہاں رہنے والے تمام احمدی دیگر تمام شہریوں کو اپنا ہمسایہ سمجھیں گے اور اس بات کا ادراک کریں گے کہ ان ہمسایوں کے بہت سے حقوق ہیں اور پھر ان حقوق کی ادائیگی کے لئے اپنی بھرپور صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔جب بھی آپ میں کسی کو مدد کی ضرورت پڑے گی، ہم عہد کرتے ہیں کہ جس طرح بھی ہم مدد کر سکے ہم کریں گے۔ہر رنج وغم کے موقع پر ہم اپنے ہمسایوں کے آنسو پونچھنے،ان کی مدد کرنے اور انہیں آرام پہنچانے کے لئے تیار ہوں گے۔

حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:۔

پس مجھے یقین ہے کہ آپ یہ سب ہوتا خود دیکھیں گے۔جہاں اس (بیت الذکر)نے اس شہر میں ایک عمدہ عمارت کا اضافہ کیا ہے اس سے کہیں زیادہ یہ (بیت الذکر)روحانی طور پر اس شہر میں اور گرد و نواح میں پیار و محبت پھیلاتے ہوئے اس شہر اور اس معاشرے کو مزید خوبصورت کرنے کا باعث بنے گی۔یہ (بیت الذکر)بغیر کسی تفریق مذہب، رنگ و نسل کے  تمام امن پسند لوگوں کے لئے روشنی اور امید کی کرن ثابت ہوگی۔ان الفاظ کے ساتھ میں امید کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ تمام لوگ جو اس شہر کے باسی ہیں، قطع نظر اس کے کہ وہ کون ہیں اور کس مذہب سے تعلق رکھتے ہیں، اکٹھے مل کر معاشرے کے مشترکہ مفاد کی خاطر کام کریں گے اور حقیقی اور دیر پا امن والا معاشرہ قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔

حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:۔یہ کہا جاتا ہے کہ فلاڈلفیاپہلا Colonialشہر ہے، جس نے اس ملک میں آزادی مذہب اور آزادی عبادت کا قانو ن پاس کیا۔مزید یہ کہ یہ وہ تاریخی شہر ہے جہاںDeclaration of Independence

پر دستخط کئے گئے تھے، پس اس شہر کی ایک قابلِ فخر تاریخ ہے۔میری دعا ہے کہ اس شہر کے رہنے والے اپنے عظیم ماضی کا پاس کریں اور آئندہ بھی یہ تاریخی روایات آپ کی قومی علامت کے طور پر جانی جائیں۔

میری دعا ہے کہ یہ شہر ہمیشہ کے لئے آزادی مذہب کی شمع بن جائے اور اس شہر کا ہر باسی نہ صرف اس شہر میں بلکہ تمام ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور پھر تمام دنیا میں امن قائم رکھنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنے والا ہو۔

اگرچہ ہماری تعداد یہاں تھوڑی ہے، میں یقین دلاتا ہوں کہ احمدیہ جماعت ہمیشہ ایسے پروگراموں کا حصہ رہے گی اور مطلوبہ مدد فراہم کرنے کے لئے تیار رہے گی۔اللہ کرے کہ حقیقی امن تمام شہروں اور ملکوں میں غالب آجائے۔

آخر پر میں آپ سب کا اس پروگرام میں شمولیت پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔اللہ آپ سب پر اپنا فضل فرمائے۔شکریہ

حضور انور کا یہ خطاب چھ بج کر ستائیس منٹ تک جاری رہا۔آخر پر حضور انور نے دعا کروائی۔

حضور انور کے خطاب کے اختتام پر مہمانوں نے دیر تک کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں۔بعد ازاں حضور انور نے سٹیج پر بیٹھے ہوئے مہمانوں کو تحائف عطا فرمائے۔

image_printپرنٹ کریں