skip to Main Content
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا دورہ جرمنی اور بیلجئم2018

مکرم عابد وحید خان  انچارج پریس اینڈ میڈیا  آفس ،سال 2012ء سے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے مختلف ممالک کے  دورہ جات کی  ذاتی  ڈائری لکھ رہے ہیں ۔ ڈائریاں درج ذیل لنک سے انگریزی زبان میں پڑھی جاسکتی ہیں۔http://www.pressahmadiyya.com/personal-accounts/

گلدستہ ء علم و ادب کے قارئین کے لئے دورہ جرمنی اور بیلجئم 2018حصہ دوم  سے کچھ حصوں کا ترجمہ پیش ہے ۔یہ مائدہ قارئین گلدستہ کے لئے مکرم راجہ برہان احمد استاد جامعہ احمدیہ یوکے تیار کرتے ہیں ۔فجزاہ اللہ تعالیٰ

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز یکم ستمبر 2018کوجرمنی اور بیلجئم کے 18روزہ دورہ پر روانہ ہوئے ،اس دوران آپ  دونوں ممالک کے جلسہ سالانہ میں رونق افروز ہوئے ۔

مکرم عابد صاحب لکھتے ہیں :

ڈائری کے حصہ اول میں ،میں نے حضور کے جرمنی کے دورہ کے پہلے ہفتےکے بارہ میں لکھا ،جبکہ اس حصہ میں حضورکے دورہ جرمنی کے آخری چند ایام اور دورہ بیلجیم کے بارے  میں لکھا ہے جہاں حضور  جلسہ سالانہ میں  بھی رونق افروز ہوئے ۔ (گزشتہ قسط میں جرمنی کے چند واقعات کا ذکر ہوا ۔جبکہ اس قسط میں بیلجیئم کے واقعات کا ترجمہ پیش ہے ۔ مترجم)

12ستمبر 2018ءکی صبح حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز دعا کروانے کے بعد مسجد بیت السبحان فرینکفرٹ سے روانہ ہوئے اور قافلہ سیدھا بیلجیئم کے Flemish شہر Alkenآیا ۔یہاں سے حضور انور کے بیلجیئم کے دورہ کا  آغاز مسجد بیت الرحیم کے افتتاح سےہوا ۔

مسجد بیت الرحیم کمپلیکس کا معائنہ

باقاعدہ تقریب کے اختتام پر حضورانور نے مسجد کے احاطہ کا معائنہ فرمایا۔مسجد کے علاوہ وہاں ایک بڑا کچن ، کھانا کھانے کی جگہ ،رہائش اور دیگر سہولیات تھیں ۔کچھ دیر کے لئے حضور  انور مسجد  کے اوپر کے حصہ میں بالکونی میں تشریف لے گئے اور وہاں سے خوبصورت نظارے سے محظوظ ہوئے ۔حضور  انور کو بڑا انڈسٹریل سائز کا فریزر بھی  دکھا یا گیا جو عمارت کے ساتھ ہی ملا ۔اس موقع پر حضور انور نےخاص طور پر امیر صاحب جرمنی کو بلایا اور انہیں فریزر دکھایا اور کچھ دیر ان سے گفتگو فرمائی ۔حضور جانتے تھے کہ دورہ جرمنی کا اب اختتام ہوچکا ہے ،امیر صاحب جرمنی اور اکثر جرمنی کی ٹیم اب حضور کی صحبت سے واپس روانہ ہونے والی ہے  ،حضور نے چند منٹ  امیر صاحب جرمنی کے ساتھ گزارے اور پھر انفرادی طور پروہاں موجود جرمنی جماعت کے ارکان سے ملے۔

حضورکا Alkenکا دورہ اختتام پذیر ہوا ،4.30شام برسلز کے لئے روانہ ہونے سے قبل حضور نے وہاں کے احمدی بچوں میں چاکلیٹ تقسیم فرمائی۔

حضور انور کو خدا حافظ کہنے کے بعد امیر صاحب جرمنی اور ان کی ٹیم جرمنی روانہ ہوگئی جبکہ امیر صاحب بیلجیئم ڈاکٹر ادریس احمد صاحب اور دیگر عہدیداران نے حضور انور اور آپ کے قافلے کی مہمانوازی کے فرائض سر انجام دیئے ۔

عودہ صاحب کا فون

حضورکی آمد مسجد  بیت السلام میں  شام کے پہلے حصے میں ہوئی جہاں اکثر بیلجیئم سے تعلق رکھنے والے احمدیوں نے حضور کا استقبال کیا جبکہ یورپ کے دیگر ممالک برطانیہ ،جرمنی اور ہالینڈسے بھی کچھ احمدی آئے ہوئے تھے ۔ آمد کے کچھ دیر بعد حضور اپنی رہائش گاہ میں تشریف لے گئے اور کیونکہ اگلے پروگرام میں ابھی کچھ وقت تھا اس لئے ہم میں سے چند نے فیصلہ کیا کہ  قریبی ہوٹل جہاں ہماری رہائش کا انتظام تھا وہاں اپنا سامان رکھ آئیں ۔ایک گھنٹے بعد جب میں مسجد واپس آیا تو ایک ایسا  نظارہ دیکھا  جو  لمبے عرصہ تک مجھے یاد رہے گا۔ آفس میں ،جو قافلہ  کے دیگر ممبران کے ساتھ مجھے شیئر کرنا تھا، داخل ہونے والاہی تھا کہ میں نے حیرانگی کے عالم میں دیکھا  کہ حضور ہمارے آفس میں امیر صاحب کبابیر شریف عودہ صاحب کے پاس کھڑے ہیں ،جو بیلجیئم کے جلسہ میں شمولیت کے آئے تھے ۔میں نے دیکھا کہ حضور مسکرا رہے ہیں اور شریف عودہ صاحب اور دیگر آفس میں موجو د لو گ بھی ہنس رہے ہیں ۔یہ بات بھی واضح  تھی کہ شریف عودہ  صاحب کا رنگ  سرخ ہورہا تھا ۔جیسے ہی حضور آفس سے تشریف  لے گئے ،باقی احباب ہنسنے لگے اور گزشتہ لمحات کے بارے میں بات کرنے لگے ۔اس بات کا ذکر عبد الماجد طاہر صاحب نے یوں کیا

ہم آفس میں کام کررہے تھے اور شریف عودہ صاحب بھی یہاں بیٹھے اپنے فون پر لگے ہوئے تھے ۔اچانک ،حضور اپنی رہائش گاہ سے باہرہمارے آفس میں  تشریف لے آئے ۔ہم سب احتراماً کھڑے ہوگئے ،لیکن شریف صاحب اپنے فون پر ہی لگے رہے اور انہیں کمرے میں حضور کی آمد کا علم نہیں ہوا ۔حضور نے خود بھی دیکھ لیا کہ شریف صاحب کو علم نہیں ہوا چنانچہ حضور شریف صاحب کے پاس گئے اور مسکراتے ہوئے کھڑے رہے  اس وقت بھی چند لمحات تک شریف صاحب کو پتا نہیں لگا کہ حضور ان کے پاس کھڑے ہیں ،وہ اپنے فون کو ہی دیکھتے رہے ۔حضور نے ہمیں دیکھا اور فرمایا’’شریف صاحب اپنے فون میں مگن  ہیں ‘‘اس پر شریف عودہ صاحب نے فوراً دیکھا اور حضور کو اپنے پاس دیکھ کر ،فوراًچھلانگ مارتے ہوئے  کھڑے ہوگئے۔ اس موقع پر حضور سمیت سارے لوگ ہنسنے لگے۔

ماجد صاحب جب واقعہ بیان کررہے تھے شریف عودہ صاحب ہنستے رہے اور شرمندگی سے سرخ بھی رہے ،انہوں نے ہنستے ہوئے کہا’’ماجد صاحب ،آپ سب خاموش کیوں رہے ؟مجھے کسی نے کیوں نہیں بتایا کہ حضور کمرے میں تشریف لاچکے ہیں ؟جواباً ماجد صاحب نے کہا

’’حضور کی موجودگی میں  ہم خاموش رہتے ہیں !‘‘

یہ ایک یادگار واقعہ تھا جس کے بارے میں دورہ کے دوران مختلف مواقع پر ہم بات کرتے رہے ۔ہر دفعہ شریف عودہ صاحب کے چہرے پر خوشی اور شرمندگی کے وہی تاثرات آجاتے ۔

شرمندگی اس بات پر کہ انہیں حضور کی موجودگی کا احساس نہ ہو سکا لیکن خوشی اس امر پر کہ اس واقعہ سے حضور محظوظ ہوئے ۔

اچانک آمد

18ستمبر 2018 کی صبح ہم نے ہوٹل سے اپنے سامان کو واپس مسجد منتقل کیا اور کاروں کو روانگی کے لئے تیار کیا ۔ اس صبح حضور اسماعیل خان سابق صدر مجلس خدام الاحمدیہ بیلجیئم کے گھر تشریف لے کر گئے ۔کیونکہ اس آمد کی پہلے سے تیاری نہیں تھی اس لئے جب حضور اپنی رہائش گاہ سے باہر تشریف لائے تو کار تیار نہیں تھی ۔فوراً محمود خان صاحب (حضور کے ڈرائیور ) نے گاڑی کی چابی لی اور اسے روانگی کے لئے تیار کیا ۔ جب حضور انتظار فرمارہے تھے تو آپ نے بیلجیئم کے مشنر ی انچارج حافظ سکندر احسان صاحب سے بیلجیئم کے پھلوں کے معیار کے بارے میں ازراہ مزاح فرمایا:

’’یہاں بیلجیئم میں ،آپ یورپین تیار(پکے )پھل نہیں کھاتے خاص طور پر کیلے کچے ہوتے ہیں ۔‘‘

(عابد صاحب لکھتے ہیں )جب حضور انور نے یہ الفاظ ارشاد فرمائےتو مجھے  یہ سوچنا اچھی  طرح یاد ہے کہ میں بھی ان یورپین میں شامل ہوں کیونکہ میرے خیال میں بھی  بیلجیئم کا پھل بہت عمدہ تھا  اور اس بار ے  میں ،میں نے چند مواقع پرمختلف لوگوں سے  اظہار بھی کیا تھا ۔

اس کے ساتھ ہی حضور  انور کی گاڑی اسماعیل خان صاحب(عمر 35سال ) کے گھر جانے کے لئے تیار ہوگئی جو اپنی فیملی  ،والدہ اور تین بھائیوں کے ساتھ رہتے ہیں ۔ان کے والدنے   1989ءمیں ربوہ میں وفات پائی ۔

حضور کی تشریف آوری کے بعد ،اسماعیل صاحب نے مجھے ان لمحات کے بارے میں بتایا ،جہاں وہ اور ان کی فیملی نے  حضور کی آمد سے برکت حاصل کی ۔اسماعیل خان صاحب نے کہا۔

’’حضور نے ہمار ے باغ اور جانوروں میں دلچسپی کا اظہار فرمایا اور پوچھا کہ بکریاں کیوں نہیں رکھیں اور اس بارہ میں نصیحت فرمائی ۔ازراہ شفقت حضور نے انجیر کا پودا ہمارے باغ میں لگا یا اور میری بیٹی کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا’’اب آپ  خوب انجیر کھانا‘‘

اسماعیل صاحب نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ

حضور جب ہمارے گھر سے تشریف لے گئے تو ہم میں سے کوئی بھی اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکا۔میری والدہ حضور کی بے پناہ شفقت و محبت سے بہت جذباتی ہوگئیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آج میرے والد صاحب کی روح بہت خوش ہوگی ! ذاتی طور ایک موقع پرحضور نے نہایت شفقت سے  میرا ہاتھ  پکڑا ،خوشی کے وہ لمحات ہمیشہ  میری یاد کا حصہ رہیں گے ۔

حضورانور ہمیشہ  احباب جماعت کو اپنی محبت اور شفقت سے بابرکت فرماتے رہتے ہیں

الحمد للہ حضور کا دورہ جرمنی اور بیلجیئم ہر لحاظ سے بابرکت رہا ۔

اللہ تعالیٰ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکو لمبی اور صحت و سلامتی والی زندگی سے نوازے اور تمام احمدی مسلمانوں کو ہمیشہ خلافت احمدیہ کا مطیع و فرمانبرار رکھے ۔ آمین ۔

image_printپرنٹ کریں