skip to Main Content
نعمان احمد قدیر : حضرت غلام رسول راجیکیؓ کے ایمان افروز واقعات

بیعت کی تقریب

میں اور مولوی امام الدین صاحب ؓقادیان مقدس پہنچے اور مسجد مبارک پر جانے کے لئے اس کے اندرونی زینہ پر چڑھنے  لگےتو میں وہیں کھڑے کھڑے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے کچھ نذرانے کی رقم نکالنے لگ گیا اور مولوی صاحبؓ اتنی دیر میں مسجد کے اوپر بارگاہ نبوت میں جا پہنچے ۔حضوراقدس ؑ نے مولوی صاحبؓ   کو مصافحہ کا شرف بخشتے ہی فرمایا۔

’’وہ لڑکا جو آپ کے پیچھے آرہا تھا اس کو بلاؤ۔‘‘

 چنانچہ مولوی صاحب ؓ واپس لوٹے اور زینہ پر آکر کہنے لگے میاں غلام رسول آپ کو حضرت صاحب یادفرمارہے ہیں۔میں یہ سنتے ہی حضور کی خدمت عالیہ میں جا پہنچا اور جب مصافحہ اور دیدار مسیح سے مشرف ہوا تو اس وقت مجھ پر کچھ ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ میں بے ساختہ حضورؑ کے قدموں پر گر گیا اور روتے روتے میری ہچکی بندھ گئی۔

حضور انورؑ اس وقت نہایت ہی شفقت سے میرے سر اور میری پیٹھ پر دست مسیحائی پھیرتے جاتے تھے اور مجھے دلاسا دیئے جاتے تھے۔ جب میری طبیعت کچھ سنبھلی تو میں نے اپنے سر نیاز کوحضور کے پائے عالی سے اٹھایا اور مولوی امام الدین صاحب ؓ اور بعض دیگر رفقاء کی معیت میں حضور کے دست بیعت سےشاد کام ہوا ۔اور اس دوران میں یہ عجیب واقعہ رونما ہوا کہ حضرت اقدس ؑ نے مجھے دیکھے بغیر ہی مولوی امام الدین صاحب ؓسےبے پوچھے ہی یہ ارشادفرمایا کہ مولوی صاحب وہ لڑکا جو آپ کے پیچھے آرہا تھا اس کو بلاؤ۔ یقیناًیہ بات حضوراقدسؑ کے متعلق یَریٰ بِنُوْرِاللہِ کی ایک دلیل ہے اور میرے لیے ایک نشان ہے۔

مولوی غلام رسول صاحب جوان صالح  کراماتی

بیان کرتے ہیں اس ابتدائی زمانہ میں جبکہ یہ علماء سو ءگاؤں گاؤں میری کم علمی اور کفر کا چرچا کر رہے تھے مجھے خود میرے خدا نے الہام کے ذریعہ سے یہ بشارت دی ۔

’’مولوی غلام رسول جوان صالح کراماتی‘‘

چنانچہ اس الہام الہٰی کے بعد جہاں اللہ تعالیٰ نے مجھے بڑے بڑے مولویوں کے ساتھ مباحثات کرنے میں نمایاں فتح دی ہے ۔وہاں میرے ذریعے سیدناحضرت امام زمان علیہ السلام کی برکت سے انذاری اور تبشیری کرامتوں کا اظہار بھی فرمایا ہے جس کا ایک زمانہ گواہ ہے۔

تائیدِ ایزدی

 میری برادری میں سے میرے ایک چچا زاد بھائی میاں غلام احمد تھے ان کی کچھ جائیداد موضع لنگہ ضلع گجرات میں بھی تھے ایک مرتبہ انہوں نے مجھے ایک تحریر کے کام کے لئے فرمائش کی جس کی تعمیل کے لئے میں ان کے ہمراہ موضع لنگہ چلاآیا۔ گرمیوں کا موسم تھا اس لئے میں دوپہر کا وقت اکثر ان کے دالان کے پیچھے ایک کوٹھری میں گزارا کرتا تھا۔ ایک دن حسب معمول میں دوپہر کو اس کوٹھری میں سو رہا تھا۔میری آنکھ کھلی تو میں نے سنا کہ غلام احمد کی خالہ اور والدہ کہہ رہی تھیں کہ اس ۔۔۔( غلام رسول )کا ہمیں بڑا افسوس ہے کہ گاؤں گاؤں اور گھر گھر میں لوگ اس کی برائی کرتے ہیں۔ اس نے تو مرزائی ہوکر ہمارے خاندان کی ناک کاٹ دی ہے۔ اتفاق کی بات ہے کہ اس روز برابر کی کوٹھری میں بھائی غلام بھی سویا ہوا تھا۔ اس نے بیدار ہوتے ہی ان کی یہ مغلظات سنیں تو کہنے لگا تم کیا بکواس کر رہی ہو۔میں نے تو ابھی ابھی خواب میں دیکھا ہے کہ ’’غلام رسول پر آسمان سے اتنا نور برس رہا ہے کہ اس نے چاروں طرف سے اس کو گھیر لیا ہے ۔‘‘

تمہیں کیا معلوم ہے کہ تم  جسے بُرا سمجھتی ہوں وہ خدا کے نزدیک برا نہ ہو ۔اتنے میں میں بھی کوٹھری سے باہر نکل آیا اور ان کو احمدیت کے متعلق سمجھاتا رہا مگر ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔ بلکہ یہی غلام احمد جس پر اللہ تعالیٰ نے رویا کے ذریعہ سے اتمام حجت کر دی تھی میرا اتنا مخالف اور دشمن ہوگیا کہ علماء کو بلاکر بھی احمدیت پر حملہ کرواتا اور مجھے ذلیل کرنے کی کوشش میں لگا رہتا۔آخر میرے مولا کریم نےمیری نصرت کے لئے موضع راجیکی میں طاعون کے عذاب کو مسلط کیا۔ اور غلام احمد اور اس کے ہمنواؤں کا صفایا کردیا ۔ وبائے طاعون کے دوران میں تقویٰ و طہارت کو اختیار کرنے کی بجائے جب ان لوگوں نے یہ منصوبہ سوچا کہ اگر کوئی احمدی مر جائے تو نہ اس کی قبر کھو دی جائے اور نہ اسے اپنے قبرستان میں دفن ہونے دیا جائے تو میں نے خواب میں دیکھا کہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمارے مکان کے اوپر کھڑے ہیں اور حفاظت فرما رہے ہیں ۔چنانچہ ہمارا گھر حضرت اقدسؑ کی برکت سے محفوظ رہا مگر ان بدخواہوں کے گھر طاعون سے ماتم کدے بن گئے۔فھل من مدّکر۔

دور محشر

    غلام احمد (چچا زاد بھائی )کے فوت ہو جانے کے بعد میں نے خواب میں دیکھا کہ قیامت کا روز ہے اور اللہ تعالیٰ نہایت ہی جلال کے ساتھ عدالت کی کرسی پر جلوہ فرما ہے۔ اتنے میں غلام احمد کو اور مجھے اللہ تعالیٰ کے حضور بلایا گیا تو اللہ تعالیٰ نے غلام احمد سے پوچھا کہ تو نے مسیح موعود کی تکذیب اور انکار کیوں کیا۔ کیا تجھے ان کے متعلق علم نہیں ہوا تھا ۔اس کے جواب میں غلام احمد نے کچھ عذر کیا تومیں نے کہا کیا میں نے بار بار سیدنا حضرت مسیح موعودؑ کے ظہور اور آمد کے متعلق اطلاع نہیں دی تھی اور کیا میں نے تبلیغ کے ذریعہ سے حضرت اقدسؑ کے دعوے اور دلائل کو نہیں سمجھا دیا تھا۔

دعا اور شفاء

موضع راجیکی  میں ایک دفعہ چوہدری اللہ داد خاں ولد چوہدری عالم خان صاحب کا تین چار سال کا بچہ شدید بیمار ہوگیا اور اس کی حالت مایوس العلاج ہوگئی ۔اس وقت چوہدری اللہ داد خان صاحب نے مجھے بلا کر وہ بچہ دکھایا ۔(وہ بچہ بالکل مشت استخوان نظر آتا تھا) اور دعا کی درخواست کی ۔میں نے اس وقت دعا بھی کی اور ایک نسخہ بھی بتایا جو اسے استعمال کرایا گیا ۔اس کے بعد میں نے چوہدری اللہ داد خاں سے کہا کہ جب میں سال کے بعد آؤں گا تو یہ لڑکا اتنا تندرست ہوگا کہ میں اسے پہچان بھی نہ سکوں گا۔ چنانچہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسا ہی  وقوع میں آیا۔

علاج بیروزگاری

موضع راجیکی  کی ایک اہم احمدی خاتون جو بعد میں ہجرت کر کے قادیان مقدس چلی گئی تھی ۔اس نے ایک دفعہ مجھے خط لکھا کہ میرے 2 لڑکے باوجود اچھی تعلیم رکھنے کے ابھی تک بیکار ہیں ۔آپ ان کے لئے دعا فرمائیں کہ اللہ تعالی ان کے لئے کوئی روزگار کی صورت پیدا کر دے۔ چونکہ میں اس خاتوں کے خسر کا احسان مند تھا ۔اس لئے میں نے اس کے لڑکوں کے لئے متواتر کئی روز تک دعا کی ۔یہاں تک کہ اللہ تعالی کی طرف سے رؤیا کے ذریعے مجھے بتایا گیا کہ اگر اس کے لڑکے تین لاکھ مرتبہ درود شریف کا ورد کریں گےتو ان کی تین سو روپیہ تنخواہ لگ جائے گی اورڈیڑھ لاکھ مرتبہ درود شریف کا ورد کریں گے تو ڈیڑھ سو روپیہ کی تنخواہ لگ جائے گی۔ چنانچہ میں نے اسی دن اس رؤیا کی اطلاع اس کو دے دی تھی۔ معلوم نہیں کہ اس کے لڑکوں نے یہ عمل کیا تھا یا نہیں۔    

(ماخوذ از حیات قدسی )

image_printپرنٹ کریں