skip to Main Content
سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا دورہ امریکہ قسط نمبر 2

فلاڈلفیا میں ورود مسعود و استقبال،معائنہ بیت العافیت،فیملی ملاقاتیں،تقریب آمین و دیگر مصروفیات

17۔اکتوبر 2018ء 

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صبح سوا چھ بجے بیت الرحمن میں تشریف لا کر نماز فجر پڑھائی۔نماز کی ادائیگی کے بعد حضور انور  ایدہ اللہ تعالیٰ اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

صبح حضور انور نے دفتری ڈاک اور خطوط اور رپورٹس ملاحظہ فرمائیں اور ہدایات سے نوازا۔

فلاڈلفیا میں ورود مسعود

آج پروگرام کے مطابق یہاں سے فلاڈلفیا (Philadelphia) کے لئے روانگی تھی۔

گیارہ بج کر بیس منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنی رہائش گاہ سے باہر تشریف لائے اور دعا کروائی اورقافلہ فلاڈلفیا کے لئے روانہ ہوئے بیت الرحمن سے فلاڈلفیا کا فاصلہ 132میل ہے۔

ایک بجکر پندرہ منٹ پر جب قافلہ کی گاڑیاں فلاڈلفیا شہر کی حدود میں داخل ہوئیں تو یہاں کی مقامی پولیس کی دو گاڑیوں نے حضور انور کی گاڑی کو Escortکیا اور شہر کے اندر راستہ کلئیر کرتے رہے۔

آج کادن جماعت فلاڈلفیا کے لئے بڑا ہی مبارک اور ایک تاریخی دن تھا۔ہر چھوٹا بڑا،مردو زن،جوان،بوڑھا خوشی و مسرت سے معمور تھا۔آج ان کے شہر میں حضور انور  ایدہ اللہ تعالیٰ کے مبارک قدم پہلی بار پڑنے والے تھے۔یہ لوگ صبح سے ہی نئی تعمیر ہونے والی بیت العافیت پہنچنا شروع ہوگئے تھے۔فلاڈلفیا کی مقامی جماعت کے علاوہ نیویارک، سنٹرل جرسی، نارتھ جرسی، Albany ,Binghamton, بوسٹن (Boston)، laurel,Fitchurg, Syracuse, Oshkosh, بالٹی مور، Harris Burg, Rochester,اور Virginiaسے بھی بڑی تعداد میں احباب جماعت اور فیملیز بڑے لمبے سفر طے کر کے آئی تھیں۔200 سو میل سے لے کر 950میل تک کا سفر مختلف جماعتوں سے احباب طے کر کے پہنچے تھے۔

حضور انور کی آمد سے قبل جماعت فلاڈلفیا کے مرکزی بیت بیت العافیت کابیرونی حصہ احباب جماعت سے بھر چکا تھا۔مرد خواتین کی مجموعی تعداد ایک ہزارنو صد سے زائد تھی۔

ایک بجکر 35منٹ پر حضور انور کی یہاں تشریف آوری ہوئی تو ساری فضا نعروں سے گونج اٹھی۔بچیوں کے گروپس نے خیر مقدمی گیت پیش کئے۔جونہی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز گاڑی سے باہر تشریف لائے۔

مکرم صاحبزادہ مرزا مغفور احمد صاحب امیر صاحب یو ایس اے ،مکرم ڈاکٹر نسیم رحمت اللہ صاحب نائب امیر یوایس اے اور مکرم مجیب اللہ چوہدری صاحب صدر جماعت فلاڈلفیا نے حضور انور سے شرف مصافحہ کی سعادت حاصل کی۔

بعد ازاں حضور انور  ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بیت الذکر کی بیرونی دیوار میں لگی تختی کی نقاب کشائی فرمائی اور دعا کروائی۔اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزرہائشی حصہ میں تشریف لے گئے۔

بیت العافیت کا معائنہ

دو بجکرپانچ منٹ پرحضور انور نے تشریف لا کر اس نئی تعمیر ہونے والی بیت العافیت کا معائنہ فرمایا۔

حضور انور نے بیت الذکر کے مردانہ ہال اورپھر خواتین کے ہال کا معائنہ فرمایا۔چھوٹی عمر کے بچوں والی خواتین کے لئے ایک علیحدہ جگہ مخصوص کی گئی ہے اور دونوں حصوں میں علیحدہ علیحدہ واش رومز بنائے گئے ہیں۔

بعد ازاں حضور انور نے لائبریری کا معائنہ فرمایا۔اور دفاتر کامعائنہ فرمایا۔مکرم ڈاکٹر احسان اللہ ظفر صاحب سابق امیر جماعت یو ایس اے جو آج کل بیمار ہیں اور ویل چیئر پر بیت الذکر کی گیلری میں موجودتھے حضور انور نے ازراہ شفقت ڈاکٹر صاحب سے ان کاحال دریافت فرمایا اور شرف مصافحہ سے نوازا۔

بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بیت الذکر کی بیسمنٹ میں تشریف لے گئے اور ملٹی پرپزہال کا معائنہ فرمایا۔اس ہال میں چار صد افراد کھانا کھا سکتے ہیں۔سات صد افراد بیٹھ سکتے ہیں یہ ہال کھیلوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔

جمعہ کی شام کو بیت الذکر کی افتتاحی تقریب کے حوالہ سے ایک ریسپشن کا پروگرام ہے۔اس پروگرام کے لئے اس ہال کو تیار کیا گیا تھا۔حضور انور نے اس انتظام کے حوالہ سے دریافت فرمایا۔

بعدازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مرکزی کچن میں تشریف لے گئے اور معائنہ فرمایا اور بعض انتظامات کے حوالہ سے دریافت فرمایا۔

اس معائنہ کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بیت الذکرکے مردانہ ہال میں تشریف لے آئے اور نماز ظہر و عصر جمع کر کے پڑھائی۔نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ رہائشی حصہ میں تشریف لے گئے۔

جماعت احمدیہ امریکہ کی تاریخ میں فلاڈلفیاشہر کو ایک خصوصیت حاصل ہے۔جب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے حضرت مفتی محمد صادق صاحب کو جوکہ انگلستان میں بطور مربی کام کر رہے تھے امریکہ چلے جانے کا حکم صادر فرمایا تو آپ امریکہ کے پہلے مربی کے طور پر 26جنوری1920ء کو انگلستان کی بندر گاہ Liverpoolسےروانہ ہوئے اور 21دن کے بحری سفرکے بعد 15فروری1920ء کو امریکہ کی بندر گاہ فلاڈلفیا پر اُترے لیکن آپ کو ملک کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہ دی گئی اور فیصلہ کیا گیا کہ آپ جس جہاز میں آئے ہیں اُسی میں واپس چلے جائیں۔اس پر حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے اس فیصلہ کے خلاف محکمہ آباد کاری(واشنگٹن ) میں اپیل کی۔اس پر آپ کو سمندر کے کنارے ایک مکان میں بند کر دیا گیا۔اور قید کر دیا گیا۔اس مکان سے باہر نکلنے کی ممانعت تھی مگر چھت پرٹہل سکتے تھے۔اس کا دروازہ دن میں صرف دو مرتبہ کھلتا تھا۔

اس مکان میں کچھ یورپیئن بھی نظر بند تھے۔حضرت مفتی صاحب نے موقع سے فائدہ اٹھاکر اپنے ساتھی قیدیوں کو دعوت الیٰ اللہ کرنا شروع کردی جس کے نتیجہ میں دو ماہ کے اندر پندرہ قیدیوں نے دین حق قبول کر لیا۔بعد ازاں مئی 1920ء میں آپ کو رہا کر دیا گیا۔آج اسی شہر میں  جہاں حضرت مفتی محمد صادق صاحب کو قید میں ڈالا گیا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جماعت کو ایک وسیع و عریض بڑی خوبصورت بیت العافیت تعمیر کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔جس کا افتتاح ان شاء اللہ العزیز جمعۃ المبارک کے ساتھ ہوگا۔

فلاڈلفیا جماعت نے حضور انور کے تین دن قیام کے دوران بڑے وسیع پیمانہ پر انتظامات کئے ہیں۔مردوں کی دو Over Flowمارکیز لگائی گئی ہیں۔اسی طرح عورتوں کے لئے بھی دو مارکیز ان کی زیادہ تعداد کے پیش نظر لگائی گئی ہیں۔لجنہ کی سیکیورٹی اور رجسٹریشن کے لئے علیحدہ عارضی آفسز قائم کئے گئے ہیں جبکہ مردوں کے لئے سیکیورٹی اور رجسٹریشن کے لئے علیحدہ آفسز ہیں۔شعبہ خدمت خلق کی ایک علیحدہ مارکی ہے جس میں ان کے آفسز قائم کئے گئے ہیں۔

مردوں اور عورتوں کے کھانے کے لئے علیحدہ علیحدہ بڑی ماکیز لگائی گئی ہیں۔خصوصی مہمانوں کے کھانے کے لئے ایک علیحدہ مارکی لگا کر انتظام کیا گیا ہے۔لنگر خانہ کا قیام علیحدہ طور پر مارکی لگا کر کیا گیا ہے۔

بیت الذکر اور Over Flow مارکیز میں کل چار ہزار چھ صد افراد کے لئے جگہ کا انتظام موجود ہے۔یہ تمام جگہیں مرد و خواتین سے بھری ہوئی نظر آتی ہیں۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ بیت الذکر اور اس کے ارد گرد ایک چھوٹا شہر آباد کر دیا گیا ہے۔

فیملی ملاقاتیں

پروگرام کے مطابق آج شام کو فیملیز ملاقاتیں تھیں۔چھ بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزاپنے دفتر تشریف لائے اور فیملیز ملاقاتیں شروع ہوئیں۔

آج شام کے اس سیشن میں 52فیملیز اور37احباب نے انفرادی طور پر ملاقات کی سعادت پائی۔اس طرح مجموعی طور پر 257افراد نے اپنے پیارے آقا سے شرف ملاقات پایا۔ہر ایک نے اپنے آقا کے ساتھ تصویربنوانے کی سعادت پائی۔حضور انور نے تعلیم حاصل کرنے والے طلباء اور طالبات کو قلم عطا فرمائے اور چھوٹی عمر کے بچوں کو چاکلیٹ عطا فرمائے یہ فیملیز فلاڈلفیا اور اس کے ارد گرد کی14جماعتوں سے آئی تھیں۔بعض فیملیز بڑے لمبے سفر طے کر کے ملاقات کے لئے پہنچی تھیں۔خصوصاًBuffalo, Rochesterاور Albanyسے آنے والی فیملیز قریباً380میل کا فاصلہ ساڑھے چھ سے سات گھنٹے میں طے کر کے پہنچی تھیں۔ملاقاتوں کا یہ پروگرام قریباً پونے نو بجے تک وہاں جاری رہا۔

تقریب آمین

بعد ازاں حضور انور  ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزبیت العافیت تشریف لے آئے اور تقریب آمین کا انعقاد ہوا۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے درج ذیل 29بچوں اور بچیوں سے قرآن کریم کی ایک ایک آیت سنی اور آخر پر دعا کروائی۔

عزیزم شایان احمد خان، ذیشان منظور احمد، عبدالحکیم نورالدین رشدی، کامران  یحیٰ، سفیر احمد چوہدری، انصر سفیر عالم، ابدال احمد،سالک ربّانی، ریان احمد، تمثیل احمد تنویر،عزیزہ Warizah جاوید،صفیہ جاوید، سبیکہ احمد، آیات باجوہ، عزیزہ Parisa طاہر، عزیزہ ParisaAynour احمد، عزیزہDuhaاحمد،عزیزہ عفیفہ محمود، زارہ محمودہ ملک، شافعہ رضوان حمید۔

 عزیزہ Abeehaملک، عائزہ شہزاد، یسریٰ احمد، ملائکہ احمد اعوان، عائزہ زبیر، لائبہ ملک، فریحہ زبیر، اصفیٰ ساجد، علینہ احمد۔

تقریب آمین کے بعد حضورا یدہ اللہ تعالیٰ نے نماز مغرب و عشاء جمع کر کے پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

18۔اکتوبر2018ء

حضور انورا یدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے صبح سوا چھ بجے بیت العافیت فلاڈلفیا میں تشریف لا کر نماز فجر پڑھائی۔ نماز کی ادائیگی کے بعد حضور انورا یدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے رہائشی حصہ میں تشریف لے گئے۔

صبح حضور انور ا یدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے  نیا کے مختلف ممالک سے بذریعہFAXاور ای میل آنے والے خطوط اور رپورٹس ملاحظہ فرمائیں اور ہدایات سے نوازا۔نیز حضور انور کی مختلف دفتری امور کی ادائیگی میں مصروفیت رہی۔

دو بجے حضور انورا یدہ اللہ تعالیٰ نے بیت العافیت تشریف لا کر نماز ظہر و عصر جمع کر کے پڑھائیں۔نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنے رہائشی حصہ میں تشریف لے گئے۔

فیملی ملاقاتیں

آج شام فیملیز ملاقاتوں کا پروگرام تھا۔چھ بجے حضور انور اپنے دفتر تشریف لائے اور ملاقاتوں کا آغاز ہوا۔

آج شام کے اس سیشن میں58فیملیز اور بارہ احباب نے انفرادی طور پر ملاقات کی سعادت پائی۔اس طرح آج مجموعی طور پر 292افراد نے اپنے پیارے آقا سے شرف ملاقات پایا۔ان سبھی افراد نے حضور انور کے ساتھ تصویر بنوانے کی سعادت پائی۔حضور انور نے ازراہ شفقت تعلیم حاصل کرنے والے طلباء اور طالبات کو قلم عطا فرمائے اور چھوٹی عمر کے بچوں اور بچیوں کو چاکلیٹ عطا فرمائے۔

آج فلاڈلفیا کی جماعت کے علاوہ بوسٹن(Boston)، روچیسٹر(Rochester)، ولنگبرو(Willingboro) اور Liberiaکی جماعتوں سے آنے والی فیملیز نے بھی شرف ملاقات پایا۔ان جماعتوں سے آنے والے احباب اور فیملیز تین صدمیل سے زائد کا فاصلہ پانچ سے چھ گھنٹوں کے دوران طے کر کے پہنچے تھے۔

آج ملاقات کرنے والی فیملیز میں بڑی تعداد ان لوگوں کی تھی جو پاکستان سے ہجرت کر کے یہاں آئے تھے اور اپنی زندگیوں میں پہلی بار حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے مل رہے تھے۔ان کی خوشی ناقابل بیان تھی۔انہوں نے اپنے پیارے آقا کے قرب میں جو چند دن گزارے وہ ان کی ساری زندگی کا سرمایہ تھے۔ان میں سے ہر ایک برکتیں سمیٹتے ہوئے باہر آیا اور ان کی تکالیف اور پریشانیاںراحت و سکون میں بدل گئیں۔

ایک نوجوان ذیشان طارق صاحب نے بتایا کہ دو سال قبل پاکستان سے ہجرت کر کے فلاڈلفیا امریکہ آئے۔میری پہلے کبھی بھی خلیفہ وقت سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ملاقات سے قبل ایک بیتابی اور گھبراہٹ تھی۔جونہی میں حضور انور کے دفتر میں داخل ہوا تو حضور انور کے نورانی چہرہ پر نظر پڑتے ہی سب بے چینی او رگھبراہٹ دور ہوگئی اور مجھے ایک سکون مل گیا۔

ایک خاتون روبینہ صاحبہ جو اپنے بچوں کے ہمراہ تھیں کہنے لگیں کہ میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ ملاقات کا حال بیان کروں پیارے آقا کو اپنے سامنے دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے مجسّم نور آسمان سے اترآیا ہے۔ملاقات کے یہ مبارک لمحات اتنی جلدی گزر گئے کہ دل چاہتا تھا کہ یہ لمبے ہو جائیں اورہم زیادہ وقت حضور کے قرب میں گزاریں۔

ایک نوجوان دائود احمد بٹ صاحب جو چار ماہ قبل پاکستان سے فلاڈلفیا پہنچے تھے،کہنے لگے کہ یہ میری زندگی میں حضور انور کے ساتھ پہلی ملاقات تھی۔پاکستان میں یہی سوچا کرتا تھا کہ شاید زندگی میں کبھی خلیفہ وقت سے مل نہ سکوں گا۔لیکن آج جب میں نے حضور انور کو دیکھا تو یوں لگا کہ کھلی آنکھوں سے ایک خواب دیکھ رہا ہوں۔حضور انور نے مجھے ایک قلم بھی عطا فرمایا۔

ایک دوست محمد اسلم صاحب جو دو سال قبل پاکستان سے ہجرت کر کے فلاڈلفیا امریکہ پہنچے ہیں اپنی فیملی کے ساتھ حضور انور سے ملے،کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد اور شکر کے لئے الفاظ نہیں پاتا کہ اس نے ہمیں ہماری زندگی میں یہ مبارک دن دکھایا کہ ہمیں حضور کا دیدار ہوا اور قرب نصیب ہوا۔

ایک 24سالہ نوجوان کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور اس سے بات نہیں ہو رہی تھی کہنے لگا کہ میرے پاس الفاظ نہیں کہ میں بیان کر سکوں کہ میں نے آج کیا پایا۔میرا ایک خواب تھا جو آج اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے پورا کر دیا۔

عمر شریف صاحب ایک افریقین امریکن احمدی ہیں۔موصوف چار سال قبل… احمدیت میں داخل ہوئے تھے۔کہنے لگے کہ حضور انور سے ملاقات کو الفاظ میں ڈھالا نہیں جاسکتا۔حضور انور سے مل کر یوں احساس ہوتا تھا کہ جیسے حضور انور ایک شفیق باپ کی طرح اپنے روحانی بچوں سے مل رہے ہیں۔ملاقات سے قبل ایک گھبراہٹ تھی لیکن جیسے ہی ہم حضور انور کے دفتر میں داخل ہوئے اور حضور انور کے چہرہ مبارک پر نظر پڑی تو ساری گھبراہٹ اور بے چینی دور ہوگئی۔

ایک دوست نمیر بھٹی صاحب کہنے لگے کہ آج میری فیملی کی پہلی ملاقات تھی۔جب حضور انور کے چہرہ مبارک پرنظر پڑی تو آنکھیں چہرہ سے ہٹتی نہیں تھیں۔ملاقات سے باہر آکر ان پر کپکپی طاری تھی اور کہنے لگے کہ میرا جسم کانپ رہا ہے۔

ان کی اہلیہ جو پاکستان سے آئی تھیں بیان کرنے لگیں کہ خلیفہ وقت سے ملاقات ہم اکثر پاکستانیوں کے لئے محض ایک خواب ہے لیکن آج میرے لئے یہ خواب حقیقت میں بدل گیا۔حضور انور سے مل کر مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے میری زندگی ہی بدل گئی ہے۔

نداء عاقل صاحبہ جو پانچ سال قبل شادی کر کے پاکستان سے آئی تھیں کہنے لگیں کہ آج ہماری ملاقات تھی۔حضور انور کا پُر نور چہرہ دیکھ کر دل کی ایک ایسی حالت ہوئی کہ جو کہنا چاہتی تھی وہ بھول گئی۔بس حضور انور کے چہرہ کو ہی دیکھتی رہی۔

حضور انور میرے نانا جان ماسٹر ولی اللہ خاں صاحب کو جانتے تھے دوارن ملاقات میری بیٹی کی طرف دیکھ کرحضور انور نے فرمایا کہ یہ دو سال کی ہے؟عموماً لوگ سمجھتے میں کہ بیٹی کی عمر ابھی کم ہے لیکن ہم حضور انور کی اس بات سے حیران ہوگئے کیونکہ آج ہی ہماری بیٹی دو سال کی ہوئی ہے۔حضور انور نے ازراہ شفقت میری بیٹی کو دو سال کا ہونے پر دو چاکلیٹ عطا فرمائیں۔

ایک افریقین امریکن دوست عبدالودود ہاچر صاحب نے بیان کیا کہ انہوں نے تین سال قبل خلیفہ وقت کے ہاتھ پر لندن میں بیعت کی تھی۔آج اپنی فیملی کے ہمراہ ان کی یہ پہلی ملاقات تھی۔دوران ملاقات حضور انور سے عرض کیا کہ اگر شادی میں میاں بیوی میں بعض دفعہ ناچاقیاں پیدا ہو جائیں تو ان کو کیسے دور کیا جائے تو اس پر حضور انور نے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ میاں بیوی ایک دوسرے کی اچھائیوں پر نظر رکھیں اور خامیوں سے صرف نظر کریں تو ناچاقیاں پیدا ہی نہیں ہوتیں۔

ملاقاتوں کا یہ پروگرام نو بجے تک جاری رہا۔بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بیت العافیت میں تشریف لا کر نماز مغرب و عشاء جمع کر کے پڑھائیں۔نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضورا نور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے رہائشی حصہ میں تشریف لے گئے۔   

image_printپرنٹ کریں