skip to Main Content
سیدنا حضرت خلیفۃا لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر ہ العزیز کا دورہ امریکہ قسط نمبر 6

بالٹی مور میں ورود مسعود، بیت الصمد کی نقاب کشائی، نماز جنازہ، پریس کانفرنس اور بیت الصمد کا تعارف

(عبدالماجد طاہر۔ لندن)

20۔اکتوبر2018ء

(حصہ اول)

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صبح چھ بجکر پندرہ منٹ پر تشریف لا کر بیت العافیت فلاڈلفیا میں نماز فجر پڑھائی۔نماز کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

صبح حضور انور نے دفتری ڈاک اور رپورٹس ملاحظہ فرمائیں اور دفتری امور کی انجام دہی میں مصروفیت رہے۔

پروگرام کے مطابق دس بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بیت الذکر کے مردانہ ہال میں تشریف لائے۔بیت الذکر کے دروازے پر کینیڈا سے آنے والے دو بچے عزیزم فاران طارق اور عزیزہ سبیکہ طارق کھڑے تھے۔یہ دونوں آپس میں بہن بھائی ہیں،انہوں نے عرض کیا کہ ہم دونوں قرآن کریم حفظ کر رہے ہیں۔ حضور انور کے استفسار پر لڑکے نے بتایا کہ وہ ساڑھے سات پارے حفظ کر چکا ہے اور بچی نے بتایا کہ وہ ابھی دوسرا پارہ حفظ کر رہی ہے۔دونوں نے حضور انور سے پیار حاصل کیا۔

بعد ازاں حضور انور بیت الذکر کے اندر تشریف لے آئے۔جہاں مجلس عاملہ جماعت فلاڈلفیا کے ممبران نے حضور انور کے ساتھ گروپ فوٹو بنوانے کی سعادت پائی۔اس موقع پر مقامی جماعت کے بعض بزرگ افریقن امریکن احباب نے حضور انور سے شرف مصافحہ حاصل کیا۔

جب حضور انور بیت الذکرکے دروازہ سے باہر آنے لگے تو ایک نوجوان اپنے چھوٹے بیٹے کو اٹھائے ہوئے کھڑا تھا۔حضور انور نے ازراہ شفقت بچے کو پیار کیا اور اس کے رُخسار پر الیس اللہ بکاف عبدہ والی انگوٹھی لگائی۔اس پر وہ خوش نصیب نوجوان خوشی سے پھولا نہ سماتا تھا۔

بعد ازاں حضور انور بیت الذکر کے بیرونی احاطہ میں تشریف لے آئے۔جہاں احباب جماعت مرد و خواتین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔بچیاں گروپس کی صورت میں دعائیہ نظمیں اور گیت پڑھ رہی تھیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے بیت الذکر کے بیرونی احاطہ میں دو پودے لگائے۔بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزاپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

آج یہاں سے پروگرام کے مطابق بالٹی مور (Balti More)اور وہاں بیت الصمد کا افتتاح اور پھر واشنگٹن روانگی کا پروگرام تھا۔

پہلے احمدی جارج بیکر

روانگی سے قبل امریکہ کے پہلے احمدیDr.Anthony George Baker  کی  قبر پر دعا کا پروگرام بھی تھا۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے موصوف کا ذکر اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 19۔اکتوبر2018ء میں فرمایا تھا۔

حضرت مسیح موعود نے اپنی کتاب میں جارج اے بیکر کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے۔

ایسا ہی اور کئی انگریز ان ملکوں میں اس سلسلہ کے ثناخواں ہیں اور اپنی موافقت اس سے ظاہر کرتے ہیں۔ چنانچہ ڈاکٹر بیکر جن کا نام اے جارج بیکر نمبر404سیس کوئی ھاناایوینیو (Susquehanna Avenue)فلاڈلفیا امریکہ، میگزین ریویو آف ریلیجنز میں میرا نام اور تذکرہ پڑھ کر اپنی چٹھی میں یہ الفاظ لکھتے ہیں’’مجھے آپ کے امام کے خیالات کے ساتھ بالکل اتفاق ہے ۔انہوں نے دین حق کو ٹھیک اس شکل میں دنیا کے سامنے پیش کیا جس شکل میں حضرت نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کیا تھا‘‘

اخبار الفضل 22جولائی 1920ء میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی امریکہ سے بھجوائی ہوئی درج ذیل رپورٹ شائع ہوئی جس میں آپ نے فلاڈلفیا کے ڈاکٹر بیکر کے دین حق قبول کرنے کا ذکر کیا ہے۔

عاجز راقم کو ان تھوڑے سے ایام میں جو ملک امریکہ میں داخل ہوئے گزرے ہیں باوجود بڑی مشکلات اور رکاوٹوں کے جو متعصب عیسائیوں کی طرف سے پیش آئیں۔معتدبہ کامیابی حاصل ہوئی۔اس وقت 29نئے جنٹلمین اور لیڈیاں عاجز کی (دعوت الی اللہ) سے داخل دین متین ہو چکے ہیں جن کے اسماء گرامی مع جدید (۔)نام درج ذیل ہیں۔

نمبر 2,1ڈاکٹر جارج بیکرو مسٹر احمد اینڈریسن یہ ہر دو صاحبان ایک عرصہ سے عاجز کے ساتھ خط و کتابت رکھتے تھے اور مدت سے(۔)ہو چکے ہوئے ہیں۔مخلص (احمدی)ہیں۔میں ضروری سمجھتا ہوں کہ ان کا نام اس فہرست میں سب سے اول رکھا جائے۔بعد میں آپ نے رپورٹ میں دوسرے افراد کا ذکر کیا ہے۔

ڈاکٹر بیکر کی وفات 1918ء میں ہوئی۔مقامی جماعت نے متعلقہ اداروں سے رابطہ کر کے اور سو سال کا پرانا ریکارڈ دیکھ کر ان کی قبر تلاش کی ہے۔موصوف فلاڈلفیا کے ایک قبرستان Laural Hillمیں دفن ہیں۔

حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز گیارہ بج کربیس منٹ پر اپنی رہائش گاہ سے باہر تشریف لائے۔حضور انور کو الوداع کہنے کے لئے احباب جماعت مرد و خواتین کی ایک بڑی تعداد صبح سے ہی بیت العافیت کے بیرونی احاطہ میں جمع تھی۔بچیاں گروپس کی صورت میں الوداعی نظمیں پڑھ رہی تھیں۔حضور انور نے دعا کروائی اور اپنا ہاتھ بلند کر کے سب کو السلام علیکم کہا اور یہاں سے روانگی ہوئی۔پولیس کی گاڑیاںقافلہ کو Escortکر رہی تھیں۔

گیارہ بجکر 35منٹ پر حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ قبرستان میں تشریف لائے اور مرحوم کی قبر پر دعا کی اور اس موقع پر صدر صاحب جماعت فلاڈلفیا مکرم مجیب اللہ چوہدری صاحب سے استفسار فرمایا کہ آپ نے مرحوم کی قبر کس طرح دریافت کی ہے۔اس پر موصوف نے بتایا کہ حضرت مسیح موعود نے اپنی کتاب میں جہاں ان کا ذکر کیا ہے وہاں ان کے گھر کا مکمل ایڈریس بھی لکھاہوا ہے۔چنانچہ اس ایڈریس کی بدولت جو یہاں قریبی قبرستان ہے وہاں کی انتظامیہ اور کونسل وغیرہ سے رابطہ کر کے سو سال پرانا ریکارڈ نکلوا کر یہ قبر تلاش کی گئی ہے۔

مرحوم ڈاکٹر جارج بیکر صاحب کے تصور اور وہم و گمان میں بھی یہ نہیں ہوگا کہ جس مسیح کی اس نے تصدیق کی ہے اور اُسے قبول کیا ہے کبھی اس کاکوئی خلیفہ سو سال بعد اس کی قبر پر آئے گا اور اس کے لئے دعا ہوگی۔

بعد ازاں یہاں سے روانگی ہوئی۔شہر سے باہر جانے کے لئے وہ راستہ اختیار کیا گیا تھا جو ساحل سمندر کے اس حصہ سے گزرتا تھاجہاں بحری جہاز لنگر انداز ہوتے ہیں اور1920ء میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب کا جہاز اسی پورٹ پر لنگر اندازہوا تھا۔جہاں آپ کو جہاز سے اترنے کے بعد قید کر لیاگیا تھا۔یہاں حضور انور چند لمحات کے لئے رکے۔انتظامیہ نے بتایا کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں حضرت مفتی محمد صادق صاحب کو قید کیا گیا تھا۔بعد ازاں پولیس کے Escortمیں بالٹی مور کی طرف سفر جاری رہا۔

Pennsylvaniaسٹیٹ کی حدود میں یہاں کی پولیس نے Escort کیا اس کے بعد جب Delawerfسٹیٹ میں داخل ہوئے تو وہاں کی پولیس نے قافلہ کو Escortکیا۔ پھرMary Land سٹیٹ میں داخل ہوئے تو یہاں کی پولیس نے قافلہ کو Escortکیا۔بالٹی مور، میری لینڈ اسٹیٹ میں ہے۔جب بالٹی مور شہر کے قریب پہنچے تو پولیس کاایک ہیلی کاپٹر بھی سیکیورٹی کی ڈیوٹی پر تھا اور مسلسل قافلہ کے اوپر اور بیت الذکر کے ایریا میں چکر لگاتا رہا۔

بالٹی مور میں ورود مسعود

ایک بجکر پچاس منٹ پر حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی بیت الصمد تشریف آوری ہوئی۔ حضور انور پہلے مشن ہائوس کے رہائشی حصہ میں تشریف لے آئے۔یہ یہاں کے مربی سلسلہ کا گھر ہے۔یہاں عارضی قیام کا انتظام کیا گیا تھا۔

اڑھائی بجے حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بیت الصمد تشریف لائے جہاں احباب جماعت مرد و خواتین کی ایک بڑی تعداد نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا بھر پور استقبال کیا۔پُر جوش انداز میں نعرے بلند کئے بچوں اور بچیوں کے گروپس نے خیر مقدمی گیت پیش کئے۔جماعت بالٹی مور(Baltimore)کے لئے آج کا دن کسی عید سے کم نہیں تھا۔آج کا مبارک دن ان کے لئے بہت خوشیاں اور برکتیں لے کر آیا تھا۔حضور انور کے مبارک قدم ان کی سرزمین پر پہلی بار پڑ رہے تھے۔مرد و خواتین بچے بچیاں صبح سے ہی اپنے پیارے آقا کے استقبال کے لئے جماعت کے سینٹر بیت الصمد پہنچنا شروع ہوگئے تھے۔بالٹی مور کی مقامی جماعت کے علاوہ اردگرد کی جماعتوں سے احباب بڑی کثرت سے پہنچے تھے۔بعض احباب تو بڑی دور کی جماعتوں سے دو دو تین تین ہزار میل کا بڑا لمبا سفر طے کر کے آئے تھے۔حضور انور کا استقبال کرنے والوں کی تعداد ایک ہزار آٹھ صد کے لگ بھگ تھی۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنا ہاتھ بلند کر کے ان کے نعروں کا جواب دے رہے تھے۔

بیت الصمد کی نقاب کشائی اور معائنہ نمائش

حضور انور نے بیت الذکر کی بیرونی دیوار میں نصب تختی کی نقاب کشائی فرمائی اور دعا کروائی۔

بعد ازاں حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بیت الذکر سے ملحقہ لابی (Lobby)میں تشریف لے آئے اور تصاویر کی نمائش کا معائنہ فرمایا۔اس لابی میں مختلف حصوں میں دیوار پر تصاویر آویزاں کی گئی تھیں۔

 تصاویر کی اس نمائش کے پانچ حصے ہیں۔پہلا حصہ بیت الصمد کی تصاویر اور امریکہ میں تعمیر ہونے والی بعض دوسری بیوت الذکر کی تصاویر پر مبنی ہے۔

دوسرا حصہ دنیا بھر میں جماعت احمدیہ کی تعمیر  ہونے والی بعض بیوت الذکر پر مبنی ہے۔

تیسرا حصہ جماعت احمدیہ امریکہ کی مختصر تاریخ نیز جماعت امریکہ کے فلاحی پروگراموں پر مشتمل ہے۔

چوتھا حصہ خلفائے احمدیت کے امریکہ کے دورہ جات پر مشتمل ہے جبکہ پانچواں حصہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے مختلف اقوام اور ممالک کے لیڈران کی ملاقات اور حضورا نور کے مختلف ممالک میں ایڈریسز پر مشتمل ہے۔

نمائش کے معائنہ کے دوران ہی بالٹی مور میں مقیم ایک پرانے افریقن امریکن احمدی نے حضور انور سے شرف مصافحہ حاصل کیا۔موصوف نے1960ء میں بیعت کی تھی۔موصوف نے امسال جلسہ سالانہ یو کے پر آنے کا پروگرام بنایا تھا کہ زندگی میں ایک دفعہ حضور انور سے مل لوں۔لیکن اپنی بیماری اور تکلیف کے باعث سفر کے قابل نہ ہو سکے۔آج اللہ تعالی نے ان کی خواہش ان کے گھر میں پوری کر دی۔موصوف بہت خوش تھے اور ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں۔

تعارف بیت الصمد

بعد ازاں حضور انور بیت الذکر کے مردانہ ہال میں تشریف لے آئے اور معائنہ فرمایا۔اس کے بعد حضور انور نے جماعتی کچن اور ڈائننگ ہال کا بھی معائنہ فرمایا ۔آخر پر حضور انور نے بیت الذکر کے بیرونی حصہ کا بھی معائنہ فرمایا اور صدر صاحب جماعت بالٹی مور ڈاکٹر فہیم یونس قریشی صاحب سے اس تعمیر پر ہونے والے اخراجات کے حوالہ سے دریافت فرمایا۔جس پر موصوف نے عرض کیا کہ چرچ کی عمارت کی خرید اور اس کو Renovateکر کے بیت الذکر کی عمارت میں تبدیل کرنے پر بیس لاکھ ڈالر کے لگ بھگ خرچ ہوئے ہیں۔اس کے بہت سے حصے تبدیلی کی صورت میں نئے سرے سے تعمیر ہوئے ہیں۔

یہ عمارت اگست2015ء میں خریدی گئی۔جنوری2017ء سے نومبر2017ء تک اسے Renovateکر کے اور بعض حصے نئے سرے سے تعمیر کر کے بیت الصمد کی شکل میں تبدیل کیا گیا۔

بیت الصمد کا کل مسقف حصہ 13ہزار مربع فٹ پر مشتمل ہے۔مردوں اور عورتوں کے نماز پڑھنے کے علیحدہ علیحدہ ہال ہیں۔جن میں چار صد کے لگ بھگ لوگ نماز پڑھ سکتے ہیں۔

دو ڈائننگ ایریا بھی موجود ہیں۔دفاتر بھی بنائے گئے ہیں۔ان کے علاوہ دو کانفرنس روم بھی ہیں۔اس بیت الذکر میں دو لائبریریاں قائم کی گئی ہیں۔ایک کمرشل کچن موجود ہے۔اس کے علاوہ ایک ریگولر کچن بھی ہے ۔چار کلاس رومز بھی ہیں جہاں بچوں کی تعلیمی و تربیتی کلاسز ہوتی ہیں۔ایک اعلیٰ پائے کا Audio Video System بھی بیت الصمد میں نصب کیا گیا ہے۔

اطفال و ناصرات کے لئے بلڈنگ کے اندر کھیلنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔یہ بیت الذکر ایک ہائی وے کے اوپر واقع ہے جہاں روزانہ گزرنے والی 35ہزار گاڑیوں کے مسافر ا س بیت الذکر کو دیکھتے ہیں۔اس بیت الذکر کے بیرونی احاطہ میں ایک صد سے زائد گاڑیوں کی پارکنگ کی گنجائش بھی موجود ہے۔

نماز جنازہ حاضر

بیت الصمد کے معائنہ کے بعد حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بیت الذکر کے بیرونی احاطہ میں درج ذیل دو خواتین کی نماز جنازہ حاضر پڑھائی اور ان کے لواحقین سے اظہار تعزیت فرمایا۔

1۔ مکرمہ صدیقہ سمیع صاحبہ آف سینڑل ورجینیا کی وفات 17۔اکتوبرکو ہوئی۔آپ طفیل ملک صاحب کی بیٹی تھیں۔جنہیں حضرت مصلح موعودکے ہاتھ پر بیعت کرنے کا شرف عطا ہوا ۔ مرحومہ کی شادی میجر(ریٹائرڈ)عبدالسمیع صاحب مرحوم کے ساتھ ہوئی۔جو حضرت منشی اسماعیل صاحب سیالکوٹی کے پوتے تھے۔مرحومہ خلافت سے محبت کرنے والی اور نمازوں کی پابند نیک خاتون تھیں۔مرحومہ نے اپنے پیچھے تین بیٹے اور دو بیٹیاں یاد گار چھوڑی تھیں۔

2۔ مکرمہ کوثر پال صاحبہ آف سینٹرل ورجینیا کی وفات 18۔اکتوبر2018ء کو ہوئی۔آپ منصور احمد پال صاحب مرحوم کی اہلیہ تھیں۔گزشتہ چھ ماہ سے بیمار تھیں۔

مرحومہ موصیہ تھیں ا ور ان کا جماعت سے گہری وابستگی کا تعلق تھا آپ کے بیٹے فوزان پال صاحب مقامی جماعت میں بطور جنرل سیکرٹری اور زعیم مجلس انصارا للہ خدمت کی توفیق پار ہے ہیں۔آپ کی ایک بیٹی دردانہ اقبال صاحبہ بھی ہیں۔

نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بیت الذکر میں تشریف لے آئے اور نماز ظہر و عصر جمع کر کے پڑھائیں۔نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز لجنہ کے ہال میں تشریف لے گئے۔جہاں خواتین شرف زیارت سے فیضیاب ہوئیں۔

بعد ازاں حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بیت الذکر کے بیرونی احاطہ میں پودا لگایا۔

اس کے بعد مجلس عاملہ جماعت بالٹی مور،مجلس عاملہ انصاراللہ اور مجلس عاملہ خدام الاحمدیہ بالٹی مور نے علیحدہ علیحدہ حضور انور کے ساتھ تصاویر بنوانے کا شرف پایا۔

خواتین کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث پارکنگ ایریا میں خواتین کے لئے ایک مارکی لگائی گئی تھی۔حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ازراہ شفقت اس مارکی میں بھی تشریف لے گئے۔خواتین نے نعرے بلند کئے اور اپنے پیارے آقا کے دیدار سے فیضیاب ہوئیں۔

بعد ازاں تین بجکر پندرہ منٹ پر حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز رہائشی حصہ میں تشریف لے آئے۔

پروگرام کے مطابق پانچ بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائش گاہ سے باہر تشریف لائے اور Hilton Hotelبالٹی مور کے لئے روانگی ہوئی۔جہاں بیت الصمد کے افتتاح کے حوالہ سے ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا۔پولیس کی پانچ گاڑیوں نے قافلہ کو Escortکیا۔

پانچ بجکر بیس منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ہوٹل تشریف آوری ہوئی۔

پریس کانفرنس

پروگرام کے مطابق پانچ بجکر 45منٹ پر حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کانفرنس روم میں تشریف لائے۔جہاں پریس کانفرنس کا انعقاد ہوا۔اس پریس کانفرنس میں Religious News Service (RNS)کے تین جرنلسٹ  اورنمائندےTom GallangherاورAysha khan,Jack Jenkinsموجود تھے۔

اس کے علاوہSteiner Radio Show کے نمائندے اور جرنلسٹMarc Steiner بھی شامل تھے۔

National Public Radio (NPR) کے جرنلسٹ اور نمائندے Jerome Socolonvskبھی شامل تھے۔

  • ایک جرنلسٹ نے سوال کیا کہ اب امریکہ میں مڈٹرم انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔آپ مختلف سیاستدانوں سے بھی ملتے ہیں۔کیا آپ کا ان انتخابات کے حوالہ سے اپنی جماعت کے لئے یو ایس اے کیلئے کوئی پیغام ہے؟

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ سیاست کے حوالہ سے کبھی بھی میں متجسس نہیں رہا۔لیکن یو کے کا شہری ہونے کے لحاظ سے میں اپنا ووٹ کاسٹ کر تا ہوں۔جماعت کے لئے تو یہی پیغام ہے کہ ہمیشہ یہ کوشش کریں کہ ایسے لوگوں کو منتخب کریں جن میں عاجزی ہو اور جو اپنے انتخابی حلقہ میں خدمت کا جذبہ رکھتا ہو۔یہ وہ پیغام ہے جو قرآن کریم نے ہمیں دیا ہے کہ ایسے لوگوں کا انتخاب کرو جو بہتر انداز میں تمہاری خدمت کر سکتے ہیں۔آنحضرتﷺ  نے فرمایا ہے کہ قوم کا سردار قوم کا خادم ہوتا ہے۔تو ہم تو اسی کو منتخب کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو قوم کی بہتر رنگ میں خدمت کر سکتا ہے یا جسے ہم سمجھتے ہیں کہ وہ بہتر خدمت کرے گا۔

  • ایک جرنلسٹ نے سوال کیا کہ جماعت احمدیہ یوایس اے میں اور دیگر ملکوں میں قائم احمدیہ جماعتوں میں کیا بڑا فرق ہے؟

اس سوال کے جواب میں حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:۔

ہم احمدی ہر جگہ ایک جیسے ہیں۔جو احمدی ہوتا ہے آپ اس کے اخلاق و اطورارمیں فوری ایک تبدیلی دیکھتے ہیں اور بعض میں تو حیرت انگیز انقلاب آجاتا ہے۔اسی وجہ سے میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ احمدیوں کی سوچ، ان کی فکر ان کانکتہ نظر ہر جگہ ایک سا ہے۔چاہے وہ یو ایس اے میں ہوں یا نارتھ امریکہ، ساؤتھ امریکہ یا یورپ، یوکے،یا ایشیا عرب ممالک یا افریقہ میں ہوں۔یہ اس لئے ہے کہ ہم (دین حق) کی سچی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں۔جیسا کہ ملک کی خدمت کرنا،قانون کی پابندی کرنا اور ملک سے وفاداری اور سب سے بڑھ کر ہمیشہ یہ سوچ رکھنا کہ اللہ تعالیٰ ہر آن دیکھ رہا ہے۔جو بھی وہ کر رہے ہیں جو بھی ان کے اعمال ہیں اللہ تعالیٰ انہیں دیکھ رہا ہے۔اگر یہ خصوصیات لوگوں میں ہوں گی تو ان کا معیار زندگی ایک جیسا ہی ہوگا۔

  • ایک صحافی نے عرض کیا کہ میرا سوال فوج سے متعلق ہے۔میں نے احمدی اور دیگر (۔)فوج میں دیکھے ہیں۔ان میں سے اکثر……کمیونٹی میں رابطوں کو بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایسے لوگ جنہوں نے فوج میں خدمت کی ہوئی ہے وہ زیادہ آگے آئیں اور حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی کو شش کریں۔

اس سوال کے جواب میں حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ اصل بات یہ ہے کہ ملک کا شہری ہونے کے ناطے سب سے پہلی ذمہ داری ملک سے وفاداری ہے۔دین حق کہتا ہے کہ ہر شخص اپنے ملک سے مخلص ہو۔تو ایسے لوگ صرف فوج میں ہی نہیں دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ ہیں جو(۔)اور غیر(۔) میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔جیسا کہ میرا تو فوج سے کوئی تعلق نہیں ہے، میں بھی یہ کوشش کر رہا ہوں اور دیگر احباب جماعت بھی کرتے ہیں۔اگر آپ(دین)کی حقیقی تعلیمات پر عمل کر رہے ہیں تو(دین حق)کہتا ہے کہ ایک دوسرے سے باہمی پیار ومحبت اور ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہوئے زندگی بسر کرو۔دین میں کوئی جبر نہیں ہے اور ایک دوسرے کے مذہب کا احترام کرو۔(دین حق)کی تعلیم ہے۔اس حوالہ سے اس قدر تاکید ہے کہ قرآن کریم میں آتا ہے کہ دیگر مذاہب کے بتوں کو بھی برا بھلا نہ کہو،کیونکہ وہ ردعمل میں اللہ تعالیٰ کی ذات کے حوالہ سے بھی کچھ برا بھلا کہیں گے اور اس کی وجہ سے معاشرے میں بے چینی پھیلے گی۔تو یہ تو (دین حق)کی بنیادی تعلیم کا حصہ ہے کہ معاشرے میں باہمی محبت کی فضا قائم کرو۔انسانیت اور انسانی اقدار کو اولین ترجیح ہو۔ہم سب اپنے خدا کی تعلیمات پھیلانے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ تمام عالمین کو رزق فراہم کرنے والا ہے۔قطع نظر اس سے کہ آپ کا مذہب کیا ہے،(۔) ہیں، یا یہودی ہیں یا عیسائی ہیں یا ہندو ہیں یا لامذہب ہیں یا دہریہ ہیں، سب کی اللہ تعالیٰ پرورش کر رہا ہے۔جب اللہ تعالیٰ ہی سب کا رب ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس کی مخلوق آپس میں لڑیں۔تو اس حوالہ سے صرف فوج میں خدمت کرنے والوں کو ہی نہیں بلکہ بطور (۔) ہر ایک کو کوشش کرنی چاہئے۔

  • ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ پریشان ہوتے ہیں جب دیگر مسلمان آپ کو غیر مسلم کہتے ہیں؟

اس کے جواب میں حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:۔

یہ تو ایمان کا معاملہ ہے۔آنحضرتﷺ کی ایک پیشگوئی ہے کہ آخری زمانہ میں ایک شخص مبعوث ہوگا جو(دین حق)کو دوبارہ سے زندہ کرے گا۔اس تاریک دور میں (دین حق) اور قرآن کریم کی تعلیمات تو ہوں گی لیکن (۔) حقیقی تعلیمات سے دور ہٹ جائیں گے اور ان کی تعلیمات سے اپنے اپنے مطالب نکالیں گے۔تو ایسے دور میں ایک مصلح پیدا ہوگا اور وہ مسیح موعود اور مہدی معہود ہوگا۔ہم یقین رکھتے ہیں کہ یہ پیشگوئی بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی …کے وجود  میں پوری ہو چکی ہے۔

…جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ہمیں اس مخالفت سے کوئی پریشانی ہے۔ہرگز نہیں۔ہم تو دن بدن ترقی کر رہے ہیں۔ان کے گروہ سے لوگ نکل نکل کر جماعت میں داخل ہو رہے ہیں۔ہر سال ہماری جماعت میں لاکھوں افراد کا اضافہ ہو رہا ہے ہم ایک مذہبی جماعت ہیں، ہم یقین رکھتے ہیں کہ ایک دن آئے گا کہ ہم لوگوں کے دل جیت لیں اور ان شاء اللہ اقلیت سے اکثریت میں آجائیں گے۔

  • ایک سوال یہ کیا گیا کہ لوگوں کے مابین امن اور محبت کی فضا قائم کرنے کے لئے آپ احمدیہ جماعت کا کیا رول دیکھ رہے ہیں؟

اس حوالہ سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔

)دین)کی حقیقی تعلیمات پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور (دین حق)کا مطلب ہی امن،محبت اور ہم آہنگی ہے۔ہم ہر جگہ امن پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔مختلف پروگرام منعقد کر رہے ہیں،پریس کانفرنسز،سیمینارز، سمپوزیم وغیرہ منعقد کر رہے ہیں اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو بھی ساتھ شامل کر رہے ہیں۔اس کا مقصد یہی ہے کہ ہم اس دنیا میں امن اور محبت کی فضاء قائم کریں۔میں بھی اسی مقصد سے مختلف ممالک میں جاتا ہوں۔میں خود بھی لیکچرز اور تقاریر کرتا ہوں اور حقیقی(دینی)تعلیمات کا بتاتا ہوں، ا یسی تعلیمات جن کے ذریعہ امن و ہم آہنگی کا قیام ممکن ہو سکتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ایک سچے (۔)میں قوت برداشت کا معیار بہت بلند ہونا چاہئے اور ہم اسی نہج پر اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔یہ پریس کانفرنس چھ بجکر پانچ منٹ تک جاری رہی۔

image_printپرنٹ کریں