skip to Main Content
سیدنا حضرت خلیفۃا لمسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر ہ العزیز کا دورہ امریکہ  قسط نمبر  9

بیت الصمد بالٹی مور کی افتتاحی تقریب سے حضور انور کے متاثر کن خطاپ پر مہمانوں کے تاثرات کا بقیہ حصہ

(عبدالماجد طاہر۔ لندن)

20۔اکتوبر2018ء

)حصہ چہارم)

حضور انور کے خطاب پر مہمانوں کے تاثرات

ایک اور مہمان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا، ایک بہت ہی شاندار پیغام تھا۔میں ہندو ہوں لیکن میں یہاں آیا ہوں،کیونکہ ہم سب انسان ہیں، ہمیں اکٹھے مل کر کام کرنا ہے۔مجھے یہاں آکر اور ایسا پیغام سن کر بہت خوشی ہوئی ہے۔

  • بلال علی صاحب (Representative of State from 41 District)بھی اس پروگرام میں شامل تھے۔انہوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

حضور انور نے جو پیغام دیا ہے اس کی گونج یہاں تمام افراد میں سنائی دے رہی ہے۔باہمی اتحاد، یگانگت، محبت اور پیار کی فضا قائم کرنے میں یہ پیغام بہت اہم ہے۔(دین حق)کے خلاف جو تحفظات پائے جاتے ہیں، انہیں دور کرنے میں بہت مدد ملے گی۔آپ کا موٹو’محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں‘ایسا پیغام ہے جو ہم سب کے لئے ایک قابل قبول ماٹو ہے۔حضور انور نے بروقت بہت سے مسائل کا حل ہمیں بتا دیا ہے۔خاص کر یہاں کے حالات میں جہاں کافی حد تک سیاسی بیانیہ بھی (۔)کے خلاف جذبات ابھار رہا ہے،حضور انور جیسے اعلیٰ وجود کی یہاں آمد اور ان امور کے حوالہ سے رہنمائی بہت ہی اچھا قدم ہے۔آپ نے ایسے ماحول میں بہت ہی پُر حکمت ،دلائل سے پُر پیغام دیاہے،جس سے کوئی بھی عقل رکھنے والا انکار نہیں کر سکتا ہے۔میں نے معاشرہ میں امن قائم کرنے کا بہت آسان حل سیکھا ہے،وہ یہ کہ اپنے گھر سے شروع کریں، ہمسایوں سے حسنِ سلوک کریں، آپ کو تمام دنیا کو بدلنے کی ضرورت نہیں ہے، صرف وہ افراد جن سے آپ ملتے جلتے ہیں، ان میں پیار بانٹیں، ان کی خدمت کریں تو تمام معاشرہ پُر امن ہو جائے گا۔یہ ایک بہت ہی آسان نسخہ ہے۔(دین حق)کہتا ہے کہ دعوتِ حق کرو۔اصل دعوتِ حق تو آپ کا اپنا نمونہ ہے۔اگر آپ کا اپنا نمونہ اچھا ہے تو پھر تمام کام آسان ہو جاتے ہیں۔بالٹی مور میں حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے احمدیہ جماعت میدان میں آئی ہے اور معاشرے میں ایک مثبت کردار ادا کرنے کے لئے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے۔یہ بہت ہی قابل تقلید نمونہ ہے۔لیکن آپ کے اچھے کام یہاں پر میڈیا میں اتنے پیش نہیں کئے جاتے اور ان کاموں کو سراہا نہیں جاتا۔میں ہر حال میں آپ لوگوں کے ساتھ ہوں۔

  • ڈسٹرکٹ48سے سٹیٹ نمائندہ بھی اس پروگرام میں شریک تھیں۔انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ میں اس خطاب سے بہت متاثر ہوئی ہوں۔خاص کر ایسے حالات میں جب (۔)کے حوالہ سے معاشرے میں خوف پایا جاتا ہے اور اس ملک میں نسلی بنیادوں پر تفریق ہے، ان حالات میں مجھے بہت خوشی ہے کہ حضور انور نے ہمیں اپنی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔آپ نے ہمیں بتایا کہ ہر ایک سے محبت کرو اور کسی سے نفرت نہ کرو۔یہی وہ باتیں ہیں جو ہمیں چاہئیں،محبت، امن،انصاف، بالٹی مورکو یہ اعلیٰ اقدار حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔میں آپ کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ آپ یہاں تشریف لائے ہیں اور اس اہم پیغام کی طرف ہماری توجہ مبذول کروائی ہے۔

  • ان کے خاوند نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

جیسا کہ میری اہلیہ نے کہا کہ۔ یہ ہمارے لئے بہت ہی اہم پیغام ہے۔حضور انور کی موجودگی ہمارے لئے بہت اعزاز کی بات ہے۔ہم خود کوشش کر کے جتنی بھی معاشرے کی بہتری کی باتیں کرلیں،ان کا اتنا اثر نہیں ہو سکتا جتنا حضور انور کی موجودگی سے ہوا ہے۔احمدیہ کمیونٹی صرف یہاں ہی بلکہ تمام یو ایس اے میں ایک شاندار کردار ادا کر ہی ہے۔ہم دونوں عیسائی ہیں اور ہمارے بہت سے (۔)دوست ہیں اور ان سے بہت اچھا گہرا تعلق ہے۔آپ سب کی کاوشوں کا بہت شکریہ۔

  • ایک عمر رسیدہ خاتون نے اپنے جذبات کا اظہارکرتے ہوئے کہا:

میں نے حضور انور سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ یہ پیغام یو ایس اے کے لئے بہت اہم پیغام تھا۔میری خواہش ہے کہ یو ایس اے میں مزید بھی ایسی بڑی شخصیات ہوں جو امن کے قیام کے لئے اپنا کردار ادا کریں، جیسا کہ حضور انور کوشش کر رہے ہیں۔آپ کا بہت شکریہ۔

  • ایک مہمان عمیرہ قاضی صاحبہ نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

ایک فیملی فرینڈ نے ہمیں یہاں آنے کی دعوت دی تھی اور میں اسی تجسس میں یہاں آئی تھی کہ جا کر احمدیوں کا پروگرام دیکھوں۔میں حضور انور کی شخصیت سے بہت متاثر ہوئی ہوں، حضورانور کا پیغام بہت اہم تھا۔حضور انور نے جو ہمیں یقین دلایا ہے کہ یہ (بیت الذکر) اپنے مقاصد پورے کرنے والی ہوگی، میں دیکھنا چاہتی ہوں کہ یہاں کی کیمونٹی اب کیسے ان مقاصد کو پورا کرتی ہے۔میں یہاں نمازیںپڑھنے آئوں گی۔میرے خیال میں آپ نے نہایت ہی موزوں وقت پر بڑے اچھے انداز میں ہمیں سمجھایا ہے۔ہمیںتمام اختلافات بھلا کر،مشترکہ باتوں پر اکٹھے ہو کر معاشرہ کی خدمت کرنی ہے۔میری خواہش تھی کہ ہمیں کوئی ایسا پلیٹ فارم ملے اور یہ پلیٹ فارم حضور انور نے ہمیں فراہم کر دیاہے۔میں سمجھتی ہوں کہ احمدیہ جماعت نے بہت شاندار کام کیا ہے اور میں اس کام کو مزید بڑھتا اور پھیلتا دیکھنا چاہتی ہوں۔

  • نیو جرسی سے ایک میڈیکل سٹوڈنٹ لیلیٰ قاضی صاحبہ بھی اس پروگرام میں شریک تھیں۔یہ کہتی ہیں:

حضور انور نے جو سب لوگوں کو ساتھ ملا کر کام کرنے کا ارشاد فرمایا ہے، یہ بہت ہی اہم پیغام ہے۔آپ نے فرمایا ہے کہ (بیت الذکر) لوگوں کے اکٹھے ہونے کی جگہ ہے، نہ صرف عبادت کرنے کے لئے بلکہ مل کر معاشرہ کی خدمت کرنے کے لئے۔میں اس پیغام سے بہت متاثر ہوئی ہوں۔خاص کر 11\9کے سانحہ کے بعد (۔)کو یہاں عجیب نظر سے دیکھا جاتا ہے، اسی طرح (دینی) (بیوت الذکر)کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔میرے خیال میں یہ بہت اچھا پروگرام تھا کہ غیر بھی جس میں مدعو تھے، تاکہ وہ خود آکر (بیت الذکر) کے مقاصد کے حوالہ سے کھل کر سوال کر سکیں اور اپنی تسلی کر سکیں۔حضورا نور نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ان کی جماعت معاشرے کی بہتری کے لئے بہت سے فلاحی کام کر رہی ہے، میرے خیال میں غیر  یہاں سے (دین حق) کے بارے میں بہت مثبت تصویر لے کر جائیں گے۔

  • مشعل صاحبہ جو کہ ایک پریسبیٹیرین چرچ میں منسٹر ہیں،اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں:

میں حضور انور کے امن کے پیغام سے بہت متاثر ہوئی ہوں۔حضور انور نے باہمی اتحاد، یگانگت پر زور دیا ہے اور خوف ختم کر کے محبت قائم کرنے کی طرف توجہ دلائی۔یہ پیغام بہت اہمیت کا حامل ہے۔(بیوت الذکر)کے قیام کے حوالہ سے آپ نے جو مقاصد بیان فرمائے ہیں، یہ بہت شاندار ہیں۔پھر حضور نے ہمسایوں سے حسن سلوک کی تعلیم کا بھی ذکر کیا ہے۔میرے لئے یہ نئی چیزیں ہیں۔میں بہت متاثر ہوئی ہوں۔مجھے آج معلوم ہواہے کہ عیسائیت میں جو پیار محبت کی تعلیم دی گئی ہے۔یہ تو وہی باتیں ہیں جبکہ میڈیا ایک الگ ہی چیز پیش کرتا ہے۔مجھے بہت خوشی ہے کہ حضور انورنے ہمیں یہ باتیں بتائی ہیں۔

  • ایک ہسٹورین ڈاکٹر فاطمہ صاحبہ بھی اس پروگرام میں مدعو تھیں۔یہ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں:

میری سپیشلائزیشن یو ایس اے میں (دین حق)ہے اور اس حوالہ سے میں نے یو ایس اے میں (دین حق)کی تاریخ پر کافی کام کیا ہوا ہے۔میں کوئی دینی سکالر نہیں ہوں، بلکہ صرف تاریخ دان ہوں۔اس حوالہ سے حضور انور نے جو یہ فرمایا ہے کہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب نے اس دور میں (دین حق) کی تجدید کی ہے، میرا ذہن اُسی طرف لگا ہوا ہے اور میں اب اس حوالہ سے مزید تحقیق کو بڑھائوں گی۔مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی ہے۔اب میری تحقیق کا محور نہ صرف مرزا غلام احمد قادیانی ہیں بلکہ آپ کی تحریرات اور ارشادات بھی ہیں، جن کے ذریعہ سے آپ نے یہ احیاء فرمایاہے۔حضور انور کا امن کا پیغام ایک حیرت انگیز پیغام ہے۔آپ نے (دینی) حسن سلوک کو دیگر مذاہب تک محدود نہیں رکھا بلکہ غیر مذہبی افراد سے بھی حسن سلوک کا ارشاد فرمایا ہے۔آپ کا نظریہ ہے کہ بلا تفریق رنگ و نسل اور مذہب ہم سب ایک ہو کربنی نوع انسان کی بھلائی کے لئے کام کریں۔کیا ہی شاندار پیغام ہے۔بطور(۔)ہمیں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اس لئے ایک عظیم (۔)کی جانب سے دینی تعلیم بیان کیا جانا ایک احسن قدم ہے۔مجھے خوشی ہے کہ میں اس پروگرام میں آئی ہوں۔دعوت دینے کا  بہت شکریہ۔

  • ایک خاتون نے کہا:

میں ہر اتوار کو چرچ میں دنیا کے امن کے لئے دعاکرتی ہوں۔حضور انور نے کہا ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کے قریب آنا ہے، ہمیں ایک دوسرے کو سمجھنا ہے نہ کہ ایک دوسرے کے مذہب و عقیدہ و قومیتوں سے خوف کھانا۔ہمیں ایسا ہی ہونے کی ضرورت ہے۔میں اسی لئے یہاں آئی ہوں۔میری خواہش ہے کہ میں حضور انور سے مل سکوں لیکن یہاں بہت سے افراد ہیں، شاید یہ میرے لئے ممکن نہ ہو۔

  • ایک طالبہ نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

حضور انورکے خطاب نے ہم میں ایک جان ڈال دی ہے۔مجھ میں یہاں آکر فخر کااحساس ہو رہا ہے۔حضور انور نے فرمایا کہ ہم سب انسان ہیںا ور حضوریہ بتانا چاہتے ہیں کہ جب ہم سب ایک جیسے انسان ہیں تو پھر ہم میں کسی قسم کی نفرت کی کوئی جگہ باقی نہیں رہتی۔پھر حضور نے فرمایا کہ ہمیں آج اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے کام کرنا ہے۔میرے لئے یہ باتیں بہت ہی تقویت ایمان کا باعث بنی ہیں۔بہت ہی متاثر کن خطاب تھا۔

  • کیپٹن جوزفCongerاپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:

میرا گزشتہ کچھ عرصہ سے جماعت سے رابطہ ہے اور یہ بہت ہی تعاون کرنے والی جماعت ہے۔یہ پروگرام بہت کامیاب رہا۔حضور انور کا خطاب بہت متاثر کن تھا۔ پرامن معاشرہ کے لئے ہمیں اعلیٰ قیادت کی ضرورت ہے۔جیسا کہ حضور انور کا وجود ہے۔

  • سیکرٹری آف سٹیٹJohn Robin Smithنے پروگرام کے بعد اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

حضور انور سے مل کر بہت اچھا لگا۔ڈنر پر حضور انور کے قریب بیٹھنا ایک بہت ہی اعزاز کی بات تھی۔اور دوسری طرف حضور انور کے بھائی تشریف فرما تھے۔میری دونوں سے بہت اچھی گفتگو ہوئی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ امن کا قیام اور دیگر مذاہب کا احترام کرنا ایک شاندار پیغام تھا۔میں نے گزشتہ چار سال سے دیکھا ہے کہ دیگر مذاہب سے رابطے کرنے کا کافی فائدہ ہوا ہے۔حضور انور نے جو نصائح کی ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ یہ تمام باتیں امن کے قیام میں اور معاشرے کی بہتری میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔بعض اوقات ہمارے معاشرے پر مشکل وقت بھی آتا ہے لیکن اچھے کام بھی ہو رہے ہیں، جیسا کہ آج کا پروگرام تھا۔میرا خیال ہے کہ ایسے پروگرام معاشرہ میں امن قائم کرنے کے لئے ناگزیر ہیں۔حضور انور کے پیغام نے معاشرہ میں امن کے قیام کے ہر پہلو کا احاطہ کیا ہے۔

  • پروگرام میں ایک پادری فادرJoeبھی شامل تھے۔یہ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:

حضور انور کا پیغام بہت اہم ہے۔یہ بہت ہی بروقت پروگرام تھا۔حضور انور کے خطاب کے دوران میں ایک ایک بات سے اتفاق کر رہا تھا کیونکہ میں بالٹی مور میں کئی مرتبہ احمدیہ بیت الذکر گیا ہوا ہوں اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ جو حضور انور نے فرمایا ہے گزشتہ چند سالوں سے دوسری بیت الذکر میں ہوتا دیکھ رہا ہوں۔احمدیہ بیت الذکر تمام کمیونٹی کے لئے کھلی ہے،میں کئی مرتبہ جمعہ پر بھی گیا ہوں۔جیسا کہ خلیفہ نے کہا ہے، میں ان تمام باتوں کے عملی اظہار کا گواہ ہوں۔مجھے یہ تمام باتیں سُن کر بہت خوشی ہوئی ہے۔یہاں جو مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے اکٹھے ہوئے ہیں اور امن کی بات کر رہے ہیں،یہی وہ بات ہے، جس کی نہ صرف ہمارے اس شہر کو بلکہ تمام دنیا کو ضرورت ہے۔میں خلیفہ سے اور احمدیہ جماعت سے بہت متاثر ہوا ہوں او رخواہش رکھتا ہوں کہ اور بہت سے ایسے مواقع پیدا ہوں جہاں احمدیہ جماعت اپنے عملی نمونہ سے معاشرے کوپُر امن بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کرتی رہے۔

  • ایک خاتون مہمان نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

اول تو یہ ایک شاندار شام تھی۔حضور انور کا وجود تو گھائل کر دینے والا ہے۔آپ کا ہر جملہ ایسا تھا کہ میں اس سے محظوظ ہور ہی تھی۔میں کئی مرتبہ اپنے علاقہ میں بیت الذکر گئی ہوں۔حضور انور کی باتیں سن کر احساس ہوتا تھا کہ آپ دل سے باتیں کر رہے ہیں۔آپ بیت الذکر کو امن، محبت اور بھائی چارہ کی جگہ قرار دے رہے تھے اور میں اس کی گواہ ہوں۔میں یہاں آکر بہت خوشی محسوس کر رہی ہوں۔میں دیگر عالمی رہنمائوں سے بھی مل چکی ہوں لیکن حضور انور کی ذات میں ایک جاذبیت ہے۔آپ کی دلی تمنا تھی اور محسوس ہورہاتھاکہ یہ شخص جو کچھ کہہ رہا وہ اس کے دل کی آواز ہے۔حضورا نور نہایت شفیق ہیں، آپ بہت نرم گو ہیں اور حقیقی طور پر دنیا میں امن چاہتے ہیں اور اس میں درپردہ کوئی ایجنڈا یا کوئی مخفی مقصد نہیں ہے۔

  • بالٹی مور کی مئیرCatherine Pughنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

حضور انور سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔پہلی چیز جو میں نے آپ کی شخصیت میں محسوس کی وہ یہ تھی کہ آپ کی موجودگی میں ایک روح پرور ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔آپ نے امن کے حوالہ سے بات کی ہے۔یہ وہ پیغام ہے، جو آج وقت کی ضرورت ہے۔نہ صرف ہمارے شہر میں بلکہ ہماری سٹیٹ اور پھر تمام یوایس اے اور تمام دنیا میں اس پیغام کی اشد ضرورت ہے۔میں سمجھتی ہوں کہ یہ پیغام ہرا یک کو سننا چاہئے۔اگر ہم سنیں گے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ دنیا کے مسائل کا واحد حل امن ہی ہے اور ہم ایک دوسرے سے محبت کرنا سیکھیں گے ۔مجھے آج یہاں آکر حضور انور سے ملاقات کر کے بہت خوشی ہوئی ہے۔حضور انور نے جو سب کو ساتھ ملا کر چلنے کا پیغام دیا ہے،یہ اہم ہے۔ہم محروموں کا خیال رکھنے کے لئے جو بھی قدم اٹھائیںگے اس کا اثر ہم سب پر پڑے گا۔باہمی محبت اور بھائی چارہ کا پیغام ہم سب کے لئے بہت اہم ہے۔ہمارے معاشرے میں اسلحہ بہت عام ہوگیا ہے، ہمیں ایک دوسرے کی تربیت کرنی ہے، ایک دوسرے کو سمجھانا ہے کہ زندگی قیمتی ہے، ہمیں اس کی قدر کرنی چاہئے اور ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنا چاہئے تاکہ معاشرہ میں امن قائم کر سکیں۔

  • ایک نیورولوجیسٹRobert Dewberry بھی پروگرام میں شامل ہوئے ۔یہ کہتے ہیں:

میں یہاں آکر بہت محظوظ ہوا ہوں۔ آپ کے روحانی امام کی تقریر بہت حوصلہ بخش اور دلوں کو گرمانے والی تھی۔خلیفہ نے عالمی پیغام دیا ہے۔خلفیہ کی شخصیت کو اگر ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو انہیں سراپا امن کہا جاسکتا ہے۔

  • بالٹی مور کائونٹی پولیس ڈیپارٹمنٹ سےChris keylاپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں:

آج کا پروگرام بہت شاندار تھا۔میں2015ء سے اس جماعت کو دیکھ رہا ہوں اور یہ مسلسل محبت، پیار اور امن کا پرچار کر رہے ہیں۔آج پہلی مرتبہ میں نے آپ کے امام سے بھی یہی باتیں سنی ہیں اور مجھے اندازا ہوا ہے کہ اصل پیغام کا منبع کیا ہے۔آپ کے امام کی عظیم شخصیت سے یہ اچھائیاں نکلتی ہیں اور پھرہر جگہ نچلی سطح پر ایک ایک احمدی میں سرایت کرتی ہیںاورپھر ہر ایک ان پر عمل کر کے دکھاتا ہے۔آپ کی یہاں آمد بہت ہی مفید ہے، گزشتہ چند سالوں سے یہاں کے حالات کچھ خراب رہے ہیں اور امن قائم کرنے والے اداروں کو بعض کمیونٹیز سے چینلنچز رہے ہیں۔خوشی ہے کہ اتنی بڑی شخصیات یہاںآئی ہیں اور سب کوامن کا پیغام دیا ہے اور ساتھ لے کر چلنے کی بات کی ہے۔حضور انور کی ذات کی نمایاں خصوصیت حضور کی عاجزی اور انکساری ہے۔

  • ایک مہمان نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

مجھے اس پروگرام سے پہلے بھی ملاقات کا شرف حاصل ہوا ہے۔میں نے حضور کی ذات میں عاجزی دیکھی ہے۔جیسے ہی حضور انور تشریف لائے، مجھے آپ کی شخصیت بارعب اور باوقار محسوس ہوئی۔آپ ہر ایک کی بات سننے والے ہیں۔آپ سے مل کرمحسوس ہوتا ہے کہ آپ بنی نوع انسان کا حقیقی درد رکھتے ہیں۔

  • ایک خاتون نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

میں حضورا نور کے قریب نہ تھی اور سکرین پر حضور انور کو پہلی مرتبہ دیکھا ۔آپ کودیکھتے ہی ایسے محسوس ہوا جیساکہ آپ کی ذات سے خدا تعالیٰ کا نور نکل رہا ہے۔میں نے بہت سے لوگوں کویہ تبصرہ کرتے دیکھا ہے اور میں خود اس کی گواہ ہوں۔آپ کی موجودگی میں خدائی نور نازل ہوتا محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔

  • Chuck Hart (Seargent Baltimore County) اپنے تاثرات کااظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں:

جماعت احمدیہ کے خلیفہ کا خطاب نہایت ہی مدلل اور طاقتور خطاب تھاجس میں انہوں نے یکجہتی اورمعاشرہ میں امن کے قیام اور مسلمانوں کی بیت الذکرکی اصل غرض پر روشنی ڈالی۔خلیفہ نے ان اعتراضات اور غلط فہمیوں کے بھی جوابات دیئے جو آج کل کے معاشرہ میں (۔)کی بابت پھیلائے جاتے ہیں۔خلیفہ کے خطاب سے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ واقعتاعلم ہی حقیقی طاقت ہے جس سے جہالت دور ہوتی ہے۔

  • Marie Marucciنے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا:

میں آپ کی جماعت کے شعبہ تعلیم کے لئے اعزازی تختیاں تیار کرتی ہوں۔لہٰذا میرا جماعت کے ساتھ پہلے سے ایک تعارف ہے۔حضرت خلیفۃالمسیح کو بذریعہMTAتو دیکھا ہوا تھا لیکن آج پہلی بار خلیفۃ المسیح کو بنفس نفیس دیکھ کربہت خوشی محسوس کر رہی ہوں۔حضور انور نے جو پیغام اپنے خطاب کے ذریعہ ہم تک پہنچایا ہے وہ نہایت ہی خوبصورت اور وقت کی نزاکت کے عین مطابق ہے۔

  • Russ Edwards (Government I.T Contractor)نے بیان کیا:

آج میں نے پہلی مرتبہ جماعت احمدیہ کے فنکشن میں شرکت کی ہے۔آپ کے خلیفہ کا پیغام بہت پسند آیا جس میں انہوں نے غیر مسلم افراد کو تسلی دلائی ہے کہ جماعت احمدیہ کی یہ بیت الذکر اس شہر میں امن کا ایک گہوارہ ثابت ہوگی۔

  • Grace Byerlyنے کہا:

میں ایک ریٹائرڈ پروفیسر ہوں اور تیس سال یہوداور(۔)کے ساتھ کام کرچکی ہوں۔آج دین کے خلفیہ کو دیکھ کر اور ان کے خطاب کو سُن کریوں محسوس ہوا جیسے ہماری کیتھولک کمیونٹی کے مذہبی رہنماپوپ ہم سے مخاطب ہوں۔خلیفہ کاخطاب یوں معلوم ہوتا تھا جیسے ظلمت کے پردے چاک کررہا ہو۔پس امید کرتی ہوںکہ لوگ خلیفہ کے خطاب کو سن کر جہالت کو ترک کر کے روشنی کے اس نئے دور میں داخل ہوں گے۔

  • Ann Hp (Nurse)نے اپنے تاثرات کاذکر ان الفاظ میں کیا کہ:

آپ کے خلیفہ کا خطاب سننے سے پہلے میں ان کی پروفائل انٹرنیٹ پرپڑھ چکی تھی۔لہٰذا بہت خوشی محسوس کر رہی ہوں کہ واقعتا جیسے خلیفہ صاحب کی شخصیت کی بابت انٹر نیٹ پہ پڑھا ہے ٹھیک ویسے ہی ان کی شخصیت کو نہایت نرم خو اورخوب سیرت پایا۔خلیفہ صاحب کا خطاب سمجھنے میں آسان لیکن دلوں پرا یک خاص اثر کرنے والا تھا۔جو پیغام انہوں نے اپنے خطاب سے ہم تک پہنچایا ہے اگر اس پر عمل کیا جائے تو یہ بات یقینی ہے کہ ہمارے شہر اور تمام معاشرہ میں امن قائم ہو سکتا ہے۔

  • Bill Millen(Retired Presbyterian Minister)نے بیان کیا کہ:

آج کی تقریب میں آپ کی جماعت کی طرف سے مہمان نوازی سے بہت متاثر ہوا ہوں۔آپ کے خلیفہ کی تقریر سن کر بہت اچھا لگا کہ آپ لوگ مذہب کو لے کر کھلے دل کے ساتھ بات کرنے کو تیار ہیں۔نیز خطاب میں خلیفہ صاحب نے اُن مسائل کا بھی ذکر کیا جو(۔)دنیامیں آج (۔)کو درپیش ہیں۔تقریر کے آخر پر خلیفہ صاحب کا یہ پیغام کہ  ہمیں مل کراپنے عمل اور دعا کے ذریعہ سے ایک ہو کر امن کے قیام کے لئے کوشش کرنے کی ضرورت ہے ایک ایسا اہم پیغام ہے کہ جس میں ہماری دنیا کی بقاء کے سامان ہیں۔

  • Elaine Crawford (Retired High School Math Teacher) نے اپنے تاثرات ان الفاظ میں بیان کئے :

خلیفہ صاحب کو دیکھ کر میں وثوق کے ساتھ یہ کہہ سکتی ہوں کہ ان کی شخصیت کی طرح ان کا پیغام بھی اخلاص سے پُر ہے۔خلیفہ کی اس دنیا میں امن کے قیام کی کوششیں ہم سب کے لئے ایک نمونہ ہیں۔ایک بات جس سے میں رنجیدہ ہوئی ہوں وہ یہ بات ہے کہ خلیفہ صاحب کو(۔)احباب کو خاص طور پر یہ تسلی دینی پڑی ہے کہ (دین حق)ایک پُر امن مذہب ہے اور یہ کہ ہمیں دین حق اور (۔)سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔لیکن میں یہ بھی امید کرتی ہوں کہ حضور اس بات سے آگاہ ہیں کہ ہماری اکثریت (۔)کو پُر امن مذہب ہی متصور کرتی ہے ۔

  • Carol Riceبیان کرتی ہیں کہ:

آج دین حق کے خلیفہ کاخطاب سن کر اور ان کو دیکھ کر ایک خاص اعزاز محسوس کر رہی ہوں کہ خدا کا ایک پیارا بندہ ہے جس نے ہم سے آج خطاب فرمایا ہے جو محض امن کی تعلیم دیتا ہے۔

  • Mary Ellen Vanniنے بیان کیا کہ:

آج کے اس پروگرام سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ دین حق واقعتا اپنے نام کی طرح امن پسند مذہب ہے۔دین حق کے خلیفہ جس طرز پر خطاب کرتے ہیں اور لوگوں سے ملتے ہیں اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ ایک نہایت ہی صاف دل شخصیت کے مالک ہیں۔خلیفہ صاحب کی باتیں دلوں پر ایک خاص اثر کرتی ہیں جو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔میں امید کرتی ہوں کہ ہمارے بالٹی مور شہر میں آپ کی اس بیت الصمد کے ذریعہ سے امیداور امن کی ایک نئی کرن جنم لے گی۔

  • Barbara Baumاپنے تاثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ:

میں آپ کی بیت الذکر آچکی ہوں۔بہت خوبصورت عمارت ہے۔آپ کے خلیفہ نے جو پیغام آج ہمارے شہر کے لوگوں کو دیا ہے وہ نہایت ہی خوبصورت پیغام ہے۔انہوں نے اپنے خطاب کے ذریعہ سے دین حق اور (۔)کے بارہ میں جو غلط تاثرات معاشرہ میں پھیلائے گئے ہیں ان کا نہایت خوبصورت طریق پر جواب دیا ہے۔اگر ہم ان کی بتائی ہوئی باتوں پر عمل کریں تو میں یقین رکھتی ہوں کہ دنیا ایک ایسے گھر کی مانند ہو جائے گی جہاں ہم سب برابر اور ایک ہوں گے۔

  • Rabbi Andrew Buschنے بیان کیا کہ:

جماعت احمدیہ کے خلیفہ کی شخصیت نہایت خوبصورت اور پُروقار ہے جو فوراًدل پر اثر کرتی ہے۔خلیفہ کی امن کے قیام کے لئے جوایک انتھک کوشش ہے میں اس کو دل کی گہرائیوں سے سراہتا ہوں۔

Father Joe Math نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا:

آپ کے خلیفہ کی شخصیت سے بہت متاثر ہوا ہوں۔ان کے آنے سے فضا پر ایک عجیب اثر چھاگیا تھا۔اُن کا پیغام بھی محبت اور اخلاص سے پُر تھا ۔آج نداء بھی سُنی جس نے دل پر ایک گہرا اثر چھوڑا ہے۔  

image_printپرنٹ کریں