skip to Main Content
سیدنا حضرت خلیفۃا لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر ہ العزیز کا دورہ امریکہ قسط نمبر  7

مختلف شخصیات کی ملاقاتیں، بیت الصمد کی افتتاحی تقریب اور مہمانوں کے ایڈریسز

(عبدالماجد طاہر۔ لندن)

۔اکتوبر2018ء

)حصہ دوم(

میری لینڈ کے سینیٹر کی ملاقات

بعد ازاں میری لینڈ (Maryland)کے ایک سینیٹرHon.Ben Cardinنے جو آج کے اس پروگرام میں شرکت کے لئے آئے ہوئے تھے،حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ملاقات کی۔

موصوف نے حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو خوش آمدید کہا اور کہا کہ ہم آپ کی بہت عزت کرتے ہیں۔آپ کی انٹرنیشنل لیڈر شپ کا احترام کرتے ہیں۔آپ نے خاص طور پر آزادی کے حوالہ سے،حقوق دلوانے کے لحاظ سے اور مختلف تنظیموں کے درمیان تعلقات بڑھانے کے لحاظ سے بہت بڑی لیڈر شپ دکھائی ہے۔

اس پر حضور انور نے فرمایا:یہی اس دور کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور ہم تیزی سے تباہی کی طرف جارہے ہیں،بجائے اس کے کہ ہم امن اور محبت کو پھیلائیں۔

سینیٹر صاحب نے عرض کیا کہ آج کل بہت سے مسائل ہیں، سعودی عرب کے جرنلسٹ کا قتل ہے، یمن، سیریا کا مسئلہ ہے، وینزو یلا کا مسئلہ ہے۔ان سب باتوں سے امن خراب ہو رہا ہے۔اس وجہ سے حضور کے امن کے پیغام کی بہت ضرورت ہے۔

اس پر حضور انور نے فرمایا:۔

یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ (۔)ہی (۔)کو مار رہا ہے اور بغیر سوچے سمجھے آپس میں لڑتے جارہے ہیں۔بچوں کو بھی مارا جارہا ہے۔بہت تکلیف ہوتی ہے یہ سارے حالات دیکھ کر۔امریکہ ایک بڑی طاقت ہے امریکہ کو امن کے حوالہ سے اور انسانیت کی خدمت کے حوالہ سے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

اس پر سینیٹر موصوف نے کہا کہ میں حضور انور سے ہزار فیصد متفق ہوں۔نیز موصوف نے کہا کہ حضور کا پیغام بڑا پاور فل ہے۔آپ جیسی شخصیت کی ہم بالٹی مور(Balti More)میں پہلی دفعہ میزبانی کر رہے ہیں۔ہم حضور کے شکر گزار ہیں کہ آپ یہاں آئے اور آپ نے یہاں بیت الذکر تعمیر کی ہے اور اس کا افتتاح کیا ہے۔یہاں آپ کی بہت اچھی کمیونٹی ہے۔ہمیں اس سے بہت خوشی ہے۔

آخر پر حضور انور نے فرمایا۔ہم سب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مذہب کے پیرو کار ہیں اور آپ کو ماننے والے ہیں۔عیسائی ہوں ، یہودی ہوں اور (۔)ہوں اگر اس بات کو سمجھ لیا جائے تو پھر دنیا میں امن قائم ہو سکتا ہے۔

آخر پر سینیٹر صاحب نے حضور انور کے ساتھ تصویر بنوائی۔موصوف سینیٹر صاحب کی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ  کے ساتھ یہ ملاقات چھ بجکر پندرہ منٹ پر ختم ہوئی۔

معززین شہر کی ملاقات

بعد ازاں حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ہوٹل کے ایک میٹنگ روم میں تشریف لے آئے جو Blake Roomکے نام سے جانا جاتا ہے۔یہاں درج ذیل شخصیات نے حضور انور سے ملاقات کی سعادت پائی۔

Hon.Catherine Pughمیئر آف بالٹی مور

Jill Carterمیری لینڈ سٹیٹ سینیٹر

James Mathiasمیری لینڈ سٹیٹ سینیٹر

Pamela Beidleممبر میری لینڈ ہائوس آف Delegates

Marilyn Mosbyسٹیٹ اٹارنی فار بالٹی مور

John Wobensmithسیکرٹری آف سٹیٹ میری لینڈ

Vicki Almond (کونسل وومن بالٹی مور کاؤنٹی)Nikrmosby           

  کونسل مین بالٹی مور

Brent Howard پریذیڈنٹ چیمبر آف کامرس

Hon.Michel Adamoملک گیبون کے ایمبیسیڈر

کینیا کے ایمبیسڈر کے نمائندے جو ایمبیسی میں اکنامک کونسلر ہیں

Mustapha Sossen اسسٹنٹ ایمبیسڈر Gambia

Fred Guy ڈائریکٹر آف یونیورسٹی آف بالٹی مور فلاسفی دیپارٹمنٹ

Major Travis Hord کمانڈنگ آفیسر یو ایس Marines

Colonel Jonesبالٹی مور کائونٹی پولیس

Gary Tuggleکمشنر بالٹی مور سٹی پولیس

Father Joseph Muthپاسٹر آف St.Matthews چرچ

Rabbi Andyبالٹی مور Hebrew Congregation

Christine Spencer (Dean of yale Gardon 

School of Arts )بالٹی مور یونیورسٹی

Anthony Dayپریذیڈنٹ آفLoyala ہائی سکول

Natalie Eddington         (Dean , University

f Marand School Of Parmacy)

ان مہمانوں سے ملاقات کے آغاز میں حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ: آپ سب کا یہاں آنے کا بہت شکریہ۔آپ لوگوں نے ہمارے پروگرام کے لئے اپنی مصروفیات سے وقت نکالا ہے۔بالخصوص آج آپ لوگوں کی چھٹی بھی ہے اور اپنی فیملیز کے ساتھ وقت گزارنے کی بجائے آپ یہاں آئے ہیں۔

  • اس پر ایک خاتون مہمان نے عرض کیا کہ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ آپ یہاں آئے ہیں۔
  • ایک مہمان نے کہا کہ آپ کا امن کا پیغام، دوریاں ختم کرنے کا پیغام ایسا ہے کہ اس کی بہت ضرورت ہے۔ہمارے لئے یہ بہت اعزاز کی بات ہے کہ آپ یہاں ہمارے شہر تشریف لائے ہیں۔ہم آپ کو یو ایس اے آنے پر خوش آمدید کہتے ہیں اورآپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔آپ کی موجودگی ہمارے لئے بہت اہم ہے۔آپ نے جو باہمی اتحاد و محبت کا پیغام دیا ہے، یہ ہمارے لئے بہت ہی قیمتی سرمایہ ہے۔
  • مئیر بالٹی مور سٹی نے عرض کی کہ میں بالٹی مور کے تمام شہریوں کی طرف سے حضور انور کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔مئیر نے عرض کی کہ ہم جس دور سے گزر رہے ہیں، اس میں اس پیغام کی بہت اہمیت ہے۔وہ اس سے بہت متاثر ہوئی ہیں اور چاہتی ہیں کہ دنیا میں ہر جگہ اس پیغام پر عمل کیا جائے تاکہ دنیا امن کا گہوارہ بن سکے۔مجھے بہت خوشی ہے کہ آپ یہاں تشریف لائے ہیں اور امید کرتی ہوں کہ جو لوگ یہاں آئے ہیں آپ کا پیغام لے کر جائیں اور اس پر عمل کریں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان کا شکریہ ادا کیا۔نیز فرمایا کہ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ ہم معاشرے میں امن قائم کریں اور باہمی اتفاق و اتحاد سے محبت کی فضاء قائم کریں۔اگر دنیا اس پیغام کو سمجھ جائے تو دنیا تو بہت خوبصورت ہے۔پھر یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ ہم سب اپنے خالق کو پہچانیں کیونکہ ہم ایک ہی رحمان خدا کی مخلوق ہیں اور اس کی مخلوق ہونے کے ناطے ہمیں باہمی محبت سے رہنا چاہئے۔اگر یہ پیغام سمجھ لیا جائے تو جیسا کہ میں نے کہا ہے، سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مئیر بالٹی مور کے مختلف ڈسٹرکٹس کے حوالہ سے دریافت فرمایا۔

مئیر نے عرض کی کہ میئر کے علاوہ سٹی کونسل کی صدر ہے۔بالٹی مور کے 14سٹی ڈسٹرکٹس ہیں اور ان تمام کے نمائندے کونسل کا حصہ ہیں۔

مئیر نے اپنے ساتھ آئی ہوئی ایک اسسٹنٹ کا بھی تعارف کروایا۔یہ امن کے قیام کے لئے مئیر کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں۔

اس نے حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا شکریہ ادا کیا۔اس نے عرض کی کہ حضور میرے خیال میں ہم آج کل جو جنگ لڑ رہے ہیں یہ ایک ایسا معرکہ ہے جس پر تمام منفی طاقتیں نوجوان نسل پر حملہ آور ہیں۔ہمیں اس حوالہ سے نوجوان نسل پر تو جہ کی بہت ضرورت ہے۔ہمارے ہاں گزشتہ دو سالوں کی نسبت دوگنی تعداد میں نوجوانوں میں قتل یا اقدامِ قتل کے مقدمے درج ہوئے ہیں۔ہمیں نوجوان نسل پر توجہ کی بہت ضرورت ہے۔میں آپ کا بہت شکریہ ادا کرتی ہوں۔یہ میرے لئے بہت اعزاز کی بات ہے کہ میں آپ سے مل سکی ہوں اور آپ کی باتیں سُن سکی ہوں۔

حضور انور نے دریافت فرمایا کہ اس بڑھتے ہوئے رحجان کی وجہ کیا ہے؟

اس پر موصوفہ نے عرض کیا کہ جہاں تک میں نے جائزہ لیا ہے ہمارے بالٹی مور شہر میں ایسے واقعات نوجوانوں میں فرسٹریشن بڑھنے کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔ نوجوانوں میں ناامیدی ہے۔بالٹی مور کی 24فیصد آبادی غربت میں زندگی بسر کر رہی ہے۔معاشی صورتحال ایک وجہ ہے۔بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دریافت فرمایا کہ کیا بے روزگاروں کے لئے کوئی سوشل مدد کا نظام رائج ہے؟

اس پر مئیر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں یہاں بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ہم بچوں کے حوالہ سے ان کی تعلیم پر کافی زور دے رہے ہیں۔طلباء میں ڈرگز کے رحجانات کے حوالہ سے بھی کافی کام کی ضرورت ہے۔

اس پر حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:۔

تو پھر ڈرگ ایشو ہے، تعلیم کے مسائل ہیں، معاشی مسائل ہیں،بے روزگاری ہے۔نیز فرمایا کہ سوشل میڈیا بھی بے چینی بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔فیملی سٹرکچر متاثر ہو رہا ہے، ہر کوئی اپنے موبائل فون پر مصروف رہتا ہے۔

  • کینیا کی ایمبیسی سے اکنامک کونسلر بھی آئے ہوئے تھے۔انہوں نے اپنا تعارف کروایا۔حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان کا شکریہ ادا کیا۔
  • ایک مہمان نے ’السلام علیکم‘کہا اور عرض کی کہ تمام (۔)کمیونٹی کی جانب سے میں حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو خوش آمدید کہتا ہوں۔میرا احمدیہ جماعت کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے اور اسی وجہ سے میں یہاں آیاہوں۔آپ لوگوں کا موٹو’محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں‘بہت شاندار ہے۔ایسے دور میں جس سے ہم گزر رہے ہیں۔…اس مہمان نے پارسیوں کی مدد کرنے کے حوالے سے اپنی کاوشوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ میں نے ان کی مدد معاشرتی اتحاد کی خاطر کی اور اس لئے کہ ان کے ساتھ زیادتی ہو رہی تھی۔یہاں اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم باہم متحد ہو جائیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:۔صرف یہاں نہیں، بلکہ تمام دنیا میں ہی اس اتحاد کی ضرورت ہے۔(۔)ہونے کے ناطے ہم سب کو ایک ہونا چاہئے۔ہم سب ایک رحمان خدا پر ایمان رکھتے ہیں۔ہمارا رسول اور کتاب ایک ہے۔قرآن کریم تو دیگر مذاہب کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ ؛اہلِ کتاب سے کہہ دو کہ مشترکہ بات پر اکٹھے ہو جائیں کہ سب ایک خدا کے ماننے والے ہیں۔تو اگر ہم اس ایک پوائنٹ کو سمجھ جائیں، تو کہیں بھی کوئی تقسیم، کوئی نفرت، کوئی تفرقہ نہ ہو اور ہم سب مل کر امن سے رہیں اور باہم مل کر اپنی آئندہ آنے والی نسلوںکی بہتری کے لئے کام کریں۔ہم نے اپنا کام کر لیا ہے،اب ہمیں چاہئے کہ ہم دیکھیں کہ ہم اپنی نسلوں کی بہتری کے لئے کیا کر سکتے ہیں تاکہ وہ ہمیں اچھی یادوں کے ساتھ زندہ رکھیں۔یہ نہ کہنے والے ہوں کہ یہ وہ لوگ تھے، جنہوں نے ہمیں ہلاکت تک پہنچایا۔

  • ایک مہمان نے عرض کیا کہ حضور میں چند اور مسائل کی طرف بھی توجہ دلاناچاہتا ہوں اوروہ گھریلو تشدد اور انسانی اسمگلنگ کے مسائل ہیں۔گزشتہ دنوںمیں دو ایسے متاثرین سے بات کر رہا تھا، جو ایک لمبا عرصہ ان مسائل کا سامنا کرتے رہے ہیں۔اور ان کی باتوں میں جس بات نے مجھے زیادہ متاثر کیا وہ یہ تھی کہ وہ دونوں کہتے ہیں کہ جس چیز نے انہیں سخت ترین حالات میں بھی امید دئیے رکھی، وہ خدا کی ذات تھی۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اسی ایمان پر زندہ تھے اورپر امید تھے کہ ان کے حالات تبدیل ہوں گے۔
  • ایک مہمان نے عرض کیا کہ بطور ایجوکیٹر میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اپنے بچوں کو بہتر تعلیم دینا ہوگی۔11سال سے لے کر18سال تک کے بچوں پر خصوصی توجہ کرنی ہوگی۔ہمیں انہیں اعتماد دینا ہے اور ایسے رول ماڈلز دینے ہیں، جیسا کہ یہاں اس میز کے گرد لوگ بیٹھے ہیں۔اگر ہم یہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ بالٹی مور تبدیل ہو جائے گا۔مئیر کی طرف سے جو کام یہاں ہوئے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ وہ کافی حوصلہ افزا ہیں۔ہمیں نوجوانوں پر توجہ کرنی ہے اور انہیں واپس لانا ہے۔نوجوانوں کی بہتر تربیت کافی مسائل کا حل ہے۔

پروگرام کے آخر پر بالٹی مور کی مئیر نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں ایک تحفہ پیش کیا اور عرض کیا کہ یہ بالٹی مور کی عوام کی طرف سے آپ کے لئے ایک یاد گار ہے۔آپ کی آمد اور امن کے پیغام کا بہت شکریہ۔   

   بعد ازاں مئیر نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے بھی تحفہ وصول کرنے کی سعادت حاصل کی۔مئیر نے اس پروگرام کے بعد بے گھر افراد کے لئے منعقد کئے جانے والے ایک پروگرام میں شرکت کرنا تھی۔اس حوالہ سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دریافت فرمایا کہ بے گھر افراد کے لئے آپ لوگ بجٹ کا کتنا فیصد مختص کرتے ہیں۔اس پر مئیر نے عرض کی کہ بے گھر افراد اور دیگر سوشل سروسز کے لئے بیس سے پچیس فیصد بجٹ مختص کیا جاتا ہے۔ان گرمیوں میں ہم نے 9ہزار نوجوانوں کو جاب مہیا کی ہے۔

بیت الصمد کی افتتاحی تقریب

ملاقات کا یہ پروگرام چھ بجکر چالیس منٹ تک جاری رہا۔بعد ازاں پروگرام کے مطابق حضورا نور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز افتتاحی تقریب کے لئے ہال میں تشریف لے آئے۔

پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔جو مکرم سلمان طارق صاحب مربی سلسلہ امریکہ نے کی اور اس کا انگریزی زبان میں ترجمہ پیش کیا۔بعد ازاں نیشنل سیکرٹری امور خارجہ مکرم امجد خان صاحب نے اپنا تعارفی ایڈریس پیش کیا اور آنے والے مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔

مہمانوں کے ایڈریسز

  • اس کے بعد سینیٹرBen Cardinنے اپنے ایڈریس میں کہا؛

عزت مآب خلیفۃ المسیح !ہم آپ کو بالٹی مور میں خوش آمدید کہتے ہیں،آپ نے تشریف لا کر ہماری عزت افزائی فرمائی اور ہم آپ کی قیادت سے متاثر ہیں۔آپ کی جماعت میری لینڈ ،بالٹی مور امریکہ کے مزید پر امن بنانے کا باعث ہے۔آپ کی قیادت بین الاقوامی ہے۔امن کی قیام کی آج کل جس شدت سے ضرورت ہے ہے ویسی ضرورت پہلے کبھی نہ تھی اور آپ نے ہمیں بتایاہے کہ ہم یہاں بالٹی مور میں اس مقصد کے لئے مزید اچھا کام کر سکتے ہیں۔مجھے فخر ہے کہ میں میری لینڈ،بالٹی مور کے لوگوں کی سینیٹ میں نمائندگی کرتا ہوں اور میرے لئے اعزاز ہے کہ میں آپ کو اس عظیم شہر میں خوش آمدید کہہ رہا ہوں اور بہت ممنون ہوں کہ آپ اپنی بین الاقوامی مصروفیات میں سے وقت نکال کر یہاں امن اور انسانیت کے لئے امید کا پیغام لے کر تشریف لائے۔اللہ تعالیٰ آپ پر فضل فرمائے۔آمین

  • اس کے بعد John Robin Smith (جو میری لینڈ کے 71ویں سیکرٹری آف سٹیٹ ہیں) نے اپنا ایڈریس پیش کرتے ہوئے کہا؛

عزت مآب خلیفۃ المسیح اور تمام حضرات و خواتین کا بہت بہت شکریہ۔گورنر اور ان کی انتظامیہ آپ لوگوں کی یہاں آمدپر بہت خوش ہے اور بہت شکریہ کہ آپ نے مجھے مدعو کیا۔میری لینڈ سٹیٹ کو فخر ہے کہ یہ احمدیہ جماعت یو ایس اے کاہیڈ کوارٹر ہے اور یہاں بالٹی مور میں بیت الذکر کا افتتاح یقینا ایک تاریخی موقع ہے۔میری لینڈ ایک متنوع آبادی والی ریاست ہے اور یہ تنوع ہر طبقہ میں موجود ہے۔

خلیفۃ المسیح کا سفر کا پروگرام بے حد مصروف ہے اور آپ بہت اہم پیغام لے کر آئے ہیں جو انسانی اقدار کو سمجھتے ہوئے انسانیت کی خدمت کرنا اور امن کا قیام ہے اور یہ ہمارے بہت سے مسائل کے حل کے لئے کار آمد ہے۔یہ وہ پیغام ہے جو ہم سب (۔)قبول کر سکتے ہیں۔مجھے ملک میں اور بیرون ملک بہت سے لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوتا ہے اور بہت سے کلچرز کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملتا ہے جس میں مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔یہاں بالٹی مور میں بہت سے انٹرنیشنل مہمانوں کو خوش آمدید کہنے کا موقع ملتا رہتا ہے اور میں آپ سب مہمانوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔میں خلیفۃ المسیح کے دنیا کے محفوظ سفر کے لئے دعا گو ہوں، اللہ تعالیٰ آپ پر اپنا بہت فضل فرمائے۔

میں اس موقع پر آپ کو گورنر کی جانب سے جاری کردہGovernor Citationپیش کرنا چاہتا ہوں۔چنانچہ موصوف نے انگریزی زبان میں تحریر پڑھ کر سنائی جس کا اردو ترجمہ درج ذیل ہے؛

اس صوبہ کے باشندوں کی طرف سے یہ اعلان کیا جاتا ہے :۔

بطور اعزاز بیت الصمد کے افتتاح کے موقع پر، نہایت ادب اور خوشی کے ساتھ عرض ہے۔میری لینڈ کے باشندے ہمارے ساتھ مل کر اس خوشی کے موقع پر اپنے دلی جذبات کی عکاسی کرتے ہیں نیز مبارک باد پیش کرتے ہوئے ہم یہ گورنر سائیٹیشن پیش کرتے ہیں۔

دستخط

گورنر لاری ہوگن

لیفٹیننٹ گورنر بوئڈردرفورڈ

جان رابن سمتھ سیکرٹری آف سٹیٹ

image_printپرنٹ کریں