skip to Main Content
سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالٰی بنصرہ العزیز کا دورہ امریکہ  قسط نمبر 11

گوئٹے مالا میں ورود، بیت الذکر و مشن ہاؤس کا معائنہ احمدی احباب سے ملاقاتیں اور ان کے تاثرات

عبدالماجد طاہر۔لندن

22۔اکتوبر2018ء

(قسط اول)

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صبح ساڑھے چھ بجے بیت السمیع میں تشریف لا کر نماز فجر پڑھائی۔نماز کی ادائیگی کے بعد حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

آج پروگرام کے مطابق ہیوسٹن سے وسطی امریکہ کے ملک گوئٹے مالا (Guate Mala) کے لئے روانگی تھی۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا کسی بھی وسطی امریکہ کے ملک کے لئے یہ پہلا سفر تھا۔

گوئٹے مالا کے لئے روانگی

سات بج کر چالیس منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائش گاہ سے باہر تشریف لائے۔حضور انور کو الوداع کہنے کے لئے مرد و خواتین بیت الذکر کے بیرونی احاطہ میں جمع تھے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دعا کروائی اور قافلہ ہیوسٹن ائیر پورٹ کے لئے روانہ ہوا۔

حضورا نور کی آمد سے قبل سامان کی بکنگ اور بورڈنگ کارڈ کے حصول کی کارروائی مکمل ہو چکی تھی۔سوا آٹھ بجے حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ائیر پورٹ پر تشریف آوری ہوئی۔ائیر پورٹ پر یونائیٹڈ ایئر لائن کے سینئر سٹاف نے حضور انور کو خوش آمدید کہا اور حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ایک پروٹوکول انتظام کے تحت امیگریشن کی کارروائی کے بعد سپیشل لاؤنج میں تشریف لے آئے۔پونے دس بجے حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ جہاز پر سوار ہوئے۔یونائیٹڈ ائیر لائن کی پرواز  UA 1751دس بج کر چالیس منٹ پر ہیوسٹن سے گوئٹے مالا کے City Airportکے لئے روانہ ہوئی۔

جہاز کے روانہ ہونے کے بعد پائلٹ کیبن سے یہ اعلان ہوا کہ ہمارے جہاز پر حضرت مرزا مسرور احمد سفر کر رہے ہیں۔آپ امریکہ کے سفر پر ہیں  ہم حضور کو خوش آمدید کہتے ہیں ۔حضور انور امریکہ میں سینیٹرزاور کانگریس مین سے ملیں گے۔ حضور انورچیمپئن آف پیس ہیں۔حضور گوئٹے مالا بھی جا رہے ہیں۔

قریباً اڑھائی گھنٹے کے سفر کے بعد گوئٹے مالا کے مقامی وقت کے مطابق بارہ بج کر دس منٹ پر جہاز گوئٹے مالا سٹی ائیر پورٹ پر اترا۔گوئٹے مالا کا وقت ہیوسٹن (امریکہ)کے وقت سے ایک گھنٹہ پیچھے ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جہاز سے باہر تشریف لائے تو مکرم کیپٹن ماجد احمد خان صاحب نے حضور انور کو خوش آمدید کہا، موصوف کی نگرانی میں ہیومینیٹی فرسٹ امریکہ کے تحت ’’ناصر ہسپتال‘‘ کی تعمیر مکمل ہوئی ہے۔جس کا اس سفر میں افتتاح کا پروگرام ہے۔

بعد ازاں مکرم عبدالستار خان صاحب امیر و مربی انچارج گوئٹے مالا اور مکرم David Gonzolesجنرل سیکرٹری جماعت گوئٹے مالا  نے حضور انور کا استقبال کیا۔اس کے بعد ایک خصوصی پروٹوکول انتظام کے تحت حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ایک سپیشل لاؤنج میں تشریف لے آئے۔جہاں امیگریشن کی کارروائی مکمل ہوئی۔بعد ازاں حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ایک سپیشل لاؤنج میں تشریف لائے اور Porta Hotelکے لئے روانگی ہوئی۔یہ ہوٹل ائیر پورٹ سے 40کلو میٹر کے فاصلہ پر Antiguaشہر میں واقع ہے ملک کا دارالحکومت گوئٹے مالا سٹی اور Antiguaقریباً جڑواں شہر ہیں۔پولیس کی گاڑی اور موٹر سائیکل نے قافلہ کو escortکیا۔حضور انور کی گاڑی کے پیچھے بھی سیکیورٹی کی گاڑی تھی۔اس سیکیورٹی اسکواڈ کا انچارج گوئٹے مالا آرمی کا ریٹائرڈ جنرل تھا۔

قریباً ایک گھنٹہ کے سفر کے بعد دو بجے دوپہر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ہوٹل Portaآمد ہوئی۔جہاں احباب جماعت مرد وخواتین ،بچوں اور بچیوں نے اپنے پیارے آقا کا بھر پور استقبال کیا۔احباب نے نعرے بلند کئے۔بچیاں اپنی لوکل زبان میں خیر مقدمی گیت اور دعائیہ نظمیں پیش کر رہی تھیں۔استقبال کرنے والوں میں گوئٹے مالا کے مقامی احباب اور نومبائعین کے علاوہ میکسیکو، ایکواڈور،ہنڈورس، پانامہ، کوسٹا ریکا، ایل سلوا ڈور، پیرا گوئے اور بیلیز سے آنے والے نومبائعین بھی شامل تھے۔

اس کے علاوہ امریکہ اور کینیڈا سے بھی ایک بڑی تعداد میں احباب جماعت گوئٹے مالا پہنچے تھے یہ سب بھی حضور انور کے استقبال کے لئے وہاں موجود تھے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنا ہاتھ ہلا کر سب کو السلام علیکم کہا اور ہوٹل کے اندر تشریف لے گئے۔ہوٹل میں ایک ہال نمازوں کی ادائیگی کے لئے حاصل کیا گیا تھا۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے چار بج کر پچاس منٹ پر تشریف لا کر نماز ظہر و عصر جمع کر کے پڑھائیں۔

بعد ازاں پروگرام کے مطابق سوا پانچ بجے بیت الاول گوئٹے مالا کے لئے روانگی ہوئی۔قریباً 35منٹ کے سفر کے بعد پانچ بج کر پچاس منٹ پر بیت الاول تشریف آوری ہوئی۔جہاں گوئٹے مالا کے احباب کے علاوہ وسطی اور جنوبی امریکہ کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے وفود نے حضور انور کا بھر پور استقبال کیا اور بچیوں نے اپنی لوکل زبان میں گیت پیش کئے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ بلند کر کے سب کو السلام علیکم کہا اور مشن ہاؤس کے اندر تشریف لے آئے۔

معائنہ مشن ہاؤس و بیت الذکر

بعد ازاں حضور انور نے بیت الذکر اور مشن ہاؤس کی عمارت کا معائنہ فرمایا اور رہائشی حصہ بھی دیکھا۔بیت الذکر کے بیرونی حصہ میں مارکی لگا کر خواتین اور مردوں کے لئے علیحدہ علیحدہ کھانے کا انتظام کیا گیا تھا اور ان کے لئے وہاں بیٹھنے کی جگہ تیار کی گئی تھی۔حضور انور نے اس بارہ میں دریافت فرمایا۔

بیت الذکر کے بیرونی ایریا میں مزید تعمیرات کے حوالہ سے حضور انور نے جائزہ لیا۔امیر صاحب گوئٹے مالا نے عرض کیا کہ نچلے حصہ میں سابقہ کلینک کو گیسٹ روم میں تبدیل کیا گیا ہے۔تجویز ہے کہ یہاں پر باقاعدہ تین رہائشی اپارٹمنٹس ایک ایک دو دو بیڈ روم کے بنادئیے جائیں۔اس پر حضور انور نے فرمایا ٹھیک ہے اس کا جائزہ لے لیا جائے کہ جو سابقہ تعمیرہے اس کو گرا کر بنانا ہے یا اس کو رکھ کر اس کی ہی Renovationکر کے بنانے ہیں۔لندن سے فائز صاحب آکر جائزہ لے لیں گے۔

احباب جماعت کی ملاقات

معائنہ کے بعد حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بیت الذکر کے ہال میں تشریف لے آئے۔جہاں احباب جماعت گوئٹے مالانے حضور انور کے ساتھ اجتماعی ملاقات کی۔ان کی تعداد یکصد کے لگ بھگ تھی جن میں 44مرد اور46خواتین تھیں اور باقی بچے تھے۔

اس کے علاوہ میکسیکو کا علاقہ Chiapa جو گوئٹے مالا کے بارڈر کے ساتھ لگتا ہے اور یہاں گوئٹے مالا کے ذریعہ جماعت قائم ہوئی تھی۔یہاں کے احمدی احباب، نو مبائعین بھی اس ملاقات میں شامل تھے ان کی تعداد 32تھی۔یہ لوگ ہزار میل سے زائد کا بڑا لمبا سفر طے کر کے پہنچے تھے۔

یہ قریباًسبھی وہ لوگ تھے جو اپنی زندگی میں پہلی بار حضور انور سے ملاقات کی سعادت پارہے تھے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے ان سب سے دریافت فرمایا کہ کیا حال ہے۔جس پر انہوں نے جواب دیا الحمدللہ۔حضور انور کے دریافت فرمانے پر کہ کہاں کہاں سے آئے ہیں۔اس پر امیر صاحب گوئٹے مالا نے عرض کیا گوئٹے مالا کے مختلف علاقوں سے ہیں۔جہاں گزشتہ سالوں میں بیعتیں ہوئی ہیں۔وہاں سے بھی آئے ہیں۔اسی طرح میکسیسکو کے Chiapa کے علاقہ سے بھی آئے ہیں۔

حضور انور نے ازراہ شفقت بچوں سے دریافت فرمایا کہ کیا سب سکول جاتے ہیں۔جس پر بچوں نے عرض کیا کہ ہم سکول جاتے ہیں۔

ایک بچے نے حضور انور کے دریافت فرمانے پر بتایا کہ وہ ڈاکٹر بننا چاہتا ہے۔ایک بچے نے عرض کیا کہ وہ چوتھی کلاس میں پڑھتا ہے۔حضور انور نے بچوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ سب نے پڑھنا ہے کسی ایک بچے نے بھی بغیر پڑھائی کے نہیں رہنا۔کوئی ڈاکٹر بنے، کوئی انجینئر، کوئی وکیل اور کوئی ٹیچربنے۔ہر ایک نے کچھ نہ کچھ پڑھنا ہے۔

ملک میکسیکو (Mexico)سے ایک نو احمدی طالبعلم جامعہ احمدیہ کینیڈا میں داخل ہوئے ہیں اور جامعہ کے پہلے سال میں ہیں۔حضور انور نے ان سے دریافت فرمایا کہ اردو کتنی سیکھ لی ہے۔ موصوف نے عرض کیا کہ ابھی تھوڑی تھوڑی سیکھی ہے۔

حضور انور نے بچیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا کہ ہماری جماعت میں بچیاں زیادہ تعلیم یافتہ ہوتی ہیں۔آپ سب نے پڑھائی میں لڑکوں سے آگے نکلنا ہے۔بچوںاور بچیوں میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں دوڑ لگنی چاہئے۔

دو گوئٹے مالن بچیوں نے حضور انور کی خدمت میں پھول پیش کئے اس پر حضور انور نے فرمایا:۔جزاک اللہ

ایک نومبائع دوست نے سوال کیا کہ نمازکس  طرح اچھے طریق پر ادا کی جاسکتی ہے۔اس کے جواب میں حضور انور نے فرمایا :۔نماز پڑھتے ہوئے یہ خیال رکھیں کہ ہم خدا کے سامنے کھڑے ہیں۔خدا ہمیں دیکھ رہا ہے۔اس لئے عاجزی کے ساتھ نماز کے لئے کھڑے ہوں۔اور جو الفاظ دہرا رہے ہیں وہ بھی سمجھ کر دہرائیں۔

حضور انور نے فرمایا:۔سورۃ فاتحہ یاد کریں’’ایاک…‘‘بار بار دہرایا کریں کہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیری ہی مدد چاہتے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایاہے کہ جب نماز پڑھ رہے ہو تو تم یہ خیال رکھو کہ تم خدا تعالیٰ کو دیکھ رہے ہو یا کم از کم خدا تمہیں دیکھ رہا ہے جب یہ خیال ہو جائے گا کہ خدا مجھے دیکھ رہا ہے تو پھر عاجزی پیدا ہوگی اور نماز کی طرف توجہ بھی ہوگی۔

ایک نومبائع نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ اگر ہمیں بیٹا، بیٹی عطا فرمائے تو اس کا کون سا دینی نام رکھنا چاہئے۔

اس پر حضور انور نے فرمایا:۔جو دینی نام پسند آئے رکھ لیں۔محمد نام رکھنا ہے تو رکھ لیں۔حضور انور نے فرمایا اصل یہ دعا کرنی چاہئے کہ خدا تعالیٰ نیک اور صالح اولاد عطا فرمائے جو خدا کے حقوق اور بندوں کے حقوق ادا کرنے والی ہو۔بہت سارے بچے پیدا ہوتے ہیں۔یہاں گوئٹے مالا میں بھی اور دوسری جگہوں میں بھی تو بہت بچے بگڑ جاتے ہیں۔ خراب کاموں میں پڑ جاتے ہیں۔ نشے میں پڑ جاتے ہیں پھر جرائم ہوتے ہیں اور جیلوں میں چلے جاتے ہیں اس لئے ہمیشہ خدا تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ خداتعالیٰ جو بھی اولاد دے نیک اور صالح اولاد ہو۔  

ایک طالب علم نے عرض کیا کہ وہ جامعہ کینیڈا یا  جامعہ یو کے میں جانا چاہتا ہے تو اس پر حضور انور نے فرمایا کہ اگر مربی بننا چاہتے ہو تو پھرایک فیصلہ کرو اور اس پر قائم رہو۔اگر جامعہ احمدیہ جانا چاہتے ہو تو پھر جامعہ کینیڈا جاؤ۔ جامعہ کینیڈا کو باقاعدہ ایجوکیشنل یونٹ، ایک تعلیمی ادارہ کا سٹیٹس ملا ہوا ہے اس لئے تم کینیڈا جا سکتے ہو۔لیکن یو کے نہیں جا سکتے۔یو کے جامعہ کے پاس ابھی ایسا سٹیٹس نہیں ہے۔کینیڈا یا غانا یہ دو چوائسز(Choices)ہیں۔ کسی ایک میں جا سکتے  ہو۔

ایک نومبائع نے سوال کیا کہ ایک اچھا احمدی بننے کے لئے کون سی چیز ضروری ہے۔

اس پرحضور انورنے فرمایا:۔آپ خدا تعالیٰ سے کوئی بھی عمل چھپا نہیں سکتے۔لوگوں سے چھپا سکتے ہو۔جب بھی کوئی کام کریں تو یہ یاد رکھیں کہ خداتعالیٰ ہمیں دیکھ رہا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے جو بنیادی حکم دئیے ہیں ان پر عمل کرو۔خدا کی عبادت کرو، اچھے اخلاق اپنائو، لوگوں کے حق ادا کرو۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ (۔) وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے لوگ محفوظ ہیں۔حضور انورنے فرمایا:۔کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود سے کسی نے پوچھا کہ میں اچھا احمدی بننے کے لئے کیا کروںاور کیا نہ کروں؟ تو اس پر حضرت مسیح موعود نے فرمایا:۔کہ خدا نے مجھے الہاماً کہا ہے تمہیں بھی بتا دیتا ہوں کہ خدا تعالیٰ سے ڈرواور سب کچھ کرو۔

حضور انور نے فرمایا:۔پس جو خدا تعالیٰ سے ڈرے گا وہ غلط کام نہیں کر سکتا وہ ایک اچھا (مومن)بن جاتا ہے۔

میکسیکو کا ایک مقامی نوجوان جو امسال جامعہ احمدیہ کینیڈا میں داخل ہواہے۔اس کو نصیحت کرتے ہوئے حضور انور نے فرمایا:۔جامعہ میں اپنی تعلیم پر توجہ دو، دینی علم سیکھو، پانچ نمازیں باقاعدہ پڑھو اور باجماعت پڑھو۔فجر سے پہلے کم از کم دو نفل باقاعدہ پڑھو اور اس کی مستقل عادت ڈالو۔اردو زبان سیکھنے کے لئے جماعت کے کسی رسالہ سے کوئی ایک صفحہ پڑھو ۔    ہفت روزہ الفضل ہے اس میں سے کوئی پیرا گراف پڑھو۔حضرت مسیح موعود کی کتب ہیں،جو آسان اردومیں ہیں وہ پڑھو۔روزانہ سونے سے پہلے ملفوظات کا ایک صفحہ پڑھا کرو۔

گوئٹے مالا کے ایک نومبائع نے عرض کیا کہ ہمارے لئے دعا کریں، ہماری مدد کریں،ہم اندھیروں میں پڑے ہوئے ہیں۔خدا ہم کو ہدایت دے۔

اس پر حضور انور نے فرمایا :۔خدا تعالیٰ نے آپ کو ہدایت دے دی ہے نور کی طرف، روشنی کی طرف لے کر آیا ہے۔اب آپ کا کام ہے کہ یہ پیغام دوسروں تک پہنچائیں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو اپنے لئے پسند کرو وہ دوسروں کے لئے بھی پسند کرو۔آپ نے اپنے لئے (دین حق) کو پسند کیا ہے اب یہ احمدیت کا پیغام دوسروں کو بھی پہنچائیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق دے کہ آپ اس کام کو سرانجام دے سکیں۔

ایک نومبائع خاتون نے کہا کہ میں آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں یہاں امریکہ سے ڈاکٹرز آتے ہیں اور جماعت کے میڈیکل کیمپ لگتے ہیں اور ایک سکول بھی کھلا ہوا ہے،یہاں بہت ضرورت ہے۔اس پر امیر صاحب گوئٹے مالا نے عرض کیا کہ ہیومینیٹی فرسٹ امریکہ کے تحت’ مسرور سکول ‘جاری ہے۔

حضور انور نے فرمایا:۔سکول کو جاری رکھیں۔نیز فرمایا کہ ہم یہ خدمت کر رہے ہیں۔جہاں بھی ہمارے لئے ممکن ہوتا ہے ہم یہ خدمت کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود قادیان میں بہت سے مریضوں کو دیکھا کرتے تھے اور دوائی دیا کرتے تھے۔غریب عورتیں جمگھٹوں کی صورت میں آجاتی تھیں۔آپ ان کا علاج کرتے تھے۔کسی نے آپ سے عرض کیا کہ اس طرح آپ کا بہت سا وقت ان لوگوں کے لئے صرف ہوجاتا ہے۔اس پر آپ نے فرمایا:۔یہ غریب لوگ ہیں یہاں علاج کی ضرورت رہتی ہے قریب کوئی دوا خانہ نہیں ہے اس لئے میں دوائیاں منگوا کر رکھتا ہوں جو ان کے علاج کے کام آجاتی ہیں۔

حضور انور فرمایا:۔یہی کام ہے جو ہم نے بھی جاری رکھنا ہے اور ہم ہر جگہ یہ کر رہے ہیں اور ہم اور بھی سکول اور ہسپتال کھولیں گے۔

ایک خاتون نے عرض کیا کہ میں حضور انور کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں کہ حضور ہمارے ملک تشریف لائے ہیں۔آج میرا بیٹا آنہیں سکا ۔اس کو کام سے چھٹی نہیں مل سکی۔اس نے کمپیوٹر سائنس کیا ہوا ہے۔میری خواہش ہے کہ وہ بھی جامعہ میں داخل ہو۔اس پر حضور انور نے خاتون کو قلم عطا فرمایا اور فرمایا کہ یہ اپنے بیٹے کو دے دینا۔

ایک خاتون نے عرض کیا کہ حضور ہم عورتوں کے لئے کوئی نصیحت فرمائیں۔اس پر حضور انور نے فرمایا :۔ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔ آنحضرت ﷺنے عورت کو بہت بڑا مقام دیا ہے۔ایک تو عورت حمل کے عرصہ میں تکالیف اٹھاتی ہے۔پھر وضع حمل کی تکلیف کا وقت ہوتا ہے پھر پیدائش کے بعد بچے کو پالنا اس کا یہ عرصہ بھی مشکلات اور تکلیف برداشت کرتے ہوئے گزرتا ہے اس لئے بچے کا فرض بن جاتا ہے کہ وہ اپنی ماں کی خدمت کرے ۔آنحضرت ﷺنے فرمایا کہ جنت تک پہنچنے کے لئے بچوں کو اپنی ماں کی خدمت کرنی چاہئے۔

بچے کی پیدائش کے بعد اس کی سب سے زیادہ خدمت ماں کر رہی ہوتی ہے اس لئے ماں کو یہ مقام دے دیا اور بچے کو حکم دے دیا کہ ماں کی خدمت کرو تا کہ جنت حاصل کرسکو۔دوسری طرف ماں پر یہ ذمہ داری ڈال دی کہ تمہارے قدموں تلے جنت اس وقت بن سکتی ہے جب تم صحیح طرح بچوں کی تربیت کروگی۔ماں کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ بچوں کی نیک تربیت ہو۔بچوں کو برے ماحول سے بچایا جائے جب احمدیت قبول کر لی ہے تو بچوں کو دین سکھائیں ان کو صحیح عابد بنائیں اور اعلیٰ اخلاق والا بنائیں۔

ایک واقعہ ہے جس کا ذکر حضرت مسیح موعود نے بھی کیا ہے ایک بچہ بچپن میں چوریاں کرتا تھا پھر چوری کرنااس کی عادت بن گئی اور بڑاہو کر ڈاکو بن گیا اور پھر اس نے قتل کرنے شروع کر دئیے آخر وہ پکڑا گیا اور اسے پھانسی کی سزا ملی۔سزا سے قبل اس سے پوچھا گیا کہ تمہاری آخری خواہش کیا ہے اس نے کہا میری آخری خواہش یہ ہے کہ میں اپنی ماں کی زبان چوسنا چاہتا ہوں۔پیار کرنا چاہتا ہوں۔چنانچہ ماں کو بلایا گیا اور لڑکا ماں کے قریب ہوا اور اس نے اس زور سے زبان کاٹی کہ دو ٹکڑے ہو گئی۔اس پر لوگوں نے اسے کہا کہ تم ظالم انسان ہو۔تم نے ساری عمر ظلم کئے اور اب پھانسی لگنے لگے ہو تو ماں کو دکھ دے کر جا رہے ہو۔

اس پر اس نے کہا کہ میں نے اپنی ماں کی زبان اس لئے کاٹی ہے کہ جب میں چوریاں کیا کرتا تھا اور لوگ شکایت لے کے میری ماں کے پاس آتے تھے تو ماں میری پردہ پوشی کرتی تھی اور مجھے کہتی تھی کہ کچھ نہیں ہوا۔اگر اس وقت اس نے مجھے سمجھایا ہوتا اور میری صحیح تربیت کی ہوتی تو آج میں ڈاکو نہ بنتا اور پھانسی نہ چڑھتا۔میں نے اپنی ماں کی زبان کو اس لئے کاٹا تھا کہ یہ تربیت کرنے والی نہیں تھی بلکہ میری زندگی برباد کرنے کرنے والی تھی۔

حضور انور نے فرمایا:۔احمدی ماؤں کو ایسا بننا چاہئے کہ اپنے بچوں کی اچھی تربیت کر کے ان کو نیک اور عابد بنائیں جو ملک کی خدمت کرنے والے ہوں۔آپ کی نوجوان نسل نے اس ملک کی ترقی کے لئے کردار ادا کرنا ہے۔

آخر پر Chiapaمیکسیکو سے آنے والی ایک خاتون نے عرض کیا کہ وہ آج بیعت کرنا چاہتی ہے۔اس پر حضور انور نے فرمایا کہ بیعت فارم پُر کردو اور بیعت کر لو۔نیز حضور انور نے امیر صاحب گوئٹے مالا سے فرمایا کہ نماز مغرب و عشاء کے بعد بیعت کا پروگرام رکھنا ہے تو رکھ لیں۔

ملاقات کے اختتام پر حضور انور نے فرمایا۔اللہ آپ سب کا حافظ و ناصر ہو۔

بیلیز کے احمدیوں کی ملاقات

  بعد ازاں ملک بیلیز(Belize)سے آنے والے وفد نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ملاقات کی سعادت پائی۔بیلیز سے 21افراد پر مشتمل وفد گوئٹے مالا پہنچا تھا۔

حضور انور  ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ایک نواحمدی خاتون سے دریافت فرمایا کہ احمدیت قبول کر کے آپ نے کیا حاصل کیا ہے۔آپ کو خداتعالیٰ ملا ہے،قرآن کریم کا علم ملا ہے،دین ملا ہے۔موصوفہ نے عرض کیا کہ جماعت ضرورت مند لوگوں کی جو خدمت اور مدد کر رہی ہے اس نے بھی  مجھے بہت متاثر کیا ہے۔اس پر حضور انور نے فرمایا کہ ہم ہر جگہ ضرورتمند وں کی مدد کرتے ہیں۔رفاہ عامہ کے لئے ہمارے مختلف پروگرام جاری ہیں۔

ایک خاتون نے عرض کیا کہ میں دو سال قبل احمدی ہوئی ہوں اب میں دوسروں کو جماعت کی دعوت کر رہی ہوں۔پیغام پہنچارہی ہوں، احمدیہ کمیونٹی بڑی اچھی کمیونٹی ہے۔لیکن بعض لوگوں کی جماعت کے بارہ میں منفی سوچ بھی ہے۔اس پر حضور انور نے فرمایا کہ میڈیا نے (دین حق) کو بدنام کیا ہوا ہے اور (دین حق ) کوبرے رنگ میں پیش کیا جارہا ہے اس وجہ سے بعض لوگ منفی سوچ رکھتے ہیں۔

ایک احمدی خاتون خدیجہ صاحبہ بھی وفد میں شامل تھیں۔حضور انور نے فرمایا کہ آپ توجلسہ سالانہ یوکے پر آئی تھیں۔اس پر موصوفہ نے عرض کیا کہ سال2015ء میں جلسہ یو کے پر آئی تھی۔

موصوفہ نے عرض کیا کہ میں لجنہ میں دعوت الی اللہ کی انچارج ہوں۔ خواتین بیعت کرتی ہیں۔احمدی ہو رہی ہیں لیکن ان کے لئے کچھ مشکلات ہیں ان کے کچھ مسائل ہیں۔اس پر حضور انور نے فرمایاکہ:۔بیلیز میں تو احمدیت قبول کرنے والے سب مقامی ہیں۔وہاں تو کوئی پاکستانی نہیں ہے تو پھر ان کواپنے میں شامل کرنے اور جذب کرنے میں کیا مسئلہ ہے؟

حضورانورنے فرمایا ان خواتین کو (دین حق) کی تعلیم بتاؤ۔جو ان کے مسائل ہیں(دین حق)کی تعلیم کے مطابق حل کریں۔(۔)ہونے کا مطلب کیا ہے خداتعالیٰ کے قریب ہو۔اعلیٰ اخلاق اپناؤ۔حضور انور نے فرمایا کہ آپ کو بہت زیادہ محنت کرنا پڑے گی۔ان کی تربیت کرنی پڑے گی اور ٹریننگ کرنی پڑے گی۔ہم دعا کریں گے آپ (دعوت الی اللہ)کریں اور مضبوط احمدی بنائیں۔

حضور انور نے فرمایا:۔(دعوت الی اللہ)تو ایک مسلسل جہاد ہے۔بڑی محنت اور جدوجہد کی ضرورت ہے۔ایک رات میں تو دل نہیں بدل سکتے کسی کا ذہن نہیں بدلا جاسکتا ۔ایک لمبی کوشش ہے۔ خداتعالیٰ ہر احمدی کی مدد فرمائے،نصرت فرمائے۔

حضور انور نے فرمایاکہ:۔بیلیز سے خواتین زیادہ آئی ہیں۔مرد نہیں آئے اپنے خاوندوں اورلڑکوں نوجوانوں کو بھی لانا تھا۔ان کے ایمان بھی مضبوط کریں۔

ایک خاتون نے عرض کیا وہ گزشتہ چار سال سے احمدی ہیں۔اس پر حضورانورنے فرمایا آئندہ سال جلسہ سالانہ یو کے پر آنے کا پروگرام بناؤ۔موصوفہ نے عرض کیا کہ ہماری درخواست ہے کہ جب ہماری بیلیز کی بیت الذکر تعمیر ہو جائے تو حضور اس کے افتتاح کے لئے آئیں۔اس پر حضور انور نے فرمایا۔ ان شاء اللہ جب تعمیر ہو جائے گی تو ہم آنے کی کوشش کریں گے۔

بعد ازاں بیلیز کی چار مقامی بچیوں نے کورس کی صورت میں نظم ’’ہے دست قبلہ نما…‘‘ترنم کے ساتھ پڑھی۔حضور انور نے ازراہ شفقت MTAوالوں کو بلایاکہ آ کر اس کی ریکارڈنگ کریں۔

فرمایا:۔آپ نے جس طریق سے پڑھا ہے مجھے پسند آیا ہے۔خدا برکت دے۔نیز فرمایا اب آپ اس نظم کا مطلب بھی سیکھیں اور اپنے مشنری کو کہیں کہ وہ آپ کو اس کا مطلب سکھائے۔

کینیڈا میں ریجائنا جماعت میں جن احباب نے وہاں کی بیت الذکر تعمیر کی تھی وہ بیلیز کی بیت الذکر کے لئے ایک نقشہ تیار کر کے ساتھ لائے تھے۔انہوں نے حضورانور کی خدمت میں وہ نقشہ پیش کیا۔اس پر حضور انور نے فرمایا آپ یہ نقشہ لندن بھجوادیں وہاں دیکھ کر بتائیں گے کہ کیا کرنا ہے۔

آخر پر وفد کے تمام ممبران نے باری باری حضور انور کے ساتھ تصاویر بنوانے کی سعادت پائی۔بیلیز کے وفد کا حضور انور کے ساتھ ملاقات کا یہ پروگرام ساڑھے سات بجے تک جاری رہا۔

image_printپرنٹ کریں