skip to Main Content
سیدنا حضرت خلیفۃا لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر ہ العزیز کا دورہ امریکہ  8

 بیت الصمد کی افتتاحی تقریب سےحضورانورکاخطاب،مہمانوں کے تاثرات اور بیت الرحمنٰ آمد

( عبدالماجد طاہر۔ لندن)

20۔اکتوبر2018ء

)حصہ سوم (

خطاب برموقع افتتاح بیت الصمد

اس کے بعد مکرم صاحبزادہ مرزا مغفور احمد صاحب امیر جماعت یو ایس اے نے اختصار کے ساتھ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا تعارف کرواتے ہوئے کہا:۔خواتین و حضرات!یہ ہمارے لئے انتہائی اعزاز کی بات ہے کہ حضرت مرزا مسرور احمد صاحب خلیفۃ المسیح الخامس جو کہ حضرت مسیح موعود کے پانچویں خلیفہ ہیں، ہمارے درمیان موجود ہیں۔میں حضور انور سے درخواست کرتاہوں کہ تشریف لائیں اور اپنے خطاب سے نوازیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا یہ خطاب 7بجے شروع ہوا۔حضور انور  ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے انگریزی زبان میں خطاب فرمایا۔اس کا اردو ترجمہ یہاں پیش کیا جارہا ہے۔

حضور انور  ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطاب کے شروع میں فرمایا:۔السلام…اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں آپ سب پر ہوں۔سب سے پہلے میں ان تمام مہمانوں کا دلی شکریہ ادا کرنا چاہتاہوں جو آج وقت نکال کر ہمارے ساتھ اس موقع پر شامل ہو رہے ہیں۔ایسی دنیا میں جہاں مذہب میں دلچسپی زوال پذیر ہے، وہاں آپ کا ایک مذہبی جماعت کے پروگرام میں شامل ہونا قابل ستائش ہے۔یہ بات اور بھی اہمیت کی حامل ہے کہ آپ (۔)کے ایک پروگرام میں شامل  ہو رہے ہیں جہاں ایک (بیت الذکر) کا افتتاح ہو رہا ہے ، باوجود اس کے کہ آپ میں سے اکثر غیر(۔) ہیں ا ور ان کی (دین حق) اور (بیت الذکر) کے ساتھ کوئی مذہبی یا جذباتی وابستگی نہیں ہے۔یقیناآپ سب اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ آج کل بہت سے لوگ (دین حق) اور (۔)کے بارہ میں خوف اور تحفظات میں مبتلا ہیں۔اس تمام پس منظر میں آپ کی یہاں حاضری قابل تعریف ہے اور مجھے پابند کرتی ہے کہ میں آپ سب کا دلی شکریہ ادا کروں۔نیز میں یہ بھی واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ شکریہ کے جذبات صرف اخلاقاً نہیں بلکہ (دین حق) میرے پر یہ مذہبی فرض عائد کرتا ہے، جیسا کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ نے ہمیں تعلیم دی ہے کہ جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کا بھی شکر گزار نہیں ہو سکتا۔اس لئے میں یہ اپنا مذہبی فريضہ سمجھتا ہوں کہ دلی طور پر اخلاص کے ساتھ آپ کا شکریہ ادا کروں۔

حضور انور  ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:۔

میرے خیال میں آپ آج (دین حق) کے بارہ میں مزید سیکھنے کی امید اور یہ جاننے کے لئے تشریف لائے ہیں کہ ہم نے یہ (بیت الذکر)کیوں بنائی ہے۔لوگ(دین حق)کے بارے میں میڈیا میں جو کچھ دیکھتے ہیں اور سنتے ہیں، اس لحاظ سے انہیں توجہ بھی پیدا ہوتی ہے کہ (دین حق)کے بارے میں حقیقت جاننے کی کوشش کریں۔ہم جس ماحول میں رہ رہے ہیں اس میں اگر لوگوں کے ذہنوں میں (بیت الذکر)کے بارے میں کچھ خدشہ یا خوف ہے تو یہ قابل فہم ہے۔بے شک دنیا میں (۔)کے خوف کا تاثر بڑھ رہا ہے۔مجموعی طور پر (۔)کو فساد پیدا کرنے والا اور(۔)کو ایسی قوم سمجھا جاتا ہے جو نہ تو آپس میں اور نہ ہی دوسروں کے ساتھ امن سے رہ سکتے ہیں۔پھر (بیت الذکر)کی تعمیر تو اور بھی زیادہ بے چینی اورخوف پیدا کرتی ہے۔بہت سے لوگ ڈرتے ہیں کہ(بیت الذکر)ایک ایسا مرکز مہیا کرے گی جوا نہیں باقی معاشرہ سے الگ کر دے گی۔اور مقامی آبادی شہر اور ملک کا امن و سکون داؤ پر لگ جائے گا۔میں نے غیرمسلم دنیا میں ان خدشات کاخود مشاہدہ کیا ہے۔بدقسمتی سے یہ بے چینی اور شکوک (دین حق) اور اس کے ماننے والوں کے متعلق مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

حضور انور  ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:۔

ان تمام باتوں کے باوجود سچ یہ ہے اور ہمیشہ یہی رہے گا کہ (دین حق)ہر قسم کی شدت پسندی،دہشت گردی اور تشدد کی کلیۃً نفی کرتا ہے۔یہ ہر اس قدم کی سختی سے مذمت کرتا ہے جس سے آزادی مذہب اور آزادی ضمیر متاثر ہوتی ہے۔(دین حق)کسی بھی صورت مذہب کے معاملہ میں کسی جبر اور زبردستی کی اجازت نہیں دیتا بلکہ(دین حق)تعلیم دیتا ہے کہ مذہب انسان کے دل کا معاملہ ہے اور یہ قرآن مجید میں لکھا ہوا ہے۔اس لئے میرا یہ مضبوط ایمان ہے کہ غیروں کے (دین حق) کے بارہ میں جو تحفظات ہیں وہ غلطی فہمی پر مبنی ہیں۔

حضور انور  ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:۔

کسی بھی (بیت الذکر )بنانے کے لئے ضروری ہے کہ (دینی )تعلیم کے مطابق اس کی تعمیر کے مقاصد کو سامنے رکھا جائے۔جب حقیقی (۔)(بیت الذکر)بناتے ہیں تو ان کا مقصد کیا ہوتا ہے۔اگر کوئی انسان منصفانہ نظر سے دیکھے کہ (بیت الذکر)کیوں بنائی جاتی ہے اور کیا وجہ ہے کہ اسے (۔)کے لئے مقدس سمجھا جاتا ہے،تو وہ اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ حقیقی (بیت الذکر) سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔اس لئے اب مقامی لوگوں میں پیدا ہونے والی کسی بھی ممکنہ بے چینی کو کم کرنے کے لئے (بیت الذکر)کے بنیادی مقاصد بیان کروں گا تا کہ آپ کو معلوم ہو کہ یہ (بیت الذکر)اور تمام حقیقی (بیوت الذکر)کس چیز کی علامت ہیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:۔

)بیت الذکر )بنانے کا بنیادی مقصد بلاشبہ ایک خدا کی عبادت ہے۔اس لئے (بیو ت الذکر)وہ جگہیں ہیں جہاں(۔)اکٹھے ہوتے ہیں اور اللہ کے سامنے جھکتے ہیں، سجدہ ریز ہوتے ہیں اور اس کی عبادت کرتے ہیں۔ایسی عبادت دن میں پانچ دفعہ کی جاتی ہے اور اسے نماز کہتے ہیں۔یہ ہر (۔)کے ایمان کا بنیادی حصہ ہے جو اس کے لئے بجا لانا واجب ہے۔دوسرا اہم مقصد (بیوت الذکر) کا یہ ہے کہ ایسی جگہ جہاں (۔)اکٹھے ہو کر عبادت کر سکیں اور آپس کے تعلقات کو مضبوط بناتے ہوئے معاشرے میں اتحاد پیدا کر سکیں۔لہٰذا (بیوت الذکر) کے ذریعہ سے (۔)زیادہ آسانی سے معاشرہ میں حسنِ سلوک، ہمدردی اور بھائی چارہ کی فضاء قائم کر سکتے ہیں۔تیسرا اہم مقصد کسی بھی (بیت الذکر) کا یہ ہے کہ غیروں کو (دین حق ) کی تعلیمات کے متعلق آگاہی دی جائے اور تمام معاشرے کے حقوق ادا کئے جائیں۔یہ(بیوت الذکر)ایک پلیٹ فارم مہیا کرتی ہیں تا کہ (۔)متحد ہو کر اپنی مقامی آبادی کی خدمت کر سکیں اور معاشرے کے تمام افراد کی بلا تمیز رنگ و نسل مدد کر سکیں۔   

اللہ تعالیٰ قرآن مجید سورہ نساء کی آیت میں فرماتا ہے:

’ اور اللہ کی عبادت کرو اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ احسان کرو اورقریبی رشتہ دار وں سے بھی اور یتیموں سے بھی اور مسکین لوگوں سے بھی اور رشتہ دار ہمسایوں سے بھی اور غیر رشتہ دار ہمسایوں سے بھی اور اپنے ہم جلیسوں سے بھی اور مسافروں سے بھی اور ان سے بھی جن کے تمہارے داہنے ہاتھ مالک ہوئے۔یقینا اللہ اس کو پسند نہیں کرتا جو متکبر(اور) شیخی بگھارنے والا ہو‘اس آیت کریمہ میں قرآن مجید (۔)کو تعلیم دیتا ہے کہ تمام لوگوں سے ہمدردی اور شفقت کا سلوک کیا جائے۔(دین حق)(۔)سے کہتا ہے کہ وہ والدین،افرادِ خانہ، دیگر رشتہ داروں اور معاشرے کے بے کس افراد کی بھی خدمت کریں۔قرآن کریم ہمسائے کے حقوق ادا کرنے پر بھی بہت زور دیتا ہے۔ہمسائے سے صرف وہی افراد مراد نہیں ہیں جو انسان کے گھر کے ساتھ رہتے ہیں بلکہ (دین حق ) میں ہمسائے کاتصور بہت وسیع ہے۔صرف وہ جو قریب یا دور رہتے ہیں اس میں شامل نہیں بلکہ ہمسایہ کی تعریف میں انسان کے وہ ساتھی بھی شامل ہیں جو اس کے ساتھ کام کرتے ہوں یا اس کے ساتھ سفر میں ہوں اور وہ بھی شامل ہیں جن کا اس کے ساتھ تعلق ہو۔اس لئے خلاصۃً اس شہر کے تمام افراد اس (بیت الذکر)کے ہمسائے ہیں۔اس لئے حقیقی (بیوت الذکر) بجائے معاشرہ کا امن برباد کرنے کے مختلف طبقات اور مذاہب کے افراد کے درمیان امن کو فروغ دیتی ہیں۔(بیوت الذکر)جہاں (۔)کے اپنے خالق کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرتی ہیں وہاں دوسرے لوگوں کے حقوق ادا کرنے میں بھی ممد ہیں۔(بیوت الذکر) کسی کام کی نہیں ہیں جو یہ اہم مقاصد پورا نہیں کرتیں، ایسی (بیوت الذکر)ان کھوکھلے شیلز کی طرح ہیں جو کسی کام نہیں آتے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:۔

ہماری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہم جب بھی (بیت الذکر) بناتے ہیں تو ان مقاصد کو پور ا کرنے کی کوشش کرتے ہیں جومیں نے ابھی بیان کئے ہیں۔ہم اپنے حسن سلوک اور نیک برتاؤ سے عملی طور پر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم اپنی جماعت کے ماٹو’محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں‘کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ہم دیگر (۔)اور غیروں سے تعلقات استوار کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ہم بین المذاہب بات چیت کو فروغ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ہم اپنے ہمسایوں کی قدر اور ان کا خیال رکھتے ہیں۔ہم ہمیشہ ضرورت پڑنے پر ان کی مدد کے لئے تیار رہتے ہیں۔ہم کمزوروں اور محروموں کے حقوق ادا کرتے ہیں۔ہم ہر جگہ معاشرے کی خدمت کے لئے تیار رہتے ہیں اور محب وطن شہری ہیں۔یہی ہمارا مذہب اور تعلیمات ہیں۔اسی مقصد کے لئے ہم (بیت الذکر) بناتے ہیں۔میں امید کرتا ہوں کہ آپ سب لوگ سمجھ گئے ہوں گے کہ (بیت الذکر)کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جس سے ڈرا جائے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:۔

حقیقی (بیت الذکر)صرف خدا کی عبادت کی جگہ ہی نہیں بلکہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں سے وہ اکٹھے مل کر دیگر افراد معاشرہ کے حقوق ادا کرتے ہیں۔قرآن مجید کی سورہ ماعون کی آیات 5تا 7میں بیان  ہے کہ؛

پس ان نماز پڑھنے والوں پر ہلاکت ہو۔جو اپنی نماز سے غافل رہتے ہیں۔وہ لوگ جو دکھاوا کرتے ہیں۔

یہ آیات واضح طور پر بیان کرتی ہیں کہ ان لوگوں کی نمازیں رد کر دی جائیں گی جو اللہ تعالیٰ کی عبادت تو کرتے ہیں مگراس کی مخلوق کے حقوق ادا نہیں کرتے۔ان کی نمازیں اور(بیت الذکر)میں حاضری کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ وہ صرف دکھاوا ہے۔قرآن مجید نے نہایت واضح طور پر بیان کردیا ہے کہ ان کی نمازیں بے معنی ہیں اور ان کے منافقانہ اطوار انہیں صرف ذلت و گمراہی میں بڑھاتے ہیں۔

دراصل حقیقت یہ ہے کہ سچے (۔)جو مخلص ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں وہ کبھی کوئی ایسا کام نہیں کر سکتے جس سے معاشرے کا مفاد یا امن خراب ہوتا ہو۔نہ ہی وہ دوسروں کے حقوق غصب کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ ایسا کرنے سے ان کا ایمان خراب ہوتا ہے اور ایسا عمل قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کی تعلیمات کے منافی ٹھہرتا ہے۔

حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:۔

اس لئے میں آپ کو ایک بار پھر یقین دلانا چاہتا ہوں کہ اس(بیت الذکر) کے بارہ میں آپ کو کسی بھی قسم کی بے چینی کی ضرورت نہیں۔اس (بیت الذکر)کے دروازے ہمیشہ امن پسند لوگوں کے لئے کھلے رہیں گے۔یہ ہمیشہ ان لوگوں کے لئے کھلے رہیں گے جو انسانیت کی قدر کرتے ہیں۔میں آپ کو مکمل اعتماد سے کہہ سکتاہوں کہ ان شاء اللہ یہ (بیت الذکر)امن کی علامت بن کر ابھرے گی اور اس سے جو پیار،محبت ، بھائی چارہ پھوٹے گاوہ اس پورے شہر بلکہ اس سے بھی آگے جائے گا۔یہ ایک ایسا مینار بنے گی جو چار سو روشنی پھیلائے گی۔یہ ایسی جائے امن ہوگی جہاں اکٹھے ہو کر عبادت کرنے والے اپنے ہمسایوں سے حسن سلوک کریں گے اور ان کے حقوق ادا کریں گے۔یہ (دین )کی روشن تعلیم کو ظاہر کرے گی اور تمام خوفوں اور تصورات کو دور کر دے گی جو ہمارے مذہب کے بارے میں پائے جاتے ہیں۔ان شاء اللہ مقامی لوگوں کے دلوں میں رہ جانے والے خوف سب دور ہو جائیں گے جب وہ اس (بیت الذکر) کو دیکھیں گے اور لوگوںسے ملیں گے جو یہاں عبادت کریں گے تو وہ جلد سمجھ جائیں گے کہ کسی پریشانی اور بے چینی کی ضرورت نہیں ہے۔اگرچہ یہ دعویٰ کرنا آسان ہے لیکن جلد ہی آپ میرے ان دعووں کی خود تصدیق کریں گے کہ احمدی وہی کرتے ہیں جس کی وہ (دعوت الی اللہ) کرتے ہیں اور وہ (دین حق)کی امن والی تعلیم کا صرف دعویٰ ہی نہیں کرتے بلکہ اسے مقدم بھی رکھتے ہیں۔مجھے یقین ہے کہ مقامی آبادی جلد ہی یہ محسوس کر لے گی کہ جو کچھ میں نے (بیت الذکر )کے مقاصد کے بارہ میں ابھی بیان کیا ہے وہ کوئی سہانے سپنے نہیں بلکہ کامل سچائی ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:۔

اس وقت میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ یہ معاشرے کے ہر فرد کا فرض ہے چاہے (۔) ہوں یا (۔)مذہبی ہوں یا غیر مذہبی کہ دنیا کی فلاح و بہبود اور امن کے لئے مل جل کر کام کریں۔ایک دوسرے پر الزامات لگانے اور دوسروں کی خامیوں اور کمزوریوں پر انگلی اٹھانے کی بجائے ہمیں اپنے دلوں کو کشادہ کرتے ہوئے  ہمدردی اور حسن سلوک کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ایک دوسرے کے مذاہب پر حملہ کرنے اور بلاضرورت دوسروں کو اشتعال دلانے کی بجائے یہ وقت کی فوری ضرورت ہے کہ ہم باہمی عزت و احترام اور برداشت کا مظاہرہ کریں۔حقیقی اور دیر پا امن اچانک قائم نہیں ہو سکتا بلکہ ہم سب پر فرض ہے کہ ہم اُن باتوں پر توجہ مرکوز کریں جو ہمیں آپس میں ملائے اور متحد کرے نہ کہ ہمارے اختلافات ہمیں تقسیم کر دیں اور معاشرے کو تباہ کر دیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:۔یقینا میں تسلیم کرتاہوں کہ ہم دنیا کی تاریخ کے نازک موڑ سے گزررہے ہیں جہاں دنیا قومی اور بین الاقوامی سطح پر تقسیم در تقسیم ہو رہی ہے۔ہم تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔اس لئے اب وقت ہے کہ ہم از سر نو جائزہ لیں اور اپنی تمام تر توانائی انسان کے مستقبل کو محفوظ بنانے میں صَرف کریں۔اب وقت ہے کہ ہم اپنی انسانیت کو ظاہر کریں اور اپنے معاشرہ، قوم بلکہ ساری دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں ۔یہ تبھی ممکن ہے جب ہم آپس میں مل جائیں اور ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کریں،تب ہی ہم اس خلیج کو پُر کر سکتے ہیں جو اکثر دنیا میں پھیل چکی ہے۔تب ہی ہم اپنے بچوں کے لئے امید کی کرن پیدا کر سکتے ہیں،تب ہی ہم اپنے پیچھے آنے والی نسلوں کے لئے پُر امن اور خوشگوار دنیا چھوڑ سکتے ہیں۔ہمیں ذاتی نفع اور لالچ کی وجہ سے اندھا نہیں ہو جانا چاہئے بلکہ ہمیں اپنی آنکھیں کھولنی چاہئیں اور مشترکہ مفاد پر نظر رکھنی چاہئے۔

حضور انور  ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:۔

میں امید کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ ہم سب بلا امتیاز مذہب اور عقیدہ ،اکٹھے مل کر خیر خواہی اور باہمی احترام کے جذبہ کے ساتھ کام کر سکیں۔ہماری مشترکہ خواہش یہ ہونی چاہئے کہ ہم اپنے بعد آنے والوں کے لئے دنیا کو ایک بہتر جگہ بنائیں۔ہمارا مشترکہ مقصد امن کا قیام اور تمام افراد معاشرہ کے درمیان ہم آہنگی اور خیر خواہی پیدا کرنا ہو۔ہمیں مستقل یہ کوشش کرنی ہوگی کہ ہم اپنے پیچھے اپنے  بچوں کے لئے ایک پُر امن دنیا چھوڑیں،جہاں لوگ بلا امتیاز مذہب ، قوم اور عقیدہ کے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہ سکیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم سب مل کر انسانیت کی بہتری کے لئے کام کر سکیں،آمین

حضور انور  ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:۔

آخر میں آپ سب کا ایک بار پھر شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ آپ لوگ یہاں ہمارے ساتھ شامل ہوئے ،ا للہ تعالیٰ آپ سب پر اپنا فضل فرمائے،آمین ۔آپ سب کا بہت بہت شکریہ۔

حضور انور  ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا یہ خطاب سات بجکر پچیس منٹ تک جاری رہا۔آخر پر حضور انور  ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دعا کروائی۔اس کے بعد مہمانوں نے حضور انور  ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی معیت میں کھانا کھایا۔

کھانے کے بعد بعض مہمانوں نے باری باری حضور انور سے ملنے کی سعادت حاصل کی اور بعضوں نے درخواست کر کے تصاویر بنوائیں۔

بیت الرحمن آمد

بعد ازاں پروگرام کے مطابق یہاں سے بیت الرحمن واشنگٹن کے لئے روانگی ہوئی۔بالٹی مور سے بیت الرحمن کا فاصلہ 34میل ہے۔ساڑھے نو بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی یہاں تشریف آوری ہوئی۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بیت الرحمنٰ تشریف لے آئے اور نماز مغرب و عشاء جمع کر کے پڑھائیں۔نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

مہمانوں کے تاثرات

حضور انور  ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے آج کے خطاب نے مہمانوں پر گہرا اثر چھوڑا اور بہت سے مہمانوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔

  • ایک مہمان ٹیچر نے کہا:

حضور انور کے خطاب نے مجھے بہت متاثر کیا ہے۔یہ وضاحت ضروری تھی۔مجھے خاص طور پر اس بات پر خوشی ہوئی ہے کہ جو آپ نے (بیت الذکر) کے مقاصد بیان فرمائے ہیں اور یہ کہ (بیت الذکر)اپنے ہمسایوں کے لئے کیا کیا کام آئے گی۔ہمیں ایک دوسرے سے اختلافات کے باوجود مشترکہ امور پر اکٹھے ہونا چاہئے اور باہم مل کر معاشرے کی بہتری کے لئے کام کرنا ہے۔یہ ایک شاندار پیغام تھا۔اگر اس پر عمل ہو تو معاشرہ بہت بہتر ہو سکتا ہے۔

  • ایک یونیورسٹی پروفیسر نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

حضور انور کا پیغام کہ ہمیں مثبت چیزیں دیکھنی چاہئیں۔جہاں ہمارے مابین اختلافات ہیں، اسی جگہ ہم میں بہت سی چیزیں مشترکہ ہیں۔یہ ایک حیرت انگیز پیغام تھا کہ جس کے ذریعہ ہم معاشرے میں اہم تبدیلی پید ا کر سکتے ہیں۔ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے ایک دوسرے کا احترام کرنا ہے۔بہت ہی اچھا پیغام ہے۔یو ایس اے کے ماحول میں یہ پیغام بہت اہم ہے۔بطور امریکی ہمیں نہ صرف اپنے لئے بلکہ اپنے بچوں کے لئے کام کرنا ہے،معاشرے میں سب کو ساتھ ملا کر آگے چلنا ہے۔مجھے اس حیرت انگیز پیغام نے بہت متاثر کیا ہے۔

  • گیمبین ایمبیسی سے تعلق رکھنے والے Laminصاحب نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

یہ خطاب بہت متاثر کن تھا۔میں خود بھی ایک احمدیہ سکول میں پڑھا ہوں۔جو میں آج ہوں وہ احمدیہ جماعت کے باعث ہوں۔میں آپ لوگوں کا بہت شکر گزار ہوں۔میں گیمبیاکی ایمبیسڈر اور تمام ملک کی جانب سے آپ لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔گیمبیا میں آپ لوگوں کے رفاہی کام انتہائی شاندار ہیں۔سکول، ہسپتال وغیرہ ہر جگہ آپ انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں۔آپ لوگوں کا بہت شکریہ۔

  • ایک خاتون نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

میں حضور انور کے پیغام کو سن کر بہت جذباتی ہوگئی ہوں۔میرے لئے یہ بہت پرسکون باتیں تھیں۔ان میں امید نظر آتی ہے۔آج کل کے حالات میں میرے لئے اس خطاب میں بہت ہی اہم پیغام تھے۔(۔)اور(۔)کالے اور گورے کے درمیان یہاں بہت خلیجیں حائل ہیں۔ہمیں ان سب دوریوں کا حل تلاش کرنا ہے اور یہ باہمی احترام سے ہی ممکن ہے۔حضور انور نے جو ہمسایہ کی تعریف فرمائی ہے،ہمسایہ سے حسن سلوک کا جو پیغام دیا ہے،یہ میرے لئے بہت ہی شاندار تھا۔اس پیغام کو سن کر مجھے(دین حق) کے بارے میں مزید جاننے کی ترغیب ہوئی ہے۔آپ لوگوں کا بہت شکریہ۔

image_printپرنٹ کریں