skip to Main Content
حانیہ بیٹی کے لئے

مکرمہ امۃ الباری ناصر۔امریکہ سے اپنی پورتی عزیزہ حانیہ کی شادی پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے۔

یہ شادی کا خوشیوں کا سماں سب کو مبارک
حانیہ کو مبارک ہو یہ کامل کو مبارک
فوزیہ کو مبارک ہو یہ ندرت کو مبارک
پھل پھول بہت پیارے لگے میرے شجر میں
تم ایک امانت کی طرح تھیں مرے گھر میں
تم جس کی امانت تھیں اسے سونپ رہے ہیں
آنسو تری رخصت کی اداسی میں بہے ہیں
یہ اشک نہیں خوشیوں میں بہتے ہوئے غم ہیں
شکرانے کے آنسو ہیں یہ جتنے بھی ہو کم ہیں
سنت یہ رسولوں کی ادا کرتے ہیں پیاری
خود جسم سے جاں اپنی جدا کرتے ہیں پیاری
ہم نے تھا بڑے لاڈ سے اور پیار سے پالا
تھا گھر میں ترے دم سے ہر اک سمت اجالا
جو بس میں ہمارے تھا سبھی تم کو پڑھایا
دین کا دنیا کا ہر اک علم سکھایا
ہے زاد سفر دولتِ نایاب تمہارا
قسمت میں بس اتنا ہی تھا ساتھ ہمارا
قائم سبھی اقدار کو ہر حال میں رکھنا
کن لوگوں سے منسوب ہو یہ خیال میں رکھنا
ہے دل سے دعا عاملِ قرآن بنو تم
دنیا کے لئے خیر کا سامان بنو تم
حاصل تمہیں نعمت ہو ہر اک دنیا و دیں کی
لَو بڑھتی رہے خیر سے اس نورِجبیں کی
حاصل تمہیں اس دنیا میں جنت کی ہوا ہو
ہر گام کی تائید میں مولا کی رضا ہو
یہ شادی کا خوشیوں کا سماں سب کو مبارک
دلہن کو مبارک ہو یہ دولہا کو مبارک ہو
حانیہ کو مبارک ہو یہ کامل کو مبارک
فوزیہ کو مبارک ہو یہ ندرت کو مبارک

image_printپرنٹ کریں