skip to Main Content
اداریہ: حج اور اس کا فلسفہ

اسلامی مہینہ ذوالحجہ تمام مسلمانوں کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ ان کے لئے بھی جو مکہ معظمہ پہنچ کر حج کی تو فیق پاتے ہیں اور ان مسلمانوں کے لئے بھی جو مالی استطاعت نہ رکھتے ہوئے یا بعض ذاتی مجبوریوں اور روکوں کی وجہ سے شرائط حج کو پورا نہیں کر پاتے اور اپنی اپنی جگہوں پررہ کر نماز عید ( عید الاضحیٰ) ادا کرتے ہیں اور حضرت ابراہیمؑ کی اقتداء میں دُنبے، بکرے ، چھترے، گائے یا اونٹ کی قربانی کرتے ہیں۔گویا اسلامی مبارک مہینے ذوالحجہ کو دو اعتبار سے اہمیت حاصل ہے۔
1۔ حاجیوں کے لئے حج کے مبارک فریضہ کی ادائیگی
2۔ غیر حاجیوں کے لئے عید الاضحیٰ کی ادائیگی
جہاں تک اول الذکر فریضہ کا تعلق ہے یہ مکہ پہنچ کر ادا ہوتا ہے ۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے پلوٹھے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ مل کر اللہ تعالیٰ کے اس پہلے گھر کی ا ز سر نو تعمیر کی جو خانہ کعبہ یا بیت اللہ کہلاتا ہے اور یہی مسلمانوں کا قبلہ ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے حضرت ہاجر ہ ؑ کے بطن سے ایک بیٹے سے نوازا ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بڑی بیوی سارا حسد کی وجہ سے انہیں تکلیف دیا کرتی تھی۔جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ سے اذن پاکر حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی بیوی ہاجر ہ ؑ اور بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو ایک بے آب و گیا ہ جنگل میں چھوڑ آئے جو مرور زمانہ کی وجہ سے بعد میں ایک عالمی شہر بنا ۔ آج ساری دنیا سے لاکھوں مسلمان اس یاد کو تازہ کرنے ذوالحجہ کے اوائل میں مکہ پہنچتے ہیں اور اسلامی شعائر کے مطابق حج کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔ حج کیسے ادا کیا جاتا ہے ۔اس کی تفصیل تو اخبار میں آپ کر پائیں گے ۔ حج کا فلسفہ کیا ہے۔یہ ہمیں کیا سبق دیتا ہے ۔ اس کی طرف اکثر حاجی نہ تو توجہ دیتے ہیں اور نہ اس کے بارے میں سوچ پیدا ہوتی ہے اور حج کی طاقت نہ پانےوالے لوگ بھی اس کی حکمت سے عاری ہیں۔ قرآن کریم کے مطالعہ کے بعد یہ بات سامنے آتی ہے کہ حج کے ذکر کے ساتھ اللہ تعالی ٰنے اپنا خوف رکھنے کے مضمون کو باندھ دیا ہے ۔ جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیات سےعیاں ہے جس میں حج پر جانے والے لوگوں کو کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو یعنی حج کی عبادت محض اس غرض کے لئے ہے کہ تمہارے دلوں میں تقویٰ پیدا ہو اور تم ما سوا اللہ سے نظر ہٹا کر صرف اللہ تعالیٰ کو ہی اپنی ڈھال بنا لو ۔اگر حج بیت اللہ یا عمرہ سے کسی کو یہ مقصد حاصل نہیں ہوتا تو اسےسمجھ لینا چاہئے کہ اس کا کوئی مخفی کبر اس کے سامنے آگیا ہے۔ اسے چاہئے کہ خلوت کے کسی گوشہ میں اپنے خدا کے سامنے اپنے ماتھے کو زمین پر رکھے اور جس قدر خلوص بھی اس کے دل میں باقی رہ گیا ہو اس کی مدد سے گریہ و زاری کرے اور خدا تعالیٰ کے حضور جھک کر کہے کہ اے میرے خدا ! لوگوں نے بیج بوئے اور ان کے پھل تیار ہونے لگے وہ خوش ہیں کہ ان کے اور ان کی نسلوں کے فائدے کے لئے روحانی باغ تیار ہو رہے ہیں لیکن اے میرے رب !میں دیکھتا ہوں کہ جو بیج میں نے لگایا تھا اس میں تو کوئی روئیدگی پیدا نہیں ہوئی۔ نا معلوم میرے کبر کا کوئی پرندہ اسے کھا گیا ہے یا میری وحشت کا درندہ اسے پاؤں کے نیچے مسل گیا ہے ۔پس اے میرے خدا ! میرے اس ضائع شدہ بیج کو پھر مہیا کر دے اور میری کھوئی ہوئی متاع ایمان مجھے واپس کر اور میں اور میری نسلیں تیری رحمتوں سے وافرحصہ لیں ۔
اللہ تعالی ٰاس جگہ پر مومنوں کو بتاتا ہے کہ دیکھو ہر وقت تقویٰ کا زاد اپنے ساتھ لو اس سے بہتر اور کوئی زادنہیں جو آخرت کے سفر میں تمہارے کام آنے والا ہے اور حج کے ذکر کے ساتھ یہ ذکر لا کر بتایا کہ اب حج سے تمہاری ذمہ داری بہت بڑھ گئی ہے ۔ تمہیں اپنے تقویٰ کا پہلے سےبہت زیادہ خیال رکھنا ہوگا ۔ جیسے صاف شفاف کپڑوں والا چھو ٹے سے چھوٹے داغ اوردھبے سے بھی بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی دوسرا مقصد ہے جو تقویٰ اور خوف خدا سےپیدا ہوتا ہے۔یعنی استغفار سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنا جس کی طرف سورہ بقرہ کی انہی آیات میں اشارہ ہے جس کا ذکر میں کر آیا ہوں۔ حج کے دوران ہر وقت اللہ تعالیٰ کو یاد کرنادراصل استغفار ہی ہے اور دلوں کے زنگ دھونے کا بہترین ذریعہ ہے ۔ مگر آج جب حج کی کارروائی ٹیلی ویژن پر ٹیلی کاسٹ ہو رہی ہوتی ہے تو یہ دیکھ کر حیرانگی ہوتی ہے کہ دوران خطبہ حاجی ہاتھ سے یا رومال ہلا ہلا کر اپنے عزیز و اقارب کو خیریت کا پیغام دے رہے ہوتے ہیں اور آوازیں بھی بلند ہو رہی ہوتی ہیں جبکہ سرکار دو عالم حضرت محمد ﷺ کا فرمان ہے کہ خطبہ کے دوران کسی کو بولنے کی اجازت نہیں۔ اگر کسی کو خاموش کروانے کی ضرورت بھی پیش آئے تو ہاتھ کے اشارہ سے اسے چپ کروائے۔
تیسرا بڑاسبق سورۃ البقرہ کی انہی آیات 190تا205 میں یہ بیان ہوا ہے کہ‘‘اعلیٰ نیکی یہ نہیں کہ تم اپنے گھروں میں ان کے پچھواڑے سے داخل ہو بلکہ کامل نیک وہ ہے جو تقویٰ اختیار کرے اور تم اپنے گھروں میں ان کے دروازوں سے داخل ہوا کرو ۔’’حج کے ذکر میں یہ نصیحت کرکے دراصل یہ بتانا مقصود ہے کہ کامیابی ہمیشہ ابواب ہی کے ذریعہ آنے سے ہوا کرتی ہے ۔اگر تم ایسا نہیں کرتے اور دروازوں سے داخل ہونے کی بجائے دیوار یں پھاند کر اندر داخل ہونا چاہتے ہو تو تمہیں کبھی کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی ۔اللہ نے گویا یہ حکم عربوں کے اس دستور کو روکنے کےلئے دیا ہےکہ جب حج کے لئے احرام باندھ لیتے ہیں تو گھر دروازہ سے نہ آتے بلکہ پچھواڑے سے آتے ۔ لیکن اس میں بہت باریک حکمت پنہاں ہے ۔اللہ جانتا تھا کہ آخری زمانہ میں مسلمان مختلف برائیوں میں مبتلا ہو جائیں گے اور ہر ناجائز کام کو جائز سمجھ کر کریں گے۔ چنانچہ آج کے دور میں بعض لوگ اس لئے حج پر جاتے ہیں کہ ماتھے پر حاجی کا لیبل جھمکے کا کام دے گا تاکہ وہ ہر کام اپنی مرضی سے کرے اور ہر ناجائز کام کو بھی جائز کہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے نصیحت کی کہ ہر کام کے لئے صحیح راستے اختیار کرو ۔وہ راستے جن کی نشاندہی قرآن کریم اور سرکار دو عالم حضرت محمد ﷺ نے کی ہے ۔
چوتھا سبق حج سے اتحاد و یگانگت کا ملتا ہے جب تمام اطراف سے مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان ایک جگہ اکٹھا ہوتے اور اتحاد اور یگانگت کے سبق کو تازہ کرتے ہیں تو اس طرح ان کے آپس کے وہ تفرقے اور شقاق مٹ سکتے ہیں جنہوں نے مسلمانوں کو کمزور کر رکھا ہے اور آپس میں اخوت اور محبت کو بڑھانے کے لئے ذی اثر طبقہ کے لوگ مل بیٹھیں اور آپس میں تعاون بڑھانے کے عہدوپیمان کریں اور جس طرح آج دشمنان اسلام مسلمانوں میں تفرقے کی خلیج کو مزید بڑھانے کے لئے ہمہ تن مصروف ہیں یہاں مل بیٹھ کر ایسے منصوبے بن سکتے ہیں جو ان کے منصوبوں کا توڑ ہو ں مگر افسوس ہے کہ اس غرض سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھایا جاتا ۔
پانچواں مقصد جو تمام مقاصد کا لبِ لباب ہے ۔ یہ ہےکہ وہ ہر دُکھ سُکھ اور چین میں خدا تعالیٰ کو ہی حرز ِجان بنا ئیں۔ خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کرے۔ اپنے دل کو تمام دوسرے مجازی خداؤں سے خالی کریں ۔ ایک ہی خدا جو تمام کا خدا ہے دل میں بسائیں۔اسی لئے ایک حاجی کویہ تلقین کی گئی ہے کہ وہ ہر وقت یہ تلبیہ کرتا رہے لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ
اس میں شرک کی نفی کی گئی ہے ۔ خواہ وہ شرک خفی ہو یا جلی یعنی خواہ جسم کے اندر کا شرک ہو یا باہر کا اور یہی حج کا بنیادی سبق ہے جسے پہلا اور آخری سبق کہا جاسکتا ہے۔مگر افسوس کہ اس لحاظ سے بھی بہت کمی ہے زبان سے تو لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ کا ہی اقرار کر رہا ہوتا ہےمگر اندر جھانک کر دیکھیں تو خدا ہی خدا نظر آتے ہیں ۔بعض جگہوں پر یہ بھی دیکھا ہے کہ حج پر جانے سے قبل کسی دربار پر ماتھا ٹیک کر منت مانگ کرجاتے ہیں اور اسلامی سربراہ مملکت کو اس حوالہ سے لیں تو حقیقی خدا کے علاوہ جن مجازی خدا ؤں کی وہ عبادت کرتے ہیں اور جن پر وہ تکیہ کرتے ہیں ان میں داتا ،باہو، میاں میر وغیرہ کے علاوہ دنیا کی سپر طاقتیں بھی ہیں اور وہ ان طاقتوں کا نام لے لے کر ان کی خدائی کا اقرار کر رہے ہوتے ہیں ۔
مجھے کسی دوست نے بتلایا کہ داتا کی مشہوری کے پیش نظر میں بھی کچھ سال قبل قربانی کی عید کے قریب داتا دربار چلا گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک دوست بڑا ہی پیارا دُنبہ ہاتھ میں لئے داتا دربار میں حاضری کے لئے آئے ہیں۔ میرے پوچھنے پر بتایا کہ میں اس دُنبہ کا حج کروانے آیا ہوں ۔ چاہتا ہوں کہ قربانی ہو جانے سے قبل یہ دُنبہ حج کر لے۔جہالت کی یہ انتہا نہیں تو اور کیا ہے ۔ مسلمان توہین خداوندی میں تمام حدیں پھلانگ چکے ہیں۔ ان کو اس امر کی کوئی پروا ہ نہیں کہ خدا تعالیٰ تمام گناہ معاف کر دے گا مگر شرک نہیں ۔ آج حج پر جانے والوں میں سے بعض توہین خداوندی کے مرتکب ہو رہے ہیں اور نہ جانے والے بھی۔ حج پر جانے والے اس عظیم فریضہ کورسمی رنگ میں ادا کرتے ہیں جس کی وجہ سے اس کی برکات اور انوار سےمتمتع نہیں ہوتے ۔
حضرت جنید بغدادی بہت بڑے صوفی بزرگ گزرے ہیں ۔ ان کی ایک دفعہ ایک ایسے شخص سے ملاقات ہوئی جو حج کا مقدس فریضہ ادا کرکے آرہا تھا حضرت جنید نے اس سے چند سوالات پوچھے جو یہ ہیں ۔
1۔ جب تو نے احرام باندھا تو کیا یہ نیت بھی کی تھی کہ آئندہ سے اپنی نفسانی خواہشات اور جوش طبع کا لباس بھی اُتار پھینکوں گا ۔اس شخص نے کہا یہ تو میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا تو آپ نے فرمایا تو نے کوئی احرام نہیں باندھا۔
2۔ جب تو نے بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے اس کے گرد چکر لگائے تو کیا تو نے یہ نیت کی تھی کہ آئندہ میں تیری توحید ومحبت کے گرد ہی گھومتا رہوں گا ۔اس نے کہا میری تو عقل نے ایسا نہیں سوچا تو آپ نے فرمایا۔ تو نے بیت اللہ کا طواف ہی نہیں کیا ۔
3۔ تو نے صفا اور مرویٰ کے درمیان سعی کی تو کیا یہ سوچا تھا کہ یہ وہ علاقہ ہے جہاں ایک خدا کی بندی نے پانی کی تلاش میں چکر لگائے تھے اور اس کے پیارے بچے کے لئے اللہ تعالیٰ نےپانی کا چشمہ جاری فرما دیا تھا۔آج میں بھی بھاگ رہا ہوں اور میرے دل میں بھی اپنی محبت کا چشمہ جاری کر دے ۔ اس شخص کے پہلے جیسا جواب پا کر حضرت جنید نے کہا کہ تو نے یہ سعی بھی نہیں کی ۔
4۔ جب عرفات سے گزرا تو کیا خیال کیا کہ جس طرح آج یہاں کھڑے ہیں اسی طرح ایک روز خدا کے حضور کھڑے ہونا ہے اور اپنے اعمال کا حساب چکانا ہے ۔اس شخص نے پہلے کی طرح جواب دیا ۔حضرت جنید نے فرمایا تیرا میدانِ عرفات میں جانا اور نہ جانا برابر ہے ۔
5۔پھر فرمایا ۔جب تو نے منیٰ میں آکر قربانی کی تو یہ نیت کی تھی کہ جس طرح بکرے کی گردن پر چھری پھیر رہا ہوں اسی طرح آئندہ تمام منایایعنی خواہشاتِ نفسانیہ کے گلے پر چھری پھیرتا رہوں گا ۔اس شخص نے کہا میں نے تو ایسی کوئی نیت نہیں باندھی۔ آپ نے فرمایا تیرا یہ عمل بھی نہ ہوا۔
6۔اور جب تورمی الجمار کر رہا تھا تو کیا تو نے دل کے شیطان کو بھی کنکریاں ماریں تاکہ خدا کی محبت دل میں پیدا ہو۔ اس نے کہا ایسا تو میں نے نہیں کیا ۔حضرت جنید نے کہا تو پھر تو نے رمی الجمار نہیں کیا ۔اور تو نے مناسک حج میں سے کچھ بھی پورا نہیں کیا۔ تو اگلے سال دوبارہ جا اور ابراہیمی روح کے ساتھ حج کر تاکہ تو ابراہیمی مقام کو حاصل کر سکے۔
یہ ہے حج کی روح اور فلسفہ مگر آج حج کے متعلق اکثر یہ سننے میں آیا ہے کہ حج کرنے والا اپنا حق سمجھتا ہے کہ اپنے لئے فخر کے طور پر ”حاجی“ کا لقب استعمال کرے۔ایک ایسا حج جو محض ظاہری رسم و رواج کے طور پر کیا گیا ہو اس ”اعزازی نشان “کے ذریعہ لوگوں سے احترام کی پونجی حاصل کرنے کے لئے مفید تو ہو سکتا ہے لیکن جہاں تک اسلامی روح کے ساتھ ایک فریضہ کی ادائیگی کا تعلق ہے اس لقب کی کوئی اہمیت نہیں۔ اتنی بھی نہیں جتنی ایک کھوٹے سکےّ کی ہوتی ہے۔

image_printپرنٹ کریں