skip to Main Content
عرفان احمدخان۔جرمنی: جرمنی میں دو اہم تقریبات گلوبل میڈیا اور گورونانک کانفرنسز و مشاعرہ

جرمنی کا شہر بون جو دوسری جنگ عظیم کے بعد مغربی جرمنی کا دارالحکومت بنا اور سردجنگ کے خاتمہ کے بعد برلن کے دوبارہ دارالحکومت بننے کے بعد اب اقوام متحدہ کا شہر کہلاتا ہے،میں 2009ء سے وزارت خارجہ، وزارت اقتصادیات، فیڈرل کمشنر آفس بڑے ثقافت کے تعاون سے ہر سال گلوبل میڈیا کانفرنس منعقد ہوتی ہے۔جس میں دنیا کے 140ممالک سے دوہزار سے زائد میڈیا پروفیشنل لوگ شامل ہوتے ہیں۔اس کانفرنس کے لئے بون شہر کا انتخاب کرنے کی ایک وجہ یہاں جرمن ریڈیو جس کو دنیا بھر میں ‘‘ڈوئچے ویلے’’کے نام سے پکارا جاتا ہے کے دفاتر بھی ہیں۔دارالحکومت کے برلن واپس چلے جانے کے بعد پارلیمنٹرین کے زیر استعمال علاقہ میں اقوام متحدہ کے 20ذیلی تنظیموں کے دفاتر بنا دئیے گئے۔ اسمبلی ہال کو ورلڈ کانگرس سنٹر میں تبدیل کر کے کانفرنسز کے لئے مخصوص کر دیا گیا۔سپیکر اور نیشنل اسمبلی کے دفاتر میں ‘‘ڈوئچے ویلے’’ قائم کر دیا گیا۔ورلڈ کانگریس سنٹرمیں ہی ہر سال گلوبل میڈیا کانفرنس منعقد ہوتی ہے۔دو روز میں دنیا کی 24ممتاز شخصیات جنہوں نے اپنی اپنی فیلڈ میں کوئی نہ کوئی مشہور انعام حاصل کیا تھا، نے کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کیا اور زندگی کے تجربات بیان کئے۔
کانفرنس کا افتتاح 27مئی2019ء کو صبح دس بجے جرمنی کے صدر نے ویڈیو خطاب سے کیا۔‘‘ڈوئچے ویلے’’ کے ڈائریکٹر نے جرمنی کے صدر کے ساتھ ریڈیو انٹرویو بھی کیا۔جرمن صدر نے شرکاء سے مخاطب ہو کر اس کانفرنس کے انعقاد کا مقصد بیان کیا کہ جرنلسٹ نے آزادیءِ اظہار کی حفاظت کرنی ہے۔انسان کے بنیادی حقوق میں آزادیءِ اظہار کا جو حق ہے اس کے محافظ اخبار نویس ہوتا ہے۔سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا کے درمیان سچائی کے اظہار کا فرق ہمیشہ قائم رہے گا۔لوگ آپ پر زیادہ اعتماد کریں گے اس لئے آپ لوگوں نے ذمہ دارنہ صحافت کرنی ہے۔
اپنے انٹرویو میں جرمن صدر نے یورپئین پارلیمنٹ کے انتخابات اور نتائج پر گفتگوکی۔دنیا کو یورپ کی اہمیت کا احساس دلایا۔مجموعی طورپر یورپ بھر میں ووٹ ڈالنے کا تناسب بہتر رہا ہے۔انتخابات جرمنی میں 61فیصد کی طرف سے ووٹ کا استعمال بتا رہا ہے کہ جرمن عوام یورپ کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
صوبہ کے وزیر اعلیٰ نے دنیا بھر سے آئے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ بون شہر موسمی تغیرات وتبدیلیوں کا مرکز ہے۔موسم کے اثرات سے متعلق تمام کانفرنسز اس شہر میں منعقد ہوتی ہیں۔میں نےجرمن حکومت کو درخواست کی ہے کہ جرمنی کا میڈیا ہیڈ کوارٹربون شہر کو بنا دیا جائے۔جس طرح ہر سال انٹرنیشنل سیکیورٹی کانفرنس میونخ میں منعقد ہوتی ہے۔میڈیا کے حوالے سے بون شہر کو بھی یہی اہمیت دے دی جائے۔انہوں نے کہا کہ اخبار نویس یا ٹی وی اینکر جوبھی بولتا یا لکھتا ہے وہ سچ ہونا چاہئے۔اس کو پرکھنے کی ضرورت پیش نہ آئے اور یہی صحافت کرنے کا اصل مقصد ہونا چاہئے۔برطانیہ کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر نے Brexitکے حوالے سے خطاب کر کےبرطانوی پوزیشن کی وضاحت کی۔لیکن ہال میں موجود میڈیا نمائندگان نے ان کو خوب آڑے ہاتھوں لیا۔ایسا ہی ترکی کے ایک مشہور اخبار کے چیف ایڈیٹر کے ساتھ ہوا۔ترکی نے150جرنلسٹ جیلوں میں بند کر رکھے ہیں اور ان کے مقدمات سست روی کا شکار ہیں۔
دو روز میں 31ورکشاپس ہوئیں۔ان میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میڈیا کوریج۔میڈیا ہاؤسز پر دباؤ۔سرمایہ داروں کی طرف میڈیا کو خریدنے کے نقصانات ،میڈیا اور سیاستدان، جرنلسٹوں کے مسائل۔ ان جیسے موضوعات شامل تھے۔دو موضوعات نہایت دلچسپ تھے۔افریقہ کا میڈیا اپنے براعظم کے حالات بہتر بنانے میں کیا کردار ادا کر سکتاہے۔اور دوسرا ایشیا اور حقوق انسانی کے حوالے سے تھا۔حقوق انسانی کے پینل کی صدارت بنگلہ دیش کے عالمی شہرت کے حامل صحافی اور ڈیلی سٹار کے چیف ایڈیٹر محفوظ مامون تھے۔اس میں پاکستان کے مشہور صحافی شاہ زیب جیلانی بھی تھے۔ ان کو بعض قوتیں اٹھا کر لے گئی تھیں۔تین ماہ بعد منظر عام پر آئے اور اب یورپ میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔اس ورکشاپ میں پاکستان ،انڈیا ،بنگلہ دیش، ایران، انڈونیشیا، سعودی عرب میں شعبہ صحافت پر جو گزر رہی ہے اس کا احوال بیان ہوا محفوظ ماموں نے اپنی زندگی کےتجربات کی بناء پر نوجوان صحافیوں کونصائح بھی کیں۔فریڈم آف speechایوارڈ میکسیکو کی صحافی Anabel Hernandezکے حصہ میں آیا۔جنہوں نے ڈرگ مافیا اور حکومتی کرپشن کی ملی بھگت سے متعلق تحقیقاتی صحافت کی۔آپ کو ماضی میں بچوں کے اغواء سے متعلق رپورٹ لکھنے پر گولڈن پن آف فریڈم کے فیلو شپ پروگرام کے تحت جرمن حکومت خرچہ پر شرکت کی۔

بابا نانک کانفرنس اور مشاعرہ

بابا گورونانک کی شخصیت سکھوں کے لئے تو محترم ہے ہی لیکن مسلمانوں اور ہندوستان میں موجود دوسرے مذاہب بھی بابا جی کا نام بہت احترام سے لیتے ہیں۔ایک روایت کے مطابق مسلمانوں نے بابا نانک جی کی نماز جنازہ ادا کی تھی۔حضرت سلطان القلم نے تو بابا جی کے بارے میں لکھا ہے کہ تمام جہان کی کتابیں اکٹھی کر کے دیکھو۔باوا صاحب کے اشعار اور ان کے منہ کی باتیں بجز قرآن شریف کے اور کسی کتاب کے ساتھ مطابقت نہیں دکھاتی۔
امسال پوری دنیا میں بابا گورونانک کے 550ویں یوم پیدائش کے حوالے سے تقریبات کا اہتمام کیا جارہا ہے۔حتیٰ کہ بھارت اور پاکستان نے سیاسی تناؤ کے باوجود کرتار پورہ راہ داری کو زیارت کی غرض سے انٹرنیشنل بارڈر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
جرمنی میں سکھ برادری بھی اس حوالے سے تقریبات منعقد کر رہی ہے۔بھارت کی قونصلیٹ نے 12۔اپریل2019ء کو خصوصی تقریب منعقد کی ہے۔فرینکفرٹ کی گوئٹے یونیورسٹی کے سنٹر آف ریلیجنز سٹڈی نے 8-7 جون2019ء کو دو روزہ باباگورونانک کانفرنس منعقد کی۔جس میں بھارت کی 7یونیورسٹیوں کے پروفیسر صاحبان نے فرینکفرٹ تشریف لاکر اپنے مقالے پیش کئے۔کانفرنس کے روح رواں پروفیسر ڈاکٹر اجیت سنگھ تھے جو جرمنی کی دو یونیورسٹیوں میں ایشیائی مذاہب کی تدریس کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔کانفرنس کا اختتام اردو و پنجابی مشاعرہ سے ہوا۔جس کا اہتمام اردو جرمن کلچرل سوسائٹی،حلقہ ارباب ذوق جرمنی اور ادبی تنظیم پنجند نے مل کر کیا تھا۔
7جون2019ء جمعہ کے روز صبح دس بجے کانفرنس کا افتتاح گوئٹے یونیورسٹی میں فیکلوئیلٹی آف کیتھولک کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر تھوماس شمتھ نے کیا۔آپ نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ فرینکفرٹ گوئٹے یونیورسٹی کو قائم ہوئے سوسال ہوگئے ہیں اور یہ جرمنی کی پہلی سرکاری یونیورسٹی ہے۔یونیورسٹی کے قیام کے وقت اس میں یہودی طلبہ کی اکثریت تھی جواب یہاں 116مذہبی نظریات کے حامل طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔لیکن یونیورسٹی کا تشخص اورماحول سیکولر ہے جو کہ ہر تعلیمی ادارے کا ہونا چاہئے۔طلبہ کی دلچسپی کودیکھتے ہوئے ہم نے بابا گورونانک انٹرنیشنل کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ کیا۔بابا گورونانک کا گلوبل پیغام، انسانیت، امن اور یونیورسل بھائی چارہ کا ہے۔انہوں نے سکھ مذہب کی بنیاد رکھی۔ان کا مقصد خدا کے پیغام کو اس کے بندوں تک پہنچانا تھا۔اسی لئے وہ ذات، پات، رنگ ونسل کے قائل نہیں تھے۔ان کی فلاسفی انسان کی سچائی کی طرف راہ نمائی کرتا ہے۔
افتتاحی اجلاس سے بھارت کی قونصلر جنرل Prophet Parkanنے بھی خطاب کیا اور بتایا کہ سرکار نے 2019ء کو بابا نانک سے منسوب کیا ہے۔بھارتی حکومت پوری دنیا میں اس کو سرکاری طور پر منانے کا اعلان کر چکی ہے۔دنیا کی اہم یونیورسٹیوں میں نانک چیئر قائم کی جا رہی ہیں۔امریکہ، کینیڈا، انگلستان میں یہ چیئرز قائم ہو چکی ہیں۔جن دیگر ممالک میں چیئرز قائم کی جائیں گی ان میں جرمنی کی یونیورسٹیاں بھی شامل ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹرweberجو مذاہب سے متعلق ایک رسالہ کے ایڈیٹر ہیں۔نے اپنی تقریر میں کہا کہ سکھ مذہب کا آغاز 16ویں صدی میں ہوا۔آغاز سے اب تک سکھ مذاہب کے مختلف مراحل کی تفاصیل اور طریق عبادت پر انہوں نے اپنی تقریر میں روشنی ڈالی۔گورونانک یونیورسٹی بھارت سے تشریف لائے۔پروفیسر ڈاکٹر دھرم سنگھ نے نانک کی تعلیمات پر گفتگو کی۔ویسٹ بنگالShantini ketanیونیورسٹی سے تشریف لائے۔ پروفیسر ڈاکٹر سراج الاسلام نے صوفی ازم اور بابانانک کی شخصیت پر تقریر کرتے ہوئے بابانانک کی زندگی کے متعدد واقعات سنائے۔یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے طالب علم طلحہ طاہر نے بابانانک کی زندگی کا عمومی جائزہ پیش کیا۔پروفیسر ڈاکٹر روپ شاستری بابانانک یونیورسٹی Haridwarنے بابانانک کی فلاسفی پر تقریر کی۔ پٹیالہ یونیورسٹی سے تشریف لائے پروفیسر ڈاکٹر پرم ویر سنگھ نے نانک کا ‘‘پیغام انسانیت ’’کے موضوع پر خطاب کیا۔ہندو یونیورسٹی بنارس کے پروفیسر ڈاکٹر شاہ سنگھ نے نانک جی کے سفروں کی تفصیل پیش کی۔گوئٹے یونیورسٹی فرینکفرٹ کے ڈاکٹر Vladislavنے سلائیڈز پیش کر کے اپنی عقیدت کا اظہار کیا۔ناروے سے Bergen Universityکے پروفیسر ڈاکٹرKnust Jacobooنے گرروگرنتھ اور سکھ مذہب کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔پروفیسر ڈاکٹر محمد ادریس پنجاب یونیورسٹی پٹیالہ نے نانک اور بھارت کے دوسرے مذاہب کی تعلیم میں موافقت پرتقریر کی۔ کانفرنس کی اب تک کی کاروائی انگریزی زبان میں جاری رہی۔
محفل مشاعرہ
کانفرنس کا آخری سیشن محفل مشاعرہ تھا۔جس کے لئے اردو جرمن کلچرل سوسائٹی، حلقہ ارباب ذوق اور پنجابی ادبی تنظیم پنجند نے گوئٹے یونیورسٹی کے ساتھ تعاون کیا تھا۔
مشاعرہ کے آغاز میں اردو جرمن کلچرل سوسائٹی کے صدر (خاکسار عرفان احمد خان)نے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے اور گوئٹے یونیورسٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کی زبان انگریزی تھی۔لیکن اب آخر پر ہم گورونانک جی کو ان کی مادری زبان میں خراج عقیدت پیش کریں گے۔ہمارا تعلق اس سرزمین سے ہے جس میں نانک جی نے نہ صرف جنم لیا بلکہ آپ اس مٹی میں ابدی نیند بھی سو رہے ہیں۔
نانک جی نے ہمیشہ اتحاد کی بات کی اور آپ کا پیغام بنی نوح انسان میں باہمی پریم اور محبت کی بنیادوں کو استوار کرنے والا ہے۔
مشاعرہ کی صدارت پنجابی کے مشہور شاعر جناب طفیل خلش نے کی۔جبکہ بھارت سے تشریف لائے ہو ئے پروفیسر دھرم سنگھ اور پروفیسر پرم ویر سنگھ مشاعرہ کے مہمانان خصوصی تھے۔مشاعرہ کی نظامت حلقہ ارباب ذوق کے صدر طاہر عدیم نے کی۔جن شعراء نے اپنے کلام سے حاضرین کو محظوظ کیا ان میں صاحب صدر طفیل خلش کے علاوہ طاہر مجید، طاہر عدیم، امجد علی شاکر،آنلھی ابراہیم پوری، عشرت مٹو،راشد رمیش،محمد افضل،اظہر تحمید،طاہر صدیقی شامل تھے۔بھارت سے تشریف لانے مہمانوں میں سے پروفیسر سراج الاسلام اور پروفیسر محمد ادریس نے ترنم سے کلام پیش کیا جبکہ پروفیسر دھرم سنگھ اور پروفیسر پرم ویر نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔کانفرنس کے موقع پر انتظامیہ کی طرف جن چند افراد کو بابا گورونانک ایوارڈ دیا گیا۔ان میں مشاعرہ کے مہتمم اور اردو جرمن سےکلچرل سوسائٹی کے صدرخاکسار (عرفان احمد خان) بھی شامل تھے۔

image_printپرنٹ کریں