skip to Main Content
صفوان احمد ملک۔جرمنی اسلام وقرآن نمائش

اللہ تعالیٰ کے فضل اور حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ہدایات کی روشنی میں شعبہ تبلیغ جرمنی کو ملک بھر میں اسلام احمدیت کا پیغام پہنچانے کی توفیق مل رہی ہے جس کے لئے مختلف ذرائع اوروسائل کو بروئے کار لایا جاتا ہے جہاں جدید ایجادات اور سوشل میڈیاکو استعمال کیا جاتا ہے وہاں پر عَلَم محمدِعربی ﷺ کو سربلند کرنے کے لئے میدان عمل میں بھی نکلا جاتا ہے جس میں سے ایک کام اسلام وقرآن نمائشوں کا اہتمام بھی ہے۔ جرمنی میں اسلام وقرآن نمائشوں کا آغاز 2008ءمیں شروع ہوا۔ گزشتہ 7سالوں میں جرمنی کے مختلف شہروں میں کل183نمائشیں لگائی جا چکی ہیں۔
زیر نظر رپورٹ میں جرمنی کے شہر ہنوفر میں لگنے والی حالیہ نمائش کا ذکر کیا جائے گا اِن شاء اللہ ۔سب سے پہلے خاکسار قارئین کی دلچسپی کے لئے اس شہر کا مختصر تعارف پیش کرنا چاہتا ہے۔
ہنوفر شہر جرمنی کے صوبے نیدرزاخسن کا دارالحکومت ہے۔آبادی کے لحاظ سے اس شہر کا 13واں نمبر ہے۔اس کی آبادی 5لاکھ 38ہزار نفوس پر مشتمل ہےجس میں 28فیصد پروٹسٹنٹ عیسائی ہیں 12.5فیصد کیتھولک ہیں اور 59 فیصدی لامذہب ہیں۔اس شہر میں دنیا کا سب سے بڑ ا ایکسپو سنٹر ہے جس کا رقبہ 4لاکھ 96ہزار مربع میٹر ہے۔اس ایکسپو سنٹرکی جگہ دوسری جنگ عظیم میں بہت بڑا اسلحہ خانہ اور جنگی آلات بنانے کا کارخانہ تھا جسے 1947میں حکومت برطانیہ نے ٹریڈنگ کے لئے استعمال کیا۔
اس شہر کی کونسل کی عمارت میں دنیا کی نایاب ترین لفٹ لگی ہوئی ہے جو عمارت کی تعمیر 1908ءکے ساتھ ہی تعمیر کی گئی تھی اس کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ سیدھی اوپریعنی 90ڈگری میں نہیں بلکہ کروی شکل میں اوپر چڑھتی ہے مگر سوار کومحسوس نہیں ہوتا کہ لفٹ گھوم کر اوپر چڑھ رہی ہے۔ اس کا کیبن شروع سے ہی شیشے کا ہے سوار اپنے اوپر اور نیچے دیکھ سکتا ہے۔
جس جگہ اسلام نمائش لگائی گئی اس کی موجودہ شکل 1950ءمیں قائم کی گئی اس کا حدود اربع 3ہزار مربع میٹر ہے۔ قرون وسطیٰ میں پورا شہر ایک فصیل کے اندر آباد تھا اور اس جگہ پتھروں کا بہت بڑا داخلی دروازہ ہوا کرتا تھا۔یہ جگہ اس وقت شہر کے وسط میں آچکی ہے جسے شہری انتظامیہ نے بہت خوبصورت پرانے دور کے پتھروں سے تعمیر کیا ہے۔
اب تمام شہر اس کے ارد گردآباد ہے ہر کوئی یہاں سے ہوکر گزرتا ہےکیونکہ یہاں سے گزر کر ہی تمام کاروباری مراکز اور دکانیں آتی ہیں یعنی یہ واحدمصروف ترین پیدل گزر گاہ ہے۔اس میدان کے ساتھ ٹرام اور بس سٹاپ بھی ہیں جس کی وجہ سے اکثریت اسی جگہ سےہوکر گزرتی ہے ۔نمائش بہت بڑے ٹینٹ میں لگائی گئی جس کے اطراف میں بڑے بڑے بینرز لگائے گئے تھے جوہر زاوئے سے اور بہت دور سے نظر آتے تھے۔
چندسال قبل شہری انتظامیہ نے جماعت کویہ جگہ کرائے پر دینے سے انکار کر دیا تھا لیکن جماعت کے اچھے اور موثر تعلقات اور مساجد میں منعقد ہونے والے پروگراموں کی وجہ سے شہری انتظامیہ نے ہمیں یہ جگہ دے دی اور اب اللہ کے فضل سے ہر سال باآسانی جگہ مل جاتی ہے۔ یہ انتہائی مصروف جگہ ہے جسے لوگ مختلف مقاصد کے لئے کرائے پر حاصل کرتے ہیں یہاں پر کپڑوں کی بہت بڑی عارضی مارکیٹ لگتی ہے۔ انٹرنیشنل میوزک کانسرٹ ہوتے ہیں کرسمس کے دنوں میں میلے اور دکانیں سجتی ہیں اسی طرح مختلف کمپنیاں اپنی پرموشن کرتی ہیں۔
اللہ کے فضل سے نمائش لگانے کے دوران ہی لوگوں نے اس کے قدآدم پوسٹرز پڑھنا شروع کردئیے تھے ۔اس نمائش میں مندجہ ذیل مضامین کے 16 بڑے پوسٹر لگائے گئےتھے مثلاً اللہ،قرآن کریم، آنحضرت ﷺ، مقدس شہر ، اسلام، ارکان اسلام، اسلام میں عورت کا مقام، جہاد، اسلامک سائنس، اسلام کی امن پسندتعلیمات، تعارف حضرت مسیح موعود علیہ السلام، تعارف خلفاء حضرت مسیح موعود علیہ السلام، اسلام کی دنیا، ڈاکٹر عبدالسلام ، مذہبی آزادی اور اسلام میں عورت کا مقام وغیرہ ۔ ان کے علاوہ قرآنی آیات ،احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کے چھوٹے بینرز بھی لگائے گئے ۔
اسی طرح ملٹی میڈیا کا بھی انتظام کیا گیا تھاایک ٹیلی ویژن پر جماعت احمدیہ کا تعارف اور حضورِانور کے دورہ جات اور مساجد کے افتتاح اور سنگ بنیاد کی ویڈیوزنشر ہوتی رہیں اسی طرح حضورِانور کے بیروں ممالک کے دورہ جات اور یورپین پارلیمنٹ سے خطاب قابل ذکر ہیں ۔ اسی طرح خلفائے احمدیت کا مع تصاویر تعارف نیز جرمنی میں احمدیہ مساجد کی تصاویر اور اُن کا مختصر تعارف کہ کس سن میں اس مسجد کی تعمیر ہوئی گویا کہ ابتدائی معلومات کا خزانہ کوزے میں بند کیا ہواتھا جسے لوگوں نے بہت پسند کیا بے شمار لوگوں نے نمائش کی تصاویر لیں اور خوشی کا اظہار کیا کہ اسلام کی یہ تصویر تو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ اسی طرح بعض شریف النفس مسلمانوں کی خوشی دیدنی تھی کہ اسلام کی تبلیغ اس انداز میں کی جارہی ہے ہر وقت ایک جم غفیر نمائش میں موجود رہتا۔ کثیر تعداد میں لوگوں نے لٹریچر حاصل کیا۔
امسال جماعت احمدیہ ہنوفر کو یہاں چوتھی بار اسلام وقرآن نمائش لگانے کی توفیق ملی سب سے پہلی نمائش 26تا 31جولائی 2016 ءجسے 6645 احباب نے وزٹ کیا۔ دوسری نمائش 8تا 12اگست 2017ءکو لگائی گئی اس نمائش کو 6200افراد نے وزٹ کیا جس میں ترک اور عرب مسلمانوں کی بڑی تعداد بھی تھی۔تیسری نمائش 25جون تا یکم جولائی 2018ءکو لگائی گئی اس وقت اس جگہ تعمیراتی کام ہو رہے تھے ٹرام اسٹیشن وغیرہ کو اچھے اور خوبصورت انداز میں بنایا جا رہا تھا اس وجہ سے وزٹر کی تعداد کم رہی پھر بھی اسے 6800 احباب نے وزٹ کیا۔
امسال یہ نمائش 10تا 15ستمبر 2019ءکو لگائی گئی جسے 14247 افراد نے وزٹ کیا۔
ہر سال ہی مختلف سیاسی ،سماجی اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے احباب اس نمائش کو دیکھنے کے لئے آتے ہیں گذشتہ سال کی نمائش میں لجنہ اماء اللہ نے بھی اپنی مہم ’’میں ایک مسلم عورت ہوں ‘‘ کے عنوان سے یہاں سٹال لگایا جسے عورتوں نے بہت پسند کیا اور ہماری لجنہ سے سوالات کئے۔امسال بھی اللہ کے فضل سے اس نمائش کی افتتاحی تقریب میں شہری انتظامیہ کی فرسٹ سیکریٹری ،ریجن کے پریذیڈنٹ،آئندہ انتخابات میں بننے والےممکنہ مئیر ،اسی طرح اسرائیل جرمن رلیشن شپ کے نمائندہ بھی شریک ہوئے ان کے علاوہ بے شمار اہل علم احباب تشریف لائے اور اسلام کے متعلق سوالات کئے ۔اس موقع پر جہاں مقامی احباب نے آنے والے مہمانوں کو خوش آمدید کہا وہاں مقامی مربی کے علاوہ اردگرد کی جماعتوں سے بھی مربیان ڈیوٹی دیتے رہے اور اسلام احمدیت کا صحیح تعارف کرواتے رہے۔
تاثرات
محترم سیّد سلیمان شاہ مبلغ سلسلہ تحریر کرتے ہیں کہ ایک جرمن مرد اور خاتون ہماری نمائش میں آئے ۔ دوران گفتگو اُنہوں نے کہا کہ یہ جو کام آپ لوگ کررہے ہیں یہ پوری دنیا میں پھیلنا چاہئے ۔اُنہوں نے کہا کہ اگر اس طرح ہر سطح پر ایسا کام ہو اور نمائش لگے تو دنیا سے خوف اور ڈر بھی ختم ہوجائے ۔اُنہوں نے پوچھا کہ اسلام آج کل تشدد والا مذہب نظر آتا ہے لیکن اگر یہ تصویر بھی دنیا میں جائے تو لوگ سوچنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ آخر پر انہوں نے دعا دی کہ اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کومزید ترقی عطا فرمائے اور کامیابیوں سے نوازے۔ (آمین)
دو افغانی مہمان اور ایک ترکی مہمان سے بات ہوئی جو اس ضد پر تھے کہ امام مہدی کیسے دوبارہ آسکتے ہیں جبکہ حضور ﷺ آخری نبی ہیں ۔آپ مجھے یہ بات قرآن کریم سے دکھائیں ۔اُنکا لہجہ بھی سخت اور تھوڑا غصے والا تھا۔دعا اور صبر کے ساتھ اُن کو جوابات دینے کی کوشش کرتا رہا۔ خاکسار نے قرآن کریم سےبتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کا کہاں ذکر ہے نیز کچھ احادیث بھی اُنہیں سنائی۔اِس بات پر تو وہ متفق نہیں ہوئے کہ امام مہدی پھر آئیں گے لیکن ایک بات اُنہوں نے جو کی وہ یہ تھی یہ کام جو آپ لوگ کررہے ہو بہت اچھا ہے اور آج اِس کی ضرورت ہے ۔ایک جرمن بزرگ خاتون نے کہا آج کل میڈیا میں اسلام کی جو تصویر دکھائی جارہی ہے خوف ناک ہے ۔یہ تصویر بھی اگر دکھائی جائے تو یقیناً بہتر ہوگا۔

image_printپرنٹ کریں