skip to Main Content
ایف شمس: گلوبل فیملی ڈے

آج ہمیں یہ عہد کرناہے کہ اپنے والدین اور قریبی رشتہ داروں سے حسن سلوک کریں۔

آج یکم جنوری 2019ء ہے۔ نئے سال کا سورج طلوع ہو چکا ہے نئی صبح ، نیا دن، نئے جذبات واحساسات اور جوش وولولے دلوں میں پیدا ہو رہے ہیں۔ سب سے پہلے تو گلدستہ علم و ادب کے قارئین کو نیا سال مبارک ہو۔ جہاں نئے سال کی باتیں ہو رہی ہیں وہاں آج کا دن گلوبل فیملی ڈے کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور میڈیا کے اس دور میں جہاں ساری دنیا گلوبل ویلج بن گئی ہے۔ دنیا اب اس نظام کے فوائد سے آگاہ ہو چکی ہے۔ اسی میں فائدے ہیں اور برکتیں ہیں۔ بزرگوں کی دیکھ بھال اور ان کی اطاعت کا موقع ملتا ہے۔ ایک دوسرے کی خبرگیری اور عبادت کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ ایک جگہ رہ کر بہت سے اسلامی احکامات پر عمل ہو سکتا ہے اور ثواب حاصل کرنے کے مواقع جگہ جگہ میسر آتے ہیں۔ گلوبل فیملی ڈے دراصل اسلامی طور طریقوں کے عین مطابق منایا جاتا ہے۔ اسلامی معاشرے سے برعکس جہاں بڑوں کی قدر نہیں ہوتی وہاں بزرگوں کے لئے الگ جگہیں مخصوص کر دی جاتی ہیں یورپ میں تمام عمر کے افراد اپنے مشغلوں میں مگن ہوتے ہیں اور بچے کو باپ کا اور باپ کو بچے کا علم نہیں ہوتا۔

گلوبل فیملی کے حوالے سے اسلامی تعلیم بہت خوبصورت اور حقیقت کے قریب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دو قسم کے حقوق ادا کرنے کی تلقین فرمائی ہے یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد ۔ حقوق العباد میں سب سے پہلے قرابت والے رشتہ دار آتے ہیں۔ جن میں والدین ، بہن بھائی، چچے، خلائیں، ماموں اور پھر ان کی اولادیں ہیں۔ والدین سے شروع ہو کر یہ سلسلہ پھیلتا جاتا ہے۔

ایک شخص نے پوچھا یا رسول اللہ! کون میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق ہے۔ آپ نے فرمایا تیری ماں، اس نے کہا اس کے بعد کون؟ فرمایا تیری ماں۔ پھر فرمایا تیری ماں۔ چوتھی بار فرمایا تیراباپ۔ اور پھر وہ جو رشتہ داروں میں زیادہ قریب ہیں۔ سورۃ النحل کی آیت 90 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ عدل اور احسان اور ایتائے ذی القربیٰ کا حکم دیتا ہے۔ ایتائے ذی القربی کاقرآن و حدیث میں جا بجا ذکرملتا ہے اور قرابت داروں سے حسن سلوک کا بہت بڑا ثواب بیان ہوا ہے۔ ایک شخص نے آنحضرت ﷺسے عرض کیاوالدین کا حق ان کی وفات کے بعد بھی ادا کرنے کو رہ جاتا ہے آپؐ نےفرمایا ہاں۔ ان کے لئے دعا کر، استغفار کر، ان کے وعدوں کو پورا کر اور ان کے قرابت داروں سے بھلا کر اور ان کے دوستوں کی تعظیم کر۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: جو شخص قرابت داروں سے حسن سلوک نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ماں باپ کے بعد سب سے قریبی تعلق بھائی بہن کا ہے۔ بھائی کے تعلق میں آنحضورﷺ فرماتے ہیں: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں بن سکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لئے وہی کچھ پسند نہ کرے جو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے۔آپؐ نے دو بھائیوں کی ناراضگی کو ناپسند فرمایا اور اسے جلد دور کرنے کی تلقین فرمائی ۔ فرماتے ہیں۔ کسی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ ناراض رہے اور اسے چھوڑ دے۔ ایک اور جگہ فرماتے ہیں، ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ یاد رہے کہ یہ تعلیم صرف سنانے کی حد تک نہ رہی بلکہ مسلمانوں نے اس شان کے ساتھ اس پر عمل کیا کہ اس کی کوئی مثال سگے بھائیوں میں بھی نہیں ملتی۔ مدینہ کی گلیاں گواہ ہیں کہ جب انصار اور مہاجر کے درمیان مواخات قائم کی گئی تو کیسے کیسے نظارے دیکھنے میں آئے۔ ان میں سے بعض ایسے تھے جو اپنی آدھی جائیداد اپنے بھائی کے نام کرنے کو تیار ہو گئے۔

ایک مرتبہ آنحضرتﷺنے اپنے چچا کی طرف سے زکوٰۃ دی اور فرمایا کہ چچا بھی باپ کی مانند ہوتا ہے اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ والد کے ساتھ ساتھ اسلام نے چچا سے بھی حسن سلوک کی تعلیم دی ہے۔ اسی طرح چچا کو یہ حق بھی دیا کہ باپ کی عدم موجودگی میں بچہ اس کے گھر پرورش پائے۔

اور پھر اسلام نے مختلف قرابت داروں میں خالہ کو بھی ایک خاص مقام عطا فرمایا ہے اور اس سے حسن سلوک کی تاکید فرمائی ہے۔ ایک دفعہ ایک شخص آنحضرت ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ مجھ سے بہت بڑا گناہ سرزد ہوگیا ہے۔ کیا اس کی توبہ ہو سکتی ہے؟ آپ نے اس سے پوچھا کیا تیری والدہ زندہ ہے؟ اس نے جواب دیا نہیں‘ آپؐ نے فرمایا کیا تیری خالہ ہے؟ جواب عرض کیا ہاں جی۔ تو آپؐ نے فرمایا پھر جاؤاور اس کی خدمت کرو۔ اور اس سے نیکی اور حسن لوک کرو۔یہی تمہارا کفارہ ہے۔

حضرت سعد بن ابی وقاص جب بیمار ہوئےتو حضورؐ ان کے پاس عبادت کو گئے۔ انہوں نے کہا میرے پاس دولت ہے اور صرف ایک لڑکی ہے میں چاہتا ہوں کہ دو تہائی مال کی وصیت کر جاؤں آپ نے فرمایا نہیں ۔ ایک تہائی کی کرواور وہ بھی بہت ہے۔ پھر فرمایا ۔ اپنے ورثاء کو خوشحال چھوڑنا اس امر سے بہتر ہے کہ ان کو محتاج چھوڑ جاؤ اور وہ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے رہیں۔

گلوبل فیملی کا اہم حصہ والدین ہیں۔ اسلام ماں باپ کی خدمت کا حکم دے کر ہی نہیں چھوڑ دیتا بلکہ ثواب، اجر اور افضال و انعامات کی بارشیں ان پر ہوتی ہیں جو الدین کے سعادت مند ہوتے ہیں ۔ وہی لوگ ہوتے ہیں جو والدین کی دعاؤں کے وارث بنتے ہیں۔ پس والدین کی خدمت کر کے ان کی دعائیں حاصل کرنی چاہئیں اور کبھی بھی ان کی بددعا کا مورد نہیں بننا چاہئے۔حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں جو شخص اپنے ماں باپ کی عزت نہیں کرتا اور امور معروفہ میں جوخلاف قرآن نہیں ہیں ان کی بات کو نہیں مانتا اور ان کی خدمت سے لاپرواہ ہےوہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔

اسی طرح آپؐ فرماتے ہیں : والدین کے حقوق ادا کرنے کی کوشش کرو اور ان کے حق میں دعا کرتے رہو۔

پس ہمیں آج گلوبل فیملی ڈے پر یہ عہد کرنا چاہئے کہ ہم نہ صرف اپنے والدین کی عزت و احترام کرنا چاہئے بلکہ دیگر قریبی رشتہ دار اور خاندانی افراد کے ساتھ بھی نیک سلوک روا رکھیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

image_printپرنٹ کریں