skip to Main Content
:عرفان احمد خان G7   ممالک کے سربراہان کی فرانس کے ساحلی شہر BIARRITZ میں کانفرس

24تا 26۔ اگست 2019ء کودنیا کے سات بڑے صنعتی ممالک کے سربراہان اپنے سالانہ اجلاس پر فرانس کے ساحلی شہر BIARRITZ میں اکٹھے ہوئے ۔ان سات ممالک کی اکانومی کیپیٹل ازم کی بنیاد پر قائم ہے ۔اس لئےان کو ہر سال کیپیٹل ازم کے مخالفین کی طرف مظاہروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔2017ء میں ہمبرگ میں ہونے والے 7G کے اجلاس میں مظاہرین نے دکانوں اور کاروں کو آگ لگا کر شہر کا حلیہ بدل دیا تھا ۔کئی سو ملین کے نقصان کو پورا کرنے کے لئے حکومت نے ایک سو ملین کی امداد انشورنس کمپنیوں کودی تھی ۔حکومت نے تنقید کرنے والوں کے منہ بند کرنے کے لئے وضاحت کی تھی کہ 5 ہزار مہمانوں کو ٹھہرانے کے لئے کانفرنس کے لئے کسی بڑے شہرکا انتخاب حکومت کی مجبوری تھی۔ غالباً فرانس نے اس سے سبق سیکھ کر 7G کے لئے فرنس کے جنوب میں ایک چھوٹے شہر کا انتخاب کیا جو سپین کی سرحد سے بمشکل 30 کلو میٹر دور واقع ہے ۔ BIARRITZ میں نپولین کا موسم گرما کے لئے آبائی محل بھی ہے ۔ جو 19 ویں صدی میں تعمیر ہوا ۔ اور اب اس محل کو Hotel du Palais کہا جاتا ہے اس میں 7G اجلاس منعقد کرنے کے لئے فرانس کی حکومت نے مرمت اور زیبائش پر 60 ملین یورو خرچ کئے ۔شہر کے ریلوے اسٹیشن اور ائیر پورٹ کو ریلوے سروسز اور فلائٹس کے لئے بند کردیا گیا تھا ۔شہر کے جس علاقے میں کانفرنس کا انعقاد ہوا وہاں کے رہائشیوں کو اسپیشل پاس جاری کئے گئے۔13000 سیکیورٹی اہل کار ڈیوٹی پر مامور تھے۔کیپیٹل ازم کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کو 18 میل دور رکھا گیا اور انہیں سپین اور فرانس کو ملانے والے پل پر پُر امن مظاہرہ کرنے کی اجازت دی گئی
7Gسربراہ ملاقات کا ایجنڈایہ تھا کہ دنیا سے بیروز گاری کم کرنے کے لئےملازمتوں کا دائرہ وسیع کیا جائے،پوری دنیا میں غیر مساویانہ سلوک ختم کر کے تمام ممالک اور قوموں کے ساتھ مساوی سلوک کی پالیسی اپنائی جائے ،موسمی تغیّرات کا موضوع اب ہرانٹرنیشل کانفرنس کا حصہ ہوتا ہےنیز7G کے ایجنڈا پر خواتین کو حکومتی امور میں زیادہ حصہ دینے کی بھی تجویز شامل تھی ۔اس سارے ایجنڈا میں کوئی ایسی اہم بات نہ تھی جس کے لئے دور دراز کے سفر اختیار کر کے فرانس میں اکٹھا ہوا جاتا۔ان بڑی طاقتوں پر یہ مثال صادق آتی ہے کہ ’’ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور کھانے کے اور ‘‘۔اخباری رپورٹس کے مطابق زیادہ وقت امریکہ ، چین اور یورپ کے درمیان تجارتی سرد جنگ جس کا آغاز امریکن صدر ٹرمپ کی طرف سےکیا گیا ،کی نذر ہو گیا ۔ دوسرا اہم موضوع موسمی تغیّرات تھا جس میں گرین لینڈ کے گلیشیئر پگھلنے اور برازیل میں ایمازون رین فارسٹ میں لگنے والی بے قابو آگ اور اس کے دنیا کے درجہ حرارت پرپڑنے والے اثرات رہا ۔برازیل میں دنیا کا سب سے بڑا جنگل جس کا نام ایمازون ہے موجود ہے ۔اس جنگل میں روزانہ سہ پہر 3 بجے بارش ہوتی ہے ۔ اس لئے اس کو RAIN FOREST AMAZON کہا جاتا ہے ۔ اس سال وہاں برس ہا برس سے قائم بارش کا سلسلہ تھم گیا جس کے باعث جنگل میں آگ بھڑک اٹھی۔
بیان کیا جاتا ہے کہ یہ جنگل دنیا کی آکسیجن کی 20 فیصد ضرورت پوری کرتا ہے ۔ یا یوں کہہ لیں دنیا کو مطلوب آکسیجن 20 فیصد اس جنگل کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے ۔ اس آگ پر تمام دنیا پریشان تھی ۔ برازیل کی حکومت نے اس آگ کو بجھانے میں سنجیدگی نہیں دکھائی۔یورپی یونین نے برازیل کو فوری مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا ۔ لیکن برازیل کے صدر نے اس پیشکش کو قبول کرنے سے انکار کردیا ۔فرانس میں موسمی تغیّرات کے حوالے سے یورپی یونین کا دفتر ہے۔ اس لئے فرانس کے صدر نے برازیل کے صدر کو آڑے ہاتھوں لیا اور برازیل کی طرف سے آگ سے متعلق جاری رپورٹ کو جھوٹ قرار دیا ۔اس لئے 7G کے اجلاس سے قبل اس مسئلہ پر برازیل اور یورپی یونین کے درمیان سرد جنگ کا آغاز ہو گیا ۔ امریکن صدر اور دوسری طاقتوں آسٹریلیا ، جاپان کے کہنے پر برازیل کے صدر نے جمعہ کے روز جنگل کی آگ بجھانے کا آپریشن فوج کے حوالے کر دیا ۔ چنانچہ 7G اجلاس میں مستقبل کے اس خطرے کا سدّ باب تلاش کرنے پر بات چیت ہوئی ۔ فرانس کے صدر مارکون نےاس حوالے سے آسٹریلیا ،چلیّ، سپین کے سربراہان کو بطور مبصّر کے مدعو کر لیا تھا ۔ جنہوں نے ایک ڈنر پر 7G سربراہان سے ملاقات کی ۔فرانس کے صدر نے برازیل کے صدر کو دھمکی دی تھی کہ اگر برازیل اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیتا توجنوبی امریکہ کے ممالک سےیورپی یونین فری ٹریڈ معاہدہ کو معطل کر دے گی۔جنوبی امریکہ کے ممالک نے ایک تجارتی بلاک Mercosur کے نام سے بنا رکھا ہے جو یورپی یونین ممالک کے ساتھ تجارتی پالیسیوں کا فیصلہ کرتا ہے۔ اور یورپی یونین نے اس معاہدہ کو ختم کرنے کا عندیہ دیا تھا ۔ 7Gممالک نے برازیل کو 20 ملین ڈالر کی امداد کا فیصلہ کیا ہے ۔وہ یہ رقم ایمازون کے جنگلات کو آگ سے محفوظ کرنے پر خرچ کرے گا ۔ آگ لگنے کی صورت میں 7G ممالک سے فوری رابطہ کر کے ان کو آپریشن کا شریک کار بنائے گا ۔ برازیل کے صدر نے اس 20 ملین کی امداد کو اس شرط پر قبول کیا ہے کہ فرانس کے صدر مجھے جھوٹا کہنے کے الفاظ واپس لے ۔ آخری خبریں آنے تک دونوں ممالک کے سربراہ ملاقات کرنے پر راضی ہو گئے تھے اور اب بہت جلد یہ ملاقات کولمبیا میں ہو گی ۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈٹرمپ جو 7Gممالک کی اس کانفرنس کو کوئی اہمیت نہیں دیتے ۔ انہوں نے کانفرنس میں شرکت کے لئے روانگی سے قبل ایک ایسا بیان داغ دیا تھا جس سے دوسرے ممالک کے کان کھٹرے ہو گئے تھے۔ انہوں نے چین کے مال پر مزید کسٹم ڈیوٹی لگانے اور فرانس سے آنے والی شراب (وائن) پر کسٹم ڈیوٹی شروع کرنے کا اعلان کیا ۔
چین نے بھی جواباً75 بلین ڈالر کی نئی ڈیوٹی امریکن اشیاء پر لگانے کی بات کی ہے ۔ امریکن صدر نے چین پر پہلے 300 بلین کا ٹیکس لگایا ۔اس میں 250 بلین کا مزید اضافہ کیا اور اب یکم اکتوبر سے چین کی بنی اشیاء پر کسٹم ڈیوٹی کا نیا ٹیرف25،30 فیصد اضافہ کر دیا ہے ۔ امریکن صدر کی اس آنکھ مچولی نے اقوام متحدہ کے قائم ادارے ورلڈ ٹریڈ آفس (WTO) کے وجود کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ یہ ادارہ اقوام متحدہ کے ممالک کے درمیان تجارتی ٹیرف کا فیصلہ اور عمل درآمد کی نگہداشت کرتا ہے ۔ صدر ٹرمپ نے جس طرح پیرس کلائمیٹ معاہدہ سے اچانک علیحدگی اختیار کر لی تھی ۔ اسی طرح یہ خطرہ موجود ہے کہ WTO سے بھی علیحدگی کا اعلان کر دے۔ اس لئے اس بار 7G ممالک کے سربراہان امریکن صدر سے انفرادی ملاقاتوں میں زیادہ دلچسپی لیتے نظر آئے۔ برطانیہ کے نئے وزیر اعظم جن کی صدر ٹرمپ سے پہلی ملاقات تھی ۔ انہوں نے ملاقات کے بعد پریس کو بتایا کہ میں نے امریکن صدر کو کہا ہے کہ وہ چین کے ساتھ تجارتی جنگ بند کر دیں۔ چین گلوبل تجارت میں اپنی جو جگہ بنا چکا ہے اس سے پیچھے ہٹنا ممکن نہیں ۔ اس لڑائی سے دنیا کے دیگر ممالک کو بھی تجارتی دھچکا لگنے کا امکان ہے ۔ فرانس کے صدر نے امریکن صدر سے علیحدگی میں لنچ پر ملاقات کی ۔ لنچ کے بعد امریکن صدر کا موڈ بالکل بدلا ہوا تھا اور انہوں نے اس ملاقات کو بہترین ملاقات قرار دیا ۔یوں تو امریکن صدر اور جرمنی کی چانسلر کے درمیان بھی ملاقات ہوئی لیکن مشترکہ اعلامیہ سے یہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان پائی جانے والی سرد مہری بدستور جاری ہے۔7G ممالک کانفرنس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جاتا ہے ۔ لیکن گزشتہ سال کینیڈا میں ہونے والے اجلاس میں تجارتی پالیسی سے اختلاف کرتے ہوئےامریکن صدر نے دستخط نہیں کئے تھے۔ اس لئے 2017ء کی کانفرس کا مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا تھا ۔اس بار بھی امریکن صدر کے رویےّدیکھتے ہوئے مشترکہ اعلامیہ کی رسم کو ضروری خیال نہیں کیا گیا ۔ البتہ کانفرس کی سب سے بڑی کامیابی ایران کے وزیر خارجہ کی آمد ، فرانس کے صدر سے طویل ملاقات اور اس کے بعد فرانس کے صدر کی امریکن صدر سے ملاقات کے بعد یہ اعلان کہ امریکن صدر کو ایرانی صدر سے ملاقات پر کوئی اعتراض نہیں ،کانفرس کی سب سے بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

image_printپرنٹ کریں