skip to Main Content
قیصر محمود:  انگلینڈ ، آسٹریلیا کو ہراکر فائنل میں پہنچ گیا

انگلینڈ نےورلڈکپ کے دوسرے سیمی فائنل میں شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے دفاعی چمپئین آسٹریلیا کو بآسانی آٹھ وکٹوں سے ہرا کر چوتھی بار ورلڈکپ کا فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل کرلیا۔اس سے قبل انگلینڈ 1979، 1987، اور1992ء میں ورلڈکپ کا فائنل تو کھیل چکا ہے لیکن بالترتیب ویسٹ انڈیز، آسٹریلیا اور پاکستان سے شکست کھا کر ٹرافی سے محروم رہا ۔لیکن اس بار امید کی جارہی ہے کہ انگلینڈ پہلی بار عالمی کپ جیتنے میں کامیاب ہوجائے گا۔

ورلڈکپ کے دوسرے سیمی فائنل میں آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔لیکن صرف 14کے مجموعی اسکور پر اس کے تین بہترین کھلاڑی پویلین لوٹ چکے تھے ۔تاہم سابق کپتان اسٹیون اسمتھ نے 85رنز کی شاندار اننگ کھیل کر مجموعہ 223رنز تک پہنچادیا۔جواب میں انگلینڈ کے اوپنرز جیسن روئے اور بیسٹو نے پہلی وکٹ کی شراکت میں 124رنز بنائے ۔جیسن روئے نے شاندار 85رنز بنائے اور امپائر دھرماسینا کے ایک غلط فیصلہ کی وجہ سے سنچری مکمل نہ کرسکے ۔روٹ نے 49اور کپتان ایان مورگن نے 45رنز کی ناقابل شکست اننگ کھیلی۔انگلینڈ نے آسٹریلیا کا سیمی فائنل میں ناقابل شکست رہنے کا ریکارڈ بھی چکنا چور کردیا۔

پہلے سیمی فائنل میں نسبتاً کمزور سمجھی جانے والی نیوزی لینڈ نے مضبوط بھارت کی ٹیم کو 18رنز سے شکست دے کر مسلسل دوسری بار ورلڈکپ فائنل میں جگہ بنائی ۔نیوزی لینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے کھیلتے ہوئے 239رنز بنائے ۔روس ٹیلر نے بہترین بلے باز کا مظاہر ہ کرتے ہوئے 74رنز بنائے ۔کپتان کین ویلم سن نے 67رنز کی باری کھیلی ۔جواب میں بھارت کا آغاز تباہ کن تھا صرف پانچ اسکو رپر روہت شرما ، راہول اور ویرات کوہلی آوٹ ہوچکے تھے ۔سابق کپتان ایم ایس دھونی اور اجے جدیجا نے ٹیم کو سنبھالا دیا اور فتح کے قریب لے گئے لیکن اجے جدیجا کے آوٹ ہونے کے بعد ایم ایس دھونی کا گپٹل کی ڈائریکٹ تھرو پر رن آوٹ ہوجانے سے انڈیا کی فائنل کھیلنے کی امیدیں دم توڑ گئیں ۔

14جولائی کو لارڈز کرکٹ گراونڈ میں آئندہ چار سال کے لئے ورلڈ چمپئن کا فیصلہ ہوگا۔لیکن یہ تو طے ہے کہ کرکٹ کا عالمی چمپئن ایک نیا ملک ہوگا۔

image_printپرنٹ کریں