skip to Main Content

٭…05؍ جون بروز بدھ: آج عید الفطر کا بابرکت دن تھا۔ حضورِ انور ایّدہ اللہ نے حسبِ معمول نمازِ فجر مسجد مبارک میں پڑھائی۔ مسجد بیت الفتوح میں نمازِ عید کا وقت گیارہ بجے رکھا گیا تھا۔ چنانچہ حضورِ انور ٹھیک گیارہ بجے مسجد بیت الفتوح میں رونق افروز ہوئے اور احباب کو صفیں درست کرنے کا ارشاد فرمایا۔ حضورِ انور نے نمازِ عید پڑھائی جو گیارہ بج کر تیرہ منٹ پر ختم ہوئی۔ بعد ازاں حضورِ انور نے بصیرت افروز خطبہ عید ارشاد فرمایا۔ حضورِ انور نے حضرت مصلح موعودؓ کے قریبا ًایک سو سال پرانے ایک خطبہ عید کے حوالے سے اپنے خطبے کا آغاز فرمایا اور خطبہ میں خوشی اور اجتماع کے درمیان ایک لطیف تعلق بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ انسان جب بھی خوش ہوتا ہے تو لوگوں کا اجتماع کرتا ہے۔ اس طرح عید پر بھی خوشی کی وجہ سے اجتماع ہوتا ہے۔ ہماری حقیقی عید اس وقت ہو گی جب دنیا اسلام کے سائے تلے، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی غلامی میں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت میں اکٹھی ہو جائے گی۔ اس لحاظ سے حضورِ انور نے تمام احمدیوں کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔
٭…خطبہ عید اور دعا کے بعد حضورِ انور خواتین کی جانب تشریف لے گئے۔ بعد ازاں طاہر ہال میں رونق افروز ہوئے جہاں چھوٹے بچوں والی خواتین کے بیٹھنے کا انتظام تھا۔ اس کے بعد قافلے کی روانگی سے قبل مسجد بیت الفتوح میں اعتکاف کرنے والے خوش نصیب احباب میں سے جو افراد مسجد میں موجود تھے انہوں نے حضورِ انور سے شرفِ مصافحہ حاصل کیا۔ اس کے بعد قافلہ مسجد فضل کے لیے روانہ ہو گیا۔
٭…آج مسجد فضل لندن کے گرد و نواح میں بسنے والے احمدیوں کے لیے یقیناً عید کا ایک یادگار دن تھا۔ ابھی ایک روز قبل حضورِ انور نے اپنے درسِ قرآن میں ہجرت کے بعد ان احباب کی اداسی کا تذکرہ فرمایا تھا۔ اور ایک روز بعد ہی پیارے حضور ان کی اداسی دور کرنے، ان پر شفقتوں کی بارش برسانے اور ان کی عید کو یادگار کر دینے کے لیے بنفسِ نفیس مسجد فضل رونق افروز ہو گئے۔
حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ں مسجد فضل پہنچے تو وہاں پر ڈیوٹی پر موجود خدام نے حضورِ انور سے شرفِ مصافحہ حاصل کیا۔ اس کے بعد حضور نے خاندان کے بعض افراد سے ملاقات فرمائی اور پھر کچھ دیر ایک گیسٹ ہاؤس میں قیام فرمایا۔
٭… نمازِ ظہر سے قبل ایک نَو احمدی دوست کے غیر احمدی والدین اور ہمشیرہ نے حضورِ انور سے مسجد فضل والے دفتر میں ملاقات کی سعادت حاصل کی۔
٭…اس کے بعد پیارے حضور سنتیں ادا کر کے نمازِ ظہر پڑھانے مسجد فضل تشریف لے گئے۔ لندن سے اسلام آباد ہجرت کے بعد یہ پہلی نماز تھی جو حضورِ انور نے مسجد فضل لندن میں پڑھائی۔
٭… اس کے بعد حضورِ انور نے ایک ظہرانہ میں شرکت فرمائی۔ بعد ازاں حضورِ انور نے کچھ دیر گیسٹ ہاؤس میں قیام فرمایا۔
٭… نمازِ عصر سے کچھ دیر قبل حضورِ انور گیسٹ ہاؤس سے مسجد فضل کے احاطہ تشریف لائے اور سب سے پہلے ٹیلی فون ایکسچینج تشریف لے گئے جہاں محترم حبیب الرحمٰن غوری صاحب ڈیوٹی پر موجود تھے۔ موصوف نے اپنے پیارے امام کادفتر کے باہر کھڑے ہو کر استقبال کرتے ہوئے شرفِ مصافحہ حاصل کیا۔ حضورِ انور انہیں ان کے دفتر کے دروازے تک لے گئے اور کمال شفقت فرماتے ہوئے انہیں بازو سے پکڑا اور ان سے دفتر کے کام کے بارے میں دریافت فرمانے کے بعد عید مبارک کا تحفہ عنایت فرمایا۔
٭… حضورِ انور اس کے بعد ایم ٹی اے کے شعبہ شیڈیولنگ کے دفتر کے دروازے پر تشریف لے گئے۔ اس دفتر کی کارکنات باہر نصرت ہال کے سامنے موجود تھیں۔ حضور جب مسجد کی طرف مڑے تو نصرت ہال کے باہر کچھ خواتین اور بچے بچیاں حضورِ انور کے دیدار کے لیے موجود تھے۔ حضورِ انور نے ان تمام خواتین اور بچیوں کے سر پر دستِ شفقت رکھ کر انہیں برکت بخشی جبکہ تمام بچوں کوپیار سے نوازا۔
٭… پھر حضورِ انور محمود ہال کے اوپر موجود اپنی پرانی رہائش گاہ والی عمارت میں تشریف لے گئے۔ پیارے حضور کچھ دیر بعد اپنے پرانے طریق کے مطابق اس عمارت سے نیچے اترے اور نمازِ عصر پڑھانے کے لیے مسجد فضل میں تشریف لے گئے۔ حضورِ انور نمازِ عصر پڑھانے کے بعد ایک مرتبہ پھر گیسٹ ہاؤس میں رونق افروز ہوئے۔
حضورِ انو رکا قافلہ ساڑھے چھ بجے سے کچھ پہلے مسجد فضل سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہو گیا۔
٭… حضورِ انور کے اسلام آباد پہنچنے پر وہاں ڈیوٹی پر موجود خدام نے حضورِ انور سے شرفِ مصافحہ حاصل کیا۔

(الفضل انٹرنیشنل 07جون 2019ء)

image_printپرنٹ کریں