skip to Main Content
عبدالباسط شاہد ۔لندن: دُرّ ثمین فارسی رنگین مع اردو ترجمہ،ٹرانسلیٹریشن،فرہنگ

خدا کے فضل سے ہمارا جلسہ سالانہ ( 2018ء) اپنی روایات کے مطابق روحانی برکات اور علمی فوائد سے بھر پور تھا۔ پیارے آقا کی جماعت کی بہتری اور ترقی سے متعلق غیرمعمولی تقاریر، علماء سلسلہ کی مختلف علمی و عملی مسائل پر پُر مغز تقاریر، دور دراز کے اجنبی ملکوں کے احمدیوں کی باہم ازدیادِ ایمان کا باعث ملاقاتیں اور بے شمار اور بہترین نتائج بدرجہ ءاتم موجود تھے۔ اس جگہ جس امر کا ذکر مقصود ہے وہ جلسہ سالانہ کے موقع پر ایک بہت ہی مفید، روح پرور، دیدہ زیب خوبصورت کتاب کا اضافہ ہے۔ ‘‘دُرّثمین’’ فارسی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فارسی منظوم کلام کا مجموعہ ہے جو قبل ازیں متعدد مرتبہ شائع ہوچکا ہے۔ تاہم زیر نظر کتاب اس لحاظ سے منفرد ہے کہ بعض بہت مفید اضافوں اور نئی ترتیب کے ساتھ بہت دلکش انداز میں طبع ہوئی ہے۔
درثمین کے متعلق ‘‘دُرّثمین فارسی کے محاسن’’ میں حضرت میاں عبدالحق رامہ ؓ نے بہت صحیح طورپر لکھا ہے کہ’ آپ کا کلام فصاحت و بلاغت میں لاثانی ہے اور اتنا حسین اور پُر اثر اور دلگداز ہے جس کی کوئی انتہاء نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ یہ کلام ایک مؤیّد من اللہ ہستی کا ہے جسے خود ذات باری تعالیٰ نے ‘‘سلطان القلم’’ کا خطاب عطا فرمایا۔ نیز الہاماً بتایا گیا:
در کلام تو چیزیست کہ شعراء را در آں دخلے نیست
یعنی تمہارے کلام میں ایک ایسی چیز ہے جس میں شعراء کو کوئی دخل نہیں۔
اسی طرح محترم رامہ صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام کی خصوصیات کے سلسلہ میں پہلی بات یہ لکھی ہے کہ ‘‘آپؑ کے کلام میں ایک عجیب کشش پائی جاتی ہے جو قاری کو خدا، رسولؐ اور پاکیزگی کی طرف مائل کرتی ہے۔ اس کا تجزیہ ممکن نہیں نہ اس کے ثبوت کے لئے کوئی دلائل پیش کئے جاسکتے ہیں۔ ویسے خاکسار کو یقین واثق ہے کہ جو شخص بھی اخلاص سے اس در ثمین کا مطالعہ کرے گا وہ ضرور اس کشش کو محسوس کرے گا۔’’
مذکورہ بالا خصوصیت بتاتی ہے کہ مصنف کتاب جناب رامہ صاحب اس کیفیت سے دوچار ہیں جہاں الفاظ و بیان پیچھے رہ جاتے ہیں ۔ عام طورپر اس کیفیت کو ناقابل بیان کہا جاتا ہے مگر یہ ایسی چیز ہوتی ہے جو ناقابل بیان سے بھی پوری طرح ظاہر نہیں ہوتی۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام کا ایک مصرعہ

؏ بعد از خدا بعشق محمدؐ مخمرم

کو کوئی پوری طرح بیان کرنا چاہے تو وہ یقیناً اسی کیفیت سے دوچار ہوگا جو اوپر بیان ہوئی ہے۔ ‘‘بعد از خدا’’ میں خدائی صفات، خدائی صفات کے جلوے، اس کی طاقتیں اور قدرتیں اس کے اعجاز، یہ مضمون کہاں تک چلے گا کہاں تک بیان ہوسکے گا۔
؏ وہ زباں لاؤں کہاں سے جس سے ہو یہ کاروبار
پھر اس میں‘محمدؐ’ کا لفظ آجائے۔ میرا خیال بلکہ یقین ہے کہ تمام ‘عشاق محمدؐ’ اس نام اور مقام کی تشریح کرنے اور اسے سمجھنے سمجھانے کی ہر ممکن سعی اور کوشش کرتے رہے ہیں مگر وہ اپنی قوت متخیلہ کی پرواز کو اس مقام یا صحیح مقام تک پہنچانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ کیونکہ جتنی بھی کسی کو بلند پروازی کی طاقت اور بساط ہے آخر میں یہی کھلے گا کہ ‘‘محمد ہست برہان محمدؐ ’’
ہم اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کے کلام کی طرف رجوع کرسکتے ہیں کیونکہ اس سے بہتر، اس سے بڑھ کر اور کوئی ذریعہ نہیں ہوسکتا مگر تعجب کی بات ہے کہ یہاں بھی خداتعالیٰ اپنے محبوب کی خوبیاں اور صفات بیان کرتے ہوئے ایک تمثیل بیان فرماتا ہے۔‘‘ کَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْاَدْنٰی’’ جس کا مطلب یہ ہوا کہ

وَکُلَّ الْعِلْمِ فِی الْقُرْاٰنِ لٰکِنْ
تَقَاصِرُ عَنْہُ اِفْہَامُ الرَّجَالِ

ہر علم قرآن مجید میں موجود ہے مگر لوگوں کا فہم اسے سمجھنے سے قاصر رہ جاتا ہے۔ یعنی اس انتہاء کے بعد انسانی عقل کی حد آ جاتی ہے اور اس سے آگے اور ہی عالم شروع ہوجاتا ہے جہاں انسان ‘‘خاتم النبیّین ﷺ’’ کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی کوشش ہی کرسکتا ہے مگر اصل مقام اور آگے اور اوپر ہے۔ ‘بیا در بزم مستاں تابہ بینی عالمِ دیگر’ یہاں نئی زمین اور نیا آسمان شروع ہوجاتا ہے۔ عالم روحانیت شروع ہوجاتا ہے اور اس عالم کے شناور ہی اس کی وسعتوں سے واقف ہوسکتے ہیں یا عوام کو اس کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کرتے ہیں اور کہتے ہیں میں ’ کس دَف سے بازاروں میں منادی کروں کہ تمہارا یہ خدا ہے تا لوگ سن لیں اور کس دوا سے علاج کروں تاسننے کے لئے لوگوں کے کان کھلیں۔

(کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 22)

محترم رامے صاحب کی حقیقت افروز ‘‘بے بسی’’ کے بعد اور کیا کہا جاسکتا ہے۔
زیر نظر کتاب کی خوبصورتی بھی قابل ذکر ہے۔ طباعت رنگین، عمدہ اور دلکش ہے۔ہر شعر کے نیچے Transliteration دی ہوئی ہے جو یقیناً بہت محنت کا کام ہے۔ اس سے عام قاری جو فارسی نہیں جانتا وہ بھی شعر کو پڑھنے اور اس روحانی مائدہ سے فائدہ اُٹھانے کے قابل ہوسکتا ہے۔ اس کے بعد شعر کا ترجمہ آجاتا ہے۔ درثمین کا یہ ترجمہ ہمارے بہت بلند پایہ بزرگ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل ؓجو ایک صوفی منش بزرگ صحابی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے برادرِ نسبتی اور خود بلند پایہ شاعر اور صاحب ذوق انسان تھے۔ اس سلیس اور سادہ ترجمہ میں اب یہ غیر معمولی اور منفرد خصوصیت بھی شامل ہوگئی ہے کہ پیارے آقا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے بھی اسے پڑھا اور حسب ضرورت اصلاح بھی کی۔ محترم سید عاشق حسین کو بھی اس مقام پر خدمت کا موقع ملا اور مزید یہ کہ حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ جماعت کو فارسی کے اس خزانے کی طرف توجہ دلانے کے لئے ہر سال جلسہ سالانہ کے موقع پر یہ کلام پڑھواتے اور سنتے ہیں۔ اس ایڈیشن کی ایک اور نمایاں خوبی یہ بھی ہے کہ اس کتاب کے آخر میں فرہنگ (glossary) دی گئی ہے جس میں مشکل الفاظ کا انگریزی اور اردو ترجمہ دیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ بھی بہت زیادہ محنت کا کام ہے جو انتہائی لگن اور توجہ کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اس میں ان فارسی اشعار اور مصرعوں کی ایک فہرست بھی شامل ہے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتب میں درج فرمائے ہیں۔
لجنہ اماء اللہ کراچی نے جماعت کی صد سالہ جوبلی کے موقع پرسو کتابیں شائع کرنے کی ایک بہت بڑی پیشکش کی تھی۔ کتاب کی اشاعت میں بہت سے مشکل اور بعض اوقات غیرمتوقع مقامات آجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے لجنہ اماء اللہ کراچی یہ کارنامہ سر انجام دے چکی ہے۔ یہ ایک بہت بڑی تاریخی اورعلمی یادگار ہے۔ خاص طور پر درثمین اردو مع فرہنگ، کلام محمود مع فرہنگ، کلام طاہر مع فرہنگ اور بخار دل (نیا ایڈیشن ) منفرد خدمت ہے۔ محترمہ صدر صاحبہ لجنہ کراچی نے اشاعت کے اس جہاد کی روحِ رواں امۃ الباری ناصرصاحبہ کو قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ تمام کارکنوں اور خدمت کرنے والوں کو اپنے بے پایاں فضلوں سے نوازے۔ علم کی خدمت صدقہ جاریہ ہے دونوں جہانوں میں اللہ پاک کی خوشنودی کا باعث ہو۔ دعا ہے کہ جماعت میں اس طرح لگن اور شوق سے کام کرنے والے کارکن جو صحیح معنوں میں واقف زندگی ہوں ہمیشہ پیدا ہوتے رہیں۔
اللہ تعالیٰ اس پیاری کتاب کو نافع الناس اور ازدیاد ایمان کا ذریعہ بنائے۔ آمین

image_printپرنٹ کریں