skip to Main Content
راجہ برہان احمد۔ لندن :ڈائری حضور انور  :خلافت کی محبت صرف پاکستانی احمدیوں میں ہی نہیں بلکہ یہ عالمی محبت ہے

مکرم عابد وحید خان انچارج پریس اینڈ میڈیا  آفس ،سال 2012ء سے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے مختلف ممالک کے  دورہ جات کی  ذاتی  ڈائری لکھ رہے ہیں ۔ ڈائریاں درج ذیل لنک سے انگریزی زبان میں پڑھی جاسکتی ہیں ۔

’’گلدستہ علم و ادب ‘‘کے قارئین کے لئے دورہ سنگاپور 2013  سے کچھ حصوں کا ترجمہ پیش ہے ۔یہ مائدہ قارئین گلدستہ کے لئے مکرم راجہ برہان احمد استاد جامعہ احمدیہ یوکے تیار کرتے ہیں ۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کا دورہ سنگاپور 2013

21ستمبر 2013ء،حضور اور آپ کا قافلہ لندن سے ساڑھے سات ہفتے کے دررہ پر روانہ ہوا۔

قبلہ کے رُخ کو چیک کرنا

جب حضور  اپارٹمنٹ سے نیچے تشریف  لائے تو آپ نے فوراً قبلہ  کی  سمت کے چیک کرنے کا فرمایا۔میں نے اور کچھ اور لوگوں نے اپنے موبائل فون کے ذریعے دیکھا تو محسوس ہوا کہ جو رُخ ہم دیکھ رہے تھے وہ اس سے مختلف تھا جس پر مقامی جماعت نے جائے نماز بچھائے ہوئے تھے ۔سوال کرنے پر مقامی جماعت نے اقرار کیا کہ ہم نے سمت کا اندازہ لگا یا ہے باقاعدہ چیک نہیں کیا ،بہر حال جائے نماز کا رُخ تبدیل کیا گیا اور پھر حضور نے نمازیں پڑھائیں ۔

کھانے کے بارے میں حضور کی  راہنمائی

نماز کے بعد حضور نے مبارک چوہدری مقامی سیکرٹری امور خارجہ سے فرمایاکہ  قافلہ  کے لئے کھانے کا انتظام کرنا بنیادی ضرورت میں سے تھا ۔یہ سننے پر مبارک صاحب نے عرض کی ’’حضور آج رات ہم بہت مزیدار اور اچھے کھانے کا انتظام کریں گے ۔‘‘اس موقع پر حضور نے نہایت خوبصورت جواب عنایت فرمایا:

’’ہمیں کسی مہنگے اور شاہانہ کھانے کی ضرورت نہیں ۔ہم دال روٹی میں ہی خوش ہیں۔یہی مناسب اور کافی ہے ۔ نکتہ یہ ہے قافلے کے کھانے کا انتظام ہونا چاہئے لیکن اس میں کسی غیر معمولی تکلف  کی  ضرورت نہیں ۔ہم بہت خوشی سے دال روٹی کھائیں گے ۔‘‘

حضور کا منشاء یہ تھا کہ کھانے کا انتظام ہونا چاہئے مگر حضورکو کسی  بھی قسم کے شاہانہ انتظام کی ضرورت نہیں ،صرف بنیادی کھانا ہو تاکہ کوئی بھوکا نہ رہے ۔

سنگاپو ر میں ملاقاتیں

سری  لنکا سے سفر کرکے آنے والے مہمان انیس احمد (عمر 38)نےان رکاوٹوں کے بارے میں  بتایا جنہیں عبور کرکے وہ حضور سے ملنے کے لئے آئے۔انہوں نے کہا:

ہمیں جب سے علم ہوا کہ حضور سنگاپور تشریف لارہے ہیں ،ہم نے سری لنکا سے اس سفر کی تیاری شروع کردی ۔ میں اپریل سے پیسے جمع کررہا تھا تاکہ اپنی فیملی کے ساتھ آسکوں ۔یہ بہت مشکل تھا ۔میرا تین سالہ اور سات سالہ بچہ حضور کو دیکھنے کے لئے بہت  بے چین تھے ۔آخر میں میرے پاس اتنی رقم نہیں تھی کہ انہیں بھی اپنے ساتھ لاسکوں۔چنانچہ میں کئی ہفتوں تک روتا رہا مگر خود آنے کے سوا کوئی چارا نہیں تھا ۔حضور سے ملاقا ت معجزانہ تھی ، حضور کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے پر ایک جان آجاتی ہے ،آپ  کا چہرہ  آسمان میں تارے کی مانند ہے ۔اللہ ہمیں ہمارے آخری سانس تک خلافت سے وابستہ رکھے ۔

(عابد صاحب لکھتے ہیں )مجھے مسجد طٰہٰ کے صحن میں انیس صاحب سے ملاقات اچھی طرح یاد ہے ،جب انہوں نے اس بات کو یاد کیا کہ کس طرح وہ اپنی فیملی کو نہیں لاسکے تو ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی جاری ہوگئی ۔

خادم کا وقف

ایک صبح میں نے صدر خدام الاحمدیہ سنگاپور سے بات کی ۔وہ بہت مخلص اور نرم دل احمدی تھے ۔گو ان کی عمر 32 تھی  مگر وہ چھوٹے یا کم از کم مجھ سے ،باوجود ا س کے کہ میں 30 سال کو ہوں، تو چھوٹے ہی لگ رہے تھے ۔انہوں نے مجھے بتایا کہ میں نے حضور کے دورہ کے لئے اپنی ملازمت چھوڑ دی ۔انہوں نے کہاکہ ملازمت چھوڑنے سے اب میں حضور کے دورہ کے لئے سارہ وقت دے سکتا ہوں ۔مجھے ملازمت چھوڑنے کے لئے سوچنا نہیں پڑا ۔ اس ہفتہ بطور صدر خدام الاحمدیہ ،جماعت کی خدمت ،حضور کی خدمت سے بڑھ کر کوئی اور کام نہیں ،چاہے دنیا میں کتنی ہی تنخواہ کیوں نہ ملے ۔اگر میں بطور صدر خدام نمونہ قائم نہ کروں تو اور کون کام کرے گا ؟مجھے کسی دنیا  وی نوکری کی ضرورت  نہیں ۔مجھے صرف جماعت اور اپنے خلیفہ کی خدمت کرنی ہے ۔

(عابد صاحب لکھتے ہیں )میں نے صرف ان کی مثال دی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ میں اس ہفتہ ایسے کئی خدام سے ملا۔چاہے وہ ملائیشیا یا  فلپائن سے آئے ہوں یا مقامی یا دیگر جماعتوں سے آنے والے ہوں ان سب کا ایک جیسا جذبہ تھا ۔ان کے جذبہ کودیکھ  کرایک بندے کو  شرمندگی محسوس ہوتی ہے کہ  ہمارا کمزور رویہ اور سستی، بلکہ کبھی کبھی ہم اس برکت کو عام لے لیتے ہیں ۔

حضور کا انداز محبت

(ایک موقع پر عابد صاحب تحریر کرتے ہیں )میں فوراً یہ سوچتے ہوئے حضور کے دفتر میں گیا کہ کسی کام کے لئے یاد فرمایا ہو گا،لیکن جب میں حاضر ہوا تو حضور نےنہایت محبت بھر  ے انداز میں  فرمایا۔میں نے  اس لئے بلایا ہے کہ پوچھوں سنگاپور میں ہفتہ کیسا رہا ۔یہ حضور کی شفقت و محبت کا ایک انداز تھا ،اتنی مصروفیت کے باوجود حضور وقت نکال کر قافلہ کے ممبران کا خیال رکھتے اور یہ دیکھتے کہ ان کا تجربہ کیسا رہا ۔حضور نے فرمایا کہ گزشتہ رو ز 1500احمدیوں سے ملاقات کی ۔میں نے عرض کی مجھے نہیں معلوم کہ حضور یہ کام 24گھنٹوں میں کیسے کر لیتے ہیں ۔یہ امر واقعہ ہے کہ اگر آپ حضور کے دن کے شیڈیول کو غور سے دیکھیں تو آپ کا اللہ پر مزید ایمان بڑھ جائے کیونکہ آپ کو اندازہ ہوگا کہ صرف وہی شخص جس کو خدا کی تائید و  نصرت حاصل ہو ایسا بھر پور اور بے حد مصروف پروگرام بنا سکتا ہے ۔

حضور نے استفسار فرمایا کہ مجھے مقامی احمدی کیسے لگے تو میں نے عرض کی  کہ میں نے انہیں بہت نرم دل پایا۔جواباً حضور نے فرمایا کہ احمدیت نے مقامی افراد کو نرم دل کردیا ہے کیونکہ عام طور پر سنگاپور کے لوگ بہت  سنجیدہ اور محتاط ہوتے ہیں ۔حضور نے فرمایا کہ احمدیت نے انہیں بہت مخلص ،محبت کرنے والا اور نرم دل بنا دیا ہے ۔ حضور نے مجھے مزید فرمایا:

’’تم میرے ساتھ2008ءمیں  افریقہ کے دورہ پر بھی تھے ،چنانچہ تم نے افریقن احمدی  بھی دیکھے ہیں اور اب تم نے مشرقی وسطیٰ کے احمدی بھی دیکھ لئے ہیں اور تمہیں سمجھ آگئی ہوگی   کہ خلافت کی محبت صرف پاکستانی احمدیوں میں ہی نہیں ہے بلکہ یہ عالمی محبت ہے  ۔‘‘

میں نے عرض کی حضور بالکل  درست فرمارہے ہیں اور جہاں کہیں بھی میں گیا ہوں میں نے دیکھا ہے کہ خلافت سے محبت بالکل  اسی طرح ہے ۔حقیقت میں کبھی  ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان لوگوں میں اور بھی زیادہ ہے جنہیں احمدیت قبول کرنے کا موقع بعد میں ملا ،یا دور کے ممالک سے تعلق رکھنے والے ۔

خلیفۃ المسیح کی اپنی ذات سے عاری طبیعت

میں حضور کی خدمت میں تھا تو میں نے عرض کی کہ حضور سنگاپور میں ایک ہفتہ سے تشریف فرماہیں اورایک دفعہ بھی شہر کے دیگر مقامات دیکھنے نہیں گئے ۔

حضور نے جواباً فرمایا  :

’’میں روزانہ رہائش  گاہ سے مسجد جاتا ہوں ۔یہ بہت ہے ۔میرے لئےشہر دیکھنے یا جگہیں دیکھنے  سے  زیادہ ضروری یہ ہے کہ میں احمدیوں سے ملوں ‘‘

ان الفاظ سےظاہر ہوتا ہے کہ خلیفہ وقت کس حد تک بے لوث ہیں ۔اگر حضور اشارہ بھی  کرتے کہ آپ سنگاپور کا کوئی حصہ دیکھنا چاہتے ہیں تو احمدیوں کے لئے یہ خوشی اور اعزاز کا موقع ہوتا ،حضور اس بات کو فوقیت دیتے ہیں کہ مقامی احمدیوں سے ملیں ،ان کے ساتھ وقت گزاریں ،ان کی باتیں سنیں اور ان کی مشکلات دور فرمائیں،ان کے لئے دعا کریں اور ان کی راہنمائی فرمائیں ۔جماعت حضور کی زندگی ہے۔احمدیوں کا خیال رکھنا  اور ان کی اللہ تعالیٰ کی طرف رہنمائی کرنا حضور کی زندگی ہے ۔

image_printپرنٹ کریں