skip to Main Content

مکرم عابد وحید خان انچارج پریس اینڈ میڈیا  آفس ،سال 2012ء سے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے مختلف ممالک کے  دورہ جات کی  ذاتی  ڈائری لکھ رہے ہیں ۔ ڈائریاں درج ذیل لنک سے انگریزی زبان میں پڑھی جاسکتی ہیں ۔

’’گلدستہ علم و ادب‘‘ کے قارئین کے لئے دورہ جرمنی اور بیلجئم 2018حصہ سوم سے کچھ حصوں کا ترجمہ پیش ہے ۔یہ مائدہ ’’قارئین گلدستہ‘‘ کے لئے مکرم راجہ برہان احمد استاد جامعہ احمدیہ یوکے تیار کرتے ہیں ۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا دورہ جرمنی اور بیلجئم2018

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز یکم ستمبر 2018کوجرمنی اور بیلجئم کے 18روزہ دورہ پر روانہ ہوئے ،اس دوران آپ  دونوں ممالک کے جلسہ سالانہ میں بھی رونق افروز ہوئے ۔

دستِ شفا

جلسہ جرمنی  کے دوران ایک دن میں نے سنا کہ منصور (حضور کے نواسے )کی طبیعت ٹھیک نہیں ۔ بعد ازاں اس دن جب میں اس سے ملا تو میں نے اس کا حال  دریافت کیا۔منصور نے بتایا:

’’میری طبیعت گزشتہ رات اور صبح ٹھیک نہیں تھی ۔میں فجر کے وقت تک شدید سر درد کی وجہ سے سو نہیں سکا۔حضور فجر کے بعد مجھے دیکھنے کے لئے تشریف لائے اورمجھے ایک گلاس دودھ میں شہد ملا کر اور Paracetamol دی ۔اس کے بعد میں بالآخر سوسکااور جب میں اُٹھا تو بہتر محسوس کررہا تھا ۔‘‘

عابد صاحب لکھتے ہیں :

یہ ایک  خوبصورت اور بہت کم علم میں آنے والا حضور کا معمول تھا کہ حضور اپنی تمام تر مصروفیت کے باوجود مسلسل اپنی فیملی اور پیاروں کاکس طرح  خیال رکھتے ہیں ۔ حقیقت یہ  ہے کہ جس کسی نے حضور کو قریب سے دیکھاہے وہ اس بات کی  گواہی دےگا کہ جس  طرح حضور اپنی فیملی  سے محبت کرتے اور خیال رکھتے ہیں وہ تمام انسانیت کے لئے مثالی  ہے ۔

حضور زندگی کے تمام دیگر امور کی طرح پیغمبر اسلام ﷺ اور حضرت  مسیح موعود علیہ السلام کے اسوہ کی  پیروی کرتے ہیں ۔

مجھے خوشی ہوئی کہ منصور بہتر محسوس کررہا تھا اور میں  نے اسے کہا  کہ مجھے یقین ہےکہ حضور نے اس کی جلد شفا یابی کے لئے دعا کی ہوگی ۔اس پر منصور نے مجھے چند سال پہلے کا ایک واقعہ بیان کیا جبکہ وہ سکول کے دسویں سال میں پڑھ رہا تھا۔منصور نے بتایا:

’’مجھے GCSEکے حساب کے پرچے کے لئے ایک سال پہلے منتخب کیا گیا ، لیکن امتحان سے ایک رات قبل میں شدید  بیمار ہوگیا ۔مجھے شدیدآدھے سر کا درد اورتیز بخار تھا ۔میری والدہ بہت پریشان تھیں اور انہوں نے حضور کی خدمت میں عرض کی ،حضور شام کو ہمارے فلیٹ پر مجھ سے ملنے کے لئے تشریف لائے ۔ حضور نے  میر ی حالت دریافت فرمائی ، میں نے عرض کی میری حالت بہت خراب ہے ‘‘

منصور اس وقت کی اپنی بیماری کو یاد کرتے ہوئے ہنسا اور اس نے کہا ’’عابد چچا! میں مذاق نہیں کررہا ،مجھے واقعی ایسا محسوس ہوا کہ میں مررہا ہوں ۔‘‘

اپنی کہانی کو جاری رکھتے ہوئے منصور نے بتایا:

حضور نے اس موقع پر نہایت آرام سے اپنا  دست ِ مبارک میرے ماتھے پر چند منٹ رکھا اور اس کے بعد اچانک فرمایا ’’پریشان نہ ہوتم بالکل  ٹھیک  ہوجاؤگے ‘‘اور پھرواپس تشریف لے گئے تا میں آرام کرسکوں ۔

منصور نے بتایا  کہ اس وقت میں امتحان میں بیٹھنے کے بارے میں بالکل نہیں سوچ رہا تھا ۔حضور کے کمرے سے تشریف لے جانے کے بعد میں سو گیا ۔میں چند گھنٹے سویا رہا اور جب اُٹھا  تو میں بالکل  ٹھیک اور شفا یاب  ہوگیا  تھا  بلکہ گویا ایسا لگا کہ میں کبھی بیمار تھا ہی نہیں ۔میری  والدہ نے مجھ سے پوچھا  کہ میں امتحان دے سکوں   گا ؟تو میں نے جواب دیا  کہ ہاں ! اب میں بالکل ٹھیک ہوں ۔میں سکول گیا  اور پرچہ دیا اور اللہ کے فضل سے میرے GCSEکے اس پرچہ میں A-starآیا ۔

منصور کا  یہ واقعہ نہایت متاثر کن اور ایمان افروز تھا ۔وہ کس  قدر بیمار  تھا  اور حضور کی آمد ،اس کے سر کو چھونا اور اس کے بعد فرمانا کہ  وہ بالکل  ٹھیک ہوجائے گا۔ جیسا کہ  حضور نے فرمایا وہ  بیماری سے مکمل شفا یاب  ہوکر اٹھا اور امتحان میں بہترین نتیجہ حاصل کیا  جس میں شامل ہونا چند گھنٹے قبل بالکل  ناممکن لگ  رہا تھا ۔

36نکاح!

عابد صاحب مختلف ممالک سے آنے والے وفود کے ساتھ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ملاقاتوں کا ذکر کرنےکے بعد لکھتے ہیں ۔

ملاقاتیں شام تک جاری رہیں جس دوران  نماز ِ ظہر و عصر کا وقفہ ہوا۔چار گھنٹے لگاتار ملاقاتوں میں   شامل ہو کر میں شدید تھک گیا چنانچہ مجھے کھانے کے وقفہ کا انتظار تھا۔اس وقت میرے علم میں آیا کہ حضورنماز کے بعد 36نکاحو ں کا اعلان فرمائیں گے ۔میرے ذہن میں خیال آیا کہ اس  پر کتنا وقت لگے گا اور کیا  نکاحوں کے اعلان کی یہ تعدادایک ریکارڈ ہے جو خلیفہ وقت نے ایک وقت میں فرمایا ہو ۔ مجھے تو اس تعداد میں اعلان نکاح یا د نہیں اور اسی لئے میں نے منیر جاوید صاحب (پرائیویٹ سیکرٹری )سے ان کی رائے پوچھی ۔جواباً منیر جاوید صاحب نے کہا:

’’مجھے ذاتی طور پر اس سے زیادہ نکاح یاد نہیں لیکن حضور نے آج صبح مجھے فرمایا کہ ایک موقع پر آپ موجود تھے جب حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ نے 78نکاحوں کا اعلان جلسہ سالانہ ربوہ میں فرمایا تھا ۔‘‘

جب تقریب نکاح کا آغاز ہوا تو تجسس میں ،میں نے گھڑی دیکھی اور اسی طرح اختتام پربھی  چنانچہ 33منٹ  لگے۔میرا خیال تھا کہ 45منٹ لگیں گے اس لئے مجھے خوشگوار حیرت ہوئی ۔

آخری اعلان نکاح کے بعد حضور نے اس غرض سے کہ کوئی نکاح رہ تو نہیں گیا چیک فرمایااس پر جماعت احمدیہ جرمنی کے ایک بزرگ حید ر علی ظفر صاحب ،جو نائب امیر ہیں اور قبل ازیں لمبے عرصہ تک بطور مشنری انچارج خدمت سرانجام دے چکے ہیں ،کھڑے ہوئے ،جس پر حضور نے فرمایا:

’’کیا آپ کی خواہش بھی  اپنا نکاح پڑھوانے کی ہے ؟‘‘

اس پر ہر کوئی ہنسا۔حیدر صاحب  صرف اس بات کی تسلی کرنے  کے لئے کھڑے ہوئے تھے کہ تمام نکاحوں کا اعلان ہوگیا ہے !

پُرانے دوست

مختلف نسلوں ،قومیتوں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے بہت سے ملاقاتیوں میں ایک چہرہ جانا پہچانا کروشیا کی خاتون کا تھا ۔خاتون نے قبل ازیں تین دفعہ جلسہ برطانیہ میں شرکت کی اور جلسہ قادیان بھی دیکھاجبکہ جلسہ جرمنی میں یہ ان کی پہلی دفعہ شمولیت تھی ۔حضور انہیں اور ان کے خاوند کو دوبارہ دیکھ کر خوش ہوئے اور پرانے دوستوں کی طرح ان سے ملے۔مثال کے طورپر کروشیا کی خاتون نے حضور کو بتایا کہ انہیں ان  کے خاوند کی داڑھی جو حال ہی میں ان کے خاوند نے بڑھائی ہے پسند نہیں آئی ۔جواباً حضور نے مسکراتے ہوئے فرمایا :

’’نہیں ،نہیں ! وہ داڑھی میں زیادہ بہتر اور جوان لگتے ہیں ۔‘‘

خاتون نے کہا:

حضور کیونکہ آپ نے اجازت دے دی ہےاس لئے  اب میں انہیں دوبارہ شیو کرنے کا نہیں کہوں گی ۔

image_printپرنٹ کریں