قیصر محمود: کرکٹ ورلڈکپ کے اپ سیٹ مقابلے

آج کل انگلینڈ میں بارہواں کرکٹ ورلڈکپ جاری ہے۔ ورلڈ کپ کے پانچویں میچ میں بنگلہ دیش نے جنوبی افریقہ کی مضبوط ٹیم کو شکست دے کر بڑا اپ سیٹ کیا ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں کیونکہ جب سے کرکٹ ورلڈکپ کے مقابلے جاری ہیں اس وقت سے اپ سیٹ نتائج کا سلسلہ جاری ہے۔ آئیے ہم آپ کو اب تک ورلڈکپ مقابلوں کے بڑے بڑے اپ سیٹ میچز کے بارہ میں کچھ بتاتے ہیں۔

سری لنکا بمقابلہ بھارت

سری لنکا کی ٹیم 1979ء کے ورلڈکپ میں بطور ایسوسی ایٹ ممبر کے طور پر شامل ہوئی۔ اس وقت تک سری لنکا کو ٹیسٹ اسٹیٹس حاصل نہیں ہوا تھا۔ سری لنکا کا مقابلہ بھارت کی تجربہ کار ٹیم سے تھا۔ سری لنکا نے پہلے کھیلتے ہوئے ساٹھ اوورز میں 238رنز بنائے۔ بھارت کی مضبوط بیٹنگ لائن صرف 191رنز ہی بنا سکی۔ اسی جیت کی بدولت سری لنکا کی ٹیم عالمی سطح پر ابھر کر سامنے آئی اور جلد ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک میں شامل ہوگئی۔

زمبابوے بمقابلہ آسٹریلیا

1983ء کے ورلڈکپ میں زمبابوے کی ٹیم پہلی مرتبہ شامل ہورہی تھی۔ زمبابوے نے آسٹریلیا کی مضبوط ٹیم کو شکست دے کر اس ورلڈکپ کا سب سے بڑا اپ سیٹ کیا۔ میچ کے ہیرو زمبابوے کےکپتان ڈنکن فلیچر تھے۔ جنہوں نے نہ صرف زمبابوے کے ٹوٹل 239 میں ناٹ آؤٹ 69 رنز کا حصہ ڈالا۔ بلکہ شاندار بالنگ کرتے ہوئے چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کرکے آسٹریلیا کو 226 رنز تک محدود کردیا۔ مزے کی بات یہ کہ زمبابوے کایہ پہلا ون ڈے میچ تھا۔

زمبابوے بمقابلہ انگلینڈ

1992ء کے ورلڈکپ میں انگلینڈ نے اپنا آخری پول میچ کھیلنے سے قبل نیوزی لینڈ کے سوا سب ٹیموں کو شکست دی تھی۔ جبکہ پاکستان کو 74رنز پر آؤ ٹ کرکے انگلینڈ کا فتح کی طرف مارچ جاری تھی کہ بارش نے تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ ورلڈکپ کا آخری معرکہ زمبابوے کی کمزور ٹیم کے ساتھ تھاجو پوانٹس ٹیبل پربغیر کسی جیت کے سب سے آخری نمبر پر تھی۔ زمبابوے پہلے کھیلتے ہوئے صرف 134رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ لیکن جب انگلینڈ کی اننگ شروع ہوئی تو پولٹری فارم کے پیشہ سے تعلق رکھنے والے زمبابوین فاسٹ بالر ایڈوبرانڈس نے چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کرکے اپنی ٹیم کو 9رنز سے فتح دلائی۔

کینیا بمقابلہ ویسٹ انڈیز

1996ء میں کینیا پہلی بار ورلڈکپ مقابلوں میں شامل ہوئی۔ لیکن کینیا نے ویسٹ انڈیز کی ٹیم کو اپ سیٹ شکست دے کر سب کو حیران کردیا۔ ویسٹ انڈیز نے کینیا کو صرف166رنز پر آؤٹ کردیا۔ لیکن معمولی ہدف کے تعاقب میں پوری ٹیم صرف 93 اسکور پر آؤٹ ہوگئی۔ سب سے اہم وکٹ برائن لارا کی تھی۔ ماہرین کے خیال میں کینیا کے وکٹ کیپرطارق اقبال، جو موٹے شیشوں والی عینک لگائے ہوئے تھے، کے ہاتھ اس دن غالباً صرف برائن لارا کا کیچ ہی عمدگی سے آیا۔

بنگلہ دیش بمقابلہ پاکستان

1999ء کے ورلڈکپ میں پاکستان نے اپنا آخری پول میچ بنگلہ دیش کے خلاف کھیلا۔ اس سے قبل پاکستان اپنے پول کے تما م میچز جیت چکا تھا۔ پاکستان کے خلاف آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز جیسی ٹیمیں شکست کا مزہ چکھ چکی تھی۔ بنگلہ دیش نے پہلے کھیلتے ہوئے 223رنز بنائے۔ جواب میں پاکستان کی ساری ٹیم صرف 161رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ شکست کے بعد پاکستان کے کپتان وسیم اکرم نے کہا کہ ہم اپنے بھائیوں سے ہارے ہیں۔ اس میچ کوآج تک مشکوک خیال کیا جاتا ہے۔ بعض مبصرین کے نزدیک یہ میچ فکس تھا اور بعض کے نزدیک یہ بنگلہ دیش کو ٹیسٹ اسٹیٹس دلوانے کے لیے کی جانے والی ہمددری تھی۔ اسی ورلڈکپ میں زمبابوے کی بھارت اور جنوبی افریقہ کے خلاف کامیابی بھی حیران کن تھی۔

کینیا بمقابلہ سری لنکا

2003ء کا ورلڈکپ کینیا کے لیے ایک سہانے خواب کی طرح تھا۔ جہاں اس ٹیم نے عمدہ کارکردگی دکھاتے ہوئے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی۔ ایک اہم میچ میں کینیا نے سری لنکا کو صرف 210رنز کا ٹارگٹ دیا لیکن سری لنکا جواب میں صرف157رنز بنا سکی۔اسی ورلڈکپ میں کینیا کی زمبابوے اور بنگلہ دیش کے خلاف کامیابی بھی اپ سیٹ قرار دی جاسکتی ہے۔

آئرلینڈ بمقابلہ پاکستان اور بنگلہ دیش بمقابلہ بھارت

2007ء کے ورلڈکپ میں ایک ہی دن میں کرکٹ کی دنیا کے دو بڑے اپ سیٹ ہوئے۔ پہلے آئرلینڈ کی ٹیم نے پاکستان کو اور پھر اسی روز بنگلہ دیش نے بھارت کو شکست دیکر ورلڈکپ کے پہلے راؤنڈ سے ہی باہر کردیا۔ بھارت کی مضبوط بیٹنگ لائن جو گنگولی، سہواگ، ٹنڈولکر، ڈریوڈ، یوراج سنگھ اور دھونی جیسے بلے بازوں پر مشتمل تھی صرف 191رنز ہی بناسکی۔ پاکستان کی کہانی بھی زیادہ مختلف نہ تھی۔جہاں حفیظ، عمران نذیر، یوسف، یونس، انضمام الحق اور شعیب ملک کی موجودگی میں ٹیم صرف 132رنز ہی بنا سکی۔ اس شکست کے بعد پاکستان کے کوچ باب وولمر اپنے کمرہ میں پراسرار طور پر مردہ پائے گئے۔ بعض لوگوں کے نزدیک اُن کی موت کی وجہ پاکستان ٹیم کی بدترین شکست تھی۔

آئر لینڈ بمقابلہ انگلینڈ

2011ء کے ورلڈکپ کے سب سے بڑے اپ سیٹ کی بات کریں تو یہ آئرلینڈ اور انگلینڈ کے مابین کھیلا جانے والا میچ تھا۔ آئرلینڈ اور انگلینڈ کی باہمی رقابت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ انگلینڈ نے 327 رنز کا ٹارگٹ دے کرسمجھا تھا کہ یہ آئرلینڈ کے بس کی بات نہیں۔ لیکن کیون اوبرائن نے صرف پچاس گیندوں پر ورلڈکپ کی تیز ترین سنچری بنا کر ہدف کو بآسانی پورا کرلیا۔

بنگلہ دیش بمقابلہ انگلینڈ

2011ء کے ورلڈکپ میں بنگلہ دیش نے انگلینڈ کی مضبوط ٹیم کو اپ سیٹ شکست سے دوچارکیا۔ ایک اہم میچ میں انگلینڈ کی مضبوط ٹیم صرف 225رنز ہی بناسکی۔ اپنے ہی ملک میں کھیلنے والی بنگلہ دیش کی ٹیم نے ہدف آسانی سے پورا کرلیا۔

آئرلینڈ بمقابلہ ویسٹ انڈیز

2007ء کے ورلڈکپ میں پاکستان اور 2011ء کے ورلڈکپ میں انگلینڈ کو شکست دینے والی آئر لینڈ نے 2015ء میں بھی اپنی روایت برقرار رکھی اور ویسٹ انڈیز کی ٹیم کو ہرا کر بڑا اپ سیٹ کیا۔ ویسٹ انڈیز کے 304رنز کے ہدف کو آئر لینڈ نے بآسانی 46ویں اوور میں پورا کرلیا۔

بنگلہ دیش بمقابلہ انگلینڈ

بنگلہ دیش نے 2015ء کے ورلڈکپ میں انگلینڈ کو شکست دے کر کوارٹر فائنل کی دوڑ سے باہر کردیا۔ بنگلہ دیش نے محمود اللہ کی سنچری کے بدولت 275 رنز کا ٹارگٹ سیٹ کیا۔ جواب میں انگلینڈ کی مضبوط ٹیم روبل حسین کی عمدہ بالنگ کے سامنے صرف 260 رنز ہی بناسکے۔