skip to Main Content
چندہ کا معاملہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
یہ چندہ کا معاملہ خدا تعالیٰ کے ساتھ معاملہ ہے، سیکرٹری مال کو یا نظام کو تو پتہ ہی نہیں ہے کہ کس کی آمد کیا ہے جس پر وہ چندہ دے رہا ہے لیکن خدا تعالیٰ کو تو پتہ ہے وہ تو دلوں کا حال جانتا ہے۔ اگر صحیح شرح سے چندہ دینا شروع کریں تو میں سمجھتا ہوں کہ مساجد کی تعمیر اور دوسرے جماعتی کاموں کے لئے پھر بہت کم علیحدہ تحریک کرنی پڑے گی۔ پس اس لحاظ سے اپنے جائزے لیں اور اپنے چندہ عام کے بجٹ کو دوبارہ جائزے لے کر لکھوائیں جنہوں نے کم لکھوائے ہوئے ہیں۔ میں مختلف ملکوں کے نو مبائعین کے واقعات بھی بیان کرتا رہتا ہوں کہ کس طرح وہ احمدیت قبول کرنے کے بعد اپنے اندر تبدیلیاں پیدا کر رہے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ بھی ان کی باوجود غربت کے ان کو ان کے لحاظ سے مالی کشائش عطا فرما رہا ہے اور اس وجہ سے وہ اپنے ایمان اور اخلاص میں بھی بڑھ رہے ہیں قربانی کا لفظ ہی یہ معانی دیتا ہے کہ اپنے آپ کو تکلیف میں ڈال کر کوئی کام کرنا (یا)تکلیف میں ڈا ل کر اللہ تعالیٰ کے دین کی ضروریات کے لئے دینا۔ پس جو صرف اپنی سہولت سے تھوڑا بہت دے کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے قربانی کی،وہ قربانی نہیں ہے نہ ہی ایسے لوگوں کا اللہ تعالیٰ پر کوئی احسان ہے اگر وہ نہ بھی دیں گے تو بھی اللہ تعالیٰ دین کی ضروریات پورا کرنے کے سامان پیدا کر دے گا اور کرتا رہتا ہے اور کرتا رہے گا، انشاءاللہ تعالیٰ۔ پس میں ان لوگوں کو جو کشائش ہونے کے باوجود اپنی آمدنی کے مطابق چندہ نہیں دیتے توجہ دلانی چاہتا ہوں تا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنیں۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ 02نومبر2018ء)

image_printپرنٹ کریں