skip to Main Content
کاربوویج۔زندگی بچانے والی دوا

حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے ہومیوپیتھی کلاس میں فرمایا تھا کہ کاربوویج کا شمار زندگی بچانے والی چوٹی کی دواوں میں کیا جاتا ہے۔ایک دفعہ ایک مريضہ کو دل کا شدید حملہ ہوا۔وہ بظاہر بے جان ہو چکی تھی کہ میں نے فوراً کاربوویج کے چند قطرے ان کے منہ میں ٹپکا دئیے۔تھوڑی دیر میں ان کا سانس بحال ہوگیا۔ہمیشہ کاربوویج کو میں نے بہت موثر پایا ہے اس لئے زندگی بچانے کی دوا کے طور پر اسے ہمیشہ اپنے پاس رکھنا چاہئے۔تب خاکسار کاربوریج کو ہمیشہ پاس رکھتا ہے۔73سال کی عمر میں ایک دوپہر میرے سینہ میں شدید ہارٹ برن سینہ کے دائیں طرف ناقابل برداشت درد شروع ہوا۔میں فوراً سمجھ گیا کہ دل کا حملہ ہے چنانچہ کاربوویج کی چند گولیاں منہ میں ڈال کر نگل گیا اور ایک گلاس ٹھنڈا دودھ بھی پیا۔پانچ منٹ کے بعد نارمل ہو چکا تھا۔جب ڈاکٹر کے پاس گیا تو انہوں نے مجھے ہسپتال بھجوادیا جہاں اوپن ہارٹ سرجری کی گئی اور بتایا گیا کہ وہ واقعی شدید دل کا حملہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے کاربو ویج کو میری زندگی بچانے کا ذریعہ بنا دیا۔                                     

(از ناصر خان)

image_printپرنٹ کریں